624.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 7

Ishq Da Rang by Saman

ایک سائیڈ پر سٹیج بنایا گیا تھا جہاں دلہا اور دلہن کی رسم ساتھ ہی ہونی تھی,,آج مہندی کے ساتھ ساتھ نکاح بھی تھا۔ہر طرف خوشی اور شادمانی تھی۔۔

ایک طرف ڈی جے والوں کو سیٹ کیا گیا تھا۔جہاں اونچی آواز میں میوسقی کے سُر بکھر ریے تھے۔۔

“*مہندی کی یہ ر…ا…ت”*

“*مہندی کی یہ ر…ا…ت”*

*آئی مہندی کی یہ رات

کہ لائی سپنوں کی بارات

سجنیاں ساجن کے ہے ساتھ

رہے ہاتھوں میں ایسے ہاتھ*

“گوری کرت سنگار

گوری کرت سنگار”

اندر ہال اور سڑھیوں کو بھی پیلے اور سرخ کلر کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔

آج کچھ الگ ہی سما تھا۔۔خوب گہماگہمی تھی ہر طرف”۔

دیکھے تو ہانیہ آپی کچھ زیادہ تو نہیں ہو گیا؟اُس نے شیشے کے سامنے اپنا جائزہ لیتے ہوۓ کہا۔۔ہانیہ جیسے بیوٹیشن فائنل لوک دے رہی تھی۔۔اُسے نظر اُٹھاکردیکھا تھااور بے ساختہ” ماشااللہ” کہا تھا اور دل ہی دل میں اُس کی نظر اُتاری تھی۔

جو یلو کلر کے لہنگے کے ساتھ یلو کلر کی ہی شٹ(جس پر گولڈن سٹون کاکام تھا) پہنے ساتھ پنک کلر کا دوبٹہ لیے ہوۓ تھی۔۔اور پھر بیوٹیشن کاکیا ہوا لائٹ میک اپ اور بالوں کا خوبصورت سٹائل۔جو کرل کر کے ایک سائیڈ پر ڈالے گے تھے۔۔۔وہ سچ مچ کی حور لگ رہی تھی۔۔

بہت پیاری لگ رہی ہو گڑیا ۔۔” ہا نیہ نے پیار سےاس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔

کم خوبصورت تو ہانیہ بھی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔

اورنج کلر کالہنگا ,,جس کے ساتھ فروزی شٹ تھی(۔جس پر گولڈن کلر کے سٹون کاکام ہو تھاساتھ اورنج دوبٹہ جس کی کناری پر بنارسی پٹی لگی تھی) ۔پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی…

بیوٹیشن کو گھر ہی بلایا گیا تھا جوکہ اپنا کام کر کے جا چکی تھی ۔

عنایہ اور کتنی دیر ہے بیٹا تیار ہونے میں ,,,سمیرا بیگم ا ,انیلا بیگم کے ساتھ روم میں داخل ہوتے ہوۓ بولی تھی۔۔

ہم لوگ تو تیار ہے ماما جانی” عنایہ جلدی سے اگے آکر بولی تھی۔۔

ارے واہ میری بچی تو بڑی پیاری لگ رہی ہے ماشااللّٰہ۔ انیلا بیگم عنایہ کو دیکھتے ہوۓ بولی تھی۔

ارے صرف عنایہ ہی نہیں دیکھےھے تو زرہ انیلا بھابھی ہماری ہانیہ تو بلکل شہزادی لگ رہی ہے۔ کیسا روپ آیا ہے۔

سمیرا بیگم , پیار سے ہانیہ کو دیکھتے ہوۓ بولی تھی جو اُن کی بات سن کر شرما گئ تھی۔۔

ماشااللّٰہ۔” کہیں ہماری ہی نظر نہ لگ جاۓ بچیوں کو۔۔

انیلا بیگم نے فوراً نظرے پھری تھی اور اپنی آنکھ کا کونا صاف کیا تھا۔۔

سمیرا بیگم نے انیلا بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی تھی۔۔

اتنی جلدی بیٹیاں بڑی ہو جاتی ہے پتا ہی نہیں چلتا کل کی بات لگتی ہے جب ہم اسے ہسپٹل سے لے کر آۓ تھے تو بابا جان نے کیسے خوشیاں منائی تھی۔اور آج دیکھو وہ اپنے گھر کی ہونے جارہی ہے ۔انیلا بیگم نے سمیرا بیگم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔

کم اون بڑی ماما کیا میں آپ کی بیٹی نہیں ہو جو آپ یوں رو رہی ہے ۔۔اور ویسے بھی ہانیہ آپی۔کون سادور جا رہی ہے۔۔عنایہ نے پیار سے انیلا بیگم کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوۓکہا۔۔

ہانیہ بھی اُٹھ کر ماں کے پاس آئی تھی اُس کی آنکھ بھی نم تھی۔۔

آگر آپ یو روۓ گئ تو میں شادی ہی نہیں کرو گی۔۔۔

ارے یہ تو خوشی کے آنسو یے پگلی۔۔

انیلا بیگم نے ہانیہ کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔

اچھا اب بس کرۓ باہر چلے وہ لوگ بھی پہنچنے والےہیں ۔پہلے نکاح کی رسم ہوگئ عنایہ تم ہانیہ کے پاس ہی روکو ! سمیرا بیگم نے آخر می عنایہ کو دیکھتے ہوۓ کہاجو باہر جانے کے لیے پر تول رہی تھی ۔۔

چلیے بھابھی باہر چلتے ہیں مہمان کیا کہے گے کہ میزبان ہی غائب ہے ۔۔

سمیرا بیگم نے انیلا بیگم سے کہا اور دونوں باہر نکل گی تھی۔۔

اف ! میں نے بھی باہر جانا تھا عنایہ نے منہ لٹکایا ” کوئی بات نہیں چندا جاؤ ہو آو باہر سے ۔ہانیہ نے پیار سے کہا ۔سچ آپی میں جاو آپ کو کوئی مسلہ تو نہیں ہو گا نہ ” عنایہ خوش ہوتے ہوۓ بولی ۔

نہیں کوئی مسلہ نہیں ہے,,ہانیہ نے کہا۔

اچھا ” لیکن ماما ڈانٹے گی نہ کہ آپ کو اکیلا کیوں چھوڑا ہے “عنایہ جو باہر جا رہی تھی یاد آنے پر ایک دم پلٹی تھی۔

میں سنبھال لوگی چھوٹی ماما کو اب جاو اور جلدی واپس آنا ہانیہ نے تسلی دی تھی

وہ جلدی جلدی باہر بھاگی تھی “” اِسی جلدی میں افنان سے ٹکرائی تھی

افنان جو ابھی تیار ہو کر اپنے کمرے سے باہر نکل کر نیچے جا رہا تھا اس ٹکراو پر اُسے کمر میں ہاتھ ڈال کر گھرنے سے بچایاتھا اور اُس خوبصورت شہزادی کو مہبوت سے دیکھے گیا جو اپنے گھرنے کے ڈر سے آنکھ سختی سے بند کر چکی تھی لیکن پھر اپنے آپ کو کسی کے اخصار میں مخسوس کر کے پٹ سے آنکھیں کھولی تھی۔۔” آپ “”” آپ نے مجھے کیوں پکڑا ؟ چھوڑیے مجھے عنایہ اپنے پاوں پر کھڑے ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔

وہ جو اُس کے حسن میں کھویا ہوا تھا اُسے کے کہنے پر ایک دم ہوش میں آیا تھا لیکن اپنے ہاتھوں کو اُس کی کمر سے اب بھی نہ ہٹایا تھا۔۔

“کمال ہے لڑکی ایک تو میں نے تمہیں گھرنے سے بچایا تم مجھے شکریہ کرنے کے بجاۓ نخرے دیکھا رہی ہو” افنان نے شرارت سے کہا تھا۔

شکریہ افنان بھائی “! اب آپ مجھے چھوڑے گے میں نے نیچے جانا ہے وہ لوگ مہندی لے کر آنے والے ہیں” عنایہ نے اُس کے ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو ابھی تک اُس کی کمر پر موجود تھے۔۔

افنان نے احساس ہونے پر فوراً ہاتھ اُٹھاۓ تھے اور اُس کے سراپے کو اپنی نظروں کے احصار میں لیا تھا”تھا جو اِس وقت اُس کا دل دھڑکا رہی تھی ۔۔آج وہ خود بھی تو بلیک شلوار کمیزمیں کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔ نیچے بلیک پشاوری چپل پہنے بالوں کو جل کی مدد سے سیٹ کیے وہ لاکھوں دلوں کو دھڑکانے کی لیے تیار تھا مگر جس کے لیے اُس کا دل دھڑکتا تھا اُسے تو پرواہ ہی نہیں تھی ” افنان نے افسوس سے سوچا تھا۔۔

عنایہ اُس کے چھورنے پر جلدی سے نیچے کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔جہاں زیان لوگوں کے آنے کا شور اُٹھا تھا۔۔

اف” یہ لڑکی مجھے پاگل کر دے گی اور اِسے خبر ہی نہیں ہوگی ۔۔

افنان بڑبڑاتا ہوا اُس کے پیچھا نیچے کی طرف بڑھا تھا۔

سٹیج پر زیان ,,وائٹ قمیض شلوار کے اوپر وائٹ ہی واسکٹ ,نیچے گولڈن کھوسے پہنے شاندار لگ رہا تھا۔۔اُس کے ساتھ ہی عالیان بھی گرے قمیض شلوار میں موجود تھا ۔۔اِس وقت سب سٹیج پر موجود تھے کیونکہ اب نکاخ کی رسم ہونےوالی تھی ۔ نکاح خواں سٹیج پر آیا تھا۔۔اور نکاح پڑھانا شروع کیا تھا۔۔۔”زیان حیدر ولدحیدرعلی آپ کو ہانیہ زوار ولد زوار شاہ پانچ لاکھ سکارائج اولوقت اپنے نکاح میں قبول ہے”

“جی قبول ہے ” زیان کے نکاح نامے پر سائن کرنے کے بعد مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔۔”

عنایہ اپنی دوست صبا کا ہاتھ پکڑ کر اندر ہانیہ کی طرف بھاگی تھی کیونکہ زیان نکاح نامے پر سائن کر چکا تھا اور اب مولوی صاحب نے اندر ہانیہ کی طرف جانا تھا عنایہ پہلے وہاں پر پہنچنا چاہتی تھی اسی لیے صبا کو بھی ساتھ گھسیٹا تھا۔

چلیں , چلیں ہانیہ آپی جلدی سے گھوگٹ لے نکاح خواں ادھر ہی آرہے ہے,,

عنایہ جلدی سے آگے بڑھی تھی اور پاس پڑا سرخ دوبٹے سے گھونگٹ اُڑایا تھا ۔اتنی دیر میں نکاح خواں کے ساتھ بڑے پاپا,,چھوٹے پاپااور افنان اندر داخل ہوۓ تھے…