250.9K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 10

Ishq Da Rang by Saman

بولو بیٹی قاضی صاحب کچھ کہہ رہے ہے آپ سے جواب دو خاتم شاہ عنایہ کو خاموش دیکھ کر آگے آۓ تھے اور اُس کے سر

پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔عنایہ جو کسی گہری سوچ میں تھی ایک دم ہوش میں آئی تھی اور ایک نظر اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا جنھوں نے اثبات کا اشارہ کیا تھا۔۔اور گردن ہلائی تھی۔۔

جی قبول ہے۔۔۔۔۔” عنایہ نے دل پر پتر رکھ کر قبول کیا تھا ایک آنسو چُپکے سے آنکھ کی بار توڑ کر گال پر پھسلہ تھا۔۔جو اُس نے بے دردی سے صاف کر کے نکاح نامے پر سائن کیا تھا۔۔۔” نکاح کے پیپر پر سائن کروا کر قاضی صاحب باہر نکل چُکے تھے,,اُن کے پیچھے ہی زوار شاہ اور سکندر شاہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر نکلے تھے۔۔

دیکھوں بیٹی میں جانتا ہوں تم ابھی اس سب کے لیے تیار نہیں تھی لیکن مجھے یقین ہے کہ تمہیں اگلے چل کر ہمارے فیصلے کی اہمیت کا اندازہ ہو گا۔۔تب تک بچی دل میں کوئی غلط حیالات نہ پالنا ہم نے جو فیصلہ کیا ہے تمہاری بہتری کے لیے ہے اُمید ہے کہ تم ہمیں خودغرض نہیں سمجھو گی افنان بہت اچھا ہے۔۔ ,,,” خاتم شاہ اس کے پاس بٹھتے ہوۓ بولے تھے۔۔

اس نے صرف اثبات میں گردن ہلائی تھی۔۔

اللّٰہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے خاتم شاہ اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر نکل گے تھے۔۔

مبارک ہو بیٹی ” انیلا بیگم نے آگے بھر کر اس کا ماتھہ چوما تھا۔۔

سمیرابیگم بھی آگی آئی تھی اور اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔

اپنی ماں کو غلط نہ سمجھو بیٹا جو کچھ ہوا تمہاری بھلائی اسی میں ہے میری بچی وہ آہستہ آواز میں بولی تھی۔۔

چلو صبا بیٹا عنایہ کو باہر لے چلو کچھ تصویریں بنوانی ہے اور رحصتی کا بھی وقت ہو رہا ہے۔انیلا بیگم نے کہا تھا۔۔

اب یہ ضروری ہے کیا عنایہ نے براسا منہ بنا کردھیمے سے کہا تھا۔۔جو بہ مشکل صبا نے ہی سنا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔

ہاں بلکل بہت ضروری ہےچلو اُٹھوں” صبا نے اسے ہاتھ دے کر اٹھایا تھا۔۔

اور اسے لیے باہر کی طرف بڑھی تھی سمیرا اور انیلا بیگم پہلے ہی باہر نکل گی تھی۔۔

سٹیج پر ہانیہ اور زیان ایک صوفے پر موجود تھے ساتھ ہے دوسرے صوفے پر

صبا اُسے افنان کے ساتھ بیٹھا کر سٹیج سے نیچے اُتر آئی تھی,,,

افنان نے پُر شوق نظروں سے اُسے دیکھا تھا جبکہ اس نے اُسے اِگنور کیا تھا اور اپنی ناراضگی کا اظہار چہرۓ پر گھونگھٹ لے کر کیا تھا جو باہر آنے سے پہلے ہی لے چکی تھی۔۔” افنان کی حسرت ہی رہ گی تھی کہ وہ اسے دیکھے اپنی ملکیت میں آنے کے بعد پہلی بار کتنا خوبصورت احساس تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہوچکی ہے مگر اُسےتو جیسے کوئی پرواہ ہی نہیں تھی ۔۔” افنان نے لمبی سانس کہنچی تھی۔۔

سب کا فوٹو سکیشن ہوا تھا فوٹو گرافر نے یہ حسین یادیں کمرے میں قید کی تھی۔۔پھر رخصتی کا وقت آیا تھا ہانیہ سب سے ملی تھی عنایہ بھی سب کچھ بھلا کر ہانیہ کے گلے لگی تھی اس کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی ہانیہ سب کی دعایں لے کر پیا گھر سُدھاری گئ تھی۔۔

کمرے کو خوبصورت تازے پھولوں سے سجایا گیا تھاپورے کمرے میں جگہ جگہ پھولوں کے گلدستے رکھے گے تھے بیڈ کے چاروں طرف سفید اور سرخ نیٹ کے پردے لگے تھے ان کے بیچ میں تازہ پھول لگاۓ گےتھے ” ان سب کے بیچ میں بیڈ پر بیٹھی ہوئی وہ ایک شہزادی معلوم ہو رہی تھی”۔ اسے کچھ دیر پہلے ہی زیان کی کزنے روم میں چھوڑ گی تھی آنے والے لمہات کو سوچ کر ہی اس کی ہتلیوں میں پیسنہ آیا تھا” اےسی کی وجہ سے کمرے میں ہلکی ہلکی خنکی تھی کمرہ ایک خواب ناک منظر پیش کر رہا تھا

کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہ اندر داخل ہوا ” دروازہ لاک کر کےپلٹا اور اسے دیکھ کر پل بھر کے لیے مہوت ہوا تھا۔۔لیکن پھر آہستہ آہستہ چلتا بیڈ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھا تھا۔” وہ جو اس کے اندر آنے پر خود میں سمیٹی تھی بیڈ پر بیٹنھے پر اس کی دھڑکن تیز ہوئی تھی دل اتنی زور سے دھڑک رہاتھا جیسے ابھی باہر آجاے گا ” زیان جو اس پر شوک نظروں سے دیکھ رہا تھا اس کی حالت دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔ اس کی تھوڑی کو ایک انگلی سے اوپر کیا تھا اور اس کا چہرہ دیکھ کر مسمرائز ہوا تھا۔۔

ماشااللّٰہ اس نے بے اختیار کہا ہانیہ نے اپنی نظریں اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور زیادہ دیر نہ دیکھ سکی “اس کی آنکھوں میں پیارکا ٹھاٹھہ مارتا سمندر تھا ایک خمار تھا

ریلکس کیا ہو گیا ؛ ” تمہیں اتنا پیسنہ کیوں آرہا ہے” زیان نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا تھا۔۔

وہ۔۔۔۔” میں چینج کر لو ہانیہ کو اور تو کچھ نہ سمجھ آیا اسی لیے جلدی سے بولی۔

اتنی جلدی کیا ہے ابھی تو میں نے تمہیں ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں ” زیان نے خمار الود لہجے میں کہا۔

دیکھ تو لیا ہے اور کیسے دیکھے گے ؟ ہانیہ بے اختیار بولی تھی۔۔

ابھی کہا ؟ “ابھی تو میں نے تمہارے حسن کو اخراج بھی پیش کرنا ہے اور میں ہو نہ میں تمہادی مدد کرو گا جینچ کروانے میں۔۔” زیان نے معنی خیزی سے کہا تھا۔۔ “

اس کی بات سن کر ہانیہ کانوں کی لو تک سرخ ہوئی تھی۔۔

نہیں میں خود جینچ کر لو گی مجھے ابھی جینچ کرنا ہے پلیز,, ہانیہ نے بے چارگی سے کہا تھا وہ واقعی تھک چکی تھی,,” زیان کو احساس ہوا تھا اسی لیے اسے ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا تھا “” آئنے کے سامنے کھڑا کر کے اس کے بالوں سے دوبٹہ اُتارنے میں مدد کی تھی دوبٹہ اتار کر سائڈ پر رکھا اور بالوں کو پینوں سے آزاد کروایا تھا جوڑا کھلا بال پوری کمر پر بکھرے تھے زیان بےخود ہوا تھا پیچھے کندھے سے بال ہٹا کر وہاں اپنے لب رکھے تھی ہانیہ خود میں سیمٹی تھی ۔۔

میں جینچ کر لو اس نے آئنے میں اس کا عکس دیکھا تھا ۔۔جاو کب تک بچو گی لوٹ کر تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے ۔۔زیان نے مسکرا کر کہا تھا “اس کو اپنی طرف موڑ کر ماتھے کو لبوں سے چھوا تھااور اسے جانے کا راستہ دیا تھا وہ جلدی سے واش روم کی طرف بڑھی تھی زیان نے مسکراتے ہوۓ الماری سے اپنا نائٹ ڈریس نکالا تھا اور چینجنگ روم کی طرف بڑھا تھا۔۔

۞۞۞۞۞۞ٔ۞۞۞۞۞ٔ۞

واش روم میں آکر اسنے اپنی دل کو نارمل کیا تھا جو زیان کے زرہ سا چھونے پر بے انتہا دھڑکنے میں مصروف تھا۔۔۔لیکن پھر اپنا رات کا ڈریس دیکھ کر پھر سے سرخ ہوئی تھی جو ریڈ کلر کی نائٹی تھی اور با مشکل گھٹنوں تک آتی تھی۔۔”

زیان پلیز میرا نائٹ ڈریس بیگ سے نکال دے اس نے واش روم کے دروازے کو ناک کر کے زیان سے کہا تھا جو جینچ کر کے بیڈ پر نیم دراز تھا۔۔

میری جان آپ کا نائٹ ڈریس اندر واش روم میں ہینگ ہوا پے آگر آپ کو نہیں نظر آیا تو میں آکر دیکھاو “زیان نے دانتوں تلے لب دبایا تھا۔۔اور واش روم کے دروازے کے پاس آکر بولا تھا۔۔

لیکن۔۔۔۔: ۔۔زیان وہ بہت چھوٹا ہے میں کیسے پہنوگی ” وہ تقریباً ممنائی تھی۔۔۔۔

میں پہناؤ آکر اور ویسے بھی تمہیں میرے سامنے ہی تو پہننا ہے اب اگر تم نے وقت زائع کیا تو میں خود اندر آجاو گا” چلو جلدی کرو یار کیوں ٹائم ویسٹ کر رہی ہو”” زیان نے معنی خیزی سے کہا تھا۔۔

اور اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ اس کی وجہ سے ہی تو نہیں پہن رہی وہ اس کی بولتی نظروں کی تاب نہیں لاسکتی تھی۔۔

تم باہر آرہی ہو کہ تم یہ کام مجھ سے کروانا چاہتی ہو” زیان جو وہی دروازے پر کھڑا اُس کا انتظار کر رہا تھا شرارت سے بولا

ہانیہ نے ایک دم دروازہ کھولہ تھا۔۔

اب وہ اس کے سامنے تھی ایک ہاتھ سے نائٹی کو نیچے سے کھنچ کر لمبا کرنے کی کوشش کرتی ہوئی ۔۔

یہ اس طرح لمبا نہیں ہو جاۓ گا۔۔” زیان نے شرارت سے کہا تھا۔۔

اپ بہت بُرے ہے زیان آپ نےکیا رکھا میرے پہننے کے لیے دیکھیں تو کتنا چھوٹا ہے میں کمفرٹیبل فیل نہیں کر رہی اس میں ۔۔ہانیہ نے گلے سے ٹھیک کرتے ہوۓ کہا ۔۔

گلا کھلا ہونے کی وجہ سے اس کی تمام رعنائیاں صاف نظر آرہی تھی جو زیان کو بے خود کررہی تھی۔۔

کچھ ماحول کا اثر کچھ اپنی ملکیت کا احساس اسے بہت کچھ کرنے پر اکسا رہا تھا اور اس نے اپنی دل کی سنتے ہوۓ اسکو کلائی سے پکڑکر اپنی طرف کھنچا تھا جو سیدھی اس کے سینے سے ٹکرائی تھی اس سے پہلے وہ سنبھلتی کلائی چھوڑ کر اپنے ہاتھ اس کی کمر پر باندھے تھے اور بنا اس کو بات کا موقع دیا اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ کر اُس کی سانسوں کی مہک کو اپنی سانسوں میں اُتارہ تھا۔۔۔۔

لمحے کافی معنی حیز تھے وہ جو اس سب کے لیے تیار نہ تھی زیان کی شٹ کو اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑا تھا۔۔۔۔

نہ جانے کتنے سالوں کی پیاس تھی جو بُجاۓ نہیں بُج رہی تھی۔۔

زیان نے اس کے لبوں کو چھوڑ کر اسے بازو میں بھرا تھا اور بیڈ پر لا کر نرمی سے لٹایا تھا اور خود اُس کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر چہرہ اُس کے چہرۓ کے پاس لایا تھا اور اس کا گلناری چہرہ دیکھا تھا۔۔

اشش…”۔وہ جو کچھ کہنا چاہتی تھی زیان نے اس کے ہونٹوں پر اگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا تھا۔۔

مانا کہ مجھے تمہیں سُنے کا شوق ہے پر میں اپنا یہ شوق پھر کسی دن پورا کرو گا ابھی تم صرف مجھے مخسوس کرو میری سانسوں کو اپنی سانسوں میں اُتارنے دوں آج میں تمہیں بتانا چاہتا ہو کہ تم میرے لیے کیا ہو ” زیان خمار آلود لہجے میں کہتے ہوۓ ایک بار پھر اس کے لبوں پر جھکا تھا اور ہنٹوں سے گردن تک کا سفر اس نے بہت جلدی طے کیا تھا۔

ہانیہ نے بھی مسکرا کر آنکھیں بند کی تھی اپنا آپ اپنے شوہر کے سپرد کیا تھاآخر وہ اُس کا مجازی خدا تھا۔۔۔