Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode (Watching)
Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
اپنی چاہت اپنی محبت کو اپنی جائز ملکیت میں پا کر حذیفہ کا دل سرشار تھا۔ قدم زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ کتنے پل وہ اس کی منتظر بیڈ پر بیٹھی اپنی محبت کو دیکھ کر خود کو یقین دلاتا رہا پھر مسکراتے ہوئے قدم اس کی طرف بڑھا دیے۔
کیسی ہو؟ سلام کے بعد وہ اس کے قریب بیٹھا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا، ہاتھوں کی کپکپاہٹ زرین کی حالت بیان کر رہی تھی۔ حذیفہ کے سوال پر سر ہلا کر جواب دیا۔
آؤ میرے ساتھ، اس کا ہاتھ پکڑے اسے آئینہ کے سامنے کھڑا کیا اور تمام زیورات سے فری کیا۔
تمہارے ساتھ نماز پڑھنا چاہتا ہوں زرین، اب تک اکیلے اس گناہ کی معافی مانگی ہے جو میری سوچوں میں ہوا، آج تمہارے ساتھ مانگنا چاہتا ہوں تاکہ اس کی نحوست سے ہم دونوں محفوظ رہیں۔
کون سے گناہ؟ اس کی بات پر زرین کا دل ڈوبا تھا۔
تم سے محبت پاک کی تھی زرین مگر خیالوں اور طلب نے اسے۔۔۔ جملہ ادھورا رہ گیا تھا۔ کیونکہ اب زرین اس کا ہاتھ پکڑ کر واشروم کی طرف بڑھ رہی تھی، اس کیفیت سے تو وہ خود گزری تھی۔ کچھ دیر بعد دونوں وضو کر کے نماز ادا کر رہے تھے۔ اور یقیناً اس نماز کی برکت ان کی آئندہ زندگی میں اترنے والی تھی۔
*************************
ریحان اور انس سے جان چھڑا کر وہ اپنے روم میں آیا تھا۔ دل کی عجیب حالت اسے خوفزدہ کر رہی تھی۔ آنکھوں میں موجود نمی کو وہ بار بار پیچھے دھکیل رہا تھا۔ روم میں داخل ہو کر اس نے سامنے دیکھا، جہاں زینب بیڈ پر بیٹھے ہونے کے بجائے نیچے کھڑی تھی۔
کیا تم نے ایسے شخص کی حالت دیکھی ہے جسے یوں کہا جائے کہ وہ مرنے والا ہے اور اس پر اس شخص کو اپنی موت کا یقین بھی ہو جائے اور پھر اچانک اس شخص کو زندگی کی خوشخبری دے دی جائے، کیا کیفیت ہوگی اس کی موت کے قریب جا کر واپس زندگی کی طرف پلٹنے پر؟ زینب کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے وہ اس سے سوال کر رہا تھا، اور اس کے اس عجیب سوال کا جواب وہ کیا دیتی جبکہ وہ خود اس حال سے گزری تھی۔ اس کی آنکھوں سے نمی نکل کر بہنے لگی تھی۔ اسے روتے دیکھ کر ذیشان کو تکلیف ہوئی تھی۔
کیا اب بھی نفرت کرتی ہو؟ کیا تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ میں تم سے فلرٹ کر رہا تھا؟ کیا ایک پل کو بھی تمہیں میری محبت پر یقین نہیں آیا؟ اب وہ تھکا تھکا سا سوال کر رہا تھا۔ آواز بھاری ہو رہی تھی۔ خود پر ضبط کی حد ختم ہو رہی تھی۔
م۔میں۔مم۔مجھے۔۔ب۔بھی۔ اور اگلے پل وہ اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
زینب، کیا ہوا؟ پلیز بتاؤ، تمہیں اچھا نہیں لگ رہا تو میں۔۔ اس کے اس طرح رونے پر وہ گھبرا گیا تھا۔
مجھے بھی ہے آپ سے محبت، جب معاذ کا ذکر ہوتا تھا تو مجھے لگتا تھا میں اندر سے ختم ہو رہی ہوں۔ اور مجھے اللہ کے سامنے جانے سے شرمندگی ہوتی تھی آپ سے محبت کرنے پر۔ مگر میں مجبور تھی۔ روتے روتے وہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی جو ذیشان کو بالکل ساکت کر گئی تھی۔
کیا کہہ رہی ہو؟ کیا تم سچ میں مجھ سے محبت کرتی ہو؟ اسے اپنے سامنے کیے وہ اسے باقاعدہ جھنجھوڑ چکا تھا۔
اس طرح کیوں تکلیف دے رہے ہیں؟ اب کیا آپ بھی سزا دیں گے، نہیں ہے مجھے آپ سے محبت۔ اس کے زور سے پکڑنے پر اسے تکلیف ہوئی جس پر وہ جھنجھلا کر اب انکاری ہو رہی تھی۔ مگر ذیشان تو اس کے اظہار پر اپنے جذبات پر قابو ہی نہیں رکھ پایا۔ اسے خود میں بھینچے وہ اپنے رکے تمام آنسو بہا رہا تھا۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا جس لڑکی نے مسلسل اس کی نفی کی وہ درحقیقت اس کی محبت میں مبتلا تھی۔ بس اللہ سے خوفزرہ تھی اور یقیناً اس خوف نے اس محبت کو گندہ نہیں ہونے دیا تھا۔
کیا اس رب کا شکر نہیں ادا کرنا جس نے ہمیں حرام سے بچا کر حلال عطا کیا؟ اس کے خفگی بھرے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر گویا کچھ دیر پہلے کی اپنی شدت کا ازالہ کیا۔ اور زینب اس کی نماز کی آفر پر مسکراتی اس کے ساتھ قدم ملا کر اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی نیت سے بڑھ گئی۔
“اور ہم نے تمہیں زندگی دی کہ تم شکر ادا کرو”۔
’’اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں نے تم کو عنایت کیا۔‘‘(ابراہیم : 34)
ساتھ ہی ارشاد فرمایا:
’’اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو ۔‘‘ (ابراہیم : 34)
*************************
ایک سال بعد وہ اس جگہ کھڑی تھی جہاں آنے کے لیے اس نے خود کو اسلام کے مطابق تیار کیا تھا، اس جگہ آنے کے خود کو قابل بنایا تھا، کتنی بار قدم ڈگمگائے تھے اس کے، کتنی بار تکلیفیں اٹھائی تھیں، مگر اس کے رب نے اسے زمین پر ایک ایسا مضبوط سائباں دیا تھا جو قدم قدم پر اس کے ساتھ رہا تھا، اس نے خود کو جہاں ہر نامحرم سے چھپایا، وہاں اس کے شوہر نے اس کی کسی سیپ میں بند موتی کی طرح حفاظت کی، اور اس کی حفاظت کا ایک انداز ہی تو تھا جو اس نے اپنی بیوی کی طرح ان عورتوں سے پردہ کر لیا تھا جو اس کے سامنے بےپردہ آنے سے نہیں ہچکچاتی تھیں۔ جن کزنز کو بچپن سے دیکھا، ایک گھر میں رہے، اپنی بہنوں اور ان میں کوئی فرق نہ کیا آج وہ ان کے سامنے نہیں آتا تھا اور اس کی دیکھا دیکھی اس کی فیملی کی ساری لڑکیاں تو لڑکیاں عورتیں بھی شرعی پردہ کرنے لگی تھیں۔
اس کا دل اتنی رفتار سے دھڑک رہا تھا جیسے باہر نکل آنے کو بیتاب ہو، اور آنکھیں پلک جھپکنے سے انکاری تھیں، رفتار کے ساتھ دل کی طلب بھی بڑھ رہی تھی جو اسے حد درجہ بےچین کر رہی تھی۔
ازلفہ! اس کی عجیب دیوانگی کو دیکھتے ولید نے اسے پکارا۔
مجھے کچھ وقت کے لیے آپکی محبت سے رہائی چاہئے ولی، بھول جائیں کہ آپ مجھے جانتے ہیں، بھول جائیں کچھ وقت کے لیے ازلفہ کو۔ بنا اس کی طرف دیکھے بنا کچھ سوچے اس نے اپنے دل کو اس کے اصل مکین سے ملانے کا فیصلہ کیا۔ ورنہ شاید اس کی سانسیں ہی تھم جاتیں۔
اس کی عجیب فرمائش پر پہلے تو وہ شاکڈ ہوا پھر سمجھ کر اسے اس کی فرمائش پوری کردی۔
جاؤ، کیا آزاد اس وقت محبت سے بھی اور فکر سے بھی، اتنا سننا تھا کہ وہ خانہ کعبہ کی طرف اپنی حالت اور اطراف کی پرواہ کیے بغیر دیوانہ وار بھاگی تھی۔ اور ولید وہیں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا، جو اب وہاں ایسے کھڑی تھی جیسے اللہ اس کے بالکل سامنے ہے، اس کے ہاتھ ہوا میں بلند ہوئے تھے، اور پھر وہ زمین پر ایسے بیٹھی تھی جیسے کوئی محب پہلی اور آخری بار اپنے محبوب سے مل رہا ہو۔ اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا، بغیر اس کا چہرہ دیکھے وہ بتا سکتا تھا اس کی کیفیت کیا ہو رہی ہوگی۔ وہ کچھ بول نہیں رہی تھی بس اس کی خاموشی اس کے عشق کا اعلان کر رہی تھی۔ اس کی حالت کے پیشِ نظر وہ اس کے پاس جانا چاہتا تھا مگر اس وقت وہ اسے اپنی محبت اور فکر سے رہائی دے چکا تھا، اور شاید ازلفہ کو معلوم تھا جبھی اس سے وعدہ لیا تھا۔ اسے بےبسی سے دیکھتے ہوئے اس نے اپنی بیوی کو اللہ کے حوالے کیا اور پھر خود بھی عاشقوں میں شامل ہو گیا۔ نہ جانے کتنے گھنٹے بیتے ان عاشقوں کو کیا خبر تھی وقت کی، جگہ کی، حالات کی، وہ تو خود کو اپنے رب کے گھر میں سیراب کر رہے تھے۔ اور وہ جب تک وہاں رہی اس کی ایسی ہی حالت رہی تھی۔ لوگ اسے بلکل دیوانی سمجھنے لگے تھے۔
*********************
کیسا محسوس کر رہی ہو قدموں کے نیچے جنت آنے کے بعد؟ حج سے واپسی کے چار مہینوں بعد اس کے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تھی۔ اس دوران زوبیہ، عائشہ، زرین، زینب، اور فرحین موحد کی بیوی سب ماں کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئی تھیں اور سب کے یہاں بیٹے ہی ہوئے تھے۔ کچھ دیر پہلے ہی سب اس سے مل کر گئے تھے، اس کا بیٹا باہر سب کے ہاتھوں کا کھلونا بنا ہوا تھا، جب ولید اس کو اکیلے پاکر اندر آیا تھا اور دروازہ لاک کر دیا تھا۔ اب ان دونوں کا وقت تھا۔
ولی، میں اس قابل ہوں نا کہ اسے آپ جیسا بنا سکوں؟ آنکھوں میں نمی لیے وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
میرے جیسا کیوں؟ بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ کر ہلکے ہلکے اس کے بالوں میں انگلیاں گھمانے لگا۔
میں اسے کیا، میرے اختیار میں ہو تو میں دنیا کے سارے مردوں کو ولید حسن بنا دوں۔ سر کو اس کے گھٹنے پر رکھ کر نظریں ولید کے چہرے پر جما دیں۔
ہم اپنے ہر بچے کو ایسا بنانے کی جان توڑ کوشش کریں گے جیسا کہ اللہ ان کو دیکھنا چاہتا ہے۔
ایک بات بتاؤں آپ کو؟ اور ولید اس کی وہ بات سننے کے لیے ایسے ہی منتظر رہتا تھا جیسے کوئی پیاسا پانی کا۔ کیونکہ اس کی وہ ایک بات اسے اندر سے سرشار اور تر و تازہ کر دیتی تھی اور اسے محبت کے ایک نئے روپ سے آشنا کرواتی تھی۔
کان ترس رہے ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ہے، رگوں میں رکا خون گردش کرنے لگا ہے تمہاری وہ ایک بات سننے کے لیے۔ چہرہ اس کے چہرے کے بالکل قریب کر کے اس کی پیشانی پر اپنی پیشانی ٹکا کر وہ اس کے پاس آدھا بیٹھا اور آدھ لیٹا تھا۔
مجھے اللہ و رسول سے محبت کے بعد سب سے زیادہ آپ سے محبت ہے، میں جب جب لڑکھڑاتی ہوں اور جو آپ کا سہارا ملتا ہے تو میرا دل چاہتا ہے اس سہارے کے لیے میں بار بار لڑکھڑاؤں۔ جب آپ مجھے ڈانٹتے ہیں تو میرا دل چاہتا ہے میں بار بار غلطیاں کروں اور آپ مجھے ایسے ہی ڈانٹے، اور جب راتوں کو اٹھ اٹھ کر آپ میرے ماتھے پر بوسہ دیتے ہیں تو میرا دل چاہتا ہے اپنے ماتھے پر آپ کے نام کی ایسی مہر لگاؤں جو پہچان لی جاؤں کہ ولید حسن بخاری کی ملکیت ہوں۔ اور جب آپ کی امامت میں نماز ادا کرتی ہوں تو میرا دل چاہتا ہے ان سجدوں میں عشق کی حد ہو جائے۔ ہر بار کی طرح اس کے اظہار پر ولید کی آنکھوں سے کچھ موتی نکل کر اس کی آنکھوں میں سما گئے تھے۔ دونوں آ نکھیں موندیں اس جہاں میں پہنچے ہوئے تھے جہاں ان کا عشق تکمیل پا رہا تھا۔
*******************
ختم شد
