Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 (Watching)Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Episode21
Hidayat by Ain Noon Alif Episode21
معاذ ہمارا دوست رہ چکا ہے ولید، تو اس کے بارے میں اتنی چھان بین؟ حذیفہ کے سوال پر ولید نے سامنے کھلی ہوئی فائل بند کر کے ایک طرف رکھی۔
ہم پانچ سال پہلے والے معاذ کو جانتے تھے حذیفہ، پانچ سال بعد والے معاذ کے بارے میں اس وقت ہم کچھ نہیں جانتے۔ میں زیادہ چھان بین نہیں کر رہا ہوں۔ بس اس کا نیچر اور اس کا کیریکٹر پتا کروا رہا ہوں۔
اس پر اتنا دھیان کیوں بھئی؟ اگر اس کا ایک آدھ افئیر نکلا تو کیا تم ریجیکٹ کر دوگے؟
میں نے مردوں کی بدکرداری کی وجہ سے کتنی شریف زادیوں کو بگڑتے دیکھا ہے، ان کے لٹنے کے قصے پڑھیں ہیں حذیفہ، مردوں میں بدکرداری کی وجہ سے عورت پردے میں بھی محفوظ نہیں ہے۔ تو سوچو مرد کا باکردار ہونا کتنا ضروری ہے شاید عورت کے کردار سے بھی زیادہ۔ میں اپنی بہنوں کے لیے ایسا شوہر چاہتا ہوں جن کا کردار مشعل کہ طرح ان کی راہ کو روشن کرے۔ ناکہ ان کے کردار کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن ہو۔
سہی کہہ رہے ہیں بھائی۔ موحد نے اس کی بات سے بھرپور اتفاق کیا۔
ارے واہ تم بھی اسی نہج پر سوچنے لگے؟ دونوں موحد کے اتنے سیریس انداز کو دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ میں بھی پہلے ایسا ہی سوچتا تھا بھائی کہ عورتوں کا باحیا اور با کردار ہونا زیادہ ضروری ہے ورنہ ان کی بدکرداری سے نسلیں تباہ جاتی ہیں۔ مگر آج حقیقت کھل رہی ہے کہ عورت کے بدکردار ہونے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا مرد کے بدکردار ہونے سے ہوتا ہے، اس کی وجہ سے تو قوم ہی تباہ ہو جاتی ہے۔
ایسا کیا دیکھ لیا بھائی تم نے۔ حذیفہ کے سوال نے اس کے چہرے پر ایک درد بھری کیفیت نے بسیرا کیا تھا۔
لاسٹ ویک میرے ایک دوست کے جاننے والے کے یہاں ایک لڑکی اغوا ہو گئی اور دو دن بعد اسے بہت زیادہ بری حالت میں اسے اس کے گھر کے دروازے پر پھینکا گیا، آپ جانتے ہیں ایسا اس کے ساتھ کیوں ہوا؟
کیوں ہوا؟ دونوں بغور اس کی بات سن رہے تھے۔
کیونکہ اس لڑکی کے بھائی نے ایک لڑکی سے ناجائز تعلقات بنائے اور جب امید پر اس نے اسے شادی کرنے کا کہا تو اس نے کہا جو شادی سے پہلے اس کے ساتھ سو سکتی ہے وہ کسی اور کے ساتھ بھی سوئی ہوگی۔ ایسی کیریکٹر لیس لڑکی سے وہ شادی نہیں کر سکتا۔ اس لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوا، جو اس کے لیے جانلیوا ثابت ہوا،
مرنے سے پہلے اس نے اپنے بھائی کو تمام حقیقت بتا دی تھی اور بھائی نے اس طرح بدلہ لیا۔ اس کی بہن کا تعلق ایک سے تھا مگر بدلے میں اس نے نہ جانے اس معصوم لڑکی کو کتنے جانوروں کی خوراک بنایا، بتاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے۔ اور وہ دونوں بت کی مانند خاموش ہوئے تھے۔
وہ لڑکی بھی مر گئی، جس قوم کو اللہ نے اتنا نازک بنایا وہ اتنی بریریت کیسے برداشت کرےگی، تکلیف کی شدت سے وہ سہی سے بول بھی نہیں پا رہا تھا۔
اور آپ کو پتا ہے بھائی عورتیں اسی لڑکی کو برا کہہ رہی تھیں کسی نے اس کے بھائی یا اس آدمی کو کچھ نہیں کہا۔ اگر یہ سب میں اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتا تو شاید ابھی بھی میری سوچ نہیں بدلتی۔
مرد کے کیے کی سزا اسی کو کیوں نہیں ملتی، اس کا بدلہ ہمیشہ عورت سے ہی کیوں لیا جاتا ہے۔ وہ آدمی تو ذرا سی ذلت کے بعد زندگی میں آگے بڑھ جاتا ہے مگر عورت کی زندگی تو بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ اتنی ناانصافی کیوں؟ ایسی حالت میں عورت باغی نہیں ہوگی تو کیا ہوگی۔
اللہ کے انصاف کا انتظار کرو، وہ معصوموں پر پڑنے والے ایک تھپڑ، ایک آنسو کا حساب نہیں چھوڑتا تو پھر اس ظلم پر وہ ‘قہار’ کیسے خاموش بیٹھے گا۔ بس توبہ کرو، اس عورت کی عزت مرد کے کردار سے ہے۔ اللہ ہم سب کے کردار کو ہمارے گھر کی عورتوں کے نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین
اب کیا کہتے ہو حذیفہ؟ اس کا اشارہ معاذ کی چھان بین کی طرف تھا۔
تم سہی ہو یار، اس کی آواز دھیمی تھی وہ اس ہولناک واقعہ سے خاموش ہو گیا تھا۔ اور ایسا تو گھر گھر، شہر شہر، ملک ملک میں ہو رہا ہے۔ جس کو اللہ نے اتنے پردوں میں پیدا کیا، آج کہیں وہ خود ان پردوں کو چاک کر رہی ہے، تو کہیں ان کے گھر کے مردوں کی وجہ ان پردوں کو بے دردی سے چاک کیا جا رہا ہے۔
مگر یہ حقیقت ہے کہ اس ظلم کا پہاڑ عورت پر ہی ٹوٹ رہا ہے۔
******************
کیا جواب دیں بیٹا ان لوگوں کو؟ فون آیا تھا جواب چاہتے ہیں وہ لوگ۔ ڈنر کرنے نے بعد وہ سب ہال میں بیٹھے گرین ٹی پی رہے تھے جب حیدر صاحب نے ولید سے رشتہ کے متعلق پوچھا۔
استخارہ کر لیتے ہیں، انشاءاللہ بہتر ہوگا جو بھی ہوگا۔
میں کر رہی ہوں، ابھی تک مطمئن تو نہیں ہو پائی۔ اور رک جاتے ہیں ایک دو دن، آپ یہ بتا دیں ہم استخارے کے بعد جواب دیتے ہیں۔ آسیہ حسن کی بات پر حیدر صاحب نے سر ہلایا۔
آج یہ لڑکیاں باہر کیوں نہیں ہیں؟ حیدر صاحب کے پوچھنے پر ولید کو بھی ان کی کمی محسوس ہوئی۔
سب ولید کے روم میں ہیں پڑھائی کر رہی ہیں، پہلے تو ازلفہ کی تیاری کروا رہی تھیں۔
ویسے بھابھی بالکل بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ نند بھابھی ہیں، ایک دوسرے کی فکر میں تو ان لوگوں نے سگی بہنوں کو بھی مات دے دی۔
سہی کہہ رہی ہو سلمیٰ، واقعی اللہ نے ہیرا نوازا ہے، بس ہم ہی قدردان کم نکلے تھے۔ یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے جلد ہی ہمیں ہدایت دےدی۔ آسیہ حسن اب اس کی تعریف کرنے میں ذرا نہیں ہچکچاتی تھیں۔ ان کی تعریف پر ولید کا دل اس کے پاس جانے کی ضد کرنے لگا تھا۔ اور جتنا آج وہ غیر مطمئن رہا تھا اس کا دل اس سے بات کر کے مطمئن ہونا چاہتا تھا۔
تم دونوں اتنے چپ چپ کیوں ہو؟ حسن صاحب نے دونوں کو معمول سے زیادہ خاموش دیکھ کر سوال کیا، ولید تو پھر بھی اکا دکا جواب دے رہا تھا مگر موحد تو بالکل خاموش تھا۔
نہیں ابو، بس ایسے ہی سائیٹ کے متعلق سوچ رہا تھا۔ موحد تم ای میل کردو ابھی کھنہ کو، وہ لوگ ہمارے آنسر کا ویٹ کر رہے ہوں گے۔ موحد کے چہرے پر چھائی حزن و ملال کی کیفیت وہ لوگ نوٹس کرتے اس نے اسے اٹھانا مناسب سمجھا۔ خود کو تو وہ منٹوں میں کمپوز کر لیتا تھا۔
جی بھائی، اسے بھی اٹھنے کا بہانہ چاہيے تھا۔ اس کے جانے کے بعد ولید کافی دیر تک ان لوگوں سے بزنس کے متعلق باتیں کرتا رہا تھا حالانکہ دل تو اس کا بھی نہیں لگ رہا تھا۔
******************
الحمدلله، اب ان شاءاللہ اب بہت اچھے ایگزام ہوں گے۔ تھینکیو، گائز، یو آر رئیلی ویری ہیلپ فل۔ اس نے اپنی تیاری پر ان دونوں کو عقیدت سے دیکھا۔
یہ آپ فارمل ہو رہی ہیں، آپ ہم سے زیادہ ہماری اسٹڈی میں ہیلپ کرتی ہیں۔ اور اس شرمین کا میتھس کتنا اچھا ہو گیا اب۔
وی آر فیملی ڈئیر، زرین کی بات پر اس نے اپنائیت کا احساس دلایا۔
ایک بات بتاؤں بھابھی؟ وہ تینوں باتیں کریں اور شرمین خاموش رہے، ممکن ہی نہیں۔
بالکل بتائیں بزرگوار۔ زینب کے کہنے پر اس نے اسے گھور کر دیکھا۔
میری فرینڈ کی بھابھی بہت ڈینجر ہے، اس سے سارا کام کرواتی ہے، اور خود آرام کرتی ہے۔ کسی کسی کی بھابھی بہت ڈینجر ہوتی ہے، بٹ آپ سب سے اچھی بھابھی ہیں۔ میں نے اپنی سب فرینڈز کو بتایا۔ وہ لوگ آپ سے ملنا چاہتی ہیں، میں لاؤں نہ ان کو آپ سے ملانے؟
اوکے ڈئیر۔ اس کے معصومیت سے پوچھنے پر ازلفہ کو اس پر پیار آیا تھا۔
میں بھی بالکل آپ کے جیسی بھابھی بنوں گی، شرمین اس کے گلے لگی تھی۔ اس کی بات پر ان لوگوں نے قہقہہ لگایا تو اسے احساس ہوا وہ کیا بول گئی ہے۔
ویسے ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ نند بھابھی ایک دوسرے کی ازلی دشمن ہوتی ہیں، کیوں ہوتی ہیں یہ ایسی مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔ حالانکہ، یہ وہی لڑکیاں ہوتی ہیں جو ان رشتوں کے زہر سے نالاں ہوتی ہیں وہی اگلے جا کر ویسی ہی بن جاتی ہیں، اگر ان کو اچھی بھابھی نہیں ملی تو وہ خود کسی کی اچھی بھابھی بن جائیں، اور اگر کسی کو نند اچھی نہ ملے تو وہ خود کسی کی اچھی نند بن جائیں، اس طرح یہ برائی دھیرے دھیرے ختم ہو سکتی ہے۔ پتا نہیں کیوں نہیں کرتی لڑکیاں ایسے؟۔
ایک تو یار تم لوگوں کی یہ ٹف باتیں، بٹ مجھے زرین کی یہ بات سمجھ میں آئی، اور میں ایگری ہوں۔ اور تم لوگ دوسروں کو مت دیکھو، ایسا تم لوگ کرنا، آئی مین اچھی نند تو ہو اب بھابھی بھی اچھی بننا، ان شاء الله مے بی تم لوگوں کو دیکھ کر یہ نیکی اور بھی گرلز کرنے لگیں۔
ان شاءالله!
آپی شرمین کو لے چلیں ورنہ یہ یہیں سو جائے گی، میں بکس لے کر آتی ہوں۔ زینب کے احساس دلانے پر زرین نیند میں گم ہوتی شرمین کو لے کر چلی گئی۔ زینب نے بھی ساری بکس سمیٹی اور جانے کی تیار ی پکڑی۔
اسے دیکھ کر ازلفہ کو ذیشان کی باتیں یاد آئیں۔ اسے اس بارے میں بات کرنے کا یہ موقع مناسب لگا۔
زینب کیا کوئی لڑکا تمہیں تنگ کرتا تھا؟ زینب کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے اس نے سوال کیا، اس کے سوال پر زینب کے چہرے کا رنگ تیزی سے بدلا، اس نے نوٹ کیا کہ اس میں ناپسندیدگی نہیں تھی بلکہ ایک پین فل ایکسپریشن تھا۔
ممطلب؟ وہ بری طرح بوکھلا کر کھڑی ہوئی۔
ڈو یو ٹرسٹ می؟ اس کی بوکھلاہٹ پر اس نے اس کی فیلینگ کو جاننا چاہا۔
آف کورس بھابھی، اس نے خود کو کمپوز کیا۔
تو پھر بتاؤ مجھے، تمہیں کوئی لڑکا پریشان کرتا تھا؟ کون تھا؟
آپ بھائی کو نہیں بتائیں گی نا؟
بالکل نہیں، تم بتاؤ۔
سکس منتھس تک وہ میری یونی کے باہر کھڑا رہتا تھا، پہلے تو مجھے لگا وہ کسی اور کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔
ایک دن جب میں اکیلی گئی تھی تو اس نے مجھے پروپوز کیا تھا، بٹ میں نے اس کو ریجیکٹ کر دیا۔ یہ سب نہ اسلام میں الاؤ ہے نہ میری فیملی میں۔ وہ پھر بھی باز نہیں آیا، اور پھر اچانک اس نے آنا بند کر دیا۔
کیا اس نے کوئی غلط حرکت کی؟
نہیں، کبھی نہیں۔ اس کی ایج بھی زیادہ نہیں تھی۔ وہ دھیمی آواز میں اسے بتا رہی تھی، آواز میں ایک خوف پنہا تھا۔ مگر آنکھوں میں کچھ ویرانی سی تھی۔
کیا وہ تمہیں کبھی اچھا نہیں لگا؟ وہ بہت غور سے اسے آبزرو کر رہی تھی۔ اس بار اس کی آنکھوں سے آنسو پھسل کر گالوں پر بہہ گئے تھے۔
سوری، سوری یار تم مائنڈ کر گئیں، ازلفہ اس کے رونے پر گھبرائی۔
نہیں بھابھی، وہ تو بس، میں جاتی ہوں۔ بنا بات مکمل کیے وہ اپنی بکس لے کر روم سے چلی گئی اور ازلفہ اس کے عجیب رئیکشن پر اور زیادہ الجھ گئی۔
*****************
ولید نے روم میں آکر اسے تلاش کیا، مگر اسے روم میں ناپاکر وہ ٹیرس پر ہی آ گیا، اس کی سوچ کے مطابق وہ واک کر رہی تھی۔ اس کا انداز کافی پرسوچ تھا۔ اس نے ایک سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دبائی اور اس کے پاس جا کھڑا ہوا۔ پہلے کی بنسبت اب وہ دن میں بس ایک آدھ بار ہی سگریٹ نوشی کرتا تھا۔ یہ احتیاط بھی ازلفہ کی وجہ سے تھی، مگر آج جان بوجھ کر بنا وجہ وہ اس کے سامنے یہ حرکت کر رہا تھا۔
ایک مجھے بھی؟ وہ جو ازلفہ کے لیکچر کے انتظار میں تھا اس کی الٹی فرمائش پر حیران ہو کر اسے دیکھنے لگا، جو ہاتھ پھیلائے اس کے سامنے کھڑی تھی۔
دماغ خراب ہے تمہارا؟ سگریٹ پیوگی تم،
تم پی رہے ہو۔ کیا تمہارا دماغ خراب ہے؟ اس نے اس کے غصے پر مسکراہٹ دبا کر پوچھا۔
پاگل ہو تم یار، کچھ بھی بولتی ہو۔
نہیں ولید حسن، ازلفہ سبحان کچھ بھی تو نہیں بولتی، یہ بات تم بھی اچھے سے جانتے ہو، اس کے ہونٹوں سے سگریٹ نکال کر کونے میں رکھے ڈسٹ بن میں پھینکی۔ اس کی اس حرکت پر ولید نے اسے ایک گھوری سے نواز کر رخ پھیر لیا۔
ازلفہ سبحان نہیں، ازلفہ ولید بولا کرو۔ اور یہ کیا حرکت تھی۔
یہ وہی حرکت تھی جو تم مجھے کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ یو نو، کل کے لیکچر میں ہمیں یہ بتایا گیا، “اسلام میں جن برائیوں کا ذکر ہوا وہ مرد و عورت دونوں کے لیے بلکل برابر ہیں، ان برائیوں کے کرنے پر جتنی گناہگار عورت ہے اتنا ہی گناہگار مرد۔ جن میں الکوحل، اسموکنگ، بھی تھی۔ تو اب بتاؤ، اگر یہ تم لوگ کر سکتے ہو تو عورت بھی کر سکتی ہے۔ گناہ تمہیں بھی اتنا اسے بھی اتنا۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی وہ ولید حسن کو لا جواب کر گئی تھی۔
“عذاب بھی دونوں کو برابر، دنیا کی سزا بھی دونوں کو برابر، جن کاموں سے عورتوں کو روکا گیا اسی سے مردوں کو بھی روکا گیا۔ تو پھر یہ کام ایک کرنے والا سہی اور دوسرا غلط کیسے ہو سکتا ہے ولید حسن”۔ اس کا رخ اپنی طرف کر کے اس نے اس کے گلے میں باہیں ڈال کر اپنی بات مکمل کی۔
کیا ہو یار تم، مجھے لگا تم مجھے اس پر اچھا خاصا لیکچر دوگی، کلب کے باہر والی بات کا بدلہ لوگی، مگر تم نے تو اب یہ مجھ پر حرام کروا دی، اس نے بھی اسے ویسے ہی حصار میں لیا۔ اس کا دل اب مطمئن ہو رہا تھا۔ وہ کسی کو برائی کے ساتھ نصیحت نہیں کرتی تھی بلکہ اسلام میں بتائی گئی باتوں کو سامنے رکھ دیتی تھی۔ اور یہی چیز تو ہدایت کا ذریعہ بنتی ہے۔
تمہیں نہیں پتا، میں گزرے زمانے یاد نہیں رکھتی، یو نو آئی ہیٹ ہیپو کریسی، بہت دن بعد اس نے یہ جملہ کہا تھا۔
جی بالکل، ازلفہ ولید حسن منافق نہیں ہے۔ اچھا بتاؤ کل کی تیاری ہو گئی؟ وہ اسے اپنے قریب کر کے بوکھلا رہا تھا۔
ہمم، وہ اس کی حرکتوں پر کنفیوژ ہو رہی تھی۔
اندر چلو، لگ رہا ہے بارش ہوگی۔
اونہہ، اب جو موسم ہے وہ تو ایکٹ کرےگا ہی۔
بھیگ جائیں گے ولید، دیکھو ہونے لگی بارش، تم آج مجھے فرسٹیڈ لگ رہے تھے، ریسٹ کرنا چاہئے اب۔ مگر وہ اس کی بات ان سنی کر کے اسے لیے دھیرے دھیرے واک کر کر رہا تھا۔
تم بتاؤ، کیا سوچ رہی تھیں، کوئی مسئلہ ہے؟ اس کے سوال پر اس نے اس کا موڈ دیکھا، پریشان تو وہ بھی لگا تھا اسے، مگر اس وقت وہ اس کے سوال کا فائدہ اٹھانا چاہ رہی تھی۔
ولید، کیا زینب کی شادی ذیشان سے نہیں ہو سکتی؟ ذیشان بہت اچھا ہے۔ اور اب تو بہت اچھا ہو گیا ہے۔ تم بھی اسے جانتے ہو، تو کیا تم اسے اپروو نہیں کر سکتے؟۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر اس معاملے پر بات کر رہی تھی، زینب کے چہرے سے اتنا تو وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ ذیشان اس کے دل میں زیادہ نہیں تو تھوڑی بہت تو جگہ بنا چکا ہے۔ اسے یقین تھا زینب معاذ سے زیادہ ذیشان کے ساتھ خوش رہے گی۔
واٹ؟! ولید بری طرح چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ ایسا کیوں لگا تمہیں؟ وہ اس بات کی امید نہیں کر رہا تھا۔
لگا نہیں، بس اٹس مائے وش۔ کیا نہیں ہو سکتا ایسا؟ اس کی آنکھوں میں ایک امید تھی، جو ولید کو الجھن میں ڈال رہی تھی۔
اور معاذ؟ ابھی نیچے اسے اوکے کیا ہے۔ تم نے پہلے کیوں نہیں کہا؟
پتا نہیں بس ابھی لگا تو تم سے بات کر لی۔
کیا کسی کی انوالمنٹ ہے اس میں؟
نو یار، اوکے لیو، اور زیادہ بات کر کے وہ اسے شک میں مبتلا نہیں کر سکتی تھی۔ تم بتاؤ تم کیوں پریشان تھے؟
اونہہ، بس ایسے ہی۔ اپنی پرابلم یا اندرونی کیفیت وہ کسی سے زیادہ شئیر کرتا ہی نہیں تھا۔ ایک کمزوری محسوس ہوتی تھی اس میں اسے۔
کیا تم مجھ سے اپنی پرابلم شئیر نہیں کر سکتے؟
کوئی پرابلم نہیں ہے یار۔
اوکے! اس نے ناراض ہو کر اس کے ہاتھ ہٹائے، اور اندر کی طرف بڑھی۔ ولید نے سرعت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس اپنی طرف کھینچا۔
ضدی ہو نا تم، اسے اپنے حصار میں لیے وہ پھر سے بھیگنے لگا۔ “بات احساس کی ہے ازلفہ، احساس ہے تو چھوٹا گناہ بھی پہاڑ کے برابر معلوم ہوتا ہے، اور احساس نہیں تو پھر بڑے سے بڑا گناہ بھی گناہ نہیں لگتا”۔ اور احساس صرف مومنوں کو ہوتا ہے، بے احساس تو صرف شیطان اور دشمنانِ اسلام ہیں، اور آج مسلمانوں کی بےحسی، پتا نہیں کس زمرے میں آتی ہے۔ وہ اس سے تمام باتیں شیئر کرنے لگا۔
تمہیں پتا ہے ولید، میں نے جب سے اسلام کو جاننا شروع کیا ہے، مسلم کو دیکھنا بند کر دیا۔ ایک لیکچر میں ایک اور بات بتائی گئی تھی ہمیں، اگر تم برائی کو دیکھو تو جو تمہارے پاس طاقت ہے، ہاتھ کی، زبان کی یا جو کوئی بھی، اس کا استعمال کرنا ہے۔ “ظالم سے زیادہ بدتر خاموش انسان ہے”۔ اور پہلے میں لوگوں کو جواب ان کی اوقات یاد دلانے کے لئے دیتی تھی، آج اللہ کے لیے۔
تم خود سے محبت کرنے پر مجبور کردوگی، ہے نا؟ اس نے سرشاری سے اسے گلے لگایا۔ وہ غفلت میں بھی ان باریکیوں سے انجان نہیں تھی تو اسلام میں داخل ہو کر تو واقعی اس نے کمال کرنا تھا۔
واٹ؟ تمہیں اب تک مجھ سے محبت نہیں ہوئی؟ تو یہ فلرٹ کر رہے ہو میرے ساتھ؟ اس نے اس کے بازو پر مکہ مارا۔
استغفراللہ! ویسے جائز فلرٹ ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسی آئی۔
ولید، تم پاورفل ہو، ماشاءاللہ! ایک بستی بنا رہے ہو، کیا تم ایسے لوگوں کا صفایا نہیں کروا سکتے؟ اس کا اشارہ موحد کی بتائی بات کی طرف تھا۔
اس کے لیے مجھے پولیس فورس جوائن کرنی پڑےگی۔ اور کیا تم مجھے غنڈہ بنانا چاہتی ہو؟، بیویاں شوہروں کو خطرے سے دور دیکھ کر خوش ہوتی ہیں، ایک تم ہو جو خطرے میں دھکیل رہی ہو۔ پہلے ہی وہ بہت کچھ سوچ چکا تھا۔
پولیس تو خود ایسی ہے، تم کسی اور طرح ان کو ایٹ لیسٹ سبق سکھانا، اسی پاور کا یوز کرکے جسے اسلام نے کرنے کو کہا۔
انشاءاللہ، تم دعا کروگی تو ضرور اللہ مجھ سے ویسے ہی کام لےگا، جیسا وہ لینا چاہے گا۔
اینڈ تھینکس،
کیوں؟
تم ٹینشن فری کر دیتی ہو یار، اب چلو، ورنہ پھر کہوگی میری وجہ سے ایگزام کے روژن کا وقت نہیں ملا۔ اسے لیے وہ اندر آ گیا۔
ایک عزم تھا، اسے واقعی کچھ برائیوں کو اپنی طاقت سے روکنے کی کوشش تو کرنی تھی۔
جاری ہے
