Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode26

Hidayat by Ain Noon Alif Episode26

سب ساکت بیٹھے اسے سن رہے تھے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ازلفہ اتنی بڑی قیامت سے گزر گئی۔
یا اللہ، میری بچی نے اتنا کچھ سہہ لیا۔
آپ کی بچی بھی کم نہیں ہے، اس نے بھی اپنے لفظوں سے ان لوگوں کی کم عزت افزائی نہیں کی، اپنی ناراضگی کو چھپائے وہ اسی کو سپورٹ کر رہا تھا، حیدر صاحب خاموشی سے اس کے چہرے کے اتار چڑھائو دیکھ رہے تھے، جو وہاں ہوتے ہوئے بھی وہاں موجود نہیں تھا۔
بیٹا ان لوگوں کا کیا ہوا؟
سب کو اریسٹ کر لیا گیا ہے چچا جان، بہت زیادہ الزام ہیں تو عمر قید یا پھانسی ہی ہوگی۔
اور عورتیں؟
ان کے لیے سزا کا انتخاب اللہ پر چھوڑ دیا۔ اور ویسے بھی انہیں ویسا بنایا گیا تھا، اپنے مردوں کی پیر کی جوتی تھیں اس لیے غلط راستے پر نکل پڑیں۔ اب جو اللہ کرے۔
اللہ خیر کا معاملہ کرے۔
ہیروئن نکلی اپنی بھابھی تو، میں سب کو بتاؤں گی۔ شرمین کی پرجوش آواز سب کے چہروں پر مسکراہٹ لے آئی۔
تم سے تو بس باتیں بنوا لو۔ آذر کے ٹوکنے پر شرمین نے منہ بنایا، کچھ دیر پہلے تک جو لوگ صدمے کی کیفیت میں تھے اب پرسکون ہو گئے تھے۔
*********************
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا۔ جب اسے کراہنے کی آواز آئی، آنکھیں کھول کر اندھیرے میں کچھ دیر تو اس نے سمجھنے کی کوشش کی، پھر جھٹکے سے لائٹ آن کر کے ازلفہ کو دیکھا جو اپنا ہاتھ پکڑے سر ادھر ادھر پٹک رہی تھی۔
ازلفہ، وہ اٹھ کر اس کے قریب ہوا اور اس کا چہرہ دیکھا جو تکلیف کی وجہ سے آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ پہلے اس نے اس کا زخمی ہاتھ احتیاط سے رکھا پھر سر کو پکڑ کر اسے سہلایا۔ اس کے ایسا کرنے پر ازلفہ نے دھیرے دھیرے آنکھ کھول کر اسے دیکھا۔
پین ہو رہا ہے؟ اس کے پوچھنے پر ازلفہ نے ہاں میں سر ہلایا، کچھ آنسو نکل کر اس کی کنپٹی میں جذب ہو گئے۔
ریلیکس، تم نے رات کی میڈسن نہیں لی اس لیے ہو رہا ہے۔ ابھی ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ۔ بٹ پہلے تمہیں کھانا کھانا پڑےگا۔ اوکے۔ میں لے کر آتا ہوں۔
ہیڈیک بھی ہو رہا ہے۔ اس نے پھر سر پٹکا۔ بےچینی بھی شاید زیادہ ہو رہی تھی۔
ویٹ، ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔ اس نے اس کے سر پر دم کیا۔ میں آتا ہوں پانچ منٹ میں۔ اوکے۔ ازلفہ نے نم آنکھوں سے اس کی بھاگ دوڑ دیکھی، مگر اس کی ناراضگی کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ سر اور ہاتھ میں بڑھتے درد نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔
*********************
ازلفہ، چلو اٹھو، دس منٹ بعد وہ روم میں آیا، ہاتھ میں پکڑی ٹرے سائڈ میں رکھی جس میں ایک گلاس ملک جس میں اس نے نہ جانے کیا ملایا ہوا تھا۔ اور تین ہاف بوائلڈ ایگ۔
یہ کیا کر رہے ہو؟ ولید کو ایک پانی کا باؤل لاتے دیکھ کر پوچھا۔
کیا ایسے ہی کھاؤگی؟ ہاتھ منہ نہیں دھونا۔
میں واشروم میں۔۔
واشروم جانا ہے؟ اس کے پوچھنے پر ازلفہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
چلو، سہارا دے کر اٹھایا۔
کیا تم ناراض ہو؟ وہ دیکھ رہی تھی ولید اس کی کئیر کر رہا تھا مگر خاموشی سے۔ نہ اس کی طرف پہلے کی طرح دیکھ رہا تھا نہ اس سے بات کر رہا تھا اور نہ اسے ڈانٹ رہا تھا اور یہ چیز اسے پریشان کر رہی تھی۔
یہ فنش کرو جلدی، اس کے منہ کی طرف ایگ بڑھایا، مگر اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔
یہ تین ہیں، میں اتنا نہیں کھاؤں گی اور یہ ملک۔ مگر وہ اس کی سنے بنا ہی اسے زبردستی سب کھلاتا رہا۔
ولید تم ناراض ہو؟ اس نے پھر پوچھا۔
تھوڑی واک کرو، چلو، اسے سہرا دے کر پانچ منٹ تک اسے سلو سلو واک کروانے کے بعد واپس بیڈ پر لایا۔
یہ لو، اس کے منہ میں ٹیبلیٹس رکھ کر پانی پلایا۔ سب کچھ خود کر رہا تھا، مگر پہلے جیسا ولید نہیں رہا تھا۔
ولید پلیز بتاؤ تم۔۔۔
اب تو پین نہیں ہو رہا ہے؟ اس کے پوچھنے پر ہاں میں سر ہلایا۔
کہاں؟ اس نے اس کے ہاتھ اور چہرے کا معائنہ کرتے ہوئے پوچھا۔
دل میں، تم مجھے اگنور کر رہے ہو۔ اس لیے۔ اس کی بات نے دل میں ہلچل مچائی جسے اس نے آسانی سے اگنور کر دیا۔
چلو سوؤ، اسے لٹانے کی کوشش کی۔
نہیں، نماز پڑھنی ہے ابھی، تین نماز قضا ہو گئیں۔ ان چار مہینوں میں اس نے سب سے پختہ عادت جو بنائی تھی وہ ہر حال میں نماز کی پابندی تھی، اور ان مہینوں میں آج پہلی بار اس کی نمازیں قضا ہوئی تھی۔
پڑھ پاؤگی؟ اس نے اس کے ہاتھ اور چہرے کی طرف اشارہ کیا۔
ہممم۔ معافی نہیں ہے نا نماز کی،
وہیں بیٹھے ہوئے ولید نے اس کی وضو کروائی، اور پھر بڑی مشکل سے وہ نماز ادا کر پائی تھی۔ ولید اس کے چہرے پر تکلیف کے ساتھ جو سکون دیکھ رہا تھا وہ یقیناً نماز کا ہی تھا۔
اب بتا دو، کیا تم ناراض ہو۔ نماز کے بعد اس نے نم آنکھوں سے پھر پوچھا، اس بار آواز بھرا گئی تھی، مگر اس بار بھی ولید نے اس کی بات کو اگنور کر دیا اور اسے آرام سے لٹا کر خود بھی لیٹ گیا۔ دھیرے دھیرے اس کا سر سہلاتے ہوئے اسے سلانے لگا۔ جہاں اس کا یہ برتاؤ ازلفہ کو رلا رہا تھا وہیں اس کا خود کا دل بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔ مگر ابھی اسے نرم نہیں پڑنا تھا۔
__________
ذرا سی بھی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی تمہاری، میں آفس جا رہا ہوں، اور مجھے کوئی شکایت نہیں ملنی چاہیے، وقت پر کھانا اور میڈیسن دونوں لینی ہے۔ آئی سمجھ میں بات۔
نہیں آئی، جب تک تم مجھ سے اچھے سے بات نہیں کروگے میں اپنی کئیر نہیں کروں گی۔
جو کہا ہے وہ کرو، اگر نہیں چاہتی ہو میں اس سے زیادہ برے طریقے سے پیش آؤں تو پریشان نہیں کرنا، صبح کی میڈیسن اس کے منہ میں رکھ کر پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگایا، اور ساتھ ہی ساتھ اسے آرڈرز بھی کر رہا تھا۔
میں نے تم سے کہا تھا، تم کھڑوس نہیں بنوگے۔
میں نے بھی کہا تھا، مت بننے دینا، تم ازلفہ سبحان نہیں، ازلفہ ولید حسن ہو، اس لیے اب کوئی لاپرواہی کی اجازت تمہیں نہیں ہے، انڈرسٹینڈ۔ اس کا انداز اتنا دو ٹوک تھا کہ ازلفہ کی آگے بولنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس کی اتنی شدید ناراضگی اس کی سمجھ سے بالا تر ہو رہی تھی۔ زینب کو اس کی میڈیسن اور ڈائٹ کے متعلق باتیں بتا کر وہ روم سے نکلتا چلا گیا۔
***********************
کیا بات ہے میرا بچہ کب سے اداس بیٹھا ہوا ہے؟ اپنے ناناجان کو بتاؤ۔ ہاتھ میں درد تو نہیں ہے؟ روزنہ کی طرح وہ ناشتہ کے بعد پھر اس کے روم میں آئے تھے مگر اسے زیادہ اداس دیکھ کر خود بھی اداس ہو گئے تھے۔
ولید اتنا کھڑوس کیوں ہے ناناجان، آپ کو پتا ہے چار دن ہو گئے وہ مجھ سے بات نہیں کر رہا اچھے سے، ناراض ہے بہت اور راضی بھی نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی آنکھیں نم ہوئی۔
اوہو، یہ تو پھر بڑا مسئلہ ہے۔ ویسے کئیر تو کر رہا ہے نا وہ؟
کئیر کا تو باپ کر رکھا ہے اس نے ناناجان، مگر کھڑوس بنا ہوا ہے، اس نے منہ بنا کر جس طرح کہا، حیدر صاحب نے بےساختہ قہقہہ لگایا تھا۔
تو ازلفہ ولید حسن اپنے کھڑوس شوہر کو منا نہیں پا رہی ہے؟
منا لوں گی میں اسے، جانتی ہوں کیوں ناراض ہے۔ وہ سنجیدہ ہوئی تھی۔
یہ ہوئی میری بیٹی والی بات، اب بتاؤ اصل معاملہ کیا ہے؟ ان کے کہنے پر حیران ہو کر انہیں دیکھا۔
کیا مطلب ناناجان!؟
کیا اپنے ناناجان پر بھروسہ نہیں ہے؟
ایسی بات نہیں ہے ناناجان۔ وہ ان سے بات کرنے کا موقع ہی تو چاہتی تھی اور جب مل رہا تھا تو اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے اور کیا کہے؟
تو اپنے نانا پر یقین رکھ کر بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟
ان کا یقین پاتے ہی وہ ان سے تمام باتیں کرنے لگی، ڈر بھی تھا کہیں ولید کی طرح وہ بھی اگنور نہ کر دیں۔ اس کی باتوں سے کبھی ان کے تاثرات میں الجھن در آتی کبھی نرمی۔ مگر آخری احساس جو تھا وہ دل و دماغ کی الجھن کا تھا۔
مجھے نہیں پتا ناناجان آپ کو یہ اچھا لگا یا نہیں، میری ریکویسٹ ہے آپ اس بارے میں پلیز ایک بار سوچ کر دیکھیں۔ جو میں ہوں آپ کے لیے وہی وہ بھی ہے بلکل میرے جیسا ہے۔
اب آرام کرو، ورنہ تمہارا کھڑوس اور ناراض ہو جائے گا۔ اور ازلفہ کو اپنے نانا اور شوہر میں کوئی فرق نہیں لگا دونوں بات اگنور کرنے میں ماہر تھے۔
میں آپ سے ناراض ہوں ناناجان، آپ بھی ولید کی طرح اگنور کر رہے ہیں مجھے۔ اس کی نم آواز پر حیدر صاحب اٹھتے اٹھتے پھر بیٹھ گئے۔
تمہارا نانا ہی نہیں باپ بھی ہوں، اگلی بار ایسی بات نہیں بولنا۔ تمہارے نانا کا دل تمہارے معاملے میں تمہارے شوہر کی طرح ہی کمزور ہے۔ اس کا سر اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے سہلایا، تمہیں اگنور نہ میں کر سکتا ہوں نہ وہ تمہارا کھڑوس۔
تو آپ سوچیں گے اباؤٹ اٹ؟
انشاءاللہ! اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر امید کی ایک کرن اسے تھمائی، جسے سن کر ازلفہ کا دل دعاگو ہوا تھا۔
***********************
ازلفہ کہاں ہے؟ جس کی وجہ سے وہ آج جلدی گھر آیا اس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں تھا، پورے گھر میں کہیں نہ دکھی تو زینب سے پوچھنا ہی پڑا۔
بھابھی شازیہ آپا سے ملنے گئیں ہیں۔
کس نے جانے دیا اسے، روکا کیوں نہیں؟ یہ لڑکی میرا ضبط آزما کر رہےگی، وہ بڑبڑا کر رہ گیا۔
آذر چھوڑ کر آیا تھا، ایک اور خطا، ولید حسن کا موڈ مکمل طور پر آف ہو چکا تھا۔
کب تک آئےگی؟
پتا نہیں ایک گھنٹہ ہو گیا ہے، آپ کال کر کے پتا کر لیں۔
ہممم۔ مگر وہ آف موڈ کے ساتھ بیٹھا رہا۔ بیل جا رہی تھی مگر فون رسیو نہیں ہوا، چار پانچ بار کرنے پر بھی کوئی ریسپانس نہیں ملا تو اسے پریشانی نے گھیرا، دل اس کی خیریت کے لیے دعا کرنے لگا۔
اب تمہیں کیا ہوا؟ حیدر صاحب اس کے پاس آ کر بیٹھے۔ ان دونوں نے پریشان کر رکھا تھا۔
آنے دیجیے آپکی ٹارزن بیٹی کو چھوڑنا نہیں ہے آج اسے، ہر وقت میرا ضبط آزماتی ہے، پھر کہتی ہے میں کھڑوس ہوں، ایروگنٹ ہوں، بنا کون رہا ہے مجھے ایسا۔ اس کا غصہ عروج پر تھا۔
ہاہاہاہاہا، تو کیوں ناراض ہو کر اسے بھی غصہ دلا رہے ہو، مان کیوں نہیں جاتے؟
کرتی ہے وہ راضی رکھنے والے کام، ایک بات ہو جو سن لے، کہا تھا گھر سے باہر نہیں نکلنا، اگر ضرورت پڑے تو آپکے ساتھ جائے یا میرے ساتھ، اور مدرسہ بھی میں نے ہی چھوڑنے کا کہا۔ مجھے لگ رہا ہے ایک دو تھپڑ کی ضرورت ہے شاید اسے۔
خبردار، جو اس پر ہاتھ اٹھایا، مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا، اور کیا تم نہیں جانتے جاہل مردوں کی صفت ہے یہ، پہلے بھی کر چکے ہو ایسا، حیدر صاحب فوراً تھپڑ کی بات پر سنجیدہ ہوئے،
جانتا ہوں داداجان، وہ تھپڑ تو خود مجھے نہیں بھولتے جنہوں نے خود اپنی نظروں میں مجھے اتنا گرا دیا تھا کہ اٹھنے میں کافی وقت لگا، یہ تو احسان ہے اس کا جو آسانی نے معاف کر گئی، اور اللہ کی بارگاہ میں سرخرو کروا دیا، اس کے الفاظوں کے ساتھ نرمی بھی زبان میں آئی تھی، آنکھیں بند کیں تو اس کا زخمی وجود آنکھوں میں آ سمایا تو پھر سے غصہ آنے لگا،
کیوں جانے دیا داداجان اسے، کیا آپ کو نہیں پتا، کتنی زخمی ہے وہ ابھی بھی، اور ہاتھ، یا اللہ،
جانا ضروری تھا شاید، آجائے گی فکر مت کرو، آذر جائے گا لینے۔
نہیں، میں خود جاؤں گا لینے، میں فریش ہو کر آتا ہوں۔
حیدر صاحب کی نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا گیا، دن بدن وہ ازلفہ کے لیے فکر مند ہوتا جا رہا تھا۔
***************************
”اے اولاد آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں “ (سورۃ الاعراف:26)۔
سب سے پہلا لباس جوحضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام نے ستر ڈھانپنے کے لیے استعمال کیا وہ پتوں کی شکل میں تھا۔اس کا پس منظر اسی آیت کے سیاق و سباق میں ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام کے کپڑے اتروا دئیے تھے۔ انہی آیات میں اولاد آدم کو تنبیہ کی ہے کہ شیطان اب بھی اولادِ آدم کی گھات میں ہے، وہ طرح طرح کے بہانوں سے فیشن اور جدت کے نام پر انسانوں کے کپڑے اتراوانے کی کوشش میں ہے اس لیے شیطان سے بچ کر رہا جائے، ایسا نہ ہو کہ جس طرح ماضی میں شیطان کی بات ماننے پر حضرت آدم علیہ السلام جنت سے نکلے تھے، اب اولاد آدم شیطان کی بات مان کرمستقبل(آخرت) میں جنت میں داخل ہی نہ ہو سکے۔
شازیہ آپا نے رک کر اسے دیکھا جو دم سادھے اس آیت کی تفسیر سن رہی تھی، چہرے پر اذیت رقم تھی شاید کسی ندامت کا احساس، انہوں نے بہت سی لڑکیوں کو درس دیا تھا، مگر ازلفہ واحد لڑکی تھی جس میں ایک الگ ہی جذبہ و جنون تھا، ہر بات میں اللہ کی مرضی و حکم، ہر عمل پر اس کے استقامت تھی۔ اور آج جب وہ اپنے زخموں کی پرواہ کیے بنا ان کے گھر آئی تھی اور اپنے ہاتھ میں پکڑے شاپر سے ایک عبایہ نکال کر ان کے سامنے رکھا اور بس پوچھا تھا۔
اس کا مطلب کیا ہے؟ اللہ نے اس کے معاملہ میں کیا کہا؟ اور وہ کتنی دیر تک اسے اور اس عبایہ کو دیکھتی رہی تھیں۔ الگ ہی انداز کا عبایہ تھا، جس کو پہننے پر یہ بھی پتا نہیں چلنا تھا کہ پہننے والی موٹی ہے یا پتلی، جوان ہے یا بوڑھی۔ انہوں نے ایک نظر اپنے برقعہ کو دیکھا جس میں ان کی بناوٹ تو نہیں مگر پھر بھی بہت کچھ ظاہر ہوتا تھا۔ یہ لڑکی انہیں قدم قدم پر حیران کر رہی تھی۔ اور اسے نہ جانے کیا غم تھا، کیسی ندامت تھی جو اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔
اور بتائیں، سر جھکائے اس نے مزید جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کی طلب دیکھتے شازیہ آپا نے اس معاملے کی تمام آیات نکال کر اسے سمجھایا۔
¶ “آپ مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچا کر رکھیں یہ ان کے لیے پاکیزگی کا باعث ہے۔ اور مومنہ عورتوں سے بھی دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کر یں اوراپنی شرمگاہوں کو بچائے رکھیں اوراپنی زیبائش کی جگہوں کو ظاہر نہ کریں سوائے اسکے جو خود ظاہر ہو اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اپنے شوہروں آبا ء شوہر کے آبا ء اپنے بیٹوں، شوہر کے بیٹوں اپنے بھائیوں بھائیوں کے بیٹوں بہنوں کے بیٹوں اپنی ہم صنف عورتوں، اپنی کنیزوں، ایسے خادموں جو عورتوں کی خواہش نہ رکھتے ہوں اور ا ن بچوں کے جو عورتوں کی پردے کی بات سے واقف نہ ہوں اور مومن عورتوں کو چاہیے کہ چلتے ہوئے اپنے پاوٴں زور سے نہ رکھیں کہ ان کی پوشیدہ زینت ظاہر ہوجائے ۔ اور اے مومنو سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو امید ہے کہ تم فلاح پا وٴ گے”۔
(سورہ نور :۳۰،۳۱)
———–
دوسری آیت یہ دیکھو:
¶ “اے نبی ! اپنی ازواج اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں تھوڑی نیچی کر لیا کریں یہ امر ان کی شناخت کے
لیے (احتیاط کے) قریب تر ہو گا ۔ پھرکوئی انہیں اذیت نہیں دے گا ۔ اور اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے “۔
(سورہ احزاب :۵۹)
(اس میں کیسے اللہ نے عورتوں کے چہروں کو چھپانے کا حکم دیا۔ ہے کوئی اللہ کے سوا ایسی محبت کرنے والا، اسے پہلے سے معلوم ہے کہ بے پردہ عورتیں ستائی جائیں گی، اس لیے پہلے ہی انہیں چھپانے کا حکم دیا، مگر آج خود عورتوں نے دوسروں کو موقع دے دیا کہ انہیں ستایا جائے)۔
——–
اس آیت میں اللہ نے عورت کی آواز کے پردہ کا حکم دیا۔ اور یہاں بھی اللہ کی محبت دیکھو۔
¶ “نرم لہجہ میں بات نہ کرو کہیں وہ شخص لالچ میں نہ پڑ جائے جس کے دل میں بیماری ہے اور معمول کے مطابق باتیں کیا کرو”
( سورہ احزاب : ۳۲ )
(یعنی نامحرم مردوں سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہئے کہ وہ تمہارے انداز اور تمہاری باتوں کی نرمی سے تمہاری طرف متوجہ ہو کر گناہ میں پڑ جائیں)
———–
یہاں دیکھو اللہ کا ایک اور حکم:
“اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں مگر شوہر وں اور محروں کے لئے”
(سورہ نور:۳۱) ​
(میک اپ بن سنور کا بازار یا باہر کسی جگہ جانا ممنوع ، زینت صرف شوہر وں کے لیے ہونا چاہیے۔ ہاں محرموں کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں)۔
تم یہ باتیں ٹھیک ہونے کے بعد بھی پوچھ سکتی تھیں۔
نہیں، میں نے اللہ سے کہا تھا مجھے زندگی دینا میں اس پر عمل کروں گی، اور میں اس کو جاننے لیے ویٹ نہیں کر سکتی تھی۔ اور جب تک جانتی نہیں میں اس پر قائم نہیں رہ سکتی تھی۔
سہی، اللہ نے ہر چیز کا وقت مقرر کیا ہوا ہے،
اور پھر وہ اسے شوہر کے متعلق، نامحرم سے ملنے اور بات کرنے کے متعلق تمام باتیں بتاتی رہیں۔
اور ازلفہ ولید حسن سوچ رہی تھی، حیات نوفل خان نے کتنا صحیح کہا تھا “اللہ کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا”۔ اور اس جیسے لوگوں کو اللہ ایسے ہی سبق دیتا ہے، حادثوں کی شکل میں۔
اسنے بڑی مشکل سے اپنی پچھلی زندگی کے احساسِ ندامت کو آنسوؤں کی شکل میں آنے سے بڑی مشکل سے روکا ہوا تھا، وہ کسی کے سامنے نہیں روسکتی تھی، اللہ کے بعد اسے ولید کے سوا کسی نے روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اور اب گھر جا کر اسے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا تھا۔ بار بار اس نے ولید حسن کے کہنے پر بھی حجاب نہیں لیا تھا، اسے افسوس ہو رہا تھا، وہ کیوں پہلے نہیں جان پائی۔ مگر اسے کون سمجھاتا، جس طرح اس نے اب پردے کو سمجھا تھا پہلے ایسا نہیں سمجھ سکتی تھی۔
اسے اب گھر جانے کی جلدی تھی۔ اس نے ولید کو فون کرنے کے لیے فون نکال کر دیکھا تو اس کی پہلی سے ہی کئی مسڈکال تھیں، اس نے کال کر کے اسے بس آنے کا کہا اور فون رکھ دیا۔ اب وہ کسی اور کے ساتھ باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *