Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode23

Hidayat by Ain Noon Alif Episode23

ولید، پھر سے کھڑوس، ایروگنٹ بن رہے ہو۔
ہاں تو مت بننے دو، کل آجاؤ، ایک رات کافی ہے۔
نہیں آ سکتی، ہم لوگوں نے کل گھومنے کا پلان کیا ہے۔ اچھا ہے وہ تینوں بھی گھوم لیں گی ہمارے ساتھ۔ اس کا حکم نامہ رجیکٹ کر کے اس نے اپنی پلاننگ سے آگاہ کیا، جو ولید حسن کو بالکل قبول نہیں تھا۔
کہیں نہیں جا رہی ہو تم، کل واپس آ رہی ہو دیٹس اٹ۔ وہ خود پر کیسے کنٹرول کر رہا تھا وہی جانتا تھا، اسے خود یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس سے کچھ گھنٹے بھی دور نہیں رہ پا رہا تھا کجا کہ چار دن۔
کیا تم مس کر رہے ہو مجھے؟ ان احساسات کا ذکر تو دونوں کے بیچ کبھی آیا ہی نہیں تھا، اس لیے اس کے سوال پر وہ خاموش ہو گیا۔
آر یو مسنگ می ولید حسن؟ آواز میں شرارت واضح تھی۔
کون سا دوسری کنٹری میں گئی ہو جو مس کروں گا۔ اسی شہر میں بیس منٹ کی دوری پر ہو۔ تو مس کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں۔ اب بندے کو ایسی بھی خوش فہمی میں نہیں آنا چاہئے۔ دل کے شور کو نظر انداز کر کے اس کی بات کی نفی کی۔
تو ٹھیک ہے پھر، چار دن بعد آؤں گی۔ اگر تم اتنا ہی مس کر رہے ہو تو تم بھی چلنا کل ہمارے ساتھ، اور ہاں، ایگری کرنے کے بعد اب تم مکر نہیں سکتے اوکے۔ اس کی نفی پر اس نے بھی اپنا فیصلہ نہیں بدلا۔
میں نے تم سے کہا تھا تم مجھے کھڑوس مت بننے دینا، مگر لگ رہا ہے تم باز آؤگی نہیں۔
تو تم مان لو، تم میرے بغیر نہیں رہ پا رہے ہو۔ ازلفہ کو بھی شاید ضد ہو چلی تھی کوئی اقرار سننے کی۔
سو جاؤ، لگتا ہے پاگلوں کی ٹولی نے تمہارے دماغ میں بھوسا بھر دیا ہے۔ جس کا اقرار وہ خود سے نہیں کر پا رہا تھا، اس سے کس طرح کرتا۔
ولید یو آر سچ میں کھڑوس، ویٹ کرو اب، ون ویک سے پہلے نہیں آنے والی۔ اس نے بھی اپنی بھڑاس نکال کر فون رکھ دیا۔
آنا تو پڑےگا سویٹ ہارٹ۔ ولید حسن کو پسند ہی نہیں ہے اس کی بیوی اپنے گھر سے زیادہ وقت دور رہے۔ تمہارے میکے کی وجہ سے ایک دن کی مہلت دی ہے، مگر صرف ایک دن کی۔ اس کا تکیہ باہوں میں لے کر اس نے اس کے احساس کے ساتھ آنکھیں موند لیں۔
******************
اف! یہ میں کس طرح بات کر رہی تھی ولید سے۔ کیا میں ولید حسن کو مس کر رہی ہوں۔ پانچ گھنٹوں میں یہ احساس تو اسے بالکل بھی نہیں ہوا تھا۔ اس سے فون پر بات کرنے کا اثر تھا یا کچھ وہ سمجھی نہیں تھی۔ خود سے الجھتی وہ سونے کے لیٹ گئی۔ ولید حسن کے ساتھ گزرے تمام پل اس کی آنکھوں میں گردش کرنے لگے تھے۔
سیکھ لو یار ڈوپٹہ لینا، کبھی کبھی اسکارف کی جگہ یہ بھی لینا پڑ سکتا ہے، گھر میں دیکھتی نہیں ہو سب کو۔ میں کب تک باندھتا رہوں گا، ایسا لگتا ہے جیسے کسی چھوٹی بچی کو پال رہا ہوں۔
اور مجھے بھی ابو جیسی فیلینگ دے رہے ہو، اس طرح سمجھا کر، اس کی بات پر ولید حسن نے اس کا کان مروڑا تھا۔
فالتو بات نہیں، سیکھ لو اب، اتنی بڑی بچی مذاق بنوائے گی میرا۔
اسکارف گیلا ہونے کی وجہ سے وہ اس سے عشاء کی نماز کے لیے ڈوپٹہ بندھوا رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کی نصیحت بھی سن رہی تھی۔
سیکھ تو رہی ہوں، اتنے بڑے دوپٹے تم لے کر آتے ہو، چھوٹے لینے نہیں دیتے، اور چادریں مجھ سے سنبھلتی نہیں ہیں، اسلیے تو اسکارف پریفر کرتی ہوں وہ کنفرٹیبل ہوتے ہیں۔
اوپر سے یہ لمبے ہوتے بال، کل انکی کٹنگ کرواؤں گی۔
خبردار جو بالوں کو ہاتھ بھی لگایا، چھوٹے چھوٹے بالوں والی مرد نم بیوی نہیں چاہئے۔ سمجھی؟! نہیں بندھتے یہ، تو دن میں کسی سے بھی بندھوا لیا کرو، رات میں میں باندھ دیا کروں گا۔
کیا تم جورو کے غلام ہو؟
نہیں، میں غلام تو بس اپنے اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوں۔
میں کوکنگ سیکھ لوں؟ دل کر رہا ہے۔
پہلے اپنی یہ پڑھائی مکمل کرو یکسوئی کے ساتھ۔
تم مجھے آرڈر کر رہے ہو؟
حق ہے،
اچھا، چلو یہ بتاؤ، تمہیں شارٹ نیم کیوں نہیں پسند؟
جب پورا نام اچھا ہے تو ادھورا کر کے اس کے معنی کیوں خراب کرنے۔
تمہیں ڈانس، یا سنگنگ آتی ہے؟
تمہیں کیا شکل سے ناچنے والا یا میراثی لگتا ہوں؟ اس کے چڑ کر کہنے پر وہ کتنا ہنسی تھی، اور بعد میں ولید کی ہنسی بھی شامل ہو گئی تھی۔
اوہ اللہ، آئم مسنگ ہم۔۔ نو نو ولید حسن آئم ناٹ مسنگ یو۔ جب تم مجھے مس نہیں کر رہے تو میں بھی نہیں کر رہی۔ اور اب ون ویک تک تو میں وہاں جانے والی بھی نہیں۔ پختہ اردہ کر کے وہ اس کی نہ جانے کن کن باتوں کو یاد کر کے مسکراتی سونے کی کوشش کرنے لگی۔
*************
میں نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی، اسلیے مجھے کسی گرل سے محبت کا آئیڈیا بھی نہیں، تمہاری ایک جھلک دیکھ کر مجھے تم اچھی لگیں، مجھے لگا یہ بس ٹائملی اٹریکشن ہے، جس کا نام ایڈریس کچھ پتا نہیں اس سے کیسے محبت ہو سکتی ہے؟
بٹ آئی واز رونگ۔ ڈے بائے ڈے مجھے تمہیں دیکھنے کی ضرورت کھانے کی طرح فیل ہونے لگی۔ مجھے یہ سمجھ میں آ گیا کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے، کیا تم شادی کروگی مجھ سے؟ آنکھوں میں رتجگوں کی کہانی، لفظوں میں پاکیزہ محبت کی خوشبو، اور سوال میں ایک امید، کس طرح پروپوز کیا تھا اس نے اسے، اور اس نے کیا کیا تھا؟
نہیں! کبھی نہیں! تم جیسے سڑک چھاپ لوگ، اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے بھولی بھالی لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنساتے ہو پھر ان کا ایبیوز کر کے پھینک دیتے ہو۔ شرم نہیں آتی، لگتا ہے تم مسلمان نہیں ہو جبھی تمہیں نہیں پتا یہ اسلام میں الاؤ نہیں، یا پھر تمہاری کوئی سسٹر نہیں۔ میرے راستے میں اگلی بار مت آنا ورنہ اپنے بھائی کو بتا دوں گی، جیسے وہ ہیں تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ اس کے سخت الفاظ پر کیسے اس کا چہرہ تاریک ہوا تھا۔
کتنی بری طرح ریجیکٹ کیا تھا اس نے ذیشان کو، جبکہ اس کی موجودگی کا احساس اسے ڈسٹرب کرنے لگا تھا۔ اس کی ایک کلاس فیلو نے اپنے بی ایف کی ایسی ہی کیسمٹری بتائی تھی جس کی وجہ سے وہ اس سے بھی متنفر ہو گئی۔ اور آج اسے اپنی عزیز بھابھی کے بھائی کے روپ میں دیکھ کر کس قدر شاکڈ ہوئی تھی، اور جس طرح ذیشان نے اسے دیکھا تھا وہ اس کے دل کو تڑپا گیا تھا۔
زینب، زینب، کہاں گم ہو یار، بتاؤ ذرا، کیسا لگ رہا ہے یہ؟ زرین کے جھنجھوڑنے پر وہ ہڑبڑا کر سوچوں کے گرداب سے باہر نکلی۔
اچھا ہے آپی، اس نے حذیفہ کی امی کا بھجوایا ہوا سوٹ دیکھ کر کہا، حالانکہ اس کا دھیان ابھی بھی کہیں اور تھا۔ جو درد اس نے ذیشان کے چہرے اور آنکھوں میں دیکھا تھا اس سے آج وہ خود بھی گزر رہی تھی۔
لگتا ہے تم شرمین سے بھی زیادہ مس کر رہی ہو بھابھی کو، اس لیے دھیان ہی نہیں۔ چلو سو جاؤ، صبح دیکھ لیں گے۔ اس کی غائب دماغی محسوس کر کے زرین نے بھی سونا مناسب سمجھا جبکہ رات بھی کافی ہو گئی تھی۔
___________
ازلفہ بیٹا اسے سمجھاؤ، پتا نہیں کیسا ہوتا جا رہا ہے یہ لڑکا، ہنسی مذاق تو جیسے بھول گیا۔ شمائلہ کی بات پر اس نے خاموش بیٹھے ذیشان کی طرف دیکھا۔ کہیں سے بھی وہ پہلے والا ذیشان لگ ہی نہیں رہا تھا۔ اس کی شوخ چنچل طبیعت تو ایسے کھوئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔
میں ذرا تمہارے انکل کو دیکھ لوں، وہ اٹھ کر اپنے روم میں چلی گئیں۔
تم لوگ کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہو یار، زندگی بھر اب کیا ایسے ہی اممیچور رہتا، جو علم ہم حاصل کر رہے ہیں، جس راستے کا انتخاب ہم نے کیا ہے وہاں ایسے بچپنے کی گنجائش نہیں۔ ان سب کی نظریں خود پر جمی دیکھ کر وہ جھنجھلایا۔ ابھی اتنا بھی بڑا نہیں ہوا تھا جو خود کو کمپوز اور ہینڈل کرنا سیکھ گیا ہو۔
تمہارے بدلاؤ کی وجہ علم نہیں ہے ذیشان، اور جو ہے وہ اب ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور جب انکل آنٹی کو تمہارے اسی بچپنے کی ضرورت ہے تو تم اچانک سے بڑے ہو گئے ہو، ازلفہ کی بات کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ازلفہ، گیسٹ آ گئے ہیں بھئ۔ ریحان کی آواز پر سب نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے آذر کے ساتھ وہ تینوں نقاب میں سر جھکائے اس کے پیچھے آ رہی تھیں، وہ خوشی سے اٹھ کر ان کی طرف بڑھی۔
ہمیں اچھا نہیں لگ رہا تھا گھر میں آپ کے بغیر، آپ ہمارے ساتھ چلیں گی نا؟ شرمین نے آتے ہی جانے کی بات کی۔
پہلے تم لوگ تو انجوائے کرو۔ وہ انہیں لیے صوفے پر بیٹھی۔
بھابھی، یہ ہیں وہ جو مسلمان ہوئے ہیں؟ زرین نے جان اور نینی کی طرف اشارہ کیا۔
ہاں، یہی ہیں، محمد انس اور عائشہ۔ اور ان دونوں کے یہ نام ناناجان نے ہی رکھے ہیں۔ اس نے تینوں کو دیکھ کر جواب دیا جو ایسے ہی نقاب میں بیٹھی تھی، چہرہ بھی ویسے ہی ڈھکا ہوا تھا۔
میرے روم میں آجاؤ تم لوگ، عائشہ اور زوبی تم دونوں بھی آؤ، اور ہاں تم تینوں آذر کو کمپنی دو۔ ایک نظر سر جھکائے بیٹھے ذیشان کی طرف دیکھا، اس نے ایک بار بھی زینب کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ اور یہ بات اسے اچھی لگی تھی۔ پتا نہیں کیوں اسے ان تینوں کو ان لڑکوں کے ساتھ بٹھانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
سب لوگ ٹھیک تھے؟ وہ چاروں بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھیں اور زوبیہ، عائشہ کھانے پینے کے انتظامات میں لگ گئی تھیں۔
الحمدلله، بٹ سب مس کر رہے تھے آپ کو، اور سب سے زیادہ بھائی، آپ کو پتا ہے آتے ہوئے ہمیں اسٹرکلی کہا کہ آپ کو لے کر ہی آنا ہے۔ زرین اور شرمین اسے تمام باتیں بتا رہی تھیں، زینب خاموش بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی۔ ابھی تک اس نے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔
آپ چلیں گی نا ہمارے ساتھ ہی؟
اونہہ، بٹ ڈونٹ وری جلدی آجاؤں گی، اس کا ارادہ اب ولید سے باہر مل کے ہی ایک بار اور یہ معاملہ سلجھانے کی کوشش کرنے کا تھا۔ بقول زینب کے وہ کچھ معاملوں میں ٹپکل تھا، اور وہ نہیں چاہتی تھی وہ گھر میں اپنا کھڑوس پن دکھائے۔
خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا، کسی کو شک نہ ہو اس لیے زینب بھی اکا دکا بات کر رہی تھی، زوبیہ اور عائشہ سے بھی ان کی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔
*********************
ازلفہ، زرین، شرمین نماز پڑھ رہی تھیں، زوبیہ کی حالت کے پیش نظر زینب اس کے لیے کچن سے جوس لینے گئی،
عائشہ کچن میں نہیں تھی تو اس نے خود ہی فریج سے جوس نکال کر گلاس میں ڈالا اور ٹرے میں رکھ کر مڑی تو دروازے میں استادہ ذیشان کو دیکھ کر اتنی شاکڈ ہوئی کی ٹرے چھوٹ کر فرش پر گر گئی۔
ذیشان دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا،
ڈرو مت فلرٹ کرنے نہیں آیا تم سے، معافی مانگنے آیا ہوں چھ مہینے تک جو تمہیں پریشان کیا، ہاں وہ فلرٹ ہی تھا، اب تم سکون سے رہ سکتی ہو، میں کبھی تمہاری راہ میں نہیں آؤں گا، تم سوچ لینا تمہیں اتنی تکلیف دینے والا شخص اب اس دنیا میں نہیں رہا، شادی مبارک ہو۔ اس کے لفظ کیسے اس کا دل چھلنی کر رہے تھے یہ شاید اسے نظر نہیں آ رہا تھا، اس کی مرنے والی بات سے اس کے قدم بری طرح لڑکھڑائے، اس سے پہلے وہ گرتی اس نے مضبوطی سے کچن کے فلیٹ فارم کو پکڑا،
آپ ۔بھی ۔سمجھ ۔لینا۔زینب ۔اس ۔دنیا ۔میں۔نہیں ہے۔ اٹک اٹک کر اپنا جملہ پورا کر کے وہ آگے بڑھی مگر قدم جوس میں پڑنے کی وجہ سے وہ فرش پر گری، ہاتھ میں کانچ کا ٹکرا چھبا تو بےاختیار چیخ نکلی۔
ذیشان جو اس کے جملے پر بڑی مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کر رہا تھا اس کی چیخ پر مڑا،
او مائے گاڈ، دیکھ کر نہیں چل سکتی، ڈانٹنے کے ساتھ ہی اس نے زینب کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی،
دونٹ ٹچ می کس حق سے یہ ہمدردی کر رہے ہیں، نامحرم ہیں آپ، کیا یہ نہیں پڑھا، “نامحرم کو چھونا حرام ہے” اور ابھی مری نہیں میں،
شٹ اپ، جسٹ شٹ اپ، پھر سے مرنے کی بات پر وہ چلایا تھا،
ذیشان، یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا؟ ازلفہ جو زینب کے نہ آنے پر باہر آئی تھی، کچن میں ان دونوں کی بات سن کر باہر ہی رک گئی تھی،
مجھے تمیز سکھا رہی ہو، اسے نہیں سکھا سکتی کچھ، مرنے کی بکواس کر رہی ہے۔ اسے گھور کر وہ تیزی سے باہر نکل گیا، مگر اس کی آنکھ سے نکل کر بہنے والا آنسو اس کی نظر میں آ چکا تھا۔
درد تو نہیں ہو رہا؟ اس کے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر خون روکنے کی کوشش کی۔
بھابھی پلیز مجھے گھر جانا ہے، پلیز، وہ خود کو رونے سے بمشکل روک رہی تھی۔ ازلفہ نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔
پہلے چینج کر لو، پھر چلتے ہیں۔
روم میں لا کر اسے اپنا سوٹ دیا، اور اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں کو خود ہی مطمئن کیا۔
*********************
کیا اب بھی ایگری نہیں کروگی؟ وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ رہے تھے جب اس نے آہستہ سے ایک بار پھر زینب سے پوچھا۔
نامحرم سے محبت کر کے میں اللہ کو اس معاملہ میں ناراض نہیں کر سکتی، میں نے پڑھا ہے بھابھی نامحرم سے محبت کیسے زلزلے لے کر آتی ہے۔
نکاح ہے اس زلزلے کو روکنے کے لیے۔
وہی ہو رہا ہے، وہ بھی ولید کی بہن تھی بہت سے معاملوں میں اسی کی طرح ہٹ دھرم۔ ان کو رخصت کر کے وہ اندر آئی، گھومنے کا پلان تو کینسل ہی ہو گیا تھا۔
مجھے نہیں پتا تھا میرا بھائی اتنا کمزور ہے، ایک لڑکی سے اس طرح مس بیہیو کرتا ہے اور وہ بھی اس سے جس سے محبت کا دعوےدار ہے۔ وہ سیدھا ذیشان کے روم میں آئی تھی جو ان لوگوں کے جانے تک بھی باہر نہیں آیا تھا۔
اب کیوں میوٹ ہو، اب بھی چلاؤ، اس کے سامنے آکر اس کا چہرہ اوپر کر کے دیکھا، اور اس کے چہرے پر آنسو اسے حیران کر گئے۔
یہ کیا ہے ذیشان؟ پہلے اسے تکلیف دی اور اب خود رو رہے ہو؟ ہو کیا گیا ہے تمہیں؟
وہ بنا کچھ بولے اس کے گلے لگ کر اپنا غم ہلکا کرنے لگا۔ شاید اسے سہارے کی زیادہ ضرورت تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اس سے بہت سی دین کی باتیں کر کے اسے بہلا رہی تھی۔ اس کا دل ان دونوں کے لیے دعاگو تھا ایسی محبت اس نے کب دیکھی تھی۔ ولید اور اس کے درمیان بھی ابھی یہ احساس پیدا نہیں ہوا تھا یا پھر وہ دونوں انجان ہی تھے۔
******************
اتنی جلدی آ گئے تم لوگ؟ ڈنر کرکے آنے والے تھے، کیا ہوا؟ ان لوگوں کو دیکھ کر سب نے حیرانی کا اظہار کیا۔
زینب کی گر گئی تھی اور اس کو فیور بھی ہو رہا ہے تو جلدی آ گئے۔ زرین کی بات پر دونوں عورتیں زینب کی دیکھ بھال میں لگ گئیں۔
امی اب ٹھیک ہوں میں، تھوڑا سا آرام کر لوں۔
ٹھیک ہے جاؤ۔
روم میں آ کر اس نے اپنا ہاتھ دیکھا، اور پھر چہرہ،
یا اللہ، بڑی حیا کی بات ہے یہ کہ مرد و عورت کسی نامحرم کے لیے تیرے سامنے گڑگڑائیں، یا اللہ تو جانتا ہے میں نے خود کو اس مرض سے بہت بچایا ہے، بہت کوشش کی یہ میرے پیچھے نہ آئے، پھر بھی اللہ میں گناہگار ہو گئی۔ میں نے بھائی کو نامحرم کی محبت سے پناہ مانگتے دیکھا، اللہ ان کی دعا قبول ہوئی، میں اپنے کس گناہ کی وجہ سے اس گناہ میں پڑ گئی۔ وہ اپنے رب سے فریاد کناں تھی، معصوم دل والی لڑکی کو اللہ کی ناراضگی کا خوف تھا۔ وہ ذیشان کو کبھی نہ سوچنے اور دیکھنے کا عہد کرتی خود کو مطمئن کرنے لگی، دل کتنا بھی بین کرتا اسے دھیان نہیں دینا تھا۔
توبہ ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے، اور جب بندے کا پکا عزم ہو تو اسے مومن ہونے سے کون روکے، اور تم تو گناہگار بھی نہیں، اور یقین کرو، تمہاری استقامت کا اجر اللہ ضرور دینے والا ہے، زرین کی آواز نے اس کے خیالوں کا تسلسل توڑا، وہ شاکڈ ہو کر پیچھے مڑی، ایک خیال تیزی سے آیا تھا “کیا وہ رسوا ہو رہی تھی؟”۔
آپی، اس کے لب پھڑپھڑائے۔
میں جانتی ہوں زینب، تمہاری بہن ہی نہیں دوست بھی، کچھ نہیں چھپا ہم میں، جب تم چھوٹی ہو کر میرے چہرے پر حذیفہ کے رنگ محسوس مر سکتی تھیں تو پھر میں تو تمہیں تم سے زیادہ جانتی ہوں، اور اس وقت مجھے بھی یہ احساس ہوا تھا کہ میں رسوا ہو رہی ہوں، اور میں نے بھی وہی کیا جو تم کر رہی ہو۔
تمہیں ایک بات بتاؤں؟ اس کے سوال پر زینب نے سر ہلایا۔
مجھے ازلفہ بھابھی سے اتنی محبت کیوں ہے جانتی ہو؟
کیوں ہے؟
یہ احساسِ ندامت مجھے انہیں کی وجہ سے ہوا تھا۔ جب انہوں نے کہا تھا “دیندار ایسے منافق ہوتے ہیں تو میں کبھی بھی دیندار بننا نہیں چاہوں گی”۔
ان کے یہ الفاظ اس دن میری ہستی کو ہلا گئے تھے زینب، ہم باہر کے آدمیوں کے سامنے نہیں آتے، مگر جن کا گھر سے گہرا تعلق ہے ان کے سامنے آتے ہیں، باہر کے لوگ کہتے ہیں حیدر بخاری کے گھر کی عورتیں باحیا ہیں، یہ کیسی حیا تھی جو پردہ کرنے کے باوجود ایک نامحرم کی محبت میں رلنے لگی تھی، یہ ہماری کیسی دینداری تھی جو ہماری آنکھیں ایک نامحرم کو دیکھنے کی طلب کرتی تھیں۔ اور اس دن مجھے حقیقتاً اپنا آپ منافق لگا تھا۔
تم نے پوچھا تھا نا اس دن میں کہ الگ روم میں کیوں سو رہی ہوں، تو میں الگ روم میں نہیں سو رہی تھی، مجھے اس دن اپنی حیا اللہ سے واپس لینی تھی، مجھے اسے منانا تھا، مجھے اسے بتانا تھا کہ میں اللہ ہی کی بندی ہوں، میں مسلمان لڑکی ہوں، مجھے توبہ کرنی تھی حرام محبت سے، اور پھر اللہ نے میری دعا سن لی، اور پھر میں نے رشتہ ہونے کے بعد بھی اس کے خیال سے اپنے دل و دماغ کو گندہ نہیں ہونے دیا اور یہ اللہ ہی نے کروایا، اور مجھے یقین ہے وہ تمہیں بھی سنبھال لے گا، اور بہت جلد، کیونکہ تم نے اس سے بچنے کے لیے جو کوششیں کی ہیں وہ یقیناً اللہ کو پسند آنے والی ہیں۔ زرین کی باتیں اس کے دل پر پھوار برسا رہی تھیں۔ اس کا دل مطمئن ہوتا جا رہا تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *