Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Episode01
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 (Watching)Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01
تھپڑ کی گونج سے ارد گرد کے سبھی لوگ متوجہ ہوئے تھے۔ اور کچھ تو پہلے ہی سے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے۔
تیری اتنی ہمت کہ تو ازلفہ سبحان کو ٹچ کرنے کی کوشش کرے، یو بلڈی باسٹرڈ۔۔ ایک اور تھپڑ کی آواز گونجی تھی۔ تھری فورتھ بلیک جینز پر بلڈ ریڈ سلیولیس ٹاپ اسکی تمام تر رعنائیاں اجاگر کر رہا تھا، لوگوں کی اس پر ٹکی نظریں بتا رہی تھیں کہ وہ لڑکی انتہائی خوبصورت ہے۔ مگر جتنی وہ خوبصورت خود تھی اتنا ہی بدصورت اس کا لہجہ اور انداز تھا جو اسکی پرسنیلٹی کو ذرا بھی میچ نہیں کر رہا تھا۔
ازلفہ یہ کیا کر رہی ہو، سب دیکھ رہے ہیں۔۔ اسکی دوست زوبیہ نے اسے لوگوں کی طرف متوجہ کیا جو اسے بہت ہی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
دیدے پھاڑ کر کیا دیکھ رہے ہو، تمہارے اپنے گھر میں زنانیاں نہیں ہیں، ایک کام کرو انہیں بھی یہاں لاکر رکھ دو اور پھر انہیں ہی دیدے پھاڑ کر دیکھو، دوسرے لوگ بھی ان سے ایسے ہی اپنی آنکھیں سینک لیں گے۔ جیسے تم لوگ سینک رہے ہو دوسروں کے گھروں کی عورتوں کو دیکھ کر۔ بغیرت مرد کہیں کے۔ اس کے بولنے پر لوگ بغلیں جھانکنے لگے تھے۔ الفاظ ہی ایسے کڑوے تھے۔ مگر کوئی تھا وہاں ایسا جس کی آنکھوں سے اسے دیکھ کر چنگاریاں نکلنے لگی تھیں۔
چلو یہاں سے تم، تماشہ بنا کر رکھا دیا۔ زوبیہ اسے کھینچ کر میکڈی کے باہر لے آئی تھی۔
کیا کر رہی تھیں تم یہ؟
وہی جو یہ لوگ ڈزرو کرتے ہیں اور اب ان لوگوں کی بات مت کرو۔ میں زبان سے ان کو سبق سکھا کر آ گئی ہوں اب دل میں ان کے خلاف سوچ کر ٹینشن نہیں لے سکتی۔ ڈبل اسٹینڈرڈز آئے ہیٹ۔
سمجھ میں نہیں آتا لوگوں کے خلاف تم بات دل میں آنے نہیں دیتی، اور بیچ بازار میں ان کی عزت اتارنے میں تم چوکتی نہیں ہو۔ تمہاری یہ لوجک سمجھ نہیں آتی مجھے۔
آئےگی بھی نہیں، کیونکہ میں دل میں آتی ہوں، سمجھ میں نہیں۔ اس کا پراسرار انداز میں کہنا زوبیہ کو اور چڑا گیا تھا۔
مرو تم۔ اللہ کسی کو بھیج دے جو تمہاری اس لوجک کا تیا پانچہ کردے۔ تمہیں اچھا سبق سکھائے۔
ہاہاہاہاہا ایسا کوئی نہیں پیدا ہوا ڈئیر جو ازلفہ سبحان کو سبق سکھائے۔ اسکے لہجہ میں غرور نہیں تھا ایک عجب سی آنچ تھی جو مقابل کو کنفیوژ کرتی تھی۔
کیوں، کیوں نہیں سکھا سکتا تمہیں کوئی سبق۔۔۔؟
کیونکہ مائے ڈئیر یہاں ہر کوئی ہیپوکرٹ ہے، بولے تو ڈبل فیس، ڈبل اسٹینڈرڈ۔ جو خود کو پیور نہیں کر سکتے انہیں یہ حق ہی نہیں کہ ازلفہ سبحان کو سبق سکھا سکیں۔ ہر کوئی دوہرا چہرا لے کر گھوم رہا ہے۔
تو تمہیں کیا فرق پڑتا ہے کوئی کتنے بھی چہرے لے کر گھومے؟ تمہارا تو کچھ نہیں بگڑےگا۔
مائے ڈئیر، مجھے فرق نہیں پڑتا اسی لیے میں بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑتی، مگر جو ڈبلز اپنی حقیقت بھول کر ازلفہ سبحان کو تکلیف دیں گے وہ انہیں کیسے بخش دے۔ اور ویسے بھی آن ٹائم جواب دے کر میں معاملہ رفع دفع کر دیتی ہوں بعد میں مت پوچھا کرو کیوں کیا اور کیسے۔
اچھا، اب بتاؤ کہاں جانا ہے؟ ذیشان کی تو آج خیر نہیں ہے یہاں بلا کر خود غائب ہے۔ اس نے بیزار ہو کر بات ہی بدل دی۔
غصہ نہ کرو ازلفہ میڈم خادم حاضر ہے۔ ذیشان کی آواز پر وہ پیچھے مڑ کر اسے گھورنے لگی تھی۔
کہاں تھے تم ایڈیٹ۔
سوری سوری ڈیئر۔ تمہارے لیے پارٹی ارینج کی ہے وہیں چلو۔ کچھ دیر بعد وہ اس کا غصہ ٹھنڈا کر کے لے جا رہا تھا۔
*******************
کیا چیز تھی یار یہ لڑکی، مطلب دعوتِ نظارہ بھی خود پیش کیا اب لوگوں نے تماشہ دیکھ لیا تو انہیں ہی رگید گئی۔ ویسے تھی تو ایکدم ہاٹ۔
شٹ اپ حذیفہ۔ ایک بات تو صحیح کہہ کر گئی وہ ‘بےغیرت مرد’ ، جن کا ایمان اتنا سستا ہے جو ایسی لڑکیوں کے سامنے آتے ہی بک جاتا ہے۔
اب قیامت۔۔۔
ایک لفظ اور تمہارے منہ سے نکلا تو یہ ٹیبل ہوگا اور تمہارا سر۔ حد درجہ سرد لہجہ میں کہیں بھی مذاق کی رمق نہیں تھی۔
کیا بات ہے یار؟ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ تو جانتا ہے۔ پھر اتنا غصہ کس بات کا؟ کیا تم جانتے ہو اس لڑکی کو۔۔؟
نہیں، چلو یہاں سے۔۔ بل پے کر کے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ چلنے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ غصہ میں ہے۔ حذیفہ نے بھی خاموشی سے اٹھ کر جانے میں ہی عافیت سمجھی تھی۔ اسکے غصہ کی وجہ سوچتا وہ بھی اس کے پیچھے چل دیا۔ آدھے گھنٹے پہلے وہ دونوں کتنے اچھے موڈ میں لنچ کرنے آئے تھے مگر جاتے وقت۔
********************
السلام عليكم دادا جان، ابھی تک سوئے نہیں آپ؟
وعلیکم السلام، بس ایسے ہی آج چہل قدمی کا ارادہ تھا۔ موڈ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے تمہارا۔ وجہ؟لاڈلے پوتے کی رگ رگ سے وہ واقف تھے۔ ابھی بھی اسکے چہرے کی سرد مہری انہیں اس کے آف موڈ کا پتا دے گئی تھی۔
کچھ نہیں دادا جان، بس ایسے ہی کام کا برڈن تھا۔ سو۔
تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں، ورنہ وجہ کچھ اور ہی ہے۔ کیونکہ کام کی ٹینشن تو ولید حسن بخاری کے لئے بنی ہی نہیں۔ ان کے یقین پر اس نے ان سے نظر چرائی، اگر وجہ بتا دیتا تو انہیں کو تکلیف ہونی تھی۔
ابھی تک آئے نہیں یہ لوگ؟ آٹھ بج چکے ہیں۔ اب تک آ جانا چاہئے تھا۔
آ رہے ہیں راستے میں ہیں۔ گھر کی شادیوں میں دیر سویر ہو جاتی ہے۔
اوکے چلیں، آپ کے بھی سونے وقت ہو گیا ہے۔
ہمم چلو۔ آج کل وہ نہ جانے کن سوچوں میں رہنے لگے تھے۔ وہ بھی جانتا تھا کہ وہ پریشان ہیں مگر اسی کی طرح وہ بھی ضدی تھے۔ انہیں ان کے روم میں پہنچا کر دو چار باتیں اور کر کے وہ بھی اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔
********************
اپنے روم سے ملحق ٹیرس پر ٹھنڈ میں کھڑا وہ سگریٹ سلگاتا خود بھی سلگ رہا تھا۔
ویسے ہے تو ہاٹ۔۔۔ کوئی آواز کانوں میں گونجی تھی اور ساتھ ہی سگریٹ کو زمین پر پھینک کر پیروں سے مسلا تھا۔ جیسے وہ وہی وجود ہو جس سے اسے سب سے زیادہ نفرت ہے۔ کوئی منظر آنکھوں میں سما کر اسکو کچھ اور سلگا گیا تھا۔
یار ولید اس لڑکی کو دیکھ کیسے شراب پینے کی شرط لگا رہی ہے۔ یار لڑکیاں اتنی ایڈوانس ہو گئیں ہیں اور وہ بھی مسلم۔۔ زبیر کے کہنے پر اس کی بلا ارادہ نظر اس طرف اٹھی تھی اور اس لڑکی کو دیکھ کر وہ جتنا شاکڈ ہوتا کم تھا، وجہ اس کا شراب پینا کم اور اسکی پہچان زیادہ تھی۔ وہ تین لڑکے اور تین ہی لڑکیاں تھیں جن میں ایک اس کا کزن ذیشان بھی تھا۔ سب کے سامنے ایک ایک بیئر کا بھرا ہوا اور کافی بڑا گلاس رکھا تھا جسے وہ لوگ صرف تیس سیکنڈ میں پینے کی بات کر رہے تھے۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب سے پہلے وہ گلاس ختم کرنے والی بھی وہی تھی۔ وہ سب کچھ سوچ سکتا تھا مگر اس لڑکی کا اتنا گرنا اسکی سوچ سے بھی پرے تھا۔ اس کے بعد ان لڑکوں اور لڑکیوں نے کافی بیہودہ ڈانس کیا تھا، اور وہ جس لڑکے کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی کس قدر گھٹیا انداز میں چھو رہا تھا اسے، ایک بار تو اس کا دل کیا کہ اسے یہاں سے باہر گھسیٹ کر لے کر جائے اور پے در پے اتنے تھپڑ مارے کہ عقل ٹھکانے آجائے۔تھوڑی دیر بعد وہ اپنے اسی کزن کے ساتھ اٹھ کر چلی گئی تھی مگر اس کی چال میں کوئی لڑکھڑاہٹ نہیں تھی جیسے باقی لوگ جھومنے لگے تھے۔ شاید شراب بھی اس کی طرح ڈھیٹ تھی یا پھر وہ ایسی چرسی تھی کہ شراب کو ہینڈل کرنا جانتی تھی۔
گھٹیا انسان تم نے مجھے اسی جگہ کیوں بلایا، کوئی شریف جگہ نہیں ملی تھی تمہیں۔۔ وہ اب زبیر پر چڑھ دوڑا تھا اور اسکے منہ پر مکا مارتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ اور باہر آکر اسے ایک بار پھر اس لڑکی کو دیکھ تیش آیا تھا۔ جہاں وہ منی اسکرٹ میں سگریٹ کو کش لگا رہی تھی۔ اور پھر بنا دیکھے پیچھے کی طرف اچھال دی جو سیدھا اس کی کنپٹی کے قریب لگی تھی۔
ہاؤ ڈیئر یو فولش گرل، آر یو میڈ، تم جیسی کیریکٹر لیس لڑکیاں۔۔؟ لہجہ بتا رہا تھا مقابل انگاروں پہ ہے۔
تم سے کس نے کہا تھا میرے پیچھے کھڑے ہو جاؤ۔ اور تم نے مجھے یہاں دیکھ کر میرا کیریکٹر بھی جج کر لیا۔اسکا جملہ پورا ہونے سے پہلے وہ جواب دے گئی تھی۔
تم جیسی گھٹیا لڑکی کے پیچھے کھڑے ہونا تو دور اس راستے سے گزرنا بھی توہین سمجھتا ہوں۔ اور جہاں تم کھڑی ہو وہاں شریف لڑکیاں کھڑا ہونا بھی اپنی موت سمجھتی ہیں۔ مگر تم جیسی کیریکٹر لیس لڑکی کو یہ سمجھ نہیں آئےگی۔لہجہ انتہائی ذلت آمیز تھا۔
پھر تو تمہیں بھی مر جانا چاہئے کیونکہ شریف صرف لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی ہوتے ہیں۔ اوہ تم بھی تو کیریکٹر لیس ہو تبھی یہاں موجود ہو۔ اور پھر تو تمہاری توہین ہو گئی۔اور ویسے ایک بات کہوں لڑکیاں پٹانے کا اچھا طریقہ ڈھونڈا ہے، یہ دو روپے کا ایٹیٹیوڈ دکھا کر واقعی تم لڑکیاں اپنی جھولی میں کیا بستر میں بھی گرا سکتے ہو۔ مگر ازلفہ سبحان ذرا ان چیزوں سے اٹریکٹ نہیں الٹا انسے اررٹیٹ ہوتی ہے. سو کہیں اور اپلائی کرو۔ انداز بڑا ہی تمسخرانہ تھا۔ اس کا شاید موڈ زیادہ ہی اچھا تھا جو اسکی اتنی کاری باتوں پر بھی شانت تھی۔
شٹ اپ، اپنے ہاتھ گندے نہیں کرنا چاہتا ورنہ۔۔ ضبط سے جملہ ادھورا چھوڑا تھا، جتنا اسے اس لڑکی کی بکواس پر غصہ آیا تھا اس کا ہاتھ بھی اٹھ جاتا۔
اگلی بار میرے سامنے سوچ سمجھ کر بولنا ورنہ۔ شہادت کی انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا تھا انداز انتہائی سرد تھا۔
ورنہ کیا؟ وہ ازلفہ سبحان ہی کیا جو کسی سے ڈر جائے۔
تم جیسی دو کوڑی کی لڑکی کو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا۔ اور ایک پل کو بھی مجھے افسوس نہیں ہوگا۔ اور ایک بات یاد رکھو ازلفہ سبحان، ولید حسن بخاری تم جیسیوں کو اپنے بستر پے لانا تو دور بستر کے قریب سے بھی گزارنا پسند نہیں کرتا۔ اور مردوں کی باہوں میں اس طرح جھومنے والی عورت عزت تو کیا ذلت کے بستر کے بھی لائق نہیں ہوتی۔
ہاہاہاہا۔ تو مسٹر تم جو بھی ہو، مجھے یہ بتاؤ، ایسا کرنے والے مردوں کو کیا کہتے ہیں پھر، وہ کس لائق ہوتے ہیں، بستر کے یا، یا پھر مرد ہی نہیں؟ادھورا جملہ چھوڑ کر وہ اسے مزید آگ بگولہ کر کے جا چکی تھی۔ زیادہ ہی ڈھیٹ تھی جو اتنی بڑی بات پر بھی نہیں بھڑکی، الٹا اسے بھڑکا گئی۔
اور وہیں کھڑے کھڑے اس نے دعا کی تھی کہ یہ لڑکی زندگی میں کبھی بھی اس کے سامنے نہ آئے۔ مگر آج پھر اسے دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا اس لڑکی کو صحفہ ہستی سے ہی مٹا دے۔ اس سے نفرت کی اتنی وجوہات تھیں “وہ سمجھتا تھا وہ جان سےبھی اسے مار دے تو بھی اسکی نفرت کم نہیں ہوگی”۔ “مگر کیا اس کے لیے جائز تھا کسی بھٹکے ہوئے سے نفرت کرن”ا؟ “یہ چیز ابھی اس کی سمجھ سے دور تھی”۔
********************
بڑی بے حیائی ہو گئی ہے بھابھی، دیکھا کیسے کیسے لباس نہ پہن کر آئیں تھیں، زمانہ میں عورتوں کے تو بالکل ننگا ہونے کی کثر رہ گئی ہے۔ کس طرح مردوں کو رجھا رہی ہیں، اور مرد تو کاٹھ کے الوؤں کی طرح بس عورتوں کے تلوے چاٹ رہے ہیں۔ توبہ توبہ۔ اللہ کا شکر ہے ہمارے بچے دیندار ہیں، بیٹے با حیا تو بیٹیاں بھی برقہ پہن کر گھر سے نکلتی ہیں۔
ٹھیک کہہ رہی ہو سلمیٰ پتا نہیں کیسی مائیں ہیں جو اپنی بیٹیوں کو ایسی آوارہ بنا رہی ہیں۔
ایسا نہ کہیں بڑی ماں کیا پتا بہو ایسی ہی مل جائے۔ زرین کے مذاق پر ان کا دل ہی ہول گیا تھا۔
توبہ استغفر اللہ! ایسی بدفعال نہ نکال زرین ایک ہی بیٹا ہے میرا، اللہ نہ کرے جو کوئی بدکردار لڑکی اس کی زندگی میں آئے۔ ۔ میں اس کے لیے ایسی لڑکی لاؤں گی جو بہت ہی باحیا اور باپردہ ہو۔
اللہ آپکی زبان مبارک کرے میں بھی اپنے موحد کے لیے ایسی ہی لڑکی لاؤں گی۔
امی دادا جان ابھی تک نہیں آئے۔ اور فون بھی نہیں اٹھا رہے ہیں۔ کہہ کر گئے تھے مسجد جا رہا ہوں جلدی آجاؤں گا۔ مگر۔۔ زینب کی بات پر سب فکر مند ہوئی تھیں۔
ولید کو فون کر شازیہ بیگم کے کہنے پر اس نے ولید کو فون کیا تھا مگر اس کا بھی نو ریسپانس۔
انذر کو لگا موحد تو یہاں نہیں ہے۔
جی۔ اور دوسری طرف سے جو سننے کو ملا وہ ان لوگوں کو صحیح نہیں لگا تھا۔
********************
میری نواسی کو میرے حوالے کرو تم لوگ،بہت تباہ کر لی اس کی زندگی تم لوگوں نے، ورنہ اگلی بار میں پولیس کے ساتھ یہاں آؤں گا۔
ایسے کیسے کر دیں شادی ہونے والی ہے اس کی اگلے ہفتہ۔ اور ہم نے نہیں کی اسکی زندگی برباد، گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی کی بیٹی ایسی ہی ہونی تھی۔ اس میں ہم کیا کریں تم لوگوں کے ہی خون کا اثر ہے۔
ان لوگوں کی زبان بتا رہی تھی ان کی نواسی کی تربیت انہیں لوگوں کی مرہون منت ہے جنہیں خود بڑے چھوٹے کی کوئی تمیز ہی نہیں۔
بکواس بند کرو، بھاگی نہیں تھی وہ، خود رخصت کیا تھا میں نے اسے، مگر تم گھٹیا لوگ نہیں سمجھوگے۔ بتاؤ کس سے کر رہے ہو شادی اس کی؟ آواز میں ابھی رعب و دبدبہ تھا۔
بہت بڑے بزنس مین سے۔ محبت دیکھو ہماری کتنے بڑے آدمی سے اس کی شادی کر رہے ہیں، رانی بنا کر رکھے گا اسے، محل میں راج کرےگی راج۔ جاہلانہ گفتگو انہیں کہیں سے بھی پڑھا لکھا ظاہر نہیں کر رہی تھی یا پھر وہ لوگ تھے ہی جاہل۔ مگر ماڈرن شپ تو ایسی تھی جیسے کہیں کے وی آئی پی ہوں۔
کتنا دے رہا ہے وہ امیر آدمی تمہیں؟ اب کے ان کے لہجے میں کرواہٹ تھی۔
کک۔کیا ۔مطلب۔ کتنا۔ دے۔ رہا ۔ہے؟ ہم اس کی شادی کر رہے ہیں اسے بیچ نہیں رہے ہیں۔ ان کے لہجے کی چغل خوری ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل تھی جو ان کی زیرک نگاہوں سے مخفی نہیں رہی تھی۔
تم لوگ ایک کام کرو، جتنا وہ امیر آدمی تم لوگوں کو دے رہا ہے میں اس سے ڈبل تم لوگوں کو دوں گا۔ ان کے آفر پر وہ لوگ آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہے تھے لالچ نگاہوں سے بھی عیاں تھی۔ اور حیران تو انذر بھی تھا جو اپنے دادا کا فیصلہ حیرانی سے سن رہا تھا مگر سب کچھ اس کی سمجھ سے سب بالا تر تھا۔
شادی ایک ہفتہ بعد ہے کل تک سوچ کر جواب دے دو۔ منہ مانگی رقم ملے گی۔ اور اگر تم لوگوں نے اس کی کہیں اور شادی کی تو میں کیس کر دوں گا۔ ان لوگوں کو ورننگ دیتے وہ انذر کو اشارہ کے وہاں سے نکل گئے تھے۔ مگر ان لالچی لوگوں کے لیے سوچ کا ایک در وا کر گئے تھے۔
_______
کیا یار ازلفہ کتنا بور کر رہی ہو تم آج، جب سے آئی ہو پتا نہیں کن سوچوں میں گم ہو، کہیں اپنے فیوچر ہسبینڈ کے خیالوں میں تو نہیں؟ نینی نے اسے بالکل خاموش دیکھ کر سوال کیا تھا۔ ان چھ لوگوں کا گروپ جس میں چار لوگ مسلم تھے اور دو غیر مسلم۔ ان کا یہ گروپ دبئی کی آزاد فضاؤں میں سات سالوں پر مشتمل کالج کے زمانہ سے تھا، اور اب انڈیا میں بھی یہ لوگ ساتھ میں ہی تھے، ان سب کی بانڈنگ کمال کی تھی۔ مگر ان میں ان کے مذہب کی تفریق مشکل تھی۔
ہاں یار، سچ میں یہاں آ کر تم پتا نہیں کیسی ہو گئی ہو، لینگویج بھی چینج ہو گئی، دُبئی میں تو ایسی نہیں تھیں تم۔ جان نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ نینی اور جان دونوں ریلیشن شپ میں تھے اور جلد ہی شادی بھی کرنے والے تھے۔ اسی طرح زوبیہ اور راحیل تھے۔ بس وہ اور ذیشان بچے تھے جس میں اسکی شادی اسکے انکل آنٹی نے کسی امیر آدمی سے طے کر دی تھی، جس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ اس کے ساتھ دو تین بار ڈیٹ پر گئی تھی، جہاں اس کی بےباکیاں عروج پر تھیں، وہ عمر میں اس سے کافی بڑا تھا مگر لگتا نہیں تھا اور ذیشان آج کل ایک لڑکی کو پٹانے کے چکر میں تھا جو اسے ذرا بھی گھاس نہیں ڈال رہی تھی۔
دبئی میں یہاں کے جیسے لوگ بھی نہیں تھے ڈئیرز، جو دوسروں کو اپنے سامنے زیرو سمجھ کر ان کو انڈر اسٹیمیٹ کریں۔ پچھلے ایک ہفتہ میں وہ عجیب سی بےسکونی میں مبتلا تھی، ولید حسن سے ہوئی مڈبھیڑ نے اسے کافی نیگیٹو کر دیا تھا۔ دوسروں کو برا سمجھنے والے لوگوں سے اسے نفرت سی محسوس ہو رہی تھی، جس کی لپیٹ میں بہت سارے لوگ آئے تھے۔ جن کو اس نے منہ توڑ جواب دیا تھا۔ مگر کیا تھا اس میں جس کی کمی اسے شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔
کریکٹ، کل میں اور زوبیہ جب نیشنل پارک گئے تھے تب وہاں بہت سے لوگوں نے وہاں موجود کپلز کو کافی ایڈوانس کہا تھا، حالانکہ وہاں بہت ساری برقعہ والی لڑکیاں بھی تھیں جو شادی شدہ نہیں تھیں مگر لڑکوں کے ساتھ تھیں اور لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ شادی شدہ ہیں۔
اور تم لوگوں کو کیسے پتا کہ وہ شادی شدہ نہیں ہیں؟ اسنے چڑ کر پوچھا تھا، لوگوں کے پیچھے انکی بات کرنے سے وہ ایسے ہی اررٹیٹ ہوتی تھی۔
جس طرح وہ لوگ بات کر رہے تھے سب پتا چل رہا تھا، اور میں تو حیران ہو رہا تھا کہ وہ جو لڑکے ان کے ساتھ تھے ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھرانے میں لڑکے لڑکی کی دوستی معیوب سمجھی جاتی ہے دیندار گھرانہ ہے اس سال ان کے والدین حج پر جا رہے ہیں، اور ان لڑکیوں کا بھی یہی حال تھا۔
یار یہ کون سا ورژن ہے مسلمز کا؟ یو مین وہ لوگ اتنے ریلیجیس ہو کر خود ڈیٹ کر رہے تھے۔ ازلفہ ڈئیر تم لوگ بھی مسلمز، وہ لوگ بھی مسلمز، ماڈرن اور بیک ورڈز دونوں سیم، پھر یہ والے مسلمز تم لوگوں پر اتنا کیوں ٹانٹ کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ بھی ویسے ہی ہیں۔ تم ٹھیک کہتی ہو۔ ڈبل اسٹینڈرڈز ہیں پھر تو مسلمز۔ نینی کے کہنے پر ازلفہ سبحان کی آنکھوں میں پھر سے سرد مہری اترنے لگی تھی۔
جو جیسا ہے اس کو ویسا ہی رہنے دو۔ ہم بچپن سے جیسے جیتے آئے ہیں ویسے ہی جی رہے ہیں۔ آزاد ماحول میں ہماری بریڈنگ ہوئی ہے جہاں ہر کوئی اپنی مرضی سے جیتا ہے، تو ہمیں خود زیادہ نہیں پتا مسلمز کوالٹیز کا۔ تو بےکار ہے کسی کو بھی کچھ بھی خود سے بولنا۔
تو پھر تم کیوں پنگا کر لیتی ہو، کہیں بھی کسی بھی عزت کا فالودہ کر دیتی ہو، بیچ بازار میں ہو یا بیچ راستے میں، اور اس ویک تو تم نے پتا نہیں کتنے لوگوں کی درگتی بنائی ہے۔
جاری ہے
