Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 (Watching)Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Episode04
Hidayat by Ain Noon Alif Episode04
پورے راستے گاڑی میں موت کا سا سناٹا رہا تھا۔ کسی نے بھی اس سے کوئی بات نہیں کی۔ دولہے صاحب خود گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے۔ گاڑی کی رفتار اسکے عظیم غصہ کا پتا دے رہی تھی جسے داداجان بخوبی سمجھ رہے تھے۔ شرط رکھنے کے باوجود وہ کنٹرول میں نہیں تھا۔ آگے کا سوچ کر ان کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ جس کام کو وہ نیکی سمجھ کر آسان سمجھ رہے تھے انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ آسان تو آسان مشکلوں کی حد سے بھی آگے تھا۔ ایک طرف اکلوتی بیٹی کی نشانی تھی تو دوسری طرف لاڈلا فرمانبردار پوتا تھا۔ اور جب ازلفہ سبحان کو پتا چلےگا شادی کی نوعیت کیا ہے تو کیا ہوگا۔ انہیں اسے اس دلدل سے نکالنا تھا کسی بھی طرح اور جب نکال لائے تھے تو آگے کا لائحہ عمل طے نہیں کر پا رہے تھے۔ جتنا سوچ رہے تھے اتنا الجھ رہے تھے۔ آخر کار پورے دل سے اس معاملہ کو اللہ کے سپر کر دیا۔ اب جو اللہ چاہے وہی ہوگا۔ انہوں نے اللہ ہی کے بھروسے یہ قدم اٹھایا تھا اور آگے بھی اس کی مدد کے طلبگار تھے۔
بالآخر بیس منٹ کی مسافت جلدی طے ہو گئی۔ گاڑی کے جھٹکے سے رکنے پر وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آئی تھی، ولید حسن گاڑی سے اتر کر کب اندر گیا اسے پتا ہی نہیں چلا۔ شمائلہ نے اسے بتایا تھا کہ بہت چاہت سے اس سے شادی ہوئی ہے، یہ کیسی چاہت تھی۔ وہ حیران ہوئی تھی اور آگے بھی اسے حد درجہ حیران ہونا تھا اپنی زندگی کے ساتھ ہونے والے مذاق پر یا اللہ کے کسی خاص فیصلہ پر۔
آؤ بیٹا اپنے گھر آؤ۔ حیدر صاحب(داداجان) نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا انہیں اس کے رد عمل کا بھی کچھ خوف تھا جس نے ابھی تک نہ انہیں دیکھا تھا اور نہ ولید حسن کو۔
جانی پہچانی آواز پر اس نے سر اٹھایا مگر اس کے دیکھنے سے پہلے ہی وہ اندر کی طرف بڑھ گئے۔ سامنے سے تین لڑکیاں بھاگتی ہوئی آ کر اس کے سامنے رکیں اور بڑے ہی اشیاق سے اسے دیکھ رہی تھیں جس کا چہرہ گھونگھٹ کی وجہ سے چھپا ہوا تھا۔
السلام عليكم بھابھی۔ میں آپکی اکلوتی سگی نند زینب اور کزن، اور یہ آپ کی کزن پلس چچازاد نند زرین اور شرمین۔ زینب کے پر اشتیاق انداز پر وہ ہلکا سا مسکرائی۔ تعارف پر خاص دھیان نہیں دیا اور ان کے ساتھ ہی اس نے بھی اندر کی طرف قدم بڑھا دیے۔ اس عجیب و غریب شادی پر وہ جتنا حیران ہوتی کم تھا جس میں دولہے میاں نے اسے ساتھ جانا تو دور اسکی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا اور بہنیں بچھی جا رہی تھیں۔ خود کو ایک نئے پراسرار سفر کے لیے تیار کرتی وہ ان کے ساتھ چلتی رہی۔
**********************
میری تم سب سے التجا ہے کہ ازلفہ کے سامنے کوئی بھی ایسی بات مت کرنا کہ اسکی دل آزاری ہو، اور نہ اسکی ماں کے بارے میں کچھ کہنا۔ میرے اس فیصلہ کو قبول کر ہی لیا ہے تو دل کو بھی اس میں شامل کر لینا۔ اس وقت میں اسکا سامنا نہیں کر پاؤں گا اسلیے تم لوگ اس کا اچھے سے استقبال کرو، اسے یہاں پرایا نہیں لگنا چاہئے، میں موقع دیکھ کر اس سے خود بات کروں گا، تم میں سے کوئی کچھ بھی نہیں بولےگا۔ان کی بات پر سب نے محض سر ہلایا تھا۔ وہ ابھی اس کے سامنے نہیں آنا چاہتے تھے۔ انہیں اللہ کی اور زیادہ مدد درکار تھی۔اسلیے اپنے روم میں چلے گئے۔
امی، چاچی، بھائی، بھابھی آ رہی ہیں، زینب کے اعلان کرنے پر سب مارے باندھے اس کے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے۔
کیا اب میں یہ چادر ریموو کر سکتی ہوں، سفوکیشن ہونے لگی ہے مجھے اتنی دیر میں۔ اتنی دیر سے کسی نے بھی اسکی چادر اتارنے کی بات نہیں کی تو اس نے خود ہی پوچھ لیا۔ اسکے بولنے پر سب نے حیران ہو کر اسے دیکھا، کسی کو سمجھ نہیں آیا کیا کہیں۔ نہ سلام نہ دعا۔
افکورس بھابھی، چلیے میں اتار دیتی ہوں۔ زینب اور زرین نے مل کر اسکی چادر کو احتیاط سے اتارا اور اسے صوفہ پر بٹھا کر اس کا گھونگھٹ اوپر سرکایا۔
ماشاءاللہ اللہ بھابھی کتنی خوبصورت ہیں آپ۔ زینب کی طرح زرین اور شرمین بھی خوش ہو رہی تھیں اتنی خوبصورت بھابھی ملنے پر۔ گھر کی دونوں عورتوں نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔ وہ دونوں کشمکش میں تھیں کیا کریں کیا نہ کریں۔ لڑکے خاموش کھڑے تھے کیونکہ گھر کی لڑکیوں کے علاوہ وہ دوسری لڑکیوں سے بات نہیں کرتے تھے۔ اور یہاں تو معاملہ ہی دوسرا تھا۔ یہ ایک شادی کم اور اسٹریٹ پلے زیادہ لگ رہا تھا۔
آسیہ! بہو سے ملو، سلمیٰ تم بھی۔ حسن صاحب کے کہنے پر باری باری دونوں نے اس کے سر پر ہاتھا رکھا اور منہ دکھائی دی جو ان کے سسر نے انہیں پکڑائی تھی۔ ازلفہ ان سب کے رویہ سے حیران بھی ہو رہی تھی اور پریشان بھی۔ اسے سمجھ نہیں آیا تھا اس سچویشن میں وہ کیا کرے سو خاموش سے بیٹھی آگے کی کاروائی کا انتظار کرنے لگی۔ ویسے بھی وہ لوگوں سےاچھی بری کوئی بھی امید نہیں رکھتی تھی۔
امی بھابھی کو ان کے روم میں چھوڑ آئیں ہم۔ سب کی خاموشی پر زینب نے اسے روم میں لے جانا بہتر سمجھا۔
ہمم۔ چھوڑ آؤ، تھک گئی ہوگی آرام کر لےگی اب۔ اور کھانا وغیرہ بھی کھلوا دو۔ آسیہ بیگم کے کہنے پر وہ تینوں اسے لے کر ولید کے روم کی طرف بڑھ گئیں اور پیچھے وہ لوگ بس خاموش تماشائی بنے رہ گئے۔ چاہ کر بھی وہ لوگ اس سچویشن کو سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ اور سب سے زیادہ پریشانی انہیں ولید کی طرف سے تھی جو آتے ہی کپڑے چینج کر کے دوسرے دروازے سے کچھ بھی کہے بغیر باہر نکل گیا۔ جس کی واپسی کا کوئی اتا پتا بھی نہیں تھا۔
_____________
وہ سیدھا آفس میں بنے اپنے پرسنل روم میں آیا تھا۔ جہاں وہ اکثر کام کہ زیادتی کی وجہ سے رک جاتا تھا۔ کبھی کبھار حذیفہ بھی رک جاتا تھا اور کسی کو اجازت نہیں تھی۔
فریش ہو کر ہلکا کرتا پاجامہ پہنا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ وہ یہ شادی کبھی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا اور وجہ ازلفہ سبحان کا کیریکٹر تھا جسے قبول کرنا اسے کسی قیمت پر بھی گوارا نہیں تھا مگر اپنے داداجان کے آنسوؤں نے اسے مجبور کر دیا اور پھر اس نے ان کے سامنے کچھ شرائط رکھ کر نکاح کی منظوری دے دی۔ کہاں کہاں اس نے ازلفہ سبحان کو دیکھا سارے منظر جیسے پھر سے تازہ ہو گئے تھے۔
پہلی بار اس نے اسے دیکھا تھا جب اس کے داداجان کو پتا چلا کہ وہ دہلی میں ہے اور وہ اس سے ملنے گئے تھے۔ پہلا برا تاثر اس کے لباس سے ہی پڑا تھا جو اس کے جسم کو چھپانے میں ناکام تھا، دوسرا داداجان سے بدتمیزی کرنے پر، اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو اس کے داداجان نے اسے روک دیا، ورنہ اسی وقت وہ اس بددماغ لڑکی کا دماغ ٹھکانے لگا دیتا۔ انہیں کمزور باپ، اور کمزور اولاد کا طعنہ دیا، اپنی بیٹی سے اتنے سالوں کی بیزاری پر لعن طعن کر کے دوبارہ نہ ملنے کے لیے کہہ دیا۔ اس دن بھی اس نے اپنے داداجان کو روتے دیکھا تھا۔ اور اس کا دل کیا تھا انہیں رلانے والے کو وہ جان سے مار دے۔
دوبارہ اس نے اسے اسے ریحان خان کے ساتھ دیکھا تھا جب وہ اس کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا مگر ازلفہ سبحان کے روکنے میں کوئی خاص کوشش نہیں تھی۔ یہاں اسے اس سے گھن محسوس ہوئی تھی۔ تیسری بار اسے کلب میں دیکھا تھا جہاں اسکی اس سے مڈبھیڑ ہوئی تھی وہاں ہوئی واردات نے اسے نفرت کی انتہا پر پہنچا دیا تھا۔ اور پھر آخری بار اسنے اسے میکڈی میں بدتمیزی کرتے دیکھا تھا۔
جسے وہ کبھی دیکھنا تو دور سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا قسمت نے اسی کو اس کی زندگی میں لاپٹکا۔ اس نے اپنے کردار کو جس طرح پاک و صاف رکھا تھا کیسے گوارا کر لیتا اپنی زندگی میں کردار سے عاری لڑکی کو۔گھر والوں کے فون پر فون آ رہے تھے مگر اس نے کوئی بھی کال پک نہیں کی۔ اور پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ نماز چھوڑ کر سو رہا تھا۔
*****************
بھابھی، ازلفہ ابھی تک نہیں آئی نیچے، ولید تو کب کا آفس بھی چلا گیا۔ اس نے بھی نہیں جگایا اسے۔ دس بج رہے ہیں۔ سلمیٰ حسین کے کہنے پر انہوں نے ہال میں لٹکی بڑی سی گھڑی پر نظر ڈالی اور پھر ولید حسن کے روم کی طرف۔ آج گھر کے سارے مرد جلدی آفس چلے گئے تھے۔ کچھ کام کی زیادتی کی وجہ سے اور کچھ ولید حسن کے رات سے وہیں ہونے سے۔
زینب جاؤ دیکھو، وہ تو کب سے انتظار میں بیٹھی تھی جانے کے لیے۔ ابھی اٹھی ہی تھی جب وہ سیڑھیوں سے اترتی نظر آئی سب نے اس طرف نظر کی تھی مگر آنکھیں جو کم کھلی ہوئی تھیں پوری پوری کھلتی چلی گئیں۔ اسے دیکھ کر وہ لوگ ایسے خاموش ہوئے جیسے کسی بھوت کو دیکھ لیا ہو۔
ہائے اللہ، یہ کیا پہن آئی لڑکی۔ کچھ لاج شرم ہے کہ نہیں۔ سب سے پہلے ہوش سلمیٰ حسین کو ہی آیا۔
ہیلو ایوی ون! گڈ مارننگ، کوئی مجھے لینے نہیں آیا سو میں خود ہی آ گئی۔ وہ ان سب کی حیرت کو نظر انداز کرتی صوفہ پر بیٹھ گئی۔
مجھے بھوک لگی ہے۔ کیا مجھے بریک فاسٹ مل سکتا ہے؟ اس نے زینب کی طرف دیکھ کر کہا۔ جس نے اسے دیکھنے کے چکر میں کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ یا اسے سنائی ہی نہیں دیا۔
کیا ہوا آپ سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اب اسے سب کی نظروں سے الجھن ہونے لگی تھی۔
ویسے آنٹی میں نے آپ کے بیٹے کا کافی ویٹ کیا بٹ وہ آیا ہی نہیں، انفیکٹ میں نے اسے ابھی تک دیکھا ہی نہیں۔ کیا ایسے ہی کرتے انڈیا میں گرومز، نیولی وائیوز کو فرسٹ نائٹ ہی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ویسے آپ کے گھر میں بھی لگ نہیں رہا ہے کہ شادی ہوئی ہے۔ انفیکٹ مجھے خود یہ فیلنگ نہیں آ رہی ہے کہ میری شادی ہوئی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے شادی نہیں کوئی ایکسڈنٹ ہوا ہے جس سے سب لوگ تکلیف میں ہیں۔ اس کے منہ پھٹ انداز پر دونوں عورتوں نے ناگواری سے اسے دیکھا جب کہ لڑکیوں کو ولید حسن کی غلطی نظر آئی واقعی اسے گھر سے نہیں جانا چاہئے تھا وہ بھی اپنی شادی کی پہلی رات ہی، یا پھر بتا کر جانا چاہئے تھا۔ ان کی نظر میں ان کی بھابھی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی تھی۔
نہیں بھابھی ایسی بات نہیں ہے، کل ان کی بزنس کی بڑی میٹنگ ہے تو سب لوگ اسی کی تیاری میں لگے ہیں رات بھی بھائی کو ضروری کال آئی تھی وہ جلدی میں آپ سے ملے بغیر چلے گئے۔ اپنے بھائی کی غلطی کو زینب نے اپنے انداز سے چھپایا تھا۔ جسے ازلفہ سبحان سمجھی تھی یا نہیں مگر خاموش ہو گئی تھی۔ اتنا تو اسے یقین ہو گیا تھا کہ کچھ نہ کچھ تو غلط ہے، ورنہ کون سا گھر شادی میں ایسا شانت ہوتا ہے، اور کون ایک نئی نویلی دولہن کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتا ہے۔
یہ کیا پہن کے آئی ہو لڑکی، اس کی سلیولیس چھوٹی سی شرٹ جو اس کے پیٹ تک ہی ختم ہوتی تھی۔اور پنڈلیوں تک آئی جینز کو دیکھ کر انہیں غصہ ہی آ گیا۔ کیا تمہاری چاچی نے پہننے اوڑھنے کا سلیقہ نہیں سکھایا تمہیں، کچھ تو شرم و حیا ہونی چاہیے یہ ادھ ننگی حالت میں تم ہم سب کے سامنے آ گئی وہ تو شکر ہے اللہ کا سارے مرد آج جلدی چلے گئے ورنہ تمہیں ایسے لباس میں دیکھ شرم سے پانی پانی ہو جاتے۔ پتا نہیں ابا جی نے کیسا فیصلہ کیا ہے۔ پہلی بار ابا جی غلط فیصلہ کر گئے سلمیٰ۔ میں اس لڑکی کو اپنی بہو قبول نہیں کروں گی۔ آسیہ حسن کا سکتہ ٹوٹا تو اسے دیکھ کر وہ بھی اپنے بیٹے کی طرح اپنے غصہ کو کنٹرول نہیں کر پائی تھیں۔ اب انہیں اس بات سے تسلی ہو رہی تھی کہ ان کا بیٹا اسے دیکھے بغیر چلا گیا، اس سے کوئی تعلق نہیں رکھا، اب فیصلہ کروانے میں آسانی ہوگی۔
ان کے کڑوے لہجے پر ازلفہ سبحان کو کوئی اور یاد آیا تھا۔ جس کے الفاظ بالکل انہیں کی طرح کڑوے تھے۔
یہ کس طرح بول رہی ہیں آپ؟ مجھ سے کوئی نقصان پہنچا ہے آپ کو۔ اسے ان کا اچانک سے لعن طعن سمجھ نہیں آیا تھا۔
اپنا لباس تبدیل کرو بی بی تمہیں دیکھ کر گناہگار ہو رہے ہیں ہم، تمہارے جیسے لوگوں کو عادت ہوگی اپنی آنکھوں سے ایسے بیہودہ مناظر دیکھنے کی ہمیں نہیں ہے، تم تو ماں سے بھی سو قدم آگے نکلیں۔ انہوں نے اتنے نخوت سے کہا تھا کہ ایک پل کو اسے بھی عجیب محسوس ہوا۔ مگر غلط انداز کو قبول کرنا اسکی فطرت ہی نہیں تھی۔
جس طرح آپ کی نظر میں میری آنٹی نے پہنے اوڑھنے کی تمیز نہیں سکھائی بالکل ویسے ہی میری نظر میں آپ کی مدر نے آپ کو بولنے کہ تمیز نہیں سکھائی۔ کیا آپ کو نہیں پتا جن کو آپ جانتے نہیں بھلے ہی وہ غلط ہوں لیکن اس طرح اس انداز میں بات کرنا بدتمیزی کہلاتی ہے۔ مجھے افسوس ہے جس چیز سے میں نے خود کو پروٹیکٹ کیا ہے ڈیسٹنی نے وہی چیز دےدی۔آئم سوری بٹ اٹس ٹرو۔ اس کے بولنے سب سے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا بیشک اس کے بولنے میں کوئی لچک نہیں تھی مگر غلط کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ اور اسے بدتمیزی بھی نہیں کہا جاتا۔
آئی تھنک یہاں مجھے کھانا نہیں ملےگا، سو مجھے باہر ہی جانا پڑے گا۔ بٹ ڈیم شیور میری شادی ایک غلط گھر میں ہو گئی۔ ایک نظر ان لوگوں کی طرف دیکھ کر وہ روم میں گئی اور اپنا پرس لے کر باہر نکلتی چلی گئی۔ یہاں ان سب کو حیران چھوڑ کر۔
سلمیٰ یہ زرین کا کہا سچ ہو گیا۔ یہ فرنگیوں کی نسل کی لڑکی میری بہو بن گئی دیکھا کیسے کہہ کر گئی مجھے۔ اپنی ماں کی طرح ہٹ دھرم ہے یہ تو، اللہ جانے کیا کیا گل کھلا رکھے ہوں گے اس نے، پہلے ہی دن اس طرح باتیں کر کے گئی ہے توبہ توبہ!۔ آنے دو ابا جی کو میں برداشت نہیں کر سکتی اس لڑکی کو اپنے گھر میں۔
بڑی ماں جس طرح آپ نے ان سے بات کی آپ ان سے کیسے اچھے کی امید کر سکتی ہیں۔ وہ صرف آپ کو آپکے سوال کا جواب دے کر گئی ہیں۔ ہم بھی مانتے ہیں ان کا لباس ٹھیک نہیں ہے، مگر یہ بات انہیں پیار سے بھی سمجھائی جا سکتی ہے۔ اب جیسے ماحول میں رہی ہیں ویسا ہی سیکھا۔ ایک لفظ بھی غلط نہیں کہا انہوں نے۔ وہ اتنی آزاد اور ماڈرن ہو کر بات بہت کام کی کہہ کر گئیں ہیں۔
زرین اپنے کمرے میں جاؤ بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری، اور خبردار تم دونوں میں سے کوئی بھی اس لڑکی کے آس پاس پھٹکی بھی تو مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ہوگا۔ اپنی ماں کی ڈانٹ پر دونوں بہنیں سر جھکائے چلی گئیں ساتھ زینب کو بھی لے جانا نہیں بھولیں۔
*****************
آسیہ حسن کی بات سن کر اسے بہت افسوس ہوا تھا ان کا انداز کس قدر نفرت انگیز تھا اس چیز نے اسے تکلیف دی تھی اس سے پہلے وہ ان سے بدتمیزی کر جاتی وہ گھر سے ہی نکل آئی تھی۔ اس نے اپنے دوستوں کو کال کر کے میکڈی بلا لیا تھا۔ ٹینشن لے کر وہ خود کو اسٹریس میں نہیں رکھ سکتی تھی۔
کتنا حیران کرتی ہو یار تم! اپنی سسرال میں ناشتہ کرنے کے بجائے یہاں میکڈی میں بیٹھی ہو۔ تینوں لڑکے اسکی کھنچائی کر رہے تھے۔ سب اس کے فوم پر دوڑے چلے آئے تھے۔ ایسی ہی محبت تھیں انہیں ایک دوسرے سے۔
بس تم لوگوں کو مس کیا تو آ گئی۔ ویسے انکل آنٹی نے بتایا نہیں اپنے جانے کا، اب کیسی طبیعت ہے ان کی سسٹر کی؟
پتا نہیں، بات تو نہیں ہوئی میری، شاید دو تین دن رہے وہیں۔ ذیشان کے جواب پر اس نے محض سر ہلایا۔ اور آرڈر آنے پر سب کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔
کہیں گھومنے چلتے ہیں چلو۔
کیا بات ہے ازلفہ ڈئیر، میں نے تو سنا تھا یہاں سسرال بڑی ڈینجر ہوتی ہے مگر تمہاری سسرال بڑی برواڈ مائنڈڈ ہے ایک دن کی دولہن کو گھومنے کی اجازت دےدی وہ بھی اس کے ہسبینڈ کے بجائے دوستوں کے ساتھ۔ ذیشان کی بات پر سب نے قہقہہ لگایا تھا۔ یہ لوگ گھر گھر کی کہانی سے واقف نہیں تھے، اور نہ گھریلو مسائل سے واقفیت تھی، اسلیے معاملے کو آسان سمجھے ہوئے تھے صاف ذہن کے لوگ تھے بیشک بھٹکے ہوئے تھے مگر منافقت سے دور۔ ہر چیز سے بےپرواہ وہ لوگ اپنے طرز پر آج کا دن بھی موج مستی میں گزار رہے تھے بنا کسی اور کی بات کیے، بنا کسی پر طنز کیے۔ شام ہونے کو آئی تھی مگر اس کا اس گھر میں جانے کا دل نہیں تھا۔ عجیب فطرت کے لوگ تھے اسے ان لوگوں کی کوئی سمجھ نہیں آئی تھی۔
وہ لوگ جوہو پر آئے ہوئے تھے اور بہت ہلا گلا مچایا ہوا تھا۔
ازلفہ سب ٹھیک ہے نا، جیجو اور ان کی فیملی، زوبیہ کو اسکے اتنی دیر باہر ہونے پر ٹینشن ہوئی تھی۔
پتا نہیں، جج نہیں کیا میں نے، کیوں؟ ایسی ہی تھی وہ لوگوں کو منہ پر جواب دے کر پرسکون ہو جاتی تھی پھر ان لوگوں کے پیچھے کسی اور سے اس بات کا تذکرہ کر کے خود کو اسٹریس نہیں دیتی تھی۔
اتنی دیر سے ہو تم یہاں، رات ہونے کو ہے مگر نہ تمہیں کسی کی کال آئی اور نہ تمہیں اپنے گھر جانے کی فکر ہے۔ زوبیہ کے کہنے پر اسے وقت کا احساس ہوا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی اس کے دوستوں کو ٹینش ہو سو اس نے واپس جانے کا ارادہ کیا، ویسے بھی وہ بزدل نہیں تھی جو ایسی سچویشن اور ایسے لوگوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔
اوہ، چلو پھر، رئیلی اٹس ٹو لیٹ۔ کپڑے جھاڑ کر کھڑے ہوتے وہ لوگ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے، باری باری وہ ان سب کے گلے لگ کر اپنے لیے منگوائی گئی دوسری کیب میں بیٹھ گئی۔
***********************
وہ کچھ ڈیلرزسے جوہو کے قریب بنے فائیو اسٹار ہوٹل میں ملنے آیا تھا، ساتھ حذیفہ بھی تھا۔ جو زبردستی میٹنگ ختم ہونے کے بعد اسے جوہو لے آیا تھا تاکہ اس کے دماغ پہ چھائی گرمی کچھ کم ہو۔ مگر پچھلی بار کی طرح اس بار بھی وہ غلط موقع پر اسے وہاں لے آیا تھا۔
اور پھر بے دھیانی میں سامنے پڑنے والی نظر کب حیرانی سے ہو کر پتھریلی ہوئی اسے خبر نہیں ہوئی۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ویسے ہی اس کے اندر شعلے اٹھ رہے تھے۔
کتنی دیر تک وہ اپنی نام نہاد بیوی اور اس کے دوستوں کو آوارہ لوگوں کی طرح اٹھکیلیاں کرتے دیکھ رہا تھا۔ اور اس کا لباس دیکھ کر تو وہیں جا کر سب کے سامنے تھپڑ بجانے کا من کیا تھا۔ جس طرح وہ ان لوگوں سے گلے مل رہی تھی ان کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہی تھی اس کی برداشت سے باہر تھا۔ وہ سوچ چکا تھا اسے کیا کرنا ہے۔
جاری ہے
