Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 (Watching)Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Episode14
Hidayat by Ain Noon Alif Episode14
اے اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے، اور تیری اسی قدرت پر میں تجھ سے خیر کا سوال کرتا ہوں، تیرے سوا کوئی نہیں جو لوگوں کے دلوں کو پھیر دے، اے اللہ میں تیری رضا کا طالب ہوں، تیری اس بندی کا طالب ہوں جس کی وجہ سے مجھے میرے بہت سے اعمال کی حقیقت میرے سامنے کھلی جو میری نظر میں شیطان نے سہی کیے ہوئے تھے، جن کا مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میں کس طرح تکبر کے اندھیرے راستے پر گامزن ہوں۔ اے اللہ تجھ کو معلوم ہے اسی لڑکی کی وجہ سے میرا ایمان تازہ ہوا ہے۔ میں تیرے در پر اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگنے کے قابل ہوا ہوں، اے اللہ میں تجھ سے اپنے لیے اور تیری اس بندی کے لیے ویسا ہی ایمان مانگتا ہوں جیسا تو اپنے عزیز بندے اور بندیوں کو دیتا ہے۔ اے اللہ میں اس کے ساتھ مل کر وہ مقصد پورا کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے تونے ہمیں پیدا کیا ہے، میں اس کے ساتھ اسلام کو جاننا چاہتا ہوں، اے اللہ میں ہمارے لیے مومنین میں ہونے اور اسی پر قائم ہونے کی درخواست کرتا ہوں۔ اے اللہ یہ سزا تو سزا ہے ہی نہیں، تو دیکھ! تیری اس بندی کے دل کہ نرمی، یہ نرمی تو اللہ تیرے دین پر لگنی چاہیے۔ اے پاک پروردگا میں اسے تجھ سے تیری رضا کے لیے مانگتا ہوں، اس کی معافی تیری معافی کے لیے مانگتا ہوں، اس کا قرب تیرا قرب پانے کے لیے مانگتا ہوں۔ اے اللہ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں اپنی دعاؤں کی قبولیت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ!
بارش میں بھیگتے ہوئے اسے کئی گھنٹے ہو چکے تھے۔ اور بارش بھی ایسی ڈھیٹ تھی جو مجال ہے دو پل کو بھی رکی ہو۔ اسی بارش میں اس نے پہلے عشاء کی نماز ادا کی تھی اور اب تہجد میں اپنے رب سے مناجات میں لگا ہوا تھا۔ اتنا ڈوبا ہوا تھا وہ دعا میں کہ بارش کا احساس ہی نہیں رہا تھا۔ بارش اس کے جسم کو ٹھنڈا کرتی جا رہی تھی مگر وہ مضبوطی سے ڈٹا ہوا اپنی سزا کو پوری ایمانداری سے جھیل رہا تھا۔
*******************
بہت کوشش کے بعد بھی وہ سونے میں ناکام رہی تھی۔ نظریں بار بار گیلری میں جا رہی تھیں۔ بڑی سی اوپن گیلری میں بارش کی بوچھار اس کی شدت بتا رہی تھی۔ اوپر سے بجلی کی کڑکی۔ اس نے وقت دیکھا تھا جہاں پونے تین ہو رہے تھے۔
دل میں پلتے انجان جذبے کے تحت اس نے گیلری کا دروازہ کھولا، اسے ولید حسن کے اتنی دیر تک باہر رہنے کہ امید نہیں تھی، اس نے ایک بار بھی درواذہ ناک نہیں کیا تھا نہ سزا میں ترمیم کی درخواست۔ اتنی تیز بارش اور خطرناک موسم میں تو ہر انسان کی حالت بدتر ہو جائے۔
دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر سیدھی ولید حسن پر گئی تھی، اسے دیکھ کر وہ جی جان سے کانپ گئی تھی۔ جس حال میں وہ اسے دیکھ رہی تھی اسے لگا وہ ظالموں میں ہو گئی ہے، گیلری ٹخنوں سے بھی شاید اوپر تک پانی سے بھری ہوئی تھی، اتنی تیز بارش کے پانی کا بہاؤ اس جگہ سے زیادہ نہیں ہوتا تھا اس لیے یہاں کافی پانی جما ہو جاتا تھا جو اسے بہت پسند تھا مگر اتنی دیر تک اتنے پانی میں مسلسل چھ گھنٹے رہنا اور وہ ایسے میں نماز پڑھ رہا تھا، وہ جھرجھری لے کر رہ گئی تھی۔
بنا سوچے سمجھے وہ اس کے پاس جاکر کھڑی ہو گئی، اس کے ہلتے لب، زبان سے نکلتے الفاظ اسے ساکت کر رہے تھے۔ اس کی نظروں کی تپش ولید حسن نے محسوس کی تو چہرے پر ہاتھ پھیر نگاہ اس طرف کی، وہ ساکت کھڑی اسے تک رہی تھی، آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔ اس کا مکمل بھیگا وجود بتا رہا تھا وہ کافی وقت سے یہاں کھڑی ہے، اس سے ہوتے ہوئے اس کی نظر اس کے پیر پر گئی تھی جو وہاں موجود پانی میں سرخی پیدا کر رہا تھا۔ وہ فوراً کھڑا ہوا تھا۔
پاگل ہو گئی ہو تم؟، کیا ضرورت تھی باہر آنے کی؟، خود بھی بھیگ گئی اور اپنا پیر دیکھو، جاؤ اندر، اور ذیشان کو فون کرو جلدی، اسے دروازے کے قریب لاکر اندر جانے کا اشارہ کیا، خود کوئی حرکت کر کے وہ اسے غلط فہمی میں جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔
جلدی کرو، ہری اپ! بہت پرابلم ہو جائے گی، متفکر سا وہ اسے ذیشان کو کال کرنے کے لیے فورس کر رہا تھا۔ مگر وہ جگہ سے ہل ہی نہیں رہی تھی۔
ازلفہ، میں کیا کہہ رہا ہوں ڈیم اٹ! دیکھو اپنے پیر کی حالت، اپنے سر کی حالت، جاؤ یار، میں اس بارش سے نہیں تمہارے اس حال سے اوپر پہنچ جاؤں گا۔ بھنچی ہوئی مٹھی کو کھول کر کبھی وہ اپنے بالوں کو جکڑتا کبھی اپنے منہ پر رکھ رہا تھا۔ اس لڑکی کی تکلیف اسے اپنے دل میں محسوس ہو رہی تھی، مگر وہ اسے سن ہی کہاں رہی تھی۔
سنائی نہیں دے رہا، کیا کہہ رہا ہوں میں، اگر تم نے ابھی بینڈیج نہیں کروائی تو میں اپنے اور تمہارے حال کی پرواہ کیے بنا لے جاؤں گا، پھر چاہے انجام جو بھی ہو، اسے دھمکی دے کر قائل کرنے کی کوشش کی۔ اور ساتھ ہی اسے کمر سے پکڑ کر بچوں کی طرح اٹھا کر اندر کھڑا کر دیا، کیونکہ گیلری کے دروازے پر ایک فٹ کی دیوار نسب تھی پانی اندر نہ جانے کی وجہ سے۔
تم میرے لیے دعا کر رہے تھے؟ تم اس بارش میں نماز پڑھ رہے تھے، تم میرے لیے اللہ سے دین مانگ رہے تھے۔ میری لیے، خود کلامی کے انداز میں بولتی وہ عجیب کیفیت کا شکار ہو رہی تھی۔ اس کی خود کلامی پر اس نے ایک گہرا سانس لے کر اسے دیکھا، اس کی حیرانی کی وجہ سمجھ میں آئی تھی، وہ خود کو اکیلا سمجھ کر بلند آواز میں اپنے اللہ سے محوِ گفتگو تھا۔ اور اس میں اسے سرور مل رہا تھا۔
ہاں مانگ رہا تھا، غلط نہیں کر رہا تھا۔ اپنی بیوی کے لئے سب مانگ رہا تھا۔ اب جاؤ، اور پلیز میرے لیے اس سزا کو اذیت ناک مت بناؤ، اس نے صبح سے پہلے اس جگہ سے نہ ہٹنے کا وعدہ نہ کیا ہوتا تو وہ کب کا اس کی بینڈیج خود کر چکا ہوتا۔
تمہاری سزا ختم ہوئی ولید حسن، ازلفہ سبحان نے تمہیں معاف کیا، تمہارا ہر لفظ، تمہارے تھپڑ سب کا سب وہ اپنے دل سے ڈلیٹ کرتی ہے۔ تمہیں تمہارے گلٹ سے آزاد کرتی ہے۔ تم نے اللہ سے میرے لیے جو مانگا مجھے وہ سب چاہئے، تم اندر آجاؤ۔
تین گھنٹوں کی بات اور ہے ازلفہ، میں یہ سزا پا کر ہمیشہ کے لیے اس گناہ سے چھٹکارا چاہتا ہوں۔ میں غفلت میں بھی ایسا گناہ نہیں کرنا چاہتا جو کعبہ کو بھی توڑنے سے بڑا ہو۔ وہ واپس اپنی جگہ پر جانے کے لیے پلٹا مگر ہاتھ کسی کی گرفت میں رہ گیا پیچھے پلٹ کر دیکھا تو ازلفہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے اندر کی طرف کھینچ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ناراضی، ناگواری کچھ بھی نہ تھا، اور جو جذبہ وہ محسوس کر رہا تھا۔ وہ ولید حسن کے اندر توانائیاں بھر رہا تھا۔
کبھی یہ اذیت یاد تو نہیں آئےگی، وہ مکمل یقین دہانی چاہتا تھا۔
ایک شرط پر۔ وہ خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی، جو کمی اسے تکلیف دیتی اس کمی کو دور ہوتا محسوس کر رہی تھی۔
کون سی شرط؟ اس کی سوالیہ نظریں ازلفہ کے چہرے پر جمی تھیں۔
تم اپنے ساتھ مجھے اسلام میں داخل کرو، مجھے اس منزل تک لے کر جاؤ جس منزل کا یہ راستہ ہے اور جس کی طلب میں کوئی نہیں تھکتا۔ مجھے اللہ سے ملاؤ، مجھے دین سکھاؤ۔
تمہیں لگتا ہے میں یہ کر پاؤں گا، میں خود ادھورا مسلمان ہوں، اور یہ تم بہت اچھی طرح جانتی ہو۔ وہ تو پہلے ہی اسے اور خود کو اس سانچے میں ڈھالنے کا عزم کیے ہوئے تھا جو اللہ و رسول نے ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اس طرح بول کر شاید وہ اس کا یقین چاہتا تھا۔
تم کر لوگے۔ مجھے یقین ہے۔
کیسے کر سکتی ہو تم مجھ پر یقین، کیوں لگتا ہے تمہیں میں یہ کر پاؤں گا؟۔ اس کے یقین کی حد جاننے کی کوشش کی تھی۔
میں نے ایکسیڈنٹ والے دن اللہ سے ہیلپ مانگی تو تم آئے تھے، کل رات ہیلپ مانگی، میں نے اللہ سے اس تک پہنچنے کا راستہ مانگا، تب بھی تم آئے۔ میں اللہ کو نہیں جانتی، اس سے پہلے اللہ سے کبھی کچھ مانگا ہی نہیں، نہ مجھے تمہاری طرح مانگنے آتا ہے، مگر دو بار ایک ہی دعا پر تمہارا آنا، مجھے لگا یہ اللہ کی طرف سے شاید اس کی سائن ہے کہ تم مجھے اس سے ملانے میں ہیلپ کر سکتے ہو، میری اسلامک اسٹڈیز کروا سکتے ہو۔ کچھ دیر پہلے وہ اسے تک رہی تھی اور اب وہ اسے تک رہا تھا۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا، کچھ دعائیں ایک پل میں ہی مستجاب ہو جاتی ہیں۔
تم مجھے اللہ کی پہچان کرواؤ، وہ کیسا ہے مجھے بتاؤ، میں نے ابھی تمہارے چہرے پر نیکی کا ایک نور دیکھا ہے، میں پندرہ منٹ تک وہاں کھڑی تمہیں دیکھتی رہی مگر تمہیں محسوس نہیں ہوا، میں بھی اللہ کے سامنے ایسے کھڑی ہونا چاہتی، میں بھی اس کے سامنے کھڑے ہونے کا لطف محسوس کرنا چاہتی ہوں۔
بتاؤ کروگے میری رہنمائی، دوگے میرا ساتھ، مجھے تم ایک ٹپکل ہسبینڈ قبول نہیں ہو، اور نہ میں تمہاری کنیز ٹائپ بیوی بننا چاہوں گی؟ اس کے چہرے پر اللہ کی طرف پلٹنے والے لوگوں کہ طرح نرمی تھی، حلاوت تھی، دین کی طلب تھی۔ وہ اسے سمجھنے لگا تھا۔ مگر اس کی خاموشی ازلفہ کو پسند نہیں آئی تھی۔
تھوڑی دیر پہلے تم میرے لیے دعا مانگ رہے تھے اور اب جب کرنے کا وقت آیا تو خاموش ہو۔
جاؤ پھر کھڑے رہو صبح تک، نہیں کرنا تمہیں معاف اور نہ تمہارے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔ میں خود اللہ سے مانگ لوں گی۔ اسے واپس دھکا دے کر وہ اپنے آنسو روکتی دروازہ بند کرنے لگی تھی جب ولید حسن نے ایک لمحہ کی بھی دیر کیے بغیر اندر داخل ہو کر اسے خود میں سمو لیا تھا۔ وہ کیسے نہ اس کی بات مانتا جس نے اسے اس کے رب کے سامنے سرخرو کر دیا تھا، وہ کہہ رہی ہے وہ اسے اس کے رب سے ملائے، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ولید حسن کو اس کے رب سے ملانے والی وہ خود ہے۔
میں تمہارے ساتھ اپنے رب کے رو برو ہونا چاہتا ہوں ازلفہ، تمہاری دعاؤں میں تمہاری نیکیوں میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہوں، میں اس قابل نہیں ہوں پھر بھی میں یہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنی زندگی میں ‘امر بالمعروف اور نہی عن المنکر’ کو لانا چاہتا ہوں۔ عمل کی صورت میں۔ میں یہ سفر تمہارے ساتھ طے کرنا چاہتا ہوں، اپنی آخری سانس تک۔ شدتِ جذبات سے اس کی آواز بھاری ہو رہی تھی، اپنے رب کی قدرت پر آنسو ازلفہ کی بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔ اس نے اسے مایوس نہیں لوٹایا تھا۔ اسے معافی مل چکی تھی، وہ سرخرو ہوا تھا۔ وہ شاکر تھا اپنے رب کا۔ اور ازلفہ اس کی شدید جکڑ میں بھی اپنےآپ کو پرسکون محسوس کر رہی تھی۔
اب کیا ہڈیاں توڑوگے میری، ویسے ہی ایگری کر لیتے، تم نے تو ہلاکر ہی رکھ دیا مجھے، اتنی زور سے ہگ کرتے ہیں کیا گرلز کو؟، میرے پیر کا درد اب برداشت کے باہر ہو رہا ہے، اس کی روئی روئی آواز پر اس نے اپنی آہنی گرفت سے اسے آزاد کیا اور جھک کر اس کے پیر کا معائنہ کرنے لگا۔
کہا تھا نا تم سے کوئی چالاکی مت کرنا، مگر تم کب سنتی ہو میری۔ چلو بینڈیج چینج کردوں تمہاری، خود کو بھول کر وہ اس کی پرواہ کر رہا تھا۔
کیا ہوا؟اسے مسکراتے دیکھ کر اس نے بھنویں اچکائیں۔ رویا رویا چہرہ مسکراتا ہوا پرکشش لگ رہا تھا۔ اس نے اپنی نظروں پر کنٹرول کر کے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
میں تھوڑی دیر اور برداشت کر سکتی ہوں پلیز تم چینج کر لو، اتنے ٹھنڈے ہو رہے ہو ایسا لگ رہا ہے جیسے فریج میں سے نکلے ہو۔ تمہیں دیکھ کر مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ اور گلٹ بھی بڑھ رہا ہے۔ سو پلیز پہلے فریش ہو جاؤ۔ اسے ذیشان کے کپڑے دے کر واشروم میں جانے کا اشارہ کیا، وہ اس کی بات پر ہنستا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
میرے آنے تک تم بھی چینج کر لو۔
اوکے۔ لاک کرو واشروم، جب میں ناک کروں تب باہر آنا، اس کے آرڈر پر سر ہلا کر وہ دروازہ بند کر گیا۔
***********************
صبح ڈاکٹر کے پاس جانا پڑےگا، بہت ضدی ہو تم، اگر ذرا سا دھیان رکھتی تو یہ حالت ہوتی پیر کی۔ اس کے پیر پر پٹی باندھتا وہ اسے ڈانٹ رہا تھا۔ اس کی نرم ڈانٹ پر اتنے درد میں بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔
تم وہی کھڑوس، ایروگنٹ، ولید حسن ہی ہو نا؟۔ اس کی مسکراتی آواز پر اس نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا، جہاں آنکھوں میں شرارت صاف نظر آ رہی تھی۔
اگر تم اس طرح لاپرواہی کروگی تو میں اس سے بھی زیادہ کھڑوس بن جاؤں گا۔ کچھ گھنٹوں کی تکلیف نے دونوں میں غیریت کا احساس مٹا دیا تھا۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کچھ وقت پہلے یہ لوگ ایک بڑی تکلیف سے گزرے ہیں۔
تم نے اپنے گھر پر بتا دیا تھا نا کہ تم انڈر پنشمنٹ ہو اسلیے آج گھر نہیں آؤگے؟۔ وہ اسے اتنا فری ہو کر بات کرنے پر خود بھی حیران ہو رہی تھی مگر زبان پھر بھی نہیں رک رہی تھی۔
جی ہاں میڈم! میں بتا چکا تھا کہ میں کل صبح ان کی عزیز ازجان بھابھی کو لے کر ہی آؤں گا ان شاء الله اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے۔ اس کے ایسے جواب پر ایک الگ رنگ اس کے چہرے پر آیا تھا۔
تم نے کھانا نہیں کھایا تھا نا؟ زوبیہ کی بات سنی تھی میں نے۔ اس کی پٹی کر کے پیر کو سیدھا رکھ کر اسے دیکھا۔
تم بھی کل سے بھوکے ہو، آئم سوری، میرا ارادہ تمہیں پنشمنٹ کرنے کا نہیں تھا۔ مجھے خود سمجھ میں نہیں آ رہا میں نے یہ کیسے کر دیا۔ تم بھوکے پیاسے چھ گھنٹے بارش میں رہے ہو۔ دیکھو ابھی بھی کتنے ٹھنڈے ہو رہے ہو۔ اپنی حرکت پر وہ نادم ہوئی تھی۔ ولید کو اس کے دل کی خوبصورتی دیکھ کر اپنے رویہ پر پھر سے شرمندگی ہوئی تھی، اگر وہ ایسا رویہ اختیار نہ کر کے نرمی اپناتا تو اب تک ان دونوں کی زندگی سہی ٹریک پر چل رہی ہوتی۔
تم اگر یہ نہیں کرتی تو ہم جس طرح اس وقت بات کر رہے ہیں ایسے نہ کر رہے ہوتے، اجنبیوں کی طرح ہی ہوتے۔ کچھ بھی ہم میں اتنا سہی نہیں ہوتا۔ اس کی بات سے تو وہ بھی ایگری تھی۔
تمہیں بھوک نہیں لگ رہی؟
لگ تو رہی ہے۔ اس کی بھوک کا احساس اسے نادم کر رہا تھا۔ اس نے تو صرف ڈنر نہیں کیا تھا مگر وہ تو کل صبح کا ناشتہ ہی کیا ہوا تھا۔
تو پھر میں دودھ گرم کر کے لاتی ہوں، اور کچھ تو ہوگا نہیں کھانے کو، اور مجھے نیند بھی آ رہی ہے مگر جب تک کھاؤں گی نہیں، سو نہیں پاؤں گی۔ تم بھی اسی پر گزارا کرنا آج۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ولید حسن نے اسے اٹھنے نہیں دیا۔
مجھے بتاؤ، میں لے کر آتا ہوں۔ اس کے پوچھنے پر اس نے کچن کا راستہ بتایا، دس منٹ بعد وہ دو گلاس بھر کے دودھ لے کر آیا۔
کیا ہوا؟ زیادہ درد ہو رہا ہے، اسے پیر پکڑے دیکھ کر اس نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو لب بھینچے اپنے پیر کی طرف جھکی ہوئی تھی۔ اس کے پوچھنے پر اثبات میں سر ہلایا۔
یہ لو، اور میڈسن کہاں ہے تمہاری۔ ہلدی والا دودھ اس کی طرف بڑھایا۔
تمھارے گھر پر ہی رہ گئی، اور تم پھر یہ یلو دودھ لے آئے مجھے اچھا نہیں لگتا یہ۔ اس نے دودھ کو دیکھ کر منہ بنایا۔ آنکھ میں آنسو رکے ہوئے تھے۔
کوئی پین کلر ہے؟ اس کی چہرے سے نظریں چرائی تھیں۔
وہ جو سامنے ریڈ ڈبہ رکھا ہوا ہے اس میں ہے، انگلی سے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے اشارے پر اس نے دو الگ الگ ٹیبلیٹ لے کر اس کی طرف بڑھائیں، جن کو کھانا اس کی مجبوری تھی۔
میں بھی دیکھو ایسا ہی دودھ پی رہا ہوں، تم بھی پیو، تمہیں پین سے ریلیف ملےگا۔ اس کے آنسو پونچھ کر گلاس اس کی طرف پھر سے بڑھایا جو اس نے تھام لیا۔
کیا تمہیں بھی پین ہو رہا ہے؟ اس کا اشارہ اس کے بھی ہلدی والے دودھ کی طرف تھا۔
نہیں! بقول تمہارے برف کی طرح ٹھنڈا ہو رہا ہوں تو اس سے گرم ہو جاؤں گا۔
اوہ، پھر تو یہ بھی پی لو، میں اور نہیں پی سکتی، اپنا آدھا گلاس پی کر باقی کا اس کی طرف بڑھایا۔
پورا پیو، تبھی آرام ملےگا۔
نہیں پلیز، بہت یک فیلنگ ہو رہی ہے اس سے۔ میں نہیں پی سکتی اور، گلاس سائڈ میں رکھ کر لیٹنے لگی تھی۔
کیا تم واقعی اتنے اچھے تھے پہلے سے یا پنشمنٹ کے بعد ہوئے ہو۔ اس کا اشارہ اسے اچھے لٹا کر اس پر کمبل ڈالنے کی طرف تھا۔
کیا تم پہلے سے ہی اتنا بولتی ہو یا مجھے پنشمنٹ دینے کے بعد زبان کھلی ہے۔ اس کے الفاظ اسی کو لوٹائے۔ وہ اس کا خود سے اتنی باتیں کرنا انجوائے کر رہا تھا۔
تم بھی یہیں بیڈ پر سو جانا، سامنے کبڈ میں ایک اور بلینکٹ رکھا ہے، نیند کے آغوش میں جانے سے پہلے اسے بھی سونے کی آفر کی۔
تم واقعی بہت اچھی ہو ازلفہ، کاش میں پہلے تمہیں سمجھ لیتا، خیر اللہ نے ہر چیز کا ایک وقت مقرر کیا ہے اور وہ اسی وقت پر ہونی ہے۔ ورنہ میں تمہاری قدر کہاں سمجھ پاتا۔ اس کے پاس لیٹا وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اسے دیکھنے سے ایک سکون اس کے رگ و پے میں اتر رہا تھا۔ دو گھنٹے بعد کا الارم لگا کر وہ آنکھیں موند گیا، کمرے میں ہیٹر کی گرمی اس کے ٹھنڈے وجود کو آرام پہنچا رہی تھی۔
ایک نقطہ پر متفق ہوتے دو الگ الگ لوگ اس وقت گہری نیند میں سوتے ہوئے بھی مسکرا رہے تھے۔ اور انہیں دیکھتا ان کا رب بھی یقیناً مسکرا رہا ہوگا۔
___________
تیز الارم سے وہ دو گھنٹے بعد ہی جاگ گیا، جسم میں کھنچاؤ اور آنکھوں کی جلن بخار کے آثار ظاہر کر رہے تھے۔ پھر بھی ہمت کر کے وہ اٹھا، فریش ہو کر وہیں نماز پڑھی، ازلفہ کو دیکھا تو وہ گہری نیند میں تھی، نماز کے بعد وہ واپس آ کر لیٹ گیا، مگر تھکن اور نیند کے باوجود سونے میں ناکام رہا، وجہ شاید معدہ کا خالی ہونا تھا۔ وہ اٹھ کر باہر آیا، ارادہ کچھ کھانے کا تھا، ازلفہ اس سے کہہ کر سوئی تھی بھوک لگے تو فریج میں سے فروٹ نکال کھا لینا۔ اور اب وہ اسی ارادے سے کچن میں جا رہا تھا۔ مگر ہال میں ہی ٹھٹھک کر رکا، بڑے صوفے پر دو وجود غیر آرام دہ حالت میں لیٹے ہوئے تھے۔ غور کرنے پر پتا چلا ذیشان کے والدین ہیں۔ اس نے انہیں آواز دے کر جگانے کی کوشش کی، کوئی جنبش نہ ہوئی تو روم میں واپس آکر ذیشان کو فون کر کے روم سے باہر آنے کے لیے کہا۔
یہ دونوں بےہوش ہیں۔ ذیشان کے زور زور سے پکارنے پر بھی وہ لوگ نہیں اٹھے تو اسے تشویش ہوئی۔
قریب میں کوئی ڈاکٹر ہے؟ اس کے پوچھنے پر ذیشان نے قریب ہی ایک ڈاکٹر فیملی کی رہائش کا بتایا۔
جلدی بلا کر لاؤ، یہ لوگ ہوش میں نہیں آ رہے۔ اس کے کہنے پر وہ جس حالت میں اٹھ کر آیا تھا اسی میں باہر کی طرف بھاگا۔ پانچ منٹ بعد ہی ایک ڈاکٹر کو شاید زبردستی نیند سے اٹھا کر لایا تھا۔ گھبراہٹ میں ذیشان نے جان اور راحیل کو بھی جگا دیا تھا۔
انہیں ایڈمٹ کرنا پڑے گا، ہری اپ، میں ایمبولینس بلوا رہا ہوں۔ ڈاکٹر ان کی حالت دیکھ کر ایکٹیو ہو گیا تھا۔
کون سے ہاسپٹل لے کر جائیں گے، ان لوگوں کو یہاں کے ہاسپٹل وغیرہ کا اتنا علم نہیں تھا۔
یہ دلی ہے میرے بھائی، یہاں کمی نہیں بہترین ہاسپٹلز کی۔ ڈاکٹر کے بتانے پر انہوں نے محض سر ہلایا۔
جاری ہے
