Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode27

Hidayat by Ain Noon Alif Episode27

وہ دس منٹ سے اس کا انتظار کر رہا تھا، سوسائٹی بالکل سنسان تھی، کوئی ذی روح اس وقت باہر نہیں تھا، اسے رہ رہ کر ازلفہ پہ غصہ آ رہا تھا، آدھا گھنٹہ پہلے اس نے وقت دے کر اسے بلایا تھا اور اب اس کے پہنچنے کے دس منٹ بعد بھی نہ اس کا کوئی پتا تھا نہ فون رسیو کر رہی تھی۔ وہ گاڑی سے باہر نکلا، ارادہ شازیہ آپا کے گھر جا کر پتا کرنا تھا، مگر اسے ان کا روم نمبر ہی پتا نہیں تھا۔
وہ سر جھکائے فون میں بزی تھا جب کوئی اس کے سامنے آ کر رکا، کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے اس نے سر اٹھایا، مکمل عبایہ میں چھپی عورت کو اپنے بہت قریب رکے دیکھ کر وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا، اگر ایک انچ آگے بڑھتا تو اس عورت سے مکمل ٹچ ہوتا۔
کون ہیں آپ، اور یہ کیا طریقہ ہے کسی نامحرم مرد کے قریب کھڑے ہونے کا، وہ بھی مکمل حجاب میں، کیا آپ کو اس پاک لباس کا بھی۔۔۔ وہ بول ہی رہا تھا جب وہ عورت اس کے قریب آئی اور اس کے سینے سے لگ گئی، گرفت میں عجیب استحقاق تھا کہ ولید بھی بوکھلا گیا،
آئیم سوری فور ویٹنگ، آئیم سوری فور ایوری تھنگ، آئیم سوری۔ میں نے آپ کو بہت پریشان کیا۔ جانی پہچانی آواز پر ولید حسن نے اسے خود سے الگ کر کے سامنے کیا، وہ سب کچھ ایکسپیکٹ کر سکتا تھا مگر یہ روپ اور یہ انداز؟
ازلفہ، سرسراہٹ کی صورت آواز نکلی تھی۔ اس کی پکار پر ازلفہ نے چہرے سے اوپر کا پردہ ہٹایا تو اس کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں واضح ہوئی۔
یہ سب؟ ولید کو سمجھ میں نہیں آیا تھا کیا پوچھے؟ کیا بولے؟۔
میں نے اللہ کا یہ حکم بھی پورا کیا، اس نے اس حادثہ میں جو مجھے سمجھایا، مجھے مرنے سے پہلے اسے پورا کرنا تھا، بلکل ایسے ہی جیسے اللہ چاہتا ہے۔
ولید حسن کتنے پل اسے دیکھتا رہا، اور پھر بنا کچھ بولے وہ اسے خود میں بھینچ گیا تھا، اسے اس وقت نہ جگہ یاد رہی تھی، نہ ماحول، اسے یاد تھا بس اتنا اس کی بیوی کو اللہ نے آج اس دنیا کی غلیظ نظروں سے چھپا دیا ہے۔ وہ اس کے ایمان میں جو استقامت دیکھ رہا تھا وہ خود اس کی ہدایت کا ذریعہ بن رہی تھی۔ اور نہ جانے اور کتنے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بننے والی تھی۔ اس پل وہ اس سے ناراضگی، غصہ سب بھول چکا تھا، اسے لگ رہا تھا وہ عشق کی سرحد پر کھڑا ہے۔
اس کی آنکھوں میں نمی اور دل کے سکون کے ساتھ گرفت میں بھی تیزی آ رہی تھی۔ وہ یہ بھی بھول گیا تھا جس وجود کو اس نے جکڑا ہوا ہے اس کی یہ شدت اسے کس درد سے دوچار کر رہی ہے،
اس کے زور سے کراہنے پر ولید ہوش میں آیا، دھیان اس کے ہاتھ کی طرف گیا۔
آئیم سوری، اس کے بازوں پر ہلکے سے ہاتھ پھیرا تو گیلاپن محسوس کر کے اسے خود پر بےانتہا غصہ آیا۔ کیسے بھول گیا وہ اس کی حالت۔
ہاسپٹل چلو جلدی، اسے کچھ بھی موقع دیے بنا اسے لیے وہ ہاسپٹل کے لیے روانہ ہوا، گاڑی اسپیڈ سے بھگانے پر وہ دس منٹ میں اسی ہاسپٹل میں تھا جہاں ازلفہ کا علاج ہو رہا تھا۔ اس کے پیر کی طرح کہیں یہ زخم بھی نہ بگڑ جائے، وہ خوفزدہ تھا، دعا کرتا وہ اسے ڈاکٹر کے کیبن میں لایا۔
************************
اوہ مائے گاڈ، ایسے کیسے ٹریٹ کروں مسٹر ولید، کتنی کورڈ ہیں آج یہ؟ ڈاکٹر اسے دیکھ کر حیرت میں تھی،
ویٹ، ولید نے احتیاط سے اس کا عبایہ اتارا۔ اور اپنے طریقے سے اس کا زخمی ہاتھ ڈاکٹر کے سامنے کیا۔ اس دوران ازلفہ بلکل خاموش رہی تھی، شاید درد زیادہ تھا۔
آپ کو دھیان رکھنا چاہئے تھا مسز بخاری، آپ جانتی ہیں نا یہ کوئی معمولی زخم نہیں ہے، کم از کم پندرہ بیس دن آپ کو یہ ہاتھ موو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اور مسٹر ولید ان کا دھیان کیوں نہیں رکھا آپ نے؟ ہاتھ کا معائنہ کرتے ہوئے وہ ان دونوں کی اچھی خاصی کلاس لے رہی تھی۔
بائے دا وے، یہ ہوا کیسے؟ ڈاکٹر کی بات پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، کیا جواب دیتے اسے کہ کیوں ہوا۔
آہ!!!! جلن اور تکلیف سے اس کی چیخ نکل گئی تھی۔ ولید تیزی سے اس کے قریب ہوا تھا۔
ڈاکٹر پلیز، ایزی، ازلفہ کو دوسری طرف سے اپنے حصار میں لے کر ڈاکٹر کو آرام سے کام کرنے کا کہا۔
ٹارزن، اتنی زور سے تو تم گولی لگنے پر بھی نہیں چلائی تھیں جتنی زور سے اب۔ گولی کا ذکر کرتے اسے وہ منظر یاد آیا تھا جب اسے لگا تھا کہ اس کی روح نکلنے کے در پہ ہے۔ کتنی موت مرا تھا وہ اس ایک پل میں۔ اور جب ذیشان نے ہاتھ میں گولی لگنی کا بتایا تھا تو اسے اپنی سانسیں واپس آتی محسوس ہوئی تھیں۔ اور اب اس کی شدید پکڑ اسے کس درجہ درد سے دوچار کر گئی تھی۔
اٹس پیننگ ٹو مچ، مجھے گھر لے چلیں پلیز، پین سے وائبریشن ہو رہی ہے پوری باڈی میں۔ پلیز چلیں یہاں سے، مجھے نہیں کچھ نہیں کروانا۔ اس کی شرٹ کو مٹھی میں جکڑے، اس کے سینے میں منہ چھپائے وہ اپنے ہاتھ کے درد سے اکڑ رہی تھی۔ آنسو لڑیوں کی صورت بہہ کر ولید کی سینے میں جذب ہو رہے تھے۔
بس تھوڑی دیر اور، اب ڈاکٹر اچھے سے کریں گی، تم بس تھوڑی سی ہمت رکھو میری ٹارزن بیوی، اس کی کمر اور سر کو بیک وقت سہلاتے وہ اس کا دھیان درد کی طرف سے ہٹانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔ ڈاکٹر اسے بچوں کی طرح بہلاتے دیکھ کر اپنی مسکراہٹ روک رہی تھی۔ مگر پرواہ کسے تھی، وہ تو ڈاکٹر کی موجودگی کو بھولے پوری طرح ازلفہ میں گم تھا، اور شاید ٹھیک کر رہا تھا جبھی ڈاکٹر آرام سے اس کو ٹریٹ کر پا رہی تھی۔
کیا یہ پہننا ضروری ہے؟ پٹی کے بعد ازلفہ نے ولید کو عبایہ پہنانے کو کہا تو ڈاکٹر کو وہ غیرآرامدہ لگا۔ ولید نے ازلفہ کی طرف دیکھا، رونے اور تکلیف سے چہرہ بالکل سرخ ہو رہا تھا۔ اسے اپنے اندر اس کی تکلیف محسوس ہوئی تھی۔
مجھے اس سے کوئی پرابلم نہیں ہوگی ڈاکٹر، یہ درد میرے اللہ کے حکم کے آگے کچھ نہیں۔ وہ نہیں جانتی تھی یہ الفاظ کیسے نکلے، ولید حسن کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر نے بھی اسے دیکھا، ایک کی نظر میں حیرت تھی تو دوسرے کی نظر میں اس کے ایمان کی استقامت پر نمی، جو یقیناً خوشی کا باعث تھی۔
اوکے، بٹ آپ کو اس کے سوکھنے تک سلیوز وئیر اوائڈ کرنے ہوں گے۔ اپنے روم میں رہ سکتی ہیں آپ اس طرح، آئی ہوپ یہ آپ کے ہسبینڈ کروا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کی بات پر ولید نے محض سر ہلایا۔ بہت سی باتوں کو وہ سن کر اور سمجھ کر بھی ان سنی کر دیتا تھا۔ جیسا ابھی ڈاکٹر کے کہنے پر، حالانکہ وہ خود ایسا سوچ چکا تھا۔
**********************
سہارا دے کر وہ اسے اندر لا رہا تھا۔ آسیہ حسن کی نظر اس پر پڑی تو تیزی سے اس کی طرف آئیں، ازلفہ کو عبایہ میں دیکھ کر سب شاکڈ رہ گئے تھے، جاتے وقت وہ پہلے کہ طرح باہر گئی تھی مگر آتے ہوئے مکمل بدل کر آئی تھی۔ حیدر صاحب کی طرح ہر کوئی اسے فخریہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ولید سب کو اس کی کنڈیشن سمجھا کر روم میں لایا۔ زینب کو وہ کھانے کی ٹرے لانے کا کہہ کر آیا تھا۔
اس کی کنڈیشن دیکھتے ولید نے اس سے زیادہ بات کرنا مناسب نہ سمجھا، کھانے کے بعد زینب کو اس کے پاس چھوڑ کر وہ نماز کے لیے گیا، اس کی واپسی تک ازلفہ نماز پڑھ کر دوائیوں کے زیر اثر سو چکی تھی۔ اور کتنی دیر اسے دیکھتا رہا تھا۔ کئی بار وہ اس کی وجہ سے تکلیف اٹھا چکی تھی۔
آئیم ایکسٹریملی سوری جان، زندگی ہو تم میری، تمہیں تکلیف میں دیکھنا سوہان روح ہے۔ تم نے خود سے محبت پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے قریب لیٹا وہ اس کے کان میں سرگوشیاں کر رہا تھا، وہ ازلفہ کے چہرے پر پھیلتے سکون کے باعث خود بھی پرسکون ہو رہا تھا۔
__________
جب فون پر میں نے اس کی بیہودہ باتیں سنی تھیں تو میرا دل چاہا تھا اس کی زبان کاٹ دوں اور آنکھیں نکلا دوں جو تمہیں ایذا پہنچا رہی ہیں، اور جب تھپڑ کی گونج سنی تھی اس وقت میں اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔ اور جب وہاں اس کے باپ نے تمہیں تھپڑ مارے، اس وقت مجھے یقین ہو گیا تھا قدرت مجھے میری ہمت سے زیادہ آزما رہی ہے، اور جب گولی لگی تھی، تو موت کا خوف کیسا ہوتا ہے یہ جانا تھا، مجھے محسوس ہوا جیسے دل کی دھڑکن رک گئی ہے اور دماغ نے سوچنا سمجھنا بند کر دیا ہے، اور میں انتظار میں تھا کہ مٹی کا بت زمین پر گر کر گب چکنا چور ہوتا ہے۔
پھر جب ذیشان نے کہا گولی بازو میں لگی ہے، اور تمہاری زندگی کی نوید دی، تب میں نے محسوس کیا دل کی دھڑکن معمول پر آ رہی ہے، دماغ نے سوچنا سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ اور پھر مجھے پتا چلا، مجھے یعنی ولید حسن کو اپنی بیوی سے شدید محبت ہو گئی ہے، اتنی کہ وہ اس کی تکلیف اپنے سینے میں محسوس کرتا ہے۔ اور بس پھر وہ خود پر سے ہر اختیار کھو دیتا ہے۔
اور پھر مجھے تم پر بے تحاشہ غصہ آیا، تم نے ایسا کیا کیوں؟ میری نظر میں گناہگار ہوئی تھیں تم، پہلے میری بات نہ مان کر، پھر مجھے اس کمینے کے بارے میں نہ بتا کر، پھر میرے حصے کی گولی خود پہ لے کر، کیوں کیا تھا تم نے ایسا؟ اگر گولی کہیں اور لگ جاتی تو.؟ فجر کی نماز کے بعد تمام تر احتیاط سے اسے اپنے سینے سے لگائے وہ اپنی کیفیات بیان کر رہا تھا، ہاتھ مسلسل ازلفہ کے بالوں میں حرکت کر رہے تھے۔ مگر آخری بات پر اس کی آواز بھرا گئی تھی،
ازلفہ نے سر کو سیدھا کر کے ٹھوڑی کو اس کے سینے پر رکھا اور اس کے چہرے کی طرف دیکھا، اس دن کی اذیت ولید کے چہرے پر آج بھی موجود تھی۔ ہاتھ بڑھا کر اس کی آنکھوں میں رکی نمی اپنے پور پر لی اور اپنے ماتھے پر مسل دی۔ گویا اس کا مقام بتایا۔
میں آپ سے کچھ بھی نہیں چھپانا چاہتی تھی، مجھے نہیں پتا میں کیوں نہیں بتا پائی۔ جب وہ گھر آیا اس سے پہلے شاہینہ کی کال کے بعد میں نے آپ کو سب بتانے کے لیے کال کی، مگر سب گڑبڑ ہو گئی۔
اور جب وہ زبردستی مجھے اپنے ساتھ لے کر گیا تو میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی، اس کے چھونے سے مجھے خود سے گھن محسوس ہو رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے سانپ بچھو میرے جسم کے گرد لپٹ رہے ہوں۔
میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اگر نیکی کا یہ بدلہ ملتا ہے تو میں پھر کبھی کسی کی ہیلپ نہیں کروں گی۔ اس سے پہلے میں اللہ سے اینگری ہوتی، مجھے حیات نوفل خان کی باتیں یاد آئیں، تب میرا ڈر کم ہوا میں نے اللہ سے ہیلپ مانگی، اور اللہ نے ہمیشہ کی طرح آپ کو بھیجا، اور آپ کی گاڑی دیکھ کر میرا ڈر مکمل ختم ہو چکا تھا۔
اچھا جو وہاں ان لوگوں کے چودہ طبق روشن کیے تھے وہ بھی ٹارزن بن کے، ولید نے ابھی تک اس کے طرز تخاطب پر غور نہیں کیا تھا، وہ اس کی تکلیف پوری جزئیات سے محسوس کر رہا تھا جو ان پلوں میں ازلفہ نے محسوس کی تھی۔
آپ کے بل بوتے پر، مجھے معلوم تھا آپ پیچھے آ رہے ہیں۔ اس کے احساس سے اس کی آنکھیں روشن ہو رہی تھیں۔
بھول جاؤ سب، اللہ نے اس امتحان میں جو کامیابی دی ہے، ہماری سوچ سے بھی پرے ہے۔ اس کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کی، پھر دھیان اس کے عبایہ کی طرف گیا۔ اچانک سے اتنا بدلاؤ؟
اور یہ عبایہ؟ اسے نرمی سے اور اوپر کیا، جس سے اس کا چہرہ اس کے مزید قریب ہوا۔
شاہینہ نے مجھ سے کہا تھا “کاش میں آپ کا چہرہ چھپا دیتی” اور پھر بار بار آپکا کہنا “بنا حجاب باہر نہیں جاؤگی”، یہ الفاظ میرے کانوں میں مسلسل گونج رہے تھے۔ اس وقت مجھے سمجھ آیا تھا کہ مرد عورت کے چہرے پر ہی فدا ہوتا ہے باقی وجود بعد میں آتا ہے۔ اور اس دن سے میں ڈریم میں خود کو اس عبایہ میں دیکھ رہی تھی جسے میں کبڈ میں رکھ کر بھول چکی تھی۔ اس لیے بنا دیر کیے میں کل اس کا مطلب شازیہ آپا سے پوچھنے گئی تھی۔ اور جب جانا پردہ کیا ہے، آپ کو پتا ہے میرا دل کر رہا تھا میں اتنا روؤں اتنا روؤں کی تمام گلٹ آنسوؤں میں بہہ جائے۔ مگر میں نہیں رو سکتی کسی کے سامنے۔
ہم لوگ بنا کسی تکلف کے سارے دوست ایک دوسرے کے گلے لگتے تھے، اور ڈریسنگ تو، اور وہ جو ریحان نے کیا تھا سب، مجھے لگا میں گندگی میں تھی، میرا پورا جسم جیسے کیچڑ میں لت پت تھا، مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا میں کیا کروں، کل کی تکلیف آج اس کے آنسوؤں اور سسکیوں میں نکل رہی تھی۔ ولید نے اسے رونے دیا تھا۔
تم کسی گندگی میں نہیں تھی ازلفہ، تمہیں کیا معلوم کہ اللہ کو تم سے کیسی محبت ہے، تم میں ایسا کیا ہے جو اس نے تمہیں کیا سے کیا بنا دیا۔ اللہ کے یہاں تم اس پہچان سے جاؤگی جس پر تمہیں استقامت ہوگی۔ جھک کر اس کے آنسو صاف کیے تھے۔
اچھا یہ بتاؤ میری ازلفہ کہاں ہے؟ اسے اس تکلیف میں وہ مزید نہیں دیکھ سکتا تھا اس لیے اس کا دھیان بٹانے کو دوسرا ٹاپک شروع کیا۔
کیا مطلب کہاں ہے؟ میں ازلفہ نہیں ہوں کیا؟ رونا بھول کر وہ اس کے سوال میں الجھی۔
اونہہ، یہ میری ازلفہ نہیں ہے، وہ مجھ سے آپ آپ کر کے نہیں تم تم کر کے بولے تو تو تڑانگ سے باتیں کرتی ہے۔ اور وہی میری ازلفہ ہے، یہ تو پرائی پرائی لگ رہی ہے۔ اور یہ آپ والا حادثہ کب ہوا؟ اس کی بات پر ازلفہ نے جھینپ کر ایک ہلکا سا مکا اس کے سینے پر مارا۔ پھر ایکدم سے منہ پر ہاتھ رکھا۔ اس کی اس حرکت پر ولید نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔
آپ شوہر ہیں نا، تو آپ کو عزت سے بلانا چاہئے نا، اس لیے۔ اس نے اتنی معصومیت سے کہا کہ اس کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ آ گئی۔
تو کیا پہلے عزت سے نہیں بلاتی تھی تم؟
نہیں، وہ عزت والا بلانا نہیں تھا، شازیہ آپا نے کہا تھا شوہر سے عزت سے بات کرنی چاہئے ان کا مقام اونچا ہوتا ہے نا، اور میں بڑے لوگوں کو آپ سے بات کرتی ہوں، جبکہ آپ ان سب سے بڑے ہیں رتبے میں، پھر بھی آپ کو تم تم کرتی رہتی تھی۔ امی اور مامی بھی تو آپ بولتی ہیں ابو اور مامو کو، آپ نے مجھے ٹوکا کیوں نہیں؟ خفگی سے ولید کی طرف دیکھا جو بہت گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کیونکہ مجھے تمہارا وہی انداز اچھا لگنے لگا تھا۔ اس میں تم ٹارزن لگتی تھیں اور اس میں بھیگی بلی۔ اس کے شرارت سے کہنے پر ازلفہ نے اسے خفگی سے گھورا۔
مگر میں اب آپ کا نام نہیں لوں گی، اور نہ تم بلاؤں گی، ورنہ پھر اللہ کو بدتمیز لگوں گی۔ اس کی باتیں ولید کو بے اختیار کر رہی تھیں۔
اچھا، میں کہوں تم بولنے کے لیے تب بھی نہیں؟
نہیں، کیونکہ اگر میں کسی کے سامنے تم بولوں گی تو سب کہیں گے ولید کی بیوی ولید سے ایسے بات کرتی ہے جیسے وہ شوہر نہیں بچہ ہو۔ اور آپ کی وہ خالہ اور مامی آئی تھیں نا انہوں نے تو بولا بھی تھا ایسا۔ پھر آپ کی ہی انسلٹ ہوگی۔ اور مجھے آپ کی انسلٹ نہیں کروانی۔
اونہہ! لوگوں کو چھوڑو، جو مجھے اچھا لگتا ہے تمہارے لیے بس وہ ضروری ہے اور جو تمہیں اچھا لگتا ہے میرے لیے وہ ضروری ہے دنیا ہم دونوں کی خوشی اور ضرورت سے بہت پیچھے ہے، اگر دینا کو دیکھنا شروع کردوگی تو اپنی شخصیت کو کھو دوگی، مگر دنیا پھر بھی تم سے راضی نہیں ہوگی۔
بٹ دنیا کو بھی موقع نہیں دینا چاہئے نا،
دنیا کو مواقع دیے نہیں جاتے میری جان، دنیا مواقع تلاش کرتی ہے، وہ تمہاری اچھائی کو بھی برائی میں بدل دینے کے ہنر سے ازبر ہے۔
آپ بہت سمجھدار ہیں، میں اتنی سمجھدار کیوں نہیں ہوں۔
تم مجھ سے بھی زیادہ سمجھدار ہو، اس کی ناک دبا کر بچوں کی طرح بہلایا۔
اور ایک بار تم بولو ذرا پھر سے۔ اس کی فرمائش پر اس نے منہ بنایا۔
نہیں، میں اب تم نہیں بولوں گی، آپ ہی بولوں گی۔
میرے کہنے پر بھی نہیں؟
مت کریں نا، اتنی مشکل سے تو آپ بولنے کی پریکٹس کی ہے۔ پتا ہے کتنی شائے فیلنگ آ رہی تھی۔ اس کے منمنانے پر ولید نے بمشکل اپنی ہنسی روکی، وہ اس کا دھیان مکمل بٹا چکا تھا۔ کچھ دیر پہلے کی تکلیف کا شائبہ تک اس کے چہرے پر نہ تھا۔ اسے سکون میں دیکھ کر ولید کے اندر سکون سرایت کرنے لگا تھا۔
اوکے نہیں بولتا، بٹ یہ بتاؤ مجھ سے محبت ہے؟ اپنی محبت کا اظہار تو وہ کر چکا تھا، اب اس کی دلی کیفیت اس کی زبانی جاننا چاہتا تھا حالانکہ اس کے لفظ لفظ میں اس کے لیے محبت تھی، مگر پاگل دل اظہار چاہتا تھا۔
اونہہ، نہیں بتاؤں گی ابھی۔ آپ کو ویٹ کرنا پڑے گا۔ اس کے انکار پر اس نے منہ بنایا، اور اب ازلفہ اس پر ہنس رہی تھی۔
“یقیناً مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے”۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *