Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode19

Hidayat by Ain Noon Alif Episode19

چھوڑو اس بات کو، یہ بتاؤ تم اپنی شاپ ہمیں کیوں دے رہی ہو دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟
ہاں بالکل ٹھیک ہے، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، اور تم لوگوں کو بھی باہر جاب کرنے کی ضرورت نہیں، اپنا بزنس کرو۔
ایسا مت کرو بیٹا، کیا ابھی تک معاف نہیں کیا تم نے، ہم نے لالچ سے توبہ کر لی ہے۔
نہیں آنٹی یہ میرے کسی کام کا نہیں ہے، اور یہ بھائی ہیں میرے، یہ سب ان لوگوں کے لیے اللہ نے مجھے دیا اب میں انہیں دے رہی ہوں۔ اور آپ مام جیسی ہیں کوئی شکایت نہیں الحمدلله۔
اور میں ذرا زوبیہ سے مل لوں۔
ٹھیک ہے میں کھانا لگوا رہی ہوں اسے بھی لے آنا، تھوڑی طبیعت بہل جائےگی۔
اوکے۔
****************
زوبی ڈئیر، تم شائے فیل کر رہی ہو، سیریسلی، اس کے چہرے سے کشن ہٹا کر اس نے شرارت سے اس کی طرف دیکھا۔
کیا ہے تم بھی، وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
میں خالہ بننے والی ہوں، میں بہت خوش ہوں زوبی، بہت زیادہ، ایسا لگتا ہے ساری کمی دور ہو رہی ہے۔ سب کچھ کتنا اچھا ہو رہا ہے۔ ہے نا، وہ کبھی کبھی ہی اپنی کیفیت بیان کرتی تھی۔
بٹ اس میں تم کیوں اتنا شائے فیل کر رہی ہو؟ اس کے سوال پر زوبیہ نے اسے گھور کر دیکھا۔
جب اس سچویشن سے تم گزروگی تب پوچھوں گی۔ کشن اس کے سر پر مارا۔
او او۔
ولید بھائی اب اچھے ہیں نا؟
اونہہ، وہ اچھا نہیں ہے، بلکہ بہت زیادہ اچھا ہے۔
تو تم کب دے رہی ہو گڈ نیوز پھر؟ نینی اور مجھے بھی خالہ اور مامی بننا ہے۔
فی الحال تم ہی بناؤ۔ اپنے بارے میں ایسی بات اسے عجیب لگ رہی تھی۔
نینی دیکھو یہ بلش کر رہی ہے، بےبی کے ذکر پر، زوبیہ نے نینی کو بلا کر اسے بھی اس کے چہرے کا رنگ دکھایا۔
او گاڈ، ازلفہ یو آر بلشنگ۔۔ دونوں مل کر اب اسے پریشان کرنے لگیں۔ شمائلہ کے بلانے پر وہ دونوں زبردستی زوبیہ کو بھی کھانے کی ٹیبل پر لائیں۔ اور ان لوگوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گزار کر وہ واپس اپنے گھر جا رہی تھی۔ بہت ساری خوشی لے کر جسے وہ ولید سے شئیر کرنے کے لیے بیتاب تھی۔
___________
گھر جانے کے بجائے وہ مارکیٹ آ گئی تھی، اس کا ارادہ ولید کے لیے کرتا سوٹ لینے کا تھا۔ وہ اس کے لئے ہر ہفتے نئے ڈیزائن کا سوٹ لاتا تھا اس کا دل کر رہا تھا وہ اسے بھی کرتے پاجامہ میں دیکھے۔
وہ ولید اور تینوں لڑکیوں کے لیے کچھ سامان خرید کر ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف بڑھ رہی تھی جب کوئی وجود بھاگتا ہوا اس سے ٹکرایا تھا، دونوں گرتے گرتے بچے تھے۔ ازلفہ نے سیدھے کھڑے ہو کر ٹکرانے والے کو دیکھا۔ بلیک جھلمل گاؤن میں ملبوس ایک لڑکی گرا ہوا سامان اٹھا رہی تھی، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے،بکس دیکھ کر اندازہ لگایا وہ شاید کالج گرل تھی۔
سوری،
کون ہو تم، اور کیوں بھاگ رہی ہو؟
میرے پیچھے کچھ لڑکے پڑے ہیں۔
کیوں؟
کالج اشو۔ اس نے اپنا گاؤن اٹھا کر پھر سے بھاگنے کے لیے قدم بڑھائے۔
اس طرح تو وہ تمہیں بہت جلدی پکڑ لیں گے، ہیلپ کیوں نہیں لے رہی ہو کسی سے؟ اپنی فیملی کو فون کرو۔
نہیں وہ لوگ مجھے ہی غلط سمجھیں گے، کیونکہ یہ میرے کالج کے ہی لڑکے ہیں۔ جو مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ مجھے خود ہی چھپنا ہوگا۔
کچھ بھاگتے قدموں کی چاپ پر اس لڑکی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر سے بھاگنے لگی۔
رکو۔ کیوں بھاگ رہی ہو، یہ دو منٹ میں پکڑ لیں گے تمہیں، اگر تم غلط نہیں ہو تو ان شاء الله کچھ نہیں ہوگا، یہ پبلک روڈ ہے ہمت کرو ان بوائز کو سبق سکھانے کی۔ اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔ اور ایک نظر ان تین لڑکوں پر ڈالی جو اسی کی طرف بھاگ کر آ رہے تھے۔
یہ لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے بتانے پر اس نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔ اور پھر سامنے دیکھا جہاں وہ تینوں لڑکے ان کے بالکل قریب آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔
شاہینہ چپ چاپ آؤ، یہ کیا پاگلپن ہے؟ ازلفہ کو ایک نظر دیکھ کر بیچ والے لڑکے نے اس کے پیچھے چھپتی لڑکی کو غصہ سے بولا۔
کون ہو تم لوگ اور اس لڑکی کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ کیوں اسے ہراس کر رہے ہو؟
اے چپ، اسے ہمارے حوالے کر سمجھی ورنہ اس کے ساتھ تو مفت میں لٹ جائے گی؟
ہاؤ چیپ، نہیں جائے گی یہ تم لوگوں کے ساتھ۔ اس نے شاہینہ کا ہاتھ پکڑ کر دوسری طرف چلنے کے ٹرن لیا۔ وہ تینوں پھر ان کو سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔
تو روکےگی، بیوی ہے یہ میری۔ بیچ میں کھڑا لڑکا پھر غرایا۔
نہیں جھوٹ بول رہا ہے یہ۔ میں نے کل اسے یونی میں تھپڑ مارا تھا اسی کا بدلہ لینے کے لئے کڈنیپ کرنا چاہتا ہے۔
سنیل، اسے بھی پکڑ یار، ایک کے بجائے دو کے مزے، ویسے بھی یہ زیادہ قیامت لگ رہی ہے، چہرہ اتنا اٹریکٹیو ہے تو پھر۔۔۔ اس نے ایک جانچتی نظر اس کے سر سے لے کر پیروں تک ڈالی، جو ازلفہ کے تن بدن میں آگ لگا گئی۔
اس لڑکے کے آرڈر پر ایک لڑکا آگے بڑھا ہی تھا جب اس نے کھینچ کر ایک تھپڑ اسے مارا، اور پھر دوسرا، تیسرا، بنا رکے اس نے چار پانچ تھپڑ اسے لگائے۔
تیری تو، بیچ والا لڑکا ہوش میں آتے ہی اس پر جھپٹا، تیسرا والا تھپڑ کھانے والے کو سنبھال رہا تھا، پھر وہ بھی اس اس طرف بڑھا۔ ازلفہ کے ایکشن سے اس لڑکی میں بھی تھوڑی ہمت آئی تو اس نے ازلفہ کو اپنی طرف کھینچا ورنہ اس کا تیزی سے اٹھتا ہاتھ اس کے چہرے پر چھپ جاتا۔ اکا دکا لوگ تماشہ دیکھنے کے لیے رک گئے تھے، یہاں کے لوگوں کے لیے شاید یہ معمولی بات تھی جبھی کوئی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا، ازلفہ ان لوگوں کی بےحسی پر کڑھ کر رہ گئی۔
تم لوگ بلائنڈ ہو، یا مرد نہیں ہو، جو گرلز کی ایسے نامردوں سے بچانے میں ہیلپ نہیں کر سکتے؟ کل تم لوگوں کی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا ہوگا تو انہیں بھی لوگ تم لوگوں کی طرح تماشہ کی طرح دیکھیں گے۔ آس پاس جمع ہونے والے پانچ چھ لوگوں کو غیرت مندی کے تیر مارے۔ جو واقعی نشانے پر لگے۔
چھوڑوں گا نہیں سالی تجھے، ان آدمیوں کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر اس نے ازلفہ کو وارن کیا اور بھاگنے کے پر تولے، کیونکہ آدمیوں کی تعداد بڑھنے لگی تھی۔
آج کا لیسن تمہیں بہت کچھ سمجھائےگا، پھر تم ایسی حرکت کرنا تو دور سوچوگے بھی نہیں، تم جیسے لوزر بوائز ہی ہوتے ہیں جو دوسری گرلز کو ہراس کر کے اپنی بہن بیٹیوں کی عزت داؤں پر لگاتے ہیں۔ آپ لوگ دیکھ کیا رہے ہیں، آج یہ اس لڑکی کو ہراس کر رہا تھا کل اس کی جگہ آپ ہی کے گھر کی لڑکی ہو سکتی ہے، کیا یہ لڑکی آپ کی بیٹی کی طرح نہیں؟، اتنا سننا تھا لوگ ان تینوں پر گدھ کی طرح پل پڑے۔ ازلفہ نے ایک نظر ان تینوں کو لوگوں کی قدموں کی دھول بنتے دیکھا پھر اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا بیگ سے فون نکال کر کسی کو کول کر کے وہاں بلایا اور بس اسٹینڈ کی طرف بڑھ گئی۔
******************
اب بتاؤ، کون ہو تم اور یہ کیا میٹر ہے؟ وہ اس لڑکی کو لے کر اب اطمنان سے بس اسٹینڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔
آپ نے کسے فون کیا ہے؟ کیا پولیس کو؟ اس لڑکی نے اس کا سوال اگنور کر کے اس کے کسی کو فون کر کے جلدی بلانے پر سوال کیا۔
نہیں! میرے ہسبینڈ کو کیا، اب جب تک تمہاری فیملی سے تمہیں لینے کوئی نہیں آ جاتا میں نہیں جا سکتی۔ اور اب بات کو اگنور مت کرو میٹر بتاؤ۔
میرا نام شاہینہ ہے، جامعہ یونی کی ٹی وائے بی ایس سی کی اسٹوڈنٹ ہوں، یہ لڑکے پورے ایٹ منتھس سے میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، وہ جو زیادہ بول رہا تھا جاوید اس نے کل میرا ہاتھ پکڑا اور سب کے سامنے پروپوز کیا، بس میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ تو آج اسی کا بدلہ لینے کے لیے یہ موقع کی تاک میں تھا، اسے میرا کلاسز ٹائم سب پتا ہے اس لیے میرے کلاسز سے نکلتے ہی یہ لوگ میرے پیچھے لگ گئے۔
یہ لڑکا مسلم تھا؟ ایک مسلم کا اتنا رکیک کیریکٹر اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔
ہاں، اور یہ اس کے چیلے نان مسلم۔ مگر جتنے افئیرز اس لڑکے کے ہیں اتنے ان دونوں کے نہیں ہیں۔
تمہارے پیچھے یہ لوگ ایٹ منتھس سے ہیں تم نے اپنی فیملی کو کیوں نہیں انوالو کیا؟
فیملی اسٹرکٹ ہے، میری اسٹڈی ان کمپلیٹ رہ جاتی، وہ لوگ کالج بند کروا دیتے۔
تمہارے پیچھے ان لوگوں کے آنے کا ریزن؟ اب اس نے اسے غور سے دیکھنا شروع کیا۔ وہ جس سوٹ میں تھی وہ بالکل اس کے جسم کے ناپ کا ہی سلا ہوا تھا، اس کے تمام خد و خال اس میں مکمل عیاں ہو رہے تھے۔ چھوٹا سا اسکارف جو سر اور گردن تک ہی لپٹا ہوا تھا، کیا یہ حلیہ کالج یا کلاسز کے لیے قابلِ قبول تھا؟
وہ کہتا ہے میں اسے بہت اچھی لگتی ہوں، اس آؤٹ فٹ میں۔
تو تم کالج اس طرح فنکشن وئیر پہن کے کیوں جاتی ہو؟ تم سمپل ڈریسنگ میں جاتی تو مے بی وہ اتنا تم سے اٹریکٹ نہیں ہوتا۔
یہ فنکشن وئیر لگ رہا ہے آپ کو؟ یہ حجاب ہے مطلب کہ برقعہ، وہ اس کے برقعہ کو گاؤن سمجھنے پر حیران تھی تو ازلفہ اس گاؤن کو برقعہ کا سن کر حیران ہوئی تھی۔
یہ برقعہ ہے؟ اس کے ذہن کے پردے پر حیات نوفل خان کا عبایا لہرایا تھا اور پھر وہ جو اس کے کبڈ میں ابھی تک پیک رکھا ہوا تھا، پھر اپنے گھر کی عورتوں کا ایک دم پلین ڈھیلا ڈھالا اور سینے سے نیچے تک آتے اسکارف۔
ازلفہ! وہ اسی کشمکش میں الجھی ہوئی تھی جب اپنے نام کی پکار پر سامنے دیکھا جہاں ولید اپنی پوری شان سے کھڑا فکرمندی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
تم ٹھیک ہو؟ اور یہاں کیوں آئیں؟ اس کے قریب جا کر اسے غور سے دیکھا۔
اوہ، اللہ کا شکر ہے ولید تم آ گئے، تھوڑا سا ڈر لگ رہا تھا، اور تمہیں پتا ہے کچھ بوائز اس کو ہراس کر رہے تھے۔ اس کی مدر اور بردر بس آنے والے ہیں پھر ہم بھی چلتے ہیں، وہ اٹھ کر ولید کے سامنے آئی تھی جو اس کی بات ہر بالکل خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ اس نے فون پر اسے کچھ نہیں بتایا تھا۔ شاہینہ کی نظریں بھی اس شاندار مرد پر جمی ہوئی تھیں۔ مگر ولید نے اس پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی۔ تبھی ایک اور گاڑی وہاں آ کر رکی۔ اور اس میں سے نکلنے والے دو نفوس یقیناً اس کی ماں اور بھائی ہی تھے۔ اس کی ماں کے نقاب کا حال بھی بیٹی جیسا ہی تھا، ازلفہ یہ چیز بہت گہرائی سے نوٹ کر رہی تھی، اس کی دماغ میں دوڑتے بھاگتے سوال اس کی زبان پر آنے کو بےتاب تھے مگر اجنبیت آڑے آ رہی تھی۔
تھینکیو بیٹا تم نے میری بیٹی کی ہیلپ کی۔ شاہینہ کی ماں نے ایک نظر اپنی بیٹی کو دیکھا عجیب سرد مہری تھی، اور پھر مسکراکر اس کا شکریہ ادا کیا۔
بہت بریو ہیں آپ، اچھا لگا آپ سے مل کر، میں شاہینہ کا بھائی ہوں، شاہینہ کے بھائی نے اس سے ہینڈ شیک کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، ان لوگوں کا رویہ اس کی سمجھ سے بالا تر تھا مگر ولید حسن کی زیرک نگاہیں ان کی حقیقت کو ایک پل میں ہی جانچ گئی تھیں۔
شاہینہ کہہ رہی تھی اس کے گھر کا ماحول اسٹرکٹ ہے۔ تو یہ اسٹرکٹ نیس اونلی گرلز کے لیے ہی ہے کیا؟ جس طرح ابھی آپ شاہینہ کو دیکھ رہی تھیں، بٹ آپ نے اپنے بیٹے کو کچھ نہیں کہا، وائے؟ اور سیکنڈ تھنگ آپ نقاب میں، شاہینہ بھی نقاب میں بٹ لگ کیوں نہیں رہا ہے یہ نقاب ہے؟ انفیکٹ میں اسے فنکشن وئیر سمجھ رہی تھی۔ اور نقاب کے باوجود وہ بوائز اس کو ہراس کر رہے تھے۔ اس کا انداز الجھا ہوا تھا جیسے وہ سب سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
ولید نے ایک نظر دونوں ماں بیٹے پر ڈالی، بنا اثر کے وہ لڑکا دلچسپ نگاہوں سے ازلفہ کو دیکھ رہا تھا۔
ایسا کیوں ولید؟ اچانک اس نے ولید سے ہی سوال کر لیا۔ اس کے سوال پر اس نے ازلفہ کی طرف دیکھا، وہ ابھی پڑھنا لکھنا سیکھ رہی تھی، ان مسائل کا ابھی اسے کوئی خاص علم نہیں تھا اسلیے اس کے کہنے پر بھی اس نے نقاب نہیں لیا تھا۔ اور اب جس طرح کے برقعہ کی سچویشن اس کے سامنے آئی تھی وہ اسے الجھا رہی تھی۔ حیات اور اس لڑکی کے اور اپنے گھر کی لڑکیوں کے وہ آج نقاب میں ہی الجھ گئی تھی، اس سے پہلے اس نے اس چیز پر غور نہیں کیا تھا۔
یہ برقعہ نہیں ہے ازلفہ، یہ فنکشن وئیر ہی ہے، اور تم زیادہ دھیان مت دو، ماں، بہن، بیٹیوں اور بیویوں کی عزت باپ، بیٹا، بھائی، اور شوہر کے اعمال سے ہوتی ہے۔ ان کے کردار سے ہوتی ہے۔ اب چلیں۔ اپنے حصار میں لے کر اس کے سر سے اسکارف کو تھوڑا آگے کیا، دیکھنے والوں کو اس کا چہرہ اب صاف نظر نہیں آنا تھا۔ اسے افسوس ہوا اس نے یہ پہلے کیوں نہیں کیا۔
مگر مجھے کچھ پوچھنا ہے۔
اونہہ، دیر ہو گئی ہے اور اذان بھی ہونے والی ہے۔ اس کو شولڈر سے حصار میں لے کر وہ اپنی کار کی طرف پلٹا۔
ایک منٹ ازلفہ، شاہینہ کی آواز پر دونوں ایک ساتھ پلٹے۔
کیا ہوا؟
تھینکس! اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر شاہینہ نے عقیدت سے اس کا شکریہ ادا کیا۔
نو، اٹس نو نیڈ، اللہ ہیلپ کرنے والوں کو لائیک کرتا ہے۔ اس نے مسکرا اسے دیکھا
میں اس کے لیے تھینکس نہیں کہہ رہی ہوں۔
تو پھر؟ اس نے ولید کی طرف دیکھ کر پھر شاہینہ کی طرف دیکھا۔
تم نے جو مجھے آج لیسن دیا اس کے لیے۔ تم نے سہی کہا میرے اس حجاب سے تمہارا یہ سوٹ اور تمہارا کورنگ اسکارف زیادہ میننگ فل ہے۔ مجھے کبھی کسی نے بتایا ہی نہیں میں حجاب نہیں بلکہ اس کی شکل میں ایک خوبصورت منظر بنانے والا لباس پہن رہی ہوں۔ جس میں میں بالکل بھی محفوظ نہیں ہوں۔ اور واقعی یہ برقعہ ہے ہی نہیں۔
اور آپ نے بالکل سہی کہا، عورتوں کی عزت ان کے گھر کے مردوں کے کردار کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تھینکس اگین یو بوتھ۔ ولید کو دیکھ کر اس کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے بنا دیکھے محض سر ہلا کر گویا اس کی بات سمجھنے کی نشاندہی کی۔
آج کے حادثہ نے بہت کچھ سمجھا دیا مجھے، میں آپ کو نہیں بھولوں گی، اللہ مجھے بھی آپ جیسا بنائے، اور۔۔۔ آگے کا جملہ اس نے ہلکی سی ایک نظر ولید پر ڈال کر ادھورا چھوڑ دیا۔
اینی وے۔ اپنا خیال رکھیےگا، اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے، اس کی جذباتیت پر ولید نے اس کی ماں اور بھائی کی طرف دیکھا جو عجیب کیفیت میں گھرے شاہینہ کو دیکھ رہے تھے جیسے انہیں یقین نہ ہو کہ یہ سب یہ لڑکی بول رہی ہے۔ اور اس کا بھائی اب سر جھکائے کھڑا تھا۔ اس نے ازلفہ کو اشارہ کیا اور ایسے ہی اپنے حصار میں لیے ان لوگوں کی خود پر جمی نظروں کو نظرانداز کر کے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
******************
اتنی کنفیوژ کیوں ہو؟ اس نے ازلفہ کو دیکھا جس کے چہرے پر الجھن بہت واضح تھی۔
شاہینہ نے جو کہا، تمہیں سمجھ میں آیا؟ وہ کیا بول رہی تھی۔ میں نے کیا لیسن دیا اس کو؟ ایوری تھنگ وینٹ تھرو فرام مائے ہیڈ۔
پہلے تم بتاؤ، جب میں نے کہا تھا اکیلے اور بنا نقاب کے گھر سے نہیں نکلنا تو کیوں نکلیں؟
نقاب ورسٹ ڈریسنگ کو ہائڈ کرنے لیے وئیر کرتے ہیں تو میں نے ویسی ڈریسنگ نہیں کی اس لیے نقاب نہیں پہنا۔
واٹ؟! کس نے کہا تم سے یہ؟
زرین نے۔ وہ آج بنا باتھنگ نائٹ وئیر میں کالج گئی تھی تو میں نے پوچھا تھا اس سے، وہ بولی نقاب کا یہی تو فائدہ ہے کچھ بھی پہن کے چلے جاؤ۔ اس کی بے تکی سمجھ پر ولید کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔ اور زرین کو بھی کیا ضرورت تھی اس کی سمجھ سے بالا تر انداز میں بات کرنے کی۔
اور تم کیا کہہ رہی تھیں، کچھ بوائز اس لڑکی کو ہراس کر رہے تھے۔
یس، میں نے ان میں ایک لڑکے کو اچھے سلیپ مارے، اس کے خوش ہو کر بتانے پر ولید لا پاؤں ایکدم بریک پر پڑا، جھٹکے سے گاڑی رکنے پر اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔
واٹ؟! تمہیں کچھ کیا ان لوگوں نے؟ وہ شاکڈ ہوا تھا اس کے کارنامے پر۔
نہیں، شاہینہ نے اپنی طرف کھینچ لیا تھا ورنہ وہ ایڈیٹ بوائے بھی مجھے سلیپ کرتا، اور مجھے کڈنیپ کرنے کہ بات کر رہا تھا۔ کہہ رہا تھا میرا فیس اتنا بیوٹی فل ہے تو۔۔۔ آگے نہیں بولا۔ اس کے بتانے پر ولید غصہ کی شدت کم کرنے لیے اپنے لب بھینچ گیا۔ پھر گاڑی سے باہر نکل کر اسے بھی باہر نکالا اور گاڑی سے لگا کر کچھ دیر غصے سے دیکھتا رہا، پھر گاڑی کے بونٹ پر اتنی زور سے مکا مارا کہ پوری گاڑی ہل کر رہ گئی۔ اور ساتھ ازلفہ کی چیخ۔
کیا ہوا؟ اس کا غصہ اسے سمجھ نہیں آیا تھا ہلکا سا خوف بھی تھا۔ اس کے سوال پر ولید اس کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر قریب ہوا۔
منع کیا تھا نا اکیلے باہر نہیں نکلنا، یہ دلی ہے یہاں باہر نکلی ہوئی تنہا عورتیں بالکل بھی سیف نہیں ہوتیں۔ کیوں نہیں سمجھتی تم میری بات۔ اگر کچھ غلط ہو جاتا تو، کیا تمہیں نہیں پتا ہمارے گھر کی کوئی بھی عورت اکیلی باہر نہیں نکلتی، مانتا ہوں لڑکیوں کا بہادر ہونا اللہ کی نعمت ہے اور اس معاملے میں مجھے فخر ہے تم پر۔ مگر تنہا عورت اس بہادری سے زیادہ دیر باہر نکل کر خود کو پروٹیکٹ نہیں کر سکتی، یار کیوں نہیں سمجھتی تم۔ آکری جملہ بے بسی سے بول کر اس کے اس کی پیشانی سے اپنا سر ٹکا دیا تھا۔
اس کی بات سے معاملے کی سنگینی ازلفہ کو سمجھ میں آئی تھی۔ اسے یاد آیا تھا جب جب وہ سب ذیشان، راحیل یا جان کے ساتھ ہوتی تھیں تو کوئی بھی ان پر کمنٹ نہیں کرتا تھا نہ ان پر نظر رکھتا تھا بٹ جب بھی وہ اکیلے کہیں جاتی تھیں تو وہ مردوں کی بےباکی پر ہر بار لڑ کر گھر آتی تھی۔
سوری، تم سہی کہہ رہے ہو۔ اٹس مائے مسٹیک۔
کیا تم ناراض ہو؟ اس کی خاموشی پر اس نے ولید کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں شاید وہ یہاں کے حالات سے ڈر گیا تھا۔
کیوں؟ بند آنکھوں سے ہی سوال کیا۔
تم ان ایکسپیکٹیڈ بیہیو کر رہے کو۔
ایکسپیکٹیڈ کیا تھا؟۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *