Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 (Watching)Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Episode20
Hidayat by Ain Noon Alif Episode20
کہ تم۔مجھے ہگ کروگے بی کوز میں نے ایک لڑکی کی ہیلپ کی، بٹ تم نے کچھ کیا ہی نہیں۔ اور اسی وجہ سے اسٹرینج لک لگ رہا ہے تمہارا۔ اس کی شکایت پر اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
ہگ والا کام نہیں کیا تم نے، اس نے خود کمپوز کر لیا تھا۔
تو ہگ والا کام کون سا ہے پھر؟
تم چاہتی ہو میں تمہیں ہگ کروں؟ اس کے ایکدم قریب ہو کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
نہیں اب ایسا بھی نہیں ہے۔ وہ تو ہم لوگ جب کوئی اچھا کام کرتے تھے تو ایک دوسرے کو ہگ کر کے ہیپی فیل کرتے تھے۔
ہاں تم ڈزرو کرتی ہو ہگ، کہنے کے ساتھ ہی اس نے بھرپور طریقے سے اسے اپنے حصار میں لیا۔ ویسے بھی تم آج کسی کی ہدایت کا ذریعہ بنی ہو۔ مجھے پراؤڈ فیل کروایا ہے تم نے، اور اس وقت تم جو ڈزرو کرتی ہو وہ بس اللہ کی ذات ہی نواز سکتی ہے۔ اچانک اس کے انداز میں بہت نرمی در آئی تھی۔
رئیلی؟! ہاؤ؟ اس کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اسے اس طرح دیکھ رہا تھا کہ وہ پزل ہو کر ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔
گھر جا کر بتاؤں گا۔ ابھی ڈنر پر چلوگی؟ اس کے پزل ہونے پر اس نے مسکرا کر نظروں کا زاویہ بدلا تو وہ کچھ پرسکون ہوئی۔
اوکے، ویسے بھی مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ بٹ گھر پر سب ویٹ کر رہے ہوں گے۔
گھر بتا دیتے ہیں ابھی، اس نے موحد کو فون کر کے باہر ڈنر کا بتایا اور سب کو انفارم کرنے کا کہہ کر کال رکھ دی۔
ویسے تم یہاں مارکیٹ میں کر کیا رہی تھیں؟ اچانک یاد آنے پر وہ اس کی طرف مڑا۔
تمہارے لیے گفٹ لینے آئی تھی۔ اور ابھی نہیں بتاؤں گی۔ اوکے۔ گاڑی میں بیٹھ کر اسے چڑایا۔
اوکے ٹارزن بیوی۔ اس کی ناک دبا کر اس کا سر پیچھے کیا۔ پانچ منٹ بعد اس نے پیرےڈائز ہوٹل کے سامنے گاڑی روکی۔
*****************
ایک سوال پوچھوں؟ دونوں کھانے کی ٹیبل پر اپنے آرڈر کا ویٹ کر رہے تھے جب اس نے کچھ یاد آنے پر پوچھا۔
ہممم، پوچھو۔ وہ اسی کی طرف متوجہ تھا۔
تم نے یہ اسکارف آگے کیا، پھر میرا فیس اپنی طرف کیا۔ اور جب شاہینہ نے تمہارا تھینکس کیا تب تم نے اس کی طرف بھی نہیں دیکھا۔ کیوں؟
تاکہ لوگ تمہیں غلط نظر سے نہ دیکھیں۔ میری کوئی غلطی میرے گھر کی عورتوں کے لیے امتحان نہ جائے اس لیے۔ اور تمہارا اسکارف اس لیے آگے کیا کیونکہ۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
کیونکہ؟ اس نے آگے جاننا چاہا۔
اس بارے میں تم تفسیر پڑھنا، ابھی بس اتنا سمجھ لو، تمہیں غیر مردوں کی نظر سے چھپانے کی کوشش کر کے میں اللہ کی نظر میں غیرت مند بننا چاہ رہا تھا۔
مطلب؟ ایک تو تم لوگ سب ایسی باتیں کر رہے ہو جو سیریسلی مجھے بالکل سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں۔ اس کے منہ پھلا کر کہنے پر اس نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگایا جو اسے مزید ناراض کر گیا۔
ڈئیر وائف کھانا کھاؤ، مت بھولو پرسوں تمہارا امتحان بھی ہے۔ جس کی ففٹی پرسنٹ تیاری باقی رہتی ہے۔
اوہ اللہ، میں تو بھول ہی گئی تھی۔ بیس منٹ بعد دونوں کھا کر گھر جا رہے تھے۔ پورے راستے دونوں کی نوک جھونک جاری تھی۔ ان کے رشتے میں بغاوت اور بدگمانی کی کہیں کوئی جگہ نہیں تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بنتے جا رہے تھے۔
__________
کیا ہو رہا ہے بچوں؟ حیدر صاحب ان چاروں کی جکڑی جمے دیکھ کر وہیں آ گئے۔
یہ دیکھیں داداجان کتنے پیارے شوز لائی ہیں بھابھی ہمارے لیے۔ شرمین نے تینوں کے شوز ان کے سامنے رکھے۔
ماشاءاللہ! اور ہمارے لیے کیا ہے؟ ان کے سوال پر ازلفہ شرمندہ ہی ہو گئی۔
سوری ناناجان! اماؤنٹ اتنا ہی تھا، انشاءاللہ نیکسٹ ٹائم سب کے لیے۔
اوہ، یہ تو بہت بری بات ہے ہماری بیٹی کے پاس پیسے نہیں رہتے اتنے بڑے بزنس مین کی بیوی ہوتے ہوئے بھی۔ کہاں ہے یہ نالائق؟ بلاؤ ذرا اسے۔ ان کے مصنوعی غصے پر وہ سٹپٹا گئی۔
وہ پیسے دیتا ہے ناناجان، میں لے جانا بھول گئی، شاپنگ کا ارادہ نہیں تھا، بس ایسے ہی اس کے لیے کچھ لینے گئی تھی ان لوگوں کے لیے بھی لے لیا۔ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس کے صفائی دینے پر انہوں نے اپنی مسکراہٹ روک کر پھر مصنوری غصہ دکھایا، جو ان کی نابلد نواسی کو تو سمجھ میں آنے والا نہیں تھا۔
پھر بھی غلطی ہے اس کی۔ سزا ملےگی اسے۔
کیوں مگر؟ اس کی نظر سامنے سے آتے ولید پر پڑی جو نماز پڑھ کے آ رہا تھا۔
یہاں آؤ برخوردار۔
جی فرمائیں۔ سلام کر کے وہ بھی ازلفہ کے دوسری سائڈ بیٹھ گیا۔ اب وہ دونوں دادا پوتے کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی۔
تم ہماری بیٹی کی ذمہ داری اچھے سے نہیں نبھا رہے ہو، اسے پیسے نہیں دیتے، بہت غلط کرتے ہو ولید حسن ایک بزنس ٹائکون کی بیوی کے پاس شاپنگ کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ انہوں نے آواز کو تھوڑا سخت کیا۔
واٹ! اس نے حیران ہو کر ازلفہ کو دیکھا جو ہونقوں کی طرح حیدر صاحب کو دیکھ رہی تھی۔ ان کی شرارت اسے ایک منٹ میں ہی سمجھ میں آ گئی تھی۔
داداجان جسے پورا کا پورا بزنس ٹائکون دے دیا ہو، اسے چند روپیوں کی کیا ضرورت، جب چاہے جتنا چاہے لے لے۔ اس کی بات پر اب وہ حیدر صاحب کے بجائے اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔
ہا ہا ہا ہا ہا بہت خوب بھئی، اس کی بات پر وہ محفوظ ہوئے۔ لڑکیاں خود بھی ان کی باتیں انجوائے کر رہی تھیں۔
کیا ہوا ٹارزن؟ اس نے ازلفہ کی طرف دیکھا جو اس کی بات پر الجھ گئی تھی۔
تم نے مجھے بزنس ٹائکون کب دیا؟ وہ بھی پورا کا پورا۔ اس کی بیوقوفانہ بات پر سب کو ہنسی آئی تھی۔
داداجان، سب سے پہلے آپ کی ٹارزن بیٹی کو محاورے اور یہ نارمل سی باتیں سمجھانی پڑیں گی۔
تو تم لوگ اتنی ٹف باتیں مت کیا کرو۔ اس نے منہ پھلا لیا۔
بھابھی آپ بھائی کے لیے کیا لائی ہیں؟ زینب نے اس کی گود میں رکھے پیکٹ پر ولید کا نام پڑھ کر پوچھا۔ اور شرمین تو اٹھا کر اسے ان پیک کرنے لگی اس کے نہ نہ کرنے کے باجود بھی، ولید کو بھی تجسس تھا، وہ پہلی بار اس کے لیے کچھ لائی تھی۔
واہ، کرتا پجامہ، آف وائٹ کرتا پجامہ جس کے کالر پر ہلکا سا ڈیزائن تھا اور باقی سمپل۔ ولید نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں سوال تھا۔
وہ میں نے ذیشان، ریحان کو ایسے سوٹ میں دیکھا تو سوچا۔۔۔
بھائی کو بھی دیکھیں، اور پھر یہ ڈسائڈ کریں کہ کون زیادہ ہینڈسم لگ رہا ہے۔ آذر نے وہ سوٹ ولید سے لگا کر دکھایا۔ ایک اس کی کمی تھی جس نے ازلفہ کو اپنا جملہ پورا کرنے ہی نہیں دیا تھا۔
گھر میں سب نے یہ وئیر کیا ہے، ولید نے نہیں کیا تو میں نے لے لیا۔ سب کی معنی خیز نظروں سے سٹپٹا رہی تھی۔
اب بس بہت ہو گیا، کوئی پریشان نہیں کرےگا میری بیٹی کو، تم لوگوں کو نہیں معلوم، آپس میں تحفہ دینے سے محبت بڑھتی ہے اور یہ سنت بھی ہے۔
اور چلو بچوں اب سوؤ۔ تمہارے ماں باپ آ کر ڈانٹیں اس سے پہلے خود چلو۔ حیدر صاحب خود بھی اٹھے اور ان لوگوں کو بھی کہا جن کا موڈ ابھی بھی گپ لگانے کا تھا۔
موحد نہیں آیا کیا؟
نہیں بھائی وہ سائٹ پر ہی رکے ہوئے ہیں حذیفہ بھائی کے ساتھ۔
اوکے، چلو ازلفہ صبح مجھے بھی جلدی جانا ہے۔ اسے آنے کا اشارہ کر کے روم کی طرف بڑھ گیا۔
****************
ولید، شاہینہ کی فیملی کچھ اسٹرینج نہیں لگی؟ دونوں بیڈ پر سونے کے لیے لیٹے ہوئے تھے جب اس کا ذہن پھر اسی واقعہ کی طرف گیا۔
لگی نہیں میڈم، وہ اسٹرینج ہی تھی۔
تمہیں کیا لگا؟ کس ٹائپ کی تھی تمہیں سمجھا؟
کچھ گھرانے ایسے ہوتے ہیں جہاں عورتوں کو محض رعایا سمجھا جاتا ہے۔ اور انہیں بہت اسٹرکٹ ماحول میں اس لیے رکھا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے ان کا نام خراب نہ ہو، یہاں انہیں اپنی فکر ہوتی ہے عورتوں کی نہیں۔ ان گھرانوں میں عورتوں کے پاس اپنی مرضی سے جینے کا حق نہیں ہوتا۔ اور اس فرق میں زیادہ تر ہاتھ بھی عورت کا ہی ہوتا ہے۔
عورت کا کیسے؟
ایک بچے کی تربیت عورت ہی کرتی ہے۔ اپنی بیٹی کو وہ محکوم بناتی ہے اور بیٹے کو حاکم جو آگے چل کر اس پر بھی حکومت کرتا ہے۔ ان گھرانوں میں مرد کو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے۔ کوئی کوئی ان میں ایسا ظالم نہیں ہوتا، مگر اکثریت ظالموں کی ہوتی ہے. عورتیں یہاں مردوں کے حکم کی غلام ہوتی ہیں، انہیں وہی کرنا ہے جو چاہتے ہیں ان کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔
ایسے مرد اپنی عورتوں کو چھپا کر رکھتے ہیں یہ ان کی عزت ہوتی ہیں مگر دوسروں کی عورتیں ان کے لیے ان کی ہوس کا سامان ہوتی ہیں۔ اگر ان کی عورتوں سے کوئی غلطی ہو جائے یا ان کی غلطی نہ بھی ہو پھر بھی اگر ان پر جھوٹا موٹا کوئی الزام لگ جائے تو اس کے لیے کوئی معافی نہیں ہوتی۔
مگر وہ اسٹوڈنٹ تھی، اس کے پاس چوائس تھی۔ اور اس کی شادی بھی ہے اسی سال۔
اس نے اپنی پڑھائی کا ریزن بتایا؟ اسے کیسے پرمشن ملی؟ کیوں پڑھ رہی ہے؟
اوہ یس! اس کا فیانسے اس کا کزن ہے، اور اسے لائیک بھی کرتا ہے، ان کی فیملی میں باہر شادی نہیں کرتے، اس کو پڑھنے کا شوق تھا اسی نے اس کے پیرینٹس سے پرمیشن کی، اور اس کی ایگزام کے بعد شادی ہے۔
اس کا مطلب وہ اس کا ہونے والا شوہر ہے اسی لیے اس کی سفارش پر وہ پڑھ رہی ہے اچھا انسان ہے شاید، ورنہ اگر وہ نہیں چاہتا تو وہ نہیں پڑھ سکتی تھی۔
اوہ، اگر وہ اتنے اسٹرکٹ ماحول میں رہتی ہے اور اتنی اچھی بھی ہے تو پھر اس کو کوئی ہراس کیسے کر سکتا ہے۔ آئی مین وہ حجاب میں بھی تھی۔
تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں، اس سے سمجھ میں آ جائے گا۔ اس نے اپنے فون میں ایک پی ڈی ایف فائل نکالی اور مطلوبہ حدیث نکال کر اسے سنانے لگا۔ ازلفہ پورے دھیان سے اسے سن رہی تھی۔ یہ مسٹری اسے ہر حال میں سمجھنی تھی جو اسے بہت زیادہ کنفیوز کر رہی تھی۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے،
لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟
اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے،
پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟
اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں،
میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟
اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں،
میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لیے پسند نہیں کرتے۔ اتنا پڑھ کر اس نے ازلفہ کی طرف دیکھا جس کے پر ٹینشن واضح تھی مطلب اسے سمجھ میں آ رہا تھا۔
مطلب کہ اگر مرد اس طرح فی میل کو ہراس کریں گے تو ان کی فی میل کو بھی ہراس کیا جائے گا۔ چاہے وہ کتنی بھی ہائڈ ہوں۔ اوہ اللہ۔
ہممم۔
تو پھر یہ مرد سمجھتے کیوں نہیں، اٹس مین وہ لوگ خود اپنی فی میل کو ہراس کروا رہے ہیں۔ اوہ اللہ، ہاؤ ریڈی کلس۔
تو پھر فی میلز کو ہی کیوں بلیم کرتے ہیں؟ انفیکٹ ساری غلطی ان لوگوں کی ہوتی ہے بٹ پنش فی میل کو کرتے ہیں۔ کیا شاہینہ کو پنش کیا جائے گا؟ اوہ اللہ وہ اچھی ہے پلیز سیو ہر اور اس کی فیملی کو ہدایت دے۔ اس نے سر اوپر کر کے ہاتھ اٹھا کر اس کے لیے دعا کی تھی، اس کی فکر پر ولید نے بھی آمین کہا۔
اور ولید، اس نے کچھ کہا تھا اباؤٹ نقاب؟ تم سمجھے تھے؟
ہمم، تمہاری طرح کند ذہن تھوڑی ہوں یار جو اتنی سی بات نہیں سمجھوں گا، اس کی ٹینشن کم کرنے کے لیے اس نے مذاق کیا۔
ویری فنی، اس نے منہ بنا کر اس کے بازو پر مکہ مارا۔
اچھا سنو! اس نے جو نقاب پہنا تھا اسے تم نے کچھ اور سمجھا تھا اور منہ پر بول بھی دیا، اور اس کی ماں کا بھی ویسا ہی تھا۔ تو جب تم نے کہا تو اس لڑکی کو ریلائز ہوا کہ وہ نقاب سہی نہیں ہے۔ تمہاری وجہ سے اسے کچھ بولنے کی ہمت ملی کچھ سہی بات پتا چلی، اور اس کا اظہار اس نے تم سے اپنے لفظوں میں کر بھی دیا۔
اوہ آئی سی، یہ بات تھی۔
وہی تو بہت سی سمپل باتیں تمہیں سمجھ نہیں آتی اور لوگوں کو ہارڈ لیسن سکھا دیتی ہو۔ شرارت سے اس کی ناک دبائی۔
بٹ شی ازنٹ رونگ ولید۔ اور وہ بوائز سے اٹریکٹ بھی نہیں۔ اوہ، اب سمجھی، یہ اس کے فیملی مین کی غلطی کی پنشمنٹ تھی۔ اس لیے تم نے اس کے بھائی کو کہا، بٹ تمہیں کیسے پتا چلا اس کا؟ بات سمجھ کر اس نے پھر سوال کیا۔
جس طرح وہ تمہیں دیکھ رہا تھا، تمہاری بریوری سے وہ انسپائز ہو رہا تھا۔ اور میں نے نوٹس کیا “ہی وانٹیڈ ٹو ٹچ یو”۔ اس پر اسے غصہ بھی آیا تھا۔ مگر وہی چیز وہ اپنی بہن کے لیے پسند نہیں کرے گا۔ مگر اللہ سب کو دیکھ رہا ہے سب کے اعمال سے واقف ہے، پھر بھی نہیں سمجھتے۔
تو پھر بوائز کو پنش کیوں نہیں کرتے؟ اسے یہ چیز تکلیف دے رہی تھی۔ یہ تو واقعی عورتوں پر ظلم ہے۔
ہمم، اس میں بھی عورتوں کی غلطی ہے، وہ اس معاملے میں عورت کو ہی بلیم کرتی ہے، اور مجھے یقین ہے اگر یہ عورتیں مردوں کی غلطی پر انہیں کو بلیم کریں اور انہیں کو پنش کروانا چاہیں تو یہ مرد ایسی غلطی کرنے کا سوچےگا بھی نہیں۔ جیسے تم کرتی ہو۔ اس کی پچھلی باتیں یاد دلائیں۔
یہ عورت ہی ہے جس نے مرد کو ظالم اور عورت کو مظلوم بنایا ہے۔ یہ اپنی ہی صنف کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ یہی چیز تو اسے جہنم میں لے کر جائے گی۔ اس کی بات پر ازلفہ جھرجھری لے کر رہ گئی۔
چلو اب سوؤ، بہت ہو گئے سوال جواب، سائڈ لیمپ آف کر کے اس نے کمبل اس پر بھی ڈالا اور خود پر بھی لیا۔
لاسٹ پلیز۔ مجھے بتاؤ، پھر اس آدمی نے کیا، آئی مین آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور کیا کہا اسے؟ اس کے پوچھنے پر اس نے پھر بچی ہوئی حدیث اسے سنائی۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما،
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔
اللہ سے ڈرنے والے اپنی عورتوں کی عزت خطرے میں نہیں ڈالتے۔ بات مکمل کر کے اس نے اس کو مزید کچھ بولنے سے روکا، اور آنکھیں موند گیا، نیند کے غلبے سے کچھ ہی لمحوں میں وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا تھا۔
مگر ازلفہ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ اسے عورتوں کی بےحسی پر تکلیف ہو رہی تھی۔ اوہ، اللہ! کیوں کرتی ہیں یہ عورتیں ایسا، کیا ان کو اس طرح کرنے میں ڈر نہیں لگتا، ایسا کر کے یہ پھر سکون میں رہتی ہیں۔
اوہ، ان کے اس کام سے ان کے پاس سکون نہیں ہوتا تبھی یہ ظلم پر ظلم کیے جاتی ہیں۔
کتنی سوچیں تھیں جو اس کے دماغ میں گھوم رہی تھیں۔
نیند میں ولید نے اپنا ہاتھ اس کے اوپر رکھا تو اس نے چونک کر نیم اندھیرے میں اسے دیکھا، وہ اس کی شکر گزار تھی، وہ قدم قدم پر اس کا ساتھ دے رہا تھا، غصہ اس کا جوں کا توں تھا مگر اس کے لیے رعایت ہی رعایت تھی۔ اس نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ چند آنسو نکل کر اس کے بالوں میں جذب ہو گئے۔
جاری ہے
