Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 (Watching)Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Episode18
Hidayat by Ain Noon Alif Episode18
تو میں کب آپ کی بہو بنے والی تھی۔ میں بس امی کی ہی بہو ہوں۔ آپ اپنے بیٹے کے لیے اپنے جیسی ہی بہو لانا۔ سیریسلی تب آپ کو سمجھ آئےگا کہ آپ کیسی ہیں؟ وہ ازلفہ ہی کیا جو خاموش ہو جائے۔ آسیہ حسن نے اسے اتنے دنوں میں جو محبت دی تھی وہ اسے معتبر کر گئی تھی۔
بھابھی، اللہ کا تحفہ ہی ہے یہ تو۔ ہم نے بیٹی کیا مانا یہ بالکل بیٹی بن گئی۔ سہی ہے اگر ساس بہو کو بیٹی مان لے تو وہ واقعی اصل بیٹی سے بھی زیادہ اپنی ہوتی ہے۔ دونوں اسے پیار سے دیکھ رہی تھیں۔
سلمیٰ تم اسے کے جاؤ، میں نہیں چاہتی میری بیٹی پر اب اور اس کاشف کی گندی نظریں پڑیں، اگر ولید آ گیا تو اور مسئلہ ہو جائے گا۔ اپنے بھانجے کی ازلفہ پر جمی نظریں انہیں بہت بری لگ رہی تھیں مگر اپنی بہن کہ عادت کو دیکھتے ہوئے انہیں ازلفہ کا یہاں سے جانا ہی مناسب لگا، پتا نہیں ان کی بہن اور بھابھی اور کتنی باتیں بنائیں۔
تمہیں اچھی لگ رہی ہے آسیہ ہماری بےعزتی؟ تمہاری بہو ہمیں برا بھلا کہہ رہی ہے اور تم خاموش بیٹھی ہو۔ ولید کی مامی کو بھی اس کا ایسا مالکانہ انداز میں بات کرنا اور دو بدو ان لوگوں کی حقیقت واضح کرنا عجیب سے احساس سے دو چار کر رہا تھا، مگر ضمیر کی چھبن پر انہوں نے کوئی دھیان نہیں دیا۔
کس کی بے عزتی ہو رہی ہے مامی؟ آسیہ حسن اس وقت ولید حسن کی آمد نہیں چاہتی تھیں مگر۔
اپنی بیوی کو لگام ڈالو ولید، کیسی زبان درازی کر ہی ہے، کیا گھر آئے مہمانوں سے ایسے بات کی جاتی ہے جیسے یہ کر رہی ہے، ہمیں برا کہہ رہی ہے، کیا یہ بےعزتی کروانے آئے تھے ہم یہاں؟ آسیہ حسن اور سلمیٰ حسین کچھ بولنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر یاسمین کو تو موقع مل گیا بھڑاس نکالنے کا، اس کے غصے سے خوب واقف تھیں وہ۔ مگر ولید ان کی بات سننے سے زیادہ کاشف کو دیکھ رہا تھا جو ازلفہ کو بہت ہی عجیب انداز میں دیکھ رہا تھا اور وہ انداز اس کے اندر ابال پیدا کر رہا تھا۔
ازلفہ روم میں جاؤ، اپنی پڑھائی کرو۔ اسے اس کی ایک پل کی بھی یہاں موجودگی گوارا نہیں تھی۔ اسے ازلفہ پر بھی غصہ آیا وہ کیوں یہاں تھی۔
ولید یہ میری مام کی انسلٹ کر رہی ہیں اور امی کو بھی پرووک کر رہی ہیں، بیک بائٹنگ بڑا گناہ ہے نا پھر بھی یہ مام کو کب سے کچھ بھی بول رہی ہیں۔ اس کے غصے کو نظر انداز کر کے اس نے ان کی بات بتائی۔ اس کا ارادہ ماخول خراب کرنے کا نہیں تھا بس وہ اسے اپنی طرف سے غلط فہمی کا شکار ہونے دینا نہیں چاہتی تھی۔
ازلفہ اندر جاؤ، سنائی نہیں دے رہا۔ اب کے آواز تیز تھی۔
مگر ولید تم۔۔
آئی سیڈ گو ناؤ۔ اب کے وہ چلایا۔ ازلفہ اس کے انداز پر شاکڈ ہوئی اور پھر وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلی۔ آسیہ حسن کو جو خطرہ تھا وہی ہوا۔ وہ کب سے اسے جانے کا اشارہ کر رہی تھیں۔ کاشف کے سامنے تو وہ اپنی کسی بہن کا ہونا بھی برداشت نہیں کرتا تھا تو پھر اپنی بیوی کا کیسے کرتا۔
****************
بہت صحیح کیا بیٹا، ایسی لڑکیوں کو ایسے ہی قابو کیا جاتا ہے ورنہ سر چڑھ جاتی ہیں۔ اور آسیہ نے تو حد کر دی آج۔۔
بس خالہ جان، میں نے اپنی بیوی کو آپ کے بیٹے کی غلیظ نظروں سے بچایا ہے۔ آپ اسے طعنے دے رہی ہیں کیا آپ نے غور کیا کبھی کہ کاشف کس طرح کا ہوتا جا رہا ہے؟ گستاخی معاف مامو جان اینڈ خالو جان، مجھے افسوس ہو رہا ہے اتنے غلط رویہ پر بھی آپ لوگ خاموش رہے۔ میں اپنی بیوی کی رگ رگ سے واقف ہوں، اس نے بےعزتی نہیں کی ہوگی، اس نے بس ان کے رویہ کا ہی جواب دیا ہوگا۔ ایسا ہی کرتی ہے وہ۔
ہر معاملہ میں یہی سوچتی ہے کہ اللہ ناراض تو نہیں ہوگا، اسے ایسا کرنا پسند ہوگا یا نہیں اور ایسا ہی وہ دوسروں کو سمجھتی ہے۔ بیوقوف ہی ہے جو ہر کسی کو اپنے جیسا سمجھ کے صحیح غلط کی پہچان کرواتی ہے۔
آج آپ لوگ بھی وہی غلطی کر رہے ہیں جو دو مہینے پہلے ہم لوگوں نے کی تھی۔ جانتی ہیں حقیقت کتنی تلخ تھی۔ مگر اس لڑکی نے سب کو آسانی سے معاف کر دیا اور آج آپ لوگ پھر اسے وہی تکلیف پہنچا رہی ہیں۔ اب بتائیں کیا واقعی اللہ آپ سے راضی ہوگا؟ کیا آپ کو نہیں معلوم اللہ ایک بار کو کعبہ کا گرانا معاف کر دےگا مگر کسی کا دل دکھانا نہیں۔ کاش آپ نے دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے بہتر اپنی اولاد کی تربیت پر دھیان دیا ہوتا تو شاید نتیجہ آج کچھ اور ہوتا۔
اس کی باتوں پر دونوں مرد اچھے خاصے شرمندہ ہوئے تھے۔ دروازے میں کھڑے حیدر صاحب ولید کو فخریہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ اپنا وعدہ نبھا رہا تھا کسی بھی حال میں وہ ازلفہ کا ساتھ نہیں چھوڑےگا۔ انہوں نے مہمانوں پر ایک نظر ڈالی اور اندر آ گئے۔
معاف کرنا میرے یہ دونوں بچے ذرا جذباتی ہیں۔ آپ لوگ مہمان ہی نہیں ہمارے اپنے بھی ہیں، دلوں میں ایسے کدورت رکھ کر اپنائیت کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتی ہے۔ تم لوگوں کو میری نواسی پسند نہیں ہے یہ بات یہاں ہر کوئی اچھی طرح سمجھ چکا ہے، حالانکہ اس نے کبھی کسی کا کچھ نقصان نہیں کیا۔ وہ تم لوگوں کا اپنا دل ہے، چاہے محبت رکھیں یا نہ رکھیں، مگر اس کی نفرت میں اپنی سگی بہن کو تکلیف مت دو، تم لوگ ہی ایک دوسرے کا میکہ ہو، کیا یہ اچھا نہیں کہ تم لوگ سہی راستے پر چلو، اور اپنے رشتوں کو مضبوط رکھو۔ بہت ہی نرم اور مدبر انداز میں انہوں نے سب کو سمجھایا، وہ نہیں چاہتے تھے کوئی بھی رشتے میں درار آئے۔
مگر آج کے بعد میری بیٹی کے خلاف کوئی کچھ نہیں بولےگا، اس کا آپ لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں ہے اور شاید اب مجھ سے بھی نہیں کیونکہ جس سے نفرت کا اظہار تم لوگ کر رہے ہو وہ میرا اپنا خون ہے۔
ایسی بات نہیں ہے خالو، ہم تو بس۔۔۔ ان لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کیا کہیں۔
چلو ولید، آسیہ کھانا لگواؤ کافی دیر ہو گئی ہے۔
جی ابا جی۔ ان لوگوں کو شرمندہ چھوڑ کر دونوں عورتیں باہر نکل گئیں۔
***************
کیا ہوا یہاں کیوں کھڑی ہو تم لوگ؟ اپنے روم کے باہر کھڑی اپنی تینوں بہنوں کو دیکھ کر پوچھا۔
بھابھی دروازہ نہیں کھول رہی ہیں۔ ان کی غلطی نہیں تھی بھائی، میں نے انہیں پانی دینے کے لیے بھیجا تھا۔ آپ نے بہت زور سے چلایا ان کو۔ شرمین ازحد شرمندہ تھی۔
تم لوگ جاؤ، امی اور چاچی کی ہیلپ کرو، میں دیکھتا ہوں اسے۔ انہیں واپس بھیج کر اس نے ڈور ناک کیا، تین چار بار ناک کرنے پر بھی ازلفہ نے دروازہ نہیں کھولا۔ آسیہ حسن اس کے پیچھے آ کر کھڑی ہوئیں۔
کیا ہوا نہیں کھول رہی نا؟ سہی کر رہی ہے۔ کوئی تمیز ہے تمہیں سب کے سامنے کتنی زور سے چلایا، مانا وہاں سے ہٹانا چاہتے تھے تو لے جاتے خود اسے وہاں سے، مگر تمہارا یہ غصہ۔
امی، آپ نے کیسے اسے وہاں رہنے دیا، آپ نے دیکھا نہیں وہ کس نظر۔۔۔ مٹھیاں بھینچ کر پھر اپنا غصہ کنٹرول کیا۔
میں کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا اگر وہ کچھ دیر اور وہاں رہتی تو میں کاشف کو نہیں چھوڑتا پھر۔
اب منا کے لاؤ اسے، جب وہ بات کرےگی تب ہی میں بھی اب تم سے بات کروں گی۔ اپنی ناراضگی جتاتی وہ کھانے کے لیے چلی گئیں۔ اس کی نظریں یاد کر کے ایک بار پھر اسے شدید غصہ آیا۔ اپنی ماں کی وجہ سے وہ اسے گھر سے باہر بھی نہیں پھنکوا سکتا تھا۔
شرمین سے دوسری چابی منگوا کر دروازہ کھولا۔
***************
وہ اتنی تو کمزور نہیں تھی کہ یوں بزدلوں کی طرح روتی، مگر وہ رو رہی تھی، بستر پر اوندھے منہ لیٹے شدت گریہ سے اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔ آج ولید کا چلانا اسے حد درجہ تکلیف سے دو چار کر گیا، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ولید نے اس انداز میں اسے ڈانٹا وہ بھی سب کے سامنے، بنا غلطی کے۔ تینوں لڑکیاں اس کا دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی مگر اس میں کسی کا بھی سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
ولید بیڈ کے پاس کھڑا اس کے لرزتے وجود کو دیکھ رہا تھا۔ زور سے آنکھیں بند کر کے کھولیں، خود کو کمپوز کیا اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
ازلفہ، اسے کندھے سے پکڑ کر سیدھا کرنا چاہا، اس کے آنے سے اس کے رونے میں اور شدت آ گئی، تکیہ پر گرفت تیز ہوئی۔
آئم سوری یار، بٹ ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ می۔ تمہیں کیوں اس کی نظروں کی گندگی محسوس نہیں ہوئی؟ اسے پھر سیدھا کرنے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس بھی نہیں ہو رہی تھی۔
تمہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ تمہیں۔۔ اسے پھر سے غصہ آنے لگا تھا۔ ایک جھٹکے سے اسے نا صرف سیدھا کیا بلکہ اسے اپنے سامنے اٹھا کر بٹھایا۔
چھوڑو مجھے، جاؤ یہاں سے نہیں کرنی مجھے تم سے کوئی بات۔ اپنے بازوؤں سے اس کے ہاتھ جھٹک کر پیچھے ہوئی۔
ازلفہ! اس کا ہاتھ جھٹکنا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔ واپس اسے کھینچ کر قریب کیا۔
ایک بار میں کیوں نہیں آئی تم، مرد کی نظریں سمجھ آتی ہیں تمہیں؟ کچھ مرد ایسے ہوتے ہیں جو صرف نظروں سے ہی عورتوں کو بے لباس کر دیتے ہیں، نیچے بیٹھا وہ کاشف بھی انہیں میں سے ایک ہے، گھر کی کوئی لڑکی اس کے سامنے نہیں آتی، سوا امی اور چاچی کے۔ تو میں کیسے برداشت کرتا وہ تمہیں۔۔
اتنی زور سے کیوں ڈانٹا تم نے وہ بھی سب کے سامنے؟ روتے ہوئے بمشکل اپنی بات پوری کی۔
ایک بار کے کہنے میں ہی آجاتی تو نہیں بولتا زور سے۔ اس کے آنسو صاف کرنے کی کوشش کی مگر ایک بار پھر وہ اس کے ہاتھ جھٹک کر بیڈ سے اتر کر کھڑی ہو گئی۔ وہ جتنا اپنا غصہ کنٹرول کر رہا تھا وہ اسے اتنا ہی غصہ دلا رہی تھی۔ اوپر سے اس کا رونا۔
کیوں کر رہی ہو ایسا؟، شوہر ہوں تمہارا، اس کا اشارہ اس کے ہاتھ جھٹکنے کی طرف تھا۔
ان کی باتوں سے مجھے اتنا فرق نہیں پڑا جتنا تمہارے بولنے سے، مجھے لگا تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو، تمہیں ان کی باتوں پر یقین ہے مجھ پر نہیں۔۔ کیوں اتنی زور سے ڈانٹا، اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دیا۔ وہ اس کی انسیکیورٹی سمجھتا تھا۔
میں کیا کروں یار، بہت سی چیزوں پر نہیں کنٹرول کر پاتا، کوشش کے باوجود بھی، تمہیں کسی بھی گندی نظر کے حصار میں برداشت نہیں کر سکتا میں، اگلی بار کبھی بھی نہیں آؤگی تم گھر میں آئے ہوئے کسی بھی مرد کے سامنے۔ اسے کھینچ اپنے گلے لگایا، ازلفہ نے پھر خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر اس کی مزاحمت پر اس نے گرفت اور سخت کر دی۔
چھپا کر رکھ دو پھر مجھے۔ ہار کر سر اس کے سینے پر رکھا۔
ایسا ہی کروں گا۔ اب مدرسہ بھی بنا نقاب کے نہیں جاؤگی تم۔ کتنا بھی مشکل ہو مگر اب برداشت نہیں کر سکتا میں۔
تمہیں مجھ پر ٹرسٹ نہیں ہے اس ایڈیٹ کی وجہ سے تم مجھے ریسٹرکٹ کر رہے ہو۔ مجھے نہیں تم سے بات کرنی، جاؤ۔ تم پھر سے کھڑوس، ایروگنٹ ولید بن رہے ہو، نہیں اچھے لگتے تم مجھے ایسے۔ میں نہیں کروں گی بات تم سے، اور نہ تم بیڈ پر سوؤگے۔ نہ میں تمہارے ساتھ ریکٹ کھیلوں گی، اور نہ پارک جاؤں گی۔ اس کا رونا کم نہیں ہو رہا تھا۔
ولید نے اپنے سینے سے لگی ازلفہ کو آزاد کر کے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا، اس کا یقین ازلفہ کے لیے ضروری تھا۔
میں تم اتنا ہی ٹرسٹ کرتا ہوں جتنا خود پر، تمہیں وہاں سے ہٹانا صرف کاشف کی نظروں سے دور کرنا تھا، تم نے خالہ یا مامی سے جو بھی کہا میں نے کسی سے بھی نہیں پوچھا، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ تم نے جو بھی کہا ہوگا وہ کسی کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں کہا ہوگا۔ مگر وہ لوگ کم ظرف لوگ ہیں نہیں سمجھتے۔ میں ان کو جواب دے آیا ہوں۔ آئم سوری اگین۔ تم بھی ڈانٹ دینا ایک بار حساب برابر ہو جائےگا۔ اس کے الفاظ ازلفہ کے دل پر مرہم رکھ رہے تھے۔ اسے اپنے دل میں سکون اترتا محسوس ہوا۔
اور کیا کہہ رہی ہو تم، مجھ سے بات بھی نہیں کروگی، مجھے بیڈ پر بھی نہیں سلاؤگی، نہ میرے ساتھ کھیلوگی، گھومنے بھی نہیں جاؤگی۔ ناراضگی میں سب بھول جاتی ہو نا تم، اس نے بھی مصنوعی ناراضگی ظاہر کی۔
تم مجھے منانے آئے ہو یا خود ناراض ہونے۔
کیا کروں تم مان ہی نہیں رہی تو۔
تو مناؤ پھر سے، اور اب اگر کسی کے سامنے بھی چلایا نہ تو میں بالکل بات نہیں کروں گی۔
چلو میں مناتا ہوں تمہیں۔۔
نو نو یہ نہیں، مجھے بھوک لگ رہی ہے، کھانا کھانا ہے، اس کے شرارت پر چہرہ پیچھے کرتی وہ خود کو چھڑانے لگی۔
پہلے منانے تو دو۔۔ اسے پھر سے قریب کرنے کی کوشش کی۔
مان گئی میں، اب چلو کھانا کھانا ہے۔ باہر جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھی۔
کیا ہوا؟ اس کے ہاتھ پکڑ کے روکنے پر سوال کیا۔
تم باہر نہیں آؤگی جب تک وہ لوگ ہیں، وہ سنجیدہ ہوا،
مگر ان کی وجہ سے میں کیوں اندر رہوں اور اس کاشف کی تو میں ابھی بینڈ بجاتی ہوں۔
ازلفہ، اتنی دیر سے کیا سمجھا رہا ہوں،
تم پھر کھڑوس بن رہے ہو،
تو مت بننے دو کھڑوس، اور حالت دیکھو ایسے ہی اٹھ کر جا رہی تھیں، اس نے مرر کے سامنے کھڑا کیا، رونے سے پورا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
اسیے نہیں جاتی، فیس واش کر کے جاتی۔ منہ بنا کر بتایا۔ ولید کو اس کہ یہ عادت اچھی لگتی تھی کہ وہ زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہتی تھی۔
گڈ گرل، تھوڑا سا ویٹ کرو میں بھجواتا ہوں کھانا، وہ تینوں بھی تمہارے ساتھ ہی کھائیں گی۔ اپنی حرکت پر اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر مسکراہٹ دباتا وہ روم سے نکلتا چلا گیا۔
*******************
کیا آپ ناراض ہیں مجھ سے؟ چاروں کھانا کھا رہی تھیں جب شرمین کو اس کی کچھ دیر پہلے کی ناراضگی یاد آئی۔
کیوں؟
وہ میں نے آپ کو پانی۔۔۔
نہیں، میں تم سے نہیں ولید سے ناراض ہو رہی تھی اب اس سے بھی نہیں ہوں۔ اس نے سہی کیا مجھے وہاں سے ہٹا کر۔
پتا نہیں اتنے گندے کیوں ہیں کاشف بھائی۔ اور خالہ کو نظر نہیں آتا، ان کا بیٹا ایسا ہے تو ان کی بیٹاں کیسے محفوظ ہوں گی۔ زینب کو تو اپنی خالہ کی پوری فیملی ہی پسند نہیں تھی۔
لیو اٹ یار، اللہ ہدایت دے۔ یہ بھی بیک بائیٹ ہے۔
سہی، اللہ معاف کرے۔
اچھا آپ کا امتحان کب ہے عربی کا؟ زرین نے بات بدلی۔
سنڈے کو، اسکیری فیلنگ آ رہی ہے اس کا سوچ کر۔
ہم لوگ ہیں نا، پوری تیاری کروائیں گے۔ ان شاء اللہ فرسٹ آئیں گی۔ اور آپ کو دوستوں کی کیا پوزیشن ہے؟
وہ لوگ مجھ سے کمپیٹ کر رہے ہیں۔
پھر تو دیکھتے ہیں کون آگے بڑھتا ہے؟
ہماری بھابھی، شرمین کو زیادہ ہی پیار آتا تھا اس پر۔
ایک بات اور بتاؤں؟ زینب نے رازداری سے سرگوشی کی۔
جلدی بتاؤ۔ اس نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔
زرین آپی کے لیے حذیفہ بھائی کا رشتہ آیا ہے۔ کچھ دیر پہلے ان کے ابو کی کال آئی تھی داداجان کو تو میں نے سن لیا۔ اس کے بتانے جہاں زرین بلش ہوئی تھی وہی وہ حیران۔
ماشاء اللہ! دیکھو کیسے بلش کر ہی ہے، مطلب کچھ کچھ۔
اب پلیز آپ اس کی طرح شروع مت ہوں۔ چاروں میں خوب ہنسی مذاق ہو رہا تھا۔ اور ان کی مائیں انہیں خوش دیکھ کر دروازے سے ہی واپس چلی گئیں۔
*****************
تم دونوں سچ کہہ رہے ہو؟ اوہ اللہ، میری دعا قبول ہو گئی، اف۔ وہ بے اختیار جان اور نینی کے گلے لگی تھی۔
یس ڈئیر، ہم بھی مسلم ہونا چاہتے ہیں، تم لوگوں کی چینجنگ اور تم لوگوں کے فیس پر یہ لائٹ، اٹس امیزنگ۔ اور میں نے اسٹدی کی اسلام کی، اس میں جو جسٹس ہے وہ کہیں نہیں ہے، انفیکٹ مسلمز میں بھی نہیں، اور اس کے رولز اینڈ ریگولیشن زبردست۔ بٹ آئی وانٹ ٹو فالو اٹ۔ یو آر رائٹ مسلمز کو نہیں دیکھنا ہے اسلام سے مسلم بننا ہے۔ جان اور نینی کی آنکھوں میں اسلام کے نام کی چمک اسے مسرور کر رہی تھی۔
دھیرے دھیرے ان شاء ہم ہر چیز فالو کریں گے۔ اور ما شاء الله تم لوگ کرتا سوٹ میں بہت اچھے لگ رہے ہو۔ جمعہ کی وجہ سے ذیشان اور راحیل نے کرتا پاجامہ پہنا تھا۔
تھینک یو میم، اور سناؤ سب کیسے ہیں اور ولید بھائی؟
الحمدلله اے ون۔ اور ہاں نیکسٹ منتھ شادی ہیں گھر میں وہ بھی ایک ساتھ تین۔
کس کس کی؟
موحد بھائی، زرین اور زینب کی۔ زینب کے لیے ولید کے کسی دوست کا رشتہ آیا ہے۔ اور ان لوگوں کے ساتھ ہمارا ریسیپشن بھی۔ میں بہت ایکسائٹیڈ ہوں۔ اس کی بات پر راحیل نے ذیشان کی طرف دیکھا جو خاموشی سے سر جھکائے ہوئے بیٹھا تھا۔
تمہیں کیا ہوا؟ ابھی تو اتنے خوش تھے اب ایکدم خاموش۔
کچھ نہیں، تم بتاؤ، آج تو رکوگی نہ یہیں؟
نہیں، پھر آوں گی رکنے، امتحان کی تیاری کرنی ہے۔ مگر تم بات مت بدلو، اور مجھےبتاؤ، میں بہت بار تمہیں ایسے اپ سیٹ دیکھ چکی ہوں۔ ہر بسر ایسے ہی اگنور کر دیتے ہو۔
بلیو می یار، کچھ نہیں ہے۔
راحیل، جان تم لوگوں کو پتا ہے، کیوں یہ ایسا ہو رہا ہے؟
ہاں پتا ہے، مگر کوئی فائدہ نہیں ہے بتانے کا۔
ٹھیک ہے پھر جا رہی ہوں میں۔ اور اب ارادہ بھی نہیں آنے کا۔ اسٹرینجر لگ رہے ہو تم لوگ۔ وہ باقاعدہ بیگ اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔
تم بلیک میلر لڑکی۔ بیٹھو خبردار جو شام سے پہلے گئی تو۔
تو بتاؤ پھر۔
تمہیں معلوم ہے یہ جس لڑکی کے پیچھے پاگل ہو رہا تھا وہ کون ہے؟ راحیل نے بتانا ضروری سمجھا۔
کون ہے وہ، اب تک نہیں مانی؟
تمہاری سسٹر ان لا، ‘زینب’ راحیل کے بتانے پر وہ شاکڈ ہو کر پھر سے کھڑی ہو گئی۔
واٹ، یو مین ولید کی سسٹر زینب، اوہ اللہ، ذیشان تم اس سے، اف یار، یہ انکشاف اس کے بہت ہی حیران کن تھا۔
تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟
اب بھی نہیں بتانے کا ارادہ تھا، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہونا اس کو زبان پر کیا لانا۔
اتنے ہوپ لیس کیوں ہو رہے ہو، آپا بتا رہی تھیں جو چاہو اللہ سے مانگو بس وہ جائز ہو، تو تم اللہ سے مدد مانگو۔ ورنہ پھر نقصان میں رہوگے۔
جاری ہے
