Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 (Watching)Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Episode06
Hidayat by Ain Noon Alif Episode06
ہمیں سکھا رہی ہو لڑکی، خود کو دیکھو پہلے صرف نام کی مسلمان ہو، باقی سب عمل تو کافرانہ ہی ہے تمہارا، تو تم کہاں جاؤگی؟۔ بس باتیں بنانا جانتی ہیں تم جیسی لڑکیاں۔ پتا نہیں ہمارے کس گناہ کی سزا ہو تم؟ مگر افسوس جیسی ماں تھی ویسی بیٹی نکلی ‘بےحیا’۔ ان کے افسوس پر ایک مسکراتی نظر ان پر ڈالی۔
ولید حسن جیسا بیٹا پیدا کرنے کے گناہ میں۔ کیونکہ اس جیسا گھٹیا شخص تو ازلفہ سبحان ڈزرو نہیں کرتی تھی۔
جس طرح آپ نے میری اپ برنگنگ کو رونگ کہا، بالکل ویسے ہی آپ کی اپ برنگنگ مجھ سے بھی زیادہ رونگ ہوئی، اور خود سے بھی زیادہ آپ نے اپنے بیٹے کی رونگ کی۔ کیونکہ فی میل سے بات کرنے کی تمیز تو اسے بالکل بھی نہیں ہے۔ وہ بھی انہیں لوگوں میں ہے جو خود کو اچھا سمجھ کر دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ تو کیا یہ اچھی تربیت ہے کہ کسی کو بھی جانے پہچانے اسے غلط قرار دے دو؟ پہلے اپنی تربیت کو سنبھالیے پھر مجھ سے بات کیجیے۔ مگر یہاں یہ پوائنٹ فٹ ہوتا ہے، “جیسی ماں ویسا بیٹا”۔
بدتمیز لڑکی، اسکی اتنی صاف گوئی آسیہ حسن کہ برداشت سے باہر تھی، ان کا ہاتھ اٹھا، اس سے پہلے وہ ازلفہ سبحان کے چہرے پر پڑتا وہ درمیان میں ہی روک چکی تھی۔
ابھی بھی آپ رونگ ہیں، اور غلط لوگوں کو تو کیا اچھے لوگوں کو بھی ازلفہ سبحان پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں۔ میں دو دن سے آپ کی اور آپ کےبیٹے کی بلا وجہ نفرت اور ٹونٹ سے فیڈ اپ ہو چکی ہوں، مجھے سمجھ میں یہ نہیں آیا آپ لوگوں کو جب اتنی ہی پرابلم تھی تو شادی کیوں کروائی، اور وہ بھی ولید حسن جیسے لوزر سے؟۔ وہ ان لوگوں کے اس سرد برتاؤ سے تنگ آ چکی تھی۔ اور آسیہ حسن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس لڑکی کی جان لے لیں جس نے ابھی بھی ان کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ مگر اب وہ برداشت نہیں کریں گی اس لڑکی کو، ان کی سوچ میں پختگی آئی تھی۔
پاگل ہو گئی ہے لڑکی، یہ کس طرح بول رہی ہو، کم سے کم یہ تو دیکھ لو یہ لگتی کیا ہیں تمہاری، اس کی اتنی کڑوی باتیں سلمیٰ حسین سے برداشت نہیں ہوئی تھیں۔
کیا میں نے آپ کو کچھ کہا؟اور ویسے بھی عزت انسان خود کرواتا ہے اپنی، چاہے بڑا ہو یا چھوٹا، اور چھوٹوں کو بد تمیز ایسے بڑے ہی بناتے ہیں۔ اس کی بات پر سلمیٰ حسین نے ایک نظر قہر برساتی آسیہ حسن پر ڈالی، جن کا چہرہ غصہ کی تمازت سے سرخ ہو رہا تھا۔ جو شاید کچھ غلط رنگ ہی لانے والا تھا۔
آئے ایم سوری، مگر کسی کو بھی یہ رائٹ نہیں ہے کہ اس طرح کسی پر ٹونٹ کرے، وہ لڑکا مجھے گھور رہا تھا یہ لنک میرے ساتھ تھا میں نے اسے ویسا ہی ریپلائے کیا، اور اب انہیں۔ اگر آپ دوسروں سے ان انداز میں بات کریں گے تو دوسرے آپ سے اس سے بھی زیادہ برے انداز میں بات کریں گے کیونکہ اس چیز پر آپ لوگ پرووک کرتے ہو، مطلب آپ دوسروں کی بلا وجہ انسلٹ کریں اور دوسرے آپ سے عزت سے پیش آئے، کچھ زیادہ ہی بکواس تھنکنگ نہیں ہے یہ؟۔ اور اب مجھے یقین ہو گیا اس گھر میں بریک فاسٹ میرے لیے شاید نہیں ہے، بھرے ہوئے جوس کے گلاس کو دیکھا جس کا ایک سپ بھی اس نے نہیں لیا تھا۔ اتنا کہہ کر وہ پھر سے باہر چلی گئی۔
******************
ان کا پلان اپروو ہو گیا تھا، ایک سال کی محنت رنگ لائی تھی۔ پروجیکٹ انہیں دے دیا گیا تھا، سارا اسٹاف بہت خوش تھا۔ اور اس وقت تو ولید حسن کے چہرے کی چمک اتنی بڑھی ہوئی تھی گویا قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ سب سے مبارکباد وصول کرتے ولید کی حسن کی نظر کھوئے کھوئے اور کچھ پریشان سے حذیفہ پر پڑی۔
کیا ہوا ہوائیاں کیوں اڑی ہوئی ہیں تمہارے چہرے پر کوئی بھوت دیکھ لیا کیا؟ ولید حسن نے اڑے ہوئے حواسوں میں بیٹھے حذیفہ پر چوٹ کی۔
یار ولید، تمہارے ایسے انداز پر تو کوئی اپنی کیفیت بھی سے شئیر نہیں کر پائےگا۔ تو کیا فائدہ تمہارے ایسے پوچھنے کا؟اور بھوت کیا بھوتوں کی سردار دیکھ کر آ رہا ہوں تمہارے گھر پر۔اس نے منہ بنا کر جواب دیا۔
اوکے سوری، بتاؤ کیا بات ہے؟ اس کی شکایت پر اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
یار تم نے مس میکڈی سے شادی کر لی وہ بھی اتنی خفیہ کہ ابھی تک کسی کو اس شادی کی خبر ہی نہیں ہوئی، اور اس دن تم نے جھوٹ کہا تھا کہ تم اسے نہیں جانتے، جبکہ وہ تمہاری پھوپھو کہ بیٹی ہے؟۔
جب یہ شادی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تو کسی کو خبر کیوں ہونی تھی، اور تمہیں کیسے پتا چلا جبکہ سب کو اسٹرکلی میں نے منع کیا ہے اس انوانٹیڈ میرج کی بھنک بھی کسی کو نہیں پڑنے دینی۔
بس کرو یار، اس طرح کہہ کر تم مجھے پرایا کر رہے ہو۔ مگر تمہاری اس سے شادی مجھے سمجھ نہیں آئی۔ جب تم اسے پسند نہیں کرتے اتنی ہی نفرت کرتے ہو تو شادی کیوں کی؟
میں آج بہت خوش ہوں حذیفہ، اس لیے اس کی بات کر کے میری خوشی غارت مت کرو۔ یوں سمجھو بس یہ ایک کانٹریکٹ ہے جس کی معیاد جلد ہی ختم ہونے والی ہے۔
مگر ولید۔۔ ولید کے بجتے فون نے اسے آگے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
وہ جیسے جیسے بات کر رہا تھا اس کے چہرے کی خوشی کم ہوتی جا رہی تھی۔ اور آخر میں وہ بہت غصے سے اٹھ کر باہر کہ طرف گیا، حذیفہ اس کے انداز پر پھر سے پریشان ہوا تھا۔
___________
وہ ذیشان سے منگوایا ہوا پزا بڑے مزے سے روم میں صوفے پر بیٹھی کھا رہی تھی جب دھاڑ سے کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا تھا۔ ازلفہ سبحان نے منہ کی طرف جاتا ہاتھ روک کر آنے والے کو دیکھا جو خونخوار چہرہ لیے اسی کی طرف بڑھا، اور اسے کوئی بھی موقع دیے بغیر ہاتھ پکڑ کر جارحانہ انداز میں کھڑا کیا وہ اس حملہ سے سنبھلی بھی نہیں تھی جب اس کا بھاری بھرکم ہاتھ پوری طاقت سے اس کے چہرے پر پڑا۔ اور ازلفہ سبحان کو لگا جیسے کسی نے اسے بجلی کے تار سے کرنٹ لگا دیا ہو۔ اپنے بائیں گال پر ہاتھ رکھے وہ ششدر سی کھڑی بنا پلک جھپکائے ولید حسن کو دیکھ رہی تھی جو اب اسے بازوؤں سے پکڑ کر جھنجوڑ رہا تھا۔
میری ماں پر انگلی اٹھائی تم نے، ان کی تربیت پر انگلی اٹھائی، انہیں خود سے کمپئیر کیا۔ اتنی اوقات ہے تمہاری کہ انہیں غلط تربیت کا طعنہ دو، ان کو جہنم میں بھیجو۔ میں تمہیں تمہاری اوقات بتاتا ہوں۔
تم ایک خریدی ہوئی لڑکی ہو ازلفہ سبحان، اور جانتی ہو خریدی ہوئی عورت ایک طوائف کے مترادف ہوتی ہے۔ اور تم میری ماں پر انگلی اٹھا رہی ہو تمہاری اوقات تو ان کے سامنے کھڑے ہونے کی بھی نہیں ہے۔ تم جیسی مردوں کا کھلونا بنے رہنے والی لڑکی میری ماں کو میری پیدائش کا طعنہ دےگی۔
تمہاری بدکرداری کی وجہ سے رب کی طرف سے ملنے والی ہدایت تمہیں چھو کر بھی نہیں گزرتی، جس نے کبھی تمہیں اپنے سامنے کھڑا کرنا پسند نہیں کیا، جس نے تمہیں مسلمان بنا کر دین کے قریب رکھنا پسند نہیں کیا، کس بات کا غرور ہے تمہیں جو تم لوگوں کو ان کی اوقات بتاتی ہو، جبکہ تمہاری اوقات تو مٹی میں اسی وقت مل گئی تھی جب تمہاری قیمت تمہارے چاچا چاچی کو ادا کی تھی، اور جانتی ہو محض ایک کروڑ نکلی تمہاری قیمت۔
میرے پیدا ہونے کا گناہ ہو تم، یہی کہا نا میری ماں سے، مگر تم جانتی نہیں، تم گناہوں کا وہ ڈھیر ہو ازلفہ سبحان جس دن سے میرے گھر میں پڑا اس دن سے میں نماز نہ پڑھ پایا، تمہارے گناہوں کی نحوست سے میرا گھر گندہ ہو گیا، مگر بس بہت ہو گیا۔ تم جیسی بدکردار لڑکی جس کے یار میرے گھر تک آ گئے اپنی زندگی میں اور برداشت نہیں کر سکتا،
شادی کیوں کی تھی؟ ایک ٹرانس میں ہی یہ الفاظ اس کی زبان سے نکلے تھے۔
تم جیسی لڑکیوں سے شادی کون کرتا ہے ازلفہ سبحان، اپنے داداجان کے آنسوؤں سے مجبور ہو گیا تھا۔
کیونکہ داداجان کو لگتا تھا تم راستہ بھٹک گئی ہو، تمہاری تربیت غلط ہوئی ہے، تمہیں راہ راست پر لانے کے لیے ایک کوشش کرنی چاہئے۔ مگر انہیں کیا پتا تھا جس کی ماں بدکردار تھی اس کی بیٹی کیسے راہ راست پر آ سکتی ہے۔
دادا جان کے کہنے پر اس شرط پر ہی تم سے نکاح کیا تھا اگر تم ذرا بھی نہیں سدھری یا تم میں ایسی کوئی برائی نظر آئی جس سے میری فیملی متاثر ہو اسی دن باہر پھنکوا دوں گا تمہیں، اور تم ہماری فیملی پر انگلی اٹھا رہی ہو، میرے دوست کو ذلیل کر رہی ہو، اتنی ہمت ہے تمہاری ۔ وہ بول نہیں رہا تھا وہ تو پچھلے تین دن کے غصے سے اس لڑکی کو قبر میں اتار رہا تھا اور پہلی بار ازلفہ سبحان بس سن رہی تھی، خاموشی ایسی تھی جیسے وہ گونگی ہو، اور ولید حسن کی آواز ایسی سرد اور تیز تھی وہ سننا بھی نہیں چاہتی تب بھی الفاظ اس کے کانوں تک پہنچنے ہی تھے۔
دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے اس کی آواز سن کر سب اس کے روم کے باہر آ کھڑے ہوئے تھے اس کے غصہ کو دیکھتے کوئی بھی اندر نہیں آیا اور نہ اسے روکنے کی کوشش کی، شاید وہ لوگ ازلفہ سبحان کو اس برتاؤ کا مستحق سمجھ رہے تھے۔ اس کے لباس کی وجہ سے مردوں کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
حسن صاحب اور حسین صاحب آج تماشائیوں میں تھے، کچھ دیر پہلے جب آسیہ حسن اور سلمیٰ نے ازلفہ سبحان کی آج حد درجہ کی ہوئی بدتمیزی بتائی تھیں تو انہیں بھی غصہ آیا تھا اور اپنے باپ کے فیصلے سے پہلی بار اختلاف ہوا تھا۔
بس کرو ولید بیٹا، کیچڑ میں پتھر نہیں مارا جاتا، اس کے بری طرح جھنجھوڑنے سے ازلفہ سبحان نڈھال ہو رہی تھی۔ جب آسیہ حسن نے آکر ولید کے ہاتھوں سے اس کے بازو چھڑوا کر جھٹکے تھے۔
اور ازلفہ سبحان تو کسی بت کی مانند خاموش کھڑی تھی۔
یہ فرق ہے میری ماں اور تم میں،مگر تم نے آج جو بد تمیزی کی دل تو کر رہا ہے جان لے لوں تمہاری مگر تمہارے خون سے اپنے ہاتھ گندے نہیں کرنا چاہتا۔معافی مانگو ان سے۔
میں نے کہا معافی مانگو، اب کے وہ چلایا تھا، مگر ازلفہ سبحان نے قدم پیچھے لیے تھے گویا نہیں مانگےگی۔ اس کی اس حرکت پر ولید حسن نے اسے پکڑ کر اپنی ماں کے سامنےکھڑا کیا مگر وہ پھر بھی خاموش رہی تھی۔
نہیں مانگوگی تم معافی، اس کے پوچھنے پر اس کی گردن بنا کسی احساس کے نفی میں ہلی اور سب کو یہ اس کی ہٹ دھرمی لگی تھی۔ اس کے نفی میں گردن ہلانے پر ولید حسن کا ہاتھ ایک بار پھر گھوما اور اس بار ازلفہ سبحان آسیہ حسن کے قدموں میں گری، ہونٹ کا ایک کون پھٹا تھا جس سے خون کی ایک پتلی سی لکیر اس کی ٹھوڑی تک آئی تھی۔ مگر وہ خاموش ابھی بھی رہی گویا نہ بولنے کی قسم کھا لی ہو۔ تینوں لڑکیاں ولید حسن کا یہ روپ دیکھ کر دنگ تھیں۔ جس بھائی پر انہیں غرور تھا جس کے نیک دین دار ہونے میں انہیں کوئی شک نہیں تھا وہ بھائی ایک لڑکی کے لیے اور لڑکی بھی وہ جو ان کی بیوی ہے، اتنے برے الفاظ استعمال کر رہا تھا۔ انہیں ازلفہ سبحان پر ترس آیا تھا۔
کیا ہو رہا ہے یہاں؟ حیدر صاحب جو آخری منظر دیکھ پائے تھے وہ ازلفہ سبحان کو پڑنے والا دوسرا تھپڑ تھا جس سے وہ ابھی بھی زمین پر پڑی تھی، وہ شاکڈ تھے اپنے بہترین پوتے کا اپنی نواسی کے ساتھ یہ برتاؤ دیکھ کر۔ ہر کوئی ان کی آواز پر پلٹا تھا جن کے ساتھ نا صرف موحد اور آذر تھے بلکہ حذیفہ بھی کھڑا تھا۔ اس وقت پورا گھر اس کے روم کے باہر کھڑا اندر کا منظر دیکھ رہا تھا۔ جو کسی کے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا۔
میں نے کہا تھا نا آپ سے داداجان، یہ لڑکی شادی کے لائق نہیں ہے، یہ جس گندگی سے آئی ہے اسے وہیں پہنچا دے۔ میں اس لڑکی کو اپنے گھر میں مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ ولید حسن اسے چھوڑ کر حیدر صاحب کے سامنے آیا۔
جانی پہچانی آواز پر ازلفہ سبحان نے سر اٹھا کر آواز کی سمت دیکھا تھا اور یہ تیسرا تھپڑ تھا جو چہرے پر نہیں اس کے دل پر لگا تھا۔ زبردستی اس نے خود کو کھڑا کیا اور لڑکھڑاتے قدموں سے حیدر صاحب کے سامنے آ کھڑی ہوئی، اس کی ابتر حالت اور چہرے پر گہرے چھپے انگلیوں کے نشان ان کا دل تڑپا گئے تھے، پچیس سال پہلے ایسے ہی دو تھپڑ انہوں نے اپنی بیٹی کو مارے تھے۔ کرب کیسا تھا جو ان کا دل چیر رہا تھا۔ ولید حسن مٹھیاں بھینچے اسے دیکھ رہا تھا سب لوگوں کا وہی حال تھا۔ شاید آج فیصلہ کی گھڑی تھی۔
***************
حیدر صاحب اسے بے بسی سے دیکھ رہے تھے جو انہیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی جیسے اس کے کہے الفاظ سچ ہوئے ہوں۔ میں نے کہا تھا نا آپ سے، آپ کی اولاد کمزور ہے، منافق ہے، وہ ازلفہ سبحان کو برداشت نہیں کرے گی، بس آپ کی بیٹی اچھی تھی۔ کیونکہ وہ ازلفہ سبحان کی ماں تھی۔
ایک اسٹوری سناتی ہوں آپ کو۔ اس کے کہنے پر سب نے اسے ایسے دیکھا تھا جیسے وہ پاگل ہو گئی ہو۔ مگر شاید حیدر صاحب اس کی اذیت کو سمجھتے تھے، تبھی نفی میں سر ہلا رہے تھے۔
ازلفہ سبحان اپنے ماں باپ کی شادی کے ایک سال بعد دنیا میں آئی، اس کے ماں باپ کو اس سے بہت محبت تھی، جب وہ سات سال کی ہوئی تو اس کی ماں نے بتایا کہ ازلفہ سبحان کے مامو مامی اور نانا نانی ازلفہ کی ماں سے نفرت کرتے ہیں فقط اس لیے کہ اس کی ماں نے لو میرج کی۔ سات سال کی بچی کو اس کے ماں باپ نے ساری حقیقت بتادی۔ اسے کچھ سمجھ تو نہیں آیا لیکن اس کہانی کا ہر لفظ اسے یاد رہ گیا۔ اس کی ماں نے بتایا کہ ان کی فیملی کے لوگ بہت اچھے ہیں انہوں نے ہی غلط کیا۔ تو اس بچی نے وہ بات مان لی۔ اور اپنے نانا، نانی، ماما، مامی کی ناراضگی ختم ہونے کی دعا کرنے لگی۔
پھر اس پر ایک قیامت ٹوٹی، اس کے ماں باپ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا، اس کا بھائی جو اس دنیا میں آنے والا تھا وہ بھی ساتھ چلا گیا۔ آخری وقت میں اس کی ماں نے کہا کہ تمہارے نانا آئیں گے ان کے ساتھ چلی جانا ورنہ یہ دنیا تمہیں خراب کر دےگی، اور بچی کو اس خراب دنیا سے ڈر لگنے لگا۔بچی رو رو کر اپنے نانا کا انتظار کرتی، ایک دن، دو دن، تین دن، ایک مہینہ گزر گیا، مگر اس کے نانا نہیں آئے۔
بیٹا یہ وجہ۔۔ حیدر صاحب نے کچھ بولنے کی کوشش کی مگر اس نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
نو نو، اب لاسٹ ٹائم صرف ازلفہ سبحان بولےگی اور سب سنیں گے۔
اور پھر اس بچی کو اس کے گریڈی انکل آنٹی اپنے ساتھ دبئی لے گئے ان کا ایک بیٹا تھا جو بچپن سے بیمار اور بہت کمزور تھا جو اس بچی سے ایک سال چھوٹا تھا اس کی ماں نے بتایا تھا کہ وہ اس کا فوسٹر بردر ہے، وہ بچی اس میں اپنے کھوئے ہوئے بھائی کو دیکھتی تھی اس کی اس سے محبت بالکل سگے بھائی جیسی تھی۔
وہاں ان دونوں کا ایڈمشن کروا دیا صرف فارمیلٹی کے لیے، جن بچوں کو اس عمر میں اپنوں کی ضرورت تھی وہاں ان کا کوئی اپنا نہیں تھا۔ انکل آنٹی دونوں جاب کرتے ان کے پاس ان بچوں کو پالنے کی فرصت ہی نہیں تھی۔
ایک بار دونوں بچے اسکول جا رہے تھے جب کچھ گندے لڑکے اس بچی کو دیکھ کر اسے ہراس کرنے لگے، اس کے اس کمزور بھائی نے اسے بچانے کی کوشش کی مگر ان لوگوں نے اسے مارا، اور پھر اس بچی کو زبردستی کھینچ کر لے جانے لگے، جب دس بارہ سال کے دو لڑکوں نے ان لڑکوں پر پتھر برسائے اور وہ لوگ اس بچی کو چھوڑ کر اپنی جان بچا کر بھاگے۔ اور اس کے بعد وہ دونوں لڑکے ان دونوں بچوں کے دوست بن گئے، اور ان دونوں بچوں نے بتایا کہ وہ دونوں آرفن (یتیم) ہیں اور بس پھر یہ وہاں ایک دوسرے کے اپنے ہو گئے اور ان کے ساتھ دو لڑکیاں اور تھیں۔ اور یہ چھ لوگوں کا گروپ ایک دوسرے کے لیے سارے رشتے بن گیا۔ ایک مکمل آرفن فیملی۔
جانتے ہو ولید حسن وہ لڑکے کون تھے؟ وہ خاموش کھڑے ولید حسن کی طرف گھومی۔
جان اور راحیل، جنہیں تم نے میرے آوارہ یار کہا۔ جنکا تم نے مجھے کھلونا کہا، جانتے ہو وہ میرے کیا ہیں؟
اگر حفاظت کرنے پر دیکھو تو باپ اور بھائی، اور ازلفہ سبحان کی تکلیفوں کو کم کرنا ہو تو ماں اور دوست۔ مگر مجھ جیسی بدکردار لڑکی کی بات تم جیسے نیک لوگ نہیں سمجھوگے۔ اس کی بات پر ولید حسن کے ساتھ باقی لوگ بھی خود کو زمین میں گڑا محسوس کر رہے تھے۔
: کوئی بھی اسے روکنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا جو ازلفہ کچھ دیر پہلے خود بت بنی ہوئی تھی اب سب کو بت بنا رہی تھی۔
اس کے گریڈی انکل نے آٹھ سال کی عمر میں اسے ایک پھولوں کی دکان پر کام پر لگا دیا اس کی دیکھا دیکھی اس کے دوست بھی اسی دکان پر کام کرنے لگے کیونکہ ازلفہ سبحان ان کی پرنسیز تھی اور وہ اسے کبھی کبھی اکیلا نہیں چھوڑنے والے تھے۔ اور یہ بات انہوں نے پروو کر کے دکھائی
وہاں کسی کو کسی سے کوئی مطلب نہیں تھا نہ ان بچوں کی اپ برنگنگ کرنے والا کوئی تھا، وہ بچے خود اپنے آپ کو پال رہے تھے اور وہ بچی بیشک اپنے دوستوں میں مگن تھی مگر وہ اس ماحول میں ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی تھی اسے اس وقت بھی اپنے نانا کا انتظار تھا جو اس کو اس گندے ماحول سے نکال کر اچھے ماحول میں لے کر جاتے مگر اس بچی کا انتظار انتظار ہی رہا۔ حیدر صاحب نے تکلیف سے آنکھیں میچی تھیں۔ اور ولید حسن اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے زندگی میں پہلی بار دیکھا ہو۔
فلاور شاپ پر آنے والے کسٹمرز ان تینوں بچیوں کو بہت گندی نظروں سے دیکھتے اور بہانے بہانے سے انہیں ٹچ کرنے کی کوشش کرتے مگر ان کے تینوں دوست باڈی گارڈ کی طرح انہیں پروٹیکٹ کرتے۔ انہیں کام میں غلطی کرنے پر مار بھی پڑتی مگر وہ لوگ ہمت نہیں ہارتے تھے۔
جانتے ہیں کیوں؟ مسکرا کر حیدر صاحب کی آنکھوں میں جھانکا جہاں نمی تیر رہی تھی۔
کیوں کہ اگر وہ بچے مار کھا کر آرام کرتے تو بھوک سے مر تو جاتے مگر ان کا کوئی خیرخواہ آنے والا نہیں تھا جو انہیں اس مشقت سے بچاتا۔ کیونکہ وہ تو یتیم تھے، ان کا تو کوئی بھی نہیں تھا سوا ان کے خود کے۔ وہ سب ایک دوسرے کی ہمت بندھاتے اور پھر اگلے دن اور اچھا کرنے کی کوشش کرتے۔ حیدر صاحب اسے روکنا چاہتے تھے مگر بار بار صرف ان کے ہونٹ پھڑپھڑا کر رہ جاتے۔
جاری ہے
