Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode13

Hidayat by Ain Noon Alif Episode13

لڑکھڑاتے قدموں سے وہ اندر آئی تھی، قدم جما کر چلنے سے درد میں اضافہ ہو رہا تھا مگر جب تکلیف دل میں ہو تو جسم کی تکلیف نظرانداز ہو جاتی ہے۔
حالات جس طرح کے ہو رہے تھے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے، مگر نہ اسے خود پتا تھا نہ کوئی بتانے والا تھا۔ اسے ایک رہنما اور ایک رہبر کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ ہاں آج وہ ایک ساتھی کی ضرورت محسوس کر رہی تھی، ایسا ساتھی جس کے سامنے وہ اپن ہر درد و غم کہہ دے اور اسے شرمندگی بھی نہ ہو۔ مگر جو ہو رہا تھا وہ اس کی سمجھ سے بالا تر تھا۔
کل ولید حسن اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا، وہ اس شادی کو ایکسیپٹ کر رہا تھا مگر اس کا دل اس پر راضی نہیں تھا، اس کی فیملی نے اس سے معافی مانگی، اسے اس کی خراب طبیعت کا حوالہ دے کر اسے روکنے کے کوشش کی، مگر جس کے لیے اس کا دل راضی نہیں ہوتا تھا وہ نہیں کرتی تھی، زندگی اب تک ایسے ہی تو گزاری تھی بنا دل کے بس ایک فارملٹی سمجھ کر، مگر اب وہ اس سے تھک رہی تھی اسے ایسا راستہ چاہیئے تھا جس پر چل کر وہ کبھی تھکے نہ، جس کی منزل ایسی ہو کہ وہ اس کی جستجو میں ہر مشکل ہر امتحان کو فیس کر لے۔
“راستہ اللہ سے مانگو اور پھر وہ راستی خود تلاش کرنے میں لگ جاؤ، پھر وہ جو دے اسے قبول کر لو، اور اس پر راضی ہو جاؤ، اور اسلام کے علم کے سوا وہ راستہ تمہیں کہیں نہیں ملے گا”۔ حیات نوفل احمد خان کی آواز کانوں میں گونجی تو جیسے پھر سے جستجو کی طلب ہوئی۔
اسلام! اوہ اللہ مجھے اسلام کا علم دے، ایک آہ کے ساتھ اس نے آنکھیں موند کر سر کرسی کی پشت سے ٹکایا تھا۔
باہر سے ذیشان کے چلانے کی آواز آ رہی تھی، وہ آج حقیقتاً اپنے والدین کو آئنہ دکھا رہا تھا۔ جو انہوں نے اب تک کیا تھا سب کا آج حساب لے رہا تھا۔ اب یا تو اس کا رزلٹ بہترین آنے والا تھا یا بدترین، اور اس نے بہترین ہونے کی دعا کی تھی۔ ذیشان کی آواز کے ساتھ اب دوسری آوازیں بھی شامل ہو رہی تھیں مگر اس نے جاننے کی کوشش نہیں کی تھی، اس کا پیر اکڑنے لگا تھا خون نکلنے سے پیر میں گیلاپن محسوس ہو رہا تھا۔ اور شاید اس کا چہرہ بھی۔ کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا تھا اس کی نظروں کی تپش پر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور پھر واپس موند لیں، وہ واقعی اب ان سب حالت سے تھک گئی تھی، لوگوں سے، اپنے آپ سے۔ اب اسے جلد از جلد اپنی بے بسی، اپنی کمی، اور اپنی بےسکونی کا علاج کرنا تھا۔
**********************
ابھی مسجد سے وہ مغرب کی نماز پڑھ کر گاڑی میں آ کر بیٹھا تھا، کل کی موسم ابر آلود ہو رہا تھا، آسمان کی سیاہی شدید بارش کا اعلان کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد واقعی بارش شروع ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے وہ گاڑی سٹارٹ کرتا، زینب کی کال آئی تھی، باری باری سب لوگ اسے کال کر رہے تھے مگر اس کا ارادہ کسی سے بھی بات کرنے کا نہیں تھا، چھ گھنٹوں سے وہ یونہی بھٹک رہا تھا، مگر اب زینب کی کال دیکھ کر اسے ازلفہ کی یاد آئی تھی۔ اس نے بےتابی سے کال ریسیو کی، اور جو خبر اس نے سنائی وہ اس کی تھکن اور تکلیف میں مزید اضافہ کر گئی۔ آج اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا، ولید جیسا مضبوط انسان بھی اس سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تھا۔
********************
زینب سے بات کرنے کے بعد وہ اس گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا جہاں اس نے کبھی نہ آنے کی قسم کھائی تھی۔ اور “اللہ انسان کی سچی جھوٹی تمام قسموں وعدوں میں آزماتا ہے”، زندگی کا ایک نیا سبق آج اس نے سیکھا تھا، اب دیکھنا یہ تھا وہ اس سبق کو سمجھتا کتنا تھا۔
میسیج ٹون پر ایک بار پھر اس نے انباکس کھولا تو داداجان کا میسیج دیکھ کر حیران ہوا۔
“تم نے توبہ کی، مگر اللہ نے مکمل رضامندی نہیں دی، کیونکہ وہ صرف تمہارا رب نہیں ہے، وہ اس کا بھی رب ہے جسے تم نے اس کے کردار پر انگلی اٹھا کر اس کی روح کو گھائل کیا، اور اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے، تم نے جیسی اسے تکلیف دی اللہ نے بالکل ویسی ہی تکلیف تمہیں دی، بنا قصور اور بنا غلطی کے، اور وہ بہترین ستار ہے، تم نے جس بیوی کو تکلیف دی اللہ نے اسی ک ذریعہ بنا کر تمہیں اس کا بدل دیا، تمہیں ظاہر کر کے اور اس کی ستاری کر کے بہترین انصاف کیا”۔ اب یہ تم پر منحصر ہے کہ تم اس سے کیا سیکھتے ہو۔ ہم جانتے ہیں تمہارے ساتھ وہ لڑکی کوئی اور نہیں ازلفہ ہے۔ داداجان کا میسیج پڑھ کر وہ ساکت ہوا تھا۔ جس توبہ کو بنیاد بنا کر وہ اتنا کچھ کر رہا تھا، فاروق شیخ کے آفس کی دھجیاں بکھیر کر آیا تھا۔ اصل معاملہ تو ازلفہ کی معافی سے حل ہونے والا تھا۔ بات سمجھ آئی تو غصہ خود بخود کم ہوتا چلا گیا۔
دروازہ کھلا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی وہ ناک کرنے ہی جا رہا تھا جب اندر سے آنے والی آوازوں پر بنا ناک کیے ہی داخل ہو گیا اسے دیکھ کر وہ لوگ خاموش ہو گئے تھے۔ ذیشان کو دیکھا تو وہ تو رو رہا تھا، اس کے ماں باپ کروفر سے کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ ذیشان کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔
ازلفہ کہاں ہے؟ اس نے کچھ اور پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔
آپ کیا کرنے آئے ہیں؟ اور کیا کرنا ہے آپ کو ازلفہ سے، آپ کو آپ کی رقم واپس مل گئی نا تو اب آزاد کر دیں اسے، ورنہ ان جیسے لوگ آپ کے کرموں کی وجہ سے اس کا جینا حرام کر دیں گے۔ اس نے اپنے ماں باپ کی طرف اشارہ کیا جو ایسے کھڑے تھے جیسے مجرم عدالت میں کھڑا ہوتا ہے۔
ان لوگوں نے دھوکے سے شادی کروائی تھی آپ سے اس کی، مگر آپ لوگ تو اس سے بھی بڑے دھوکے باز نکلے۔ زوبیہ جو روم کا دروازہ بند کر رہی تھی اسے دیکھ کر باقی لوگوں کو انفارم کرتی وہیں آ کھڑی ہوئی، سب اس سے طلاق کی وجہ پوچھ رہے تھے، جو ازلفہ نے کسی کو نہیں بتائی تھی وہ یہاں پر اس کی اس خوبی کا معترف ہوا تھا۔
آپ لوگوں کو ساری حقیقت جاننی ہے؟ اپنا سارا غصہ وہ دروازے کے باہر ہی پھینک آیا تھا اب ازلفہ کے معاملے میں اسے بہت کچھ پس پشت ڈالنا تھا ورنہ مسلمانوں سے بدگمان لڑکی اسلام سے ہی بدگمان رہےگی اور یہ سب اس جیسے مسلمانوں کی وجہ سے ہوتا جو وہ ہونے نہیں دینا چاہتا تھا۔
ہاں، سب کچھ، اور یقین کرو اگر کوئی ایسی بات ہوئی جس سے ہماری ازلفہ کو تکلیف پہنچی تو ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ جان کے کہنے پر اس نے ایک گہرا سانس لیا تھا یہ واقعی اس کے سالے تھے۔ بالکل مخلص، مگر انہیں اسلام کی طے کردہ حدود کو سمجھنا ضروری تھا ورنہ ان کی اچھائی کسی کام نہیں آنے والی تھی۔ وہ ان سب کو ازلفہ کے سامنے تمام حقیقت بتانے کا فیصلہ کرتا اس کے روم میں آیا، اور اس کا حال دیکھ کر اسے غصہ بھی آیا تھا اور ترس بھی، بلا وجہ زندگی الجھ گئی تھی، مگر کیا واقعی بلا وجہ ہی الجھی تھی یا قدرت کا کوئی اور ہی فیصلہ تھا؟۔
******************
میں ولید حسن نا صرف ازلفہ کا ہسبینڈ ہوں بلکہ اس کا کزن بھی ہوں، حیدر بخاری صاحب کے تین بچے، حسن، حسین، ثمینہ، وہ ون لوگوں کو شروع سے تمام باتیں بتانے لگا اس بیچ ازلفہ نے ایک بار بھی آنکھیں کھول کر اسے نہیں دیکھا تھا۔ ولید کی نظریں اس کے پیر پر جمی ہوئی تھیں جو خون سے بالکل سرخ ہو چکا تھا اور وہ سرخی فرش پر بھی ایک لکیر کی صورت لگی ہوئی تھی۔
میں نے دین معاشرے کے سیکھا، السلام کو جاننے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی، ورنہ جان جاتا، اگر چھوٹے کپڑے پہننے والیاں غلط ہیں تو انہیں دیکھنے والے بھی اتنے ہی غلط ہیں، اور اللہ برابر انصاف کرنے والا ہے دونوں کے ساتھ۔ میرے ساتھ بھی ہوا۔ وہ انہیں ازلفہ سے کی گئی زیادتیاں اور آج کا پورا قصہ بتانے لگا۔ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے والا اور پھر انہیں سدھارنے والا انسان تھا، غلط پر ڈٹے رہنا اس کی سرشت میں نہ تھا، اسی لیے تو وہ سمجھ کر اب ازلفہ سے معافی کا طلبگار تھا۔ چاہے جیسے بھی ملتی، کیونکہ اس کی معافی میں ہی اس کے رب کی معافی تھی۔
اتنا غلط کیا آپ نے اس کے ساتھ۔ سب شاکڈ تھے، ازلفہ نے اتنا کچھ سہا اور ان میں کسی کو بھی خبر نہیں۔
ہوش سنبھالا تو ماڈرن یعنی آزاد خیال گھومنے والی عورتوں و لڑکیوں کے قصے کہانیاں سنیں، لوگوں کے ایمان اس فتنے سے متزلزل ہوئے، گھر کے گھر تباہ ہوئے، لوگ حلال کو چھوڑ کر حرام میں پڑے رہتے ہیں۔
اسی وجہ سے آزاد خیال اور ماڈرن لڑکیوں سے نفرت ہو گئی اور ازلفہ سے اس لیے زیادہ تھی کیونکہ اس سے ہونے وجوہات دوسری تھیں۔ مگر میں غلط تھا۔ ہم لوگ معاشرے سے دین سیکھ کر اس پر چل رہے ہیں اسلام نے کیا سکھایا اسے سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، لوگ کہتے ہیں چھوٹے چھوٹے کپڑے پہننے والی بےحیا، کوئی یوں نہیں کہتا کہ ان عورتوں کو بے باکی سے دیکھنے والا مرد بھی بے غیرت ہے، میں بھی اسی معاشرے کا ایک حصہ ہوں مجھے بھی یہ جاننے میں وقت لگا۔ مگر معاشرے سے سیکھا جانے والا دین واقعی انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا اور اس کی ایک جھلک نہیں بلکہ پوری فلم میں دیکھ کے آیا ہوں۔
میں نے ازلفہ کے لباس اور اس کے چنندہ کام کی وجہ سے اس پر بدکرداری کا الزام لگایا اور قدرت نے مجھ پر میرے الزام کی وجہ سے الزام لگوایا، وہ بھی میری اپنی بیوی کے ساتھ، اور پھر ان لوگوں کو آج کی روداد سنانے لگا، ازلفہ سن کر شاکڈ ہوئی تھی مگر آنکھیں موندیں خاموشی سے سن رہی تھی۔ اس کا دل تڑپ رہا تھا۔
آپ اپنی غلطی پر خود اتنے گلٹی ہیں تو ہم لوگ کیا کہیں، اگر ازلفہ آپ کو ایکسیپٹ کرتی ہے تو ہم لوگوں کو کوئی اشو نہیں ہے، اور آپ نے جو ہماری ٹکٹس کینسل کروائی ہیں ان کا حساب بھی یہی لےگی، سب نے باری باری اس کی کلاس لی تھی، اور پہلی بار وہ لوگ اسے معصوم اور دنیا کی چالاکیوں سے دور بہت مخلص لگے تھے۔ دل صاف ہوا تھا تو ہر چیز واضح ہو گئی تھی۔
*********************
دونوں روم میں اکیلے رہ گئے تھے، اس کی نظریں ازلفہ پر جمی تھیں جو شدت ضبط سے خود کو کنٹرول کر رہی تھی، چہرہ ضبط کی شدت سے سرخ ہو رہا تھا، آنکھیں بند تھیں مگر گریہ وزاری کو بےتاب۔ اسے تکلیف ہوئی تھی اس کے حال سے، اپنے دل کو اس کی طرف متوجہ ہونے سے وہ روک نہیں پا رہا تھا، اس کے ساتھ ایک لمبا سفر طے کرنے کی خواہش منہ زور ہوئی تھی۔ اپنے اندر پنپنے والے جذبے کے تحت اس نے ازلفہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
اس کے ہاتھ کی حدت ازلفہ کے اندر ایک جذبے کو بیدار کر گئی تھی، اسے لگا اب واقعی کوئی ایسا ہے جو اس کا اپنا ہے، جس سے وہ اپنے اندر کی گھٹن بانٹ سکتی ہے جس کے ساتھ وہ سہی راستہ تلاش کر سکتی ہے، جس کے ساتھ وہ اس منزل تک پہنچ سکتی ہے جس کے لیے ان لوگوں کو بنایا گیا۔ مگر وہ اندر کے شور سے پریشان ہو رہی تھی، ایک طرف اس کے الزامات، اس کے ساتھ کیا گیا سلوک، تو دوسری طرف اس کا گلٹ۔
ازلفہ، وہ خود بھی تو تھک چکا تھا خود سے لڑتے لڑتے گلٹ میں جیتے جیتے، دوسروں کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کر کے جینا اور مضبوطی سے اپنا دفاع کرنا آسان تھا مگر اکیلے میں اس کی برداشت کی حد جواب دے جاتی تھی۔ دونوں تھکے ہوئے تھے۔
ازلفہ، پھر سے آواز دی تھی، کتنی نرمی تھی اس کی آواز میں۔
ازلفہ، اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا مقصد اسے اس فیز سے نکالنا تھا۔ اس نے آنکھیں کھول کر سامنے بیٹھے ولید کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اس نے ویسی ہی نمی دیکھی تھی جیسی اس کی فیملی کے ہر فرد کی آنکھ میں تھی۔
مجھے تم سے معافی چاہیے ازلفہ، تم معاف نہیں کروگی تو اللہ بھی معاف نہیں کرےگا۔ اس نے ایک نظر ساکت بیٹھی ازلفہ کو دیکھ کر کہا تھا اس کی خود کی آواز اب بھیگنے لگی تھی۔
آنکھیں رونے کی چاہت میں لرز رہی تھیں، وہ چاہ رہی تھی ولید حسن چلا جائے ورنہ آج وہ اس کے سامنے اپنا ضبط ہار جائے گی۔ اس کا اپنی غلطی پر اس طرح نادم ہونا اس کا دل کیوں قبول کر رہا تھا۔ اس نے کل سڑک پر بے بسی میں جب اللہ سے مدد مانگی تھی تب بھی ولید حسن ہی آیا تھا اور آج جب ایک رہنما ایک ساتھی کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی تھی جو اسے سنبھال سکے تب بھی ولید حسن ہی آیا، الجھن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔
تم جاؤ ولید حسن۔ ضبط شدت اختیار کرنے لگا تو اس نے خود ہی اسے یہاں سے بھیجنا چاہا۔
نہیں جاؤں گا، اگر تمہارا دل ایسے مجھے قبول نہیں کر رہا ہے تو پھر خود کوئی سزا دو، تمہاری ہر سزا منظور ہوگی مجھے۔ مگر تمہیں لیے بغیر نہیں جاؤنگا۔ اس کی آواز میں لرزش محسوس کر کے وہ اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کا اندازہ لگا رہا تھا، اسے حیرانی ہو رہی تھی وہ اسے جان رہا تھا، سمجھ رہا تھا، اس کے چہرے سے وہ اس کی اذیت محسوس کر رہا تھا۔ ازلفہ سبحان کا دل پگھل رہا تھا۔
کیوں نہیں جاؤگے، ضبط چٹخ گیا تھا۔
بولو! کیوں نہیں جاؤگے؟ اب وہ اس کا گریبان پکڑ چکی تھی، جسے اس نے چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ اس کے تمام درد و تکلیف کی اندر پلتی ہوئی گھٹن کو دور ہونے دینا چاہتا اور اس کے لیے اس کا ایک بار بپھرنا ضروری تھا۔
بولو، نفرت تھی نا تمہیں مجھ سے، اچانک تمہیں تمہاری غلطی کا احساس ہو گیا تو تم آ گئے اس رشتہ کو نبھانے اور اگر نہیں ہوتا تو؟ دے دیتے نا طلاق، چھوڑ دیتے مجھے بنا کسی قصور کے، بنا کسی بےوفائی کے، چھوڑ دیتے تم مجھے۔ شرطیں بھی تو مجھے چھوڑنے کے لیے رکھیں تھیں نا۔
ترس کھا رہے ہو نا، زندگی بچپن سے مشکلوں میں گزری ہے چلو لڑکی پر ترس کھا لو، ترس کھا رہے ہو، احسان کر رہے ہو ازلفہ سبحان پر، اسے کنارا دے کر، اس کی بے مقصد، بے مطلب زندگی میں اپنی موجودگی کا احساس دلا کر، ترس کھا رہے ہو نا، مگر اسے ضرورت نہیں ہے تمہاری، تمہارے سہارے کی۔ اپنے پیر کی پراہ کیے بنا وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی، آنسو بے تحاشہ بہہ رہے تھے۔ اس کا خول چٹخ رہا تھا۔
ترس نہیں کھا رہا ہوں، امتحان اللہ معتبر لوگوں کے ہی لیتا ہے، انہیں کو مصائب کی بھٹی میں جلاتا ہے۔ تو میں اللہ کی محبت پر ترس کھا کر کیسے گناہگار ہو سکتا ہوں۔ جو غلطی کی اس کی معافی مانگتا ہوں، اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر اسے بٹھانے کی کوشش کی۔ آنسو صاف کرنے لے لیے بڑھتے ہاتھوں کو اس نے جھٹک دیا تھا۔
کیا چاہتے ہو اب تم مجھ سے؟ ۔تھک کر سوال کیا تھا۔
تمہیں، صرف اور صرف تمہیں، بلا ارادہ جو لفظ نکلا تھا اس سے وہ خود بھی حیران تھا۔ اور ازلفہ سبحان شاکڈ ہوئی تھی۔ اور پھر واپس غصہ آنا شروع ہو گیا تھا۔
مجھے چاہتے ہو؟ کیا کر سکتے ہو میرے لیے؟ مجھ سے معافی کے لیے؟ اس کی طرف دیکھ کر اس نے اسکے چہرے کہ سچائی جاننے کی کوشش کی۔
جو تم چاہو۔ جو سزا دو، وہ شاید لمحوں کے حصار میں تھا یا وہ اسے آج مکمل طور پر لے جانے کا ارادہ کر کے آیا تھا۔ جو بھی تھا وہ اب اپنے کنارے پر پرسکون ہو کر آرام کرنا چاہتا تھا وہ بھی ازلفہ ولید حسن کے ساتھ کیونکہ وہ اس کا ہی کنارا تھا، جہاں سے ازلفہ اور اس کی منزل کا راستہ شروع ہونا تھا۔
ٹھیک ہے، تو کھڑے رہو ساری رات وہاں اس گیلری میں، اور پھر میرا دل چاہے گا تو کر دوں گی معاف نہیں تو نہیں۔ وہ ایسی تو نہیں تھی، وہ کب تکلیف میں دیکھ سکتی تھی کسی کو، تو پھر ولید حسن کے ساتھ وہ کیا کر رہی تھی اسے خود بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، یا شاید وہ اس کی طرف متوجہ ہو رہے اپنے دل سے خوفزدہ ہو رہی تھی۔
ٹھیک ہے، سمپل معافی مجھے چاہیے بھی نہیں تھی، تمہارا ظرف واقعی کمال کا ہے جبھی ایسی بچکانہ سزا کا انتخاب کیا، پہلے تمہارے پیر کہ بینڈیج کروا دوں۔ وہ اس کے انداز میں سختی کی کمی ہوتے دیکھ کر مطمئن ہو رہا تھا۔
نہیں، تمہاری سزا پوری ہونے کے بعد کروں گی۔ جاؤ، اپنے آنسو پونچھ کر اس نے اسے گیلری کی سمت جانے کا اشارہ کیا، جو وہ مسکرا کر سر خم کرتا چلا گیا۔
اور ازلفہ ساکت بیٹھی رہ گئی تھی۔
________
سب میرے ہی گناہ ہیں، میں ہی اصل گناہگار ہوں، بچوں کی پرورش میں بال سے باریک چیزوں کا دھیان رکھا جاتا ہے اور میں نے۔۔۔ روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھنے لگی تھیں۔ جب سے موحد نے انہیں سائٹ پر ہونے والے کارنامے کا بتایا تھا اپنے اعمال کا احساس انہیں اور شدت سے ہو رہا تھا۔ انسان کے الفاظ کیسے اس کے سامنے عمل کی صورت میں آتے ہیں آج دیکھ لیا تھا۔
بھابھی، سب ٹھیک ہو گیا، بس ذرا سا امتحان تھا، لوگ تو ایسے امتحانوں میں سالوں سال پڑے رہتے ہیں ہمارے لیے تو بس گھنٹہ بھر ہی رہا۔ سب انہیں تسلیاں دے رہے تھے۔ مگر ان کا رونا کم نہیں ہو رہا تھا۔
ماں باپ جو کرتے ہیں سلمیٰ وہ اولاد کے سامنے آتا ہے، اپنے بچے پر آئی تو دوسرے کے بچے کی تکلیف سمجھ میں آئی۔ اللہ نہ کرے ہمارے یہ الفاظ ہماری بیٹیوں کے سامنے آئیں۔
آسیہ، اپنے شوہر کی آواز پر انہوں نے سر اٹھایا، آنسوں اور تیزی سے بہنے لگے، ان کے آتے ہی سب باری باری روم سے باہر چلے گئے، پورا ماحول افسردہ ہو رہا تھا۔
میں نہ اچھی بہو بن پانی، نہ اچھی بیوی، نہ اچھی ماں اور نہ اچھی انسان۔ کیسے سہا ہوگا میرے بچے نے ایسا الزام اتنے لوگوں کے سامنے، وہ تو کسی لڑکی کو نظر اٹھا کر بھی اس لیے نہیں دیکھتا کہ اس کے کردار پہ ہلکی سی خراش بھی نہ آجائے۔ اسے بدکردار کہا گیا، کیا گزری ہوگی اس پہ۔
یہ سب میری وجہ سے ہوا، نہ میں اس کے سامنے اس طرح کی باتیں کرتی نہ اسے آزاد لوگوں سے نفرت ہوتی، کاش میں اس دن ازلفہ کی نفرت میں اس سے باتیں نہ کرتی تو اس کے الفاظ اس کی حرکت آج اس کے لیے سزا نہ بنتی۔ مجھے معاف کر دیں میں اپنا حق ادا نہیں کر پائی۔ ان کے ہاتھوں پر سر رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
ریلیکس، غلطی تمہاری اکیلی کی نہیں ہماری بھی ہے۔ ہم سب ہی خطاکار ہیں، مگر ان خطاؤں پر واویلا کرنے سے اچھا ہے کہ ان کو سدھارا جائے اور آئندہ کے لیے احتیاط کی جائے۔ جن کا دل دکھایا ان سے معافی مانگی جائے۔ کیونکہ اللہ! “حقوق اللہ میں کمی معاف کر دے گا، مگر حقوق العباد میں کمی تب تک معاف نہیں کی جائے گی جب تک وہ بندہ معاف نہ کر دے”۔
“ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا، سوچ بدلےگی تبھی حالات بدلیں گے”۔
سہی کہہ رہے ہیں آپ، میں ابا جان سے معافی مانگ کر آتی ہوں، ان کو سب سے زیادہ ٹھیس پہنچائی ہے، اب دیر نہیں کرنی۔
چلو! مجھے بھی مانگنی ہے، خطاکار میں بھی ہوں۔
” کچھ لوگ ذرا سی ٹھوکر سے ہی سبق سیکھ جاتے ہیں اور کچھ ہزاروں ٹھوکروں سے بھی ہدایت نہیں پاتے۔ اور بیشک اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کون ہدایت کا مستحق ہے اور کس کے دل مہر لگائی جاتی ہے”
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *