Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode17

Hidayat by Ain Noon Alif Episode17

ریحان کی باتوں سے تمہیں ازلفہ سے بدگمانی نہیں ہو رہی؟ اس کا اشارہ ریحان کی گئی حرکتوں کی طرف تھا۔ اس کے سوال پر اسے کلب میں اس کا ریحان کے ساتھ ڈانس کرنا جہاں وہ اس کی کمر اور بازو پر ہاتھ پھیر کر اپنے نفس کی تسکین کر رہا تھا۔ کوئی آواز بھی کانوں میں گونجی تھی۔ “انکل آنٹی نے کہا تھا فیانسے کا ساتھ غلط نہیں ہوتا، وہ آدھا شوہر بن جاتا ہے، اگر ازلفہ سبحان کو یہ پتا ہوتا کہ یہ غلط ہے تو وہ ریحان خان زمین میں گڑا ہوا ہوتا”۔ حذیفہ اس کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ دیکھ کر حیران ہوا، وہ کبھی کبھی اس کے لیے مشکل ثابت ہوتا تھا۔
“اٹ از اَ ٹیسٹ فار می فرام اللہ”۔ جب میں نے یہ دیکھا تھا تو میرا دل چاہا تھا ازلفہ سبحان کو زمین کی تہوں میں دفن کردوں۔ مگر جب حقیقت کا ادراک ہوا تو دل چاہا خود کو زمین میں دفن کر دوں۔
کیا مطلب؟ وہ پھر اس کہ لوجک پر حیران ہوا۔
کالج کی فیرویل پارٹی یاد کرو۔ اس کے کہنے پر حذیفہ کو وہ بات یاد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی وجہ سے تو ولید حسن آزاد لڑکیوں سے متنفر ہوا تھا۔ اسی بات پر اس نے کہا تھا کہ عورتیں زنا پر مردوں کو اکساتی ہیں۔ کیسے بھول سکتا تھا وہ کلاس کی ماڈل ٹینی، جس نے آتے ہی ولید حسن کے گال پر کس کیا تھا بنا سوچے سمجھے، اور پھر اس کے ساتھ چپکنے کی کوشش کی تھی، تھوڑی دیر بعد پورا ہال ایک تھپڑ کی گونج سے شانت ہو گیا تھا۔ مگر اس میں ولید حسن کی غلطی کہاں تھی؟ جو وہ ایسا کہہ رہا تھا؟۔
مجھے یاد ہے اس کے بعد لڑکیاں تجھ سے کوسوں دور بھاگنے لگی تھیں. مگر یار اس میں تمہاری غلطی کہاں تھی؟
“اپنے اعمال ہم بھولتے ہیں، اللہ نہیں بھولتا، جب تک ہم اس پر پشیمان نہ ہوں” حذیفہ پوری طرح اس کے فلسفہ پر الجھ چکا تھا۔
تم صاف بات نہیں بتا سکتے؟
بتاؤں گا، شاید میری طرح تم بھی کوئی سبق سیکھو۔ اس کی پر سوچ نگاہیں دماغ کے پردے پر کوئی منظر دیکھ رہی تھیں۔
“وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہوا تھا، یار ولید، جب لڑکیاں اس طرح کھل کر سامنے آئیں گی تو ہم خود پر قابو کیسے رکھیں گے؟ اس کے ایک منچلے دوست نے ٹینی کو ہوس بھری نظروں سے دیکھا، بلا ارادہ اس نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا، اور آدھے کپڑوں میں شعلہ جوالا بنی ٹینی کو دیکھ کر اس کا ذہن جھنجھنا کر رہ گیا تھا، وہ کلاس میں اسے اشارے دیتی رہتی تھی، مگر اس نے کبھی اسے قابل اعتنا ہی نہیں جانا تھا۔ اس نے فوراً اس کی طرف سے نظریں پھیر لی تھیں،
وہ دیکھ تیرے پاس آ رہی ہے۔ فائدہ اٹھا لینا موقع سے، اس کے قریب آنے پر پھر کسی نے جملہ کسا تھا۔ ٹینی اس کے بالکل قریب آ گئی تھی، اس سے پہلے وہ دور ہوتا سب کے سامنے وہ اس کے گال پر اپنے لب رکھ گئی تھی۔ اور پھر زبردستی اس کے ساتھ ڈانس کرنے کی کوشش کی، اس کی حرکت پر ولید کو غصہ تو آیا پھر اس کے وجود کی نرمی اس کے جذبات بھڑکانے لگی تھی، اس نے اس کی کمر پر ویسے ہی ہاتھ رکھا تھا جیسے ریحان نے ازلفہ کے۔ اس سے پہلے وہ کچھ آگے بڑھتا دادی جان کی نصیحت یاد آئی تھی “نظر اور کردار کو ویسا رکھنا جیسا اپنی بیوی میں پسند کرو”۔
اس نے نہ صرف اسے دھکا دیا تھا بلکہ پوری طاقت سے اسے تھپڑ بھی مارا تھا۔ مگر وہ ایک لمحہ کی نفس کی خواہش؟ واقعی “تمہارا رب نہیں بھولتا جو تم کرتے ہو”۔
او مائی گاڈ، کیا اتنی چھوٹی بات پر بھی پکڑ ہوگی؟ حذیفہ کو یاد آیا تھا اپنا زرین کو دیکھنا، کتنی بار اس کے دل نے اسے قریب کرنے کی خواہش کی تھی۔ یا اللہ “معاف کر دے، نکاح تک اس کو دیکھنا حرام” اس میں ہمت نہیں تھی اپنی بیوی میں ایسا کوئی جھول برداشت کرنے کی اور نہ اپنے کیے سزا اس ملتے دیکھنے کی۔
اچھی بات ہے جو توبہ کر لی۔ “عورتوں سے ہی پاکی کی امید رکھنا اور خود گناہوں کے دلدل میں ڈوبے رہنا، نامردوں کی نشانی ہے، کیونکہ اللہ اس کے اعمال مجسم اس کی بیوی کی صورت میں ضرور نوازے گا” یہ اسی نے فرمایا ہے: “پاک مردوں کے لیے پاک عورتیں اور ناپاک مردوں کے لیے ناپاک عورتیں”۔
تمہیں کیسے پتا میں نے توبہ کی؟
بہت رات ہو گئی، جاؤ آ گیا تمہارا گھر۔ اس کے سوال کو نظر انداز کر کے گاڑی اس کے گھر کے سامنے روکی۔ اور اس کےا ترتے ہی اس نے فوراً گاڑی آگے بڑھا دی۔ حذیفہ ایک بار پھر کردار کی باریکی کو سوچ کر توبہ کرتا اپنے گھر کے اندر داخل ہو گیا۔
********************
ایک بجے کے قریب گھر میں داخل ہوا تھا۔ حیدر صاحب کو دیکھ کر مسکراتا ان کی طرف بڑھا، اس کی بیوی سے اچھی ڈیوٹی وہ نبھا رہے تھے اب تک بھی۔
اب تو سو جایا کریں داداجان، بیوی والا ہو گیا ہوں۔ سلام کر کے ان کے گلے لگ کر گویا ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی تھی۔
پہلی بار اتنی رات ہوئی ہے تمہیں گھر کے باہر، وجہ بتاؤ کیوں؟ ان کے دو ٹوک سوال پر انہیں ساری روداد سنانی پڑی۔
مجھے فخر ہے تم پر۔ اللہ ایسے ہی تمہیں نیکیوں پر قائم رکھے۔ اس کے کندھے کو تھپتھپا کر شاباشی دی۔ وہ واقعی ان کا غرور تھا۔
کھانا کھایا؟
کھایا تو تھا مگر اب بھوک لگ رہی ہے۔ اوپر اپنے روم کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
سو گئی وہ، ناراض ہے تم سے۔ ان کے کہنے پر اس نے مسکراہٹ چھپائی۔
جانتا ہوں آپ کی ٹارزن بیٹی، میسج کیا تھا اس نے “ولید حسن تم مجھ سے اب دو دن تک بات نہیں کروگے، اور میں دو دن تک ٹوپی یا رومال پہن کر نماز پڑھوں گی، تم سے نہیں بندھواؤں گی، اور کھانا بھی نہیں کھاؤں گی”۔ ازلفہ سبحان کی کال کو اگنور کیا تم نے۔ اس کا میسج پڑھ کے دونوں دادا پوتا کتنی دیر تک ہنستے رہے تھے۔
کیوں نہیں اٹھائی اس کی کال؟
جو خوشی وہ فون پر سنانا چاہتی تھی اس کی نورانیت اس کے چہرے پر دیکھنا چاہتا تھا اسلیے، اور کچھ بزی بھی بہت تھا اس وقت۔ اس کے ذکر میں اپنی بیوی کے لیے عزت تھی، عقیدت تھی، اور انہیں یقین تھا محبت بہت جلد اپنا آپ منوانے والی ہے اور شاید منوا بھی چکی ہے مگر دونوں نالائق ان کی نظر میں اس بات کو سمجھ ہی نہیں رہے۔ محبت کے نام پر دونوں ہی خاموش جو ہو جاتے تھے۔
چلیں اب انہیں ان کے روم میں چھوڑ کر وہ باہر آیا، دو گلاس دودھ کے بھرے اور اپنے روم میں آیا۔
*********************
لائٹ آن تھی، اور وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سو رہی تھی۔ سینے پر ‘اسلام کیا ہے؟ ‘ کتاب رکھی ہوئی تھی، مطلب وہ پڑھتے پڑھتے سوئی تھی۔
ریحان خان کی باتیں ذہن میں گونجنے لگیں تھی۔ باتیں غلط تھیں مگر اس وقت اس کے جذبات میں کوئی گندگی یا کوئی ہوس نہیں تھی۔ اس کے ہاتھ سے کتاب لے کر سائڈ میں رکھی، اور اسے دیکھنے لگا۔
گہری نیند کو دیکھتے ہوئے اسے سیدھا کرنا چاہا، جب وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر کروٹ بدلنے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ مسکرا کر پھر اسے سیدھا کرنے لگا۔ نیند میں بھی وہ اس سے ناراض تھی۔ اس بار بھی ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کی تو اس نے اس کی مزحمت روک دی۔
میں ناراض ہوں تم سے۔ نیند میں بڑبڑاتے ہوئے اس کا ہاتھ بھی ہٹانے کی کوشش کی۔ نیند میں بھی وہ اسے پہچاننے لگی تھی۔
پوچھوگی تو بتاؤں گا نا، پتا بھی ہے ایک جنگ جیت کر آیا ہوں۔ اس کے کان میں سرگوشی کر کے اس کی نیند کا خمار اڑایا، اور واقعی وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی۔ نیند کے نشے سے بھرپور کھلی ہوئی آنکھیں، اسے نظریں چرانے پر مجبور کر گئیں۔
بتاؤ کیا وجہ تھی؟ دونوں نانا نواسی ایک جیسے، تھانےدار ہونا چاہئے، اس کے سوال پر وہ بڑبڑایا۔
بتاؤ اب یا پھر سے ناراض ہو جاؤں؟ دھمکی پر اسنے گھور کو اسے دیکھا جو ابھی بھی منہ بنائے ہوئے تھی، نیند کا خمار کم ہو رہا تھا۔
بات خطرناک ہے، تم فریش ہو کر آؤ پھر تفصیل بتاتا ہوں۔ وہ اسے بات کرنا چاہتا تھا یا شاید۔
اوکے، بٹ ایوری تھنگ۔ وہ بیڈ سے اتری مگر شلوار کے پائچہ میں الجھ کر وہ گرنے والی تھی جب ولید نے اس کا بازو پکڑ کر گرنے سے روکنے کی کوشش کی، بازو شاید زور سے کھینچا تھا جبھی وہ اس کے اوپر ہی گری۔
میں نہیں پہنوں گی اب ایسے کپڑے۔ تم مجھے اپنے جیسے کپڑے لا کر دو، مجھ سے نہیں سنبھلتے یہ۔ اس کے اوپر سے اٹھتے ہوئے ایک اور اعتراض رکھا۔
ہا ہا ہا ہا اب تو یہی پہننے پڑیں گے میری جان، اس کے اطراف ہاتھوں کا گھیرا بنا کر اس کے اٹھنے کی کوشش ناکام کی۔
کیوں، تمہارے جیسے فل کیوں نہیں پہن سکتی؟ اس کی قربت اسے بوکھلا رہی تھی۔
کیونکہ آپ ﷺ نے “اس مرد پر لعنت فرمائی جو عورتوں کا سا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر بھی لعنت فرمائی ہے جو مردوں کا سا لباس پہنتی ہے”۔
اوہ! مگر میں نے تو پہنے ہیں، ذیشان، جان، راحیل سب کے تو کیا مجھ پر بھی لعنت ہو رہی ہوگی؟، اس کی آنکھوں میں نمی آئی تھی۔
اونہہ، تم پر نہیں ہو رہی ہے، جو توبہ کر لیتے ہیں ان کو معافی مل جاتی ہے۔ اس کی آنکھوں کی نمی صاف کی۔
تم نے پہلے کیوں نہیں بتائی یہ بات؟ مزاحمت ترک کردی تھی۔
شاپنگ نہیں کروائی تھی؟، بھول گئیں؟۔ اس کی ناک دبا کر اسے شاپنگ یاد دلائی۔
وہ تو غصہ میں دلائے تھے۔
ہاں، اسی لیے تم پر اثر نہیں ہوا تھا، اللہ کے لیے کرتا تو ہوتا جیسے اب ہو رہا ہے۔
مطلب، ہر کام اللہ کے لیے کرنا ہے؟ اس کے سوال پر اس نے ہاں کہا۔
کپڑوں پر اور حدیث سناؤ۔ اس کی ڈمانڈ پر اس نے وہی حدیث بتائی جو کچھ دیر پہلے وہ فاروق اور اس کی بیٹی کو سنا کر آیا تھا۔
اوہ، میری لاسٹ ڈریسنگ، اب کے تو آنسو باہر ہی نکل آئے۔
ازلفہ یار، نہیں جاؤگی جہنم میں۔ اور تم نے وہ سب انجانے میں کیا، اور اللہ معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم سے راضی ہے تبھی تو دیکھو تمہارے لیے ہر چیز آسان کرتا جا رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے اب تم غفلت سے جاگ جاؤ، اور جگا دیا تمہیں۔ اس کا سر سینے پر رکھا،
سچ میں؟
بالکل سچ میں۔
بات نہیں بتائی تم نے؟ اتنے کہاں بزی تھے جو میری کال ریسیو نہیں کی؟ پتا ہے زرین، زینب ہنس رہی تھیں مجھ پر کہ تمہیں مس کر رہی ہوں۔ جبکہ مجھے تمہارے لیٹ ہونے کی فکر تھی اونلی۔
تم نے مس نہیں کیا تو کون سا میں نے تمہیں مس کیا۔ اس کی بات پر اس نے گھور کر دیکھا۔
اوکے بابا، بتاتا ہوں اب جاؤ، پہلے فریش ہو کر آؤ، پھر یہ ملک پیو، کھانے کا ٹائم تو نکل گیا۔ اس کی خود پر سے اٹھنے میں مدد کی۔ اس کے واشروم جانے کے بعد وہ سیدھا ہوا، ہاتھ اور گردن کو ہلا کر جیسے سستی بھگائی۔
اب بتاؤ۔ فریش ہو کر وہ اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی، اس کے بیٹھتے ہی اس نے دودھ کا گلاس اس کی طرف بڑھایا، جو اس نے منہ بناتے ہوئے تھام لیا۔ چھوٹے چھوٹے سپ کے ساتھ وہ اسے باتیں بتانے لگا۔ ان کی ناراضگی اسے اچھی نہیں لگ رہی تھی۔
بہت اچھا کیا، زبان بھی کاٹ دینی چاہئے تھی، کون تھا وہ؟ اس نے اسے فاروق کی بیٹی کا ہی واقعہ سنایا تھا۔ اس کے بارے میں کہی ہوئی باتیں اس نے بتانا ضروری نہیں سمجھا۔
آنکھوں کا نہ ہونا کافی ہوگا اس کے لیے۔
تم واقعی ہیرو بنتے جا رہے ہو۔ یو نو اسلام میں ایسے ہی لوگوں کو ہیرو کہا جاتا ہے۔ اس کی تعریف پر اس نے اس کے دھلے دھلائے چہرے پر نظر ڈالی۔ آنکھوں کو ایک ڈھنڈک مل رہی تھی۔
تمہیں ڈر نہیں لگا، مجھے کچھ ہو جاتا یا میں یہ کام نہیں کر پاتا؟ عمومًا بیویاں اپنے شوہروں کو ایسے خطرناک کاموں میں پڑنے نہیں دیتیں۔
ڈر کیسا، تم میرا فون اٹھا کر مجھے بتا دیتے تو میں بھی چلتی تمہارے ساتھ، دونوں مل کے ہڈی پسلی توڑتے اس کی۔ اور آج دن میں ہی تو پڑھا تھا میں نے ایمان والے دوسروں کی مدد کرنے والے ہیں۔ اور جو اللہ کے لیے دوسروں کی مدد کرتے ہیں اللہ ان کی مدد میں اپنی مدد شامل کر دیتا ہے۔ اور زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی بات پر اسے تمام تھکن زائل ہوتی ہوئی محسوس ہوئی، ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اسے حیران کر رہی تھی۔
تم کیوں کال کر رہی تھیں۔ اسے لیٹنے کا اشارہ کر کے خود بھی اس کے برابر میں لیٹ گیا۔
تمہیں یہ بتانے کے لیے کہ میں نے پوری آیت الکرسی یاد کر لی، تم نے کہا تھا میں پورے دن میں بھی یاد نہیں کر پاؤں گی، ایک گھنٹے میں یاد کر لی میں نے۔ مگر اگلے پل کچھ یاد آنے پر ازلفہ نے ایکدم سے سر اٹھایا۔
اور تمہیں پتا ہے؟ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ بتاتے ہوئے اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ اور یہی چمک تو وہ دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کی طرف کروٹ لیے وہ اس پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
زینب نے دوپٹہ باندھا، اب میں کل سے اور پریکٹس کروں گی، کیا ڈوپٹہ کی جگہ کچھ اور نہیں لے سکتے یہ بالکل نہیں سنبھلتا، کتنا بڑا کمبل جیسا ہوتا ہے۔
ہا ہا ہا ہا ہا آسان ہو جائے گا، اللہ سے مانگو سب مل جائے گا۔ بڑا سا اسکارف دیکھوں گا کل، ان شاء الله مل جائے۔
اب تو نیند بھی نہیں آ رہی ہے، دس بجے پڑھنے بھی جانا ہے، تم نے کیوں جگا دیا مجھے۔ اس کے بازو پر ہلکے سے مکا مار کر مصنوعی غصہ دکھایا۔
چلو اب میں ہی سلاتا ہوں، اور ساتھ ہی اسے اپنے بازو پر لٹا کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھرانے لگا۔
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم میں بہترین شخص وہ ہے جن کا معاملہ اپنی کے ساتھ بہترین ہو”۔
____________
ایک بجے وہ گھر میں داخل ہوئی تو کافی چہل پہل لگ رہی تھی۔ سب شاید لیونگ روم میں تھے، وہ اپنے روم میں کتابیں رکھ کر کچن میں آئی، جہاں آسیہ حسن کے علاوہ سب کھانے کا اہتمام کرنے میں مشغول تھیں۔
کون آیا ہے؟ اس نے کھیرے کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے سوال کیا۔
خالہ یاسمین، مامو، اور زرین کی خالہ، سب آئے ہیں۔ زینب نے جلدی جلدی آٹا گھوندتے ہوئے جواب دیا۔
مامی میں بھی ہیلپ کرواتی ہوں، جلدی بتائیں کیا کروں؟ ان لوگوں کو اتنے کام میں مشغول دیکھ کر اسے ایسے ہی کھڑے رہنا اچھا نہیں لگا۔
ارے نہیں بیٹا، بس کچھ ہی کام رہتا ہے ہو جائے گا جلدی۔ ابھی اتنا تھک کر آئی ہو، یہ لو یہ پیو پہلے۔ انہوں نے اورنج جوس کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
سب تیار ہو گیا، بس تم دونوں جلدی روٹی بنا لو۔ کھانے کا وقت ہو رہا ہے، بھوک بھی لگی ہوگی۔ زرین اور زینب کو بول کر وہ بھی مہمانوں کے پاس چلی گئیں۔
اب مجھے بھی کوکنگ سیکھنی ہے، میں تو ہیلپ ہی نہیں کروا سکتی کچھ تم لوگوں کی۔
آپ کو ہیلپ کروانی ہے نا بھابھی؟ شیرمین جو ٹرے میں گلاس اور پانی کا جگ رکھ رہی تھی اس کی آفر پر متوجہ ہوئی۔
بالکل، بولو کیا کروں؟
یہ پانی لے جائیں پلیز،
تم خود لے کر جاؤ شرمین، ابھی تو پڑھ کر آئیں ہیں اور تم کام پر لگا دو۔ زرین نے اسے گھرکا۔
آپی وہ کاشف بھائی بھی آئیں ہیں، مجھے نہیں جانا۔ اس کے منمنانے پر ازلفہ نے اس کی طرف دیکھا۔
کون ہے یہ؟
یاسمین خالہ کے لڑکے، انتہائی چھچھورے ہیں
شرمین۔۔ زرین کی تنبیہ پر وہ منہ بناتی ہوئی چپ ہو گئی۔
بھابھی کوئی لڑکی اگر ان لوگوں سے ملنے نہیں گئی تو اعتراض کریں گی۔ یہ چھوٹی ہے دے آئےگی، آپ پریشان نہ ہوں۔
کوئی بات نہیں زرین، اس طرح کر کے تم لوگ اسٹرینج فیلنگ مت دیا کرو۔ میں دے کر آتی ہوں۔ اور اس نمونے کو بھی دیکھ کر آتی ہوں۔
*******************
السلام عليكم!
اس کے سلام کرنے پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے ایک سرسری نظر سب پر ڈالی۔ تین عورتیں، دو مرد، اور ایک لڑکا جو اس کے آنے پر اب اسے دیکھ رہا تھا، اس کا دیکھنا اسے ناگوار لگا، عجیب نظریں تھیں۔
یہ لڑکی ابھی تک یہیں ہے؟ مجھے تو لگا تھا جیسے یہ تنتناتی ہوئی طلاق لینے آئی تھی اب تک لے کر چلی بھی گئی ہوگی۔ اسے دیکھ کر یاسمین کو اچھا خاصا جھٹکا لگا تھا۔
اس کا گھر ہے یہ آپا، یہ کیوں جائےگی کہیں۔ آسیہ حسن کو اپنی بہن کی بات اچھی نہیں لگی۔
اگر یہ اس کا گھر ہے تو یہ اس دن کیوں ڈرامہ کر رہی تھی۔
آسیہ یہ تمہاری نند کی بیٹی ہے نا، جس نے اپنی پسند سے شادی کی تھی گھر والوں کو ذلیل کر کے؟ ولید کی مامی اسے چبھتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
کیا آپ یہی باتیں کرنے آئی ہیں؟ اور کیا آپ مسلمان ہیں؟ اپنی ماں کا ایسا ذکر اسے ہمیشہ مشتعل کرتا تھا۔
کیا مطلب، بی بی تمہارے جیسے نہیں ہیں ہم، یہ لباس تبدیل کر کے کوئی نیک پروین نہیں بن رہی تم۔ تمہارے جیسے نام کے مسلمان نہیں ہیں سمجھی، یاسمین اور ان کی بھابھی اس کے سوال پر بھڑک گئیں۔
اگر آپ لوگ مسلمان ہیں تو اسلام کا اتنا علم تو ہوگا ہی کہ “پسند کی شادی کرنا جرم نہیں ہے”۔ بلکہ خود اسلام نے اس کی پرمیشن دی ہے۔ اور اگر آپکی نظر میں یہ میری مام کا گناہ ہے تو کیا ان کا گناہ آپ کے گناہ سے بڑا ہے؟ کیا آپ کو نہیں پتا بیک بائیٹنگ کیسا گناہ ہے،جو اس وقت آپ میری مام کی کر رہی ہیں؟ اپنے سگے مردہ بھائی کا گوشت کھانا، اور دوسری بات ان کی طرف دیکھیں کیا آپ کو دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ آپ لوگوں کی باتوں سے انہیں کتنی تکلیف پہنچ رہی ہے۔ اس نے آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھی آسیہ حسن کی طرف اشارہ کیا۔
جسے پہنے اوڑھنے کا سلیقہ نہیں تھا آج وہ ذرا سا شریف لباس پہن کر ہمیں اسلام سکھا رہی ہے، یہی سکھایا تھا تمہاری ماں نے کہ بڑوں سے ایسے زبان درازی کرو۔ اس کی اتنی بامعنی باتیں بھی انہیں بری لگ رہی تھیں۔ “بیشک اللہ جنہیں ہدایت دینا نہیں چاہتا ان کے دل کسی بھی گناہ کے خوف سے نہیں لرزتے”۔
پلیز میری مام پر بار بار انگلی مت اٹھائیں، آپ واقعی ایک اچھی مسلمان تو کیا اچھی انسان بھی نہیں ہیں۔ گیسٹ بن کے آئی ہیں ہیں مگر مسلسل اپنی زہریلی باتوں سے نہ صرف ماحول خراب کر رہی ہیں بلکہ اپنی ریلیشن شپ کو بھی کمزور کر رہی ہیں۔ اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں نے آپ کا کون سا نقصان کیا ہے جو اس طرح باتیں کر کے مجھے ہرٹ کر رہی ہیں۔
بیٹا جاؤ تم دیکھو کیا ہو رہا ہے کچن میں۔ سلمیٰ نے اسے وہاں سے بھیجنا چاہا۔
اوکے مامی۔ اسے بھی یہاں رکنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ سب کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔
جیسی ماں ویسی ہی بیٹی، پتا نہیں کیا چاند چڑھائے ہوں گے، ایسی منہ زور لڑکی میری ہوتی نا آسیہ تو زبان کٹوا دیتی اس کی، اور ایسی بد زبان لڑکی کو تو میں اپنی بہو کبھی نہ بناؤں۔ انہیں اس سے پتا نہیں کیا بیر تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *