Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode15

Hidayat by Ain Noon Alif Episode15

کچھ دیر بعد وہ لوگ زوبیہ اور نینی کو سمجھا کر ہاسپٹل کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ ان سب میں ولید بھی اپنی حالت کو بالکل بھول گیا تھا۔ یہ بھی اللہ کا شکر تھا کہ اب بارش نہیں ہو رہی تھی۔ مگر رات بھر کی بارش کی وجہ سے جگہ جگہ پانی بھرا ہوا تھا۔
ان لوگوں کو ایمرجنسی وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ کسی ٹینشن کی وجہ سے ان کے نروس سسٹم اثرانداز ہوئے تھے۔ تمام بھاگ دوڑ ولید ہی کر رہا تھا۔
ڈاکٹر کے آنے پر وہ اس کی طرف بڑھا۔
ان لوگوں کے لیے اتنی بڑی بیماریوں میں ایسے ٹینشنز جان لیوا ہو سکتے ہیں۔ آپ لوگوں کو احتیاط کرنی چاہئے تھی۔
بیماری؟ کیسی بیماری ڈاکٹر، سب کو حیرانی ہوئی تھی۔
کیا آپ لوگوں کو نہیں پتا، ان لوگوں کے لیور پچھہتر فیصد کے قریب بالکل ناکارہ ہو چکے ہیں۔ الکوحل زیادہ استعمال کرتے ہیں یہ لوگ۔ اتنی سیریس کنڈیشن پر آپ لوگ خود سمجھ سکتے ہیں کتنے زیادہ پریوینشن کی ان لوگوں کو ضرورت ہے۔
سب میری وجہ سے ہوا۔ ذیشان سر پکڑ کر بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔ جیسے بھی تھے وہ اس کے ماں باپ تھے۔ وہ یتیم نہیں تھا۔ کسی کو سمجھ نہیں آیا تھا کیسے اسے تسلی دیں۔
میں نے ان سے کہا کہ ایسے ماں باپ سے انسان یتیم اچھا، اور دیکھو اللہ کو اچھی نہیں لگی یہ یات۔ اگر ان لوگوں کو کچھ ہو گیا تو میں خود کو معاف نہیں کر پاؤںگا، میں بھی مر جاؤں گا۔
شٹ اپ، کیا لوزرز جیسی بات کر رہے ہو۔ مانا تم نے کچھ الفاظ غلط کہے، اور اللہ نے تمہیں ان کی قدر اس طرح کروائی اور یقیناً تمہارے والدین بھی اس سے ضرور سبق لیں گے۔ ہر پریشانی میں اللہ کی کچھ مصلحتیں ہوتی ہیں۔ تسلی رکھو جو ہوگا ان شاء الله اچھا کی ہوگا۔
اور دوسری بات اللہ نے انہیں ایک موقع دیا ہے توبہ کا اور تمہیں موقع دیا ہے ان کی خدمت کا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اپنے آپ کو بہترین انسان بناؤ، اور اس سے سبق حاصل کرو۔ دین میں ہی کامیابی ہے۔ ولید حسن کو اس سے اچھا موقع نہیں لگا تھا دین کی دعوت دینے کا۔
“صحت کی طرف سے غفلت جسم کو بیمار کر کے گلا دیتی ہے، اور ایمان میں غفلت روح و جسم دونوں کو ناکارہ کر کے جہنم کا ایندھن بنا دیتی ہے”۔ اور “اصل مسئلہ صرف غفلت کا ہے، جاگ جاؤگے تو سب کچھ حاصل کر لوگے، ورنہ خاک بھی تمہاری نہیں”۔ ذیشان کے ساتھ ساتھ جان اور راحیل نے بھی اس کی بات بہت غور سے سنی تھی۔ اور آج کل تو اللہ نے ویسے ہی ان لوگوں کے دلوں کو نرم کیا ہوا تھا۔
ہم کوشش کریں گے، اور ویسے بھی ہم لوگوں نے اسلام کو جاننے کا پکا ارادہ کیا ہے۔ پرسوں گئی تھی ازلفہ اسلامک بکس لینے، انگلش میں، بکس تو ملی نہیں خود زخمی ہو گئی۔ یہاں پر ایک اسلامک سینٹر ہے وہ جوائن کر رہے ہیں ہم۔ ان جیسے لوگوں کے ارادوں سے ہی تو تقویت ملتی ہے دین داروں کو۔ جیسے اس وقت ولید حسن کے اندر پنپ رہا تھا مومن بننے کا جذبہ۔
گڈ، اسلام ہی بتاتا ہے والدین کے حقوق بھی، ان کی خدمت کرو اور اسلام پر چلو۔ خدمتِ خلق سے ہی خدا ملتا ہے۔
ازلفہ کے اتنے بڑے گیان سے تو میں خود اسلام کو جاننا چاہتا ہوں۔ ویسے تم دونوں ہسبینڈ وائف سیم تھنکنگ رکھتے ہو۔ ایکسڈنٹ ہم لوگوں کے لیے لکی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر ایکسیڈنٹ میں ہم لوگوں کے لیے ایک لیسن، گریٹ یار۔ کچھ تو ہے اسلام میں جو یہ ہارٹ سے کنیکٹ ہوتا ہے۔
اور کون سا ایکسیڈنٹ؟ ولید حسن کو جان کی بات پر حیرت ہوئی تھی۔
ازلفہ نے نہیں بتایا تمہیں؟ اس دن سے تو ازلفہ نے فل سلیوز ٹی شرٹ پہننے شروع کردی۔ لانگ شرٹس نہیں ملی تو ذیشان، راحیل اور میری تین شرٹس پر قبضہ کر لیا۔ بی کوز اسلام میں شارٹس ناٹ الاؤڈ۔ اس دن کا تمام قصہ ان دونوں نے ولید کو بتا دیا جسے سن کر اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔ ڈاکٹر کے بلانے پر ولید نے خود کو نارمل کیا۔
دس منٹ بعد وہ ایک فائل لیے باہر آیا۔ شام تک لے جا سکتے ہیں گھر ان لوگوں کو ہم، بہت کئیر کی ضرورت ہے۔ ذرا سی بھی بد پرہیزی ان لوگوں کے لیے خطرہ ہے۔ نو اسموکنگ اور نو الکوحل۔ یعنی، اولڈ لائف، بائے فار ایور، اینڈ نیو جرنی اکورڈنگ اسلام ول بی اسٹارٹڈ۔
شیور! اللہ نے ان لوگوں کو موقع دیا تھا خود کو سدھارنے کا اپنے آپ کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کا تو ان لوگوں کو اس موقع کو کسی بھی حال میں گنوانا نہیں تھا۔
********************
دن کے دو بجے کے قریب وہ اٹھی، وقت دیکھا تو حیرت ہوئی۔ او اللہ میں اتنی دیر سوئی۔ جب سے حیات سے ملی تھی بات بات میں اس کی زبان سے اللہ ہی نکلتا تھا۔
زوبیہ اور نینی اس کے بیڈ پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔
تم لوگ یہاں، سب ٹھیک ہے؟ ان دونوں کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر اس نے سوال کیا۔ ان دونوں نے اسے ساری بات بتائی۔
تو مجھے کیوں نہیں جگایا، ذیشان ٹھیک ہے نا؟ وہ بہت پریشان ہو رہا ہوگا۔ مجھے اس کے ساتھ ہونا چاہئے۔
رکو تم، پانچ چھ بجے تک آجائیں گے وہ لوگ۔ اپنے پیر کا بھی ذرا خیال کرو۔ اب تک ٹھیک ہو جاتا مگر تمہیں تو اسٹنٹ سے ہی فرصت نہیں۔ اس کے تیزی سے اٹھنے پر زوبیہ نے واپس ہاتھ کھینچ کر بٹھایا۔
تمہیں میرے پیر کی پڑی ہے وہاں ذیشان کتنا پریشان ہو رہا ہوگا۔ انکل آنٹی سے غصہ کے باوجود بہت پیار کرتا ہے وہ۔ ان کو اس کنڈیشن میں دیکھ کر وہ رو بھی رہا ہوگا۔ لڑکیوں جیسا تو دل ہے اس سینٹی مینٹل کا۔ اس کہ فکر میں وہ پریشان ہو رہی تھی۔
تم فون لگاؤ اسے، میرا فون خراب ہو گیا ہے، میں خود بات کروں گی اس سے۔ اس کے زور دینے پر زوبیہ کو اسے فون دینا ہی پڑا۔
ذیشان تم ٹھیک ہو نا میرے بھائی، انکل آنٹی سب کیسے ہیں؟ اور تم لوگوں نے کچھ کھایا پیا کہ نہیں؟ اس کے فون اٹھاتے ہی اس نے سوالوں کی بوچھار کردی۔
رییکس تیزگام، سب ٹھیک ہے، کھلا چکا ہوں ان سب کو کھانا۔ ذیشان کی جگہ کسی اور کی بھاری آواز سن کر اس نے فون سامنے کر کے نمبر چیک کیا۔
یہ تمہاری آواز کو کیا ہوا ذیشان؟ تم ابھی بھی رو رہے نا؟ بھاری آواز کو اس نے اس کے رونے سے مشروط کیا تھا۔
ولید بول رہا ہوں، تمہارا شوہر! بھائی نہیں۔ اور اب نہیں رو رہا تمہارا بھائی۔ تم بتاؤ، پیر کیسا ہے؟ اف یار، تمہاری بینڈیج ہونی تھی۔ تم تیاری کرو میں آ رہا ہوں لینے۔
نہیں! تم مت آؤ اس نمبر پر ایڈریس سینڈ کرو، میں آجاؤں گی۔ زوبی اور نینی کے ساتھ۔ اس کی ضد پر اس نے ایڈریس بھیجا، وہ سکون سے یہاں نہیں یٹھ سکتی تھی اس لیے خود بھی وہیں جانا مناسب سمجھا۔ ان دونوں کی مدد سے وہ فریش ہوئی، کچھ دیر بعد اسے ناشتہ کروا کے وہ لوگ ہاسپٹل کے لیے نکل گئے۔
****************
وہ باہر ہی کھڑا ان لوگوں کا انتظار کر رہا تھا۔ پندرہ منٹ بعد وہ لوگ وہاں پہنچ گئے تھے۔ تینوں کو دیکھ کر اس نے ایک نظر اطراف میں ڈالی، کافی لوگ دلچسپی سے ان تینوں کو دیکھ رہے تھے۔ اس نے محسوس کیا زیارہ کی نظریں ازلفہ پر تھیں، اور وجہ اس کی ڈریسنگ۔
بلیک ٹراؤزر پر نہ جانے کس کی پنک شرٹ، جس کی آستین کو فولڈ کر کے انگلیوں تک کر رکھی تھیں۔ ڈھیلی ڈھالی شرٹ گھٹنوں تک آ رہی تھی، وہ لباس اس کے جسم کو چھپا تو رہا تھا مگر وہ اس میں کافی ظاہر ہو رہی تھی، بالوں کو چھپانے کے لیے سر پر ایک رومال باندھا ہوا تھا جو صرف اس کے سر تک کے بالوں کو ہی چھپا رہا تھا،پونی میں بندھے سارے بال کندھے سے کھلے ہوئے تھے۔، عجیب مگر دیکھنے میں کیوٹ اور دلچسپ، اپنے حلیہ سے وہ لوگوں کو اچھا خاصا متوجہ کر رہی تھی۔ اور یہ بات ولید حسن کی برداشت کے باہر تھی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف آیا تھا۔
یہ کیسے آئی ہو ازلفہ؟ اپنے غصہ کو کنٹرول کر کے اس نے اس کی ڈریسنگ کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں کی نظریں اسے بےچین کر رہی تھیں۔ اس کے غصے پر حیران ہوتی وہ اسے بتانے لگی۔
اچھے سے آئی ہوں، دیکھو سلیوز بھی فل اور سر بھی کور ہے۔ فل ڈریسنگ کرنی چاہئے نا۔ تو میں وہی کر رہی ہوں۔ تم نے اب نوٹس کیا۔ کیا میں اچھی نہیں لگ رہی ہوں؟ وہ ایک نیکی کی طرح اسے بتا رہی تھی۔ اور وہ جو اسے ڈانٹنے کا ارادہ کر رہا تھا بالکل خاموش ہو گیا۔
اتنا تو وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ یہ بات تو جان گئی کہ پورے کپڑے پہننے چاہئے اور سر ڈھانپنا چاہئے مگر کیسے وہ نہیں پتا تھا۔ مگر اس کی یہ کوشش لوگوں کی نظروں میں دلچسپی پیدا کر رہی تھی۔ جو اسے بالکل گوارا نہیں تھا۔ حالانکہ زوبیہ اور نینی سلیولیس فل اسکرٹ میں تھی پھر بھی لوگ اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔
جلدی چلو، ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لیا ہوا ہے۔ اور آپ دونوں وہاں سامنے کھڑے ہیں وہ تینوں وہاں چلی جائیں، ہم آتے ہیں کچھ دیر میں۔ ان دونوں کو ذیشان لوگوں کی طرف جانے کا اشارہ کر کے ازلفہ کو سہارا دے کر لے جانے لگا۔ وہ کوشش کر رہا تھا کہ اس پر کسی کی نظر نہ پڑے۔
کوئی خطرے کی بات تو نہیں ڈاکٹر، بھیگنے کی وجہ سے کوئی پرابلم؟ اس کی ڈریسنگ کرتی ہوئی ڈاکٹر سے اس نے اپنا خدشہ بیان کیا۔
نقصان تو ہوا ہے، زخم گلنے لگا ہے، جلدی ٹھیک نہیں ہوگا۔ بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ کم از کم چار پانچ دن تک تو آپ کو چلنا پھرنا نہیں ہے۔
تو پھر میں کیسے مینیج کروں گی، ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتی میں۔ پلیز ڈاکٹر ایسی پٹی کریں کہ میں خود چل پھر سکوں، ڈاکٹر کی ہدایت اسے پریشان کر گئی تھی۔ اور کچھ اسے لوگوں کو پریشان کرنا پسند نہیں تھا مگر پیر کے معاملہ نے اسے بالکل ہی بےبس کر دیا تھا۔ اب تک سب بگڑ ہی رہا تھا، ایک مصیبت دور نہیں ہو رہی تھی کہ دوسری کی آمد۔
ابھی اپنے ہسبینڈ کے سہارے چل کے آئی ہیں پھر بھی دیکھیں بلیڈنگ ہونے لگی ہے۔ مجبوری ہے آپ کا زخم چھوٹا موٹا نہیں ہے۔ بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
ہو جائے گا ڈاکٹر۔ بس کوئی انفیکشن نہ ہو۔
نہیں انفیکشن نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر اس کی مرہم پٹی سے فارغ ہو کر ولید کو تمام احتیاطی تدابیر سمجھانے لگی۔ اور وہ بور ہو کر برے برے منہ بنا رہی تھی۔
کیا ہوا۔ ایسے منہ کیوں بنا رہی ہو؟
تمہیں پتا ہے میں خود کو پیرےلائز فیل کر رہی ہوں۔
ایسے نہیں کہتے، ان شاء الله جلدی ٹھیک ہو جائے گا۔
اوکے، اب انکل آنٹی کے پاس چلیں۔ اس کے کہنے پر وہ اسے ان لوگوں کے پاس لے گیا۔
اسے دیکھ کر ذیشان کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔
تم کچھ زیادہ ہی اموشنل نہیں ہو۔ اب تو دیکھو انکل آنٹی بھی خطرے سے باہر ہیں۔ اور جو بیماری کو لے کر تم پریشان ہو، تو مت بھولو اللہ کے لیے یہ بیماریاں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ اسے اپنے بندوں کو جتنی زندگی دینی ہے اتنی ہی دےگا۔ اور ہم سب اتنا ہی جئیں گے جتنا اللہ نے طے کیا۔ تو بس اب اس زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق گزارو۔ وہ دونوں بھی دیکھو کتنا پشیمان ہیں۔ اور یقین کرو یہ پشیمانی اللہ کے قریب کرنے والی ہے۔
تو تمہیں اس پر اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے، ناکہ خود کو اور شرمندہ کر کے خود بھی پریشان ہوؤ اور دوسروں کو بھی کرو۔ اس نے ایک بار پھر اسے سمجھایا تھا اور اس بار اسکی بات اس کے والدین کو بھی سمجھ آئی تھی۔
آپ بہت اچھے ہیں جیجو، آپ نے اتنا کچھ کیا، فرطِ جذبات سے وہ اس کے گلے لگ گیا۔
جیجو نہیں بھائی، یہ زیادہ اچھا ہے۔ اور اپنوں کے لیے اپنے ہی کرتے ہیں۔ اس کی پیٹھ تھپتھپا کر اس کا دھیان بٹایا۔
شام میں وہ ان لوگوں کو ان کے گھر پہنچا کر ازلفہ کو لیے اپنے گھر کے لیے روانہ ہوا۔ ازلفہ کے یہیں رکنے کی ضد پر وہ اسے سمجھا بجھا کر اپنے ساتھ ہی لے آیا۔
کل سے اس نے اپنے گھر کی شکل تک نہیں دیکھی تھی، آج کے تمام کام بھی اس کے گھر کے دوسرے افراد نے ہی سنبھالے تھے۔ اتنی مشقت نے اسے تھکا دیا تھا اور اب وہ اپنے گھر جا کر اطمنان سے آرام کرنا چاہتا تھا۔
******************
پہلی بار اس گھر میں آتے ہوئے اس پر نہ کوئی بوجھ تھا نہ بے سکونی۔ ولید کے اترتے ہی وہ بھی اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکل کر کھڑی ہوئی مگر لڑکھڑا گئی، سہارے کے لیے ولید کا بازو تھاما۔ بار بار وہ اپنے پیر کی حالت بھول رہی تھی۔
بےصبری لڑکی، ہر جگہ سے لے کر آ رہا ہوں، یہاں سے نہیں لے کر جا سکتا، اس کا اشارہ اسے اٹھا کر لے جانے کا تھا۔
نہیں میں یہاں خود سے چلتی ہوں، کتنا آکورڈ لگےگا یہاں ایسے اٹھا کر لے جانا۔ تم بس سہارا دو۔ اسے منع کر کے اس کے بازو کے سہارے وہ قدم رکھ رہی تھی۔ ولید نے اس کی طرف دیکھا جہاں درد کے آثار صاف نظر آ رہے تھے۔ ضدی لڑکی۔ زیر لب بڑبڑا کر ایک بار پھر اسے گود میں اٹھا لیا، شاید زیادہ تکلیف تھی چلنے میں اس لیے وہ بھی خاموش رہی۔
تمہاری فیملی کے سامنے شرم نہیں آئےگی تم کو مجھے ایسے لے جاتے؟ اس کے گلے میں ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا۔
کیوں؟ کیا غلط کر رہا ہوں؟
ایک لڑکی کو گود میں اٹھایا ہوا ہے، اور کتنے کانفڈنٹ سے لے کر جا رہے ہو۔
اور وہ لڑکی میری بیوی ہے، جس کو اٹھانے کا رائٹ مجھے اسلام نے دیا ہے۔ تمہیں برا لگ رہا ہے کیا؟
نہیں! ذیشان نے مجھے اتنی بار اٹھایا ہے مگر ایسا نہیں لگا جیسا تمہارے اٹھانے سے لگ رہا ہے۔
وہ بھائی ہے اور میں شوہر ہوں، فیلنگ تو الگ ہوگی نا۔
امی، چاچی بھائی آ گئے۔ زینب کے شور مچانے پر سب ان دونوں کی طرف ہی آنے لگے۔ اس کے زخمی ہونے کا سبھی کو معلوم تھا، اس لیے ولید کے اٹھانے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔
اب اتارو مجھے، یا ایسے ہی کھڑے رہوگے، سب سوچ رہے ہوں گے مجھے اٹھانے میں تمہیں مزا آ رہا ہے۔ بٹ مجھے عجیب لگ رہا ہے۔ اس کے ہلکی آواز میں بولنے پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔
پھر روم میں اٹھا کر لے جانا پڑےگا، تو وہیں چھوڑ دیتا ہوں۔
نہیں مجھے یہیں بیٹھنا ہے۔ اس کی ضد پر اس نے اسے وہیں بٹھایا۔
ہم بتا نہیں سکتے آپ کے آنے سے ہمیں کتنی خوشی ہو رہی ہے۔ تینوں لڑکیاں اس کے قریب بیٹھ گئیں۔
آپ کا پیر کیسا ہے اب؟ زرین نے اس کے پیر کو دیکھ کر پوچھا۔
ویسا ہی ہے، تبھی تو یہ مجھے گود میں اٹھا کر لایا۔ اس کے تو تڑانگ پر ان تینوں نے ولید کی طرف دیکھا، جو سامنے سے آتی آسیہ حسن کو دیکھ رہا تھا، ان لوگوں نے بھی اس کی نظر کا تعاقب کیا، وہ سیدھا اس کے سامنے آ کر رکیں۔ ازلفہ نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا، ان کی تمام باتیں اسے یاد آئی تھیں، مگر ان کی ابتر حالت اسے ساری باتیں بھلا رہی تھی۔
کیا تم معاف کر دوگی مجھے؟ دیر کر دی معافی مانگنے میں، ہمت ہی نہیں تھی تمہارے سامنے آنے کی۔ بہت دل دکھایا تمہارا، بہت ذلیل کیا تمہیں، سہی کہا تھا تم نے مجھ جیسی مائیں ہی اپنی اولاد کو گناہوں کی گہری کھائیوں میں گراتی ہیں۔ میں نے سب کے، سامنے تمہیں ذلیل کیا تھا، اور اب سب کے سامنے تم سے معافی مانگ رہی ہوں۔ تم معاف کر دو مجھے۔ انہوں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
ولید نے آنکھیں زور سے بند کی تھیں، اپنی ماں کو کب ایسے جھکتے ہوئے دیکھ سکتا تھا چاہے جتنی بھی غلط ہوں، ماں باپ کا ایسے جھکنا کون سی اولاد برداشت کر سکتی ہے۔ مگر جس طرح ان دونوں ماں بیٹوں نے اس لڑکی کا دل دکھایا تھا اس سے معافی مانگنا بھی ضروری تھا۔ سب کی آنکھیں نم ہوئی تھیں، اور ازلفہ تو انہیں آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کیا رئیکٹ کرے۔ ولید کا ایسا کرنا اسے برا نہیں لگا تھا مگر ان کا کرنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
آپ پلیز یہاں بیٹھ جائیں، اور ایسے ہاتھ بھی مت جوڑیں، مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ آپ گلٹی ہیں، اٹس اوکے۔ اس نے ایک نظر ولید اور حیدر صاحب کو دیکھا دونوں کی نظریں اسی پر تھیں۔
معاف کر دیا تم نے مجھے؟ اب نفرت تو نہیں کروگی مجھ سے؟
میں نفرت نہیں کرتی آپ سے، وہ تو بس اس دن غصے میں بول دیا تھا۔ مگر کل ولید نے ایسا کیا تو مجھے برا نہیں لگا، انفیکٹ میں نے اسے پنش بھی کیا، اسی لیے اسے فیور بھی ہو گیا، مگر آپ اس طرح کر رہی ہیں نا، سیریسلی بہت بیکار فیلنگ آ رہی ہے۔ اس کے بےبسی سے کہنے پر ولید کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے، یہ بات کیا سب کو بتانے والی تھی۔ مگر ایک طرف اسے خوشی بھی ہو رہی تھی، اس کا نرم اور صاف دل واقعی فخر کے قابل تھا۔ اس کی نظر داداجان پر پڑی جو ازلفہ کی بات پر اپنی ہنسی کنٹرول کر رہے تھے۔
ہاہاہاہا کیا پنشمنٹ دی اس نالائق کو میری بیٹی نے، حیدر صاحب اس کے پاس آکر بیٹھے اور ایک ہاتھ سے اسے حصار میں لیا۔ آسیہ حسن اس کے دوسری طرف بیٹھ گئیں آج وہ انہیں اپنے دل کے قریب محسوس ہو رہی تھی، اپنے عجیب حلیے کے باوجود، جس پر ولید نے اپنا کوٹ پہنا کر کچھ بچت کی ہوئی تھی۔
ولید بتا دوں کیا، تمہیں انسلٹ فیل تو نہیں ہوگی؟ معصومیت سے پوچھنے پر ولید نے اسے گھور کر دیکھا، اسے یقین نہیں آ رہا تھا وہ جس طرح غصہ والی فیلنگ کا اظہار کرتی تھی ایسی سچویشن کا اظہار بھی ایسے ہی کرےگی۔ اب اس بیچاری کو کیا معلوم حالات کی نزاکت کیسی ہوتی ہیں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *