Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09
No Download Link
921K
29
Rate this Novel
Hidayat by Ain Noon Alif Episode01 Hidayat by Ain Noon Alif Episode02 Hidayat by Ain Noon Alif Episode03 Hidayat by Ain Noon Alif Episode04 Hidayat by Ain Noon Alif Episode05 Hidayat by Ain Noon Alif Episode06 Hidayat by Ain Noon Alif Episode07 Hidayat by Ain Noon Alif Episode08 Hidayat by Ain Noon Alif Episode09 (Watching)Hidayat by Ain Noon Alif Episode10 Hidayat by Ain Noon Alif Episode11 Hidayat by Ain Noon Alif Episode12 Hidayat by Ain Noon Alif Episode13 Hidayat by Ain Noon Alif Episode14 Hidayat by Ain Noon Alif Episode15 Hidayat by Ain Noon Alif Episode16 Hidayat by Ain Noon Alif Episode17 Hidayat by Ain Noon Alif Episode18 Hidayat by Ain Noon Alif Episode19 Hidayat by Ain Noon Alif Episode20 Hidayat by Ain Noon Alif Episode21 Hidayat by Ain Noon Alif Episode22 Hidayat by Ain Noon Alif Episode23 Hidayat by Ain Noon Alif Episode24 Hidayat by Ain Noon Alif Episode25 Hidayat by Ain Noon Alif Episode26 Hidayat by Ain Noon Alif Episode27 Hidayat by Ain Noon Alif Episode28 Hidayat by Ain Noon Alif Last Episode
Hidayat by Ain Noon Alif Episode09
Hidayat by Ain Noon Alif Episode09
تمہاری ماں کا پیغام جب آیا تب تمہاری نانی اس کے غم میں بستر مرگ پر تھی، اور بیٹی کے بارے میں سن کر اسی کے پاس پندرہ دن بعد خود بھی چلی گئی۔ اس کے بعد ولید کے باپ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا، غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس بیچ میں واقعی بھول گیا تھا کہ اللہ نے میرے لئے ایک اور فرض اتارا ہے بیوی اور بیٹی کے جانے کے غم میں اوپر سے بیٹے کی نازک حالت، مگر جب یاد آئی تم جا چکی تھیں۔ ان کی آواز بھرا رہی تھی، اور ازلفہ سبحان کو سمجھ نہیں آیا تھا کیاکہے۔
میں نے اس گھر پر نظر رکھوائی ہوئی تھی، جیسے پتا چلا، تمہیں لینے آیا، تم سے مل کر یقین ہو گیا ہم نے واقعی بہت دیر کردی، ہم سے ہماری بچی بہت دور جا چکی تھی۔ مگر میں ایک کوشش کرنا چاہتا تھا، اپنی اکلوتی بیٹی کی نشانی کی حفاظت کے لیے، اسی لیے تمہارا ولید سے نکاح کروایا، یہاں بھی غلطی کردی۔ میں اس کی تم سے نفرت کو ہلکا سمجھ رہا تھا۔
اپنی ماں کے بےبس باپ کو معاف کردو میری بچی، مجھے تم سے اتنی ہی محبت ہے جتنی تمہاری ماں سے، تمہاری قیمت نہیں لگائی تھی تمہارے لالچی چاچا چاچی کا منہ بند کروایا تھا ورنہ وہ تمہاری شادی اس ریحان خان سے کروا دیتے جس نے نہ جانے کتنی لڑکیوں کی زندگی جہنم بنائی۔ ان کے حوالے پر اور ہاتھ جڑے دیکھ کر ازلفہ سبحان کا دل تکلیف سے بھر گیا تھا۔ اگلے پل دونوں نانا نواسی ایک دوسرے کے گلے ملے اپنے اپنے غموں کو رو رہے تھے۔
**************
اتوار کا دن تھا سب ناشتہ کے بعد سے باتوں میں لگے ہوئے تھے۔ یاسمین اپنی بیٹیوں سمیت نقاب کیے جانے کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔ اس بار وہ کافی ناخوش رہی تھیں۔
حسن بھائی، آسیہ کوئی جواب نہیں دیا بھئی تم لوگوں نے، کیا کہوں لڑکی والوں کو، بہت رشتے ہیں اس کے۔ ہمارے ولید کے قابل لگی تو میں نے بات رکھ دی تھی اب انتظار میں ہیں وہ لوگ۔ ایک بار پھر ان کی اس بات پر کسی کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دیں۔
یہ خالہ، بھائی کی شادی کے پیچھے کیوں پڑ گئیں، ان کو بتا دوں کیا بھائی کی شادی ہو گئی۔ مانا کہ لڑکی اچھی ہے، مگر ہمیں ہماری ازلفہ بھابھی ہی پسند ہیں۔ زینب زرین کے کان میں منمنائی۔
کیوں اور ماحول کو گرم کرنا چاہتی ہو، اپنی خالہ کی عادت نہیں پتا کیا، اٹیک کرواکر جائیں گی کسی کو۔ کہرام مچا دیں گی۔ زرین کی بات پر اس نے سر ہلایا تھا۔
آپیز، ان کو جواب ان کی ٹکر کا بھابھی ضرور دیتیں، کاش وہ یہاں ہوتیں، میرا ان کو دیکھنے کا دل کر رہا ہے۔ کیا ولید بھائی ان سے معافی مانگ کر ان کو منا کے نہیں لا سکتے۔ شرمین کی رونی آواز پر دونوں نے زیر لب اس کے آنے کی دعا کی تھی۔
بھئی تم لوگ کوئی تو جواب دو، بالکل ہی اس بات پر خاموش ہو رہے ہو۔
آپا اس بات کو یہیں ختم کر دیں۔ ابھی کچھ مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ان کو سلجھا لیں، آسیہ حسن نے ان کے مزاج کو دیکھتے ہوئے عاجزانہ انداز اپنایا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی بہن یہاں کوئی بکھیڑا کھڑا کرے۔
لو، اب یہ کیا بات ہوئی؟ پہلے تو بڑی اتاؤلی ہو رہی تھیں تم اب ایسے بھی کیا مسائل پیدا ہو گئے؟ ولید کو بلاؤ ذرا میں اسی سے پوچھوں۔ آواز میں ناراضگی در آئی تھی۔
ولید حسن سیڑھیوں سے اترتا ہوا بنا ادھر ادھر دیکھے باہر جا رہا تھا جو کل رات سے اب اپنے کمرے سے نکلا تھا۔ چہرے پر کل سے اب تک کی ساری اذیت جوں کی توں موجود تھی۔ مگر دل کسی حد تک سکون میں تھا۔
بھائی ناشتہ۔۔۔ موحد کی آواز کو نظر انداز کرتا وہ دروازے کی سمت بڑھتا رہا۔ سب کی نظریں اسی پر تھیں مگر کسی اور نے اسے آواز نہیں دی تھی۔
طبیعت ٹھیک ہے اس کی نہ کل سے اپنے کمرے سے نکلا، نہ ہمارے پاس آکر بیٹھا، پہلے تو کبھی ایسا نہیں کیا تھا اس نے، کس کی نظر لگ گئی میرے بچے کو؟ یاسمین کی بات پر سب نے ایک دوسرے سے نظر چرائیں، جس وجہ سے وہ سب خود ایک دوسرے سے شرمندہ تھے انہیں کیا بتاتے۔
جتنے جھٹکے سے اس نے دروازہ کھولا تھا اس سے بڑا جھٹکا اسے خود کو لگا تھا۔ ازلفہ سبحان کو دروازے میں استادہ دیکھ کر، وہ ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا، جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ اس کے ماتھے پر بینڈیج دیکھ کر اسے پریشانی کیوں ہوئی تھی وہ سمجھنے سے قاصر رہا تھا،
بلیو ٹخنوں تک ٹراؤزر اور فل سلیوز شرٹ پہنے، بالوں کی اونچی پونی بنائے ایک ہاتھ میں کوئی بیگ پکڑے کھڑی ازلفہ سبحان کو اس کا دیکھنا ناگوار گزارا تھا۔
تم ٹھیک ہو؟ ولید حسن کو سمجھ نہیں آیا تھا وہ. کیا کہے، اسے دیکھنے پر اندر ہونے والی ہلچل اسے سمجھ نہیں آئی تھی۔ اس کے سوال پر ازلفہ سبحان نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔
کچھ دینے آئی تھی، تمہارا سامان میرے پاس تھا اور میرا کچھ سامان تمہارے گھر میں، کیا اندر آنے کی اجازت ہے۔ انداز اور الفاظ دونوں ہی متوازن تھے۔ ولید حسن پلٹ کر اندر کی طرف گیا گویا اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔
سب نے اسے حیران نظروں سے دیکھا اور پھر اس کے پیچھے آنے والی ہستی کو دیکھ کر شاکڈ ہو کر کھڑے ہو گئے۔ دوسرا شاک ان سب کو اس کے ماتھے پر پٹی اور لنگڑا کر چلنے پر لگا مگر اس کے چہرے کے سرد تاثرات دیکھ کر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ اس سے کچھ پوچھے۔ یاسمین بھی اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی تھیں جیسے اسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہوں۔
تمہاری یہ امانت میرے گھر پر تھی۔ ہاتھ میں پکڑا بیگ خاموش کھڑے ولید حسن کی طرف بڑھایا۔ جسے لینے کے لیے اس نے ہاتھ نہیں بڑھایا بلکہ آنکھوں میں الجھن لیے اسے دیکھنے لگا۔
پکڑو یہ، آنے میں دیر ہو گئی، کچھ پیپرز ارجینٹ ریڈی کروانے پڑے وہ بھی زبردستی۔ وہ ولید حسن کے سامنے ہی کھڑی تھی گھر کے کسی اور فرد کی طرف اس نے بھولے سے بھی ایک نظر نہیں ڈالی تھی۔
اس میں کیا ہے بیٹا۔ حسن صاحب سے رہا نہیں گیا تو پوچھ بیٹھے۔ وہ خود بھی اس سے شرمندہ تھے۔
یہ وہ قیمت ہے جو مسٹر ولید حسن غلط لوگوں کو دے کر وہ چیز خرید کر لائے تھے جس کے وہ لوگ مالک ہی نہیں تھے۔ تو یہ صرف رقم تھی ازلفہ سبحان کی قیمت نہیں۔ ازلفہ سبحان کا صرف اللہ مالک ہے اور زمین پر وہ اپنی مالک خود ہے۔ اس نے ناشتے کی ٹیبل پر وہ بیگ رکھا اور اور اس میں سے کچھ پیپرز نکال کر ولید حسن کو دئیے۔ اس کی سوالیہ نظریں ازلفہ سبحان پر ہی گڑی ہوئی تھی۔
ڈائیوورس پیپر! اس نے گویا دھماکہ کیا تھا جو ولید حسن کی ہستی کو اڑا کر خاکستر کر گیا۔: یہ سائن کر کے میرا گھر تو معلوم ہے دے دینا، پیپرز ولید حسن کے ہاتھ میں پکڑائے، سب کو شاکڈ دیکھ کر اسے حیرانی ہوئی تھی، آیا یہ خوشی سے شاکڈ ہیں یا کوئی اور وجہ۔ اس کی بات پر یاسمین تو گویا صدمہ میں چلی گئی ہو۔
آسیہ، ولید کی شادی کب کر دی تم نے اور وہ بھی ایسی لڑکی سے؟ یاسمین کی آواز پر سب کو ہوش آیا تھا۔ مگر جواب دینا کسی کو بھی یاد نہیں رہا، انہیں ازلفہ سبحان کے اقدام کا یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔
آئیم سوری نانا جان، ولید حسن اچھا انسان نہیں ہے، اس کے ورڈز میرے دل و دماغ سے نہیں نکل رہے ہیں، اس نے گالی دی ہے مجھے، مام کو، جو شخص دشمنی میں اپنی بیوی کو طوائف بول سکتا ہے وہ بنا بھی سکتا ہے، اور وہی سمجھ کر تو مجھے ٹریٹ کیا ہے۔ آواز اچانک سے دھیمی ہوئی تھی، شاید دل میں درد بڑھا تھا۔ حیدر صاحب اسے حق پر سمجھ کر خاموش رہے تھے مگر ان کا دل شدت سے قسمت کے بدلنے کی دعا کر رہا تھا، اور بھی لوگوں کا دل ایسی ہی کیفیت سے دوچار تھا۔
اس کی بات ولید حسن کو کوڑے کی طرح لگی تھی، اس کا دل چاہا تھا وہی سزا دے خود کو جو اسلام نے مقرر کی کسی پاکیزہ انسان پر تہمت لگانے کی۔” کسی کے کردار کو گالی دینا چھوٹی بات نہیں ہے، چھوٹی بات ہوتی اسلام ایسے لوگوں کے لیے کوڑوں کی سزا متعین نہیں کرتا” مگر لوگ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ ولید حسن کی نظریں سامنے ہی ٹکی ہوئی تھیں جہاں اب اس کے داداجان لڑکھڑاتے قدموں سے اپنے روم میں جا رہے تھے۔ کبھی کبھی انسان کسی کو حقیر سمجھنا معمولی گناہ سمجھتا ہے، یا سمجھتا ہی نہیں، “مگر کم عقل نہیں سمجھتے کہ اس گناہ کی وجہ سے ایمان کی حلاوت اور استقامت چھین لی جاتی ہے”۔
یہ پیپرز شام تک بھجوا دینا ولید حسن، میری کل شام کی فلائٹ ہے۔ وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی، کل بھی وہ لوگ اس کے جانے پر شاکڈ تھے اور آج بھی۔ ولید حسن کا دل اس کے فیصلہ پر بلبلا کر رہ گیا تھا۔
اچھا نہیں کیا تم نے آسیہ، ولید کی شادی کر دی اور بھنک تک نہیں پڑنے دی، کس قدر بدتمیز اور بےحیا لڑکی سے قسمت۔۔۔
بس خالہ، ایک لفظ اور مت کہیں اس کے خلاف، ولید حسن کی سرد آواز نے ان کی بولتی ہی بند کردی۔ سب نے حیران ہو کر اسے دیکھا، کل تک خود گالی دینے والا آج اس کے خلاف معمولی لفظ نہیں سن پایا، سب کی حیرانی کو نظرانداز کرتا وہ گھر سے نکلتا چلا گیا۔
*******************
تو طلاق دے رہے ہو اسے، تم جیسے لوگوں سے یہی امید کی جا سکتی ہے ولید حسن۔ تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی وہ اسلام سے نابلد ہے، ڈبل اسٹینڈرڈ مسلمز کو دیکھ کر اسے خیال ہی نہیں آیا ہوگا اسلام کو جاننے کا۔ بڑی مشکل سے وہ آفس آیا تھا۔ کل بھی وہ کوئی کام نہیں کر پایا تھا آج بھی نہیں کر پاتا اگر کام کی غفلت سے اس کے پروجیکٹ کو خطرہ نہ ہوتا، پیپرز وہ اپنے ساتھ ہی لایا تھا جو اس سامنے ٹیبل پر پڑے ہوئے تھے جنہیں ولید حسن نے دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ حذیفہ انہی پیپرز کو دیکھ کر ایک بار پھر اپنی بھڑاس نکال رہا تھا۔
اچھا کر رہے ہو جو اسے طلاق دے رہے ہو، کم سے کم وہ کسی اچھے انسان سے شادی کر کے اچھی زندگی گزار سکتی ہے، اور یہ حد تھی ولید حسن کی، جو حذیفہ کے چہرے پر ایک بار پھر چھپ گئی تھی۔
اگلی بار ایسا کہا تو ایک پر بس نہیں کروں گا، ہاسپٹل میں نظر آؤگے۔ ازلفہ ولید حسن بخاری ہے وہ اور اب زندگی بھر وہی رہےگی۔ کسی اور کے ساتھ اس کا نام صرف میرے مرنے کے بعد ہی جڑ سکتا ہے۔ انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا انداز کافی سرد تھا، حذیفہ حیران ہو کر اسے دیکھ رہا تھا۔
یہی تو کام آتا ہے تمہیں لوگوں پر ہاتھ اٹھانا، وہ چاہے دوست ہو یا بیوی، اچھا ہے جان چھوٹے گی اس کی بھی اور میری بھی، حیرت ہو رہی ہے مجھے تمہارے دوہرے معیار سے، ایک ہفتہ پہلے اس لڑکی سے شادی کی بات پر بھی مارا تھا اور آج اسے طلاق کی بات پر بھی، گھٹیا انسان ہی نکلے تم بھی۔ وہ مکا کھانے کے بعد بھی باز نہیں آیا۔ اس کی شکایت پر اس کے تناؤ میں کمی آئی تھی۔
نو مسٹر حذیفہ تمہاری جان بچپن سے قید ہے نہیں چھوٹےگی، اور اس کی جان چھوڑنے کا اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس وجہ سے وہ اسلام اور مسلمز سے نالاں ہے، وہ وجہ مٹا کر میں اسے اسلام سے روشناس کرواؤں گا، ولید حسن اور اس کی فیملی کی وجہ سے اسلام پر انگلی اٹھے یہ وہ ہونے نہیں دے سکتا۔میری وجہ سے اس کا ایکسڈنٹ ہوا، میری وجہ سے تکلیف اٹھائی، جو میں نے بگاڑا ہے میں ہی سب ٹھیک کروں گا۔ ہر تکلیف کا ازالہ کرنا ہے جو میں نے دی ہے اسے بھی اور داداجان کو بھی۔ کل سے اب تک توبہ کی ہے اور یقیناً اللہ کے دربار میں وہ قبول ہو گئی ہے جو مجھے آگے کا راستہ اتنا صاف دکھائی دے رہا ہے۔
تم ازلفہ سبحان کو واپس لاؤگے؟
ورڈ کریکشن، ازلفہ سبحان نہیں ازلفہ ولید حسن۔
تو پھر یہ پیپرز؟ حذیفہ نے طلاق کے پیپتز کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ردی ہے، اور اس کی اصل جگہ یہ ہے۔ پیپرز پھاڑ کر ڈسٹ بن میں پھینکے۔
تمہیں لگتا ہے وہ معاف کرے گی تمہیں؟حذیفہ کا ایک اور خدشہ۔
مجھے اپنے اللہ پر یقین ہے، پہلے میں نے اس سے داداجان کی وجہ سے شادی کی تھی اب میں اسے اللہ کے لیے واپس لے کر آؤں گا۔ اس میں یقیناً اللہ میری مدد کرےگا۔
کیا بات ہے، نفرت اتنی جلدی محبت میں تبدیل ہو گئی۔ اس کے الفاظ کی مضبوطی حذیفہ کو خوش کر گئی تھی۔
بیوی ہے، محبت اسی سے ہوگی، ابھی تو عقیدت ہوئی ہے۔ پہلی بار ازلفہ سبحان کے لیے ولید حسن کے الفاظ خوبصورت ہوئے تھے اور شاید یہ خوبصورتی وقت کے ساتھ بڑھنے ہی والی تھی۔
عقیدت وہ بھی ازلفہ سبحان عرف ازلفہ ولید حسن سے؟
ہاں! جس نے ولید حسن کے کھوکھلے ایمان پر ضرب لگا کر اسے آئینہ دکھایا، جس نے اسے روز قیامت میں اللہ اور اس رسولؐ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچایا، اس سے عقیدت نہیں ہوگی تو پھر کیا ہوگا۔ وہ یقیناً بہترین لوگوں میں تھا جبھی ہدایت پا گیا اور غرور میں مزید تباہ ہوتا اس کے رب نے اسے بچا لیا، اسی کے ذریعے جس سے اسے شدید نفرت تھی۔ اور بیشک اللہ کو معلوم ہے کس کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے۔
__________
وہ حیات کے دئے گئے تحفے کھول کر دیکھ رہی تھی۔ ایک میں تین کتابیں تھیں مگر اردو میں، اور دوسرے پیکٹ میں ویسا ہی عبایا تھا جیسا حیات نے پہنا ہوا تھا۔
سیریسلی ازلفہ، تم یہ وئیر کر سکتی ہو؟ زوبیہ اور نینی وہ لمبا چوڑا عبایا اٹھا کر دیکھ رہی تھیں، حیران تو وہ بھی تھی۔
یار کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ اسٹرینج بیہیو کر رہی ہو، ہماری ازلفہ تو لگ ہی نہیں رہی، راحیل، جان اور ذیشان بھی آ گئے تھے۔
اونہہ، نتھنگ، ایک بات. تاؤ تم لوگ۔ اس کے کہنے پر سب متوجہ ہوئے تھے۔
ہم لوگوں میں کیا ڈفرینس ہے؟
کیا مطلب کیا فرق ہے۔ ہم فیملی ہیں ایک ساتھ رہتے ہیں ایک جیسے ہیں۔ کوئی فرق نہیں ہے۔ کسی کو بھی اس کا سوال سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
ایگزیکٹلی۔ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جان اور نینی کا ریلیجن نہیں ہے، اور ہم لوگ مسلمز فیملی سے بی لانگ کرتے ہیں بٹ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔
ہم مسلمز ہیں اور ہمیں اسلام کا کچھ بھی نہیں پتا، اسلام مسلمز سے کیا ڈمانڈ کرتا ہے، ہم کو کیوں بنایا گیا، ہمارا وژن، کوئی گول، ہمیں کچھ نہیں پتا، انفیکٹ ہمیں ہمارا صحیح ٹریک بھی نہیں پتا، ہم لوگوں کو دیکھ کر ان کو فالو کر کے اپنی لائف اسپینڈ کر رہے ہیں، یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ایگزیکٹلی ہمیں جینا کیسے ہے، اسلام کی طرف سے کیا انسٹرکشنز ہمیں دیے گیے ہیں،
ہمیں کس نے پیدا کیا، کیوں کیا، ہمیں بنانے والا ہمیں کس ٹریک پر دیکھنا چاہتا ہے، بلا وجہ تو ہمیں نہیں بنایا گیا، کوئی تو پرپز ہوگا، کوئی تو وش ہوگی، میں وہ جاننا چاہتی ہوں۔ ہمیشہ کی لاابالی اور اپنے راستے خود بنانے والی، اپنی مرضی سے جینے والی، ازلفہ سبحان آج کسی کے بتائے گئے راستے کو تلاش کرنا چاہ رہی تھی، حیرانی ہی حیرانی تھی، مگر وہ جو بھی کہہ رہی تھی سمجھ ان لوگوں کو بھی آ رہا تھا۔
کچھ لوگ نماز پڑھتے ہیں، فاسٹنگ کرتے ہیں کچھ نہیں، کچھ ویمنز خود کو کملیٹلی کور کرتی ہیں، کچھ نقاب میں بھی بے نقاب ہیں، اور کچھ ایسے ہی رہتی ہیں، کچھ میل بئیرڈ رکھتے ہیں کچھ نہیں، کتنے مسلم بوائز گرلز کے ساتھ لیوان میں رہتے ہیں، کتنی مسلم گرلز افئیرز کرتی ہیں، ڈرنک بھی کرتے ہیں،
سب الگ الگ ٹریک پر ہیں، ان میں کس کو کہیں کہ کون سہی ٹریک پر ہے؟، اور ہم لوگ ان میں سے ان کو فالو کر رہے ہیں جس میں ہم ایزی موو کر سکتے ہیں۔
میں بس وہ جاننا چاہتی ہوں جو ایکچولی رئیل ہے، میں مسلم ہوں مجھ کو یہ بات بچپن میں بتائی گئی، بٹ میرے پاس یہ پہچان نہیں ہے۔
میں کل جب کلب میں تھی مجھ سے تین لوگوں نے ڈمانڈ کی میں ان کے ساتھ ٹائیم اسپینڈ کروں، میں نے کہا میں مسلم ہوں، مجھے نہیں پتا میں نے یہ کیوں کہا، وہ لوگ یہ سن کر مجھ پر ہنسے، بہت ہنسے، اور بولے مسلمز ایسے نہیں ہوتے، کس اینگل سے تم مسلم ہو؟ آئے واز شاکڈ، کیا میں مسلم نہیں لگتی، اور پھر وہ تمام روداد ان لوگوں سنانے لگی، حیات سے ملاقات تک۔
یو آر رائیٹ ازلفہ، ہمارا اب تک مقصد جاب اور اچھی لائف رہا ہے، اس پر تو ہم نے سوچا ہی نہیں۔ مسلمز کی پہچان الگ ہے کفر کی الگ، اسکی تمام باتیں غور سے سننے کے بعد وہ سب اس سے متفق ہوئے تھے۔ یہی تو خاصیت تھی ان دوستوں کی، ایک دوسرے کی بات کو گہرائی سے سمجھتے تھے۔ جان اور نینی، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ تم لوگ اپنا کوئی ریلیج. چوز کرو، بٹ آئے وانٹ، ہم فیملی کی طرح رہے ہیں ہم لوگ مسلم ہیں تو اسلامک اسٹڈی کریں گے تو تم لوگ بھی اسلام کو ایز این ایجوکیشن اسٹڈی کرو، اگر لگتا ہے یہ سہی ٹریک ہے تو ایکسیپٹ اسلام، دین ایز یو وش۔
ودآؤٹ اینی پرپز ہم لوگ بہت جیئے، اب ہم لوگوں کو اپنا موٹیو سرچ کرنا ہے۔
اس کے لیے ہم کو پھر کوئی اسلامک سینٹر جوائن کرنا پڑے گا، بٹ تمہارے ان لاز الاؤ کرینگے، ذیشان کے پوچھنے پر اس نے ایک گہری سانس لی۔
اب میرے کوئی ان لاز نہیں ہیں، میں ولید حسن سے ڈائیورس لے رہی ہوں اور پلیز تم لوگ کوئی سوال نہیں کرنا بس اتنا سمجھ لو “ہی اینڈ می آر ناٹ میڈ فار ایچ ادر”۔ کوئی کچھ نہیں بولا تھا وہ بتانا نہیں چاہتی تھی مطلب اسے بتانا ہی نہیں تھا۔ مگر وہ لوگ اس کے لیے پریشان ہو گئے تھے یہ بات وہ ان لوگوں کے چہروں سے سمجھ رہی تھی مگر اس کے اختیار میں کچھ نہیں تھا جو تھا وہ وہی کر رہی تھی۔
مجھے یہ بکس ریڈ کرنی ہیں اور اردو ہم میں سے کسی کو آتی نہیں تو میں ان کا انگلش ورجن لینے مارکیٹ جا رہی ہوں۔
جاری ہے
