Hidayat by Ain Noon Alif NovelR50753

Last updated: 4 July 2026

Hidayat by Ain Noon Alif

تھپڑ کی گونج سے ارد گرد کے سبھی لوگ متوجہ ہوئے تھے۔ اور کچھ تو پہلے ہی سے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے۔
تیری اتنی ہمت کہ تو ازلفہ سبحان کو ٹچ کرنے کی کوشش کرے، یو بلڈی باسٹرڈ۔۔ ایک اور تھپڑ کی آواز گونجی تھی۔ تھری فورتھ بلیک جینز پر بلڈ ریڈ سلیولیس ٹاپ اسکی تمام تر رعنائیاں اجاگر کر رہا تھا، لوگوں کی اس پر ٹکی نظریں بتا رہی تھیں کہ وہ لڑکی انتہائی خوبصورت ہے۔ مگر جتنی وہ خوبصورت خود تھی اتنا ہی بدصورت اس کا لہجہ اور انداز تھا جو اسکی پرسنیلٹی کو ذرا بھی میچ نہیں کر رہا تھا۔
ازلفہ یہ کیا کر رہی ہو، سب دیکھ رہے ہیں۔۔ اسکی دوست زوبیہ نے اسے لوگوں کی طرف متوجہ کیا جو اسے بہت ہی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
دیدے پھاڑ کر کیا دیکھ رہے ہو، تمہارے اپنے گھر میں زنانیاں نہیں ہیں، ایک کام کرو انہیں بھی یہاں لاکر رکھ دو اور پھر انہیں ہی دیدے پھاڑ کر دیکھو، دوسرے لوگ بھی ان سے ایسے ہی اپنی آنکھیں سینک لیں گے۔ جیسے تم لوگ سینک رہے ہو دوسروں کے گھروں کی عورتوں کو دیکھ کر۔ بغیرت مرد کہیں کے۔ اس کے بولنے پر لوگ بغلیں جھانکنے لگے تھے۔ الفاظ ہی ایسے کڑوے تھے۔ مگر کوئی تھا وہاں ایسا جس کی آنکھوں سے اسے دیکھ کر چنگاریاں نکلنے لگی تھیں۔
چلو یہاں سے تم، تماشہ بنا کر رکھا دیا۔ زوبیہ اسے کھینچ کر میکڈی کے باہر لے آئی تھی۔
کیا کر رہی تھیں تم یہ؟
وہی جو یہ لوگ ڈزرو کرتے ہیں اور اب ان لوگوں کی بات مت کرو۔ میں زبان سے ان کو سبق سکھا کر آ گئی ہوں اب دل میں ان کے خلاف سوچ کر ٹینشن نہیں لے سکتی۔ ڈبل اسٹینڈرڈز آئے ہیٹ۔
سمجھ میں نہیں آتا لوگوں کے خلاف تم بات دل میں آنے نہیں دیتی، اور بیچ بازار میں ان کی عزت اتارنے میں تم چوکتی نہیں ہو۔ تمہاری یہ لوجک سمجھ نہیں آتی مجھے۔
آئےگی بھی نہیں، کیونکہ میں دل میں آتی ہوں، سمجھ میں نہیں۔ اس کا پراسرار انداز میں کہنا زوبیہ کو اور چڑا گیا تھا۔
مرو تم۔ اللہ کسی کو بھیج دے جو تمہاری اس لوجک کا تیا پانچہ کردے۔ تمہیں اچھا سبق سکھائے۔
ہاہاہاہاہا ایسا کوئی نہیں پیدا ہوا ڈئیر جو ازلفہ سبحان کو سبق سکھائے۔ اسکے لہجہ میں غرور نہیں تھا ایک عجب سی آنچ تھی جو مقابل کو کنفیوژ کرتی تھی۔
کیوں، کیوں نہیں سکھا سکتا تمہیں کوئی سبق۔۔۔؟
کیونکہ مائے ڈئیر یہاں ہر کوئی ہیپوکرٹ ہے، بولے تو ڈبل فیس، ڈبل اسٹینڈرڈ۔ جو خود کو پیور نہیں کر سکتے انہیں یہ حق ہی نہیں کہ ازلفہ سبحان کو سبق سکھا سکیں۔ ہر کوئی دوہرا چہرا لے کر گھوم رہا ہے۔
تو تمہیں کیا فرق پڑتا ہے کوئی کتنے بھی چہرے لے کر گھومے؟ تمہارا تو کچھ نہیں بگڑےگا۔
مائے ڈئیر، مجھے فرق نہیں پڑتا اسی لیے میں بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑتی، مگر جو ڈبلز اپنی حقیقت بھول کر ازلفہ سبحان کو تکلیف دیں گے وہ انہیں کیسے بخش دے۔ اور ویسے بھی آن ٹائم جواب دے کر میں معاملہ رفع دفع کر دیتی ہوں بعد میں مت پوچھا کرو کیوں کیا اور کیسے۔
اچھا، اب بتاؤ کہاں جانا ہے؟ ذیشان کی تو آج خیر نہیں ہے یہاں بلا کر خود غائب ہے۔ اس نے بیزار ہو کر بات ہی بدل دی۔
غصہ نہ کرو ازلفہ میڈم خادم حاضر ہے۔ ذیشان کی آواز پر وہ پیچھے مڑ کر اسے گھورنے لگی تھی۔
کہاں تھے تم ایڈیٹ۔
سوری سوری ڈیئر۔ تمہارے لیے پارٹی ارینج کی ہے وہیں چلو۔ کچھ دیر بعد وہ اس کا غصہ ٹھنڈا کر کے لے جا رہا تھا۔
*******************
کیا چیز تھی یار یہ لڑکی، مطلب دعوتِ نظارہ بھی خود پیش کیا اب لوگوں نے تماشہ دیکھ لیا تو انہیں ہی رگید گئی۔ ویسے تھی تو ایکدم ہاٹ۔
شٹ اپ حذیفہ۔ ایک بات تو صحیح کہہ کر گئی وہ 'بےغیرت مرد' ، جن کا ایمان اتنا سستا ہے جو ایسی لڑکیوں کے سامنے آتے ہی بک جاتا ہے۔
اب قیامت۔۔۔
ایک لفظ اور تمہارے منہ سے نکلا تو یہ ٹیبل ہوگا اور تمہارا سر۔ حد درجہ سرد لہجہ میں کہیں بھی مذاق کی رمق نہیں تھی۔
کیا بات ہے یار؟ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ تو جانتا ہے۔ پھر اتنا غصہ کس بات کا؟ کیا تم جانتے ہو اس لڑکی کو۔۔؟
نہیں، چلو یہاں سے۔۔ بل پے کر کے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ چلنے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ غصہ میں ہے۔ حذیفہ نے بھی خاموشی سے اٹھ کر جانے میں ہی عافیت سمجھی تھی۔ اسکے غصہ کی وجہ سوچتا وہ بھی اس کے پیچھے چل دیا۔ آدھے گھنٹے پہلے وہ دونوں کتنے اچھے موڈ میں لنچ کرنے آئے تھے مگر جاتے وقت۔
********************
السلام عليكم دادا جان، ابھی تک سوئے نہیں آپ؟
وعلیکم السلام، بس ایسے ہی آج چہل قدمی کا ارادہ تھا۔ موڈ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے تمہارا۔ وجہ؟لاڈلے پوتے کی رگ رگ سے وہ واقف تھے۔ ابھی بھی اسکے چہرے کی سرد مہری انہیں اس کے آف موڈ کا پتا دے گئی تھی۔
کچھ نہیں دادا جان، بس ایسے ہی کام کا برڈن تھا۔ سو۔
تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں، ورنہ وجہ کچھ اور ہی ہے۔ کیونکہ کام کی ٹینشن تو ولید حسن بخاری کے لئے بنی ہی نہیں۔ ان کے یقین پر اس نے ان سے نظر چرائی، اگر وجہ بتا دیتا تو انہیں کو تکلیف ہونی تھی۔
ابھی تک آئے نہیں یہ لوگ؟ آٹھ بج چکے ہیں۔ اب تک آ جانا چاہئے تھا۔
آ رہے ہیں راستے میں ہیں۔ گھر کی شادیوں میں دیر سویر ہو جاتی ہے۔
اوکے چلیں، آپ کے بھی سونے وقت ہو گیا ہے۔
ہمم چلو۔ آج کل وہ نہ جانے کن سوچوں میں رہنے لگے تھے۔ وہ بھی جانتا تھا کہ وہ پریشان ہیں مگر اسی کی طرح وہ بھی ضدی تھے۔ انہیں ان کے روم میں پہنچا کر دو چار باتیں اور کر کے وہ بھی اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *