Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode08

Hidayat by Ain Noon Alif Episode08

مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کو فالو نہیں کرنا ہے، اسلام جان کر اسلام کو فالو کرنا ہے، یہ مت دیکھو مسلمان کیا کر رہے ہیں، یہ دیکھو اسلام تمہیں کیا کرنے کا حکم دیتا ہے اور کس چیز سے روکتا ہے، اسلام کی تعریف مسلمان نہیں اسلام بذات خود اپنی تعریف ہے۔ جب جانوگی سمجھ جاؤگی۔ باعمل انسانوں کی زبان سے نکلا ہر لفظ لوگوں کے سیدھا دلوں پر اثر کرتا ہے جس طرح اس وقت ازلفہ سبحان اپنے پیر اور سر کی تکلیف کو بھلائے بس اسی کو ان رہی تھی۔ اس نے کب سنی تھیں یہ باتیں، کس نے کروایا تھا اسے اسلام سے روبرو۔
میں کیسے جانوں گی اسلام کو، اللہ ناراض ہے، وہ مجھے پسند نہیں کرتا۔ دل میں تکلیف سی تھی۔ ولید حسن کی باتیں کانوں میں گونجی تھی۔
وہ تم سے ناراض ہوتا تو تم بیچ سڑک میں کھڑی ہدایت نہ مانگ رہی ہوتیں۔ تمہیں لگتا ہے وہ تمہیں ہدایت نہیں دےگا تو پھر یہ سوچ کر کہ اللہ تم سے ناراض ہے تمہیں پسند نہیں کرتا اس کا شکوہ اللہ سے کرنا یہ ہدایت نہیں تو کیا ہے کہ وہ تمہیں اپنے سامنے لے آیا۔
تمہیں آج اللہ کی یاد آئی، یہ ہدایت نہیں تو پھر کیا ہے؟ اس کی بات پر ازلفہ سبحان کا دل درد سے بھر گیا تھا۔ اس جیسی شراب پینے والی کو کیسے ہدایت مل سکتی ہے۔
جھوٹ بول رہی ہیں آپ، اگر ایسا ہوتا تو میں بھی آپ کی طرح ہوتی، اگر اسلام میں عورت اتنی چھپی ہوئی ہے تو میں بھی ہوتی۔ میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی نہ مجھے آتی ہے، کیوں نہیں آتی مجھے۔ مجھے شراب بری نہیں لگتی، مجھے یہ کھلے ہوئے کپڑے برے نہیں لگتے۔ اور کیا آپ کو نہیں پتا ہم سے زیادہ دیندار لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ ہوتے ہیں، “منافق ہوتے ہیں” اور ازلفہ سبحان کبھی بھی ایسا نہیں بننا چاہتی، ریلیجیس نہیں بننا مجھے وہ پھر سے چلانے لگی تھی مگر مقابل بیٹھی ہستی اس کی اس حالت سے پریشان نہیں ہوئی تھی بلکہ مسکرا رہی تھی۔ جو ازلفہ سبحان کے لیے حیرانی کا باعث تھی۔
کیوں مسکرا رہی ہیں آپ، اٹس ٹرتھ ناٹ اَ جوک۔
اس سے پہلے تم نے ہدایت کب مانگی؟ مقابل کے سوال پر اس نے حیرانی سے دیکھا۔
کبھی نہیں۔ اس سے پہلے مجھے نہ کبھی ایسی تکلیف ہوئی نہ ایسے الفاظ سنے۔ میں خود نہیں جانتی میں کیا کیا کہہ رہی تھی۔ اس کے معصومیت سے کہنے پر وہ عورت مسکرائی تھی۔
تو دیکھ لو اس کی محبت، جس پل تم نے ہدایت مانگی، اسی پل تمہیں دےدی، حالانکہ اللہ نے یہ الفاظ بلوائے بھی خود کیونکہ تمہیں تو خود خبر نہیں تھی تم کیا بول رہی ہو۔ میں حیران ہوں اس رب کی تم سے محبت دیکھ کر۔ جس نے تمہارے اندر حرام مشروب نہیں رہنے دیا، وہ مشروب جس کی وجہ سے مسلمانوں کو کہا گیا “خبردار اسے پی کر کر نماز کے قریب بھی نہ جاؤ” ، جس نے تمہیں ایسے بڑے بڑے گناہوں سے بچایا جو ایک مسلمان کو کفر تک لے آتے ہیں اور تم کہہ رہی ہو وہ تمہیں پسند نہیں کرتا۔ لفظوں میں تاثیر ایسی تھی کہ ازلفہ سبحان چاہ کر بھی اٹھ کر نہیں جا رہی تھی۔ یا شاید وہ سننا چاہتی تھی۔ آج تک کب کسی نے اس سے اس طرح بات کی تھی، کس نے اسے کوئی ڈائیریکشن دیا تھا۔
کیسے دی ہدایت، مجھے نہیں دکھائی دے رہی۔
تم میں اسلام کو جاننے کی چاہ کا آنا، جو فرض اراکین مسلمانوں میں دیکھے ان کے خود کے نہ کرنے پر تکلیف ہونا، یہی تو ہدایت ہے۔ “ھدایت کھتے ھیں قرآن و حدیث کے بتلائے ھوئے راستے کو”۔ “جو شریعت پر چلے گا وہ ھدایت یافتہ کھلائےگا”۔
تم مسلمانوں کے جیسی نہ بنو انہیں دیکھ کر خود کو دیندار مت بناؤ، اسلام تمہیں کیسا بنانا چاہتا ہے، تمہارا رب تمہیں کیسا دیکھنا چاہتا ہے ویسی بنو۔ لوگوں کو دیکھوگی تو اسلام کو نہیں جان پاؤگی، اور اسلام کو نہیں جان پاؤگی تو اللہ کو نہیں جان پاؤگی۔ اب یہ تم پر ہے کہ تمہیں اپنی زندگی کا اصل مقصد کیسے حاصل کرنا ہے۔ اپنے نبی کی پیروکار بن کر کیسے اپنے رب سے ملنا ہے اب یہ راستہ تمہیں خود طے کرنا ہے۔
باہر سے کسی نے آواز دی تھی۔ جب اس نے جلدی جلدی سامان سمیٹا، گھڑی میں وقت دیکھا تو دعا پڑھ کر جلدی جلدی اس سے بہت ساری باتیں کیں جو یقیناً ازلفہ سبحان کے لیے بہت ضروری تھیں۔
ہماری فلائٹ کا وقت ہو رہا ہے، ہمیں اب نکلنا ہوگا، یہ میں نے اپنے لیے لیا تھا، مگر اللہ نے اسے شاید تمہارے لیے پسند کیا تھا، اس نے ازلفہ سبحان کو ایک پیکٹ پکڑایا تھا۔
اور یہ دوسرا پیکٹ، اور ہر چیز کی خبر اللہ کو پہلے سے ہوتی اسی لیے شاید میرے پاس یہ کتابیں پہلے سے ہونے کے باوجود میں نے خرید لیں۔ تو تم دیکھ لو اللہ کو پہلے سے معلوم تھا کہ آج اس کی ایک بندی اس سے ہدایت طلب کرنے والی ہے، اور اس نے جو چیز تمہارے لئے سب سے زیادہ ضروری تھی وہی پہلے دی، گھر جا کر دیکھنا۔
دس منٹ تک اسے نماز کا طریقہ بتایا، جو زبردستی ہی تھا مگر ازلفہ سبحان اس کے لفظوں کے سحر سے خود کو نکال نہیں پا رہی تھی۔
ازلفہ تم نے معاف کیا ہمیں؟ پھر سے وہی سوال، ازلفہ سبحان جھنجھلا گئی تھی۔
آپ لوگوں نے جان کے ٹکر نہیں ماری، غلطی میری تھی۔ دس بار معافی مانگ چکی ہیں آپ۔ کیوں سٹسفائیڈ نہیں ہو رہیں؟
اللہ کی بندی کو تکلیف دی ہے معمولی بات نہیں ہے۔ ایک ماں کے بچے کو غلطی پر بھی کوئی ڈانٹ دے تو وہ اس سے لڑ پڑتی ہے۔ تو پھر ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والے اللہ کے بندوں کو تکلیف دیں گے تو وہ کیسے برداشت کرے گا۔ بس ڈر تھا کہ اللہ ناراض نہ ہو جائے، تم نے معاف کر دیا اب اللہ تو رحمٰن ہے ہی۔ کیسی عورت تھی یہ جس تکلیف میں اس کی کوئی غلطی بھی نہیں تھی اس میں ایسا خوف، اور کروڑوں خود کو دیندار اور ہدایت سے بھرپور سمجھنے والوں کو دوسرے لوگوں کو جان بوجھ کر تکلیف دینے میں بھی کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ جن کے ظلم سے ان کے گھر محفوظ نہیں، اور انہیں پرواہ نہیں۔ ایسے ہی لوگ تو دیکھے تھے زندگی بھر اب یہ کیسی مسلمان تھی جس کے ساتھ وہ ایک گھنٹہ رہی تھی مگر ایک لفظ بھی ایسا نہ سنا جو تنقید والا ہو، ہر بات میں ایسا خیال اللہ ناراض نہ ہو جائے۔ وہ عورت اسے دنیا کی خوبصورت ترین عورت لگی تھی، پہلے تو وہ اسے لڑکی ہی سمجھی تھی، مگر جب اس نے بتایا اس کے چار بچے ہیں اس کی شادی کو تیرہ سال ہو گئے ہیں، وہ کتنی شاکڈ ہوئی تھی۔
کیا میں آپ کا نام جان سکتی ہوں؟ ازلفہ سبحان کو اسے جاننے کی خواہش ہوئی تھی۔
ہاں! مگر غیر محرم کے سامنے نہیں لینا۔ نہ میرا ذکر کرنا۔
کیوں؟ وہ متعجب ہوئی تھی، وہ تو اپنے دوستوں کو آج کی ساری روداد سنانے کا ارادہ رکھتی تھی مع اس عورت کی شکل تک جسے بار بار دیکھنے کی چاہ ازلفہ سبحان کو ایک لڑکی ہو کر ہو رہی تھی۔ اس عورت کے شوہر کا کیا حال ہوتا ہوگا جس کے پاس یہ ہر وقت رہتی ہے۔ اتنا نور، ایسا چمکدار چہرہ، کس چیز نے ایسا بنایا تھا اسے؟۔ وہ چاہر کر بھی یہ راز نہیں پوچھ سکی۔
خود حاصل کرنا اس کا جواب، سمجھ لو ہوم ورک ہے۔ مسکرا کر اس کا گال تھپتھپایا۔
اور میں ‘حیات نوفل احمد خان’ ہوں۔ ہم یہاں دس دن کی جماعت میں آئے تھے۔ جو باہر ہیں وہ میرے شوہر ہیں۔
اور یقیناً اگلی بار میں تم سے جب ملوں گی تو ان شاء الله تعالیٰ، اللہ سے ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرنے والی ازلفہ سے ملوں گی۔ حیات نے کہہ کر اسے ایک چادر اڑھائی اور اسے گلے لگا کر کوئی دعا پڑھ کر پھونکی، نم آنکھوں سے الوداع کہہ کر وہ اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہو گئی تھی۔ اور پیچھے کھڑی ازلفہ سبحان ایک بار پھر بت بنی کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں کیوں اس عورت کے جانے سے اشک بار ہو رہی تھیں۔
*****************
یہ ان آنکھوں میں نمی کیسی بیوی، ممبئی کی فلائیٹ میں بیٹھے نوفل احمد خان کو اپنی بیوی کی بھیگی آنکھیں پریشان کر رہی تھیں۔
مجھے نہیں پتا یہ نمی اصل میں کس لیے ہے؟۔ ہم مسلمان آج اسلام کی پہچان نہیں رہے اس لیے یا بہت سے لوگ دین اسلام کو اپنے طریقے سے چلا رہے ہیں اس لیے۔ مسلمانوں کو اسلام کی تعریف بننا ہے مگر آج میرے نبی کی امت کا یہ حال ہے کہ دین پر چلنے والے تکبر کے گھروں میں رہنے لگے ہیں جہاں صرف ذلت ہی ذلت ہے۔ جن کے لیے اللہ نے جنت کے دروازے بند کر دیئے ہیں، بس جو توبہ کر لے۔
آج ایک معصوم لڑکی، اور نہ جانے اس جیسے اور کتنے لوگ، خود کو دیندار سمجھ کر دوسروں کو حقیر جاننے والے لوگوں کی وجہ سے اسلام سے متنفر ہیں۔ ان کی اصلاح کے بجائے انہیں تنقید کا نشانہ بنا کر انہیں اور برائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ آنسو اب اس کے چہرے کو گیلا کر چکے تھے۔
نوفل احمد خان نے اپنی عزیز از جان بیوی کو دیکھا جو اپنے نبی کی امت کے لیے آنسو بہا رہی تھی، اور وہ جانتا تھا یہ آنسو رائیگا جانے والے نہ تھے۔ اس نے اسے اپنے حصار میں لے کر گویا تسلی دی تھی۔ وہ آج بھی پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اپنی بیوی کا خیال رکھتا تھا، اس کی بیوی آنکھیں موندیں اس کے سینے میں منہ چھپائے ہوئے تھی اس کے ہلتے ہونٹ جو اسے محسوس ہو رہے تھے سمجھ گیا تھا وہ کچھ پڑھ رہی ہے اور پڑھنا اس کا کافی دیر تک جاری رہنے والا تھا۔ اس نے بھی آنکھیں موند کر سیٹ کی بیک سے ٹیک لگا لی، اس کی آنکھوں سے کچھ اشک نکل کر اس کی بیوی کے نقاب میں جذب ہو گئے،وہ خود اس کرب سے گزر رہا تھا آنے سے پہلے اس نے خود ایسے لوگ دیکھے تھے، نہ جانے کتنی نیتیں بنا کر وہ بھی تلاوتِ قرآن پاک شروع کر چکا تھا۔ یہ دین کی فکر کرنے والے لوگ تھے اور ان جیسے اور نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جو اللہ کے سامنے اسی کے دین کے لیے روتے ہیں تو پھر اللہ کیسے ایسے لوگوں کے آنسوؤں کو رائیگا جانے دے۔
_________
شام کا وقت تھا سارے لوگ ہال میں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ آسیہ حسن کی بہن یاسمین اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ آئی ہوئی تھیں، خیر خیریت کے بعد کسی کو سمجھ میں نہیں آیا تھا آگے کیا بات کریں۔ اس گھر میں مہمانوں کا بڑا احترام کیا جاتا تھا اور اسی حساب سے اہتمام بھی۔ اسی لیے سب اپنی تکلیف پس پشت ڈال کر انہیں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔
کیا بات ہے سب بڑے خاموش ہیں آج؟ اپنی بہن کے سوال پر آسیہ حسن نے زخمی نگاہوں سے اپنی بہن کو دیکھا جنہوں نے آزاد ماحول کے لوگوں سے انہیں بہت زیادہ متنفر کیا ہوا تھا جس کا خمیازہ وہ آج بھگت رہی تھیں، اپنے بچوں اور شوہر کی نظر میں اپنی اہمیت کم کر کے باپ جیسے سسر کو تکلیف پہنچا کر۔ وہ ایک سبق بھی آج اچھے سیکھ گئی تھیں کہ دوسروں کی باتوں میں آ کر نہ صرف دنیا تباہ ہوتی ہے بلکہ آخرت بھی تباہ ہو جاتی ہے۔
اللہ کا شکر ہے آپا، سب ٹھیک ہے۔ بس آپ سنائیں۔ ایک پھیکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر آئی تھی۔
تم نے کہا تھا نا ولید کے لیے رشتہ دیکھنے کو، تو یہ لڑکی ہے دیکھ لو ماشاء اللہ بڑی ہی نیک و دیندار ہے۔ انہوں نے ایک فوٹوں ان کے سامنے رکھیں۔آسیہ حسن نے بےاختیار شوہر کی طرف دیکھا جنہوں نے ایک بار پھر ان کی طرف سے چہرہ پھیر لیا۔ حیران تو سبھی لوگ ہوئے تھے۔
یہ ولید نظر نہیں آ رہا ہے، کہاں ہے؟
بھائی اپنے روم میں ہیں خالہ، ضروری کام کر رہے ہیں، آئیں گے ابھی۔ زینب نے اپنے بھائی کی طرف سے صفائی پیش کی۔
ہمم۔ تم لوگ بھی دیکھو بہت جچےگی ہمارے ولید کے ساتھ۔ انہوں نے لڑکیوں کی طرف تصویر بڑھائی۔ جنہوں نے بےدلی سے تھام کر ایک سرسری نظر ڈال
ارے ولید، آؤ ذرا یہاں، تم بھی تو دیکھ لو، ان کے کہنے پر سب جزبز ہوئے تھے۔ وہ جو پانی لینے کچن کی طرف جا رہا تھا ان کے آواز دینے پر آ کر حیدر صاحب کے پاس بیٹھا، جو اس کے اپنے پاس بیٹھنے پر اس سے فاصلہ قائم کر چکے تھے۔ ان کی ناراضگی ولید حسن کو تکلیف دے رہی تھی۔ شدت سے ایک بار پھر اسے اپنے گناہوں کا احساس ہوا تھا۔
پہلے تو بھئی مبارک ہو تمہیں، ماشاء اللہ پروجیکٹ مل گیا، اب دوہری خوشی تمہاری شادی کی ہوگی، لو دیکھو، تمہارے معیار کے مطابق ڈھونڈی ہے لڑکی۔ عائشہ نام ہے۔ ماشاء اللہ عالمہ ہے۔ اپنی خالہ کی بات پر اس نے حیران ہو کر سب کو دیکھا جو بالکل خاموش تھے۔ اسے ایکدم گھٹن کا احساس ہوا جو اتنا بڑھا کہ وہ تصویر پر ایک بھی غلط نظر دالے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے روم میں چلا گیا۔
اسے کیا ہوا؟ ولید حسن نے ان کی بات کو اگنور کیا، ان کے لیے بڑی حیرت کی بات تھی۔
کام کا مسئلہ ہے ذرا، آ گیا ہوگا کوئی کام یاد۔ اب کے حسن صاحب نے اس کی صفائی پیش کی۔ ادھر ادھر کی باتیں کر کے انہوں نے لڑکی والے مسئلے کو دبا دیا۔
***************
ِِِِ تمہارے لیے لڑکی پسند کی، تمہارے معیار کے مطابق۔ یہ الفاظ کسی تازیانے کی طرح لگ رہے تھے۔ کیا تھا اس کا معیار، وہ تو خود اپنی نظروں میں اپنی فیملی کی نظروں میں گر گیا تھا۔ اس کا کون سا معیار ہوتا جو اسلام پر اپنے طریقے سے چل رہا تھا۔ صحیح تو کہہ کر گئی تھی ازلفہ سبحان اسے ‘دوہرے معیار کا شخص’۔
مجھے تم سے نفرت ہے ولید حسن، میں کبھی بھی تم جیسی نہیں بننا چاہتی، اس کے ان لفظوں نے کس طرح نہ اسے تکلیف دی تھی، قسمت کو اس کا غرور توڑنے میں محض تین دن لگے تھے۔ شیطان کے جس دھوکے کے گھر میں وہ تھا وہ کرچی کرچی ہو گیا تھا۔
ازلفہ!!!! نہ جانے کیسے اس کا نام اس کی زبان سے پھسلا وہ خود بھی حیران رہ گیا۔ سگریٹ کا دھواں اس کے خود کے نتھنوں میں گھس رہا تھا مگر اس میں تو بہت سے احساسوں کی کمی ہو گئی تھی۔
دروازہ ناک ہونے پر اس نے جلتی آنکھیں دروازے کی سمت کی تھیں، مسلسل ہوتی دستک سے اسے دروازہ کھولنا پڑا۔
بھائی کھانا کھا لیجیے، زینب نے کھانے کی ٹرے اس کی سمت بڑھائی۔
لے جاؤ، بھوک نہیں ہے۔ اس نے کہہ کر دروازہ بند کرنا چاہا۔
آپ نہیں کھائیں گے تو امی بھی نہیں کھائیں گی، اور “جو گناہ ہوا ہے بھائی، وہ اللہ کے سامنے توبہ اور جس کے ساتھ کیا ہے اس سے معافی کے بعد ہی ٹھیک ہوگا”، کھانا چھوڑنے سے نہیں، کچھ دن پہلے کے یہ آپ ہی کے الفاظ ہیں، جو آپ نے آذر کو کہے تھے، جب اس نے اپنے ایک دوست کو بلا وجہ مارا تھا اور ڈر سے کھانا پینا چھوڑ کر چھپ گیا تھا۔
بھائی ایک بات اور کہوں؟ اس کے اجازت مانگنے اس نے محض سر ہلایا۔
آپ پلیز بھابھی کو لے آئیں، ان کا صرف لباس غلط تھا بھائی وہ خود بہت اچھی ہیں، حالانکہ جتنی اچھی وہ ہیں اگر آپ پیار سے سمجھاتے تو وہ اسلامک رولز کو ایزیلی فالو کرتیں۔ خیر اسلامک رولز تو ہم میں سے بھی کسی نے فالو نہیں کیے۔ “کسی کا دل دکھانا کعبہ کو گرانے سے زیادہ بڑا گناہ ہے”۔ سب نے بہت برا کیا ان کے ساتھ اور سب سے زیادہ آپ نے۔ صرف تین دنوں میں وہ ہمیں ہمارا اصل دکھا گئیں، اور انہوں نے خود سے کبھی کبھی ہم میں سے یا کسی اور کو برا نہیں کہا، امی کو بھی تب کہا جب انہوں نے پھپھو کو بہت برا بولا، آپ نے بھی تو اپنی ماں کا سن کر ان پر ہاتھ اٹھایا، تو وہ اپنی ماں کے بارے میں سن کر کیسے خاموش رہتیں۔
اور ایک بات اور بھائی، آپ مانے یا نہ مانے، آپ اپنی غلطی سمجھ چکے ہیں اور کہیں نہ کہیں بھابھی کو بھی مان چکے ہیں ورنہ اپنے رشتے کا سن کر اتنے بے قرار ہو کر اٹھ کر نہیں آتے۔ اس سے پہلے کی دیر ہو جائے سب ٹھیک کر دیں بھائی۔
زینب اسے ٹرے پکڑا کر جا چکی تھی۔ مگر اس کے الفاظ اسی کو لوٹا کر۔ ایک بار پھر اسے خود کا کردار حد درجہ کریہہ لگا۔ سچ ہی تو کہہ کر گئی تھی اس کی بہن، اسے معافی مانگنی تھی، وہ سکون میں نہیں تھا۔ ازلفہ سبحان کے جانے کے بعد سے اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا تھا اس کی زبان کے ساتھ اس کا دل بھی خاموش ہو گیا تھا۔
بے سکونی اتنی بڑھی تھی کہ جب تک سکون نہیں ملا وہ مصلے پر پڑا اپنے رب سے معافیاں مانگتا رہا، جسے اپنے غلط ہونے کا کبھی احساس نہیں ہوا، آج وہ اپنے ہر عمل کی رو رو کر معافی طلب کر رہا تھا
**************
وہ گھر میں اکیلی تھی، سارے دوست گھومنے نکلے ہوئے تھے، جنہیں اس نے خود زبردستی بھیجا شاید کچھ وقت اسے تنہا گزارنا تھا۔ حیات کے دیے ہوئے تحفے ابھی اس نے کھول کر نہیں دیکھے تھے۔ وہ باہر ہی بیٹھی ہوئی تھی جب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو مقابل کو دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی۔ وہ سلام کر کے اس کے پاس ہی بیٹھ گئے، سمجھ نہیں آیا کیا کہیں، ازلفہ سبحان نے بھی کچھ نہیں پوچھا یا شاید وہ ان کے بولنے کی منتظر تھی کہ وہ آنے کی وجہ بتائیں ۔
تمہاری ماں کا رشتہ بچپن سے ہی اس کی خالہ کے گھر طے تھا۔ مگر اسے رفیق پسند نہیں تھا، کم پڑھا لکھا، نچلی سوچ کا مالک تھا، مگر تمہاری نانی کی وہ اکلوتی بہن بچی تھی رشتہ کی مضبوطی کے لیے ایسا کر دیا، حالانکہ یہ غلط تھا۔ اسے تمہاری ماں کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر بھی اعتراض تھا، اس کا کہنا تھا لڑکیوں کا پڑھ لکھ کر دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ مگر تمہاری ماں نے زبردستی کالج میں ایڈمشن لے لیا، وہ پروفیسر بننا چاہتی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے بول رہے تھے، ازلفہ سبحان کو اپنی ماں کے بارے میں سننا شاید اچھا لگ رہا تھا اور تکلیف دہ بھی، تبھی دھیان مکمل ان کی باتوں میں تھا مگر سر جھکا ہوا تھا۔ اپنے نانا کی طرح۔
وہیں اس کا سینئر تھا سبحان، اس نے اپنی ماں کو بتا دیا کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے، میں نے بھی سن لیا، غیرت نے للکارا تو پہلی بار لاڈلی بیٹی پر ہاتھ اٹھ گیا۔
حالانکہ یہ غیرت نہیں آپ کی مردانہ کمزوری تھی، جو رائٹ اسلام نے مرد و عورت دونوں کو برابر دیا ہے اسے مردوں نے صرف خود کے لیے سمجھ ک عورت پر بین کر دیا ہے۔ یہ ظلم ہے، اللہ اس کا حساب لےگا مردوں سے۔ کل حیات نوفل احمد خان سے بات کر کے بہت سی باتوں کا علم ہوا تھا۔ حیدر صاحب اس کے اتنے یقینی جملے پر حیران ہوئے تھے،
صحیح کہہ رہی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا “تمہاری بہن بیٹی اپنی پسند کا اظہار کرے تو انہیں بےحیا نہ سمجھو” میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ لڑکی کی شادی میں زبردستی نہ کرو۔ (اگر وہ تمہارے طے کردہ رشتہ پر مطمئن نہ ہو تو ِزبردستی نہ کرو)۔ مگر وہی معاشرے کے خوف میں انسان دین کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ تمہاری ماں غلط نہیں تھی، اس کا کہنا تھا اسے منافقت کی زندگی نہیں گزارنی ہے، کیونکہ وہ سبحان کو نہیں بھول سکتی، یہ بات اگر رفیق کو پتا چلتی تو وہ جیسا تھا اس کی زندگی جہنم بنا دیتا۔ بہت دیر سے یہ بات سمجھ میں آئی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *