Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode22

Hidayat by Ain Noon Alif Episode22

جیسی اس کی تیاری تھی اسی حساب سے اس کے امتحان بھی ہوئے تھے۔ ایک ہفتہ کی چھٹی ملی تھی۔ اس کا ارادہ تین چار دن اپنے گھر رکنے جانے کا تھا جس کا وہ ولید کو فون کر کے بتا چکی تھی۔
ہمارا دل نہیں لگے گا آپ کے بغیر، دن کے دن جا کر آ جائیں پلیز۔ اس کے جانے سے اداس تو سبھی ہو رہے تھے، مگر شرمین کو بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
امی اور مامی سے کہا بھی کہ کسی ایک کو بھیج دیں، مگر پھر تم لوگوں کے فائنل ایگزام کی تیاری۔ تم لوگوں کو اسٹڈی میں اتنا فیل نہیں ہوگا۔ اور فون پر تو بات ہوگی ہی نا، سو ڈونٹ بی اپ سیٹ ڈئیرز۔ وہ سب لوگ ہال میں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔
السلام عليكم! سلام کی آواز پر سب نے دروازے کی سمت دیکھا، جہاں ذیشان بلیک پینٹ پر بادامی کرتا پہنے، چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی میں سب کو بہت بھایا تھا۔ جہاں سب کے چہروں پر خوشی تھی تو وہیں زینب کا چہرہ اسے دیکھ کر دھواں دھواں ہوا تھا۔ پیروں میں کھڑے ہونے کی سکت نہیں رہی تھی، اور پھر سر سجدہ کی طرح جھکتا چلا گیا تھا۔ اس کی یہ کیفیت ازلفہ کی نظروں سے مخفی نہیں رہی تھی۔
آؤ آؤ بیٹا، کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ آسیہ حسن نے اٹھ کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا، اور حیدر صاحب نے باقاعدہ اٹھ کر اسے گلے لگایا، ان کی بیٹی کا رضاعی بیٹا ان کا نواسہ ہی تو تھا۔
سب اسے وی آئی پی پروٹوکول دے رہے تھے۔
تو برخوردار کیسے رہے تم سب کے امتحان؟
الحمدلله انکل، وہ مقابل بیٹھی ہستی کی وجہ سے سر جھکائے بیٹھا تھا۔
تمہارے ابا کی عمر کا نہیں نانا کی عمر کا ہوں، بلکہ نانا ہوں تمہارا، تمہاری رضاعی ماں کا باپ، اور تم سب کا نانا۔ ازلفہ کی طرح تم لوگ بھی نانا جان ہی کہوگے سمجھے۔
جی نانا جان۔ ان کی محبت پر اس نے سر خم کیا۔
ازلفہ تیاری ہے تمہاری، اس نے ساتھ بیٹھی ازلفہ کی طرف دیکھا، مگر اس کا دھیان سامنے تھا، اس کی نظروں کے تعاقب میں اس نے دیکھا تو دل میں درد کی ایک لہر اٹھی، اس کی محبت اس کی زندگی سامنے دھواں دھواں آنسوؤں سے تر چہرہ لیے بیٹھی تھی، کسی نے شاید اس کی طرف دھیان نہیں دیا تھا۔ مگر ازلفہ کا اتنی خاموشی سے اسے دیکھنا اسے سمجھ نہیں آیا تھا۔ اسے ایک بار پھر اپنے آنے پر افسوس ہوا تھا۔ مگر ازلفہ میڈم کا حکم کیسے ٹالتا۔
میں ابھی آئی ذیشان۔ زینب سے کسی کام کا بہانہ کر کے وہ اسے کسی کی بھی نظر میں لائے بغیر ان تینوں کے مشترکہ روم میں لے کر چلی گئی۔ قسمت اچھی تھی جو کسی نے بھی دھیان نہیں دیا۔
اور بتاؤ بیٹا، سب کیسے ہیں؟
سب اللہ کا شکر ہے ناناجان۔ وہ ان سے باتیں کر رہا تھا، جب تک دونوں عورتوں نے اس کے لیے ناشتہ لگا دیا۔
اس کی ضرورت نہیں ہے آنٹی، میں دیر سے ہی لنچ کر کے آیا ہوں۔
مامی کہو، اور بیٹے ہو، کسی تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ سمجھے، ان کی پیار بھری جھاڑ پر وہ مسکراتے ہوئے چائے پینے لگا۔ سب لوگ اس سے باتیں کر رہے تھے۔ اور وہ متانت سے ان کے ایک ایک سوال کا جواب دے رہا تھا۔
****************
روم میں آتے ہی اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔
آ۔آپ۔ سب۔جانتی تھیں۔ اس لیے آپ نے پوچھا۔ یہ۔آپکے بھائی تھے۔ اور۔آپ۔نے مجھے بتایا نہیں۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی تھی۔
زینب، لک ایٹ می۔ اینڈ آنسر می۔ کیا تمہیں ذیشان سے محبت ہے؟ اس کے ہاتھ چہرے سے ہٹا کر اس نے اس کا چہرہ اوپر کیا۔
ٹیل می ڈئیر، ڈو یو لو ہم؟
نہیں، نہیں ہے مجھے ان سے کوئی محبت، فراڈ ہیں وہ، اس نے روتے روتے بولنے کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔
وہ فراڈ نہیں ہے زینب، بھائی ہے وہ میرا، آئی نو ہم۔ تم اپنی فیلنگ بتاؤ، میں ولید سے خود بات کروں گی۔
نہیں! آپ بھائی سے کوئی بات نہیں کریں گی، کچھ معاملات میں آپ بھائی کو نہیں جانتیں، جن میں بہت ٹپکل ہو جاتے۔ اور کوئی محبت بھی نہیں ہے مجھے آپ کے بھائی سے۔ فلرٹ ہی کر رہے تھے وہ مجھ سے۔
تم اسے غلط سمجھ رہی ہو زینب، اور ولید کو میں خود ہینڈل کر لوں گی، تم پلیز اپنی فیلنگ بتاؤ یار، ابھی وقت ہے تمہارے پاس، مگر اس کے بعد میں شاید کچھ بھی نہ بچے۔
اب کوئی فائدہ بھی نہیں بھابھی۔ بھائی اس رشتے سے مطمئن ہو گئے ہیں۔ اور اب اس میں کوئی چینجنگ، مجھے کیریکٹرائز کرےگی۔ جس سے پہلے میں مرنا پسند کروں گی۔ دل کا درد لفظوں سے عیاں ہو رہا تھا، مگر وہ اپنی فیملی کو یہ جھٹکا کبھی بھی نہیں دے سکتی تھی۔ مگر اسی بیچ وہ ازلفہ کو اپنی محبت کا احساس دلا گئی تھی۔
تم نے کچھ غلط نہیں کیا زینب، اسلام الاؤ کرتا ہے پسند کی شادی، اور تمہارا بھائی بہت اچھا ہے، وہ انڈر اسٹینڈ کرے گا۔ وہ اسے ہر طرح کنوینس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
نہیں پلیز، آپ فورس نہ کریں۔ آپ کو بلا رہے ہیں وہ، جائیں دیر ہو رہی ہے۔ اور میں آپ سے ریکویسٹ کرتی ہوں، پلیز کسی کو بھی نہیں بتانا، اور بھائی کو تو بالکل نہیں۔ اس نے دروازے کے پاس لا کر اسے الوداع کہا، اور خود واپس پلٹ گئی۔ مجبوراً ازلفہ کو بھی جانا پڑا۔
اس کے جانے کے بعد اس نے دروازہ بند کیا اور زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ آج اس کی محبت ظاہر ہو گئی تھی جسے وہ پانچ مہینوں سے اپنے دل کے نہاں خانوں میں دبا کر بیٹھی تھی۔ مگر بے بسی ہی بے بسی تھی۔
*****************
اتنے خاموش کیوں ہو؟ شان، تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو۔ وہ کبھی کبھار ہی اسے شان کہہ کر بلاتی تھی۔
پاگل ہو کیا، آنسو کیوں ہوں گے میری آنکھوں میں۔ اس نے چہرا دوسری طرف کر کے آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا۔ ورنہ اس کا دل کسی عورت کا طرح دہاڑے مار مار کر رونے کا کر رہا تھا جب سے سنا تھا وہ کسی اور کی ہو جائے گی اگلے مہینے۔
ادھر دیکھو تم، اور میرے سامنے یہ سب ڈرامے کی ضرورت نہیں ہے، بھول گئے میں وہی ہوں جس کے کندھے پر تم اب تک سر رکھ کر روتے آئے ہو۔
ازلفہ مت کرو یار۔ اور میں بالکل ٹھیک ہوں۔ پریشان مت ہو۔
مجھے نہیں پتا تھا ہر وقت بچہ بنا رہنے والا بندہ اتنا ڈیپ ہوگا۔ ویسے اسے لگتا ہے تم فلرٹ کر رہے تھے اس کے ساتھ۔ اس کی بات پر ذیشان نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی۔
واٹ، میں فلرٹ کر رہا تھا اس کے ساتھ؟ میں؟ اس نے اپنی طرف اشارہ کر کے جیسے یقین کرنا چاہا کہ وہ فلرٹی ہے۔ ازلفہ کا تیر نشانہ پر لگا تھا،
تین تین گھنٹے تپتی دھوپ میں اس کے کالج کے باہر کھڑا رہتا تھا، فلرٹ کر رہا تھا میں؟، اس کی وجہ سے کبھی کسی دوسری لڑکی کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا، فلرٹ کر رہا تھا اس کے ساتھ؟۔ پورے چھ مہینوں میں ایک بار بھی ایسی حرکت نہیں کی جس سے اس کے کیریکٹر پر کوئی حرف آئے۔ اور اسے لگتا ہے میں فلرٹ کر رہا تھا اس کے ساتھ۔ بولتے بولتے اس کی آواز بھرا گئی تھی، اسٹئیرنگ پر سر ٹکائے وہ اپنا غم ہلکا کرنے لگا تھا۔
اور ازلفہ تو ان دونوں کی کیفیت میں سینڈوچ بن گئی تھی، اسے تسلی بھی دے تو کیا دے، زینب جیسی معصوم لڑکی کبھی بھی خود کے لیے اسٹینڈ نہیں لےگی۔ اس بات کا اسے اچھی طرح اندازہ تھا۔
تم اللہ پر بھروسہ رکھو شان، وہ یقیناً اپنے بندوں کو انکی پاور سے زیادہ ٹیسٹ نہیں کرتا، ضرور اس نے تمہارے لیے کچھ اچھا سوچا ہوگا۔
کیا وہ رو رہی تھی؟ اس کے سوال پر ایک زخمی مسکراہٹ اس کے چہرے ہر آئی تھی، کیا بتاتی اسے کہ اس کا حال تو اس سے بھی زیادہ برا تھا۔
ہاں،
کیوں؟ اس کے رونے کا سن کر اسے اور تکلیف ہوئی تھی۔
اب کیوں پوچھ رہے ہو؟ اور تمہیں کیا فرق پڑتا ہے، وہ روئے یا ہنسیں، جب پوچھا تھا تب تو میوٹ کا بٹن دبائے بیٹھے تھے۔
مجھے فرق نہیں پڑتا؟، آنا نہیں چاہتا تھا میں وہاں اسی لیے کہ اسے تکلیف ہوگی، مگر تم نے زبردستی بلایا، یہی دکھانے کے لیے بلایا تھا نا؟، دونوں بہن بھائی ایک ہی موضوع پر ایک ہی لڑکی کے لیے لڑ رہے تھے۔
اب کچھ نہیں بچا شان، لیو اٹ، اس نے تو کہہ دیا مگر اس کی بات پر ذیشان کا دل ایک بار پھر بین کرنے لگا تھا۔ گاڑی گھر کے راستے پر رواں دواں تھی۔ اور وہ دونوں بہن بھائی اپنی اپنی سوچوں میں گم بالکل خاموش۔
اس نے ان دونوں کی حالت کے پیش نظر، ایک بار پھر ولید سے بات کرنے کا سوچا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے اس بارے میں اسلامی معلومات حاصل کی تھی، جہاں پسند کی شادی کوئی معیوب بات نہیں تھی، مگر شرط یہی تھی کہ اس میں کوئی گناہ نہ کیا جائے۔ کوئی پسند ہو تو رشتہ بھیج کر نکاح کر لیا جائے۔ اسی لیے اس نے ولید کے سامنے اس کا پروپوزل رکھا تھا جس پر ولید نے کوئی خاطرخواہ جواب نہیں دیا تھا۔
*****************
آپ کی لگن اور فکر نے واقعی کمال کر دیا مسٹر بخاری۔ جس کو ہم محض سوچ سکے اسے آپ نے کر دکھایا، ہمیں فخر ہے آپ کے ساتھ کام کرنے پر۔ اور ہر پل یہی دعا ہے کہ اللہ آپ کو کامیابیوں سے تاحیات نوازتا رہے۔ ایک بلڈنگ کی تعمیر آج آخری مراحل میں تھی۔ تمام انویسٹرز اور اس کے ساتھ کام کرنے والے اس کی محنت کو سراہ رہے تھے۔ جس انداز میں وہ گھر بنوا رہا تھا، لوگوں کے لئے واقعی وہ اللہ کی طرف سے عطیہ تھے۔
میں اکیلا نہیں ہوں مسٹر منصوری، ہم سب کی کاوش ہے یہ، ہمارے اسٹاف کی بھرپور ایمانداری کی عمدہ مثال۔ مجھ سے زیادہ تعریف کے قابل وہ لوگ ہیں جو ان معصوموں کے لیے اپنا دن رات بھلائے اس تعمیر کو جلد از جلد پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ انہیں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ ایک مضبوط بلڈنگ چار مہینوں میں تعمیر ہو گئی۔
سب کے چہرے پر جو شادمانی اور سکون تھا وہ بیشک اللہ ہی کی دین تھا جو ان لوگوں سے ایسا نیک کام لے رہا تھا ان ہزاروں بے گھر لوگوں کے لیے جو سال بھر سے خانہ بدوشوں کی زندگی گزار رہے تھے مگر اپنی حدود نہیں بھولے تھے۔ نہ جانے کس کس دیس سے اٹھ کر آئے تھے مگر ان کے چہرے پرنور تھے۔
کیسا فیل کر رہے ہو؟ لوگوں کے جھرمٹ سے وہ لوگ ابھی فری ہو کر سکون سے بیٹھے تھے۔ حذیفہ کے سوال پر ایک محفوظ کن مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی، جس میں بلا کا سکون تھا۔
بالکل ایسے جیسے یہاں رہنے والوں کو محسوس ہوگا۔
سہی کہہ رہے ہو، اور ہاں میں بتانا بھول گیا، فاروق بھی اس میں انوالو ہونا چاہتا ہے، آج آتا وہ مگر اس کی بیوی کی طبیعت خراب ہے، اس لیے۔
ہمم، میں اس کا پروپوزل ایکسیپٹ کر چکا ہوں۔
ویسے آج بھائی کے لیے خوشی کے دو دن ہیں۔ موحد کے اچانک کہنے پر حذیفہ فوراً متوجہ ہوا۔
کیا مطلب؟ میں چاچو تو نہیں بننے والا؟ حذیفہ کی بات پر ولید نے اسے گھور کر دیکھا۔
کیا آپ بھی حذیفہ بھائی۔ میں وہ والی بات نہیں کر رہا ہوں۔
تو پھر کون سی بات رہا ہے چھوٹے؟
آج بھابھی کے امتحان ہوئے، عربی اور اردو پڑھنے میں انہیں سند مل گئی۔ اور ان کا رزلٹ سب سے بیسٹ رہا۔
ماشاءاللہ، مبارک ہو ولید صاحب۔ حذیفہ نے باقاعدہ اس کا ہاتھ پکڑ کر مبارکباد کی۔
جزاک اللہ، اس کی مذاق کی عادت سے وہ بخوبی واقف تھا،
ویسے ولید، تم نے مس میکڈی کو واقعی بدل کر رکھ دیا، پہلے تو تمہاری ٹکر کی تھی مگر اب تم نے شاید اپنا تابع کر لیا۔
کبھی تمیز میں بھی رہا کرو۔
تمیز میں نہیں دوست، پارٹی دو وہ بھی فائیو اسٹار ہوٹل میں۔ شام کو ہی۔
کس خوشی میں؟ ماتھے پر بل ڈالے اسے گھور کر دیکھا۔
تمہاری بیوی کے بڑے ہونے کی خوشی میں۔ ویسے جس طرح یار ازلفہ نے عربی اردو بچوں کہ طرح سیکھا ہے نا، اس کے کانفڈنس کی داد دینی پڑے گی۔ ایسے لوگ بہت آگے جاتے ہیں۔ ازلفہ کی تین مہینوں کی محنت سے وہ خوب واقف تھا۔
میں کون ہوں تمہارا؟ اس کے پوچھنے حذیفہ نے بھوویں اچکا کر اسے دیکھا۔
کیوں تمہیں نہیں پتا؟
نہیں! تم بتاؤ۔ موحد خاموش بیٹھا ان کہ باتیں سن رہا تھا۔
بھائی جیسا دوست۔
تو دوست کی بیوی کیا لگےگی تمہاری؟
بھابھی۔
تو اگلی بار اس کا نام مت لینا۔ سمجھے۔ اس کی بات کا مطلب اب ان دونوں کو سمجھا تھا۔
چھوٹی ہے مجھ سے، تم ہی تو بڑے ہو۔
چھوٹی ہو یا کچھ بھی بھابھی بلانا، نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
اتنی پوزیسیو نیس بتا رہی ہے محبت غضب کی ہے۔
بکواس بند کرو، بہت ہو گیا ریسٹ، چلو اب، دونوں کو لے کر وہ پھر سے پوری بلڈنگ کے راؤنڈ کے لیے نکلا۔
*****************
خلاف معمول وہ جلدی گھر آ گیا، اس کا ارادہ ازلفہ کے ساتھ باہر ڈنر کرنے کا تھا۔ اس کی اور اپنی خوشی وہ اس کے ساتھ مل کر یادگار بنانا چاہتا تھا۔ مگر نہ وہ اسے گھر میں نظر آئی نہ روم میں۔ وہ حیران سا باہر آیا۔
ازلفہ کہاں ہے؟ سب ہال میں ہی بیٹھے ہوئے تھے، مگر وہ ان کے بیچ نہیں تھی۔
اپنے گھر گئی ہے۔ فون تو کیا تھا اس نے تمہیں۔ اپنی ماں کی بات پر اس کی حیرت میں اضافہ ہوا۔ ذہن میں جھماکہ ہوا، جب وہ لوگوں کے بیچ میں گھرا ہوا انسٹرکشنز دے رہا تھا، تب ازلفہ کا فون آیا تھا، اسے یہ نہیں پتا تھا اس نے کیا بولا یہ کیا پوچھا، اس نے بس ہاں ہاں کر کے فون رکھ دیا تھا. دماغ پر زور ڈال کر بھی اسے یاد نہیں آ رہا تھا اس نے پوچھا کیا تھا؟ گھر والوں سے پوچھتا تو مذاق ہی بنتا، اس لیے فرصت سے ازلفہ کی کلاس لینے کا ارادہ کر کے وہ سب کی طرف متوجہ ہوا۔
بے دلی سے سب کے ساتھ بیٹھ کر وہ سب کو آج کی کاکردگی کے متعلق بتاتا رہا۔
ازلفہ کی کمی کتنی محسوس ہو رہی ہے بھابھی۔ اس کی باتیں سب آدھے دن میں ہی یاد آنے لگیں۔ تین چار دن تک سب کا حال برا ہو جانا ہے، ان لڑکیوں کو دیکھو کتنی چپ ہیں۔
بس کیا بتاؤں سلمیٰ، میرا تو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا وہ جائے مگر ان لوگوں کا بھی حق ہے اس پر۔ اور لڑکیوں اداس ہونے کی ضرورت نہیں، کالج سے آتے ہوئے مل آنا اس سے۔ آسیہ حسن کی بات پر لڑکیوں کے چہرے کھل اٹھے۔ مگر ولید حسن ان کی تین چار دن کی بات میں ہی اٹک گیا۔
سچی بڑی ماں، پھر تو ہم ڈنر انہیں کے ساتھ کر کے آئیں گے۔ ہے نا زینب آپی، شرمین کی بات پر زینب کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے، کیا سامنا کر پائےگی وہ اس کا، جو زبردستی اس کے دل کا مکین بن بیٹھا تھا۔ ایک نامحرم سے محبت کا خوف اس کا دل بھی تو دھڑکا رہا تھا۔ وہ نماز کا بول کر اپنے روم میں آ گئی۔ اسے اللہ سے مدد طلب کرنی تھی، اسے اس محبت سے چھٹکارا چاہئے تھا۔ اور بیشک اللہ مددگار ہے اسی یقین کے ساتھ وہ مصلے پر کھڑی ہو گئی۔
******************
ازلفہ کے ساتھ روزانہ واک کرنا اس کا معمول تھا، کتنی شدت سے وہ اس کی کمی محسوس کر رہا تھا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا، جادو کے زور سے وہ اسے اپنے سامنے لے آئے۔ “پوزیسیو نیس بتا رہی ہے محبت غضب کی ہے” حذیفہ کی بات اسے سچ ہوتی معلوم ہو رہی تھی۔ تین چار بار وہ اسے کال کر چکا تھا مگر وہ ریسیو ہی نہیں کر رہی تھی۔ اور یہ بات اسے اچھا خاصا غصہ دلا رہی تھی۔
غصے میں فون سائڈ میں پھینکنے والا تھا جب فون کی رنگ ہونے لگی، ازلفہ کالنگ دیکھ کر غصے سے ہی رسیو کیا۔
کہاں تھیں تم، کب سے کال کر رہا ہوں، ریسیو کیوں نہیں کر رہی تھیں؟ اس کے سلام کا جواب دے کر اس نے سوالوں کی بوچھار کر دی۔
ریلیکس ولید، اتنے دن بعد ایسے ساتھ تھے تو بس باتوں میں ٹائم کا احساس نہیں ہوا، اور فون میرے روم میں تھا، نماز پڑھ رہی تھی جب تمہارا فون آ رہا تھا۔ ناراض کیوں ہو رہے ہو؟
تم تین چار دن رہوگی وہاں؟ اس کا سوال اگنور کر کے اس نے اپنا سوال کیا۔
ارادہ تو یہی ہے۔ سب تو بتایا تھا تمہیں فون پر، ایگری کر چکے تھے تم پھر اب غصہ کیوں آ رہا ہے؟
تم کل واپس آ رہی ہو، زینب لوگ آئیں گی تمہاری طرف، انہیں کے ساتھ شام میں آجانا۔ اوکے۔ ایک بار پھر اس کا سوال اگنور کر کے دوسرا حکم نامہ جاری کیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *