Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode28

Hidayat by Ain Noon Alif Episode28

زینب کیا ہوا، اتنی ہوائیاں کیوں اڑی ہوئی ہیں؟ ازلفہ، یٰسین پڑھنے کی مشق کر رہی تھی، جب زینب بھاگتی ہوئی اندر آئی اور گرنے کے انداز میں اس کے قریب بیٹھی، آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔
ب۔بھا۔بھی!!! وہ نیچے، وہ ذ۔ذیشان۔ اس کے اٹک اٹک کر بولنے اور بات ادھوری چھوڑنے پر ازلفہ کو ساری بات سمجھ میں آ گئی تھی،
تو اس میں رونے والی کون سی بات ہے؟ اس نے یٰسین کو اچھے سے رکھا اور اس کی طرف دیکھا، جس کا چہرہ ضبط سے سرخ ہو رہا تھا۔ شاید ایسا ہی حال ہوتا ہے غیر امید باتوں کے اچانک پورا ہو جانے سے۔
یہ کیسے ہوا؟ کیا آپ نے بھائی کو بتایا کچھ، میں سب کی نظروں میں گر جاؤں گی بھابھی، مجھے قصوروار ٹھہرایا جائے گا، میں نے اللہ کے لیے سب چھوڑ دیا تھا، سب بھول گئی تھی پھر یہ؟
تم نے اللہ کی رضا کا خیال رکھا اور اللہ نے تمہاری رضا کا، اور تم قصوروار نہیں ہو، اور نہ تمہاری فیملی جاہل ہے، جو تمہیں اس بات کے لیے بلیم کرے جو تم نے نہ سوچی، نہ کی۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں؟ اس نے ہاتھ مسلے، الجھن ہی الجھن تھی۔ اچانک ایسا کیسے کہ معاذ کے لیے ہاں کرنے کے بجائے ذیشان کو قبول کر لیا گیا۔
تم کچھ مت کرو بس نکاح کا انتظار کرو۔ اور پھر اپنے پیا۔۔۔ زرین بھی روم میں آ گئی تھی۔ اور اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر اسے بھی شرارت سوجھی۔ تینوں ایک دوسرے سے کافی فرینک ہو چکی تھیں۔
کیا آپی آپ بھی، زرین کی بات پر وہ جھینپ گئی تھی۔
بٹ مجھے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے، میں خوش نہیں ہو پا رہی ہوں۔ وہ پھر سے افسردہ ہوئی۔
تم نے اللہ سے مدد مانگی؟
جی! مدد مانگ کر ہی تو اتنی مضبوطی آئی ہے۔
تو پھر یقین رکھو اللہ تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔
تم لوگوں کی عزت میرے لئے بلکل ایسی ہی ہے جیسے میری اپنی عزت۔ اس کی یہی باتیں تو اسے ممتاز کرتی تھیں، اس کی عام سے عام بات بھی اپنے انداز میں بہت معنی لیے ہوتی تھی۔
اس کی بات پر دونوں اس کے گلے ملنے کے لیے آگے بڑھیں، دن بدن وہ ان لوگوں کو عزیز تر ہوتی جا رہی تھی۔
رکو!!! اپنی شادی میں ملنا ایسے گلے، بیس دن اور انتظار کرو، ابھی میرا ہاتھ اس کی اجازت نہیں دیتا، اس نے سٹالر سے ڈھکے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔
تو پھر بھائی کیسے گلے لگتے ہیں آپ کے؟ ویسے جب ہمیں آپ سے اتنی محبت ہوتی جا رہی ہے، پھر بھائی کا حال تو بہت ہی۔ ویسے بھائی دن بدن آپ کے لیے پوزیسیو ہوتے جا رہے ہیں، ہم تو یہ ہی سوچ کر پریشان رہتے تھے کہ پتا نہیں بھائی اپنی بیوی سے کیسے رومینس کریں گے۔ ویسے بھابھی! بھائی رومینٹک تو ہیں نا؟ زرین کی بات پر اسے ولید کا بڑے احتیاط اور نرمی سے اپنے حصار میں لینا یاد آیا۔ اور کچھ مہینوں پہلے کی اپنی ایسی ہی مذاق مستی، اور ساتھ ہی وہ حدیث جو کل شازیہ آپا نے اسے بتلائی تھی۔ اور اس نے وہ ان کے پاس موجود کتاب سے فوٹو کھینچ کر لی تھی۔ اسے بے اختیار اللہ پر پیار آیا تھا جو کیسے کیسے بہانے سے دین سکھا رہا تھا۔ اس نے اپنا فون نکال کر ان دونوں کے سامنے کیا۔
یہ حدیث دیکھو، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“قیامت کے دن، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ (آدمی) اس کا راز افشا کر دیتا ہے”۔ [صحیح مسلم: 1437] عورت کے لیے بھی یہی وعید ہے۔
ایسا شخص جو آپسی تعلقات کے راز کو بیان کرتا ہو وہ اس بے غیرت کے مانند ہے جو سر عام یہ فعل انجام دے رہا ہو۔ ایسے شخص کا وقتی طور پردہ میں رہنے کا کیا فائدہ جسے لوگوں میں بیان کیا جائے ؟ وہ پردہ ہی کیا کہ جس کی الفاظ نے عکاسی کردی ہو، وہ راز کہاں رہا جسے افشا کردیا گیا ہو۔
وہ مجھے باہر اور گھر میں سب کے سامنے اپنے حصار میں لے چکے ہیں، مگر اس میں عزت ہے فکر ہے۔ گندگی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے حصار میں لیا تھا۔ مگر جو بات ہم پوچھتے ہیں ایک دوسرے سے، وہ یہ نہیں ہوتی ان کا مطلب ہی دوسرا ہوتا ہے۔ اور شاید اللہ یہ بات تم لوگوں تک بھی پہنچانا چاہتا تھا اس لیے تم لوگوں نے آج مجھ سے وہ مذاق کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی۔
اسی لئے حدیث میں ایسے لوگوں کی مثال اس شیطان کی طرح بیان کی گئی ہے جو سرے عام زنا کرتا ہے اور لوگ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں ۔ دیگر مرد خواتین بھی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’کوئی مرد ایسا بھی ہے جو اپنی بیوی کے پاس آتا ہے دروازہ بند کرکے پردہ گرا کر اس سے صحبت کرتا ہے پھر اس کو لوگوں میں بیان کرتا ہے، اور کوئی عورت ایسی بھی ہے جو اپنے خاوند کے پاس آئے دروازہ بند کرکے پردہ گرا کر صحبت کرے پھر اسے سہیلیوں میں اس بات کو ظاہر کرے ۔‘‘ یہ سن کر لوگوں پر خاموشی چھا گئی۔ (آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ) میں نے عرض کی: ’’ اے اللہ کے رسول بالکل ایسا ہی ہے، مرد بھی ایسا کرتے ہیں اور عورتیں بھی ایسا کرتیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہرگز نہ کرو ، کیونکہ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ شیطان اپنے ہم جنس مادہ سے راستہ میں ملتا ہے، اور وہیں اسے دپوچ کر زنا کرنے لگتا ہے جبکہ لوگ یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ” [صحيح الترغيب :2023 ] . نعوذ باللہ راز افشاء کرنے والے شخص کی مثال اس سے بری اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اس شیطان کے مانند ہے جو سرے عام زنا کرتا ہے ؟
اور تم لوگوں کو پتا ہے! شازیہ آپا کہہ رہی تھیں یہ گناہ بہت عام ہو چکا ہے، مجھے سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ ایسا کیسے کوئی کرےگا، تو دیکھو یہ گناہ ایسے ہو رہا ہے، ہم لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم بس ایسے ہی انجوائمنٹ کے لیے پوچھتے ہیں اور ہمیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم اللہ کے غضب کو آواز دے رہے ہیں، خیانت کر کے۔
یا اللہ! ہماری کچھ میرڈ فرینڈز ہیں بھابھی اور یہ بات کامن ہے، وہ اپنے ہسبینڈ کی شرارتیں ہمیں بتاتی رہتی ہیں، اور ہمیں کبھی محسوس ہی نہیں ہوا یہ گناہ ہے۔
کوئی بات نہیں، میں نے خود یہ گناہ کیا ہے، اللہ معاف کرنے والا ہے انجانے میں ہوئے گناہوں کو۔
کبھی نہیں کرنا یہ گناہ، میں ان لوگوں کو بھی سناؤں گی یہ حدیث آپ مجھے سینڈ کر دیں۔ ان کے کہنے پر اس نے دونوں کو یہ حدیث واٹس اپ کردی۔
**********************
نماز پڑھ کر وہ ٹیرس پر واک کرتے ہوئے زوبیہ اور عائشہ سے بات کر رہی تھی۔ ولید نیچے سب کے ساتھ تمام معاملات طے کروا رہا تھا، اپنے انکل آنٹی سے مل کر وہ واپس روم میں آ گئی تھی، ایک گھنٹہ سے اوپر ہو گیا تھا بات کرتے ہوئے جب کھٹکے پر اس نے روم میں جھانک کر دیکھا، ولید نائٹ سوٹ لیے واشروم جا رہا تھا۔ اس نے بات پوری کر کے فون رکھا اور آسمان کی طرف دیکھنے لگی، تاروں سے بھرا آسمان آنکھوں کو ایک ٹھنڈا سرور دے رہا تھا۔
ولید چینج کر کے سیدھا ٹیرس پر ہی آیا تھا اور اب وہ اس کے چہرے پر ایک الوہی چمک دیکھ رہا تھا، شاید آسمان کے تاروں سے بھی زیادہ، وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب گیا اور ہمیشہ کی طرح بہت احتیاط اور نرمی سے اسے اپنے حصار میں لے کر اس کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھی۔
اللہ کا کلام: “تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤگے؟” اور تم میرے رب کی وہ نعمت ہو جس کے لئے خاص سجدہ شکر بجا لانا واجب لگتا ہے۔
اس کی بات پر ازلفہ نے مسکراکر اسے دیکھا اور اپنا ہاتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھایا مگر بھلا ہو زخم کا جس کی شدت اسے کراہنے پر مجبور کر گئی۔
بس یہاں غصہ دلا دیتی ہو، مجال ہے جو ذرا دھیان رکھ لو اپنا، یہاں آؤ، اسے لیے وہیں پر موجود بڑی سی آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر اسنے اسے اپنی پیروں پر بٹھایا۔ اور بازو پر ڈھکا باریک کپڑا ہٹا کر کرسی کی بیک پر رکھا۔
درد ہو رہا ہے اب بھی؟ نرمی سے اس کا ہاتھ سہلاتے ہوئے پوچھا۔
آپ کے آتے ہی سارے درد ڈر کے بھاگ جاتے ہیں۔
اچھا! چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیا،
جی! اور اب بتائیں نیچے کیا کیا بات ہوئی؟
تم اس لیے اس رشتے پر زور دے رہی تھیں کیونکہ تم سب کچھ جانتی تھیں، اس کے پوچھنے پر وہ ایکدم سنجیدہ ہوا۔
کیا مطلب؟ وہ اس کی بات پر گڑبڑا گئی تھی۔
چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ازلفہ، میں سب کچھ سن چکا ہوں، تم لوگوں کی باتیں اور سمجھ بھی چکا ہوں۔ یہ بتاؤ۔ تم نے مجھ سے اس کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ وہ اب بھی سنجیدہ ہی تھا۔
جب سب سن چکے ہیں تو پھر وجہ بھی سمجھ میں آ گئی ہوگی، جو محبت پاک تھی، اسے بتا کر گناہ کیوں بناتی؟ بتائیں۔ اپنے چہرے کے قریب اس کے چہرے پر نظر جمائی، ولید کی نظریں اسے نہار رہی تھیں، وہ کچھ معاملوں میں بہت سمجھدار تھی۔
“اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤگے؟” اس نے پھر کچھ دیر پہلے والے الفاظ دہرائے۔
آپ کو برا لگا؟ کیا آپ کی نظر میں ان لوگوں کی ریسپیکٹ کم ہو گئی ہے؟
نہیں! جس پر اللہ ناراض نہیں ہوا اس پر میں کون ہوتا ہوں ناراض ہونے والا، یہ ان کی عزت میں کمی کرنے والا۔ اس کے لفظوں میں سچائی تھی۔
اسی لیے تو میں آپ کو رئیل ہیرو کہتی ہوں۔
اچھا سنیے! کچھ یاد آنے پر اس نے تیزی سے کہا تھا۔
ازلفہ، اب یہ لفظ دوبارہ نہیں۔ ایک تو بڑی مشکل سے تمہارا یہ آپ ہضم کیا ہے، اور اب یہ سنیے۔ ولید کو شام کا منظر پوری آب و تاب سے یاد آیا تھا۔
**********************
سب لوگ بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے، جب وہ بھی زینب اور زرین کے ساتھ نیچے آئی تھی۔ اسے ولید سے کچھ بات کرنی تھی جبھی اس نے اسے پکارا۔
سنیے! سنیے پلیز، سب نے حیرانی سے اس کا انداز دیکھا، کسی کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کسے پکار رہی ہے، ولید کو تو وہ بیانگ دہل بلاتی تھی۔ اس لیے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا وہ اسے پکار رہی ہے۔
کیا ہوا بیٹا؟ آسیہ حسن کے پوچھنے پر اس نے ولید کی طرف اشارہ کیا۔
میں انہیں بلا رہی ہوں، کچھ پوچھنا تھا، یہ سن ہی نہیں رہے۔ سنیے پلیز، انہیں بتا کر ایک بار پھر اسے بلایا، اور اس بار جہاں چائے پیتے ولید کو زور کا اچھو لگا تھا، وہیں باقی لوگوں کا قہقہہ فضا میں گونجا تھا، اب کے وہ حیران ہو کر سب کو دیکھ رہی تھی۔
ازلفہ بیٹا اچانک سے کیا ہوا تمہیں؟ حیدر صاحب بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روک رہے تھے۔ اور ولید اپنی بیوی کے نئی نئی عزت کے سبق سے فیض یاب ہو رہا تھا۔ اور پتا نہیں کتنی اور عزت جھیلنی تھی۔
میں ان کا نام نہیں لے سکتی نا، ناناجان، اسلیے اب تو ایسے ہی بلانا پڑے گا۔ اور زبردستی سب کی معنی خیز نظروں سے بچ کر اسے روم میں لایا تھا۔ اور اب پھر سے۔
***********************
ازلفہ، اس آپ کے ساتھ تم میرا نام لے سکتی ہو۔ نہ جانے کیوں اسے اس کا پہلا انداز یاد آ رہا تھا۔ ایک عجیب اپنائیت اور فرینک نیس تھی۔
اللہ ناراض نہیں ہوگا؟
نہیں! بلکل نہیں ہوگا، کیونکہ میں خود بول رہا ہوں۔
اوکے، بٹ پھر میں آپ کو ولی بلاؤں گی، ولید نہیں۔ اس کی بات مانتے ہوئے شرط رکھی۔
کیوں؟ وہ حیران ہوا، سب جانتے تھے اسے ادھورے نام پسند نہیں۔
کیونکہ ولید تو سب بولتے ہیں نا آپ کو، اور آپ کو شارٹ نیم پسند نہیں اس لیے کوئی بولتا نہیں ہے۔
تو جب پسند نہیں تو پھر تم کیوں بولوگی؟ سوالیہ نظریں اس پر ٹکی ہوئی تھیں۔
کیونکہ اس شارٹ نیم سے آپ کا نام نہیں بگڑےگا۔
اچھا! وہ کیسے؟
کیونکہ ولی کا مطلب ‘دوست’ ہے۔ ْاور ولی کتنا اچھا اور یونیک سا ساؤنڈ کرتا ہے، میں بلاؤں پھر ولی؟ لوجک بتا کر اجازت مانگی۔
تمہاری ساری اجازتیں ہیں میری جان۔ اب بھی وہ اس کی باتوں سے بے اختیار ہو رہا تھا۔
چلیں اب روم میں، نیند آ رہی ہے۔
ہمم، چلو، اسے آرام سے کھڑا کیا۔
ویسے تم نے ایک بات نہیں بتائی؟ آج نہ جانے کیوں اس کا دل اس سے باتیں کر کے سیر ہی نہیں ہو رہا تھا، اس لیے بات پر بات نکال رہا تھا۔
کیا؟ اب کیا بات نہیں بتائی؟
وہی کہ میں رومینٹک ہوں یا نہیں، اور تمہیں کیسے ہگ کرتا ہوں اور اچانک رک کر اس کے سامنے آکر وہ اسے بری طرح پزل کر گیا تھا۔
پلیز ولی، سرخ چہرے کے ساتھ وہ اسے گھور کر رہ گئی مگر اس کی بولتی نظریں اسے سر جھکانے پر مجبور کر گئی تھیں۔
اوکے اوکے! چلو، بہت رات ہو گئی، اس کے گھبرا کر خاموش ہونے پر وہ اسے اندر لے آیا تھا۔
اب تم اچھے سے سوجاؤ، میں کچھ ای میلز چیک کر لوں اوکے۔ کل وقت نہیں ملےگا۔
تو پھر پہلے سے کیوں نہیں کی؟ باتوں میں کتنا وقت گزار دیا۔
باتیں نہیں کرتا تو اس وقت انرجی کہاں سے آتی، خود کو فریش کر رہا تھا۔ اور اب تم اچھی لڑکی کی طرح سو جاؤ۔ اس پر بلینکٹ ڈال کر وہ دوسری طرف ہو کر لیپ ٹاپ آن کر کے بیٹھ گیا۔ اور ازلفہ اس کی پشت کو دیکھتے مسکراتی نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔ ولید نے بھی مسکرا کر اسے دیکھا اور اس کے ماتھے پر جذبات کی مہر لگا کر اپنے کام میں لگ گیا۔ تھکن کا احساس تک نہیں رہا تھا۔
__________
ذیشان! وہ ابھی مصلے پر ہی بیٹھا نہ جانے کن خیالوں میں تھا جب ریحان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس نے چونک کر سر گھمایا۔
کیا سوچ رہے ہو؟ چلنا نہیں ہے کیا؟ حذیفہ لوگ پہنچنے والے ہیں۔ وہ بھی اسی کے پاس بیٹھ گیا۔
چلو! مصلے سمیٹ کر اس کی جگہ پر رکھا۔
ویسے اس وقت نماز کیوں پڑھ رہے تھے؟ ریحان کے سوال پر اس نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
میں اللہ سے اس نکاح کے تمام انوار و برکات مانگ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عبرتناک گناہوں سے بچانے کے لیے اپنی ایک نشانی نکاح کی صورت میں دی تاکہ لوگ گناہوں سے بچے رہیں، مگر آج میں دیکھ رہا ہوں، شادی شدہ افراد زیادہ گناہوں میں مبتلا ہیں۔ اور میں اللہ سے کہہ رہا تھا میرا نکاح ایسا ہو جو مجھے گناہوں سے بچا لے۔
تمہاری شادی اس سے ہو رہی ہے جس کے تم دیوانے ہو۔ تو پھر تم گناہگار کیسے ہوؤگے؟
شیطان بڑا دشمن ہے مسلمان کا، خاص کر مسلمان جوڑوں کا، اور سب سے زیادہ وار وہ انہیں جوڑوں پر کرتا ہے جو ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں، تو بس سمجھو اسی لیے اللہ کی پناہ مانگ رہا ہوں۔
تم اور ازلفہ ایک جیسے ہو رہے ہو۔
اور تم لوگ ہمارے جیسے ہو رہے ہو۔
بلکل، اب چلو دیر ہو رہی ہے، اور مجھے یقین ہے اللہ ہمارے نکاحوں کو بابرکت رکھےگا کیونکہ یہ بدعت یعنی شرک کی آمیزش سے پاک ہیں، اور یہ عام بات نہیں ہے۔ اس کی بات پر ذیشان نے سر ہلایا اور زندگی کی سب سے خوبصورت اور پر لطیف منزل کی طرف گامزن ہو گیا۔
*************************
ولید اور موحد کے ولیمہ میں ہی زرین اور زینب کا نکاح ہو رہا تھا۔ بابرکت، اور تمام رسموں سے پاک سنت کی ادائیگی میں الگ ہی بہار تھی۔
ازلفہ، بیٹا قاضی صاحب آ رہے ہیں، عورتوں کا پردہ کروا دو، آسیہ حسن کی بات پر اس نے کمرے میں موجود تمام عورتوں اور لڑکیوں کو دوپٹے کا گھونگھٹ کرنے کے لیے کہا۔ اور خود کو بھی مکمل طور چھپا لیا۔ نکاح کے بعد اسے ولید نے باہر بلایا تھا۔
جی فرمائیے؟ اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے سر کو ہلکا سا جھکایا۔ اس کی اس حرکت پر ولید نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
اس میں دیکھنا چاہتا ہوں تمہیں، کیا یہ قبول کروگی؟ ایک پیکٹ اس کی طرف بڑھایا۔
جو حکم جناب، اس کی فرمائشیں ازلفہ بھی ویسے ہی پوری کرتی تھی جیسے ولید اس کی فرمائشیں پوری کرتا تھا۔
ایک گھنٹے بعد ہر کوئی اپنے نئے سفر کے لیے روانہ ہو گیا تھا، دو رحمتوں کی ایک ساتھ جدائی نے ماحول سوگوار کر دیا تھا۔ سب ایک دوسرے کو دلاسہ کی رہے تھے۔ سب کے اپنے روم میں جانے کے بعد وہ بھی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی، ولید ابھی بھی باہر ہی تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *