Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode24

Hidayat by Ain Noon Alif Episode24

جزاک اللہ آپی! اور واقعی بھابھی کی وجہ سے ہماری بہت اصلاح ہوئی ہے،
آپیز، ولید بھائی بلا رہے ہیں۔ شرمین کی آواز پر دونوں اپنا چہرہ صاف کر کے اطمینان کے ساتھ باہر گئیں۔
کیا ہوا تم دونوں کو؟ ان کے روئے روئے چہرے دیکھ کر اس نے سوال کیا۔
کچھ نہیں بھائی، وہ بھابھی سے مل کے آئے تھے نا، بہانہ بھی بودا کیا۔
میں نے کچھ کہا تھا تم لوگوں سے؟
بھائی ان کے انکل اور زوبیہ آپی کی طبیعت خراب تھی اس لیے وہ رک گئیں، ان کے بتانے پر ولید کو اس پر غصہ آیا یہ بات اسے کیوں نہیں بتائی۔
اوکے، یہ چوٹ کیسے لگی؟ اس کے ہاتھ پر بندھی پٹی کو دیکھ کر پوچھا اور ساتھ ہی پٹی کت اوپر سے ہی اس کا معائنہ کیا۔ زرین نے مختصر بتا کر اسے مطمئن کیا۔
*********************
تم میں ایک اور چینج آیا ہے ازلفہ، نوٹ کیا تم نے؟ زوبیہ اور عائشہ کو شاپنگ کرنی تھی تو اسے بھی زبردستی ساتھ لے آئیں۔ باتیں کرتے کرتے شاپنگ بھی ہو رہی تھی۔
کیا چینج آیا ڈئیرز؟
تم نے ریحان اور انس کو اس بار ہگ نہیں کیا اور نہ ٹچ کر کے کوئی بات کی، انفیکٹ، بہت لمیٹڈ رہی ہو۔
رئیلی؟ آئے ڈڈنٹ نوٹس۔
ہم میں سے کوئی بھی ان لمٹ نہیں ہو رہا ہے یار۔
چلو، انس بلا رہا ہے۔ عائشہ نے فون پر بات کر کے انہیں سامنے اشارہ کیا جہاں انہیں جانا تھا۔ تینوں سامنے ہوٹل کی طرف بڑھ گئیں۔
*******************
کیسی ہو تم؟ چاروں باتیں کرتے کھانے میں مشغول تھے جب اجنبی آواز پر چاروں نے ایک ساتھ سر اٹھا کر دیکھا، اور مقابل کو پہچان کر ازلفہ کے چہرے پر ناگواری کی لہر آئی جسے اس نے چھپانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ مگر شاہینہ کے بھائی کو دیکھ اسے کسی خطرے کی بو آئی تھی شاید اس کی نظریں۔
بتایا نہیں تم نے؟ بے تکلفی سے اس نے پھر اپنا سوال دہرایا۔
کون ہو تم؟ انس نے ہاتھ روک مقابل سے پوچھا جس کی گہری نظریں ازلفہ پر جمی تھیں، انس کو یہ بات اچھی نہیں لگی۔
جس دن سے تمہیں دیکھا ہے سو نہیں پایا، اتنا فون کیا تمہیں، وہ بھی تم نے نہیں اٹھایا۔ یہ میرا دسواں چکر ہے اس پورے علاقے کا، اور آج جا کر تم ملی، دیکھو اللہ بھی شاید ہمیں ملانا چاہتا ہے۔ انس کا سوال اگنور کر کے وہ کھانے کو گھورتی ازلفہ سے بےباکی سے مخاطب تھا۔
اتنی بکواس کیوں کر رہے ہو، وہ بھی ایک میرڈ لڑکی سے۔
کیونکہ تم مجھے اچھی لگیں، اور جو چیز مجھے اچھی لگتی ہے اسے میں اپنے پاس لے آتا ہوں۔ اور تمہارے شادی شدہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ طلاق لینے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ اس کی بات پر انس اسے مکا مارنے ہی لگا تھا جب ازلفہ نے اسے روک دیا۔
کتوں کے ساتھ بھوکتے نہیں ہیں۔
چلیں دیر ہو رہی ہے، اس کی بات کو اگنور کر کے وہ تینوں سے مخاطب تھی۔
پہلے دوستی تو کر جاؤ،
تم نے شاید اس دن میرے ہسبینڈ کو دیکھا نہیں تھا،
دیکھا تھا، اسے بھی اور اس کا ایٹی ٹیوڈ بھی، تم سے بھی تو وہ روڈلی بات کر رہا تھا، میں کبھی اس طرح بات نہیں کروں گا، بہت پیار سے رکھوں گا۔
شٹ اپ، اگر ولید کو بتا دیا تو جان لے لےگا تمہاری، دفعہ ہو جاؤ، سنا نہیں تھا ولید نے کہا تھا، مردوں کی بدکرداری کی وجہ سے اس کے گھر کی عورتیں بےعزت ہو جاتی ہیں، اور تم ایک پریکٹیکل دیکھ کر بھی سبق حاصل نہیں کر پائے، شیم آن یو، تم جیسے بدترین مردوں کی وجہ سے ہی عورتیں وکٹم ہوتی ہیں۔ اور نیکسٹ ٹائم مجھ سے بات کرنے کی غلطی مت کرنا۔ اسے وارن کر کے وہ اپنا پرس لے کر اٹھی، وہ تینوں بھی اس کے ساتھ ہی کھڑے ہوئے۔
جان تو میں لے لوں گا اس کی، اگر تم مجھے نہیں ملی، اور میں تمہیں حاصل کر کے رہوں گا، میرے اندر کے جانور کو مت جاؤ، ورنہ یہیں سے اٹھا کر لے جاؤں گا اور تمہارا یہ گورا بھی تمہیں بچا نہیں پائےگا، اور کس ہسبینڈ کی بات کر رہی ہو، جو خود نامردوں کی طرح گھر میں بیٹھا ہے اور بیوی باہر گوروں کے ساتھ عیش کر رہی ہے۔ اور اس گورے کے بھی مزے ہمارے ملک میں رہ کر دو دو ملکوں کے مزے لوٹ رہا ہے،
اس کی بات پر ازلفہ کا ہاتھ اٹھا اور اس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔ ایک بار پھر لوگ اس کے تھپڑ کی گونج سے متوجہ ہوئے تھے۔
تمہاری وجہ سے تمہاری بہن کے پیچھے تمہارے ہی جیسے کتے لگے، اور نامرد ولید نہیں تم ہو، بلکہ اس سے بھی نچلی چیز۔ تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے کسی کے گناہ کا نتیجہ ہو تم، کسی گھٹیا باپ کی اولاد اور کمزور ماں کی پرورش، گندگی کا ڈھیر، باسٹرڈ۔ کتنے مہینوں بعد وہ اس لینگویج پر آئی تھی۔
یو بلڈی، اس سے پہلے وہ ازلفہ کو دبوچتا، انس نے اسے پے در پے کئی تھپڑ برسائے۔
تجھے تو میں اب دیکھ کس طرح حاصل کرتا ہوں، اور اچھے سے اپنی مردانگی بھی دکھاؤں گا۔ عزت سے تجھے اپنا بنانے کا ارادہ تھا مگر تو اب دیکھ کہاں رکھتا ہوں میں تجھے، اور کوئی تجھے بچا بھی نہیں پائےگا۔ انس کو دھکا دے کر وہ اسے دھمکی دیتا ہوا اپنے ہی جیسے آوارا دوست کے سہارے ہوٹل سے باہر نکل گیا۔ اس کہ دھمکی سے ازلفہ کے اندر ایک سنسنی خیز احساس اجاگر ہوا جو اسے خوفزدہ کر گیا، شدت سے اسے ولید کی یاد آئی تھی۔
تم ٹھیک ہو انس،
یس، ازلفہ ہو از دیٹ بلڈی ہیومن؟ اس کے پوچھنے پر انہیں مختصر اس کے بارے میں بتانا پڑا۔ ابھی تو وہ زینب اور ذیشان کے مسئلہ کے لیے کچھ نہیں کر پائی تھی اب یہ ایک اور نئی مصیبت، اور یقیناً یہ مصیبت خطرناک تھی۔
__________
ازلفہ یار اس میٹر کو ایزی نہیں لے سکتے، وہ وہاں سے صرف لوگوں کی وجہ سے گیا، اپنی بےعزتی بھولےگا نہیں۔ تمہیں ولید بھائی کو انوالو کرنا پڑےگا۔ زوبیہ کی بات اس نے خاموشی سے سنی تھی، اس کی سوچ میں بھی یہ خیال نہیں تھا کہ شاہینہ کا بھائی ایسا بھی ہوگا، اسے تو لگا تھا اس دن ولید کی باتیں اسے لیسن دے گئی ہیں مگر وہ ٍغلط تھی نفس کے مقابلے میں تو مرد اپنی بہن بیٹی کو داؤں پر لگا دے کوئی اور کیا چیز ہے۔ اس بے غیرت مرد نے یہ بھی نہیں سوچا وہ اس کی بہن کی محافظ رہی تھی۔
ازلفہ، سن رہی ہو۔ زوبیہ نے اس کے آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا۔
ہممم۔ وہ انہیں کیا بتاتی تین دن سے اس کی ولید سے بات ہی نہیں ہوئی، زینب سے پتا چلا تھا وہ سائٹ پر شفٹنگ کی وجہ سے بہت بزی تھا۔ اور شاید اس سے کچھ ناراض بھی، مگر انکل کی اور زوبیہ کی طبیعت دو تین بار زیادہ بگڑ گئی تھی تو اس نے جانا کینسل کر دیا۔
کم آن یار، اتنی انسلٹ کے بعد وہ اب کیا ایسا کرےگا، لوزر ہے وہ۔
نہیں انس، مجھے اس کی وارننگ اچھا سائن نہیں دے رہی ہے۔
زوبی یار، کیوں اتنا سیریس لے رہی ہو، ازلفہ کو دیکھو اسے بھی لگ رہا ہے وہ لوزر اب کچھ نہیں کرے گا۔
ازلفہ ڈئیر، تم کیا سوچ رہی ہو، عائشہ نے اس کی خاموشی پر سوال کیا۔ وہ کیا جواب دیتی وہ تو خود ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھی، اور ولید تو سن کر جو ری ایکشن دےگا اس کا بھی اندازہ تھا۔
ولید بھائی کو بتانا پڑے گا۔ آئی ایگری ود زوبی۔ جو اتنے لوگوں میں دھمکی دے کر گیا ہے وہ کچھ کر بھی سکتا ہے۔ ذیشان اور ریحان نے بھی یہی مشورہ دیا۔
ہم ہیں نا یار، اس کی یہ مجال جو ازلفہ پر گندی نظر ڈالے، دونوں کو غصہ آ رہا تھا۔ اور لوگوں کی بے راہ روی پر افسوس بھی۔ مسلمان ہو کر مسلمانوں کی ہی مٹی پلید کر رہے ہیں۔ اگر کسی کی مدد کا یہی بدلہ ملنے لگا تو کون کرےگا پھر کسی کی مدد؟
*******************
الحمدلله! دو فلور تک شفٹنگ ہو گئی ہے، ان لوگوں کی خوشی دیکھ کر تو میرا بھی دل کر رہا ہے کہ میں بھی یہیں شفٹ ہو جاؤں۔
بالکل بالکل حذیفہ بھائی روکا کس نے ہے۔ ٹیرس پر رہنا کیونکہ، ولید بھائی نے ہر گھر پر لوگوں کے نام کا ٹھپہ لگا دیا ہے۔
تمہارے ولید بھائی کی تو ایسی کی تیسی، نہ خود چین سے جیتا ہے نہ دوسروں کو جینے دیتا ہے اسے تو بس مس میکڈی کنٹرول میں رکھتی ہے۔ حذیفہ نے فاروق شیخ سے معاملات طے کرتے ولید کو دیکھ کر کہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کر ان دونوں کی طرف آیا۔
چلیں اب، اس نے گھڑی دیکھ کر پھر دونوں کو دیکھا۔
تم میں یہ بےچین روح کس کی ہے ولید؟ اچھے خاصے جلدی گھر چلے گئے تھے مگر تمہارے اس کام کے جنون میں تو یار میں سکون کی نیند کو ترس گیا ہوں۔ مبالغہ آرائی کی حد تھی۔
پوری رات رہنا ہے یہیں، ویسے بھی مسٹر شیخ، اچھا خاصا انوالو ہو چکے ہیں، تمہارے ساتھ اچھی نبھےگی۔
معاف کر میرے بھائی۔ اپنی بیوی کے مائیکہ جانے کا غصہ ہم معصوموں پر مت اتارو، اب کیا ہر بار ایسا کروگے تین دن سے کام پر رگڑ رکھا ہے ہمیں،
ازلفہ، آئی مین بھابھی کہیں جائیں گی تو تم ہمیں بھی آرام نہیں کرنے دوگے۔ نرے ہی کوئی زن مرید نکلے تم تو ولید حسن۔ اس کے مصنوعی غصہ میں شرارت کا عنصر صاف ظاہر تھا۔ مگر موحد کی زبانی وہ تین چار دن پہلے ازلفہ کے مائیکہ جانے کا سن کر بھی اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔
کرتے رہو بکواس، اللہ حافظ۔ اس کے مذاق پر کان دھرے بغیر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔
ارے رکو یار، تم سے مذاق بھی نہیں کیا جا سکتا، دوست تو کسی اینگل سے نہیں لگتے تم۔
ایک بات بتاؤ ولید حسن، تم میں مذاق کی حس نہیں ہے کیا؟ اب ولید اسے کیا بتاتا کہ اسے اپنی بیوی کا ذکر غیر مرد کی زبان سے اچھا نہیں لگتا، کوئی نامحرم اس کا نام لے کر اسے چھیڑے اسے ناگوار گزرتا ہے پھر چاہے وہ اس کا دوست ہی کیوں نہ ہو، حذیفہ کی دوست ہونے کی وجہ سے بچت ہو جاتی تھی۔ حالانکہ داداجان اسے کتنا نہیں چھیڑتے تھے اور وہ بھی بھرپور ان کا ساتھ دیتا تھا۔
حذیفہ، تم کھنہ سے ملتے ہوئے جانا، اور اس کی چینجنگ اگر مناسب لگے تو قبول کرنا نہیں تو نہیں۔
اور موحد تم داداجان کو میرا انتظار مت کرنے دینا، مجھے دیر ہو سکتی ہے۔
اوکے، بٹ آپ جا کہاں رہے ہیں؟
تمہاری بھابھی کو لینے، اس کے کہنے پر حذیفہ کو زور کی کھانسی آئی تھی جسے اگنور کر کے ولید اپنی گاڑی میں بیٹھا اور دونوں کو سلام کر کے گاڑی آگے بڑھا دی۔
*********************
دو دن ہو گئے تھے اس واقعہ کو مگر ابھی تک وہ ولید کو بتا نہیں پائی تھی۔ پہلے انکل کی طبیعت اتنی خراب ہو گئی کہ سب ڈر گئے، اس کے دونوں مامو، مامی اور حیدر صاحب بھی آئے تھے۔ ان کی زبانی پتا چلا تھا ولید دو دن تک سائٹ پر ہی رہا تھا۔ ان لوگوں کو دن رات کا کوئی ہوش ہی نہیں تھا۔ اس کی خود کی بھی اس سے کوئی بات نہیں ہو پائی تھی، شاید وہ ناراض بھی تھا۔
آج اس کا جانے کا ارادہ تھا جب شمائلہ کی اچانک طبیعت بگڑ گئی تو انہیں ہاسپٹل لے جانا پڑا۔ کچھ دیر پہلے ہی وہ سب سے فری ہو کر اپنے روم میں آئی تھی۔ تھکن زیادہ تھی مگر پھر بھی وہ سو نہیں پا رہی تھی۔ ولید کو فون کرنے کے ارادے سے فون اٹھایا تو اسے شاہینہ کے بھائی کی کال یاد آئی۔
کال لوگ میں ایک ہی نمبر سے بہت ساری مسڈ کال تھیں، اسے پتا کیوں نہیں چلا، اس نے ٹائمنگ دیکھی تو ساری کالز اس کی پڑھائی کے وقت کی تھیں اور اس وقت وہ فون سائلنٹ رکھتی تھی۔ جب سے پڑھنا شروع کیا تھا فون کو زیادہ تر وہ دیکھتی بھی نہیں تھی۔ شاہینہ نے اپنے بھائی کے نمبر پر ہی اس کے فون سے فون کیا تھا۔
سوچ سوچ کے اس کا سر درد سے پھٹنے لگا، شاہینہ کے بھائی کا اس کے پیچھے آنا، کس گناہ کی سزا ہے، اس کا کردار کمزور نہیں، اس کا شوہر مضبوط کردار کا مالک، اس کا بھائی مضبوط کردار کا مالک، پھر کس وجہ سے وہ اس کے پیچھے آیا۔ اور اگر وہ اتنا بدترین مرد ہے تو پھر اس نے اپنی بہن کے ساتھ کیا کیا ہوگا،
یا اللہ پلیز ہیلپ می اگین، مجھے سمجھ میں بالکل نہیں آ رہا ہے کیا کروں، ولید سے ڈسکس کروں یا نہ کروں، مگر اسے انفارم تو کرنا پڑے گا، کہیں وہ ایڈیٹ ولید کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ بٹ دو دن سے تو اب تک کچھ سائن نہیں ملا۔
فون کی رنگ پر اس نے آنے والا ان نون نمبر دیکھا، اور کچھ سوچ کر کال کو ریکارڈنگ پر ڈال کر ریسیو کر لیا، شاید اسی ایڈیٹ کی ہو۔
السلام عليكم، میں شاہینہ بول رہی ہوں۔ پلیز میری بات دھیان سے سنیں۔ سلام کے ساتھ ہی اس نے اپنا تعارف بھی کروا دیا، مگر اس کے لہجہ میں پنہا خوف اس سے مخفی نہیں رہا تھا۔
اوہ تھینک ٹو اللہ، میں بات کرنا چاہتی تھی تم سے، پہلے بتاؤ ٹھیک ہو تم؟۔
جی میں ٹھیک ہوں میری شادی ہو گئی ہے اور یہ میرا نمبر ہے۔
واٹ! مگر تمہاری شادی تو تمہاری۔۔۔
جی، مگر ہمارے خاندان میں غلطی چاہے جس کی ہو، قصور عورت کا ہی نکلتا ہے، اور ویسے بھی میں خوش ہوں میرے شوہر اچھے ہیں، مگر آپ کو ایک بات بتانی ہے۔
بولو، وہ خود بھی اس سے بہت کچھ پوچھنا اور بتانا چاہتی تھی، مگر پہلے اس کی سننا ضروری سمجھا۔
میرے بھائی آپ کے پیچھے پاگل ہو رہے ہیں، آپ کے شوہر کی بات پر بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوا، وہ اچھے انسان ہیں ہی نہیں۔ یہاں بھی ان کا نہ جانے کتنی لڑکیوں سے تعلق ہے، مگر آپ سے وہ شادی کرنا چاہتے ہیں کل یہ بات انہوں نے سب کے سامنے کہی۔
تو کسی نے کچھ بولا نہیں اسے؟ اسے غصہ آیا تھا۔
نہیں، گھر میں انہیں کی چلتی ہے، ابا نے تو بول دیا آسانی ملے تو لے لینا، ورنہ بیوہ کر کے لے آنا، اور شاید وہ کسی وجہ سے اتنے غصے میں ہیں کہ حد نہیں، کچھ دیر پہلے اپنے دوستوں کے ساتھ نکلے ہیں، وہ آپ تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگائیں گے۔ اس کی بات پر وہ جھرجھری لے کر رہ گئی۔
پاگل ہے کیا تمہاری فیملی، پولیس میں کمپلین کروں گی تو عقل ٹھلانے آجائے گی۔
کوئی فائدہ نہیں، جس ملک کی پولیس ہی غدار ہو وہاں خود ہی خود کی حفاظت کرنی ہوتی ہے، کاش میرا اس دن دھیان ہوتا تو میں آپ کا چہرہ چھپا دیتی یا آپ کو وہاں سے پہلے بھیج دیتی۔
کیوں ایسا کیوں کرتی تم؟
نہ آپ کا چہرہ کھلا ہوتا نہ بھائی کی گندی نظر آپ پر پڑتی اور نہ آپ کے لیے کوئی مصیبت کھڑی ہوتی۔ اس کی آواز میں پریشانی واضح تھی۔
ڈونٹ وری سکھا دیا تمہارے بھائی کو سبق۔
کیا مطلب کیا کیا آپ نے؟ اس کے سوال پر اس نے ہوٹل کا تمام واقعہ اسے سنایا۔
یا اللہ، اسی لیے وہ کہہ رہے تھے “کل وہ ہر قیمت پر میرے پاس ہوگی۔ اسے سمجھانا ہے کہ سہیل جعفری کون ہے؟” یعنی اب وہ آپ سے بدلہ لینے کے لیے۔۔۔
وہ بہت ظالم ہیں ازلفہ، آپ نہیں جانتی ان کہ بریریت کا عالم۔ وہ شاید رو رہی تھی، اس کے متعلق سوچ کر۔
ڈونٹ کرائے شاہینہ، مجھے اللہ پر یقین ہے، میری ہیلپ میرے لیے پرابلم نہیں لے کر آئےگی۔ ڈونٹ وری، اسے تو تسلی دے رہی تھی مگر خود کا دل پریشان ہو رہا تھا۔ اسے اب ہر قیمت پر ولید سے بات کرنی تھی۔
آپ میری محسن ہیں اور میری ہدایت کا ذریعہ بھی، مجھے یقین ہے جو دوسروں کی عزت بچاتے ہیں اللہ انہیں رسوا نہیں کرتا، اسی لیے شاید اس نے مجھے سنوایا، تاکہ میں آپ کو خبردار کردوں۔ پلیز آپ جلد از جلد حفاظتی اقدام کریں۔
فون کب کا بند ہو چکا تھا، مگر وہ زندگی کے اس نئے امتحان میں اس بری طرح الجھی تھی کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی منقود لگ رہی تھیں۔
کاش آپ کا چہرہ چھپا دیتی، ازلفہ چہرہ چھپا کے جایا کرو، بغیر نقاب کے نہیں جاؤگی کبھی اور نہ اکیلی۔ شاہینہ اور ولید کی یہی آوازیں اس کے دماغ میں گونج رہی تھیں۔ انگلیاں ولید کا نمبر ڈائل کر رہی تھیں۔ جب باہر سے ایک چنگھاڑتی ہوئی آواز اسے خوف زدہ کر گئی۔ فون چھوٹ کر گر گیا اور دوسری طرف ڈائل ہوا نمبر رسیو کیا جا چکا تھا۔
__________
جس بات کا خوف تھا وہ مجسم سامنے کھڑا تھا، وہ لوگ آپس میں گھتم گھتا تھے، اس کے پیر جیسے زمین نے جکڑ لیے تھے، وہ گرا ہوا فون اٹھا کر لانا نہیں بھولی تھی، اس کا ارادہ پولیس کو فون کرنے کا تھا مگر باہر کا حال اس کے حواس معطل کر گیا تھا۔ سہیل جعفری اپنے ہی جیسے پانچ مسٹنڈوں کے ساتھ آیا تھا،
اس سے پہلے کسی کی جان جاتی وہ بھاگتے ہوئے آئی تھی،
چھوڑو ایڈیٹ، اس نے ذیشان کو سہیل کی گرفت سے آزاد کروایا اور سہیل کو دھکا دیا۔
آ گئی میری جان من، وہ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کھڑا ہوا۔ دو دن پہلے والا سہیل جعفری تو وہ لگ ہی نہیں رہا تھا۔
شٹ اپ، بےغیرت انسان، وہ غرائی تھی، خوف کہیں دور جا سویا تھا۔
ہائے، تمہاری یہی بہادری اور خوبصورتی تو لے ڈوبی سہیل جعفری کو۔ وہ اس کے سامنے آکر اسے اپنے شکنجے میں لے گیا۔
میری بہن کو چھوڑ کمینے انسان، وہ تینوں اس کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھے مگر اس کے پالتو کتے ان لوگوں کو بیچ میں ہی روک گئے۔
جان من، ان لوگوں سے کہو، دور رہیں ورنہ جان سے جائیں گے۔ ان کی یہ بہادری ایک ایک گولی کی مار ہے، ازلفہ نے دیکھا تھا ان لوگوں کے پاس گن تھی۔ اور یقیناً یہ لوگ گولی چلانے سے گریز نہیں کرتے۔
کیا چاہتے ہو تم؟ اس نے غصے سے سہیل کی طرف دیکھا۔
تمہیں، اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے کی کوشش کی جو اس نے چہرہ ایکدم پیچھے کر کے ناکام بنا دی۔
بکواس بند کرو، میں ولید حسن کی بیوی ہوں، اسے اگر پتا چل گیا تم نے اس کی بیوی سے بدتمیز کی تو اس زمین پر نظر نہیں آؤگے، وہ تمہاری طرح بے غیرت نہیں جو دوسروں کی عورتوں پر نظر رکھ کے اپنی عورتوں کے لیے امتحان کھڑا کرے، وہ ایسا غیرت مند ہے جو اپنی عورتوں کی طرف نظر اٹھانے والوں کو کسی قابل نہیں چھوڑتا۔ سمجھے تم۔
اس کی پھنکار سہیل جعفری کو کسی طمانچے سے کم نہیں لگی تھی، اور اگلے پل وہ طمانچہ ازلفہ کے چہرے پر پڑا تھا، جس کی شدت سے وہ زمین پر گری تھی۔ اور دوسری طرف اس تھپڑ کی گونج کسی کو ایسا شعلہ بنا گئی تھی جس کی چنگاری ایک پل میں جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔
آج کے بعد تم صرف میری بیوی کہلاؤگی، صرف میری، اس کا نام کبھی بھی تمہاری زبان پر نہیں آنا چاہئے، میری محبت دیکھو تمہارا تھپڑ بھی بھول گیا میں اور تم اپنے اب کبھی نہ نظر آنے والے شوہر کی دھمکیاں دے رہی ہو۔ شیرو گاڑی تیار کر، جان من کو اپنی سسرالیوں سے ملنے کی جلدی ہے۔
وہ اسے زبردستی کھینچ کر باہر لے گیا، ذیشان، ریحان اور انس کو اس کے بندوں نے قابو کر رکھا تھا، اور اس وقت تک کیے رکھا جب تک سہیل جعفری اسے دور نہیں لے گیا، پانچ بعد وہ لوگ انہیں دھکا دے کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھے۔ یہ تینوں اٹھ کر ان کے پیچھے بھاگے مگر۔
ان کے نکلتے ہی دو گاڑی ایک ساتھ ان کے سامنے آکر رکیں۔ ایک گاڑی میں تین چار پولیس افیسرز تھے، اور دوسری میں موجود ہستی کو دیکھ کر وہ تینوں شاکڈ رہ گئے تھے۔ اس کے چہرے کا پتھریلا پن اس کی واقفیت کی گواہی دے رہا تھا۔ کچھ لمحوں بعد وہ گاڑیاں سڑک پر ٹرین کی رفتار سے بھاگ رہی تھیں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *