Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode03

Hidayat by Ain Noon Alif Episode03

یہ کیا کہا داداجان، ازلفہ سبحان، آپ مذاق کر رہے ہیں میرے ساتھ۔ الفاظ میں لڑکھڑاہٹ اسکے اندرون کی توڑپھوڑ بیان کر رہی تھی۔ وہ اپنی زندگی میں سب کچھ ایکسپیکٹ کر سکتا تھا سوا ازلفہ سبحان کے، جس کا اس کی سوچوں میں بھی گزر اسکی نظر میں اس کے اعمال کی بربادی کا سبب بنتا تھا۔ تو زندگی میں داخلہ کیسے گوارا کرتا۔
نو داداجان، یہ تو میں سوچنے کی بھی ہمت نہیں رکھتا، اور وجہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ کوشش کے بعد بھی وہ خود کو نارمل نہیں کر پا رہا تھا۔
میں ایک کوشش کرنا چاہتا ہوں ولید، استخارہ کرنے کے بعد ہی تم سے بات کی ہے میں نے، اس کا مطلب جانتے ہو؟، یعنی اللہ اس رشتہ سے راضی ہے۔ انکی دلیل سے بھی وہ قائل نہیں ہوا تھا۔
میں نہیں کر سکتا داداجان، کرنا تو بہت دور کی بات ہے میں سوچ کر بھی خود کو گناہگار سمجھوں گا۔ کیسی نفرت تھی اسکی ازلفہ سبحان سے۔
کیا تمہیں مجھ اللہ پر اور مجھ پر یقین نہیں؟ انہیں معلوم تھا یہ معاملہ آسان نہیں ہے۔
آپ مجھے کس امتحان میں ڈال رہے ہیں دادا جان، “وہ ایک کیریکٹر لیس لڑکی ہے افیئرز ہیں اس کے، شراب پی کرگھومتی وہ، کل بھی ویسٹرن کلب میں تھی اپنے اس گھٹیا کزن کے ساتھ”۔ میں اس سے شادی نہیں کر سکتا، جس کو دیکھ کر ہی میرا اسکے ٹکڑے کرنے کو جی چاہے۔
اس کے لالچی چاچا چاچی نے ایسا بنا دیا ہے۔ وہ لوگ اس کی زندگی تباہ کر دیں گے۔ ابھی بھی وہ لوگ ایک کرپٹ عمر دراز شخص سے اس کا رشتہ کر رہے ہیں، جو رشتہ کم اور سودا زیادہ ہے۔ تم بچا لو اسے اور اندھیروں میں جانے سے۔ الفاظ التجائیہ ہوئے تھے۔
کمال ہے دادا جان، جس بیٹی نے آپ کو اتنی تکلیف دی آپ انہیں کی بگڑی ہوئی شرابی بیٹی میرے سر منڈھ رہے ہیں جسے بات کرنے تک کی تمیز نہیں ہے، جس سے کوئی بھی غیرت مند مرد شادی نہیں کرنا چاہےگا۔ اس کے اتنے کڑوے اور نفرت سے پر حقارت بھرے الفاظ دل پر وار کر رہے تھے۔ ایک پل تو ان کا دل کیا اس سے امید نہ کریں جو ابھی اس سے اتنی نفرت کا دعوےدار ہے وہ آگے کیا کرےگا۔ مگر وہ اللہ کے بھروسے یہ رسک لے رہے تھے۔ جہاں تک وہ اپنی نواسی کو جان پائے تھے وہ ظلم سہنے والوں میں سے نہیں تھی۔ بیشک پہلی ملاقات میں اس نے ان سے بدتمیزی سے بات کی تھی، مگر اسکے لہجہ میں وہ جاہلیت نہیں تھی جو ان کا پوتا کہہ رہا تھا۔ وہ ان کے معاملے میں غلط فہمی کا شکار تھی جو یقیناً اسکے چاچا چاچی کی کارستانی تھی۔
ہاں، کیونکہ جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ انداز پرسوچ تھا۔ میری اکلوتی بیٹی کی اکلوتی نشانی ہے، شاید میں خودغرض بھی ہو رہا ہوں۔ مگر کیا کروں وہ ہمارا اپنا خون بھی ہے، میں چین سے جی نہیں پاؤں گا اس کے لیے کوئی کوشش کیے بغیر۔
مگر دادا جان، ” وہ ہماری فیملی میں مس میچ ہے، کوئی بھی اسے قبول نہیں کرےگا” اس کے لہجہ کی ناگواری سے انہیں تکلیف تو ہو رہی تھی، مگر شاید وہ بھی حق پر تھا۔ وہی اس سے زبردستی کر رہے تھے۔
دوسروں کا نہیں اپنا بتاؤ، کیا تم اسے قبول کر سکتے ہو؟
نہیں، آئم سوری دادا جان، میں بھی اسے قبول نہیں کر سکتا۔ انداز کسی قدر دو ٹوک تھا۔
ٹھیک ہے۔ تم جا سکتے ہو۔ انہوں نے خود کو ہارا ہوا محسوس کیا تھا۔
مگر دادا جان۔۔۔
جاؤ ولید! میں ٹھیک ہوں۔ کوئی دوسرا راستہ نکال لوں گا میں۔ ان کے لہجہ میں پنہا بے بسی اور کمزوری نے اسے تکلیف پہنچائی تھی۔ مگر وہ کیا کرتا، جس سے عام رشتہ بھی وہ رکھنا نہیں چاہتا، اس سے خاص رشتہ بنانے کی ہمت کہاں سے لاتا۔
جاؤ ولید، وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح آنکھیں موند گئے تھے، انہیں احساس ہو رہا تھا کہ وہ اس کا رشتہ دے کر غلط کر آئے ہیں۔ موحد کا نکاح تو اس کی ماں کل ہی طے کر چکی تھی، آذر چھوٹا تھا۔ بے بسی کا ایک آنسو آنکھ سے نکل کر کنپٹی میں جذب ہو گیا تھا، اور دروازے سے پلٹ کر دیکھتا، ولید حسن اس پل خود سے ہار گیا تھا۔
****************
معافی چاہتی ہوں ابا جی، مگر میں ایسی لڑکی کو کیسے اپنی بہو بنا لوں جس نے سالوں پہلے اپنی منہ زور خواہش کے آگے آپ کا سر جھکایا تھا۔ جس کے غم میں روتے روتے اماں جی اس دنیا سے چل بسیں۔ ایسی ماں کی بیٹی کے کیا رنگ ڈھنگ ہوں گے جو رہی بھی ایک آزاد ملک میں ہے۔آسیہ حسن کا اعتراض بھی دو ٹوک تھا، اور صرف وہی نہیں ہر کوئی ان کے فیصلہ کے خلاف تھا۔ سب کی آنکھوں میں ناگواری واضح تھی۔ جس لڑکی کو ان لوگوں نے دیکھا بھی نہیں تھا اس کے لیے ابھی سے اتنی نفرت، اس کو دیکھ کر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا، فکرمند نظریہ تھا۔
میں داداجان کا فیصلہ مان چکا ہوں امی، آپ لوگ بھی مان جائیں۔ کہہ کر وہ رکا نہیں تھا۔ گھر سے ہی باہر نکل گیا تھا۔ اور سب گھر والے اس کے فیصلہ پر ششدر کھڑے رہ گئے تھے۔ سب کو معلوم تھا ولید حسن اپنی زبان سے پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔ اسکے جانے کے بعد انہوں نے ان لوگوں سے کچھ بات کی تھی جسے سن کر بھی وہ لوگ کشمکش کا شکار تھے۔
کیا تم لوگ میرے لیے بھی اپنے دلوں کو نرم نہیں کر سکتے؟ سب پر ایک نظر ڈال کر پوچھا تھا۔
ہمیں منظور ہے اباجی، ہم جانتے ہیں آپ کے فیصلے غلط نہیں ہوتے، ہم آپ کے ساتھ ہیں ان کے دونوں بیٹے ان کے ساتھ آ کھڑے ہوئے تھے۔ باپ کی بےبسی دیکھنا ان کے بس میں نہیں تھا۔ ان کی دیکھا دیکھی باقی لوگوں نے رضا مندی تو نہیں دی بس خاموش ہو گئے تھے۔
مگر داداجان، بھائی کی شادی اتنی سمپل، ہمارے کتنے خواب تھے۔ زینب کی بات پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر آئی تھی۔
وہ بھی کر لینا پورے بیٹا، اپنے دوسرے بھائیوں کی شادی میں۔ ولید خود یہ شادی سادگی سے کرنا چاہتا ہے۔
اچھا داداجان ہماری بھابھی کیسی ہیں، بھائی کی طرح دیندار ہیں نا، دیکھنے میں کیسی ہیں؟؟۔ ان لوگوں کے بڑھتے سوال اور تجسس ان کے اندر ویرانی پیدا کر رہے تھے۔ وہ کیا جواب دیتے آگے چل کر یہ رشتہ کون سا موڑ لیتا، وہ خود بھی جاننے سے قاصر تھے۔ ولید حسن کی شرط کیا شکل اختیار کرتی یہ تو قسمت ہی بتانے والی تھی۔
__________
تم واقعی بڑے کمینے ہو یار، اتنی سی بات پر مجھے اس ویران راستے میں اتار آئے۔ جانتے ہو کتنی مشکل سے لفٹ ملی تھی اگر کچھ اونچ نیچ ہو جاتی تو کیا منہ دکھاتا میں لوگوں کو، مگر تم نے ثابت کر دیا۔ “دوست سالے کمینے ہی ہوتے ہیں”۔ وہ کل رات کی اسکی حرکت پر ابھی تک تلملایا ہوا تھا اور آتے ہی اس کے موڈ کی پرواہ کیے بغیر لتاڑنا شروع کر دیا۔
جسٹ شٹ اپ ایڈیٹ، تمہاری زبان ہی منحوس ہے۔ جب دیکھو بکواس کرتے ہو۔ وہ جو کل سے اپنے اندر بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوش کر رہا تھا حذیفہ کی بات پر پھر سے بھڑک گیا جو مکے کی صورت میں حذیفہ کے منہ پر پڑا۔
بھائی کیا کر رہے ہیں؟ یہ تو بدتمیزی ہے، اب تو بخش دیں حذیفہ بھائی کو۔ پرسوں شادی ہے آپ کی کم ازکم اسی خوشی میں تھوڑا غصہ کم کر لیں۔ موحد کی بات پر حذیفہ بری طرح اچھلا تھا۔ مکے کا درر تو یاد ہی نہیں رہا تھا۔ اور ولید حسن جو ذکر سننا نہیں چاہتا تھا موحد کے منہ سے وہی حوالہ سن کر آگ بگولا ہو گیا۔ اور اسے بھی غصہ کے خاموش رہنے کا حکم دیا۔
نہیں ولید حسن تم میرے بغیر شادی نہیں کر سکتے۔ تم نے مجھے اتنا پرایا کر دیا، اپنے اکلوتے دوست کو، چلو بھر پانی میں ڈوب کیوں نہیں گئے تم۔اس کا واویلا پھر سے شروع ہوا تھا۔ ولید حسن انجوائے کرتا اس کے واویلے کو اگر ازلفہ سبحان کی جگہ کوئی اور ہوتی تو، جیسے جیسے حذیفہ کا مذاق بڑھ رہا تھا ویسے ہی اس کے غصہ کا گراف بڑھتا جا رہا تھا۔
بند کرو اپنی بکواس اس سے پہلے کی میں اپنی لمٹ کراس کردوں۔ آؤٹ! اسکی دہاڑ پر موحد اور وہ دونوں ہی شاکڈ ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ دونوں کچھ بولتے ولید حسن ٹیبل پر رکھا پیپر ویٹ اٹھا کر سامنے ڈور پر مارا جس سے موٹے شیشے میں بھی دراڑ پڑ گئی اور پھر انہیں کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکلتا چلا گیا۔
پتا نہیں بھائی ایسا برتاؤ کیوں کر رہے ہیں۔ وہ غصہ والے ہیں مگر ایسے اپنوں پر غصہ نہیں کرتے۔ پہلی بار کیا ہے وہ بھی آپ پر اور ہاتھ بھی اٹھایا حالانکہ آپ ان کے بیسٹ فرینڈ بھی ہیں۔ موحد اپنے بھائی کے برتاؤ سے کافی پریشان ہوا تھا۔ اور شرمندگی بھی محسوس کر رہا تھا۔
میں ٹھیک ہوں موحد۔ پریشان مت ہوؤ تم ہم دونوں میں اتنا چلتا ہے۔ اس نے موحد کو تو تسلی دےدی تھی مگر خود کافی زیادہ ٹینشن میں آ گیا۔
یہ تو اس طرح شادی کے نام پر غصہ کر رہا ہے جیسے مس میکڈی سے اسکی شادی ہو رہی ہو۔ اس کے بڑبڑانے پر موحد نے حیران ہو کر اسے دیکھا تھا۔
کیا مطلب؟
کچھ نہیں یار۔ چلو مسٹر اینگری تو اب آنے والے نہیں، ہم دونوں کو ہی ہینڈل کرنا پڑےگا ڈیلرز کو۔ مگر تم شام کو آٹھ بجے تک اسے پٹا کر لے آنا۔ میٹنگ میں اسکی موجودگی سب سے زیادہ ضروری ہے۔
ہمم۔ بے فکر رہیں۔ کتنا بھی غصہ ہو جائیں اس پروجیکٹ کو اگنور نہیں کریں گے وہ۔ دونوں ہی اب پورے آفس کا کام سنبھال رہے تھے کیونکہ ولید حسن آٹھ بجے سے پہلے یہاں آنے والا نہیں تھا۔
**********************
لیکن مام، آپ کو کیسے پتا چلا ریحان خان اچھا آدمی نہیں ہے؟۔ اس سے پہلے تو آپ کو وہ بڑا پسند تھا۔ اب کس نے حقیقت بتا دی؟۔ شمائلہ نے اپنے منہ پھٹ بیٹے کو تاسف سے دیکھا۔ سارے لوگ یہیں جمع تھے جب شمائلہ نے اس کے ریحان سے رشتہ توڑنے کی بات کی، جسے سن کر ازلفہ کو نہ جانے کیوں سکون محسوس ہوا تھا مگر حیران وہ بھی تھی دو دن بعد شادی تھی جس کی تیاری اسکے دوست بڑے زور و شور سے کر رہے تھے۔
ہمیں بھی کل ہی پتا چلا جب تمہارے ڈیڈ کسی کام سے پیرےڈائز ہوٹل گئے تو وہ ایک عورت کے ساتھ جسے وہ اس ہوٹل کے روم میں بطور بیوی لے کر جا رہا تھا۔ پتا نہیں اس کی بیوی تھی یا کچھ اور، حیرانی تو مجھے بھی ہوئی پہلے ہی سے عورتیں پالی ہوئی تھی پھر بھی ہماری بچی کے آگے پیچھے پھر رہا تھا۔ اچھا ہوا ابھی پتا چل گیا تو ہم نے رشتہ توڑ دیا ورنہ ہماری بچی کی زندگی برباد ہو جاتی۔
مگر آنٹی دو دن بعد تو شادی فکس تھی۔ اب کیا کریں گے؟ یہاں تو اس کو کافی برا سمجھا جاتا ہے۔ سب کے ذہنوں میں آئے سوال کو زوبیہ نے زبان دی تھی۔
بے فکر رہو تم لوگ۔ شادی جمعہ کو ہی ہے۔ بہت اچھے اور بڑے لوگوں کا رشتہ آیا ہے ہماری ازلفہ کے لیے، کسی پارٹی میں دیکھا تھا اسے، فدا ہی ہو گئے وہ تو۔ہم نے پوری چھان بین کروائی ہے خود۔ کوئی بھی قابل اعتراض بات نہیں ملی۔ اسلیے ہم نے انہیں ہاں کر دیا۔
سوری آنٹی آپ منع کر دیں ان لوگوں کو۔ فی الحال میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں واپس دبئی جانا چاہتی ہوں۔ میری جاب ابھی بھی کنٹنیو ہے۔ فائر نہیں کیا مجھے ان لوگوں نے۔اس ناٹک سے وہ اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔
نہ بیٹا ایسا نہیں کرنا، ہم زبان دے چکے ہیں، تمہارے ماں باپ سے وعدہ کیا تھا کہ تمہاری اچھی جگہ شادی کریں گے۔ اب وقت آیا ہے۔ اور عین وقت پر شادی رک جانا بڑی رسوائی کی بات ہے، ہماری عزت کی خاطر مان جاؤ بیٹا۔ ان کے زمانہ کی اونچ سمجھانے سے وہ خاموش ہو گئی تھی۔ سب نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی، ان کی چاپلوسی اور چالاکی سے یہ لوگ نابلد تھے۔
تو پھر کیوں نہ ازلفہ کے ساتھ ہی راحیل اور زوبیہ کی بھی شادی کروا دی جائے۔ ذیشان نے پھر لقمہ دیا جو سب کو اچھا بھی لگا۔
تو پھر جان اور نینی کی بھی کرواتے ہیں۔ نیم رضامند ازلفہ نے بھی مشورہ دیا۔
سارے دوست ایک ساتھ شادی کر لیں گے تو میں اکیلا کیا کروں گا، پھر میری بھی کرواؤ۔ ذیشان کی بےصبری پر سب کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
پہلے لڑکی تو پٹا لے۔ اس نے تو تجھے بالکل ہی نکما سمجھ لیا۔
راحیل کے بچے، تجھے بھی زوبیہ نے ہی پسند کر لیا ورنہ کسی لڑکی نے بھی تیری طرف نہیں دیکھنا تھا۔
ہاہاہاہا سار گریپس۔ کچھ دیر پہلے کی الجھن ان سب کے ہنسی مذاق میں کہیں دور جا سوئی تھی۔ اور شمائلہ اپنے ڈرامے کی کامیابی پر مسرور تھی۔ کچھ دیر بعد یہ قافلہ شادی کی شاپنگ کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔ اور ازلفہ سبحان اپنی ویرانی کو چھپائے اپنے دوستوں کی خوشی میں خوش ہونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔ دو دن ان لوگوں کی تیاری میں کیسے گزرے پتا بھی نہیں چلا اور نکاح کا دن آ گیا۔
*********************
بھابھی مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کیا ہو رہا ہے یہ؟ عجیب شادی نہیں ہے۔ مانا کہ ہماری نند کی بیٹی ہے تو کیا ہمیں شادی سے پہلے دیکھنے کا کوئی حق نہیں،اللہ جانے ابا جی اور ولید نے دیکھنے سے کیوں منع کر دیا۔ سوچا کیا تھا اور ہو کیا رہا ہے؟۔
پریشانی تو مجھے بھی ہے سلمیٰ۔ کون سا ایسا گھر ہوگا جہاں بیٹا شادی کرنے گیا ہے اور گھر میں کوئی نام و نشان نہیں شادی کا اور وہ بھی سب سے بڑے بیٹے کی۔ کتنے ارمان تھے اسکی شادی کے، پتا نہیں اسکے معیار کی ہوگی بھی یا نہیں اور یہ بھی نہیں پتا چال چلن کیسا ہے لڑکی کا۔ اتنا عرصہ دبئی میں رہی ہے، سمیہ کے دیور دیورانی اچھے تھوڑی تھے جو ایک یتیم لڑکی کی پرورش پر دھیان دیتے۔ میرا تو دل ہی ہول رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کچھ تو چھپا رہے ہیں دونوں دادا پوتا۔ بیٹے کی شادی کے ارمان خاک میں ہی مل گئے۔
پریشان کیوں ہو رہے ہیں آپ لوگ۔ اللہ جو کرتا ہے اچھے کے لیے کرتا ہے۔ ہوگی اس میں بھی اسکی کوئی مصلحت۔ بس آپ لوگ خوشی خوشی ہماری بھابھی کے سواگت کی تیاری کریں۔ اور بیسٹ ساس بن کر دکھائیں۔
زرین ہر وقت کا مذاق اچھا نہیں ہوتا، اور اس طرح بڑوں کے بیچ میں نہیں بولا کرتے، سلمیٰ حسین کے ڈانٹنے پر وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
********************
کسی نے سوچا تھا ازلفہ سبحان کی شادی ایک سکریٹ ہوگی۔ وہ بھی دولہے صاحب کے کچھ بزنس رائولز کی وجہ سے۔ ازلفہ ابھی بھی سوچ لو مجھے دال کالی کالی لگ رہی ہے۔ اس کے تینوں دوستوں نے اس کا مذاق بنا بنا کر پریشان کر دیا تھا محض اس لیے کہ شادی میں اس گھر کے لوگوں اور ولید حسن کے گھر کے مردوں کے سوا کوئی بھی نہیں تھا۔ حیران تو وہ بھی تھی ان لوگوں کی سمپل شادی کی ڈمانڈ پر۔
کوئی بات نہیں ڈئیرز لاسٹ سکس منتھس سے ازلفہ سبحان کے ساتھ کچھ بھی صحیح نہیں ہو رہا ہے، جہاں اتنے غلط لوگوں کو ہینڈل کیا ہے وہاں یہ ایک ان ایکسپیکٹیڈ شادی بھی سہی۔
مگر مجھے بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے ازلفہ، تمہارے ہسبینڈ کا ایٹیٹیوڈ بہت انسلٹنگ ہے، انفیکٹ انہوں نے ہماری کسی بھی بات کا جواب نہیں دیا ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی نے زبردستی بٹھایا ہے۔ باقی سب نارمل ہیں مگر ہم لوگوں کو کچھ اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے ہیں، مسٹر ولید نے تو کھانا بھی نہیں کھایا، ایوری تھنگ از کنفیوژنگ۔ زوبیہ اور نینی نے ایک ساتھ اپنا خدشہ بیان کیا۔ ان کی سب سے زیادہ اچھی دوست کی شادی تھی مگر جس طرح اور جس لڑکے سے ہو رہی تھی یہ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، اسکے لئے انکی فکر بڑھ گئی تھی۔
ولید! میں نے یہ نام کہیں سنا ہے، یاد نہیں آ رہا ہے کہاں۔ نکاح کے وقت بھی وہ اس نام پر چونکی تھی، یاد کرنے کی کوشش بھی کی تھی مگر ناکام رہی۔ آدھا گھنٹا پہلے اس کا اور زوبیہ کا نکاح ایک ساتھ ہو چکا تھا۔ اور خود سے پہلے وہ لوگ جان اور نینی کی شادی کورٹ میں کروا کر آئے تھے۔
نکاح کے وقت ہی تو سنا ہوگا یار۔ ویسے ازلفہ ڈئیر جس طرح شمائلہ آنٹی نے ان لوگوں کو ڈفائن کیا ہے اگر ویسے نہیں ہوئے تو، آئی مین جیسے نیرو مائنڈ ٹپکل لوگ ہوتے ہیں سمتھنگ، بی کوز ابھی بھی ہم لوگوں کو جیجو کا برتاؤ سمجھ میں نہیں آیا۔
ہاہاہا زوبی ڈئیر تم پروو کر رہی ہو تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ بٹ یو ڈونٹ وری ڈئیر آئی ول ہینڈل ایوری تھنگ۔ ان سب کے خدشے اسے عجب احساس سے دوچار کر رہے تھے مگر وہ ان لوگوں کو ٹینشن میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اسلیے خود کو پرسکون ظاہر کرنا ضروری سمجھا۔
گاڈ بلیس یو یار۔ سیریسلی فکر ہو رہی ہے تمہاری۔ دونوں اس کے گلے ملی تھیں باہر سے رخصتی کا آڈر آیا تھا۔ ان لوگوں نے شمائلہ کے کہنے پر اس کا گھونگھٹ سیٹ کیا اور چولی سے دو انچ نظر آنے والے پیٹ کو بھی اچھے سے کور کیا۔
بیٹا ولید کے دادا نے یہ چادر بھجوائی ہے یہ لے لو۔ اس کے انکل نے ایک برقعہ نما چادر اسکی طرف بڑھائی۔
سوری انکل میں اتنا پریٹینڈ نہیں کر سکتی، میں جیسی ہوں ویسے ہی جاؤنگی۔ کبھی نہیں لی تو اب کیسے لوں، آپ نے ان لوگوں کو بتایا نہیں میں کیسی ہوں اور جب انہوں نے خود دیکھ کر پسند کیا تو پھر یہ سب کیا ہے۔اور یہ بات میں نے پہلے ہی کہلوائی تھی۔ ان لوگوں کو بڑھتی ڈمانڈز پر اسے غصہ آ گیا جو پہلے بالکل سمپل صرف گھروالوں کی موجودگی میں شادی کرنا چاہتے ہیں، پھر آدھے گھنٹے بعد ہی رخصتی اور اب یہ چادر۔
ہماری خاطر لے لو بیٹا، بس ان کے گھر تک پھر مرضی تمہاری چاہے لو چاہے نہ لو ان لوگوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں۔ بس وہ لوگ چاہتے ہیں دلہن کو دلہے کے سوا پہلے باہر کا کوئی اور شخص نہ دیکھے۔ شمائلہ نے جیسے تیسے کر کے اس کے گرد چادر لپیٹی اور اسے باہر لے آئی جہاں سب لوگ گاڑی کے پاس کھڑے اسی کے منتظر تھے۔
اوکے بڈیز ٹیک کئیر آل آف یو۔ اینڈ آل دا بیسٹ فار یور نیو لائف لائک می۔ وہ باری باری سب کے گلے لگ رہی تھی۔ ولید حسن اسے ان لڑکوں کے گلے لگے پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ مگر آج تو اس کا دل چاہا تھا جو نکاح کچھ دیر پہلے ہوا ہے اسے توڑ کر یہاں سے بھاگ جائے اور دوبارہ اس سرزمین پے قدم بھی نہ رکھے جہاں اس لڑکی کا وجود ہو۔ اسی وجہ سے وہ اپنے دوست اور بھائیوں کو بھی اپنے اس نکاح میں نہیں لایا تھا جو اسکی نظر محدود مدت کا ایک ڈرامہ تھا جس کا مرکزی کردار وہ خود تھا۔ اپنے چہرے پر آنے والی سرد مہری کو اس نے چھپانے کی کوشش نہیں کی۔اس کے ابو اور چاچا کو بھی یہ بات ناگوار گزری تھی البتہ داداجان بالکل خاموش تھے۔ شمائلہ نے ان کے چہروں کی ناگواری کو دیکھ کر اسے جلدی سے ولید حسن کی کار میں بٹھایا۔
کار کے شیشے کو نیچے کر کے وہ دور تک سب کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کرتی رہی۔ آج اس نے خود کو کچھ بھی منفی سوچنے سے باز رکھا تھا، بےسکونی ہنوز موجود تھی جسے وہ بڑے آرام سے اگنور کر رہی تھی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *