Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode07

Hidayat by Ain Noon Alif Episode07

اور پھر ان بچوں کو جاب سے ہٹا دیا گیا، اور اس کے انکل نے ان بارہ تیرہ سال کے بچوں کو ایک کلب میں لگوا دیا۔ وہ بچے ایسے ماحول میں رہنے لگے جہاں کھانے کے ساتھ شراب رکھی جاتی۔ انہیں بتایا گیا شراب ٹینشن دور کرنے کے لیے پی جاتی ہے۔ اور پھر وہ بچے بھی اپنی تکلیفوں سے چھٹکارا پانے کے لیے تھوڑی سی شراب پی لیتے مگر وہ شراب ان بچوں کے اندر جاتے ہی باہر آ جاتی، ان بچوں کی تکلیف کم کرنے میں شراب نے بھی ان کی ہیلپ نہیں کی۔ اس کے ہنسنے پر کسی میں ہمت نہیں تھی اس کی طرف دیکھنے کی۔ اور ولید حسن تو اس کے لفظوں کے ساتھ زمین میں گڑتا جا رہا تھا۔
مگر ایک چیز تھی وہاں کوئی کسی کے کیریکٹر پر انگلی نہیں اٹھاتا تھا، کوئی کسی کو برا بھلا نہیں کہتا اگر کوئی تمہارے ساتھ برا کرتا تو بدلہ میں تم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کردو، اس پر کوئی تم کو برا بھلا نہیں کہتا۔ یہ فریڈم تھا۔
اور ہمارے ساتھ کلب میں کیا ہوتا؟ پتا ہے؟ کئی سوالیہ نظریں اس کی طرف اٹھی، مگر فوراً ہی جھک گئیں۔ کلب کا اونر ہم سے زبردستی ڈانس کرواتا، اگر نہیں کریں گے تو جاب سے نکال دےگا، اور ہم لوگ جاب کھونے کے ڈر سے، اس کی بات مانتے۔ وہاں کا کمپلسری کاسٹیوم اس سے بھی چھوٹا تھا۔اور وہ انہیں پہننے پر مجبور کیا جاتا، وہ با ڈی گارڈ اتنے بڑے نہیں تھے جو اس مصیبت کو دور کر دیتے۔ اس نے ناکافی لباس کی طرف اشارہ کیا۔
وقت گزرتا گیا بچے بڑے ہو گئے اور وقت نے ان بچوں کو بہادر بھی بنا دیا، اور پھر اس بچی کو پیار محبت کے بارے میں پتا چلا تو اسے سمجھ میں آیا کہ اس کی ماں کی تو غلطی کوئی نہیں تھی ہر ریلیجن میں خود کی پسند سے شادی کرنے کا رائٹ دیا گیا ہے، اس کی ماں نے بتایا تھا کہ اس کے نانا کی فیملی بہت ریلیجیس ہے۔ مگر کیسے ریلیجیس لوگ تھے جو ریلیجن کی بات ہی نہیں مانتے تھے۔
کوئی نہیں سمجھےگا کوئی نہیں۔ یہاں سب منافق ہیں، خود کو دیندار کہتے ہیں مگر دینداری کے نام پر بزنس کر رہے ہیں۔ ڈبل اسٹینڈرڈ لوگ۔ لہجے میں خودبخود کڑواہٹ آ گئی تھی۔ اور پھر اس نے آسیہ حسن کی طرف اشارہ کیا۔
یہ عورت مجھے اور میری ماں کو بدکردار بے شرم اور بےحیا کہہ رہی ہے، اور ان کا بیٹا مجھے طوائف۔ ہا ہا ہا ہا اگر ریلیجیس ایسے ہوتے ہیں تو ازلفہ سبحان کبھی بھی ایسا نہیں بننا چاہےگی۔ اس کے ہنسنے کی وجہ سے ہونٹ سے پھر سے خون رسنے لگا تھا۔
ازلفہ سبحان نے اپنی ماں کی تین باتیں کبھی نہیں بھولی۔ ان کا کہنا تھا کسی کو اس کے ظاہر سے جج نہیں کرنا، ازلفہ سبحان نے نہیں کیا، اس کی ماں نے کہا بیک بائیٹنگ نہیں کرنا یہ اپنے بھائی کی ڈیڈ باڈی سے میٹ کھانے کے برابر ہے، ازلفہ سبحان نے نہیں کی، جھوٹ نہیں بولنا یہ تمہارے کیریکٹر اور پرسنیلٹی کو ختم کر دیتا ہے۔ ازلفہ سبحان نے نہیں بولا۔
مگر پھر بھی اسے جج کیا گیا، اس کا کسی سے کبھی بھی افئیر نہیں رہا پھر بھی اسے مسٹریس کہا گیا، اچھا ہوا مما پہلے مر گئی ورنہ اپنی فیملی کی یہ ہیپوکریسی دیکھ کت مر جاتی، کیونکہ ازلفہ سبحان کو تو وقت نے بہت اسٹرانگ کر دیا ہے۔
ابھی کیا کہا تھا تم نے ولید حسن؟ اس نے سوچنے کی کوشش کی۔
میرے جیسی لڑکی کو گاڈ اپنے سامنے کھڑا کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ اور ولید حسن میں تو اس کی طرف دیکھنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔
مگر تمہیں تین دن سے تمہیں کیوں نہیں اپنے سامنے کھڑا کر رہا وہ؟
آپ جانتے ہیں میں آپ کے ساتھ واپس کیوں نہیں آنا چاہتی تھی؟وہ واپس حیدر صاحب کے سامنے آئی۔
کیونکہ یہاں آ کر جتنے ریلیجیس لوگوں میں ہیپوکریسی دیکھی ہے نا کسی میں نہیں دیکھی۔ ریلیجن کے نام کا یوز کر کے یہ لوگ دوسرے لوگوں کا جینا حرام کر رہے ہیں۔ اور آپ کی یہ ڈبل اسٹینڈرڈ فیملی بھی ایسی ہی ہے۔ ہیپوکرٹ۔ اور ازلفہ سبحان کو نفرت ہے ایسے لوگوں سے۔
یہ مسز حسن ان کو دیکھیں کتنی نمازی پرہیزی بنتیں ہیں مگر یہ تو ایک اچھی انسان بھی نہیں۔ اپنے بیٹے کی اپ برنگنگ اتنی رونگ کی ہے وہ فی میل کو ریسپیکٹ ہی نہیں کرتا، ان کو عزت ذلت کے بستر پے لے آتا ہے۔ ازلفہ سبحان کی ماں اچھی تھی سب سے اچھی۔ مگر ولید حسن تمہاری ماں اچھی نہیں ہے۔ اور ازلفہ سبحان کبھی بھی غلط لوگوں سے ایکسکیوز نہیں کرتی۔ مجھے آپ دونوں سے بہت نفرت ہو گئی ہے۔ ڈبل اسٹینڈرڈ ہے آپ لوگوں کا۔ وہ ولید حسن اور آسیہ حسن کی طرف اشارہ کر کے واپس حیدر صاحب کے سامنے آ گئی۔ آج ولید حسن نے اس کے زخم کرید کر ان میں مرچیں بھر دی تھی۔ اور اب ان مرچوں کا احساس وہ ان سب کو بھی کروا رہی تھی۔
آئے ہیٹ سچ پیپل۔ اور آپ نے تو ازلفہ سبحان کو چودہ سال بعد پھر تکلیف دی اس کی سیلف ریسپیکٹ ختم کر کے۔ اسے خرید کر لائے، کنڈیشنز پر اس کی شادی کروائی وہ بھی اس کی لڑکے سے جو ازلفہ سبحان سے بلا وجہ اتنی نفرت کرتا ہے جس کی نظر میں ازلفہ سبحان مردوں کا کھلونا ایک مسٹریس ہے، جس کو سوچنے سے بھی وہ گناہگار ہوتا ہے۔ اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ اب اس کے لہجے میں در آئی تھی۔ اور ولید حسن کو لگا تھا آج اس نے اپنے لیے جہنم خود خریدی ہے۔
ازلفہ سبحان کے ساتھ دنیا نے کم برا کیا ہے جو آپ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ مجھے آپ سے ایک بار پھر نفرت ہو گئی مسٹر حیدر بخاری۔
ولید حسن نے کہا میرے جیسے لوگوں کے لیے ہدایت نہیں ہے، تو مجھے بتائیں ہدایت کی سب سے زیادہ ضرورت کسے ہے، مجھے یا ایسے مذہبی بننے کا ڈرامہ کرنے والوں کے لیے؟؟ سب پر ایک ڈالی تھی سب دم سادھے کھڑے تھے کسی میں ہمت نہیں تھی اسے دیکھنے، اخیر میں ایک نظر سر جھکائے ولید حسن پر ڈالی تھی اور اسی وقت اس کی نظریں بھی اٹھی تھیں، ازلفہ سبحان کی آنکھوں میں رکا ہوا آنسو نکلا تھا اور اسی کے ساتھ ولید حسن کا دل بھی۔
ازلفہ سبحان ان سب کے بیچ کب نکل کر باہر گئی، کسی کو خبر ہی نہیں ہوئی، شاید آج ان لوگوں کے شاید حساب کا دن تھا۔
**********************
خریدی ہوئی ہو تم، ایک کروڑ قیمت ہے تمہاری، طوائف ہو، خریدی ہوئی ہو، تم جیسی کو ہدایت بھی چھو کر نہیں گزرتی، تمہارے گناہوں کی وجہ سے وہ تمہیں اپنے سامنے نہیں کھڑا کرنا چاہتا۔ جتنی آوازیں گونج رہی تھیں اتنی شراب اس کے اندر جا رہی تھی۔ ویسٹرن کلب میں تنہا بیٹھی وہ آج پھر اپنی تکلیف شراب سے کم کرنے آئی تھی۔ اس کے دوستوں کے فون آ رہے تھے مگر آج وہ کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی، ان کے رشتے کو بہت گندی گالی دی تھی ولید حسن نے۔
ہے بےبی کم ڈانس ود می، کوئی منچلا اس کا ہاتھ پکڑ اسے کھینچ رہا تھا جب ازلفہ سبحان نے پی ہوئی ساری شراب اسی پر الٹ دی آج بھی حرام محلول اس کے اندر رہنے کو تیار نہیں تھا۔
یو بلڈی، اس سے پہلے وہ اسے تھپڑ مارتا ازلفہ سبحان نے دھکا دے کر اسے زمین پر گرا دیا۔
تمہارے باپ کی پراپرٹی نہیں ہوتی گرلز، وہ کلب میں ہوں یا گھر میں۔ باسٹرڈ ایک لات رسید کرتی وہ کلب سے باہر آ گئی آج اس کا ہر طرف سے دل برا ہو رہا تھا۔
کتنی دیر تک وہ پیدل چلتی رہی تھی پھر اچانک آسمان کی طرف دیکھنا شروع کیا تھا۔ اسے لگا کوئی اسے دیکھ رہا ہے، اسے سن رہا ہے۔ مگر کون؟
واٹ از ہدایت، ٹیل میں وائے ڈڈنٹ گیو می دیٹ، آئیم ناٹ یورز؟ آسمان پر نظر ڈالے وہ چلا چلا کر بول رہی تھی، لوگ اسے شراب کے نشے میں دھت سمجھ رہے تھے۔
وائے یو ڈڈنٹ میک می اسٹینڈ ان فرنٹ آف یو؟ یو ڈونٹ لائیک می؟ یو ڈونٹ لائیک گاڈ، یو ڈونٹ لائیک می۔
سڑک کے بیچوں بیچ چلا چلا کر بولتی وہ کوئی دیوانی ہی لگ رہی تھی۔ ارد گرد کا کوئی ہوش نہیں تھا، گاڑیاں ہارن دے رہی تھیں مگر اسے آج کوئی ہوش نہیں تھا تبھی ایک تیز رفتار گاڑی اسے بچانے کی کوشش میں بھی ٹکر مار گئی تھی۔
__________
غلط کیا تم نے ولید، بہت زیادہ غلط، میں نے سوچا بھی نہیں تھا لوگوں کے لیے مر مٹنے والا ولید حسن، جس نے غریبوں کی زمین کو بچانے کے ایک سال تک بھاگ دوڑ کر کے وہاں ان کی کفایت کے لیے گھر بنانے کا پروجیکٹ لیا، جس کی اچھائی کو دیکھتے ہوئے کتنے انویسٹرز نے نان رٹرن انویسٹمنٹ کیا، جس کی سچائی، اچھائی اور ایماندادی کی وجہ سے ہر کوئی اس کا فین ہے، جسے ایک رئیل ہیرو کہا جاتا ہے۔
لیکن ایک بات بتاؤں ولید حسن، یہ سارے پاگل لوگ جن میں میں بھی ہوں، تمہارے ظاہر پے مرمٹے، تمہارا باطن دیکھنے کا خیال ہی نہیں آیا، اگر دیکھ لیتے تو تم سے ہم بھی اتنی نفرت جتنی نفرت کا اظہار ازلفہ سبحان کر کے گئی۔
اور ایک بات اور بتاؤں تمہیں، میں نے اس دن بنا سوچے سمجھے جب وہ دعا دی تھی جو تمہاری نظر میں بددعا مگر میری نظر میں دعا تھی، جانتے ہو کیوں دی تھی۔
میکڈی سے نکلنے کے بعد ازلفہ سبحان جب باہر آئی تھی تب ایک غریب ضعیف جوڑا لوگوں کے آگے بھیک مانگ رہا تھا۔ کیونکہ دو دن سے ان کے بچے بھوک سے بلک رہے تھے۔ اسے کسی نے دو روپے دیے، کسی نے پانچ، بہت اچھی حیثیت رکھنے والوں نے دس۔ ان کی تڑپ دیکھ کر بھی کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ ان پانچ دس روپے میں وہ جوڑا چار بچوں کے ساتھ کب تک گزارا کرتا۔ اور پھر میں نے وہ دیکھا جس کو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
ازلفہ سبحان اس جوڑے کے پاس گئی اور ان لوگوں سے پتا ہے حساب کتاب کیسے کیا، ” یہ دس ہزار، ان میں جتنا راشن بھرنا ہے بھرو، دو ڈھائی مہینے کی بے فکری، اور یہ دس ہزار ان سے کوئی چھوٹی موٹی چیزیں خرید کر بیچیں تاکہ آپ کو دوسروں کے آگے بھیک نہ مانگنی پڑے، اور یہ پانچ ہزار بیماری کے علاج کے لیے”۔
کوئی سوچ سکتا تھا میکڈی کے اندر ایک آدمی کی ذرا سی غلطی پر اسے تھپڑ جڑنے والی دین سے بالکل بےبہرا نظر آنے والی لڑکی ایسا کوئی عمل کر جائے گی، یہ عمل میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بعد میں پتا چلا اس آدمی کی غلطی کیا تھی۔ اس نے ازلفہ سبحان کے لباس سے اسے جج کیا، اور اسے کوئی چالو لڑکی سمجھ کر ہراس کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت مجھے ازلفہ سبحان میں جو جھلک نظر آئی وہ ولید حسن کی تھی “دوسروں کے درد کو سمجھنے والی، ان کی مدد کرنے والی، چاہے استطاعت ہو نہ ہو”۔ اور ولید حسن تو آج پل پل زمین میں گڑ رہا تھا کچھ گھنٹے پہلے جو ازلفہ سبحان کی ذات کو مٹی میں ملا رہا تھا اب اپنی پوری ہستی کو مٹی میں ملا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
مگر تم نے مجھے غلط ثابت کر دیا ولید،
تمہیں پانچ سال پہلے کی وہ جماعت یاد ہے جس میں ایک آدمی نے چہرے پر رومال باندھا ہوا تھا ان کا آخری بیان ہم نے سنا تھا۔ ان کی چند باتیں مجھے یاد رہ گئیں، اور میں نے کوشش بھی کی ان پر عمل کرنے کی۔ اور ولید حسن کو تو اس شخص کو کبھی بھولا کی نہیں تھا کیونکہ ایک اکیلا ولید حسن ہی تو وہ چہرہ دیکھ پایا تھا جو سب سے چھپا ہوا تھا۔ اور وہ کتنا شاکڈ ہوا تھا، اس چہرے کے تو لوگ دیوانے تھے، اس نے کب سوچا تھا ایک دلددل میں دھنسے انسان کو اللہ ایسا ولیوں کی مانند بنا دےگا۔ اور وہ چہرہ کسی اور کا نہیں ‘نوفل احمد خان’ کا تھا، جس کا کسی زمانے میں وہ بھی فین رہا تھا، اور اس کی ایک عمل کی کاپی نو عمری سے اس نے بھی کی تھی اور وہ تھی “لڑکیوں کے دوری”۔
انہوں نے جو پہلی بات کی تھی وہ تکبر کے بارے میں کی تھی۔
“جس نے خود اعلی سمجھا، رب اسے دنیا میں حقیر بنا دیتا ہے اور جس نے خود کو حقیر سمجھا اسے رب دونوں جہانوں میں اعلی بنا دیتا ہے”۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا غرور کی علامت ہے، اور الله کا وعدہ ہے کسی شخص میں رائی کے دانے کے برابر بھی غرور ہوگا تو جنت میں نہ جائے گا، اور یہی تو منافقت ہے۔
کچھ لوگ اپنے ذرا سے علم اور ذرا سے عمل پر خود کو ولی سمجھنے لگے ہیں، چاہے انہیں اس علم و عمل کا صحیح ہونے کا ادراک ہو نا ہو، اور ان کی یہ پیشن گوئی میں نے آج دیکھ لی۔ انہوں نے اس معاملے میں ایک ولی کا قصہ بتایا تھا۔
“جنہوں نے ایک گاؤں میں کچھ آگ کی پوجا کرنے والوں کو دیکھا تو کہا تھا کہ کیسے کم عقل بھٹکے ہوئے لوگ ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر آگ کی پوجا کر رہے ہیں” اور اللہ کو ان کی یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔ اور پھر ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا تھا، ” انہیں ایک کنجری کی محبت میں ڈال دیا جس نے شادی کی شرط میں ان سے خنزیر چروائے”، اور کئی مہینوں تک ایسا ہوتا رہا، جب ان کے ایک شاگرد آئے، انہوں نے ان سے ان کے کسی عمل کے بارے میں پوچھا تو انہیں یاد آیا کہ انہوں نے کچھ پارسیوں کو حقارت کہ نظر سے دیکھا تھا۔
تو جب اللہ نے اپنے ایک نیک بندے کی پاریسوں پر حقارت کی نظر برداشت نہیں کی تو ولید حسن تمہاری ایک مسلمان پر وہ حقیر نظر کیسے برداشت کرےگا۔ اس کے بعد تو خود مجھ میں بھی ہمت نہیں ہے تم سے بات کرنے کی۔ حذیفہ اپنی آنکھ میں رکے آنسو کو انگلی پور سے صاف کر کے پلٹا اور ولید حسن کو تنہا اس کے کمرے میں چھوڑ کر نکلتا چلا گیا۔
اور ولید حسن تو ہارے ہیں جواریوں کی طرح زمین پر بیٹھا تھا، آج حذیفہ اس کے سامنے اس کے کردار کی حقیقت رکھ گیا تھا۔ جس نے اسے خود سے نظر ملانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا۔ وہ اس سے نوفل احمد کی دوسری باتیں پوچھنا چاہتا تھا مگر آج وہ اسے روکنے کی بھی ہمت نہیں کر پایا جس پے روزانہ اس کے کتنے حکم چلتے ہیں۔
******************
کیا ہوا زینب، زرین نے خاموش بیٹھی زینب سے سوال کیا تھا۔
آپی، کتنا غلط کیا امی اور بھائی نے ازلفہ بھابھی کے ساتھ۔ اللہ کتنا ناراض ہوگا ہم سے۔ جو بھائی ہمارا غرور تھا جن کی زبان سے برے لفظ کبھی نہیں سنے، آج ان کی زبان سے طوائف اور کھلونا جیسے الفاظ سن کے خود سے شرم آ رہی ہے۔
دعا کرو زینب، ہم لوگ دین پر چل کر بھی بھٹکے ہوئے ہیں۔
ایک بات سمجھا گئیں آپی وہ۔ “آج ہم لوگ صرف دین پر چلنے کا دکھاوا کر رہے ہیں، کیونکہ اگر حققیت میں ہم دین پر چلتے تو کسی کو تکلیف دینے کا سبب نہیں بنتے۔ اللہ نے قرآن میں “امر بالمعروف اور نہی عن المنکر” کا حکم کئی بار دیا ہے۔ یعنی “نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو” یہ تو ہم خود کے لیے نہیں کر پائے کسی اور کو کیا کرتے۔ جب کہ یہ فرض ہے۔
ٹھیک کہہ رہی ہو زینب، ان کے الفاظ “ہدایت کی سب سے زیادہ ضرورت کسے ہے”؟ سوچ کا نیا در کھول گئے۔ سب سے زیادہ ہدایت کی ضرورت تو انہیں ہیں جو اللہ اللہ کر کے اللہ کی ہی مخلوق کو تکلیف دے رہے ہیں۔ بچپن سے اپنے گھر میں ہم یہی سنتے آ رہے ہیں اچھے اخلاق اپناؤ، یہ نبی کا شعار ہے۔ مگر آپی سب سے پہلے اخلاق کا جنازہ تو ہمارے گھر سے نکلا۔ کتنی تیز دو تھپڑ مارے بھائی نے بھابھی کو، ان کا ہونٹ بھی پھٹ گیا تھا، کوئی ان کی بہن کو مارے ایسے تو، شوہر اور ساس ایسی ہوتی ہیں تو میں نے نہیں شادی کرنی، زینب تو باقاعدہ رونے لگی تھی۔ اور اس کا ساتھ شرمین بھی دے رہی تھی۔ اور دروازے کے باہر کھڑی ہوئی آسیہ حسن کو لگا تھا آج انہوں نے اپنے گھر میں اپنی عزت ہی ختم کر دی۔ ازلفہ سبحان کی بات انہیں سچ لگی تھی وہ واقعی نہ ایک اچھی عورت بن پائی تھیں نہ اچھی ماں۔
چپ کرو تم دونوں،توبہ و استغفار کرو بس، سب کے لیے۔ زرین نے دونوں چپ کروایا۔
آپی کیا بھابھی واپس نہیں آئیں گی؟ شرمین کے سوال کا جواب دونوں کے پاس نہیں تھا۔ بس دعا کرنی تھی۔
****************
وہ سر جھکائے بیٹھی مقابل سے اپنے پیر کی پٹی کروا رہی تھی۔ سر پے بینڈیج لگی ہوئی تھی جس کی تکلیف کو وہ بلکل محسوس نہیں کر رہی تھی۔ خاموشی ایسی تھی گویا سب سے ناراض ہو۔
تو تم اس لیے سب سے ناراض ہو کہ لوگ ریلیجیس ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ مقابل کی بات پر وہ خاموش رہی تھی۔ مگر وہ اسے سن رہی تھی۔ کیا بات تھی اس عورت میں ایسی جو ازلفہ سبحان ناراض ہو کر بھی اس کے پاس بیٹھے رہنے پر مجبور تھی۔ شاید اس عورت نے اس کے لباس پر کوئی بات نہیں کی تھی، وہ پہلی بار ایسی مسلم عورت دیکھ رہی تھی جس کی باتوں میں حلاوت اس کی سوچ سے بھی زیادہ تھی، اس کے لیے عزت ایسی تھی جیسے وہ اس کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہو۔ جب کہ اسے دیکھ کر ازلفہ سبحان کو غلاف میں لپٹے ہوئے قرآن کی یاد آئی تھی جسے پڑھا کبھی نہیں مگر دیکھا بہت بار تھا۔ اسی کی مانند یہ عورت عجیب سے عبایا میں ڈھکی ہوئی تھی۔ جس نے گلوز سے ہاتھ باہر صرف اس کی پٹی کرنے کے لیے نکالے تھے۔
جو لوگ غلطی کر رہے ہیں تم بھی وہی غلطی کر رہی ہو۔ اس کی بات پر ازلفہ سبحان نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔ نظروں میں سوالیہ تاثر تھا۔
کیا نہیں کر رہی ہو؟ جس طرح لوگ تمہارے ظاہر کو دیکھ کر تمہیں جج کر رہے ہیں، ویسے ہی تم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کو جج کر رہی ہو۔ تم مسلمانوں کی بہت سی غلط روش کو دیکھ کر اسلام سے متنفر ہو رہی ہو، کیا کبھی تم نے اسلام کو جاننے کی کوشش کی؟ سوال پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔
جانتی ہو جس طرح نو مہینے تک اپنے اندر ایک بچے کو اپنے خون سے سینچتی ہے اسی طرح ہمارے صحابیوں نے اس دین اسلام کو اپنے خون سے سینچا ہے۔ ماؤں نے اس دین پر اپنے کئی کئی بیٹے لگا دیئے، بیویوں نے شوہر لگائے، بہنوں نے بھائی لگائے، بچے یتیم ہو گئے، اور جانتی ہو اس پر ان عورتوں نے فخر کیا کہ ان کے مرد اللہ کے دین پر لگے۔
اس دین اسلام کو پھیلانے کے لیے میرے نبی کو ان کے صحابیوں کو کیسی کیسی نہ تکلیف اٹھانی پڑی۔ پانی کی طرح خون بہا۔ ان کے بارے میں جب پڑھوگی تب جانوگی دین اسلام کیا ہے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *