Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode16

Hidayat by Ain Noon Alif Episode16

ہاں بتائیں بھابھی، سب نے اسے گھورتے ولید کو معنی خیزی سے دیکھا۔ جو اشارے سے اسے منع بھی کر رہا تھا۔ مگر سب کے اسرار پر اس نے ایک بےبس نظر ولید پر ڈالی، اپنی ہی بات پر پھنس چکی تھی۔
ایکچولی! اس نے میرے لیے دعا کی نا تو میں نے اسے معاف کر دیا، یہ بہت اچھی دعا کرتا ہے، اور بارش میں بھی نماز پڑھتا ہے۔ اور اس نے میری کئیر بھی بہت اچھی کی، اور مجھے ز۔۔۔
ازلفہ، تم بہت تھکی ہوئی ہو اب تمہیں سونا چاہیے۔ اس سے پہلے وہ اور نہ جانے کیا کیا بولتی، اس کی چلتی زبان کو روکنے کے لیے اس نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
اوہ، رائٹ۔ اس کے غصے سے گھورنے پر اس نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ولید کی حالت پر سب کا بے ساختہ قہقہہ تھا۔ اور وہ پریشان ہو کر سب کو دیکھنے لگی۔ ان کی ہنسی کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔ اس نے تو اپنی طرف سے اس کی تعریف ہی کی تھی۔
جاؤ بچیوں کھانا لگاؤ، آج سب مل کھانا کھائیں گے۔ حیدر صاحب کے کہنے پر ساری عورتیں ہی کھانا لگانے کے لیے اٹھ گئیں۔ حیدر صاحب سب کے چہرے پر ایک سکون اور خوشی کا تاثر دیکھ کر اللہ کے شکر گزار ہوئے تھے۔ ازلفہ کو گلے لگا کر اس کی پیشانی چومی تو انہیں لگا جیسے ان کی بیٹی ان کے پاس واپس آ گئی ہو۔
نانا جان، میں بھی روؤں کیا؟ ان کی نم آنکھوں کو دیکھ کر اس نے ان کی طرف دیکھا.
بالکل نہیں میری بچی۔ میں بہت خوش ہوں، بہت زیادہ۔ یہ تو شکرگزاری کی نمی ہے۔ دونوں نانا نواسی کو باتیں کرتا چھوڑ کر وہ فریش ہونے اپنے روم میں چلا گیا۔
****************
کھانا بڑے خوشگوار ماحول میں کھایا گیا، فون پر وہ اپنے چاچا چاچی کی خیریت معلوم کر کے اور پرسکون ہو گئی تھی۔ کھانے کے بعد بھی وہ لوگ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد حیدر صاحب کے کہنے پر سب اپنے اپنے روم میں سونے کے لیے جا چکے تھے۔
ازلفہ، ولید کی آواز پر خود پر کمبل اوڑھتے اس کے ہاتھ رکے تھے۔
ہاں! کیا ہوا؟
ایک بار اور تم سے معافی مانگتا ہوں۔ کل سے زیادہ آج اس کے چہرے پر ایک اذیت تھی۔
اب کیا ہوا؟ معافی تو دےدی۔ اب پھر سے کیوں؟
تمہارے اس ایکسیڈنٹ کے لیے، اور میری وجہ سے اس دن تم نے شراب۔۔ اسے بولنے میں بھی تکلیف ہو رہی تھی۔ جب سے راحیل نے بتایا تھا بار بار یہ بات اسے تکلیف دے رہی تھی کہ اگر اس کی وجہ سے اس دن کچھ غلط ہو جاتا تو۔ اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
پرانی بات ہو گئی، اور میں نے شراب تمہاری وجہ سے نہیں پی اور نہ وہ پہلی دفعہ تھی مگر ہاں اس دن وہ آخری بار تھی۔ اب تم پلیز ان سب کو بھول جاؤ۔ میں نے بھی تو تم لوگوں کو مس انڈرسٹینڈ کیا۔ اسے اس گلٹ سے نکالنا چاہا۔
نہیں تم نے غلط نہیں سمجھا، جو ہم نے تمہارے ساتھ کیا، اتنی آسان معافی ڈزرو نہیں کرتے تھے ہم۔
تم لوگ اچھے ہو اور آج جو تم نے کیا وہ تمہیں اور زیادہ اچھا بنا رہا تھا۔ اور پھر جتنا تم نے مجھے ہرٹ کیا اب اس سے زیادہ کئیر کر رہے ہو۔
تمہارا فیور ٹھیک ہو گیا؟ ساتھ ہی اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کے چیک کیا۔
نہیں ہے اب الحمدلله۔ چلو سو جاؤ۔ کل سے تمہاری اسلامک کلاسز شروع۔
اوکے سر، مسکرا کر کہتی وہ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی، اور ولید حسن آج پھر اسے سوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ وہ اس کی صاف گوئی، سچائی اور نرمی سے حیران ہو رہا تھا۔ کتنے عبادت گزار لوگ، دیندار لوگ اتنی بڑی بڑی باتوں کو آسانی سے معاف نہیں کرتے، اور اس نے کتنی آسانی سے ان لوگوں کو نہ صرف معاف کیا تھا بلکہ ان سے اس کا رویہ پہلے سے بھی زیادہ مخلص ہو گیا تھا۔ جس ولید حسن اور اس کی ماں سے وہ نفرت کا اظہار بناگ دہل کر کے گئی تھی آج سب کے سامنے وہ اس کی تعریفیں کر رہی تھی۔ کتنا آسانی سے یہ تکلیفیں بھلا دیتی ہے۔ بیشک اللہ ایسے ہی لوگوں سے خوش ہوتا ہے۔
تم اتنی ماڈرن ہو کر بھی مقام میں مجھ سے بہت آگے بڑھ گئی ہو ازلفہ۔ اللہ مجھے تم سے کیے تمام وعدوں پر پورا اتارے۔ اور مجھے استطاعت دے کہ میں تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہ اٹھانے دوں۔ جھک کر اس کی پیشانی پر عزت کی نشانی چھوڑی اور اپنی جگہ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔
____________
نو بج رہے تھے مگر ان لوگوں کا ابھی تک کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا گھر جانے کا۔ موحد اور حذیفہ دونوں دوسرے کیبن میں بیٹھے تمام امور نبٹا رہے تھے تو وہ اکیلا اپنے کیبن میں تمام ضروری میلز کا کب سے جواب دے رہا تھا۔ فون کو اس نے سائلنٹ کیا ہوا تھا۔ جب سے پروجیکٹ پر کام شروع ہوا تھا ان لوگو کو فرصت ہی نہیں مل رہی تھی۔ وہ آخری میل آنسر کر رہا تھا جب حذیفہ تیزی سے اس کے کیبن میں آیا۔
ولید، فاروق شیخ کی کال ریسیو کرو، پریشان لگ رہا ہے۔ شاید کچھ کام ہو۔ حذیفہ اس کے کیبن میں آیا تھا۔
کیوں کیا ہوا؟ ٹائپنگ کرتے کرتے ہی پوچھا۔
پتا نہیں یار، وہ کب سے تمہیں فون کر رہا ہے، سن لو۔ اس کے کہنے پر اس نے فون اٹھا کر دیکھا تو پچیس مسڈ کال دیکھ کر حیران ہوا۔ چار کال ازلفہ کی تھی اور چھ فاروق کی، اور بھی نہ جانے کس کس کی تھیں۔ اس نے فاروق کو کال لگائی۔
بولو شیخ، سلام کے بعد اس نے کال کرنے مقصد پوچھا۔
حذیفہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جس کا چہرہ بےتاثر ہوتا جا رہا تھا۔
اینی پرابلم؟ اس کے کال رکھنے پر حذیفہ نے پوچھا۔
ساتھ چلو، لیپ ٹاپ آف کر کے سامان اٹھایا اور تمام لائٹس آف کر کے اپنا کیبن لاک کیا۔
کہاں چلنا ہے، بتاؤگے ہوا کیا ہے؟
اس نمبر کی لوکیشن ٹریس کرواؤ جلدی۔ اس کے ہاتھ میں اپنا فون پکڑایا جہاں فاروق کے نمبر سے ایک نمبر آیا ہوا تھا۔
لیلا پیلس کی ہے، دس منٹ بعد حذیفہ نے اسے لوکیشن بتائی۔ اس کے بتاتے ہی اس نے گاڑی لیلا پیلس کی طرف بھگانی شروع کر دی۔
تمہاری یہ عادت میرا دماغ خراب کرتی ہے ولید، تم بتاتے نہیں ہو میٹر کیا ہے؟ حذیفہ کو اس کی خاموشی پر غصہ آیا تھا۔
“انسان اپنے بوئے ہوئے کی فصل اسی دنیا میں کاٹتا ہے، کوئی دیر سے تو کوئی جلدی، مگر کاٹنی ضرور ہے”۔ فاروق شیخ بھی کاٹ رہا ہے۔ مگر اس نے مدد مانگی ہے، اور بخاریز کسی کی مدد سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ اس کی بیٹی کی عزت خطرے میں ہے۔ اب بس یا کچھ اور سننا ہے؟
اللہ اس کی بیٹی کی حفاظت کرے۔ حذیفہ کی دعا پر اس نے آمین کہا تھا۔
تم گاڑی سائڈ میں لگاؤ میں پتا کرتا ہوں۔ حذیفہ کو چابی پکڑا کر اس نے ریوالور اندر رکھا، اور ہوٹل کے اندر داخل ہو گیا۔ چہرے پر رومال باندھے وہ وہاں کسمٹرز کی طرح ادھر ادھر گھومنے لگا، پانچ منٹ تک اسے کسی پر شک نہیں ہوا، وہ اب دوسری جانب بڑھنے لگا، کچھ قدم پر اس کے قدم ایک آواز پر رکے۔
تمہیں پکا یقین ہے وہ آئیگی؟ اس آواز پر ولید کی تیز سماعت اس طرف متوجہ ہوئی۔
کیسے نہیں آئےگی، ریحان خان نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں، اس ایڈیٹ فاروق نے ریحان خان کی بےعزتی کی تھی، آج اس کی بے عزتی ہوگی، جیسی اس کی بیٹی کی پکچرز بنوائی ہیں ایک بھی سوشل میڈیا پر آ گئی تو فاروق شیخ کی فیملی خودکشی کر لےگی، اب اس کی بیٹی اتنی پاگل نہیں ہے جو خود کی عزت بچانے کے لیے اپنی فیملی کو خودکشی پر مجبور کر دے۔
یہاں کیوں کھڑے ہو، پتا چلا کون ہے؟ حذیفہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس کی نظریں اس سے چار قدم کے فاصلے پر کھڑے آدمی پر تھیں، اس کی اس پر جمی سرد نگاہوں نے اسے کنفیوز کیا۔ اس سے پہلے وہ اس سے اور کچھ پوچھتا ان لوگوں کی آواز پر وہ بھی اسی طرف متوجہ ہوا۔
لمبی لمبی چھوڑتے ہو یار تم، جس سے انگجمنٹ کی تھی اسے تو رام کر نہیں سکے جس کے پیچھے کوئی پاور بھی نہیں تھی اور جس کے پیچھے بڑی نہیں مگر کوئی نہ کوئی پاور ضرور ہے اسے رام کرو گے۔
اس کی بات نہ کرو، وہ تو ریخان خان کی ڈارلنگ ہے۔ کسی تصور میں کھوئی آواز ابھری۔
اچھا، ویسے بڑی ہی ٹائٹ ہے مجال ہے جو زیادہ قریب آنے دیا ہو، کہیں ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتی تھی، ایک بات گال پر کس کیا کر لیا دو دن بات نہیں کی تم سے۔ ہاہاہاہاہا
یہی تو خاص بات ہے ریحان کی ڈارلنگ میں، نظر بھی اس کے قیامت فگر سے سیراب نہیں ہوتی، بس دو دن اور پھر تو وہ پوری کی پوری ریحان خان کی باہوں میں ہوگی۔ اس کے تو نام سے ہی تشنگی بڑھ جاتی ہے۔ تجھے کیا پتا سالے، کتنے پاپڑ بیلنے پڑے اس کو پانے کے لیے، پورے دو سال ستایا ہے اس نے، مگر ریحان دو دن بعد ان دو سالوں کی ساری تشنگی ساری تڑپ اسی سے مٹائےگا، جو بات اس میں ہے وہ کسی اور میں کہاں۔ اس کی مخمور آواز میں ہوس ہی ہوس تھی۔
تو کبھی ہمیں بھی ٹیسٹ کرواؤگے اپنی ڈارلنگ؟ خباثت کی حد تھی۔
نا نا، ڈارلنگ سے جلدی جی نہیں بھرنے والا، ہاں دس بارہ سالوں میں اگر بور ہو گیا اس سے، تو چکھ لینا۔ مگر ابھی جو آئٹم آئےگی اسے میرے بعد تم لوگوں نے ہی۔۔۔ وہ اپنے ماں باپ کی کمینی اولاد تھا یہ ثابت کر رہا تھا۔
ارادہ کیا ہے تمہارا؟
بس اس کے ساتھ ایک اچھی سی فلم بنانے کا۔ ہاہاہاہا دونوں کے بیہودہ قہقہہ اسے پسند نہیں آئے تھے۔
حذیفہ، کسی بھی بہانے سے تم ان دونوں کو باہر لے کر آؤ۔ اگر میں گیا تو دو منٹ بعد یہ یہاں مردہ حالت میں ہوں گے، اور میں اسے آسانی سے نہیں مرنے دینا چاہتا۔ اس کی آواز میں کیا تھا اسے سمجھ نہیں آیا تھا۔ اس کی مٹھیاں اور لب بھنچے ہوئے تھے، اور اس کا بڑھتا غصہ اس کے چہرے کو سرخ کر رہا تھا۔
مگر ولید، اس نے کچھ کہنا چاہا مگر اس کے پتھریلے تاثرات نے اسے خاموش کر دیا۔
********************
ہوٹل کی پچھلی سائڈ اتنی رات میں کوئی نہیں پایا جاتا تھا۔ اسے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی جو اس کے قریب آتی جا رہی تھی۔
اوہ سویٹی، یہاں کیوں آئی، بیڈ روم سے اچھی جگہ نہیں ہے ڈئیر یہ، اس کے ہیولے کو ان لوگوں نے اسی لڑکی کا سمجھا تھا جس کا بیس منٹ سے وہ لوگ انتظار کر رہے تھے۔ قریب آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، مگر اگلے پل پڑنے والے مکے نے اس کی ناک کی ہڈی کو توڑ دیا تھا اور ایسا ہی دوسرا مکا اس کے ساتھی پر پڑا تھا۔ ان دونوں کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر وہ دونوں مل کل ان دونوں خبیثوں کو دھول چٹا چکے تھے۔
جن گندی نظروں سے تم لوگ عورتوں دیکھ کر ان کی جسامت کی دھجیاں اڑاتے ہو آج اس قابل نہیں رہوگے کہ اپنی بہن بیٹی کو بھی دیکھو۔ اس نے گن کا سامنے والا حصہ اس کی دونوں آنکھوں میں مار دیا۔ ایسا ہی دوسرے والے کے ساتھ کیا۔
ولید ان کی آنکھیں پھوٹ گئیں۔ اب بس کرو، اس کو زبردستی ان لوگوں سے دور کر کے وہ اسے گاڑی تک لایا۔
تھینک یو ولید حسن، اس کی کار کے برابر کھڑی کار سے فاروق اپنی بیٹی کے ساتھ باہر نکل کر آیا۔
امید ہے یہ سبق تمہارے لیے فائدہ مند ہوگا۔ اس کی بات پر فاروق شرمندہ ہوا تھا۔
ویسے فاروق صاحب اتنی نفرت کے باوجود آپ نے ولید حسن سے ہی کیوں مدد مانگی؟ حذیفہ اسی سے مدد کی وجہ جاننی چاہی۔
کسی اور سے مانگتا تو معاملہ کھل سکتا تھا، اور ولید حسن جیسا عزتوں کا رکھوالا شخص اس کی نزاکت کو بخوبی سمجھتا، سہی کہا تھا تم نے ولید، “انسان کا چھوٹا بڑا ہر عمل اللہ کی پکڑ میں ہے”۔ اور “عزت کا معاملہ تو عزت سے ہی چکتا کیا جاتا ہے”۔
ایک بات یاد رکھیں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا ،ایک تو وہ لوگ ہوں گے جن کے پاس گائے کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور وہ عورتیں ہوں گی جو لباس پہنے ہوئے ہوں گی لیکن وہ ننگی ہوں گی ،لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی اور خود ان کی طرف مائل ہونے والی ہوں گی،ان کے سر بختی اونٹ کے (لچکدار)کوہان کی طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں جائیں گی نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو تو اتنی اتنی مسافت سے آئے گی۔
اس حدیث پر اس کی بیٹی شرمندہ ہوئی تھی، اور فاروق تو جیسے زمین میں گڑ گیا تھا۔ ایسی پرورش کرنے والا وہ خود ہی تو تھا۔ اپنے ہاتھوں اپنی اولاد کو جہنم میں دھکیل رہا تھا۔
اس سے ولید سے اپنے پچھلے رویہ کی معافی مانگی اور اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ فاروق شیخ آج اپنا غرور اس کے قدموں میں ڈال گیا تھا۔
********************
سات دن میں آج اس کا پیر بینڈیج سے فری ہوا تھا۔ بغیر کسی سہارے کے خود سے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ٹیسرس پر گھوم رہی تھی۔ اور ساتھ ہی ساتھ آیت الکرسی بھی یاد کر رہی تھی۔ زینب اور زرین دونوں اس کے ساتھ واک کر رہی تھیں۔ ان سات دنوں میں اس نے نماز میں پڑھی جانے والی ساری تسبیحات یاد کر لی تھیں۔
آپ بہت جلدی سب سیکھ جائیں گی بھابھی۔ زینب نے اس کے آدھے گھنٹے میں آدھی آیت الکرسی یاد کرنے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
ان شاء الله۔ وہ خود جلدی بہت کچھ سیکھنا چاہتی تھی۔
آپ کو سب کچھ آ جائے گا، سوا ڈوپٹہ لینے اور شلوار قمیض سنبھالنے کے، زرین کی بات پر تینوں کا قہقہہ چھوٹا تھا۔
یہ سب سے مشکل کام ہے، سچ میں۔ تم لوگ اتنا ایزیلی لے لیتے ہو، بٹ میں۔ اسے افسوس ہوا تھا۔
کوئی بات نہیں، بھائی ہیں نا، دن میں ہم باندھتے ہیں رات میں وہ باندھ دیا کریں گے۔ کل بھی تو وہی باندھ رہے تھے۔
تمہارا بھائی اچھا بن رہا ہے مگر وہ کھڑوس ابھی بھی ہے۔ ڈانٹ دانٹ کے کام کرواتا ہے۔ صبح بھی ڈانٹ کر گیا تھا۔ وہ بھی سب کے سامنے۔ منہ بنا کر بتایا۔
ہاں تو، آپ بھی تو ایک دم سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ ڈاکٹر نے سلو سلو واک کے لیے بولا تھا۔
ویسے آج کچھ زیادہ ہی دیر نہیں ہو گئی، فون بھی نہیں اٹھا رہا ہے۔ اس کی کمی محسوس ہوئی تھی۔
ابو اور چچا جان بتا رہے تھے آج ان کو اور موحد بھائی کو دیر ہو جائے گی۔ ویسے آپ بھائی کو مس کر رہی ہیں نا؟ زینب نے شرارت سے اسے کہنی ماری۔
افکورس کریں گی نا، بھائی شوہر ہیں بھابھی کے۔ اور وہ بھی اتنے اچھے، زرین نے بھی لقمہ دیا۔ اس کی دوستانہ اور نرم طبیعت کی بدولت تینوں بہنیں اس کی دوست بن گئیں تھیں۔
شوہر لوگوں کو مس کیا جاتا ہے کیا؟ کہیں دور تھوڑی گیا ہے، روزانہ کی روٹین ہے تو کیوں مس کروں گی میں اسے؟ اس نے حیرت سے دونوں کو دیکھا۔ اور اس کی حیرت پر وہ دونوں حیران ہو رہی تھیں۔ دونوں میں میاں بیوی والی کوئی بات ان لوگوں کو دکھائی ہی نہیں دیتی تھی۔ بات بھی ہم عمر دوستوں کی طرح کرتے۔ ازلفہ کے اس سے بات کرنے کے انداز سے لگتا ہی نہیں تھا وہ شوہر سے مخاطب ہے اور اس پر اسے کوئی ٹوکتا بھی نہیں تھا۔
اچھا کل کے پیپر کی تیاری ہو گئی تم لوگوں کی؟
ہاں الحمدلله۔ ارے کل سے تو آپ بھی مدرسہ جانے لگیں گی۔ شازیہ آپا سے آپ کو پڑھانے کی بات کی ہے امی نے۔ یعنی کل سے ایک اور ٹیچر۔ اب دو دو ٹیچر کو ہینڈل کرنا، ایک ولید بھائی ایک شازیہ آپا، بہت اسٹرکٹ ہیں مگر نیک ہیں بہت۔
اس کا مطلب ولید بھائی ہے ان کا۔
ہا ہا ہا ہا ہا۔
اب جاؤ تم لوگ، صبح پھر سے روژن کرنا پڑے گا۔
اوکے آپ بھی سو جائیں دس بج رہے ہیں۔
اوکے، دونوں کے گلے مل کر انہیں گڈ نائٹ کہا۔
تمام گھر والوں کی محبت اور کئیر دیکھ کر اسے لگ رہا تھا جیسے بچپن سے وہ یہیں پلی بڑھی ہو، اور ولید کا اس کی لاپرواہی پر غصہ کرنا، پھر خود اس کی کئیر کرنا اسے ایک گہرے جذ ے سے ہمکنار کرتا تھا۔ چلتے چلتے پیر میں چبھن محسوس ہوئی تو بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔ حیات کے سکھائے طریقے سے کچھ دیر پہلے اسنے زینب سے دوپٹہ بندھوا کر عشا کی نماز ادا کی تھی زینب اور زرین کے ساتھ۔ یہ بات ولید کو بتانے کے لیے وہ بےچین ہو رہی تھی۔ مگر وہ فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا۔ غصہ سے فون سائڈ میں رکھ کر اس نے کتاب (اسلام کیا ہے؟) کھولی اور جہاں تک پڑھی تھی اس سے آگے پڑھنی شروع کر دی۔
********************
اتنا غصہ کیوں آ رہا تھا تمہیں وہ بھی فاروق کی بیٹی کے لیے جو ان دونوں آدمیوں کو مار مار کر کچومر بنا دیا؟ حذیفہ اب تک اس کے غصہ سے حیران تھا۔
وہ گاڑی کی سیٹ پر سر ٹکائے اپنا تنفس بحال کر رہا تھا۔ اس کی خاموشی سے اس نے کچھ سوچ کر پوچھا۔
ولید کیا وہ ازلفہ کی بات کر رہے تھے؟ ازلفہ کا جو فیانسے تھا کہیں یہ؟ کڑیاں ملاتے حذیفہ کو جیسے شک گزرا تھا۔ ورنہ فاروق کی بیٹی کے لیے اتنا غصہ تو ولید حسن کو نہیں آ سکتا تھا۔
ہاں! جواب دینا مشکل لگا تھا۔ اس کی بیوی کے بارے میں اتنی گھٹیا گفتگو، وہ کب ولید حسن کو برداشت نہیں ہونے والی تھی۔
اگر اس نے کیس کر دیا تو؟
کر کے کیا بتائیں گے، کس نے مارا، کیوں مارا؟
یار اسے اندھا نہیں کرنا چاہئے تھا۔
“عورتوں کو ذلالت کی نظر سے دیکھنے سے اندھا ہونا بہتر ہے”۔ “جب مرد اپنے گھر کی عورتوں کی عزت کی حفاظت کے قابل نہ رہے، تو اس کے لیے موت بہتر ہے”۔ اور جانتے ہو وہ ناقابل مرد کون ہوتے ہیں؟۔۔۔۔ حذیفہ اس کی ایسی باتوں سے خوفزدہ ہو جاتا تھا۔
“جو دوسروں کی عورتوں کی عزت تار تار کرنے میں ہچکچاتے نہیں ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہر زانی کے گھر کی عورت کو اس کا یہ قرض چکانا ہوگا، ہو سکتا ہے اس کی توبہ کے بعد بھی، ایک عورت کے پاس زندگی اس کی عزت ہوتی ہے، تو رب کائینات کیسے انہیں ان کی اگائی فصل کھلائے بغیر چھوڑ دے؟ یہ تو نا انصافی ہوگی اس عورت کے ساتھ، اور اللہ سے بہترین انصاف کرنے والا تو کوئی بھی نہیں”۔ اس کی بات پر حذیفہ جھرجھری لے کر رہ گیا۔ بے اختیار شکر ادا کیا تھا کہ اللہ نے اس عظیم گناہ سے محفوظ رکھا، “بیشک زنا عام گناہ نہیں ہے جو انسان کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے، ورنہ کیوں ان لوگوں کے لیے سنگسار اور کوڑے جیسی سزا متعین کی جاتی”۔ اور اب تو وہ غیر عورتوں کو دیکھنے سے بھی توبہ کر رہا تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *