Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hidayat by Ain Noon Alif Episode25

Hidayat by Ain Noon Alif Episode25

وہ شاکڈ تھی، حد سے زیادہ، اسے اپنے ساتھ ہونے والے اس حادثہ کا یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔ سہیل جعفری کی بےباک گفتگو اس کے حواس معطل کر رہی تھی۔ کیا کسی کے ساتھ نیکی کرنے کی بھی سزا ہوتی ہے؟ کیا وہ پھر کبھی کر پائےگی کسی نے ساتھ نیکی اس حادثہ کے بعد، اسے تو کوئی راستہ بھی نہیں سوجھ رہا تھا۔ فون تو گھر میں ہی گر گیا تھا۔ اس کا ذہن منفی پہلو کی طرف دوڑنے کی کوشش میں تھا۔
کتنی آوازیں ہتھوڑے کی مانند اس کے دل و دماغ پر ضرب لگا رہی تھیں جب ایک آواز نے ان تمام آوازوں کی بازگشت کو روک دیا تھا۔
کوئی مہینوں پہلی ایک آواز کانوں میں گونجی تھی، “جب انسان نیکی کے راستے پر چلے اور مصیبتیں اس کی طرف ایسے آئیں جیسے پہاڑ سے جھرنا بہتا ہے، تو سمجھ لینا وہ سہی راستے پر ہے، اور شیطان کے دھوکے میں نہیں”۔ “اور ان مصیبتوں سے بچنے کا واحد راستہ اللہ کی ذات پر مکمل یقین اور صبر کے سوا کوئی دوسرا نہیں”۔ تمہارا رب تم پر آنے والی حکمتوں سے خوب واقف ہے، تو اس کی حکمت پر راضی ہو جاتا ہے اس سے رب راضی ہو جاتا ہے اور جو اس پر راضی نہیں ہوتا، وہ یقیناً گھاٹے کا سودا کرتا ہے”۔
ان مصیبتوں میں تمہارا رب تمہارے لیے تین مصلحتیں رکھتا ہے، ایک، تمہارے لیے کوئی سبق ہوتا ہے، جسے سیکھ کر یا تو تم اپنا مقام بلند کرتے ہو یا اسے نظرانداز کر کے پھر سے غفلت کی راہ پکڑتے ہو۔ دوسرے، تمہارے ایمان کا امتحان، تیسرے، تمہارے اعمال کا بھگتان یعنی تمہارے گناہوں کی سزا”۔
اے اللہ، میں تیری بندی ہوں اور تیری ہی بندگی پر ہوں، میں نے جب بھی تجھ سے مدد مانگی، تونے مجھے مایوس نہیں کیا، اور آج بھی میں تیری مدد کا یقین رکھتی ہوں، اور تیری تمام حکمتوں پر راضی ہوں، تو میری مغفرت فرما دے،
اے اللہ،ایک سبق تو میں آج سیکھ گئی ہوں، تو مجھے زندگی دینا کہ میں اسے جان سکوں اور اس پر عمل کر سکوں۔ اور تیرا شکر کہ تونے مجھے پھر سے گمراہ ہونے سے بچا لیا۔ اور جیسے تونے گمراہی سے بچایا ویسے ہی تو مجھے ان لوگوں اے بچا لے۔ اس کا دل اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو چکا تھا۔
وہ شاید چنی ہوئی بندیوں میں سے تھی جبھی تو اس کے رب نے اس کے متنفر ہونے سے پہلے اسے ایک بھولی بسری نصیحت یاد دلا کر اس کا ایمان پختہ کیا تھا اور اس کے دل کو گویا تسلی دی تھی، کہ اس کا رب اسے اکیلا نہیں چھوڑےگا۔ اور یقیناً وہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی سے بچا لیتا ہے۔
********************
بڑے سے حویلی نما گھر میں وہ ہال کے بیچ و بیچ کسی مجرم کی طرح کھڑی تھی، مگر اس کے چہرے پر نہ کوئی خوف تھا، نہ ہچکچاہٹ۔ اس نے نظر اٹھا کر سب کو دیکھا تھا، مردوں اور عورتوں سے بھرا پرا ایک خاندان تھا، سب اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے یا تو کوئی بڑی مجرم ہو یا کوئی سیلبرٹی۔ ہر ایک نظر میں اس کے لیے حقارت تھی،
شاہینہ ایک لڑکے کے ساتھ، شاید اس کا شوہر تھا کھڑی بے بسی سے اس کے لیے آنسو بہا رہی تھی۔ اس کے ساتھ دو تین لوگ اور بھی تھے، ان کی بھی ویسی ہی کیفیت تھی۔
لڑکی تو خوبصورت ہے، مگر بیٹا ایسی لڑکیاں باغی ہوتی ہیں مرد سے دب کے نہیں رہتی بلکہ ان کے سروں پر ناچتی ہیں۔ ایک آدمی نے اس کے بےخوف چہرے کو دیکھ کر کہا، نگاہیں اس کی بھی ہر حیا سے پاک تھیں۔
یہی ادا تو پاگل کرتی ہے ابا اس کی، دیکھا نہیں شاہینہ کو بچانے کے لیے ان سالوں کی کیسے اس نے دھلائی کروائی، سہیل جعفری کو لوٹ کر لے گئی اس کی یہ ادا۔ اس کے بولنے کا انداز ابا، ہائے، جان من ساری خطا معاف، سب کے سامنے وہ بےباکی سے بکواس کر رہا تھا۔ مگر وہاں کے لوگ اس پر ناراض ہونے کے بجائے انجوائے کر رہے تھے، ازلفہ مسلمانوں کی یہ کیٹیگری دیکھ کر شاکڈ تھی۔
کچھ بولو نہ جان من، سب کو اپنی بہادری دکھاؤ، اور بتاؤ کیسا لگا تمہیں تمہارا سسرال۔ حیران مت ہو میرے ساتھ رہتے ہوئے میرے بہت روپ دیکھوگی۔ اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ اپنے حصار میں لینا چاہا، جب اس نے ایک بار پھر اسے دھکا دے کر گرایا۔
ڈونٹ یو ڈئیر ٹو ٹچ می بلڈی باسٹرڈ، اس کی پھنکار پر وہاں موجود تمام لوگ شاکڈ رہ گئے تھے۔ سہیل جعفری بھی اس کی ہمت پر حیران رہ گیا تھا۔
اپنی فیملی کا پوچھ رہے ہو، کیسی ہے؟ ہمم بتاؤں میں کیسی ہے یہ فیملی؟
یہ جو عورتیں دیکھ رہے ہو اپنے گھر کی، اس نے زمین پر پڑے سہیل کی طرف ذرا سا سر خم کر کے ان عورتوں کی طرف اشارہ کیا۔
میرا دل چاہ رہا ہے کہ ایک آگ کا گڑھا تیار کرواؤں اور ان سب بے غیرت عورتوں کو اس میں جھونک دوں، جنہوں نے تم جیسے نامردوں سے بھی نچلی ذات پیدا کی، اور آج کھڑی انہیں نامردوں سے ایک لڑکی کو ہراس ہوتے دیکھ کر فخر کر رہی ہیں۔ اپنی ہی ذات کی دشمن، مگر فکر نہ کرو یہ کام میرے اللہ نے کر رکھا ہے۔
اور ان مردوں کی حقیقت تو تمہیں پتا چل گئی ہوگی، تم جیسوں کے لیے اللہ نے ان عورتوں سے بری جہنم تیار کی ہوگی، جن کی گندگی کی کیچڑ یہاں اکا دکا معصوم لڑکیوں کو کسی اور کے بستر کی زینت بنا رہی ہے۔ الفاظ تھے یا تیز دھار خنجر جو وہاں موجود لوگوں کو ایک پل کے لیے بلکل ساکت کر گیا تھا۔
اور ایک بتاؤں تم لوگ مسلمانوں کے ریپر میں اسلام کے دشمن ہو، اور اللہ نے دشمنانِ اسلام کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
فضا میں دو تین تھپڑوں کی آواز گونجی تھی۔ مگر جس پر یہ تھپڑ پڑے تھے اسے شاید ان سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
دیکھ کیا رہا ہے سہیل کھینچ لے گدی سے اس لڑکی کی زبان، نامردوں سے نچلی ذات کہا اس نے ہمیں، دکھا اپنی مردانگی اسے آج وہ بھی سب کے سامنے، بتا اسے اکیلی کھڑی ہے یہاں یہ، کوئی اس کو بچانے نہیں آئےگا،
تیرے جیسی بہت سیوں کو زمین میں گاڑا ہے سمجھی، تو ہمیں جہنم میں ڈالےگی جنہوں نے خود ہزاروں لوگوں کو زمین میں گاڑ دیا۔ نہ جانے وہ لوگ اپنے کون کون سے گناہ گنوا کر اسے ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر اس کے چہرے پر پل پل بڑھتی مسکراہٹ انہیں اور آگ بگولہ کر رہی تھی، البتہ عورتیں ایسے خاموش تھیں گویا اپنا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوں۔ کیسی بات کہی تھی اس لڑکی نے؟۔
اور مرد کیا تیرا آدمی ہے، کیسا مرد ہے وہ جو تو یہاں ہے اور اسے خبر ہی نہیں، جب جائےگی یہاں سے تب دیکھوں گا اس کی مردانگی۔ سہیل کے باپ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود ہی اس پر پل پڑے۔ شاید ایسا کر بھی دیتا اگر اس کا بیٹا اس پر فدا نہ ہوتا۔
وہی تو اصل مرد ہے، جو پیچھے تم لوگوں کا انجام بن کے آیا ہے، دیکھو پیچھے، اس کے مسکرا کر کہنے پر سب ایک ساتھ پیچھے مڑے تھے اور وہاں موجود نفری کو دیکھ کر پھر سے شاکڈ رہ گئے تھے۔
کس نے اندر آنے دیا ان لوگوں کو، ولید کے حسن کے ساتھ بڑے بڑے چار پولیس آفیسرز کو دیکھ کر پہلی بار ان کی سٹی گم ہوئی تھی۔
تمہاری بربادی نے، اس کی آواز میں مقابل کو خوفزدہ کرنے والی جو پھنکار تھی اپنا کام دکھا رہی تھی۔
گناہ کیا تمہارے بیٹے نے، بہت بڑا گناہ، ولید حسن کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کا گناہ، جس کی معافی نہیں، صرف سزا ہے، اور وہ سزا موت سے بھی بدتر ہوگی، ولید حسن نے کہنے کے ساتھ ہی زمین پر پڑے سہیل پر لاتوں اور گھونسوں کی برسات کردی تھی، اس کے ساتھ آنے والے پولیس والوں نے باقی لوگوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
ذیشان اسے چھوڑ دو، یہ شاہینہ کا شوہر ہے، اس نے بتایا تھا یہ اچھا انسان ہے۔ اور اسے بھی یقین آ گیا ہوگا، اچھائی مرتی نہیں، زوال صرف برائی کو ہے۔ ازلفہ نے ذیشان کو روکا جو شاہینہ کے ساتھ کھڑے لڑکے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے کہنے پر رکا۔
میں معافی کیسے مانگوں، اپنی عورتوں کو پردے میں رکھنے والوں کی اصل حقیقت یہ تھی، میں اور علی ہمیشہ کے لیے یہ گھر اور اس گھر کے لوگوں سے سارے تعلقات ختم کر رہے ہیں، ہم نہیں چاہتے ان کے گناہوں کی نحوست ہمارے مستقبل پر پڑے۔ شاہینہ کا سر شرمندگی سے جھکا ہوا تھا۔
آپ کی بہادری کو سلام سسٹر، آپ نے اس دن شاہینہ کے ساتھ نیکی کر کے نا صرف مجھ پر احسان کیا ہے بلکہ ہمارا مستقبل بھی سنوار دیا ہے۔ اور آپ کے شوہر کو دیکھ کر میں نے ایک اور نیا سبق سیکھا ہے۔ غیرت مندی کا۔ آج جانا میں نے غیرت مندی اصل میں کیا ہے۔ شاہینہ کے شوہر نے ایک نظر بھی اس پر ڈالے بغیر اس کا شکریہ ادا کیا۔ اور ان لوگوں کے انجام پر افسوس کرتا شاہینہ کو لیے باہر نکلتا چلا گیا، ان کے پیچھے اور دو لڑکے اور لڑکیاں نکلی تھیں شاید وہ بھی ان دونوں کی طرح معصوم تھے۔ اب ان لوگوں کو یقین تھا ولید حسن اپنی عزت کو سہی سلامت یہاں سے لے کر جائے گا۔
ولید بھائی اب آگے کا کام پولیس کرےگی، ابھی پولیس والوں کی ایمانداری پوری طرح نہیں بکی ہے۔ ذیشان اور ریحان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کیا، سہیل کا باپ تو اپنے بیٹے کہ حالت سے کانپ گیا تھا۔ کچھ دیر پہلے کی اکڑ اور غراہٹ مٹی میں مل گئی تھی، ایسا ہی حال باقیوں کا تھا۔
ولید یار قانون ہاتھ میں مت لو، تم چلو اب، ان کو عمر قید کروانی ہے وہ بھی ٹارچر والی۔ ان کو بھی پتا چلنا چاہئے کہ معصوموں کو دی گئی تکلیف کتنی اذیت ناک تھی۔ ایک پولیس افسر نے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ خود کو کنٹرول کر کے وہ ازلفہ کی طرف مڑا، آنکھوں میں یسی سرد مہری تھی کہ وہ بھی خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اس کی بھی ساری تیز طراری اس کے غصہ سے ہوا ہو گئی۔
تم۔۔۔ وہ مٹھیاں بھینچ کر اس کی طرف بڑھا مگر ازلفہ چیخ کر اس کا نام لیتی اس سے بھی زیادہ پھرتی سے چھ سات قدم کا فاصلہ طے کر کے اس تک آئی اور اسے دوسری طرف دھکا دیا، جو اتنا زور آور تھا کہ وہ اس سے ایک دو فٹ دور ہوا تھا۔
مگر اگلا پل کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ فضا میں گونجتی گولی کی دہشت ناک آواز نے ماحول بالکل ساکت کر دیا تھا۔
ازلفہ!!!!! ذیشان اور ریحان بھاگ کر زمین پر خون میں تر ہوتی ازلفہ کے قریب جھکے، گولی چلانے والے پر ایک آفیسر نے اس کے دوسری گولی چلانے سے پہلے ہی اسے زمین پر ڈھیر کر دیا تھا۔ پوری حویلی میں ایک چیخ و پکار سی مچ گئی تھی، مگر ولید حسن ایسا ساکت کھڑا تھا گویا پتھر کا ہو گیا ہے
__________
ت۔تتم۔تمہارے۔۔غصہ۔اور۔ن۔ناراضگی۔۔سے۔ب۔بس۔اتنا سا۔ڈ۔ڈر۔لگتا۔ہے۔ انگلی اور انگوٹھے میں آدھے انچ کا فاصلہ رکھ کر بتایا گیا۔
ج۔جب۔وہ۔ایڈیٹ۔م۔مجھے۔لے کر۔آ۔رہا۔تھا۔تو۔مم۔میں۔ب۔بہت۔ڈ۔ڈر۔گئی۔تھی۔۔ اللہ سے ہیلپ۔ مانگی۔پھر۔سے۔تم۔آئے۔اور
ج۔جب۔تمہاری۔گاڑی۔ دیکھی۔ت۔تو۔سارے۔ڈر۔فر۔ہو گئے۔ اور۔ا۔ایک۔بات۔بتاؤں۔
م۔میں۔نے۔تمہیں۔بہت۔۔بہت۔
اونہہ۔تم۔نے۔بھی۔نہیں بتایا۔تھا۔میں بھی۔نہیں بتاؤں۔گی۔ مگر۔تم۔ان۔لوگوں کو۔پنش۔کروانا۔یہ۔اچھے۔لوگ۔نہیں ہیں۔
کیا۔میں۔م۔مر۔جاؤں۔گی، بٹ۔گولی۔تو۔نہ۔دل۔میں ۔ل۔لگی۔ن۔نہ۔دماغ۔م۔میں۔
مسٹر ولید، مسٹر ولید! کسی کی مسلسل پکار نے ان آوازوں کو بند کر دیا تھا۔
ہا۔ہاں، اوہ۔ یس ڈاکٹر۔ ہاؤ از شی؟
شی از بیٹر، ان کا معدہ بالکل خالی ہے، شاید انہوں نے ٹو تھری ٹائم سے کوئی ڈائٹ نہیں لی، اور ان کا خون بھی بہت زیادہ بہہ گیا ہے۔ اس وجہ سے کمزوری حد سے زیادہ ہے۔ بہت زیادہ کئیر کی ضرورت ہے۔
ٹریٹمنٹ کیسے کیا اس کا؟
آپ کے کہنے کے مطابق ہی کیا ہے مسٹر ولید، ان کی بازو سے ہی سلیو کو کٹ کر کے۔ جتنا ضروری حصہ تھا بس وہی اوپن کیا۔ اور ایسا آج تک ہمارے ہاسپٹل میں کسی نے نہیں کروایا۔ میں حیران ہوں، ایک بازو کے لیے آپنے اتنی احتیاط کروائی تو آپ اپنی وائف کے ڈلیوری ٹائم کیا کریں گے؟ مجھے ڈر ہے کہیں آپ ہی وارڈ میں ہی نہ رہیں ان کے ساتھ۔ ڈاکٹر نے اس پوزیسیو ہیرو کی طرف دیکھا جس نے اپنی وائف کا علاج کسی میل سے نہیں کرنے دیا۔ اور اس کے جسم کے غیر ضروری حصہ کو کھولنے سے اتنی سختی سے منع کیا کہ ڈاکٹر بھی ڈر گئی۔ اور خود بھی اس نے ایک سرسری نظر کے علاوہ دوسری نظر بھی اس ڈاکٹر پر نہیں ڈالی۔
تھینکس فور دس ایڈوائز۔ ڈاکٹر کی بات پر دل میں ہلچل ہوئی مگر چہرہ سپاٹ ہی رہا۔
ویسے کیا ایسا کرنے سے کوئی لاس ہوا؟
نو مسٹر ولید، اور اس طرح ٹریٹمنٹ میں بھی کوئی پرابلم نہیں ہوئی۔
تو پھر آپ لوگوں کو ایسا ہی کرنا چاہئے، کیا آپ کو نہیں معلوم فی میل کی ریسپیکٹ کیا ہے؟ ان کی باڈی کو کتنا زیادہ کورڈ ہونا چاہیے؟
وی ول ٹرائے آر بیسٹ مسٹر ولید، اینڈ تھینکیو سو مچ، ٹو گیو آ بیسٹ گائیڈ لائن فور ٹریٹمنٹ اکورڈنگ اسلام۔
اٹس مائے ڈیوٹی، ڈسچارج کب تک کیا جا سکتا ہے؟
مے بی، ٹومورو۔ آپ یہ میڈیسن لے کر آئیں۔ اور کیا آپ بھی انجیورڈ ہیں؟ ڈاکٹر نے اس کے خون آلود کپڑوں کو دیکھ کر کہا۔
نو! میں میڈسن لے کر آتا ہوں۔ اسی حال میں وہ ہاسپٹل کے باہر آیا، کتنے لوگوں نے حیران ہو کر اسے دیکھا، مگر اسے کب لوگوں کی پرواہ تھی۔ اس کا دل تو بس ہاسپٹل کے بیڈ پر پڑی دنیا سے بیگانہ ازلفہ ولید حسن کی پرواہ کر رہا تھا۔ اور ساتھ ہی اس سے ناراض بھی تھا اور یہ ناراضگی ڈاکٹر کی بات سن کر مزید بڑھ گئی تھی۔ جو ازلفہ ولید سے کڑا حساب لینے والی تھی۔
********************
داداجان کیا ہوا ہے؟ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ ان کے خوفزدہ چہرے کو دیکھ کر موحد سے رہا نہیں گیا۔
میری بچی کو گولی لگی ہے، وہ ہاسپٹل میں ہے، اب تک ہوش نہیں آیا۔ سب کے سروں پر جیسے کوئی بم پھٹا تھا۔
ی۔یہ۔آپ کیا کہہ رہے ہیں ابا جی؟ ازلفہ کو گولی، کیوں، کیسے اور کہاں ہے وہ؟ حسن صاحب نے خود کو مضبوط بنا کر سوال کیا۔ گولی کا سن کر ان لوگوں کو سکتہ ہی تو ہو گیا تھا۔
ابو ہم لوگ بھی چلیں؟ زینب، زرین اور شرمین نے جانے کی ضد کی۔
تم لوگ یہیں دعا کرو بیٹے، ہم جا کر آتے ہیں، ساتھ لائیں گے اسے، ڈونٹ وری۔ آسیہ سنبھالو خود کو اور ان بچوں کو بھی۔ انہیں ہدایت دیتے وہ چاروں ہاسپٹل کے لیے نکل گئے۔
بھابھی، دعا کریں کچھ نہیں ہوگا اسے،
سلمیٰ، ابھی تک سکون سے نہیں رہی وہ، کتنی مصیبتیں اس بچی پر آ رہی ہیں۔ میرا دل بیٹھ رہا ہے، اللہ اسے سکون سے جینا نصیب کرے۔
اللہ بہتر کرےگا، سب نماز پڑھ کر دعا کریں اس کے لیے چلیں۔ انہوں نے ہمت کر کے سب کو نماز کے لیے اٹھایا۔
********************
ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں بیٹا، کہاں لگی ہے گولی؟ حسن اور حسین صاحب ریحان اور ذیشان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے۔
زیادہ خطرے کی بات نہیں ہے مامو، اللہ کا شکر ہے گولی کسی جان لیوا جگہ پر نہیں لگی۔ بازو پر لگی ہے مگر۔
مگر؟ ان کو خوف محسوس ہوا۔
بازو کے کنارے سے پوری گولی آر پار ہوئی ہے۔
اللہ نے زندگی دی یہ زخم بھی اللہ ہی ٹھیک کرےگا۔ پریشان مت ہو تم لوگ۔ ان دونوں کو تسلی دے کر بینچ پر بٹھایا۔اور ساتھ لایا ہوا جوس دونوں کو دیا۔
ولید کہاں ہے؟
قریبی مسجد گئے ہیں نماز پڑھنے۔
حیدر صاحب خاموشی سے سن کر خود بھی مسجد کی طرف بڑھ گئے۔
********************
ہوش میں آنے کے بعد تم اسے دیکھنے اندر نہیں گئے، پوچھ سکتا ہوں کیوں؟ جبکہ سب کی موجودگی کے باوجود وہ بس تمہاری منتظر رہی ہے۔ ان کے بتانے پر دل درد سے بھر گیا تھا مگر ابھی وہ خود کو کمپوز نہیں کر پا رہا تھا۔
اگر نہ پوچھیں تو احسان ہوگا پلیز۔ اس کی بےبسی کو دیکھتے ہوئے وہ ان دونوں کا آپسی معاملہ سمجھ کر خاموش ہو گئے، مگر سکون میں نہیں تھے، معاملہ زیادہ گھمبیر لگا تھا۔
پھر بھی دیکھ لو ایک نظر، منتظر ہے وہ تمہاری۔ ان کے کہنے پر وہ آئی سی یو کے پاس آ کر کھڑا ہوا، ڈاکٹر نے اس کے واپس غنودگی میں جانے کا بتایا تو وہ اندر آیا۔
کتنی دیر تک خاموشی سے کھڑا وہ اسے دیکھتا رہا۔ ہر دم ہشاش بشاش رہنے والے چہرے پر کس طرح ایک ہی دن میں زردی گھل گئی تھی۔ تھپڑوں کی وجہ سے چہرہ زخمی ہو رہا تھا، شاید مارنے والے کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جو اس کا چہرہ زخمی کر گئی تھی۔ ہونٹ پر بھی کٹ لگا ہوا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ مگر جتنا تکلیف میں تھا اتنا ہی وہ اس سے ناراض تھا۔
سارے کپڑے خون آلود تھے لیکن ابھی اسے موو نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تین مرتبہ وہ اسے دیکھنے آ چکا تھا مگر اس کی بےہوشی میں۔
اس بار تمہیں اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے اور اس معاملہ کو نہ بتانے پر آسانی سے معافی نہیں ملےگی ازلفہ ولید حسن۔ اس کے کان میں سرگوشی کی گویا اسے سنایا ہو۔
پھر جھک کر اس کی پیشانی پر کتنی دیر تک وہ وہ سر رکھے رہا تھا، کئی آنسو نکل کر ازلفہ کے چہرے پر گرے تھے مگر اسے کہاں خبر تھی۔
********************
وہ انجکشن کے زیر اثر ہوش خرد سے بےگانہ وجود کو باہوں میں لیے آ رہا تھا۔ تمام لوگ اسی کے انتظار میں تھے۔
یہ اب ٹھیک ہے نا ولید؟ آسیہ حسن کی آواز کپکپا گئی تھی۔ خون میں تر کپڑوں کو دیکھ کر انہیں چکر آ گیا تھا۔
ولید یہ۔
بڑی ماں ریلیکس، الحمدلله ٹھیک ہیں بھابھی۔ اب حادثہ کے اثرات تو ہوں گے نا۔ تو بس وہی۔ اللہ کا شکر ہے کوئی فزکلی لاس نہیں ہوا۔ ولید کی خاموشی پر موحد نے جواب دیا۔
وہ اسے لے کر سیدھا روم میں آیا، گھر کے تمام لوگ بھی اس کے پیچھے آئے تھے۔
بیٹا اس کپڑے؟
آپ لوگ نیچے چلیں، میں فریش ہو کر آتا ہوں، کسی نے ڈنر نہیں کیا ہوگا، مجھے بھی بھوک لگی ہے، کھانا لگوائیں۔ اس کی بات پر سب ایک ایک کر کے روم سے باہر چلے گئے۔ شاید اس کی بات سمجھ گئے تھے۔ سب کے جانے کے بعد اس نے ڈور لاک کیا۔ اور کبڈ سے اس کے کپڑے نکال کر بیڈ پر آیا۔ تمام نرمی و احتیاط سے اپنا کام کر کے اسے اچھے سے لٹایا اور پھر خود فریش ہو کر نیچے آیا جہاں سب ڈنر ٹیبل پر اس کے منتظر تھے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *