Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode Last

“تم کک۔۔کون ہوں۔؟؟
مشاطہ جو فرش پر بے ہوش پڑی تھی اس نے اپنی آنکھوں کو کھول کر اردگرد دیکھا تو سامنے صوفے پر ایک اجنبی کو دیکھ کر وہ گھبراتی ہوئی اٹھی اور پیچھے ہٹنے لگی تو وہ اجنبی اٹھا اور اسکی جانب بڑھنے لگا۔۔
“تمہارے جاسوس شوہر کا دشمن وہ بھی جانی۔۔!!
وہ شخص سنجیدگی سے کہتا اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا تو مشاطہ اسکی آواز سن کر گھبراہٹ کے عالم میں مزید پیچھے کھسکی کیونکہ وہ شخص کو پہنچان چکی تھی یہ وہی ہوڈی والا شخص تھا جو اس دن شمویل خان کو ڈھونڈنے اسکے ریسٹ ہاؤس میں آیا تھا۔۔
“تُم گھٹیا انسان تمہاری اتنی ہمت اب میں خود تُمہیں نہیں چھوڑوں گی شمویل خان کی بیوی ہوں میں اور تم نے مجھے اغوا کر کے اچھا نہیں کیا۔۔!!
وہ حلق کے بل چلائی تو اس شخص نے غصے میں آ کر اسکے چہرے پر زور دار تھپڑ مارا تو وہ پیچھے جا کر گری۔
“بکواس بند کرو تمہیں تو میں ایسی سزا دینے والا ہوں جسے تم سہہ نہیں پاؤ گی اور مر جاؤ گی اور فکر مت کرنا تمہارا شوہر بھی تمہارے پاس پہنچ جائے گا تمہیں استعمال کرنے کے بعد تمہیں مار کر میں اسے ہی ماروں گا۔۔!!
وہ اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر خباثت سے مسکراتے ہوئے اسکی شفاف گردن کو دیکھنے لگا تو مشاطہ اسکی ہوس زدہ نظروں کو اپنے وجود پر دیکھ کر گھبراتے ہوئے اپنے آپ کو اسکی نظروں سے بچانے کے لیے اپنے اوپر چادر کو اوڑھنے لگی جو اسنے گھر سے نکلنے سے پہلے اوڑھا تھا۔۔
“اسکی ضرورت نہیں کیونکہ میں تمہارے لائق کچھ بھی نہیں چھوڑنے والا ہوں یہ چادر بھی نہیں تمہیں اور تمہارے شوہر کو سر جھکانے پر مجبور نہیں کیا ناں تو میرا نام فیصل شیرانی سے بدل کر کچھ اور رکھ لینا۔۔!!
وہ اسکی گردن پر چاقو رکھتے ہوئے نیچے کی جانب لے جاتے ہوئے کمینگی سے ہنستے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ تکلیف کے باعث چیخ بھی نا سکی ۔
“میرے قریب مت آنا ورنہ میں تمہیں مار دو گی۔۔!!
وہ اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی پیچھے کھسکنے لگی اور وہ جو بری نیت لیے اسکی جانب بڑھ رہا تھا اسے بے بس دیکھ کر کمینگی سے ہنسنے لگا۔۔
“نہیں اُس دن سے میں نے خود سے عہد کیا تھا جب تک میں تمہیں برباد نہ کروں گا میں چھین سے نہیں بیٹھو گا اور آج تمہاری بربادی کا دن آیا ہے تو میں کیسے یہ موقع یہ دن چھوڑ سکتا ہوں۔۔!!
وہ اسے پیروں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے آنکھوں میں ہوس زدہ چمک لیے اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ زور زور سے خود کو اس سے چھڑانے لگی۔۔
“تُم کامیاب نہیں ہوگے کمینے انسان میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی سنا تم نے اگر مرنا نہیں چاہتے ہو تو مجھے چھوڑ دوں۔۔!!
وہ چہرے پر ڈر کے سائے ہٹا کر زور سے چیختی ہوئی اسے خود سے دور کرتی غصے سے بولی تو اسکی بہادری پر وہ مسکرایا اور اسے کھینچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے اسکے چہرے کے اوپر جھکنے لگا جو کہ مشاطہ ہاتھ رکھ کر اسے روکنے لگی ۔
“کامیاب تو میں ہوگیا ہوں تمہیں یہاں لا کر اب انعام تو تمہیں دینا پڑے گا اس کامیابی کا ورنہ میں خود اس انعام کو حاصل کرنا اچھے سے جانتا ہوں۔۔!!
اسکے اوپر قابض وہ شیطان یہ تک بھول گیا تھا کہ وہ ایک عورت کی عزت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش میں خود کا بہت بڑا نقصان کرنے جا رہا تھا۔۔