Dark Heart By Sumyia Baloch Readelle50185 Episode 18
Rate this Novel
Episode 18
“خانی کہاں۔۔؟؟
زرلش اُسے کافی تھما کر جلدی سے بیڈ روم سے باہر نکلنے کے لیے اپنے قدم دروازے کی جانب بڑھانے لگی کہ عرشمان خان نے کپ ٹیبل پر رکھا اور ایک ہی جسٹ میں جا کر اُسے اپنے گھیرے میں لے کر مخمور آنکھوں کو اُس کے سراپے پر گھاڑتے ہوئے کہا۔۔
“وہ خخ۔۔خان کچن کو صاف کرنے۔۔!!
وہ اپنی گھنی پلکوں کو نیچے جھکاتے ہوئے اسکی نظروں سے سخت نروس ہو کر خود کو اسکی باہوں کے حلقے سے نکالنے کی تگ ودو کرنے لگی لیکن عرشمان خان اپنی گرفت مضبوط کرتا اسے پرشوق نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“خانی کچن تو کل صبح بھی صاف ہو سکتا ہے لیکن ابھی میں چاہتا ہوں کہ تُم یہاں میرے پاس رہوں ساری رات کیا رہوں گی۔۔؟؟
وہ اُسکی کمر پر اپنا ہاتھ حائل کرتا اُسے کانپنے پر مجبور کرتا بوجھل لہجے میں کہنے لگا تو زرلش اپنی کمر پر حائل اس کے ہاتھ کو رینگتے ہوئے محسوس کرتیں سخت کنفیوژ ہو کر اپنی لرزتی پلکیں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“خان وہ کل صبح اور بھی کام کرنا ہے۔۔!!
وہ اسکی نظروں کے پیغام کو پڑھتی سٹپٹا کے جلدی سے بولی تو عرشمان خان اُسے اپنے ساتھ لیے سامنے صوفے کی جانب بڑھا۔۔
“خانی ہم دونوں مل کر صبح سارے کام کرلیں گے ابھی تم بس میرے پاس میرے بے حد نزدیک میرے ساتھ بیٹھ کر اس کافی کو شئیر کرو۔۔!!
صوفے پر بیٹھتے ہوئے اسنے اسے اپنی پے بیٹھاتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا اور پھر سامنے ٹیبل سے کپ اٹھایا اور اسکے لبوں سے لگا کر اسے خمار آلود نظروں سے دیکھنے لگا تو زرلش اس سچویشن میں سخت سٹپٹا کے کافی کے سپ لینے لگی۔۔
“خان بس اب مجھے نہیں پینا۔۔!!
اُسنے کپ کو دور کرتے ہوئے کہا تو عرشمان خان جو اسکی لبوں پہ لگے کافی کو دیکھ رہا تھا وہ اسکا چہرہ بلکل اپنے قریب کرتا اپنے لبوں سے اسکے لبوں پہ لگے کافی کو صاف کرنے لگا اور زرلش جو اسکے بے حد نزدیک تھی وہ اسکی بے باک حرکت پر آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی۔۔
“خانی اِسے کہتے ہیں ونڈرفل شئیرنگ۔۔!!
وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا اور گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو زرلش اسکی بات پر اٹھی اور نروس ہو کر اپنی چوڑیوں سے کھیلنے لگی اور یہ دیکھ عرشمان خان مسکرانے لگا۔۔
“خان آپ بہت بے شرم ہو گئے ہیں پہلے تو آپ ایسے بلکل بھی نہیں تھے۔۔!!
وہ اسکی جانب اپنی خوبصورت نیلی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر غصے سے کہنے لگی تو اسکی بات پر عرشمان خان ہنسا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنے اوپر گرا کر وہ اپنی انگلیاں اسکی انگلیوں میں الجھا کر بوجھل لہجے میں کہنے لگا۔۔
“خانی پہلے آپ جو ہماری زندگی میں نہیں تھیں بھلا میں کس کے ساتھ بے شرمی کرتا اور اگر میں کرتا تو آپ مجھے قتل کر دیتی۔۔!!
وہ اسے آپ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے مخمور آنکھوں سے اسکے خوبصورت سراپے کو دیکھتا اُسکو سخت حواس باختہ کر گیا تھا۔۔۔
“خان آپ سے تو میں پہلے بھی اچھے کی امید نہیں کرتی تھی اب تو بلکل بھی نہیں کرو گی۔۔!!
وہ اسکی پناہوں سے نکلنے کے لیے مزاحمت کرتی چٹخ کر بولی تو عرشمان خان نے اسے اپنی پناہوں میں سختی سے قید کیا۔۔
“یااللہ کسی کی کال آ جائے اور مجھے اس کھڑوس ٹھرکی کی قید سے آزادی مل جائے آمین۔۔!!
وہ اوپر چھت کی طرف منہ کرتی دعا کرنے لگی اور عرشمان خان اسکی حرکت پر ہنسا اور اسے صوفے پر لیٹا کر وہ خود اسکے دائیں اور بائیں جانب اپنے ہاتھ رکھتا اوپر جھکا اور اپنے لبوں کو اسکے سرخ لپ اسٹک سے سجے ہوئے لبوں سے لگاتا انہیں چھونے لگا۔۔
“خانی آج کی رات تو میں کسی کی نہیں سننے والا چاہیے پھر وہ میرا باپ ہی کیوں نا ہوں۔۔!!
چہرہ اوپر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہتا واپس اسکی نڈھال سانسوں کو اپنے قبضے میں لے کر اسکی دھڑکنوں کو بری طرح سے منتشر کرنے لگا۔۔
“کیا مسلہ ہے تُمہیں ہاں جب کال ریسیو نہیں کر رہا ہوں تو سمجھ جاؤ کہ میں بزی ہوں لیکن نہیں تم لوگوں کو کہاں سکون ملتا ہے مجھے بنا تنگ کیے اب بکو کیوں فون کیا ہے۔۔؟
وہ اس پر جھکا ہوا تھا کہ اسی وقت اسکا فون زور سے چیخ لیکن وہ اسی طرح اس کے چہرے پہ جھکے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر فون کو نیچے پھینکتا اور اپنی شدتوں کو بڑھانے لگا
لیکن فون کرنے والا بھی شاید اس سے بھی زیادہ ضدی تھا جو بار بار فون کال کاٹ کر دوبارہ کرتا جا رہا تھا آخر کار وہ اسے چھوڑتا پیچھے ہٹا اور ناگواری سے فون کو گھورتا اسے نیچے سے اٹھا کر کان سے لگاتا دوسری طرف موجود شخص کو پھاڑ کھانے والے انداز میں مخاطب کرنے لگا۔۔
“اے اے حوالدار صاحب آواز نیچے ورنہ وہی لاہور میں آکر تُمہاری ساری اکڑ نکال دو گا ایک تو میرے بغیر تم دونوں نے شادیاں رچا لی اوپر سے مجھ پر غصہ کر رہے ہو ایک بات یاد رکھنا میں نے اگر اپنا غصہ تم لوگوں پر نکالا نا تو پورے ایک سال تک اپنی اپنی بیویوں سے تم دونوں محروم رہوں گے سمجھے۔۔!!
دوسری جانب اُس کھڑوس کی غصیلی آواز پر وہ انسان بن گیا اور بڑے ہی شریفوں کی طرح اسے سلام کرنے لگا جانتا تھا کہ وہ غصے کے معاملے میں زوارق خان سے بھی چھ ہزار گنا آگے تھا اسی لیے تو زکی شیرانی کے سارے گینگ کو صرف دو سال میں اپنے اسی غصے اور انتقام کی وجہ سے اسنے برباد کر دیا تھا۔۔
“شمویل لالہ آپ۔۔؟؟
وہ نیچی آواز میں اسے مخاطب کرتے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنے لگا اور زرلش اسکے منہ سے شمویل خانزادہ کا نام سنا تو سخت ششدر رہ گئی کیونکہ تین سال بعد اسنے یہ نام آج کسی سے سنا آخر کار وہ کھڑوس صاحب نے رابطہ کر دیا۔۔
“ہاں میں اور تُمہیں میں نے وہاں ہنی مون منانے کیلئے نہیں بھیجا جو تُم وہاں ہوٹل بُک کراتے پھر رہے ہو سیدھے طریقے سے زکی شیرانی کے باقی بچے کچے دھندوں کو تباہ کر کے واپس آ جاؤ ورنہ میں اپنی بہن کو بلا کر تمہیں وہاں ہمشیہ کے لیے تعینات کرا دو گا اچھے سے جانتے ہو تُم کہ خان کی پہنچ کہا تک ہے۔۔!!
اسکی سخت غصیلی آواز ائیر پیس سے نکل کر اُسے سخت گھبرانے پر مجبور کر گیا تو وہ اپنی پیشانی کو پریشانی سے مسل کر جلدی سے کہنے لگا۔۔
“شمویل لل۔لالہ میں نے ہوٹل تو اسے لیے بُک کیا ہے تاکہ میں وہاں جا کر اُس زکی شیرانی کے ناجائز بیٹے کو ڈیل کرنے سے روکو جو وہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ کرنے والا ہے۔۔!!
وہ جلدی سے روم سے باہر نکلا اور دروازہ بند کرتے ہوئے کہنے لگا تو دوسری جانب موجود شمویل خان زکی شیرانی کے ناجائز بیٹے کا سن کر غصے سے اپنی مٹھیوں کو بھینچنے لگا۔۔
“اُس شیرانی کا جبران کے علاؤہ ایک اور بیٹا بھی ہے اور وہ بھی ناجائز تم نے یہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کم عقل انسان۔۔!!
وہ سخت غصے سے چیخ کر بولا تو عرشمان خان نے فون کو اپنے کان سے دور کیا۔۔
“جی لالہ زکی شیرانی نے اسے اپنے سبھی دشمنوں سے چھپا کر رکھا تھا تاکہ اسے کوئی کچھ نہ کرے اور یہ بات مجھے بھی اس جاوید خان نے بتایا ہے۔!!
وہ اسے بتانے لگا تو وہ اسے کچھ ضروری ہدایات دینے لگا اور پھر کال بند کرنے سے پہلے اسے مبارک باد دینے لگا۔۔
“مبارک ہو تمہیں میرے بھائی شکر ہے تم بچ گئے کیونکہ جو تم دونوں نے کیا ہے نا میرا دل چاہ رہا ہے تم دونوں کو گولی سے اڑا کر رکھ دو لیکن تم تو پہلے ہی میرے گولی کا نشانہ بن چکے ہوں لیکن وہ زوارق خان اسے تو میں نہیں چھوڑو گا بڑا مجھے اپنا بڑا بھائی بھائی کہتا پھرتا رہتا تھا تین سال پہلے اب نہیں بچے گا وہ میرے ہاتھوں سے اگر میں زندہ بچا نا تو حویلی آکر پہلا کام اسے گولی سے اڑانے کا کروں گا۔۔!!
سخت غصیلی آواز پر عرشمان خان مسکرایا اسے اچھے سے پتہ تھا کہ شمویل خان یہ ضرور کرے گا وہ حویلی پہنچ کر زوارق خان کو وہ گولی تو ضرور مارے گا کیونکہ شمویل عمر خان بات کم اور گولی زیادہ چلاتا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“بابا خان زکی شیرانی کا گندہ خون ابھی بھی زندہ ہے قسم سے دل چاہ رہا ہے اسے ابھی جا کر گولیوں سے بھون دو۔!!
وہ عرشمان خان کو اچھا خاصا سنانے کے بعد فون کان سے ہٹا کر کال کاٹتے ہوئے جہانگیر خان سے کہنے لگا۔
“خان اس وقت تم صرف اس بچی کے متعلق سوچو۔۔!!
وہ اب اسکے چہرے پر زکی شیرانی کے ناجائز بیٹے کا سن کر سخت تاثرات دیکھ کر کہنے لگے تو وہ پھر سے پریشانی سے اس نمبر پر دوبارہ سے کال ملانے لگا جو مشاطہ کے پاس اسنے رکھا تھا۔۔
“بابا خان پتہ نہیں کس حال میں ہوگی وہ۔!!
وہ انہیں دیکھتا پریشانی سے اپنی پیشانی کو مسلتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“خان بچہ پریشان مت ہوں اللہ سے اچھی امید رکھو وہ اس بچی کو کچھ غلط ہونے نہیں دے گا۔۔!!
انہوں نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کہا تو وہ کار سے باہر دیکھنے لگا اور جہانگیر خان نے اپنے ڈرائیور کو کار کو تیز چلانے کا کہا تو ڈرائیور نے انکے حکم پر کار تیز بھگانے لگا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“چھوڑو مجھے کمینے انسان ورنہ میں تمہارا سر پھاڑ دو گی.؟؟
مشاطہ بری طرح سے مزاحمت کرتی خود کو اس انسان سے چھڑا رہی تھی جو اس پر حاوی ہو رہا تھا اور وہ ہر گز ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔
وہ شخص اسکی معذوری کی وجہ سے اسے کمزور سمجھے اور اس وقت اخسم شیرانی کے اوپر بھی سخت غصہ آ رہا تھا جو اسے اس حالت میں اکیلا چھوڑ کر پتہ نہیں کہا چلا گیا تھا۔۔
“نہیں لڑکی ایسے میں تُمہیں نہیں چھوڑو گا جب تک تمہارا جاسوس شوہر یہاں نہیں آ جاتا تب تک تم میرے قبضے میں اسی طرح تڑپوں گی۔۔!!
وہ ہوڈی میں ملبوس شخص اسے دیکھتے ہوئے خباثت سے مسکرا کر اسکا چہرہ تھوڑی سے سختی سے پکڑتا کہنے لگا۔۔
“کمینے ذلیل انسان مجھے مت چھووؤ اپنے ناپاک ہاتھوں سے سمجھے تُم اور میں نہیں جانتی کے وہ اس وقت کہاں چھپا بیٹھا ہے چھوڑو مجھے۔۔!!
اپنا چہرہ دوسری طرف کرتی وہ غرا اٹھی تو وہ شخص اپنا چہرہ بلکل اسکے قریب کرتا اور اپنی شہادت کی انگلی سے اسکا چہرہ چھو کر کمینگی سے ہنسنے لگا۔۔
“لڑکی تُم بہت خوبصورت ہو اور میرا دل چاہ رہا ہے تمہارے اُس جاسوس شوہر کو معاف کر دو اور اس سےایک ڈیل کرو تمہیں اپنا بنانے کے لیے لیکن وہ کیا ہے ناں میں ابھی صرف اس غدار کو موت دینا چاہتا ہوں تو پھر ایسی ڈیل کرنے کا کیا فائدہ وہ تو مرنے والا ہے اور مرنے والوں سے میں کبھی ڈیل نہیں کرتا۔!!
نظریں اسکی خوبصورت سبز آنکھوں میں گھاڑتے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ سخت غصے اسے دیکھتی اور اُسکے چہرے پر تھوک کے شدید نفرت سے بولی۔۔
“مجھے تم سے اور اُس بد تمیز بد دماغ انسان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے تم لوگ میری بھلا سے جاؤ بھاڑ میں اور تم کیا ہوں ہاں ایک غنڈے اور مشاطہ تم جیسے لوگوں کو اپنی پیر کی جوتی بھی نہیں سمجھتی ہے کجا کہ تمہاری بے ہودہ باتیں سن کر خاموشی سے تم جیسے لوگوں کو جو جی میں آئے اپنے ساتھ کرنے دے گی نہیں بلکل بھی نہیں میں چاؤ تو تم جیسوں کو گولیوں سے چھلنی کر دو۔۔!!
غصے سے اسے اپنے اوپر جھکے ہوئے دیکھ وہ سخت لہجے میں کہنے لگی اور پیچھے شمویل خان جو ابھی وہاں پہنچا تھا وہ جب اپنے روم میں داخل ہوا تو سامنے ایک شخص کو مشاطہ کے اوپر جھکے ہوئے دیکھ غصے سے آگے بڑھا اور پکڑ کر اسے نیچے دھکیل کر اپنے پیروں سے بری طرح سے مارنے لگا۔۔
ہڈیوں کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ میں ٹورنا بھی اچھے سے جانتا ہوں۔۔!!
اسکے دونوں ہاتھوں کو اسکی کمر پر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے موڑتے ہوئے نفرت سے کہنے لگا۔۔
“خخ۔خان چھوڑ چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے غدار انسان۔۔!!
وہ شخص اپنے ہاتھوں میں تکلیف محسوس کرتا چیخ کر بولا۔۔
“لیں چھوڑ دیا۔۔!!
ہڈیوں کے چٹخنے کی آواز کے ساتھ اس شخص کی چیخ بھی پورے روم میں گونجی مشاطہ جو ساکت نظروں سے اسے اس شخص کے اوپر بیٹھے دیکھ رہی تھی زور دار آواز پر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں شدت سے بند کرتی اسے روکنے کے لیے چیخ کر بولی۔۔
“چھوڑو اُسے ورنہ وہ مر جائے گا ظالم انسان۔۔!!
اسی طرح آنکھیں سختی سے بند کیے وہ چیخ کر کہہ رہی تھیں اور وہ اس شخص کے اوپر بیٹھا اب اسکی گردن کو موڑنے چاہتا تھا کہ اسکی آواز پر غصیلی نظریں اوپر اٹھا کر مشاطہ کو دیکھنے لگا۔۔
“مشاطہ شمویل خان تُم تو خاموش ہی رہوں اس وقت ورنہ میرا دماغ اور زیادہ خراب ہوگیا نہ تو تمہارا بھی میں یہی حال کرو گا اور تمہیں تو سزا میں ضرور دونگا دیم اٹ گرل کیوں کیوں اُسے چھونے دیا تم نے خود کو ہاں مجھ سے تو تُم ہر وقت کسی شیرنی کی طرح لڑتی رہتی ہوں تو پھر اس خبیث کے چھونے پر کیسے تم بھیگی بلی بن گئی ہاں کیسے بتاؤ مجھے کیوں کیا ایسا تم نے ہاں شمویل خان کی بیوی ہو کر تم نے اسکے ہاتھ کیوں نہیں کاٹے وائے کیوں انس می مائے گرل۔۔!!
اپنی انگارے ہوتی سرخ خون آشام نظروں سے اُسے گھورتا وہ شدت سے ڈھار اٹھا تو مشاطہ اسکی اصل نام کو سنے بغیر اسکی غصیلی نظروں اور شدت سے کہنے پر بری طرح سے کانپ اٹھی تھی۔۔۔
“کیوں اُسے چھوا تو نے بتا مجھے زلیل انسان ۔۔؟؟
مشاطہ سے نظریں ہٹا کر دوبارہ اس شخص کو دیکھتا وہ اسکا گردن سختی سے پکڑتا غصیلی آواز میں کہنے لگا۔۔
“تُمہاری وجہ سے خان صرف تُمہاری غداری کی وجہ سے بتا کیوں اپنا اصل نام چپا کے یہاں آئے ہوں ہاں کس نے تُمہیں بھیجا ہے۔۔!!
وہ شخص تکلیف کو بھولتا نفرت سے پوچھنے لگا تو اسنے اسکا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔
“زکی شیرانی کی بربادی کیلئے مجھے اپنے مرے ہوئے بھائی اخسم عمر خان کا نام یوز کرنا پڑا اور میں غدار نہیں ہوں بلکہ زکی شیرانی کے ساتھ ساتھ تُم سب اس ملک کے غدار ہو یہی رہ کر تم اسی مٹی سے غداری کر رہے ہو شرم آنی چاہیے تم سب کو اس ملک نے تم سب کو کیا کچھ نہیں دیا اور تم یہاں بیٹھ کر اسے برباد کرنا چاہتے ہوں۔۔!!
چہرہ سختی سے دبوچ کر وہ شدت سے غرایا تو وہ شخص تڑپ کر زور زور سے چیخنے لگا جبکہ مشاطہ اسکی بات پر ہکا بکا رہ کر اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی اور جہانگیر خان جو دروازے پر کھڑے تھے مشاطہ کی حالت کو دیکھ کر آگے بڑھے اور اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگے۔۔
“بیٹی کیا تُم خود اٹھنے کی کوشش کر سکتی ہو۔۔!!
انہوں نے نرمی سے اس سے پوچھا تو وہ اپنی ساکت نظروں کو شمویل خان کے اوپر سے ہٹاتی انہیں دیکھنے لگی۔۔
“بابا خان میں مشاطہ کو آپکی کار تک چھوڑتا ہوں پھر آکر اُسے اچھے سے بتاتا ہوں کہ غداری کا انجام کیا ہوتا ہے اچھے سے جانتا ہوں اسکا اور زکی شیرانی کا رشتہ بس مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے اسے زکی شیرانی کے ساتھ نہیں مارا ورنہ آج سب کچھ میرے کنٹرول میں ہوتا اب تک تو اسنے میرے بارے میں اپنے سبھی گینگ کو بتایا ہوگا۔!!
اس شخص کو بری طرح سے اتنا مار مار کر اسنے اسے اٹھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا کے وہ اب اپنے دفاع کے لیے کچھ بھی کر سکے اور پھر اسے چھوڑتا وہ پیچھے ہٹا اور مشاطہ کی جانب سخت تیور لیے جہانگیر خان سے کہتا اسے اپنی مضبوط بازوؤں میں بھرتا روم سے باہر نکلا تو جہانگیر خان بھی اسکے پیچھے بڑھے۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“خان جی مجھے اب خود پر بہت غصہ آ رہا ہے میں جھوٹ نہ بولتی تو آپ کو یہ سب نہ کرنا پڑتا۔۔!!
کسوا زوارق خان کے بے حد قریب بیٹھ کر اُسے دیکھنے لگی جو سارے بھینسوں کو کھانا دینے کے بعد اُس چارپائی پر لیٹا شاید سو رہا تھا کیونکہ اسکے چہرے سے تھکاوٹ اسے صاف نظر آ رہا تھا جو یہاں صفائی ستھرائی کے بعد اسکے چہرے پہ رقم ہوگیا تھا۔۔
“دیکھے تو میرے کھڑوس صاحب آپ کے ہاتھ گوبر کی وجہ سے کتنے میلے ہو رہے ہیں اور یہ ہر وقت رعب جما رہتا ہے نا اس چہرے پہ آج میری وجہ سے اس پر بے حد تھکاوٹ چھا گیا ہے۔۔”
وہ اسکی پیشانی سے پسینے کو نرمی سے رومال سے صاف کرتی بڑبڑا کر کہنے لگی اور پھر اسکے سرخ و سفید مضبوط ہاتھ کی انگلیوں پہ لگے بھینسوں کے گوبروں کو نرمی سے چھو کر صاف کرنے لگی۔۔
“خان جی آپ ہمشیہ کاٹن کے قمیص شلوار میں ملبوس یہ خوبصورت شال کو اوڑھ کر جو ہمارے پختونوں کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں نا آج اس شال کی یہ حالت دیکھ میرا دل چاہ رہا ہے خود کو آپکے رائفل سے اڑا دو۔۔!!
وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اسکی خوبصورت کریم کلر کی شال کو چھو کر بری طرح سے روتی ہوئی بولی جو اسکے مضبوط شانے پہ اسنے باندھا ہوا تھا شاید وہ کام کرتے وقت اسے اتارنا بھول گیا تھا جو اتنا میلا ہو رہا تھا۔۔
“کسوا خان اگر تمہیں میری شال اتنی زیادہ پسند آئی ہے تو لیں لوں کیوں تم مجھے تنگ کر رہی ہوں نزدیک آ کر ابھی میں بہک گیا نا تو صبح ضمیر خان میرے چھترے اڑا دے گا۔۔!!
تھکاوٹ کی وجہ سے وہ آنکھیں کھولے بغیر اسے اپنے اوپر جھکے ہوئے محسوس کرتیں گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو کسوا اسکی آواز پر جلدی سے پیچھے ہٹی۔۔
“خان جی میں تو آپکے ہاتھوں کو صاف کر رہی تھی جو ان بھینسوں کو صاف کرنے کی وجہ سے میلے ہوگئے تھے۔۔!!
وہ اس سے دور ہو کر کھڑی ہوگئی اور نظریں نیچے جھکا کر کہنے لگی تو زوارق خان نے اپنی آنکھوں کو کھول کر اسے دیکھا جو دور نروس سی کھڑی تھی۔۔
“کسوا خان یہ تمہاری ہی تو جھوٹ کا بھگت رہا ہوں۔۔!!
وہ اٹھا اور چارپائی پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا جو اسکی بات پر جلدی سے اسکے سامنے نیچے اپنے قیمتی لہنگے کی پرواہ کئے بغیر اسکے گھٹنوں پر اپنا ہاتھ رکھتی روتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“خان جی مم۔مجھے معاف کر دے۔۔!!
وہ روتی ہوئی اسے دیکھنے لگی جو اسے اپنے سامنے گھٹنوں کو پکڑے نیچے بیٹھے دیکھ جلدی سے نیچے جھکا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے ساتھ چارپائی پر بیٹھا کے کہنے لگا۔
“کسوا جان تمہاری جگہ میرے قدموں میں نہیں یہاں میرے برابر میں ہے میں ہر گز ہرگز کبھی برداشت نہیں کروں گا کہ تم میرے قدموں میں بیٹھوں۔۔!!
وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر محبت سے بولا تو کسوا اسکی اتنی اہمیت دینے پر رونے لگی۔۔
“خان جی آپ میرے بارے میں یہ سوچتے ہیں اور میں نے تو صرف آپ کو ہمشیہ نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے اور اب بھی وہی کرنے والی تھی۔!!
وہ سرخ آنکھیں اس پر ڈال کر بولی تو زوارق خان نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرا اور اسکی پیشانی کو چھوم کر اسے محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“کسوا خان تم پہلے ناسمجھ تھیں اور اب شاید سمجھ دار ہوگئی ہوں جو مجھ سے اس طرح معافی مانگنے آئی ہوں۔۔!!
وہ اسے شریر نظروں سے دیکھتا کہنے لگا تو کسوا اسکی بات پر اسے دیکھنے لگی۔۔
“خان جی آپ کو کس نے کہا کہ میں یہاں آپ سے معافی مانگنے آئی ہوں۔۔؟؟
وہ اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔
“کسوا زوارق خان نے اور کس نے۔۔!!
وہ اسے اپنی نظروں میں بھسا کر بولا تو کسوا جلدی سے اپنا رخ موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی لیکن سامنے ایک بھینس کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ اسکے ساتھ چپک کر چیخنے والی تھی کہ تیزی سے زوارق خان نے اسکے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے چپ کرایا اور پھر اس بھینس کی جانب دیکھا جو شاید نہلانے کے وقت کھل گیا تھا۔۔
“ہہم خان جی۔۔!!
کسوا کی آواز پر اسنے اپنی آنکھیں اس پر مرکوز کر دی جسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا تو اسنے جلدی سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔۔
“خخخان جی آپ کو جا کر شاور لیں لینا چاہیے کیونکہ اب اس گوبر کی بدبو سے میری حالت بھی جواب دینے لگی ہے۔۔!!
وہ چارپائی سے اٹھی اور باڑے کے دروازے پر کھڑی ہو کر شریر لہجے میں کہتی تیزی سے اس روم کی جانب بڑھنے کے لیے رخ موڑ کر بھاگنے والی تھی جہاں وہ اماں کے ساتھ ٹھہری ہوئی تھی کہ زوارق خان کی بات پر ڈر کر دوبارہ باڑے کے اندر داخل ہو کر اسکی جانب بڑھی۔
“کسوا خان بھینس ابھی بھی کھلا ہوا ہے سنبھل کر ورنہ میں تمہیں زخمی اگر حویلی لے کر گیا نا تو آغا خان مجھے قتل کر دے گے۔۔!!
وہ اسے بھینس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو کسوا خوفزدہ ہو کر تیزی سے اسکی جانب بڑھی اور اسکے ساتھ لگ کر بیٹھی تو زوارق خان نے اسے اپنے سینے سے لگا کر کہا۔۔
“کسوا خان میں ایسے کیسے تمہیں جانے دو گا یہاں سے میرے ان کپڑوں کو تو تمہیں ہی دھونا پڑے گا کیونکہ میں یہ پہنوں گا اور تم نے سردی میں بیٹھ کر یہ دھونا پڑے گا۔!!
وہ تھوڑی دیر پہلے سب کام ختم کرنے کے بعد کار سے اپنا پینٹ شرٹ لے کر آیا تھا تاکہ کچھ دیر اپنی تھکن ختم کرنے کے بعد شاور لیں کر انہیں پہنے گا اور ان کپڑوں کو تو اسنے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ کسوا کو سزا کے طور پر دھونے کے لئے دے گا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“عیشو جانم تُم سو رہی ہوں۔۔؟؟
شمش کو جب اخسم کی کال آئی تو اسنے اپنے سینے پر سر رکھے عیشال کو دیکھا جو اپنی آنکھیں بند کیے شاید سو رہی تھی یا سونے کا ناٹک کر رہی تھی کیونکہ اسکی پلکوں کو لرزتے ہوئے دیکھ شمش کو اندازه نہیں ہو رہا تھا کہ وہ جاگ رہی تھی یا پھر سچ میں سو رہی تھی۔۔
“عیشو جانم اگر تُم سو نہیں رہی ہوں تو جلدی سے اٹھ جاؤ ورنہ مجھے اٹھانا اچھے سے آتا ہے اور اگر میں نے تمہیں اٹھا لیا نہ تو تم کبھی دوباره میرے سامنے اسطرح سونے کی ایکٹنگ نہیں کرو گی۔۔!!
وہ کہتا ہوا اسکی گردن پر جھکا اور شدت سے اپنے ہونٹ رکھ کر چھونے لگا تو عیشال جو ناٹک کر رہی تھی وہ اپنی گردن پر اسکی لمس کو شدت سے محسوس کرتیں بیڈ شیٹ کو مضبوطی سے پکڑنے لگی لیکن وہ اپنی آنکھیں اسیطرح بند کیے شمش کو اور گستاخی کرنے پر اکسانے رہی تھی۔۔
“اوکے جانم تُم ایسے نہیں اٹھو گی تو ایسے ہی سہی۔۔!!
وہ اسے سنجیدگی سے کہتا اچانک سے اسے ٹھوڑی سے پکڑتا اپنے ہونٹوں کو اسکی ہونٹوں سے الجھا کہ شدت سے انہیں چھونے لگا۔۔
“کیا ہے صنم میں اٹھ تو رہی تھی تھوڑی دیر بعد آپ نا مجھے کبھی سونے ہی نہیں دیتے ہیں۔۔!!
عیشال اسکی بڑھتی گستاخیوں سے چڑتی ہوئی اٹھی اور منہ بسورتے ہوئے کہنے لگی تو شمش نے جلدی سے اسے بیڈ سے اٹھایا اور بیگ جو اسنے پیک کیا تھا اسے کندھوں پر کرتا لٹکا کہ اسے لیے تیزی سے روم سے باہر نکلا۔۔
“عیشو جانم ہمارا کام یہاں ختم ہوگیا ہے اب ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے کیونکہ کسی بھی وقت یہاں سرکار کے دشمن پہنچ جائے گے۔۔!!
شمش اسے پورچ میں لا کر کھڑا کرتے ہوئے کہنے لگا تو عیشال اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔۔
“صنم اب یہ سرکار کون ہے۔۔؟؟
ٹھوڑی پر اپنی انگلی کو رکھتی وہ جیسے کچھ سوچنے لگی پھر نظریں اوپر اٹھا کر اس سے پوچھنے لگی۔۔
“عیشو میرا سرکار تمہارا بھائی اخسم اور کون۔۔!!
اسے کلائی سے پکڑ کر کار کے اندر بیٹھا کر بولا تو عیشال سر ہاں میں ہلاتی اسے دیکھنے لگی جو اب ڈرائیونگ سائیڈ پر آ کر کار کو سٹارٹ کر رہا تھا۔۔
“اب آپ مجھے کہا لیں کر جا رہے ہیں صنم ۔۔؟؟
اسے کار کو اخسم کے ولا سے باہر نکالتے ہوئے دیکھتی وہ پوچھنے لگی تو شمش نے اسے دیکھا جو اسی طرف متوجہ تھی۔۔
“اپنے گھر اور کہاں۔۔!!
وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“مطلب آپکے گھر اور آپکے گھر میں کون کون رہتا ہے۔۔؟؟
عیشال اسکے گھر کا سنتی دلچسپی سے اس سے پوچھنے لگی پہلے تو وہ دونوں سہیل دادا کے گھر میں رہ رہے تھے لیکن کبھی وہ اسے اپنے گھر لے کر نہیں گیا تھا تو اسکا پرجوش ہونا اور دلچسپی لینا بنتا تھا۔۔
“میری ماں اور چھوٹی سی بہن اور تو کوئی بھی نہیں ہے تمہارا اور ان کے علاؤہ میری زندگی میں عیشو جان۔۔!!
وہ کار ڈرائیو کرتا اسے کہنے لگا تو عیشال اسکی بات پر مکمل اسکی جانب اپنا رخ کرتی اسے پیار سے دیکھنے لگی ۔
“اور میرا آپ کے اور بابا اور اخسم بھائی کے علاؤہ کوئی نہیں ہے اس دنیا میں ۔۔!!
اسکی بات پر شمش نے کار کو روکا اور اسے دیکھتے ہوئے کچھ لمحے اسے طرح اسے دیکھنے لگا پھر تمہید باندھتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
“عیشو جانم اپنے گھر لے جانے سے پہلے میں تم سے ایک سچائی شئیر کرنا چاہتا ہوں بلکہ آپ کے بابا اور اخسم بھائی بھی اس سچائی سے جوڑے ہوئے ہیں تو کیا تم یہ سچائی جان کر مجھ سے ناراض تو نہیں ہوگی ناں ۔۔؟؟
وہ امید سے اسے دیکھتا پوچھنے لگا ۔
“صنم ایسی کونسی سچائی ہے جس کی وجہ سے آپ میری ناراضگی کا سوچ کر ڈر رہے ہیں۔۔؟؟
وہ الٹا اس سے پوچھنے لگی تو اسکی بات پر شمش نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے دیکھا جو اسے اپنی بڑی بڑی براؤن آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
“ایک منٹ کہی آپ تینوں نے دوسری شادیاں تو نہیں کی ہے جو آپ ڈرتے ہوئے مجھے بتا رہے ہیں۔۔؟؟
وہ مشکوک نظروں سے اُسے گھورتی ہوئی بولی تو اسکی بات پر شمش نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔
“عیشو جانم میں بھلا ایسے کیسے کر سکتا ہوں تُمہیں بتائے بغیر میں کیسے دوسری شادی کر سکتا ہوں اور اگر جانو میں دوسری شادی کرنا چاؤ تو کیا تم مجھے اپنی ہونے والی سوتن سے شادی کرنے کی اجازت دو گی۔۔!!
اُسے بھی شرارت سوجھی تو آنکھیں چھوٹی کرتا اسے دیکھتے ہوئے اسکا ری ایکشن چیک کرنے لگا جو اسکی بات پر سخت نظروں سے گھورنے لگی تھی ۔۔
“میں آپ دونوں کو اس سے پہلے جہنم نا بھیج دو صنم اگر آپ نے کسی لڑکی سے دوسری شادی کا سوچا بھی تو۔!!
وہ ناک بھوں چڑھا کر بولی تو شمش اسکی بات پر ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا۔۔
“ہاہاہاہا عیشو جانم اکیلے میں جہنم نہیں جاؤ گا بلکہ تم دونوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاؤ گا۔۔!!
وہ شریر لہجے میں کہتا اسے اور غصہ دلا گیا تھا۔۔
“آپ بہت غلط کر رہے ہیں اب تو میں نے کچھ بھی نہیں سننا آپ سے خاص کر یہ سچائی۔۔!!
وہ سخت چڑ کر کار سے باہر دیکھنے لگی تو شمش نے اسکی منہ پھلا کر باہر دیکھنے پر ہاتھ آگے بڑھا کر سنجیدگی سے کہا ۔
“اوکے اوکے جانو میں نہیں کر رہا دوسری شادی اب یہاں دیکھوں کیونکہ یہ بات بہت اہم ہے اور تمہیں اسے سننا چاہیے ورنہ ہم کیسے آگے بڑھے گے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہتا اسکی طرف دیکھنے لگا جو اب بغور اسے سننے کے لیے اسکی جانب متوجہ ہوگئی تھی۔۔
