Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

“ماضی”
“سر می آئی..؟؟
وہ ڈرتی ہوئی اپنی سبز آنکھوں کو سامنے ٹیبل کے پیچھے بیٹھے اُس وجاہت کے شاہکار کو مہبوت ہو کر دیکھنے لگی۔۔
شمویل خان کرسی پر بیٹھا سامنے اسکی اسکیچ بُک کو سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا اسکی آواز پر اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جو دیوانوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“نو مس واپس باہر جاؤ اور اس روم کے ڈور پر پورے سو نوک کرنے کے بعد اندر آنا ورنہ میں تمہیں اچھے سے بتاؤ گا کہ تم نے میری اسیکچ بنا کر اچھا نہیں کیا ہے۔۔!!
کرسی سے اٹھا اور قدم اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اپنی نیلی آنکھوں سے اس پری کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“بٹ سر مم۔میں نے تو کوئی گناہ نہیں کیا ہے جو آپ مجھے اتنی بڑی پنشمنٹ دے رہے ہیں۔۔!!
وہ اپنی سبز آنکھوں میں ڈر کے باعث نمی لیے اس سے بولی تو اسکی خوبصورت سبز آنکھوں میں ایک لخطے کو کھو سا گیا پھر اپنی آنکھیں اس پر سے ہٹا کر اس سے تھوڑا فاصلے پر کھڑے ہو کر نظریں دوسری جانب کرتا کہنے لگا۔۔
“مس پہلی بات تو یہ پنشمنٹ میری نظروں میں بہت چھوٹا سا ہے میرا تو دل چاہ رہا ہے اس اسکیچ بُک کو ابھی تمہاری نظروں کے سامنے پھاڑ دو لیکن نہ اس سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ تُم پھر سے دوسری اسکیچ بُک لے کر پھر سے شروع ہو جاؤ گی۔۔!!
خان اسکی جانب ہاتھ بڑھا کر سختی سے کہنے لگا تو وہ بری طرح سے لرزتی ہوئی اپنی سانسوں کو سنبھالتی اسکا ہاتھ اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی شدت سے اپنی پلکوں کو نیچے گرا گئی تھی لیکن اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز پر اپنا سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگی جو دروازے پر اپنے دونوں ہاتھ ایسے رکھے ہوئے تھا کہ وہ اسکی قید سے رہائی حاصل نہ کر سکے۔۔
“پلیز سر آپ مممم۔۔مجھے جو پنشمنٹ دینا چاہتے ہیں دے لیکن اس طرح قریب آ کر مجھے ڈرائے تو مت آپکی نزدیکی مجھے خوفزدہ کر رہی ہیں۔۔!!
اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ کر اُسکا پورا بدن شدت سے کانپ اٹھا تھا جبکہ وہ اسکے چہرے پر خوف کے باعث ہوائیاں اڑتے ہوئے دیکھتا پیچھے ہٹا۔۔
“نام کیا ہے تمہارا۔۔؟؟
پیچھے اپنی ٹیبل سے ٹیک لگا کر اپنے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے وہ اسے گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“مم۔مم۔!!
وہ اسکی سنجیدہ نظروں کی تپش کو اپنے اوپر محسوس کرتی سخت سٹپٹاتی ہوئی بس اتنا کہہ سکی تھی۔۔
“ویٹ پہلے ایک گہری سانس لوں۔۔!!
وہ اسکی گھبراہٹ کو دیکھتا انگلی اٹھا کر اسے کہنے لگا۔۔
“ہمممم اب بولو تمہارا نام کیا ہے اور تم یہاں کیوں میری جاسوسی کر رہی تھی۔۔؟؟
اُسکے گہری گہری سانسیں لینے کے بعد اسنے دوبارہ سے اپنا سوال دہرایا۔۔
“مم۔مشاطہ۔۔!!
وہ اسکی نظروں سے سخت خائف ہوتی جلدی سے بولی۔
“نائس ائینڈ یونیک نیم اب آگے کا جو سوال پوچھا ہے میں نے تم سے اسکا جواب کیا مجھے مشاطہ نام کی ڈکشنری کو کھول کر پتہ کرنا پڑے گا۔۔!!
اپنی گھمبیر آواز میں کہتا وہ آخر میں اس پر طنز کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“نن۔نہیں سر۔۔!!
اسکی گھمبیر آواز پر سخت سٹپٹا کے بولی۔۔
“یہ کیا تُمہیں رک رک کر بولنے کی بیماری ہے۔۔؟؟
آنکھیں ترچھی کرتے ہوئے وہ سخت لہجے میں پوچھنے لگا۔
“نن۔۔نہیں مم۔۔میں بیمار ویمار نہیں ہو میں بلکل ٹھیک ہو۔۔!!
وہ اسکی بات پر تیزی سے بولی۔۔
“اوں تو تُم ٹھیک ہو ویری گڈ لیکن مس میں ایک ڈاکٹر ہوں سو جب تک چیک نہ کر لوں کہ سامنے کھڑے انسان کو کیا بیماری ہے مجھے چھین نہیں ملے گا۔۔!!
وہ اسکے بے حد نزدیک آ کر دونوں ہاتھ اسکے کندھوں کے اوپر دروازے پر رکھتا بغور اسکے لٹے کی مانند سفید چہرے کی طرف دیکھتا کہنے لگا۔
“مم۔میں ٹھیک ہو سر۔۔!!
وہ اسکی اتنی نزدیکی پر سخت نروس ہو کر بولی۔۔
“بس چپ سیدھے طریقے سے کھڑی ہو جاؤ ابھی تُم میری مریضہ ہوں۔۔!!
اسکے کٹاؤ دار خوبصورت ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتا اسے غصے سے خاموش کروا کر پیچھے ہٹا اور سامنے ٹیبل کی جانب بڑھا۔۔
“آہہہہہ۔۔!!
وہ اسکے مقابل کھڑا ہوا تو اسی وقت روم کی ساری لائٹیں یکدم سے بند ہوگئیں تو مشاطہ کو جو اندھیرے سے فوبیا تھا۔۔
وہ شدت سے چیختی ہوئی اپنے بے حد نزدیک سامنے کھڑے شمویل خان کے چوڑے سینے سے لگ کر بری طرح سے لرزنے لگی اور وہ جو اسکے اچانک سے سینے پر لگنے کی وجہ سے ساکت ہو کر رہ گیا تھا ہوش میں آتے ہی اسنے پیچھے اپنا ایک ہاتھ لے جا کر اسکی کمر پر حائل کیا اور دوسرے ہاتھ سے اسکی پشت کو سہلانے لگا۔۔
اے شششش۔ریلیکس کچھ نہیں ہوتا میں ہو نہ یہاں بی بریو اپنے ہارٹ بیٹ کو سنبھالو ورنہ تمہیں ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے خوف کی وجہ سے ششش میں یہی ہوں۔۔!!
شمویل اسکے سینے پر زور زور سے دھڑکتے دل کو شدت سے محسوس کرتا اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتا نرمی سے سمجھاتے ہوئے اُسے کہنے لگا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اگر اسی طرح اسکی ہارٹ بیٹ تیز ہوتی چلی گئی تو خوف کے باعث اسے ایک چھوٹا سا ہارٹ اٹیک ہوسکتا تھا۔۔
“سس۔۔سر پلیز آپ لائٹ کو آن کروائیے نان ممم۔۔میں اِس اندھیرے سے مر جاؤ گی۔۔!!
وہ اسکی شرٹ کو سختی سے دبوچتی اسکی گردن میں ڈر کے مارے اپنا چہرہ چھپائے دونوں ہاتھ پیچھے اسکی کمر پر باندھے لرزتی ہوئی بولی شمویل خان اسکی اتنی نزدیکی اور لرزتے ہونٹوں کو اپنی گردن پہ شدت سے محسوس کرتا اس بے وقوف لڑکی کو کچھ سخت کہنے سے خود کو روکتا ہوا اپنا ہاتھ جو اسکی کمر کے گرد بندھا ہوا تھا اوپر لے جا کر اسکی پشت کو سہلانے لگا۔۔
“مس مشاطہ ریلیکس میں کچھ بھی نہیں کر سکتا کیونکہ میں ڈاکٹر ہو الیکٹریشن نہیں ہوں ابھی لائٹ آ جائے گی۔۔!!
وہ اسکی پیٹھ پر ہاتھ سے سہلاتے ہوئے کہنے لگا تو اچانک سے مشاطہ کے نتھنوں سے اسکی کلون کی مہک ٹکرائی تو ہوش میں آتی اسکی نزدیکی کو محسوس کرتی تیزی سے اس سے دور ہوئی اور شرم سے سرخ ہونے لگی اور شمویل خان اسکے تیزی سے خود سے دور ہوتے ہوئے دیکھتا مسکرایا ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“مشی یار آج تو تُم اپنے اُس پھٹان محبوب کے ہاتھوں قتل ہو جاتی۔۔!!
وہ دونوں جب مشاطہ کے گھر میں داخل ہوئے تو اسکی دوست نے ہلکی آواز میں مشاطہ سے کہا۔
“شششش کشمالہ یار خاموش تُم کیا کر رہی ہو اگر بھائی کو پتہ چل گیا نا کہ میں کسی ڈاکٹر کی محبت میں گرفتارمیں پاگل ہو کر روز اسکے ہاسپٹل میں اُسے دیکھنے جاتی ہو تو وہ مجھے مار ڈالے گے۔۔!!
وہ سخت غصے سے اُسے گھورتی ہوئی بولی۔۔
“مشی یار تُم اتنی ڈر کیوں رہی ہوں تم نے محبت کی ہے کوئی جرم نہیں اور کسی دن تو تمہارے اُس پھٹان محبوب کو پتہ چل جائے گا اور مجھے یقین ہے وہ بھی تُمہیں ضرور چاہے گا بھلا اتنی حسین پری کو کون ریجیکٹ کر سکتا ہے اور اگر اسنے کیا ناں تو میں اُسے قتل کر دو گی۔۔!!
کشمالہ نے اسکی ٹھوڑی کو تھامتے ہوئے پیار سے کہا تو وہ شمویل خان کا سوچ کر شرمانے لگی اور اسکے قندھاری چہرے کو دیکھ کر کشمالہ مسکرانے لگی۔۔
“یار شکر ہے کہ اُس کھڑوس نے اپنی اسکیچ کا غلط مطلب نہیں نکالا ورنہ میں اہ کشمی یار میری اسیکچ بُک تو وہی پر ہے اوہ نو۔۔!!
وہ اپنی بیگ کو کھولتے ہوئے کہنے لگی لیکن اندر اپنی اسیکچ بُک کو نا پاکر وہ پریشانی سے کشمالہ سے بولی۔۔
“کیا مشی یار تُم بھی نا اُسے اپنے پاس دیکھ کر تُم تو سب کچھ بھول جاتی ہوں اب دیکھو تُم نے کیا کر دیا اپنی جان سے عزیز اسیکچ بُک کو اُس کھڑوس کے پاس بھول کے آگئی اب تو وہ پھاڑ دے گا اسے اور تمہارا نام اپنے نام کے ساتھ دیکھے گا تو کیا سوچے گا کہ تم کیسے لڑکی ہوں۔۔!!
کشمالہ نے غصے سے اُسے ڈپتے ہوئے کہا تو وہ پریشانی سے اپنا سر پکڑ کر سامنے رکھے صوفوں کی جانب بڑھی اور ایک صوفے پر بیٹھی۔۔
“کشمی میں جا رہی ہو۔۔!!
یکدم سے وہ ایک مشکل فیصلہ کرتی صوفے سے اٹھی اور کشمالہ سے بولی تو اسکی بات پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“کہاں۔۔؟؟
وہ اُسے ترچھی نظروں سے گھورتی پوچھنے لگی۔۔
“اُسکے فلیٹ پر اور کہاں یار اگر میں اپنی اسیکچ بُک نہیں لے کر آئی نا تو وہ اپنا نام دیکھ کر غصے سے میرے اسیکچ بُک کو پھاڑ دے گا۔۔!!
وہ چڑتی ہوئی بولی تو کشمالہ کو اس سےاسی بے وقوفی کی امید تھی کیونکہ وہ یہی بے وقوفی کرنے والی تھی۔۔
“مشی یار تم کیا بے وقوف ہوں اور یہ تُمہیں کیسے پتہ ہے کہ وہ فلیٹ پر کم آتا ہے اور رات کے اس وقت تو میں تُمہیں بلکل بھی اکیلے جانے نہیں دو گی وہاں سمجھی تم۔۔!!
کشمالہ چیخ کر بولی تو مشاطہ نے ناگواری سے اُسے دیکھا۔
“اب اِس میں کیا بے وقوفی ہے کشمی میں اکیلی تھوڑی جا رہی ہو وہاں تم باہر میرا ویٹ کرنا اور ویسے بھی میں نے سنا ہے وہ زیادہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے فلیٹ پر صرف اپنے دوستوں کے ساتھ ڈنر کرنے کے لیے جاتا ہے اور میں وہاں چوری چھپے اپنی اسیکچ بُک لے کر آؤ گی سمپل۔۔!!
وہ اسکی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔۔
“اب تُم انکار مت کرنا کشمی ورنہ میں ناراض ہو جاؤ گی تم سے۔۔!!
اسے منہ کھولتے ہوئے دیکھتی تیزی سے بولی تو کشمالہ نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے لیکن اگر اس نے تمہارے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کیا تو تم یہ اس پر یہ پیپر اسپرے کردینا ورنہ میں تُمہیں بھی اسکے ساتھ قتل کر دو گی۔۔!!!
اسکے سامنے ایک پیپر اسپرے بڑھا کر وہ آخر میں اسے گھورتی ہوئی بولی تو مشاطہ اسکی اتنی کئیر کرنے پر مسکرائی اور اسکے گلے لگ کر اسکے گال کو چھوتے ہوئے اسے خوشی سے thanks کہنے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آپ کب اِس کی جان چھوڑے گے بابا۔۔؟؟
وہ ہاسپٹل سے آکر سیدھا اپنے باپ عمر خان کے روم میں داخل ہوا تو انہیں سامنے چئیر پر ہاتھ میں سگریٹ تھامے دیکھ کر وہ سنجیدگی سے آگے بڑھا اور انکے ہاتھ سے سگریٹ کو لے کر کہنے لگا۔۔
“شمویل خان تُم میرے معاملوں میں مت پڑوں اور یہ دو مجھے۔۔!!
انہوں نے غصے سے اپنی اتنے دنوں سے رت جگے کی وجہ سے سرخ ہوتے نیلی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر سرد لہجے میں کہا ۔
“میں نہیں پڑوں گا تو پھر کون پڑے گا اور ویسے بھی اتنی زیادہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے آپکی صحت آہستہ آہستہ خراب ہوتی جارہی ہے اور آپ کو تو اپنی صحت کا خیال نہیں ہے لیکن مجھے ہے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے انکے رف حلیے کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا کیونکہ جب سے اُس عورت نے انہیں دھوکا دے کر چھوڑا تھا اور ساتھ میں انکے ایک بیٹے کو بھی ان سے جدا کیا تھا تو وہ انکے دھوکے کی وجہ سے خود کو اس روم میں بند کیے سگریٹ نوشی کیا کرتیں اور اس کی وجہ سے انکی صحت برباد ہو رہی تھی جو شمویل خان کو بلکل بھی برداشت نہیں تھا کہ انہوں کچھ ہو۔۔
“شمویل خان لاؤ دو ورنہ میں تُمہیں بھی اُس عورت کے پاس بھیج دو گا۔۔!!
اُنہوں نے پاگلوں کی طرح اس کے ہاتھوں سے سگریٹ پکڑنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور سخت نظروں سے گھورتے ہوئے کہنے لگے۔۔
“بابا آپ ہر بار کیوں مجھے یہ حاق والی دھمکی دیتے ہیں جانتے بھی ہے آپ کہ جتنی میں آپ سے محبت کرتا ہوں اتنی میں اُس عورت سے نفرت کرتا ہوں۔۔!!
وہ سگریٹ کو سامنے پڑے ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے تاسف سے انکے رف حلیے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“نہیں شمویل خاناں تُم بھی مجھ سے نفرت کرتے ہو اُس عورت کی طرح جس نے مجھ پر اُس غنڈے کو فوقیت دیا ہے کبھی معاف نہیں کرو گا میں اسے اور اس غنڈے کو تو میں نہیں چھوڑو گا۔۔!!
انہوں نے اسے سختی سے دیکھتے ہوئے چیخ کر کہا۔۔
“نہیں بابا آپ میرے کل کائنات ہے آپ اس کمینے سے الجھنے کا سوچیئے گا بھی مت اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا بابا میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں اور اس عورت کو آپ بھول کیوں نہیں جاتے۔۔!!
انکے سفید ہاتھوں کو تھام کر نم آنکھیں اوپر اٹھا کر انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“کیسے بھولو خاناں کیسے وہ مجھے کچھ نہیں مانتی تھی لیکن میں تو اُسے اپنا سب کچھ مانتا تھا ناں اور تم بچے عاشقی سے ابھی ناواقف ہو اور جب تمہارا اِس ع لفظ سے واقفیت ہوگی ناں تو تمہیں میرے اس ہجر کے درد کا اچھے سے علم ہوگا کہ میں اس وقت کس آگ میں جل رہا تھا۔۔!!
وہ اب نم آواز میں کہنے لگے تو شمویل خان انکی تڑپ پر تڑپتے ہوئے آگے بڑھا اور انکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اپنی آنکھوں سے لگا کر کہنے لگا۔۔
“نہیں بابا۔۔!!
جس عشق نے آپ کو برباد کیا ہے نا مجھے اُس عشق کے ع لفظ سے آباد ہونا بھی منظور نہیں ہے۔۔”
وہ شدت پسندی سے کہتا یہ تک بھول گیا کہ بہت جلد وہ خود اس ع لفظ کا سامنا کرنے والا ہے لیکن اب دیکھنا یہ تھا کہ کیا یہ لفظ اسے آباد کرتا ہے یا پھرعمر خان کی محبت کی طرح برباد۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“اُس نیچ عورت کی وجہ سے آج بھائی صاحب اِس حالت میں ہے اگر انہوں نے میری بہن سے شادی کی ہوتی ناں تو شمویل بچے تُمہارے اُس جڑواں بھائی کی طرح بدصورت تو بیٹا نہ ہوتا بلکہ تُمہاری طرح خوبصورت بیٹا ہوتا اب دیکھو تُم کو چھوڑ کر وہ بدذات عورت اپنے اُس بدصورت بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئیں تھی کیونکہ اُسے اسکا باپ تمہاری طرح چاہتا نہیں ہے۔۔!!
وہ اُنہیں سکون آوار دوائی دے کر اُنکے سوتے ہی وہ بیڈروم سے باہر نکلا اور کچن کا رخ کیا تاکہ کافی بنا کر اپنی ذہنی تھکن کو وہ کم کر سکے۔۔۔
لیکن حویلی میں ایک شخصیت کو کہا اُسکا وجود برداشت ہوتا تھا جو وہ اسے دو وقت سکون سے رہنے دیتی ہوں ابھی بھی اُسے کچن کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر اسکے پیچھے کچن میں داخل ہو کر طنزیہ انداز میں اخسم اسکے جڑواں بھائی کی رنگت پر چوٹ کرتے ہوئے بولیں۔۔
“تائی جان وہ بھائی ہے میرا چاہے بدصورت ہو یا خوبصورت میں اُسی ہمشیہ چاہتا رہوں گا کیونکہ وہ اُس عورت کا بیٹا نہیں بلکہ میرا بھائی ہے۔۔!!
کپ غصے سے سنگ پر رکھتے ہوئے وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو وہ اسکی بات پر مسکرائی اور آگے بڑھ کر سنگ سے کپ کو اٹھا کر اُسے دیکھتی ہوئی بولیں۔۔
“اُس بدصورت اخسم خان کے ساتھ تُم بھی تو اُس بدبخت عورت کے بیٹے ہو شمویل خان اور میں ایک مشورہ دینا چاؤ گی تُمہیں کہ اس گھر کی برنامی سے پہلے ہی اُس عورت کے پاس چلے جاؤ کئی تُم بھی کسی دن اُس بدکردار عورت کی طرح کارنامہ سر انجام دے کر ہمارا نام مٹی میں ہی نہ ملا دو۔۔!!
أنکی بات پر وہ غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر شدت سے سامنے دیوار پر مکا مارتے ہوئے اپنی سرخ نگاہوں سے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اُس عورت سے مجھے شدید نفرت ہے تائی جان آئندھا کبھی اُسکا ذکر میرے سامنے غلطی سے بھی مت کرے ورنہ میں آپکا لحاظ کرنا بھی بھول جاؤ گا کہ آپ میری کیا لگتے ہیں.!!!
وہ انہیں دیکھتے ہوئے کہتا غصے سے اپنے قدم کچن سے باہر کی جانب بڑھاتا کچن سے باہر نکلا اور پھر گھر سے نکل کر اپنی کار کی جانب بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تُم یہاں کیا ڈھونڈ رہی ہوں۔۔؟؟
وہ اپنے موبائل ٹارچ کی مدد سے اُس کھڑوس کے بیڈ روم میں اپنی جان سے بھی پیاری اُس اسیکچ بُک کو پاگلو کی طرح ڈھونڈ رہی تھی جو اسکے پاس رہ گیا تھا۔۔
وہ بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز میں ڈھونڈ رہی تھی اپنے پیچھے بے حد قریب ایک لڑکھڑاتی آواز سنائی دی تو وہ ڈرتی ہوئی پیچھے مڑی۔۔
وہ سنبھل کر بیڈ روم سے باہر نکلتی اس سے پہلے کسی نے نزدیک آ کر اُسے کمر سے پکڑا تو ایک ناگوار بو اُسکے ناک سے ٹکرایا تو وہ پھٹی آنکھوں سے اندھیرے میں کھڑے شخص کو دیکھنے لگی جسنے ڈرنک کیا ہوا تھا۔۔
کک کون۔۔؟؟
اسکے ہونٹ بری طرح سے پھڑپھڑائے تو مقابل نے جھولتے ہوئے اُسکے لبوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے اُسے خاموش کروایا۔۔
“شششش خاموش۔۔!!
وہ لڑکھڑاتی قدموں سے اُسے لیے باہر کی جانب بڑھا تو وہ خوفزدہ ہو کر اُسے خود کو مقابل کی سخت گرفت سے چھڑانے لگی۔۔
“پلیز چھوڑ دو مم۔مجھے۔۔!!
وہ روتے ہوئے اب مقابل سے بولی تو اُس نے ہنستے ہوئے اسے سامنے صوفے پر گرایا۔۔
“کیسے چھوڑو لڑکی پیسے خرچ کیے ہیں تُم پہ سمجھی اب خاموشی سے میری بات مانو ورنہ میں بہت برے طریقے سے اپنا ایک ایک پیسہ تم سے نکالو گا۔۔!!
اُس پر جھکتے ہوئے اسکے دونوں ہاتھوں کو پیچھے صوفے کی جانب لے جاتے ہوئے غصے سے کہنے لگا اور وہ بری طرح سے روتی ہوئی مزاحمت کر رہی تھی اور ساتھ میں اپنی عزت کو اس درندے سے محفوظ رہنے کے لیے دعا بھی مانگ رہی تھی۔۔
“کمینے انسان چھوڑو مجھے درندے پیچھے ہٹ جاؤ ورنہ میں تمہیں مار ڈالو گی۔۔!!
وہ شدید غصے سے اپنی ٹانگ اسکے پیٹ پر ریسد کرتی اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی بولی اور اپنے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ پیپر اسپرے نکالنا چاہا لیکن بیگ وہاں نا پاکر وہ ٹائم ضائع کیے بغیر تیزی سے بھاگتی ہوئی بیڈ روم سے باہر نکلی مگر پیچھے سے اُس شخص نے آکر اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور زور دار تھپڑ اسے رسید کرتے ہوئے اسے گالیاں بکنے لگا۔۔