Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“ماضی”
“زکی یہ آپ میرے بیٹے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
روبینہ نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں پٹی دیکھا تو وہ اپنے شوہر کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے خوف سے کہنے لگی تو زکی شیرانی نے اپنی بیوی کو سرد نظروں سے گھورا۔۔
“روبی تُم یہاں کیا کر رہی ہوں۔۔؟؟
سرد لہجے میں کہتا وہ اسے لیے سیڑھیوں کی جانب بڑھا اور اسے دو سیڑھیوں سے نیچے لے جا کر وہ خود اوپر بڑھا اور اوپر والی سیڑھی پر کھڑے ہو کر اسے سرخ نظروں سے دیکھنے لگا جو سامنے اپنے بیٹے اخسم شیرانی کو دیکھ رہی تھی جو آنکھوں پر پٹی لگائے ریوالور پکڑے زکی شیرانی کے آدمیوں پر گولی چلا رہا تھا ۔۔
“زکی شیرانی یہ تُم میرے بیٹے کے ساتھ اچھا نہیں کر رہے ہو اسے بھی تُم اپنی طرح سیاہ دل بنا رہے ہو اور مت بھولنا اخسم شیرانی تمہارا ہی خون ہے وہ بھی ایک دن تمہاری ہی طرح اپنے باپ کو مارے گا۔۔!!
وہ نفرت سے اس شخص کو دیکھتے ہوئے بولی جسکی وجہ سے اسنے اپنوں کی محبت کو ٹھکرایا تھا اور اب وہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ اسکے دونوں بیٹے اُس شخص کی طرح اس مافیا کے لائن میں آئیں جو ان دونوں کا خاندانی پیشہ تھا۔۔
“روبی اخسم دادا میرا سب سے بڑا ویپونس ہے اور میں جانتا ہو کہ مجھے اپنا ویپونس کو کیسے استعمال کرنا ہے۔۔!!
زکی شیرانی نے آگے بڑھ کر اسے سختی سے اسکی گردن سے پکڑا اور زور دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔!!
روبی اسکی زور دار پکڑ کو خاطر میں لائے بغیر زور سے قہقہہ لگانے لگی تو زکی شیرانی اسے قہقہہ لگاتے ہوئے دیکھ کر اپنی پکڑ اور مضبوط کرنے لگا۔۔
“زکی شیرانی تُم شاید بھول رہے ہو جب انسان ہتھیار کو صاف کرتا ہے نا تو غلطی سے اگر اُس انسان کا ہاتھ ٹریگر پر لگ جائے تو اُس ایک غلطی کی وجہ سے وہ انسان ہمشیہ کے لیے موت کی نیند سو جاتا ہے اور مجھے پتہ ہے ایک دن تُم بھی یہی کروں گے۔۔!!
وہ ہاتھ اسکے مضبوط ہاتھوں کے اوپر رکھتی تمسخر سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“روبی تُم یہاں سے چلی جاؤ ورنہ میں تُمہیں اخسم دادا کے سامنے مارنے سے بھی نہیں ہچکچاؤ گا۔۔!!
وہ اسے الگ کرتا پیچھے ہٹا اور اُسے بغور دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا تو روبی اسکی بات پر طنزیہ انداز میں اسے دیکھتی اپنی گردن کو جھٹکنے لگی۔۔
💞💞💞💞💞💞
“حال”
“مش بیٹا ہمیں یہاں سے جلدی نکلنا ہوگا ورنہ وہ شخص ہمیں مار دے گا۔۔!!
مجتبی ملک نے اُسے دیکھا جو بیزاری سے اپنے براؤن گھنے بالوں کو پونی میں قید کر رہی تھی لیکن بہت کوشش کے بعد اس سے بال نہیں بن رہے تھے تو مجتبی ملک مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اور اسکے بالوں کو نرمی سے پکڑ کر پونی سے باندھنے لگے۔۔
اور وہ پیچھے مڑ کر اپنے بھائی کو مسکرا کر دیکھنے لگی جو اسکے بالوں کو پونی میں قید کرنے کے بعد اسے محبت سے دیکھ رہے تھے۔۔
“بھائی آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔؟؟
سبز آنکھیں انکے چہرے پر مرکوز کرتی وہ ان سے پوچھنے لگی تو اسکی بات پر انہوں نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے مسکرا کر اسکے دونوں مومی ہاتھوں کو تھام کر اسکی سرخ گال پر ہاتھ پھیرنے لگے۔۔
“بیٹا میں یہ دیکھ رہا ہو کہ میری سردارنی بھلے بڑی ہوگئی ہے لیکن ابھی تک اُسے اپنی پونی بنانے کے لیے اپنے مجتب بھائی کی ضرورت ہے۔۔!!
وہ شرارت سے اسکے روئی جیسے نرم سرخ گالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگے تو وہ انکی بات پر خفگی سے اُنہیں گھورنے لگی۔۔
“بھائی۔۔!!
وہ منہ بسور کر بولی تو انہوں نے اسے منہ بسورتے ہوئے دیکھا تو زور سے قہقہہ لگا اٹھے تھے اور مشاطہ بھی انہیں دیکھتی خود بھی قہقہہ لگانے لگی تھی۔۔
“لٹل سردارنی ہمشیہ اسی طرح ہنستی رہا کرو تم ہنستی ہوئی بہت پیاری لگتی ہوں۔۔!!
اُسے قہقہہ لگاتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے اسکے گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ اپنے دونوں ہاتھ انکے ہاتھ پر رکھتی انہیں نم آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔
“پہلے ماں پھر بابا کیوں بھائی یہ زندگی صرف ہم سے ہی کیوں امتحان لینا چاہتی ہے اب پتہ نہیں آگے ہمیں کہا اس طرح بھاگنا پڑے گا صرف اس شخص کی وجہ سے جس نے ہمشیہ مجھ سے میرے اپنوں کو چھینا ہے۔۔!!
وہ ہاتھ انکے ہاتھ پر رکھتی نفرت سے اخسم شیرانی کے بارے میں کہنے لگی۔۔
“مش اب ہمیں مری چھوڑ کر جانا ہوگا یہ علاقہ بھی ہمارے لیے محفوظ نہیں ہے وہ پورے شہر میں ہمیں ڈھونڈ رہا ہے۔!!
انہوں نے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلانے لگی۔۔
“بھائی میں صرف آپکی وجہ سے جانا چاہتی ہو ورنہ اُس شخص کو میں اچھے سے بتاتی کہ ملک کے ساتھ غداری کا انجام صرف موت ہے۔۔!!
وہ سختی سے اپنے دونوں ہاتھوں کو بھینچ کر شدت سے کہنے لگی تو مجتبی ملک نے اسے تاسف سے دیکھا۔۔
“بیٹا ہم اُس شیطان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور آپ مجھ سے وعده کرے کہ اُس اخسم دادا کے سامنے آپ بلکل بھی نہیں جائے گے۔۔!!
وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اس سے کہنے لگے تو مشاطہ نے اپنی سبز آنکھوں کو اوپر اٹھا کر انہیں بے یقینی سے دیکھا۔۔
“بھائی آپ چاہتے ہیں کہ میں اُس شیطان کو اسکے گناہوں کی سزا بھی نا دو جو اسنے میرے ساتھ اور بھی بہت سے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا اب جب تک میں اس شیطان کو ختم نا کر لوں مجھے چھین نہیں آئے گا۔۔!!
وہ اخسم شیرانی کے متعلق نفرت سے سوچتی ان کو کہنے لگی تو مجتبی ملک کو اُس کی خطرناک باتوں سے خوف آنے لگا وہ اچھے سے جانتے تھے کہ جب انکی بہن جس چیز کا اراده کرتی ہے وہ جلد کر گزرتی ہے۔۔
“نہیں مش بچے آپ ایسا کچھ نہیں کروں گی اس شیطان کو ختم کرنے کے لیے قانون ہے اور تم کیوں قانون کو ہاتھ میں لینا چاہتی ہو بچے وہ خطرناک بے رحم انسان ہے۔۔
اس شیطان نے دس سال کی عمر میں اپنے باپ کو مارا ہے اس باپ کو جس سے وہ پیار کرتا تھا اور تم تو پھر اسکی کچھ بھی نہیں لگتی ہو۔۔!!
اُن کی بات پر مشاطہ نے تیزی سے اپنی آنکھیں اُن کے اوپر سے ہٹا کر سامنے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے سوچا کہ وہ شخص دو سال پہلے ایک ماں کی خواهش پر اُسکا کچھ نا ہوتے ہوئے بھی اُسکا سب کچھ بن بیٹھا تھا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
اخسم شیرانی کے اُس چھوٹے سے علاقے میں آتے ہی مانو جیسے کوئی طوفان آ گیا ہو وہ اُس گھر کے سامنے کرسی لگا کر بیٹھا تھا جس میں مشاطہ اور اسکا بھائی ایک سال سے یہاں رہتے تھے لیکن جبران شیرانی کو مارنے کے بعد وہ یہاں سے بھاگ گئے تھے اور یہ بات اخسم شیرانی کو ہضم نہیں ہو رہا تھا
کیونکہ وہ مشاطہ ملک کو بہت اچھے سے جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا وہ ایک بہادر لڑکی ہے پھر کیسے وہ یہاں سے بھاگی یہ سوچتے ہوئے وہ یکدم سے کرسی سے اٹھا اور اپنے مضبوط ہاتھوں میں ایک سانپ کی شکل والی بریسلیٹ کو گھوماتے ہوئے سامنے شمش کی مضبوط بازؤوں کی گرفت میں بری طرح سے مچلتے زاور کی جانب بڑھا۔۔
“تُم اگر اُسکا پتہ بتاؤ گے تو میں تُمہیں چھوڑ دونگا اور اگر تمہارے اِس دل میں انسانیت ابھی تک باقی ہے اور تم انہیں بچا رہے ہو۔۔
تو میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤ گا تمہارے اِس دل کو نکال کر اپنے کتوں کے آگے ڈالنے میں اچھی طرح سے سوچ لینا میں نے تمہیں ایک اوپشن تمہاری زندگی کو بچانے کیلئے اور دوسرا اوپشن موت کا دیا ہے۔۔
اب تمہاری مرضی تُم کس کو چنتے ہو اپنی موت کو یا زندگی کو دونوں صورتوں میں فائدہ تو میرا ہی ہونے والا ہے اگر تم مشاطہ ملک کا پتہ نہیں بتاؤ گے۔۔
تو میں تمہارا بے رحمی سے قتل کر دو گا کیونکہ مجھے قتل کرنا بہت پسند ہے اور بتا دو گے تب بھی میرا فائدہ کیونکہ وہ میرے شکنجے میں ہوگی اور تم آزاد۔۔۔!!
بریسلیٹ پہ لگا ایک چھوٹا سا بٹن اسنے دبایا تو ایک چھوٹا سا چاقو اسکے اندر سے نکلا جسے دیکھ کر زاور خوفزدہ ہوا اور اسے خوفزدہ ہوتا ہوا دیکھکر وہ اپنی وحشت زده کرتی سرد آواز میں کہتے ہوئے اُسکی جانب اپنی سرخ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔
“مم۔میں سچ میں نہیں جانتا کہ وہ دونوں کہا گئے ہیں۔۔!!
زاور خوفزدہ ہو کر بری طرح سے روتے ہوئے کہنے لگا تو اخسم شیرانی اسکے رونے پر چاقو اسکے گال پر رکھ کر ایک لکیر کھینچ کر اُسے اور دہشت میں مبتلا کرنے لگا۔۔
“مجھے مردوں کا یوں لڑکیوں کی طرح رونا بلکل بھی پسند نہیں اور یہ سزا لڑکیوں کی طرح رونے کی وجہ سے میں نے تمہیں دیا ہے اب اگر تُمہارے حلق سے ایک بھی آواز نکلا نا تو میں یہ چاقو تمہارے گالوں پر نہیں ان بڑی آنکھوں میں گھاڑ دونگا۔۔!!
وہ چاقو کو اسکی آنکھوں کے قریب کرتا خطرناک لہجے میں کہنے لگا تو زاور سخت خوف سے خاموش ہونے کی کوشش کرنے لگا جو کہ اس شیطان کے سامنے کھڑا ہونے کی وجہ سے اسے مشکل لگ رہا تھا۔۔
“شمش اسے جلا دو اور اسکی لاش کو اِس علاقے میں اُس جگہ پر لٹکانا جہاں سے اسکی ڈیڈ باڈی کو آسانی سے سب دیکھ سکے اور سب کو پتہ چلے کہ اخسم شیرانی سے پنگا لینے کا انجام اسکی جلی ہوئی لاش سے بھی برا ہوسکتا ہے۔۔!!
وہ چاقو واپس بریسلیٹ کے اندر کرتا سرد لہجے میں کہنے لگا تو زاور اسکی سفاک آواز پر خوفزدگی سے اپنی آنکھیں بند کرتا جلدی سے اسے مشاطہ ملک کا پتہ بتانے لگا۔۔
“گڈ بوائے پر افسوس تم اب زنده نہیں بچو گے کیونکہ تم اخسم شیرانی کے سب سے بڑے دشمن کے دوست ہو اور وہ اتنا رحمدل نہیں ہے جو اپنے دشمنوں کے دوستوں کو ایسے زنده چھوڑ سکتا ہے۔۔!!
وہ آگے بڑھا اور اُسے سینے سے لگاتے ہوئے سختی سے چاقو اسکے سینے پر مارتا سفاکیت سے کہنے لگا اور زاور ساکت نظروں سے سامنے شمش کی جانب دیکھ رہا تھا جو تمسخر سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“زر قسم سے اگر یہ بندہ اتنا بڑا ڈان نا ہوتا نا تو میں اسے حاصل کرنے کے لیے کیا کیا نہ کرتی۔۔!!
یہ منظر خانزادہ حویلی کے لاؤنج کا تھا جہاں دو لڑکیاں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں ایک تو اسکرین پر نظر آتے اخسم شیرانی کی خوبصورت تصویر کو دیکھ کر حسرت سے ٹھنڈی اہ بھر کر کہہ رہی تھی تو دوسری اسے سخت نظروں سے گھور رہی تھی۔۔
“مس کسوا اگر یہ تمہارے نادر خیالات کا پتہ تُمہارے اُس کھڑوس بھائی کو چل گیا نا تو وہ تمہیں قتل کر دے گا۔۔!!
زرلش نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا۔
“زرلش بی بی خان لالہ کے بارے میں اب اگر تم نے کچھ الٹا سیدھا بولا نا تو میں بھول جاؤ گی تُم میری بھابھی ہو۔۔!!
کسوا اسکے منہ سے اپنے پیارے سے خان لالہ کے بارے میں کھڑوس لفظ سنا تو وہ غصے سے سامنے صوفے پر رکھے کشن کو اٹھا کر زور سے اسے مارتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“کسوا بی بی تم نے پھر میرا نام اُس کھڑوس خان کے ساتھ جوڑا۔۔!!
زرلش زور سے چیختی ہوئی اٹھی اور صوفے پر رکھا دوسرا کشن اٹھا کر اسکے سر پر مارنے لگی۔۔
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔؟؟
وہ دونوں غصے سے ایک دوسرے کے اوپر کشن کی بارش کر رہی تھی کہ اپنے پیچھے ایک گھمبیر آواز سن کر وہ دونوں تیزی سے پلٹی اور کسوا کو اپنی ڈھرکنیں اپنے سامنے زوارق آفاق خان کو دیکھ کر حلق میں اٹکتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی۔
“وہ لالہ۔۔!!
کسوا کے لالہ کہنے پر زوارق خان نے اُسے سخت نظروں سے گھورا تو وہ اسکی نیلی آنکھوں میں اپنے لیے سخت غصہ دیکھ کر تیزی سے زرلش خان کے پیچھے چھپنے لگی۔۔
“زوارق لالہ وہ کیا ہے نا کہ آج ہمارے کالج میں آرمی والوں نے ہماری سبھی کالج کی لڑکیوں کو کراٹے ٹریننگ کروایا تھا تو میں کسوا کو وہی سیکھا رہی تھی کیوں کسو میں ٹھیک کہہ رہی ہو ناں۔۔!!
زرلش نے جلدی سے کہا۔۔
“جب تک چہرے پر خوف ہوگا وہ انسان کبھی بھی دشمنوں کے سامنے‌ خود کو بہادر ثابت نہیں کر سکے گا۔۔!!
زوارق خان نے سنجیدگی سے کسوا کے خوبصورت چہرے کی جانب دیکھا جہاں ابھی تلک اسکے لیے خوف موجود تھا وہ اپنی سرخ نظریں اسکے اوپر سے ہٹاتا قدم اوپر سیڑھیوں کی جانب بڑھانے لگا۔۔
“افففف زرلش بی بی تم میرے خان لالہ کو کھڑوس کہتی ہوں نا مگر مجھے تو زوارق لالہ سب سے بڑے کھڑوس اور اکڑو لگتے ہیں قسم سے انکی آنکھوں سے مجھے ہمشیہ خوف آتا ہے۔۔!!
کسوا اُن سرخ شرارے لٹاتی نیلی آنکھوں کو سوچ کر جھرجھری لیتے ہوئے کہنے لگی تو زرلش اپنے بھائی کے بارے میں سن کر سخت غصے سے اسے دیکھنے لگی اور پھر ہمشیہ کی طرح وہ دونوں اپنے بھائیوں کو برا بھلا بولنے پر بری طرح سے لڑنے لگے تھے۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
“کسوا کی بچی تم نے تو مجھے ڈرا۔۔!!
زرلش اپنے پیچھے قدموں کی آواز سن کر آنے والے کو کسوا سمجھ کر غصے سے پیچھے پلٹی لیکن جب اسکی نظریں سامنے کھڑی شخصیت پر پڑی تو باقی کے الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گئے تبھی اچانک سے اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر وہ ڈر کے مارے پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“کالج کی چھٹی کے بعد تم آج کس کے ساتھ تھی باہر گھوم رہی تھی زر بیگم۔۔؟؟
اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسنے اسے اپنی طرف کھینچا اور سرد لہجے میں پوچھنے لگا تو زرلش اسکی مضبوط گرفت میں بری طرح سے پھڑپھڑانے لگی۔۔
“کک۔کسی کے ساتھ بھی نہیں خان جی۔۔!!
وہ آنکھیں سختی سے میچ کر جلدی سے بولی۔۔
“جھوٹ زرلش عرشمان خان تمہیں پتہ تو ہے کہ مجھے کتنی جلدی جھوٹ بولنے والوں سے سخت نفرت محسوس ہوتا ہے اور اگر تمہیں میری نفرت منظور نہیں ہے تو سچ بولنا۔۔!!
اسکی ٹھوڑی کو سختی سے پکڑ کر وہ اسکا سر اسکی اور کسوا کے بیڈ روم کے دروازے کے ساتھ لگاتا سپاٹ لہجے میں کہنے لگا۔۔
“خان مم۔۔میں سچ کہہ رہی ہو میں آج ڈرائیور کے ساتھ آئی تھی باہر مجھے گھومنا بلکل بھی پسند نہیں ہے۔۔!!
وہ تکلیف کے مارے کراہتے ہوئے بولی۔۔
“کیوں ڈرائیور کے ساتھ کیوں آئی تھی تم کیا تمہارا بھائی مر گیا تھا یا پھر میں بتاؤ مجھے ہاں تُمہیں پتہ بھی ہے نا مجھے اپنی ملکیت پر کسی کی نظریں برداشت نہیں ہوتی تو پھر تم سے یہ خطا کیسے ہوئی جواب دو مجھے زرلش بیگم۔۔!!
عرشمان افان خان نے اسے خود سے مزدیک قریب کرتے ہوئے جنونی انداز میں کہا۔۔
“خان مم۔۔میں نے بھائی کو فون کیا تھا وہ مصروف تھے تو آغا جان نے ڈرائیور کو مجھے لینے کالج بھیجا تھا اور آپ تو اچھے سے جانتے ہے کہ آغا جان کی بات میں بلکل بھی نہیں ٹال سکتی ہو..!!
آنکھوں میں نمی لیے تیزی سے پیچھے پلٹ کر اپنے سامنے کھڑے چٹان نما خوبصورت شخص کو دیکھنے لگی جو اسکا ہم سفر تھا۔۔
اور وہ جنونی انسان اسکی خوبصورت نیلی آنکھوں میں نمی دیکھتا بے قراری سے آگے بڑھا اور اپنے براؤن مونچھوں تلے دبے عنابی ہونٹوں سے اُس نمی کو دونوں آنکھوں سے باری باری چننے لگا جو اسکی سخت غصے کو کم کرنا اچھے سے جانتے تھے۔۔
“آج یہ آخری بار ہے خانی اگر اگلی بار تم کسی غیر کے ساتھ مجھے نظر آئی نا تو قسم سے میں اس مرد سے پہلے تمہیں اپنی ریوالور کی گولیوں سے چھلنی کر دونگا۔۔!!
اُسکی خوبصورت نیلی جھیلوں جیسی آنکھوں سے پھسل کر گالوں پر بہتے آنسوؤں کو وہ نرمی سے صاف کرتا شدت پسندی سے کہنے لگا تو زرلش اسکے خانی کہنے پر یکدم سے مسکرائی اور وہ یہ دھوپ چھاؤں کا خوبصورت منظر دیکھ کر مہبوت رہ گیا۔۔