Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“زوارق لالہ۔۔؟؟
زوارق خان ہوٹل سے باہر نکل کر کار کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اپنے پیچھے اسکی گھبرائی ہوئی آواز سن کر وہ پیچھے پلٹ کر اسے سخت نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“کسوا کسوا کتنی بار تم سے کہنا پڑے گا کہ تم مجھے صرف خان بلایا کرو یہ لالہ لفظ تمہارے منہ سے سن کر مجھے اس الفاظ سے اب سخت چڑ ہونے لگا ہے۔۔!!
زوارق اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا کسوا جو ہوٹل کی دیوار سے ٹیک لگائے اسے کچھ کہنا چاہتی تھی کہ اسکی غصیلی آواز پر خاموشی سے اسے بے بس نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
وہ اسے اپنی فراک کی زپ جو پتہ نہیں کب اور کیسے ٹوٹ گیا تھا اسی کے متعلق بتانا چاہتی تھیں کہ اسکی اپنے اوپر سخت نظروں سے گھبرا کر وہ سختی سے اپنی شال کو پشت پر پکڑتی کانپتی ہوئی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو کر نظریں نیچے کئے دیکھنے لگی۔۔
زوارق خان نے اب کے بغور اسے دیکھا جو بری طرح سے کانپ رہی تھی اور شال کو پشت پر بار بار درست کر رہی تھی۔۔
“کسوا کیا ہوا ایسی کیوں کانپ رہی ہوں تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟
زوارق خان آگے بڑھا اور اسے پشت سے پکڑ کر فکر مندی سے پوچھنے لگا پر اسکی انگلیوں نے جب کسوا کی بیک سائیڈ کو چھوا تو وہ یکدم سے سارا معاملہ سمجھ کر سنجیدگی سے اسے کلائی سے پکڑتا اور پھر اچانک سے اسکی پشت کو اپنے چوڑے سینے سے لگاتا ہوٹل کے اندر داخل ہوا اور اسے لیے سامنے ایک روم کی جانب تیزی سے بڑھا۔۔
“خان مم۔میں کب سے آپکو بتانا چاہتی تھی لیکن آپ غصہ کر رہے تھے تو مم۔میں ڈر گئی تھیں آپ کو بتانے سے لیکن پھر یہاں آ کر مجھے ایزی فیل نہیں ہوا تو میں آپکو بتانے سے خود کو روک نا سکی۔۔!!
روم میں پہنچ کر زوارق خان نے اسے چھوڑا اور خود رخ موڑ کر کھڑا ہوا تو کسوا گھبرا کر اپنی شال کو درست کرتی بولنے لگی۔۔
“پہلے چیک نہیں کر سکتی تھی تم ہاں اگر تمہیں یہاں کسی نے اس طرح دیکھ لیا ہوتا تو کسوا خان ہاں بتاؤ مجھے اب چپ کیوں کھڑی ہوں۔۔؟؟
وہ اسکے اوپر سے شال ہٹا کر سامنے بیڈ پر پھینک کر غصے سے چیخا تو کسوا شال اپنے اوپر سے ہٹتے جلدی سے اپنے ہاتھ پشت پر لے جا کر خود کو اس حالت میں دیکھتی خود کو سمندر کی گہرائیوں میں ڈبوتا ہوا شدت سے محسوس کرنے لگی تھی۔۔
“سس۔سوری خان مگر میں سچ کہہ رہی ہو مجھے بلکل بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ کب ہوا۔!!
وہ لرزتی ہوئی نیچے دیکھتے ہوئے ہلکی آواز میں کہنے لگی تو زوارق خان آگے بڑھا اور ہاتھ پیچھے لیں جا کر اسکی پشت سے اسنے اسکے دونوں ہاتھوں کو ہٹایا اور پھر سامنے لاتے ہوئے نرمی سے پکڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“آج تو لاپروائی کی ہے تم نے کسوا جان مگر آئیندہ ایسی لاپروائی کی تو میں بہت برا کروں گا تمہارے ساتھ اور وہ تمہیں سہنا مشکل ہو جائے گا۔۔!!
کسوا جو اسکی اتنی نزدیکی پر سخت سٹپٹا کر پیچھے ہونے لگی تھی لیکن زوارق خان اسکے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کمر پر لے جا کر باندھتا ہوا کہنے لگا۔۔
“جج۔جی خان مم۔میں ایسی لاپروائی اب غلطی سے بھی نہیں کرو گی۔۔!!
کسوا لرزتی ہوئی بولی تو زوارق خان نے آگے بڑھ کر بیڈ سے اسکی شال کو اٹھایا اور اسے پہنا کر اسکی پشت کو اپنے سینے سے لگا کر اسے لیے روم سے باہر نکلا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
عیشال لان میں اپنی بک سامنے چئیر پر رکھ کر بھولی تھی اب وہی لینے آگے بڑھ رہی تھی یہ دیکھے بغیر کہ پورے لان میں اس وقت وہ فاکس گھوم رہے تھے۔۔
“پلیز مم۔مجھے کچھ مت کرنا پلیز ڈاگ۔۔!!
عیشال مگن سی آگے بڑھ رہی تھیں کہ تبھی اپنے پیچھے غرانے کی آواز سن کر وہ ڈر کے مارے خود سے بڑبڑا کر وہی پر رکی اور پھر ڈرتے ہوئے اپنی آنکھیں اس جانب موڑنے لگی جہاں سے اسے یہ غراہٹ سنائی دیا تھا۔
“دیکھو گڈ ڈاگ مجھے کچھ مت کرنا بدلے میں بھی تمہیں کچھ نہیں کرو گی۔۔!!
وہ فاکس کو دیکھتی کانپتی آواز میں کہنے لگی لیکن اسے اپنی طرف غصے سے بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ پیچھے کی جانب آہستگی سے بڑھنے لگی۔۔
“دیکھو میں صنم سے کہوں گی تو وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا اور اخسم بھائی تو تمہیں مار ڈالیں گے۔۔!!
وہ انگلی اٹھا کر اس فاکس کو غصے سے دیکھتی کانپتی ہوئی کہنے لگی تو اسکے غصے سے کہنے پر پیچھے سے ایک فاکس نے اپنے نوکیلے دانتوں سے اسکی فراک کو پکڑا اور غصے سے اپنا سر جھٹک کر اسکی فراک کو کھینچا تو وہ نیچے سے پھٹتا چلا گیا اور اسکا پورا پیٹ نظر آنے لگا اور یہ دیکھ کر عیشال سرخ ہوئی اور جلدی سے اپنی فراک کو جو نیچے سے پھٹی تھی اسے پکڑ کر رونے لگی۔۔
“تم لوگ کتنے بدتمیز ہو بیڈ ڈاگ مم۔میں تو تم لوگوں سے دوستی کرنے کا سوچ بیٹھی تھیں اور تم لوگ کتنے چیپ نکلے۔۔!!
وہ فراک کو مضبوطی سے پکڑیں غصے سے انہیں دیکھتی چیخ کر کہنے لگی اور وہ سب ایک ایک کر کے اسکی جانب بڑھنے لگے اور عیشال انہیں اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتی شدت سے چیخ مار کر گھر کی طرف تیزی سے بھاگنے لگی مگر گھر کے دروازے کے سامنے پہنچ کر وہ نیچے گری۔۔
“خون۔۔!!
وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کچھ گیلا سا محسوس کرتی زور زور سے چیخنے لگی اور اسکی چیخ پر فاکس کا پورا گروپ الرٹ ہوا اور پھر تیزی سے اسکی جانب بڑھا۔۔
“آہہہہ۔۔۔!!
وہ زور سے چیخ مارتی رونے لگی ۔
صنم آپ کہا ہے دیکھے میری پیشانی سے خون نکل رہا ہے۔۔!!
وہ روتی چیخ چیخ کر شمش کو پکارنے لگی اور فاکس کے گروپ کو بے بسی سے اپنی جانب تیزی سے بڑھتے دیکھنے لگی۔۔
“نہیں مجھے تم جیسے بیڈ ڈوگز کا ڈنر نہیں بننا۔۔!!
وہ سختی سے انہیں دیکھتی چیخ کر بولی تو اسکی چیخ پر فاکس سخت غصے سے غرانے لگے اور باہر کار کو لاک کرتا شمش اور اسکے آگے سنجیدگی سے کھڑا اخسم شیرانی انکی غراہٹ پر اپنا اپنا سر اوپر اٹھا کر ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔۔
“ہوں نو شمش یہ فاکس صرف اس وقت غراہٹیں ہے جب کوئی انکے بے حد قریب ہوں او شٹ چلوں جلدی سے اندر اسے چھوڑو۔۔!!!
اخسم اپنے پیٹ سے بھل بھل بہتے خون کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھا اور اسے کار لاک کرتا دیکھا تو تیزی سے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ کو ڈور سے ہٹاتے ہوئے کہنے لگا اور خود تیزی سے گھر کی طرف بڑھا۔۔
“عیشو۔۔!!
شمش کو ڈر تھا کہ کہے عیشال تو نہیں لیکن پھر وہ اپنا سر جھٹک کر تیزی سے اخسم کے پیچھے بڑھا لیکن اندر پہنچ کر وہ سامنے کا منظر دیکھ کر عیشال کو پکارتے ہوئے ان فاکس کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھا۔۔
“عیشو جانم ریلیکس موو مت کرنا میں آ رہا ہوں۔۔!!
شمش نے اسکے ہلنے پر اسے سختی سے ٹوکتے ہوئے کہا اور آگے بڑھا لیکن سامنے کھڑے فاکس نے آگے بڑھ کر اسکے بازو کو پکڑ کر سختی سے کاٹا
“شمش۔۔!!!
اخسم جو سب فاکس کو اپنی جانب بلا رہا تھا جب شمش کے بازو کو بری طرح سے پکڑے فاکس پر اسکی نظر پڑی تو وہ غصے سے اس فاکس کو دیکھنے لگا اور پھر اپنا ریوالور نکال کر اس فاکس کے سر کا نشانہ لے کر اسنے فائر کر دیا تو فاکس سر پر گولی لگنے کی وجہ سے شمش کا بازو چھوڑ کر نیچے جا گرا۔۔
“عیشو جانم تم ٹھیک ہو نا انہوں نے تمہیں کاٹا تو نہیں ناں۔۔؟؟
خون شمش کے بازو سے نکل کر اسکے ہاتھوں کو سرخ کر رہا تھا لیکن وہ اپنی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھا اور عیشال کو اٹھا کر اسکے دونوں گالوں پر اپنے دونوں ہاتھ جو خون سے سرخ ہو رہے تھے رکھ کر اسے بغور دیکھتے ہوئے تڑپ کر اس سے پوچھنے لگا جو بری طرح سے رو رہی تھی۔۔
“نہیں صنم لیکن یہ دیکھے یہاں سے میرا خون نکل رہا ہے۔۔!!
عیشال نے معصومیت سے اپنا منہ بسور کر کہا تو شمش اسکی معصومیت سے کہنے پر زور سے ہنسنے لگا تو عیشال اسے ہنستے ہوئے دیکھ سخت چڑ کر اٹھی تو اسکے اٹھنے پر اسکا فراک جو فاکس کے کھینچنے پر پھٹ چکا تھا اسکے یکدم سے اٹھنے پر اسکا پیٹ صاف نظر آنے لگا جو شمش کی نظروں سے چھپ نہ سکا۔۔
“صنم۔۔!!
عیشال اسکی نظروں کو خود پر محسوس کرتی سخت سٹپٹاتی ہوئی اسکا نام لیں کر جلدی سے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا فراک پکڑ کر سامنے لا کر جلدی سے نیچے بیٹھی۔۔
شمش اسکی حرکت پر خوبصورتی سے مسکرایا لیکن اخسم داداکی موجودگی پر وہ صرف اسے خاموشی سے اپنی شریر نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
کچھ دیر بعد اخسم اور شمش کو اس ڈاکٹر نے آکر بینڈچ کیا جو مشاطہ کا علاج کر رہا تھا ان دونوں کو دوائی وغیرہ لکھ کر دوبارہ اس روم میں چلا گیا جہاں وہ نرس اور مشاطہ تھی۔
“شمش تم دونوں کھانا کھا کر ریسٹ کرو کل جلدی اٹھانا ہے ہمیں تاکہ ان لوگوں کو ڈھونڈ کر ختم کر سکے۔۔!!
اخسم صوفے سے اٹھا اور شمش کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو عیشال کے ساتھ بیٹھا اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔
“ٹھیک ہے سرکار۔۔!!
شمش نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو اخسم اسکی بات پر اپنا رخ موڑ کر اپنے روم کی جانب بڑھا جہاں تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹر گیا تھا۔۔
“عیشو جانم چلیں کھانا کھانے۔۔!!
شمش اسکے وہاں سے جاتے ہی عیشال کو کلائی سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہنے لگا یہ دیکھے بغیر کے اسکے اسطرح اچانک سے اٹھانے پر اسکی فراک جو فاکس کی وجہ سے پھٹا تھا وہ اسکے کھینچنے پر سارا پھٹ کر نیچے فرش پر جا گرا تھا اور یہ دیکھ عیشال سخت سٹپٹا کے اسے دیکھنے لگی جو اسکی طرف متوجہ نہیں تھا اور پھر تیزی سے اپنے دونوں ہاتھ اسنے اپنے پیٹ پر رکھے جو کپڑا ہٹنے کی وجہ سے صاف نظر آ رہا تھا تبھی شمش پلٹا تو وہ تیزی سے واپس صوفے پر بیٹھی۔۔
“کیا ہوا عیشو جانم کھانا نہیں کھانا کیا تم نے جو تم بیٹھ گئی۔۔؟؟
شمش نے تعجب سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جو شرم سے اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے سرخ چہرے کو نیچے جھکائے اپنے پیروں سے اپنی فراک کے اس ٹکرے کو اسکی نظروں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھیں جو اسکے کھینچنے پر پورا پھٹ کر نیچے اسکے سامنے گرا ہوا تھا۔۔
“صنم آپ جا کر کھا لیں مجھے بب۔بھوک نہیں لگ رہی ہے۔۔!!
وہ اسکی نظروں سے نروس ہو کر تیزی سے کہتی اپنا رخ موڑ کر جلدی سے اس روم کی طرف بھاگی جو شمش کا تھا وہ یہاں شادی سے پہلے اسی روم میں رہتا تھا۔۔
“جانم ایسے کیسے میں تمہارے بغیر کھانا کھاؤ۔۔!!
شمش بھی اسکے پیچھے روم میں داخل ہو کر کہنے لگا لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ساکت رہ گیا عیشال جو روم کے بیچوں بیچ کھڑی اپنے ہاتھ پیٹ سے ہٹا کر کھڑی تھی اسے روم میں اچانک سے داخل ہوتے دیکھ تیزی سے موڑی اور اسکی بے باک نظروں سے نروس ہو کر بری طرح سے کپکپانے لگی۔۔
“ہوں تو عیشو جانم تمہاری بھوک نہ لگنا کی وجہ یہ تھی۔۔!
وہ بے باکی سے کہتا قدم اسکی جانب بڑھانے لگا تو عیشال جو اسے چہرہ موڑ کر دیکھ رہی تھی اسے اپنے طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر سٹپٹاتی ہوئی بیڈ کی جانب تیزی سے بڑھی اور اسی افراتفری میں وہ سیدھا بیڈ کے اوپر منہ کے بل جا گری اور شمش اسے بیڈ پر منہ کے بل گرے دیکھ مسکرایا اور بیڈ کے اوپر اسکے نزدیک بیٹھا اور اسے بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جو سختی سے اپنی آنکھیں بھینچے بری طرح سے لرز رہی تھی تبھی اسکی نظریں نیچے اسکی شفاف پیٹ کی جانب بڑھی جسے وہ اس سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔
“جانم اب کیا فائدہ میں نے تو دیکھ لیا۔۔!!
وہ اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے پیٹ پر رکھے اسکی نازک انگلیوں کو نرمی سے چھوتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو عیشال اسکی نظروں اور لمس سے سخت کانپتی ہوئی اپنی سانسوں کو منتشر ہوتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔
“ص۔صنم پلیز پیچھے ہٹے۔۔!!
وہ اسی طرح اپنی آنکھیں سختی سے بند کیے تڑپ کر بولی تو شمش اسکی بات پر نیچے جھکا اور اپنے ہونٹ اسکی پیشانی پر رکھتے ہوئے اسے اپنی مہر محبت ثبت کرتا پیچھے ہٹا اور اسے دیکھنے لگا جو اسکی حرکت پر سرخ ہوتی سختی سے اپنی آنکھیں میچ رہی تھی۔۔
“نو عیشو جانم اب نہیں بہت ہوگیا اس طرح بیزار زندگی گزار کر اب ہم اپنی زندگی کو ایک نئے انداز میں جیے گے اور اسکی شروعات آج اور ابھی سے کرتے ہیں تو پھر کیا خیال ہے محترمہ تمہارا تمہیں بھی بھوک نہیں لگ رہی اور مجھے بھی تو کیوں نہ یہ رات آنکھیں کھول کر ہم دونوں اس روم میں گزار لیں۔۔؟؟
وہ اپنی انگلی سے اس کے کندھوں کو چھو کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا اور عیشال اسکی بات پر شرم سے اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے پر رکھ کر اسے راضا مندی دے گئی تھی۔۔
“اوہ عیشو جانم آئی لو یو۔۔!!!
شمش کہتا ہوا اسکے اوپر جھکا اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھتا شدت سے چھونے لگا اور عیشال اسکی شدت پر سخت سٹپٹا کر پیچھے ہٹنے لگی لیکن اسنے اپنے ایک ہاتھ سے اسکی دونوں کلائیوں کو سختی سے جکڑا اور پھر اوپر بیڈ کراؤن سے لگا کر دوسرے ہاتھ کو اسکی پشت پر لے جا کر اسکی فراک کی زپ کو آہستگی سے کھولنے لگا۔۔
“یی۔۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں صنم۔۔؟؟
عیشال اسکے پورے روم میں اندھیرا کرنے پر اور پھر فراک کو کندھوں سے سرکانے پر شرم سے کانپتی ہوئی کہنے لگی تو شمش نے اپنی انگلی کو اسکی ہونٹوں پر رکھ کر اسے خاموش کیا اور پھر اسکی گردن پر جھکا اور شدت سے اپنا لمس چھوڑتا نیچے کی طرف سفر کرنے لگا اور عیشال اسکی شدتوں بھرے لمس سے سخت کانپ کر اپنے دونوں ہاتھ جو اسکی گرفت میں قید تھے انہیں چھڑانے لگی لیکن بے سود وہ ان پر اور دباؤ بڑھا کر انہیں اپنی قید میں مزید جکڑنے لگا۔۔
“عیشو جانم ریلیکس کچھ نہیں کر رہا بس وہی کر رہا ہوں جو مجھے ٹھیک لگ رہا ہے۔۔!!
شمش اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جو بری طرح سے بے آواز رو رہی تھی تبھی اسکی کلائیوں کو چھوڑتا اپنا ہاتھ اسکی کمر پر ڈال کر اسے اپنے سینے سے لگاتا محبت پاش لہجے میں کہنے لگا توعیشال اسکی پشت پر ہاتھ رکھے زور زور سے رونے لگی۔
“اچھا عیشو جانم ٹھیک ہے میں پیچھے ہٹ رہا ہوں تم پلیز رونا مت اب میں اس وقت تمہیں ہاتھ لگاؤ گا جب تم ہاں کرو گی۔۔!!
وہ اسکے آنسوؤں کو اپنے عنابی ہونٹوں سے چن کر اسکے گالوں پر ہاتھ رکھتا کہنے لگا تو عیشال اسکی بات پر اپنی گرفت اسکی پشت پر اور بڑھانے لگی۔۔
“صنم آپ بہت برے ہیں۔۔!!
وہ سو سو کرتی رو کر بولی تو شمش اسکی بات پر مسکرایا اور اپنے ہونٹ اسکی پیشانی پر رکھتا وہ اسے اپنے چوڑے سینے سے لگاتا اور پھر سامنے رکھے کمبل کو اپنے اور اسکے اوپر اوڑھا کے اپنی آنکھیں موند کر اسکی آنکھوں کی نمی کو اور بری طرح سے لرزتے ہونٹوں کو اپنے سینے پر دل کے مقام پر شدت سے محسوس کرتا بہکنے کے ڈر سے ضبط سے اپنی مٹھیوں کو زور سے کھسنے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“سر ہم آپکی وائف کو بھوکے پیٹ انجیکشن نہیں لگا سکتے آپ پلیز انہیں سمجھائیے یہ کب سے ضد کر رہی ہے کہ کھانا نہیں کھانا اسے دیکھے ہم نے کتنی مرتبہ کھانا کا پوچھا ہے انہوں نے ایک پلیٹ تک کو نہیں چھوا ہے۔۔!!
نرس نے اخسم کے روم میں داخل ہوتے ہی خوف سے سامنے ٹیبل پر بہت سے پلیٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اخسم نے ٹیبل پر رکھے برتنوں کو پھر اسے دیکھا جو وہیل چیئر پر رخ کھڑکی کی طرف کیے باہر دیکھ رہی تھی۔۔
“تُم جاؤ باہر میں دیکھتا ہوں۔۔!!
نرس کو باہر جانے کا کہہ کر وہ قدم اسکی جانب بڑھانے لگا تو نرس اسکے باہر جانے کا کہنے پر تیزی سے روم سے باہر نکلی۔۔
“مش جانم تم کھانا کھانے سے کیوں انکار کر رہی ہوں تمہیں پتہ بھی ہے نا اس طرح تم خالی پیٹ رہی نا تو تم بیمار پڑ جاؤ گی اگر تم اسی طرح بھوکی رہی تو تمہارا علاج کیسے کرے گے یہ لوگ اور یہ ضدی بچوں کی طرح منہ پھلا کر تم مجھے بلکل بھی اچھی نہیں لگ رہی ہو۔۔!!
وہ وہیل چیئر کو گھوما کر اپنی طرف کرتا ہوا اپنے دونوں ہاتھ وہیل چیئر کے ہتھے پر رکھ اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اسکے پھولے ہوئے گالوں کو محبت سے چھو کر کہنے لگا۔۔
“مجھے تمہارے حرام کے پیسوں سے خریدی گئی کسی بھی چیز کو کھانا تو دور کی بات دیکھنا تک پسند نہیں ہے اور تم پوچھ رہے ہوں کہ میں کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہو۔۔!!
وہ اپنے دونوں ہاتھ جو وہیل چیئر کے ہتھے پر رکھے تھے اسکے ہاتھ رکھنے پر وہ تیزی سے انہیں ہٹاتی ہوئی غصے سے کہنے لگی۔
“جانم تُمہیں تو اب ساری زندگی میرے ساتھ رہنا ہے تو تم اس طرح بھوکی تو نہیں رہ سکتی ہوں چلو آؤ ہم دونوں مل کر کھانا کھاتے ہیں۔۔!!
وہ نیچے سے اٹھا اور اسے کہنے لگا تو اچانک سے مشاطہ کو اسکی سفید شرٹ پر اسکا خون جو شرٹ کو بھگو کر نیچے کارپٹ پر گر رہا تھا نظر آیا تو وہ طنزیہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھنے لگی جو نیچے کارپٹ پر گرتے خون کو دیکھ رہا تھا۔۔
“اخسم شیرانی تمہارے خیال سے میں تمہارے ساتھ بیٹھ کر خوشی خوشی تمہارا اس طرح کسی کے خون کو بہا کر کمائے گئے حرام کے پیسوں سے خریدی گئی چیزوں کو کھاؤ گی تو یہ تمہاری بھول ہے میں بھوکی رہ کر یہ دن گزار تو سکتی ہوں لیکن تمہارے پیسوں سے خریدی گئی کسی بھی شے کو ہاتھ نہیں لگا سکتی ہوں۔۔!!
مشاطہ شدت نفرت سے اسے دیکھتی غرا کر بولی تو اخسم شیرانی اسکی بات پر سخت نظروں سے اسے دیکھتا اپنی مٹھیاں ضبط سے بھینچنے لگا۔۔
“مشی جانم تمہیں ہر حال میں یہ کھانا ختم کرنا پڑے گا ورنہ تم مجھے اچھے سے جانتی ہو کہ میں باتوں کی زبان سے زیادہ پستول کی زبان پر یقین رکھتا ہوں۔۔!!
اخسم ریوالور سامنے ٹیبل پر بلکل اسکی نظروں کے سامنے رکھتا سپاٹ لہجے میں کہہ کر کھانے کی پلیٹ اسکے سامنے کرتے ہوئے اسے کھانے کے لیے کہنے لگا۔۔
“تم مجھے بے شک گولی مار دو مگر میں یہ کھانا ہر گز نہیں کھاؤ گی سمجھے تم کمینے انسان۔۔!!
مشاطہ ریوالور کی پرواہ کئے بغیر غصے سے پلیٹ خود سے دور کرتی چیخ کر بولی تو اخسم شیرانی نے سپاٹ چہرے کے ساتھ آگے بڑھ کر ایک نوالہ بنایا اور زبردستی اسکے منہ میں ڈالنے لگا اور مشاطہ اسکی حرکت پر سخت سٹپٹا کے اسے دیکھنے لگی جو سرخ چہرہ لیے غصے سے نوالہ بنا کر اسے کھلا رہا تھا۔۔
“پیچھے ہٹوں مجھے نہیں کھانا دور کرو اسے تم سمجھتے کیوں نہیں کمینے غنڈے بدمعاش انسان۔۔!!
وہ اپنا سرخ چہرہ اوپر اٹھا کر اور اسے اپنی سبز آنکھوں سے غصے سے دیکھتی اور پلیٹ کو خود سے دور کرتیں ہوئے جو اخسم شیرانی سامنے کھڑا ضد سے اسے نوالہ بنا بنا کر غصے سے کھلا رہا تھا کہنے لگی۔۔
اخسم شیرانی اسکی بات پر سخت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پلیٹ کو سامنے ٹیبل پر غصے میں آ کر رکھتے ہوئے آگے بڑھا اور اسکے اوپر جھکتے ہوئے شدت سے وہ اسکی دونوں کلائیوں پر گرفت کس کر انہیں پیچھے وہیل چیئر کی پشت پر لگاتا سپاٹ چہرے کے ساتھ اسکے گلابی ہونٹوں پہ جھکا تو مشاطہ اسکی حرکت پر اپنی آنکھوں کو پھاڑے اسے اپنے اوپر کسی بادل کی طرح برستے ہوئے دیکھنے لگی۔۔
اخسم شیرانی اپنے ہاتھوں کی سخت گرفت سے اسے دونوں کلائیوں سے سختی سے پکڑے اسکی نرم گلابی ہونٹوں کو ابکے نرمی سے چھو رہا تھا کہ وہ اسکی سانسوں کو نڈھال محسوس کرتا تیزی سے پیچھے ہٹا اور اسے دیکھنے لگا جو مشکل سے سانس لے رہی تھی۔۔
“تم گھٹیا انسان میرے قریب آنے کی کوشش مت کیا کروں مجھے تم سے سخت گھن آنے لگتی ہے یہ بات کیوں نہیں سمجھتے ہوں تم ہاں کہ مجھے تمہاری اتنی سی قربت سے بھی تکلیف ملتی ہے میں تمہیں اپنے آس پاس برداشت نہیں کر سکتی ہو تو پھر کیوں تم بار بار میرے اتنے نزدیک اتنے زیادہ قریب آنے کی کوشش کرتے ہوں۔۔!!
وہ شدت سے اسے خود سے دور کرتی چیخ کر بولی تو اخسم شیرانی کے سینے میں اسکی اپنے لئے اتنی زیادہ نفرت دیکھ ایک درد سا اٹھتا ہوا محسوس ہوا تو وہ اپنا سینا بری طرح سے مسلتا ہوا اچانک سے نیچے اسکے قدموں کے قریب بیٹھا اور سر جھکا کر کارپٹ کو گھورنے لگا۔۔
‘تم اتنی نفرت کرتی ہو مجھ سے مشی کے جب تمہیں میری موت کی خبر سنایا جائے گا تو تم اس خبر کو سن کر رونے کے بجائے خوش ہو جاؤ گی کیا سچ میں مش تم ایسا کرو گی میرے مرنے کا سن کر بولو کیا تم خوشی محسوس کرو گی میری موت کا سنتے ہاں بولو جواب دو۔۔؟؟
وہ اپنا سر اسکی گود پہ رکھتا درد بھری آواز سے کہنے لگا تو مشاطہ نے غصے سے اسکا سر اٹھا کر اسے شدت نفرت سے دیکھا۔
اخسم شیرانی اسکے جھٹکے سے سر اٹھانے پر اسکی سبز آنکھوں میں اپنی نیلی سمندروں جیسی آنکھوں کو ڈال کر ایسے دیکھنے لگا جیسے اپنی نظروں سے وہ اسکی آنکھوں سے اپنے لیے نفرت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن یہ نا ممکن تھا وہ اسے اپنی ماں کا قاتل سمجھتی آ رہی تھی تو وہ کیسے اس سے نفرت نا کرتی۔۔
“اخسم شیرانی تو تمہیں سچ سننا ہے تو سنو ہاں میں اس وقت بہت زیادہ خوش ہوگی جب تمہاری موت کی خبر سنو گی۔۔!!
وہ اسے نفرت سے کہہ کر بغور دیکھتی ایک آخری امید بھی اس سے چھین گئی تھی اور وہ خالی دامن لیے لٹے پٹے انداز میں یکدم سے نیچے فرش پر گرتا چلا گیا جبکہ مشاطہ اسے اس حالت میں دیکھ اپنے دل میں سکون اترتا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“خان یہ آپ کو کیا ہوا ہے آپکو یہ چچ۔چوٹ کیسے لگی ہے اور یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
زرلش کچن میں اپنے لیے کافی بنا رہی تھی باہر لاؤنج میں کسی کی ہلکی کراہ سنتی وہ تیزی سے کچن سے باہر نکلی تو عرشمان خان کو سختی سے اپنی آنکھیں میچ کر اپنا بازو پکڑے اپنے روم کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھتی تیزی سے آگے بڑھی اور اسکے مضبوط شانے پہ اپنا نازک ہاتھ رکھتی پریشانی سے اس سے پوچھنے لگی
عرشمان اسے جواب دینے کے بجائے اسکی کمر پر ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگا کر روم کے اندر داخل ہوا تو زرلش اسکی قربت پر اسکی گرفت میں بری طرح سے خود میں سمٹنے لگی۔۔
“خان آپ کچھ بتاتے کیوں نہیں کہ یہ چوٹ آپ کو۔۔!!
زرلش کے الفاظ اسکے ہونٹوں میں دب گئے کیونکہ عرشمان خان نے جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچ کر اسکی کمر پر ہاتھ سختی سے جکڑا اور پھر اسکی نازک پنکھڑیوں جیسے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر وہ اسے پہلی بار اپنا لمس اس طرح بخشنے لگا اور وہ آنکھیں پھاڑے اسے یہ کرتا ہوا شرم سے دیکھنے لگی۔۔
“خانی تم بہت بولتی ہوں اور میں نے تمہیں پہلے بھی وارن کیا تھا نا کہ رات کے بارہ بجے کے بعد میرے روم میں کبھی بھی مت آنا ورنہ میں پھر جو کروں گا تمہارے ساتھ اسکی زمہ دار تم خود ہوگی اب دیکھو سارے ہتھیاروں سے لیس ہو کر تم رات کے بارہ بجے میرے روم میں کھڑی مجھے اس حالت میں بھی بہکانے پر مجبور کر رہی ہوں۔۔!!
اسے خود سے الگ کرتا وہ اپنے زخمی بازو کی جانب اور پھر اسکے بلیک شرٹ اور بلیک ٹراؤزر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا جو اپنے لمبے بالوں کو پشت پر کھول کر بلیک شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس گلابی ہونٹوں کو سختی سے دانتوں کے درمیان دبائے اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔
“خان آپ اب بتا بھی دیں کہ آپکو یہ چوٹ کیسے لگی ہے۔۔!!
وہ اسکی نظروں سے سخت سٹپٹاتی ہوئی تیزی سے بولی تو عرشمان اسکی بات پر آگے بڑھا اور اپنے بازو کو دیکھنے لگا جو اسنے گھر آنے سے پہلے ہاسپٹل سے بینڈچ کرواتے ہوئے آیا تھا۔۔
“خانی تم کیوں آئی ہو یہاں میں نے تمہیں اس دن کہا تھا نا کہ رات کے وقت میرے روم میں مت آیا کرو اور اب تم یہاں سے صبح ہوتے ہی باہر نکلوں گی۔۔!!
وہ اسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا اسکی گردن کو اپنے عنابی ہونٹوں سے چُھو کر بوجھل لہجے میں کہتا اسے لیے پیچھے بیڈ کی جانب بڑھا اور اسے ایک ہی جھٹکے میں بیڈ پر گرا کر وہ اپنی شرٹ کے بٹنو کو کھولنے لگا اور زرلش اسے یہ کرتا ہوا دیکھ سخت سٹپٹا کر اپنی آنکھیں بند کرتی لرزنے لگی۔۔
“خخ۔خان جی یہ آپ کیا کر رہے ہیں پلیز ایسا مت کریں میں کیا جواب دو گی کل سب کو آپ پلیز مجھے جانے دیں میں آئیندہ ایسی غلطی نہیں کرو گی۔۔!!
وہ اسے اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھتی خوف سے پیچھے کھسکتی ہوئی کہنے لگی تو عرشمان خان نے اسے پیروں سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کیا اور اسکی نازک کمر پر ہاتھ ڈال کر اسے اپنے چوڑے سینے سے لگاتا اسکی پشت پر اپنا ہونٹ رکھتا اسے کپکپانے پر مجبور کرنے لگا۔۔
“خانی یہ تّمہیں میرے پیچھے آنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔!!
وہ اسکی شرٹ کندھوں سے ہٹا کر اپنے ہونٹوں سے اسکے مومی نازک کندھوں کو چھوتا مخمور آنکھیں گلابی ہونٹوں پر مرکوز کرتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“خان پلیز نہیں خان آپ ایسا نہیں کر سکتے ہیں۔۔!!
اسے اپنے ہونٹوں پہ جھکتا دیکھ زرلش شدت سے روتی ہوئی کہنے لگی لیکن آج عرشمان خان کہا اسکی سننا چاہتا تھا آج تو وہ صرف اپنی دل کی سن رہا تھا۔۔
“زر ریلکس یہاں میری طرف دیکھو میں جو بھی کر رہا ہوں وہ میرا حق ہے اور یہ میں غلط نہیں کر رہا ہوں کیونکہ اب میں صرف اپنے دل کی سننا چاہتا ہوں اور تم اس بات کی فکر مت کرو کہ گھر والے کیا کہے گے تمہیں صبح میرے روم میں دیکھ کر تو وہ تم مجھ پر چھوڑ دو کل میں تمہیں اپنے ساتھ لاہور لے کر جا رہا ہو وہاں میرا ٹرانسفر ہوا ہے۔۔!!
وہ اسے کہتا نرمی سے اسکی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے لگاتا اسکی شرٹ کو کندھوں سے ہٹانے لگا جبکہ زرلش اسکی بات پر سختی سے اپنی آنکھیں بند کیے اسکی لمس اپنی سرخ ہوتے رخسار پر محسوس کرتی شدت سے کانپنے لگی۔۔
عرشمان خان اسے شانت کرنے کے بعد اسکا رخسار چھوتا پھر نیچے گردن پر جھکا اور اپنی نرم لمس سے اسے شرشار کرنے لگا اور پھر وہ گردن سے اوپر ٹھوڑی کو چھوتا نازک ہونٹوں پر جھکا اور شدت سے انہیں چھونے لگا جبکہ زرلش اسکی شدتوں پر سخت کانپتی ہوئی بیڈ شیٹ کو دبوچنے لگی اور اسی طرح ساری رات عرشمان خان اسکے اوپر جھکا اپنی شدتیں لٹا کر اسے ٹرپنے پر مجبور کرتا رہا تھا اور وہ اسکی شدتوں کو بڑے ہی مشکل سے برداشت کرتی رہی تھی۔۔