Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dark Heart

By Sumyia Baloch

لارشا پیخاوڑ تا کامیز تور مالا راورا۔‎ لارشا پیخاوڑ تا کامیز تور مالا راورا۔‎ طازہ ٹازہ گلونہ ڈری سیلور مالا راورا۔‎ طازہ ٹازہ گلونہ ڈری سیلور مالا راورا‎ زوارق خان ناک کو پکڑے ناگواری سے بھینسوں کو دیکھ رہا تھا ایک خوبصورت مردانہ آواز پر اپنا سر اوپر اٹھا کے اسنے سامنے کھڑے خوبصورت نوجوان کو دیکھا جو گنگنا رہا تھا۔ لیلہ چی چیرتہ قدام کدے۔‎ لیلہ چی چیرتہ قدام کدے۔‎ آو چیرتہ قدم کدے باجوڑ گلونا۔‎ ھلٹا گڈر ک تزا کیجی زیڑ گلونا۔‎ کامیز وہ بھینسوں کے لیے چاڑا بنا کر شاید وہاں انہیں ڈالنے کے لیے آیا تھا جو گنگناتے ہوئے سب بھینسوں کو پیار سے دیکھ رہا تھا یہ دیکھ زوارق خان نے ایک گہری سانسس خارج کیا اور آگے بڑھا۔۔ آو ٹور آو ٹور مالا راورا۔ تبھی یکدم سے اس نوجوان نے اپنے ایک کان پر ہاتھ رکھا اور ہاتھ کو فضا میں بلند کر کے زور زور سے اپنی سُریلی آواز کو بے سُرا کرتے ہوئے اسے وہی رکنے پر مجبور کرتا اس بول کو گانے لگا۔۔ "اے لڑکے یہ تُم کیا کر رہے ہو میرے کانوں کے پردے اففففف خاموش ہو جاؤ تُم سن نہیں رہے ہو چپ ہو جاؤ ورنہ میں تمہیں ایک مکا مار کر خاموش کرواؤ۔۔!! زوارق خان نے اسکی بے سُریلی آواز پر سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا تو وہ نوجوان اسکی باتوں کو اگنور کرتا اسی طرح زوارق خان کے کانوں میں اپنی بے سُریلی آواز کا جادو جگانے لگا۔۔ آو ٹور آو ٹور مالا راورا۔‎ طازہ ٹازہ گلونہ ڈری سیلور مالا راورا۔‎ طازہ ٹازہ گلونہ ڈری سیلور مالا راورا۔‎ زوارق خان اسکی بے سُریلی آواز پر اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں پہ رکھ کے اِدھر اُدھر کچھ ڈھونڈنے لگا تاکہ اسے چپ کرا سکے تبھی اسکی نظریں بھینسوں کے گوبر پر پڑی تو وہ آگے بڑھا اور سخت غصے سے اپنے ہاتھوں میں گوبر بھر کر اسکی طرف بڑھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پکڑ کر سارا گوبر اسکے چہرے پر مل دیا تو وہ نوجوان اپنی سنگنگ چھوڑ کر اسکی حرکت پر ساکت رہ گیا۔۔ "اوہ ماڑا یہ کیا کیا خان ہمارا سارا چہرہ بیگاڑ دیا۔۔!! نوجوان نے اپنے چہرے سے گوبر ہٹاتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو زوارق خان نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔ "اور خاناں تم کیا اچھا کام کر رہے تھے کب سے اپنی سُریلی آواز کا جادو جگا کر میرے کانوں کا ستیاناس کر کے ہاں بتاؤ مجھے۔۔!! وہ زور سے چیختے ہوئے کہنے لگا تو نوجوان نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ "خان پہلی بات میرا نام صفدر خان ہے اور یہ تو ہماری بہن نے ہمیں کہا کہ تُمہیں یہ گانا بہت پسند ہے تو ہم نے تمہیں سنایا کیا غلط کیا بتاؤ ہاں۔۔!! نوجوان نے اپنا نام بتاتے کے ساتھ اپنی بہن کا کہا تو اسکی کم عقلی پر وہ اسے سخت نظروں سے گھورتا اپنا وہی ہاتھ جو گوبر سے گندہ ہو چکا تھا پیشانی پر رکھتا پیچھے رکھے چارپائی پر بیٹھ کر اسے بغور دیکھنے لگا جو شکل سے ہی بے وقوف لگ رہا تھا۔۔ "خانان تمہاری بہن نے کہا اور تم نے عمل کیا ہاں اب یہ بھی بتا دو کہ تم اور تمہارا سارا خاندان کیوں مجھ سے دشمنوں کی طرح پیش آ رہا ہے آخر میں نے تم لوگوں کا کیا بیگاڑا ہے ہاں بولو مجھے۔۔؟؟ زوارق خان کی بات پر نوجوان نے اسکی طرف دیکھا لیکن جب اسکی نظریں اسکی پیشانی پہ لگے گوبر پر پڑی تو وہ زور سے ہنسنے لگا۔۔ "کیا میں نے تُمہیں کوئی لطیفہ سنایا ہے خاناں جو تم ہنس رہے ہو۔۔؟؟ اسے انگلی اپنی جانب اٹھاتے ہوئے دیکھ وہ سخت غصے سے اٹھا اور اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔ "خاناں تمہاری پیشانی پر لطیفے سے بھی بڑا کچھ لگا ہے ہاہاہاہا۔۔!! اس نوجوان نے ہنستے ہوئے اسکی پیشانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ اسے گھورتا باڑے سے باہر نکلا اور اس چھوٹے سے گھر میں واشروم کی تلاش میں نکلا۔۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥