Dark Heart By Sumyia Baloch Readelle50185 Episode 20
Rate this Novel
Episode 20
💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣
“ابے یار یہ لوگ کہاں گئے۔۔؟؟
عرشمان خان جو پیچھے بیٹھا اُن لوگوں پر نظر رکھے ہوئے تھا جب اچانک سے اپنے سامنے ایک فیملی کو دیکھ کر وہ اٹھا تو سامنے انہیں نہ پاکر سخت غصے سے کہنے لگا۔۔
“سر پلیز آپ ریسٹورنٹ سے باہر چلے جائے کب سے ہمارے کسٹمر برداشت کر رہے ہیں اس انڈوں کی سیمل کو پلیز آپ ہماری مجبوری کو سمجھے۔۔!!
ریسٹورنٹ کا مینیجر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا کیونکہ اس نے یہاں آنے سے پہلے اسے اپنی آئی ڈی دیکھا کہ انہیں کچھ دیر یہاں رہنے کے لیے کہا تھا۔۔
“شاید تمہارے اونر کو یہ ریسٹورنٹ عزیز نہیں ہے مینجر صاحب۔۔!!
عرشمان اسی طرح کرسی پر بیٹھا سنجیدگی سے کہنے لگا تو منیجر اسکی بات پر ڈرتے ہوئے تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔
“نہیں سر۔۔!!
مینجر نے کہا۔
“اوہ اسکا مطلب اسے اپنا ریسٹورنٹ عزیز نہیں ہے ٹھیک ہے میں ابھی اسکا یہ ریسٹورنٹ سیل کروا دیتا ہوں پھر بناتے رہنا سڑکوں پر کھانا اور اپنے کسٹمرز کو کھلاتے رہنا۔۔!!
وہ اسکی بات پر سخت نظروں سے اسے دیکھتا کہنے لگا تو مینجر اسکی بات پر سٹپٹا کے اسے دیکھنے لگا۔۔
“نہیں سر میرا مطلب ہے ہمیں یہ ریسٹورنٹ بے حد عزیز ہے اسی لیے تو آپ کو یہاں سے جانے کا کہہ رہے ہیں ورنہ ہماری مجال کہا کہ ہم آپ کو یہاں سے نکالتے۔۔!!
وہ گھبراتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ٹھیک ہے میں تمہاری مجبوری کو سمجھ گیا لیکن لیکن میں یہاں سے پھر بھی نہیں جاؤ گا ہاں اوپر مجھے ان لوگوں کے پاس جانا ہے جو ابھی اوپر گئے ہیں۔۔!!
وہ سگریٹ سلگا کر سنجیدگی سے اوپر کی طرف جانے والی سیڑھیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اوکے سر جیسے آپکی مرضی۔!!
مینجر پرسکون ہوتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ٹھیک ہے جب تک میں اوپر اپنے کپڑے چھین کر کے آؤ تم میرے لیے کافی تیار کرواؤ۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھا ابھی وہ اوپر پہنچا ہی تھا اچانک سے وہاں کی لائٹ چلی گئی تو وہ بدمزہ ہو کر اندازے سے اپنے قدم آگے بڑھانے لگا تبھی اسکے پینٹ کی پوکٹ میں کسی نے پٹاخوں کا پیکٹ رکھا۔۔
زوردار آواز کے ساتھ عرشمان خان جلن کی وجہ سے اپنے ہاتھ پیچھے لے جا کر زور زور سے اچلنے لگا اور ساتھ میں اس انسان کو بھی زور زور سے گالیاں بکنے لگا جس نے اسکے ساتھ یہ حرکت کیا تھا۔۔
“عرشمان خان میرا صبح سے آملیٹ کھانے کا بہت دل کر رہا تھا تھینک یو تم میرے لیے لاہور سے انڈے لے کر آئے ہوں۔۔!!
ابھی وہ ان پٹاخوں کا کچھ کرتا کہ ایک سپاٹ آواز اسکے سماعتوں سے ٹکرایا تو وہ آواز کو پہنچان کر ڈرنے لگا۔۔
“یار لالہ آپ ڈاکٹر ہے کہ قصائی۔۔!!
عرشمان ابھی تک جلن سے بے حال تھا اسکی موجودگی پر سخت چڑتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“نہیں چھوٹے خان تصحیح کر لوں اس وقت نا میں ڈاکٹر ہو نا ہی قصائی اس وقت میں صرف شیف ہو۔۔!!
وہ اس نالائق کو میسج کرتا ہوا کہنے لگا جو نیچے اسکے حکم پر یہاں کی لائٹ بند کرنے گیا تھا۔۔
“شمویل لالہ صرف آپکی وجہ سے میں وہاں لاہور میں اپنی بیوی کو اکیلے چھوڑ کر آیا ہوں واپس مری اور یہاں آپ کو آملیٹ کھانے کا سوجھ رہا ہے۔۔!!!
لائٹ کے آتے ہی وہ اسکی جانب بڑھا جو بلیک ہوڈی سے اپنا چہرہ چھپائے ہاتھوں میں دستانے پہنے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔
“میرے پیارے چھوٹے سے بھائی تو میں نے تمہیں یہ نہیں کہا تھا کہ تُم اپنی بیوی کو وہاں اکیلا چھوڑ کر آؤ ہاں میں نے یہ ضرور کہا تھا کہ ان لوگوں کو وہاں سے یہاں آنے مت دینا ورنہ میں تمہارا قیمہ سینڈوچ بنا کر اپنے کتوں کے آگے ڈال دو گا۔۔!!
ہوڈی نیچے گراتے ہوئے وہ اپنی بھاری گھمبیر آواز میں کہتا اسے ترترانے پر مجبور کر گیا۔۔
“واہ شمویل لالہ آپ نا اپنے اِس اصل لُک میں بلکل ہیرو لگ رہے ہیں قسمے وہ سانولے رنگ میں اخسم شیرانی بن کر آپ نا بلکل غنڈے لگ رہے تھے۔۔!!
اسکے سرخ و سفید چہرے اور خوبصورتی سے تراشے گئے بیرڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو شمویل خان نے اسے سختی سے گھورا۔۔
“شٹ اپ عرشمان خان اِس وقت میں تُم سے اپنی لُک کی تعریفیں سننے کے لیے نہیں آیا اپنا کام کرنے آیا ہوں اور تُم بھی خاموشی سے چلوں میرے پیچھے وہ لوگ اس روم میں میٹنگ کر رہے ہیں۔۔!!
وہ سختی سے اُسے ڈپٹ کر اپنا ہوڈی دوبارہ درست کرتا ماسک سے اپنے چہرے کو اچھے سے کور کرتے ہوئے روم کی جانب بڑھا اور پیچھے عرشمان خان بھی اسکی پیروی میں آگے بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
” بارش۔۔!!
لاہور کی حددود میں داخل ہوتے ہی شمش نے کار سائڈ پر روکتے ہوئے اسے سچائی بتانے کیلئے اپنا سر جھکاتے ہوئے کچھ دیر سوچا کہ اسے بتانا چاہیے یا نہیں لیکن تھوڑی دیر بعد اسکی زوردار چیخ پر اسنے سر اوپر اٹھا کر اسے دیکھا جو باہر دیکھ رہی تھی۔۔
“ہاں بارش بہت تیز ہوتی جا رہی ہے تُم یہی بیٹھنا باہر مت نکلنا۔۔!!
وہ اسے باہر نکلنے کے لیے دروازہ کھولتے ہوئے دیکھتا جلدی سے آگے بڑھا اور اسے کلائی سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا کہنے لگا۔۔
“مگر مجھے باہر بارش میں بھیگنا بہت زیادہ پسند ہے پلیز جانے دے ناں پلیز۔۔!!
وہ اسے منت کرتی ہوئی معصومیت سے دیکھ کر کہنے لگی تو شمش نے سر نہ میں ہلایا اور باہر دیکھنے لگا بارش کی تیز بوچھار کو دیکھتا وہ عیشال کو دیکھنے لگا جو خفگی سے منہ پھلا کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔
“اوکے لیکن بارش میں زیادہ بھیگنا نہیں ہے بلکہ یہ رین کوٹ پہن کر باہر نکلنا۔۔!!!
وہ اُسے اپنا رین کوٹ تھما کر بولا تو عیشال رین کوٹ کو ساکت نظروں سے دیکھتی اسے کہنے لگی ۔
” یہ اتنا بڑا کوٹ میں پہنو گی کیسے۔۔؟؟
وہ اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو شمش نے اسکی طرف دیکھا اور کوٹ کو اسے پہننے کے لئے کہنے لگا۔۔
“جب تک یہ نہیں پہنو گی میں تمہیں باہر نکلنے نہیں دو گا۔۔!!
اسے کوٹ پہننے کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو عیشال منہ بسور کر کوٹ پہننے لگی۔۔
“اب میں جاؤ۔۔؟؟
برے برے منہ بناتی وہ اسے پوچھنے لگی تو اسکی شکل دیکھتا شمش اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتا آگے جھک کر دروازہ کھولتے ہوئے اسے باہر نکلنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔
“عیشو دھیان سے۔۔!!
وہ کار سے باہر نکل کر سامنے کی جانب تیزی سے بڑھی تو پھسلن کی وجہ سے اسکا پیر رپٹا اور ابھی گرتی کہ شمش جو کار سے باہر نکل کر اسی کی جانب بڑھ رہا تھا وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اسے کمر سے پکڑ کر کہنے لگا۔۔
“تھنک گاڈ کہ آپ نے مجھے پکڑا ورنہ میں گر جاتی۔۔!!
وہ ڈرتی ہوئی اس سے لگ کر بولی تو شمش نے اسکی کمر پر گرفت سخت کیا اور اسے اپنے سینے میں بھپنچتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“جانِ شمش تُمہیں پتہ ہے “انت الحات”کا مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب ہے۔!!
تم زندگی ہو میری”
اور پتہ ہے زندگی کسے کہتے ہیں۔۔۔؟؟
سانس لینے کو اور میری ڈکشنری میں زندگی تمہیں کہتے ہیں تم ہو میری زندگی شمش بدر کی انت الحات اور بھلا میں اپنی زندگی کو کیسے گرنے دیتا ہاں اور کیسے میں اسے تکلیف پہنچنے دے سکتا ہو۔!
اُسکا رخ اپنی طرف کرتا وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا اور بارش کی تیز بوندے ان دونوں کے اوپر گر کر انہیں مکمل طور پر بھیگا چکی تھیں وہ دونوں سب کچھ بلائیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈوبے ہوئے تھے کہ تبھی تیز بجلی چمکی تو عیشال ڈرتی ہوئی اسکے سینے سے جا کر لگی۔۔
“صنم اب مجھے ڈر لگ رہا ہے کئی یہ بجلی ہہ۔ہم پر نا گر جائے چلیے جلدی سے کار کے اندر بیٹھتے ہیں۔۔!!
وہ اسکی گردن پہ دونوں ہاتھ رکھے اپنا چهره اسکے چوڑے سینے میں چھپائے شدید ڈر کے باعث کانپتی ہوئی آواز میں سرگوشی کرتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئیں تھی۔۔
“نہیں میری معصوم سی جان اب تو مجھے بہت مزا آ رہا ہے اِس طرح آسمان کے نیچے کھڑے ہو کر بارش میں تمہارے بے حد نزدیک بارش میں بھیگنا۔۔!!
عیشال کے سنہری ریشمی گھنے بالوں میں ایک ہاتھ ڈال کر بالوں کو جکڑتے ہوئے شدت سے انہیں جھٹکا دے کر وہ اُسکا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے ذومعنی لہجے میں کہتا دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے اسکی پشت پر شرارت کرتا ہوا اسے دیکھنے لگا جو اسکی انگلیاں اپنی پشت پر رینگتے ہوئے محسوس کرتی سخت گھبرا کر اُسے دیکھنے لگی جو اُسکے دیکھنے پر مسکرایا اور اچانک سے اسکے ہونٹوں پر جھکا اور شدت سے اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔
“شمش۔۔!!
وہ اُسکے پیچھے ہٹتے زور سے اسکا نام لیتی ہوئی اسے خفگی سے دیکھنے لگی۔۔
“جی میری پیاری سی کیوٹ چھوٹی سی خوبصورت جان جی کیا آپکو میرا اسطرح دور ہونا پسند نہیں آیا ہے جو آپ اسطرح زور سے میرا نام لے کر چیخی اور کیا آپ ہمیں اپنے بے حد قریب چاہتی ہے۔۔؟؟
وہ شریر لہجے میں کہتا اُسے اپنی پرشوخ نظروں سے گھورنے لگا۔۔
“شمش بدر جی آپ نا ناں بہت بڑے بب۔۔۔بے شرم انسان بن گئے ہیں۔۔۔!!!
عیشال اُس سے الگ ہوتی شدید غصے سے ہانپتی ہوئی بولی۔۔
“وہ کیا ہے بیگم ہمیں اپنا خود کا بے شرمی کا ریکارڈ ٹوڑنا ہے تو سوچا کیوں نہ شروعات اپنی بیوی سے دن رات بے شرمی کر کے اپنا یہ ریکارڈ توڑا جائے۔۔!!
وہ پرشوخ نگاہوں کے آثار میں اُسے لے کر شریر لہجے میں کہنے لگا تو عیشال سخت بدمزہ ہوتی اپنا پیر اسکے پاؤں پہ زور سے مارتی اسے پیچھے ہٹانے لگی جو بلکل ناممکن تھا کیوں کہ اسکے سامنے شمش بدر تھا کوئی عام مرد نہیں وہ ایک توانا مرد تھا اور اسکے نازک ہاتھوں کے ہلانے پر وہ ایک انچ بھی نہ ہلا بلکہ نیچے جھکا اُسے اپنی مضبوط بازوؤں کی گرفت میں بھرتا اسے لیے واپس کار کی جانب بڑھا۔۔
“میں معذور نہیں ہو جو میں کار تک خود چل کر نہیں جا سکتی ہوں اور یہ آپ کیوں مجھے اسطرح لے کر جا رہے ہیں مجھے ابھی بارش کو انجوائے کرنا ہے چھوڑے مجھے نیچے اتارے صنم ورنہ میں آپ کے چہرے پر مکا مار دو گی۔۔!!
وہ منہ بسور کر مکا بنا کر اسکے چہرے کے سامنے کرتی اُسے گھورتی ہوئی وارننگ دینے لگی۔۔
“بیگم جان میں اگر اسطرح لے کر نہیں جاؤ گا تو اپنا سالوں کا بے شرمی کا ریکارڈ کیسے تورو گا۔۔!!
کار کا پیسنجر سیٹ کا دروازہ ایک ہاتھ سے کھولتا ہوا وہ اسے کہنے لگا تو عیشال اسکی بات پر شرم سے سرخ ہوتی اپنی نظریں نیچے جھکاتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“آپ ایسا کک۔۔کچھ بھی نہیں کرے گے سمجھے آپ ورنہ میں سچ میں مار دو گی آپ کو شمش بدر صاحب۔۔!!
وہ اچانک سے اپنی آنکھیں اٹھا کر مکا بناتی ہوئی چیخ کر بولی تو شمش نے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور اسے اندر بیٹھا کر خود اندر بڑھا اور اسے دیکھتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ پیچھے بڑھا کر دروازہ بند کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“میں تو بے شرمی ضرور کرو گا پورے حق اور ایمانداری کے ساتھ اور تم مجھے روک بھی نہیں سکتی ہوں میری چھوٹی اور معصوم سی نازک بیوی۔۔!!
شریر لہجے میں کہتا وہ ایک ہاتھ سیٹ پر رکھتا اور دوسرا عیشال کے پیچھے کھڑکی کے اوپر رکھتا اسکے اوپر جھکا۔۔
“نہیں پلیز پیچھے ہو جاؤ ورنہ میں یہ دروازہ کھول کر باہر نکل جاؤ گی۔۔!!
عیشال چہرے پر دونوں ہاتھوں کو رکھتی ہوئی چیخ کر بولی شمش نے اسکے چہرے پر رکھے اسکے ہاتھوں کے اوپر اپنے ہونٹوں کو رکھ دیئے تھے وہ اسکی آواز پر پیچھے ہٹا اور اسکی بات پر مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اسکی قید میں پیچھے دروازے سے لگی بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔
“میری چھوٹی سی بیوی چلوں دروازہ کھولو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میری جان میں طاقت ہے اس بند دروازے کو کھولنے کے لیے یا نہیں۔۔!!
وہ پیچھے ہٹا اور اسے دیکھتے ہوئے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو عیشال اسکی بات پر پیچھے مڑی اور زور لگا کر دروازہ کھولنے لگی جو شاید آٹومیٹک لاک کی وجہ سے اس سے کھل نہیں رہا تھا شمش جو اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ آگے ہوا اور اپنے ہونٹوں کو اسکے شانے پہ رکھتا کار کے کی سے دروازہ کھولتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“شمش بدر کی بیوی ہو کر تُم میں تو طاقت بھی نہیں ہے صرف ایک کار کی ڈور کو کھولنے کے لیے عیشال بیگم آگے پتہ نہیں کیا ہوگا جب میں۔۔!!
شمش بدر بات اُدھوری چھوڑ کر اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا جو اسکی بات پر اسکے اثار کو توڑتی ہوئی سیٹ سے لگ کر بری طرح سے کپکپانے لگی۔۔
“شمش جی پلیز آپ پیچھے ہٹ جائے مم۔مجھے بہت سردی لگ رہی ہے۔۔!!
دونوں ہاتھوں کو اپنے شانے پہ رکھتی وہ بری طرح سے کپکپاتے ہوئے بولی تو شمش جو پیچھے ہو کر سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
وہ اسکے جسم کو بری طرح سے کپکپاتے ہوئے دیکھتا جلدی سے آگے ہو کر کار کی ایٹر کو آن کرتا اور لائٹ آف کرنے کے بعد تیزی سے بارش کی وجہ سے بھیگ گئے اپنے شرٹ کو اپنے کسرتی جسم سے جدا کرتے ہوئے نیچے پھینک کر تیزی سے اسکے بے حد نزدیک ہوا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر ہاتھ پیچھے لے جا کر اسکی شرٹ کی زپ کو آہستگی سے کھولنے لگا۔۔
“عیشو جانم کہا تھا نا بارش میں مت جاؤ ورنہ بھیگ کر تم خود کو بیمار کر دو گی دیکھو اب تم بری طرح سے سردی سے کانپ رہی ہوں۔۔!!
وہ اسکی شرٹ کو شانے سے کھسکا کر اسے اپنے ساتھ لگائے ڈانٹتے ہوئے کہنے لگا تو عیشال اسکی انگلیاں اپنے شانوں پہ محسوس کرتی اب شرم کے مارے کانپنے لگی۔۔
“مم۔میں ٹھیک ہو آپ دد۔دور ہو جائے۔۔!!
وہ اپنی شرٹ کو درست کرتی اسے پیچھے کی جانب کرتی ہوئی بری طرح سے لرزتی ہوئی بولی۔۔
“کیا خاک ٹھیک ہو تم دیکھو ابھی تک کانپ رہی ہوں۔۔!!
وہ اسکی شرٹ کو شانے سے ہٹا کر اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لگاتا اسے ٹوکتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مم۔میں سچ کہہ رہی ہو میں بلکل ٹھیک ہو پلیز مجھے چھوڑ دے پلیز۔۔!!
وہ اسکے کسرتی جسم کو نروس ہو کر دیکھتی بری طرح سے کانپتی ہوئی کہنے لگی تو شمش اسکی نظروں کو اپنے اوپر محسوس کرتا مسکرایا اور اسے کھس کے پکڑتا اپنے بے حد نزدیک کرتا کہنے لگا۔۔
“نہیں عیشال جب تک تمہارا جسم کانپ رہا ہے میں تمہیں تب تک اسی طرح پکڑے رہوں گا چاہیے صبح ہی کیوں نا ہو جائے یا پھر بارش ہی کیوں نہ تھم جائے۔۔!!
وہ اسے مزید خود میں بھینچے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو عیشال اسکے سینے میں چہرہ چھپا کر شرم سے سرخ ہوتی خود کو اسکی پناہوں میں محفوظ تصور کرتے ہوئے آنکھیں موند گئی تھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“زوارق خان تم دونوں کل رات کہاں ٹھہرے تھے کیونکہ کل رات طوفانی ہواؤں اور برف باری کی وجہ سے آرمی والوں نے سارے راستے بند کیے تھے۔۔؟؟
زوارق خان کسوا کے ساتھ پونے دو بجے جب حویلی پہنچا تو زوارق خان کے باپ نے پوچھا تو زوارق خان وہی کھڑا ہو کر انہیں ساری تفصیل بتانے لگا اور کسوا موقعے کا فائدہ اٹھاتی تیزی سے اپنی ماما اور بابا کے روم کی جانب بڑھی۔۔
“کسو بچے کل رات کہاں ٹھہرے تھے تم دونوں۔۔؟؟
جب وہ روم میں داخل ہوئی تو سامنے بیڈ پر بیٹھی اپنی مما کی جانب دوری اور انکے سینے سے لگ کر آنکھیں موند گئی جب انکی بات پر وہ سیدھی ہوئی اور انہیں دیکھنے لگی۔۔
“وہ مورے ہم کل ایک چھوٹے سے گھر میں ٹھہرے تھے اور آپ کو پتہ ہے وہ اماں نا اتنی اچھی تھی کہ انہوں نے مجھے یہ شال تحفے میں دیا۔۔!!
وہ خوبصورت شیشے والی سرخ شال کو اپنے سر سے اتار کر انہیں خوشی سے چہکتے ہوئے دیکھاتی بولی جو ضمیر خان کی بیوی نے اسے تحفے میں دیا تھا اور یہ بھی بتانے لگی کہ ایک خوبصورت ٹوپی زوارق خان کو بھی تحفے میں دیا تھا جو انہوں نے کہاں تھا کہ وہ یہی بنا کر اپنا وقت گزارتی تھیں۔۔
“کسو بچے یہ تو بہت خوبصورت تحفہ ہے۔۔!!
انہوں نے شال کو چھوتے ہوئے کہا ۔
“مورے کل کل پوری رات آپ اور بابا مجھے بہت یاد آئے اب میں آپ دونوں کو چھوڑ کر بلکل بھی نہیں جاؤ گی..!!
وہ انہیں زور سے ہگ کرتی ہوئی نم آواز میں بولی۔۔
“بچے اب آپ کو تو زوارق خان کے ساتھ لاہور جانا ہے وہاں اسکا سارا کاروبار ہے۔!!
انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے شریر لہجے سے کہا تو انکی بات پر وہ اٹھی اور انہیں نم آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔
“مورے میں نہیں جا رہی انکے ساتھ۔۔!!
وہ منہ غصے سے پھلا کر بولی۔۔
“جانا تو پڑے گا اب آپ اسکی پابند ہے وہ آپکے سر کا تاج ہے اور وہ جہاں جائے گا آپ کو بھی اپنے ساتھ لے جائے گا۔۔!!
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“مجھے نہیں بننا انکا پابند اور سر کا تاج تو میں انہیں بلکل بھی نہیں بناؤ گی۔۔!!
وہ منہ بسور کر بولی زوارق خان جو روم میں داخل ہو رہا تھا سنجیدگی سے کسوا کو دیکھتے ہوئے اپنی تائی کو سلام کرتا اسے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“کسوا خان پابند تو تم نکاح کے پیپرز پر سائن کرنے کے بعد مکمل بن چکی ہوں اور سر کا تاج بھی تم مجھے جلد بناؤ گی کیونکہ میں تمہارے لیے کوئی آپشن نہیں چھوڑو گا۔۔!!
صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“زوارق بچے تم نے کھانا کھایا ہے۔۔؟؟
کسوا کی ماں نے زوارق خان کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو اسنے کسوا کو دیکھا جو اپنی ماں کی گود میں سر رکھے اسے گھور رہی تھی۔۔
“کہاں تائی ماں کسی نے پوچھا ہی نہیں۔۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے ان سے کہنے لگا تو انہوں نے کسوا کو سخت نظروں سے گھورا اور اسے اٹھا کر ڈانٹتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“جاؤ کسوا زوارق خان کے لیے کھانا گرم کرو۔۔!!
انکے کہنے پر وہ اٹھی اور زوارق خان کو گھوری سے نوازتی روم سے باہر نکلی۔۔
“تائی ماں آپ فکر مت کرے میں اسے جلد سیدھا کروں گا۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو روم سے باہر نکل رہی تھی۔۔
“زوارق بچے جلدی سے اسے سیدھا کرنا ورنہ یہ کئی آپ کو ہی بگاڑ نا لیں ۔۔!!
انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے شریر لہجے میں کہا۔۔
“کوئی بات نہیں تائی ماں میں بگڑنے کیلئے بھی تیار ہو اگر وہ سدھر جائے گی اسطرح میرے بگڑنے سے تو میں خوشی خوشی بگڑ بھی جاؤ گا۔۔!!
اس نے بھی شریر لہجے میں کہا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں وہ کھڑوس خاناں خراب خود کو۔۔!!
کسوا کچن میں اس ظالم خان کے لیے کھانا گرم کر رہی تھی اور ساتھ میں زور زور سے بڑبڑا بھی رہی تھی۔۔
“اپنے خان خراب کا شوہر۔۔!!
کسوا پیچھے اپنے کھڑوس کی گھمبیر آواز پر بری طرح سے ڈرتی ہوئی اچھلی اور پلٹ کر سامنے دروازے پر کھڑے زوارق خان کو دیکھنے لگی جو سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“خخخ۔خان جی۔۔!!
وہ چولہے کو بند کرتی ہوئی سٹپٹا کے پیچھے ہٹتی بولی تو زوارق خان اسکی جانب بڑھا اور اسے اپنے بازوؤں میں قید کرتا اسے دیکھنے لگا جو آنکھیں بند کیے بری طرح سے لرز رہی تھی۔۔
“کسوا زوارق خان اپنے جھوٹ بولنے پر تمہیں مجھ سے کس طرح کا میڈل چاہییے۔۔!!
اسکی لٹوں کو چہرے کے اوپر سے ہٹا کر وہ اسکے اوپر جھکا اور سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔
“مم۔مطلب۔۔؟؟
پٹ سے اپنی آنکھیں کھولتی ہوئی وہ کہنے لگی۔۔
“اگر مطلب سمجھا دیا نا تمہیں کسوا خان تو تمہیں مجھ سے درجنوں میڈل ملے گے۔۔!!
وہ بے باکی سے کہتا پونک مار کر اسکے چہرے سے لٹوں کو اڑاتے ہوئے اسکے ہواس باختہ چہرے کو چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔۔
“خخخ۔خان جی۔۔!!
اسکی بے شرمی کی انتہا کو دیکھتی وہ شدت سے چیختی ہوئی خود کو اسکی سخت گرفت سے چھڑانے لگی۔۔
“خان جی کے آگے کیا اور لفظ نہیں ملتے تمہیں کسوا خان۔۔؟؟
وہ اپنے ہونٹ اسکے رخسار پر رکھتا شوخی سے کہنے لگا۔۔
“خان جی آپ اول نمبر کے بدتمیز واقع ہوئے ہیں میرے شوہر گرامی بن کر یہ جگہ ہے ایسی باتوں کو کرنے کے لیے۔۔!!
وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“جانِ خاناں ایسی جگہوں پہ ہی تو محبت کے میڈل ملتے ہیں زوارق خان کی جانب سے۔۔!!
وہ اسے اٹھا کر سامنے ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا کر اپنے دونوں ہاتھوں کو دائیں بائیں جانب رکھتا اسکے اوپر جھکتے ہوئے معنی خیزی سے بولا۔۔
“خان جی اب آپ بہت بڑے لفنگے بھی کسوا خان کی نظروں میں بن گئے ہیں۔۔!!
وہ چہرہ دوسری طرف کرتی غصے سے بولی ۔
“کسوا خان ابھی تو بہت کچھ بننا ہے خاص کر آپکے بچوں کا باپ۔۔!!
وہ بے باکی سے کہتا اسکے ہونٹوں پہ جھکا اور شدت سے اسے اپنا لمس محسوس کراتا پیچھے ہٹا اور سامنے کچن کیبن کی جانب بڑھا۔۔
“یہ آپ کک۔کیا کر رہے ہیں خان جی۔۔!!
کسوا اسے کیبن سے اپنی فیورٹ کوکیز کو نکالتے ہوئے دیکھتی تیزی سے ٹیبل سے نیچے اتری۔۔
“دیکھ نہیں رہی ہوں کسوا خان کوکیز نکال رہا ہوں برباد کرنے کے لیے آئی مین کھانے کے لیے۔۔!!
پیکٹ سے کوکیز نکال کر کھاتے ہوئے شریر لہجے میں کہنے لگا وہ جانتا تھا کہ یہ کوکیز اسکی جان سے پیاری بیوی کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔۔
“خان جی نہیں آپ میرے کوکیز کو واپس انکی جگہ پر رکھے۔۔!!
وہ غصے سے اسکے ہاتھوں سے پیکٹ کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھی لیکن زوارق خان نے پیکٹ کو اوپر کرتے ہوئے ایک اور کوکیز نکالا اور اسے شریر نظروں سے دیکھتے ہوئے کھانے لگا۔
“نہیں میری شیطان بیوی میں انہیں کھا کر اپنا بدلا پورا کروں گا کیونکہ میں ان گوبروں اور اس بلی کو ابھی تک نہیں بھول پا رہا ہوں۔۔!!
وہ سارے کوکیز ایک ایک کرتے ہوئے کھانے لگا اور کسوا اسے شدید غصے سے روکتی ہوئی چیخ چیخ کر پورے کچن کو میدان جنگ بنا چکی تھی۔۔
