Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣
“عشو جانم آپ کہاں چھپی ہے۔۔؟؟
شمش اُسے پورے گھر میں ڈھونڈنے کے بعد اپنے روم میں داخل ہو کر اسے پکارنے لگا اور ساتھ میں اپنی نظریں ڈورہا کر اسے روم میں ڈھونڈنے بھی لگا۔۔
“صنم میں یہاں ہو۔۔!!
ڈریسنگ روم سے عیشال کی گھبرائی ہوئی آواز اسے سنائی دی تو شمش تیزی سے آگے بڑھا اور ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو اسے صرف اپنی بلیک شرٹ پہنے ہوئے دیکھ کر وہ اسکا تفصیلی جائزہ لینے لگا۔۔
جو اسکی بڑی سے شرٹ میں عیجب مخلوق لگ رہی تھی تبھی اسکی نظریں شرٹ سے نیچے اُسکی گورے گورے سے پیروں پر آ کر ٹھہر گئی تھیں۔۔
“صنم یہ دیکھیں آپکی شرٹ کتنی بڑی ہے اور مجھے پینٹ شرٹ کے بغیر نیند نہیں آتی ہے اور یہاں صرف یہ آپکے اتنے بڑے بڑے شرٹ ہے۔۔!!
عیشال کو جو ان نظروں کا مفہوم تک پتہ نہیں تھا وہ اپنا منہ بری طرح سے بسور کر اسکی جانب بڑھنے لگی جو اپنی آنکھوں میں خمار کی سرخی لیے اسکے خوبصورت سراپے کو دیکھ رہا تھا۔۔
“عیشو جانم تُم کیوں مجھے بار بار آزمائش میں مبتلا کر دیتی ہوں میں کل سے ضبط کر رہا ہوں اور تم ہو کہ میرے ضبط کو مسمار کرنے پر ٹلی ہوئی ہوں ۔!!
شمش اُسے اپنے نزدیک دیکھتا اپنا ضبط کھونے لگا تو اپنی آنکھیں بند کرتا وہ مڑا اور گہری سانس لے کر بوجھل لہجے میں کہنے لگا تو عیشال جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی اسے دوسری جانب مڑتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھی اور اسکی پشت پر اپنا سر بچوں کی طرح رکھتی وہ اسے بہکانے پر مجبور کرنے لگی۔۔
“صنم آپ میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہے ہیں مجھے آپ سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہے لیکن مجھے تو لگتا ہے آپ مجھ سے بات کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔۔!!
وہ پیچھے سے شمش کے پیٹ پر اپنے دونوں سفید مومی ہاتھوں کو باندھتے منہ پھولا کر بولی۔۔
شمش کی نظریں جب نیچے اپنے پیٹ پر رکھی اسکی مومی سفید ہاتھوں کی جانب پڑی تو بے ساختہ وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر انہیں چھونے لگا اور انکی نرماہٹ کو محسوس کرتا وہ پیچھے مڑا اور عیشال کو دیکھنے لگا جو اسکے مڑنے پر اسے معصومیت سے دیکھ رہی تھی اور یہی معصومیت اسے کب بہکا گئی اسے خبر تک نہ ہو سکی۔۔
“صنم آپ مجھے کب چاکلیٹ لا کر دیں گے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے ابھی باہر جا کر لا کر دیں گے تو پھر آپ نے مجھے کیوں ابھی تک چاکلیٹ نہیں دیا ہے۔۔!!
عیشال جو شمش کی جانب دیکھ رہی تھی اُسے اپنے بے حد نزدیک آتا ہوا معصومیت سے دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“عیشو جانم ابھی تو ساری دکانیں بند ہے تو پھر میں کہا سے آپکے لیے چاکلیٹ لاؤ۔۔؟؟
شمش اسکی کمر پر ہاتھ ڈالے اُسکے نرم گلابی ہونٹوں پر جھکنے ہی والا تھا کہ اسکی آواز پر اسنے کہا۔۔
“مجھے کچھ نہیں سننا صنم آپ مجھے ابھی اور۔۔!!
عیشال کی باقی الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گئی کیونکہ شمش نے آگے بڑھ کر اسکے ہونٹوں کو اپنے عنابی ہونٹوں سے چھو کر اسے خاموش کرواتے ہوئے اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں کے ساتھ جوڑنے لگا۔۔
عیشال اپنی براؤن موٹی آنکھوں کو پھاڑے سختی سے اپنے دونوں ہاتھ جو شمش کی مضبوط گرفت میں تھے زور زور سے ہلاتی ہوئی اسے دور کر رہی تھی اور شمش دور ہونے کے بجائے اپنی برداشت کی حد کو اسکی نرم گلابی ہونٹوں کی جام کو ہونٹوں سے چھو کر کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
“ص۔ن۔م۔۔؟؟
شمش نے جب اسکی اٹکتی سانسوں کے درمیان اپنا نام سنا تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹا اور اُسے دیکھنے لگا جو سرخ رنگ لیے اپنی نڈھال سانسوں کو بحال کر رہی تھی تبھی اچانک سے اسے دیکھتی وہ بری طرح سے رونے لگی۔۔
“سوری جانم میں نے تُمہیں ہرٹ کیا لیکن میں بھی کیا کرتا ایک مرد ہو اور کتنا برداشت کرتا اور تم بار بار مجھے اکسا رہی تھی یہ سب کرنے کے لیے ایم سوری بے بی پلیز روؤ مت ورنہ میں بھی تمہارے ساتھ بیٹھ کر روؤ گا۔۔!!
شمش نے اسکے گالوں پر ہاتھ رکھ کر اسکی آنکھوں سے بری طرح سے بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے آخر میں شریر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“صنم آپ کو تو میں نے ہرٹ نہیں کیا پھر آپ کیوں روئیں گے ہرٹ تو آپ نے عیشو کو کیا ہے اور اسی لیے عیشو اب آپ سے ناراض ہے۔!!!
عیشال نے نیچے فرش پر بیٹھتے ہوئے کہا تو شمش جو اسکی سرخ پھولے ہوئے گالوں کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
اسے اچانک خفگی سے نیچے فرش پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر مسکرایا اور خود بھی اسکے سامنے بیٹھا اور محبت سے اسکی کلائی کو تھام کر اپنے ہونٹوں سے چھو کر اسے نرمی سے دیکھنے لگا
جو منہ غبارے کی طرح پھلائے بیٹھی ہوئی تھی۔۔
“عیشو جانی ادھر دیکھو میری طرف۔۔!!
اسکا چہرہ ہاتھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے کہنے لگا تو عیشال جو خفگی سے چہرہ دوسری طرف کیے ہوئی تھی اسکے کہنے پر اسے دیکھنے لگی۔۔
“صنم آپ بہت برے ہے۔۔!!
وہ معصومیت سے بولی۔۔
“پتہ ہے جانم میں بہت زیادہ برا ہو۔۔!!
شمش نے اسکے گالوں کو زور سے کھینچتے ہوئے شرارت سے کہا تو وہ اپنے دونوں گالوں کو پکڑتی اسے سخت نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
💕💕💕💕💕💕
زرلش پورچ میں زوارق خان کی بائیک کے سامنے کھڑی بے چینی سے کسوا کا انتظار کر رہی تھی اور وہ تھی کہ کب سے باہر نہیں نکل رہی تھی اب تو اسے پکا یقین ہوگیا تھا کہ وہ لالہ کے ہاتھ لگ گئی ہوگی اسی لیے وہ ابھی تک باہر نہیں آئی تھی۔۔
وہ اِنہی سوچو میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اپنے چہرے پر تیز روشنی پڑنے پر سٹپٹا کے اپنے ہاتھ آنکھوں پہ رکھتی تیزی سے بائیک کی دوسری طرف بڑھتے ہی نیچے بیٹھی اور اس روشنی کی وجہ کو تلاش کرنے لگی جو عرشمان خان کی کار کی ہیڈ لائٹس کی تھی۔۔
“کھڑوس خان افففف یہ تو اب مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا اگر اسے میرے پلان کا پتہ چل گیا ناں تو وہ تو مجھے جان سے مار دے گا۔!!
وہ پریشانی سے اپنی انگلی کو ہونٹوں میں دبا کر عرشمان خان کو کار سے نکلتے ہوئے دیکھنے لگی اور دعا کرنے لگی کہ وہ کھڑوس خان اسے نہ دیکھ سکے۔۔
عرشمان خان جو اپنے زخمی ہاتھ کو بغور دیکھ رہا تھا اسے یکدم سے کچھ محسوس ہوا تو اسنے اپنی تیز نظریں آس پاس ڈورہا کر دیکھا۔
لیکن اسے کچھ بھی مشکوک چیز یا انسان اپنے اردگرد نظر نہیں آیا تو وہ اپنا سر جھٹک کر گھر کی جانب بڑھنے لگا تو زرلش اسے جاتے ہوئے دیکھ کر ایک سکھ بھری سانس خارج کرکے اٹھی اور شکر کا کلمہ پڑھتی آگے بڑھنے ہی والی تھی تبھی اچانک سے اسے پیچھے سے کسی نے پکڑا اور اپنے ساتھ لگایا۔۔
“کک۔کون۔۔؟؟
وہ اس اچانک حملے پر سخت سٹپٹا تی ہوئی پیچھے مڑے بغیر گھبرا کر پوچھنے لگی۔۔
“بیگم صاحبہ آپکو کیا لگا آپ اس طرح بائیک کے پیچھے چھپ کر مجھ سے بچ جائے گی تو یہ آپکی بھول ہے۔۔!!
عرشمان خان کی آواز اپنے بے حد قریب سن کر وہ بری طرح سے لرزی تھی۔۔
“خان آپ۔۔!!
وہ گھبراتے ہوئے بولی۔۔
“ہاں میری خانی میں تمہارا خان بتاؤ تم یہاں کیا کر رہی تھی اور مجھے دیکھ کر کیوں چھپی تھی۔۔؟؟
وہ اسکا رخ اپنی طرف کرتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا تو زرلش اسکی نیلی آنکھوں میں سرخ ڈورے دیکھتی سخت کپکپا کر رہ گئی تھی۔۔
“وہ خان میں یہاں آپ ہی کا تو کب سے انتظار کر رہی تھی اور میں آپ کو دیکھ کر اسی لیے چھپی تاکہ آپکو سامنے آ کر سرپرائز دے سکوں۔۔!!
اچانک سے یہ بات جب اسکے دماغ میں آیا تو وہ تیزی سے بولی اور عرشمان خان نے پر سوچ انداز میں اپنا ایک ابرو اوپر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
جو اسی کی جانب مسکرا کر دیکھ رہی تھی اور اسکے اس طرح دیکھنے پر اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تو اسنے اسے سختی سے کلائی سے پکڑا اور اپنے ساتھ کھینچتا ہوا اسے لیے گیسٹ ہاؤس کی طرف بڑھا۔۔
💕💕💕💕💕💕
“زر کہا رہ گئی ہو تم اففف تمہارا وہ ٹیڈی بیئر اکڑو خان بھائی یکدم سے پتہ نہیں کہا سے اپنے روم میں ٹپک پڑا اور ایک تم ہو جو کب سے غائب ہو۔۔!!
کسوا زوارق خان کے روم سے نکل کر اپنے روم میں پہنچی تو زرلش کو وہاں نا پاکر پورے ایک گھنٹے سے اسکے انتظار میں سارے روم میں چکر کاٹ رہی تھی لیکن وہ تھی کہ باہر کی ہو کر رہ گئی تھی۔۔
“اب کیا کرو میں یہ تو لگتا ہے باہر میرا ویٹ کر رہی ہوگی اور اگر میں باہر چلی گئی اور اگر پھر سے وہ کھڑوس زوارق لالہ دوبارہ راستے میں مل گئے نا بابا نا مجھے تو اپنی آنکھیں بہت پیاری ہے۔۔!!
زوارق خان کو سوچتی وہ تیزی سے نفی میں سر ہلاتی کہنے لگی اور اسکی بات دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے زوارق خان نے سنا تو اسکے عنابی ہونٹوں تلے دبے سرخی مائل ہونٹ مسکرا اٹھے تھے۔
وہ یہاں زرلش سے کھانا اپنے روم میں لانے کا کہنے آیا تھا مگر ہمیشہ کی طرح اسکے سنجیدہ چہرے پر اپنی معصوم کسوا کی بچکانہ بات پر خوبصورت مسکان نے ڈیرا جما لیا تھا۔۔
“کسوا بی بی۔۔؟؟
انتہائی سنجیدہ تاثرات چہرہ پر سجاتا وہ روم میں داخل ہوا اور اسے اپنی طرف متوجہ کرتا بلکل اسکے پیچھے کھڑا ہوا۔
میں بھلا کیوں ان آنکھوں کی خوبصورتی کو خراب کروں گا۔۔!!
کسوا یکدم سے اسے اپنے روم میں اپنے اتنے پاس دیکھتی سٹپٹا کر پیچھے ہٹی تو زوارق خان نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کیا اور اسکی دونوں آنکھوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے چھوتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“نن۔۔نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا۔۔!!
اُسکی اتنی نزدیکیاں اسکے رخساروں کو سرخ اناری بنا گیا تھا اور وہ ان سرخ رخساروں کو دیکھتا بے خودی سے اسکی کمر پر ہاتھ ڈالتا اسے اپنے ساتھ لگا کر اسکے رخسار کی سرخیوں کو اپنی ہونٹوں سے چھونے لگا تو کسوا اسکا لمس اپنے رخسار پر پاکر شدت سے لرزی۔۔
“کسوا دلبرم اب تو تمہاری عمر کا بھی میں نہیں سوچو گا کیونکہ اب تم بہت غلطیاں کر رہی ہو اور اب مجھے لگتا ہے تمہاری بے وقوفیوں کو سوچتے ہوئے مجھے جلد تمہیں یہاں سے اپنے روم میں لانے کا بندوست کرنا پڑے گا۔۔!!
اسکے سرخ رخساروں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو کسوا اسکی بات پر بری طرح سے کپکپانے لگی اور اسکی گرفت سے نکلنے کی تگ و دو کرنے لگی جو ناممکن تھا۔
“خان یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں اور پلیز مجھے چھوڑ دے..!!
وہ اسکی گرفت میں بری طرح سے پھڑپھڑاتی بولی۔۔
“کسوا جانی یہ باتیں ابھی تمہیں سمجھ میں نہیں آنے والی ہے اسی لیے ابھی تم اپنے اس ننھے سے دماغ پر اتنا زور مت دو اور جاؤ جا کر میرے لیے کھانا گرم کرو میں وہی کچن میں تمہیں ملوں گا۔۔!!
انگلی سے اسکے رخسار کو چھو کر وہ اسے کہتا وہاں سے نکلا اور کسوا اسکے باہر نکلتے ہی اپنی سانسوں کو بحال کرنے لگی جو اسکی حرکت پر ساکت ہوگئی تھی۔۔
💕💕💕💕💕
“عرشمان خان مجھے باہر نکالیں۔۔!!
زرلش کو اندر روم میں بند کرکے عرشمان خود لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھا ملازمہ سے کافی منگوا کر پی رہا تھا اور زرلش روم کے اندر بند بری طرح سے چیختی ہوئی دروازہ پیٹھ رہی تھی۔۔
“نہیں خانی جب تک تم سچ نہیں بولو گی کہ تم میرا انتظار کر رہی تھی یا پھر کچھ اور پلان کیا تھا۔۔!!
اور اگر تم نے پھر سے جھوٹ بولا ناں زرلش عرشمان خان تو میں روم کے اندر ہماری رخصتی کے بعد والا رسم پورا کرنے پہنچ جاؤ گا۔۔
اور تم سمجھدار ہو بچی نہیں ہو سمجھ تو گئی ہوگی میرے کہنے کے مطلب کو اس لیے شریفوں کی طرح سچ بولنا۔۔!!
وہ کافی پی کر مگ سامنے ٹیبل پر رکھ کر سرد لہجے میں کہنے لگا تو زرلش روم کے اندر اسکی سپاٹ لہجے سے کہنے پر وہ بری طرح سے کپکپانے لگی۔۔
“خان میں سچ کہہ رہی ہو میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی آپ بے شک کک کسوا سے پوچھ لیں وہ بھی گواہ ہے۔۔!!
وہ دروازے کو پیٹتے ہوئے جلدی سے کہنے لگی مبادا وہ سچ میں اندر آ کر آگے کی بات وہ ابھی اس حالت میں بلکل بھی سوچ نہیں سکتی تھی۔۔
“لگتا ہے خانی تم ایسے نہیں سمجھو گی تمہیں اپنے طریقے سے سمجھانا پڑے گا اب تم سچ بھی بولو گی اور صبح اچھی بیوی کی طرح میرے لیے ناشتہ بھی بناؤ گی۔۔!!
وہ روم کا دروازہ کھول کر سنجیدگی سے اندر داخل ہوتا سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو زرلش اسے اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ سٹپٹا کے تیزی سے پیچھے ہٹنے لگی اور اسکی جانب آہستگی سے قدم بڑھاتے عرشمان خان نے اسے سخت نظروں سے گھورا جو پیچھے دیکھے بغیر اپنے قدم بڑھا رہی تھی۔۔
اچانک سے اسکا پیر کارپٹ پر آیا تو وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور سیدھا پیچھے کی جانب بیڈ پر گر گئی تھی۔۔
“خان یہ آپ کیا کر رہے ہیں پلیز ایسا مت کریں خدا کا واسطہ ہے نہیں۔۔!!
عرشمان کے لب اسے بیڈ پر گرتے ہوئے دیکھ کر پرسرار انداز میں مسکرا اٹھے تھے اور وہ بیڈ کے سامنے پہنچ کر اپنے شرٹ کے بٹنو کو آہستگی سے کھولنے لگا تو زرلش اسے شرٹ کے بٹن کو کھولتے ہوئے دیکھتی سختی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھتی لرزتی ہوئی آواز میں کہنے لگی۔۔
“یہ تمہیں پہلے سوچنا چاہیئے تھا جانم سچ بولتی تو شاید تم میرے قہر سے بچ جاتی لیکن اب تو بہت دیر ہوچکی ہے اور اب تمہیں مجھ سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا تم خود بھی نہیں۔۔!!
شرٹ کو نیچے کارپٹ پر پھینکتا وہ اسکے اوپر جھکا اور اسے دیکھنے لگا جو اسکی حرکت پر ڈر کے باعث اپنی آنکھیں زور سے میچے شاید اپنے بچنے کے لیے دعا مانگ رہی تھی۔۔
💕💕💕💕💕💕