Dark Heart By Sumyia Baloch Readelle50185 Episode 11
Rate this Novel
Episode 11
“سر آپ فکر مت کریں وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی ہم اپنی پوری کوشش کریں گے شاید مالش سے اور اس انجیکشن اور ٹراپی کی مدد سے وہ جلد اپنی پیروں پر چل سکے۔۔!!
ڈاکٹر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو اخسم نے اپنا سر ہلایا۔۔
“سر یہ ہمارے ہاسپٹل کی ایک اچھی نرس ہے آپ کو یہ بلکل مایوس نہیں کریں گی اسکی محنت سے آپکی وائف دوباره سے جلد چل سکے گی۔۔!!
ڈاکٹر نے ایک لڑکی کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہا تو اخسم شیرانی نے اس لڑکی کی جانب دیکھا اور ہاتھ اٹھا کر اس ڈاکٹر کو چپ کروا کر سپاٹ لہجے میں کہنے لگا۔۔
“مجھے تمہاری چاپلوسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ اپنی وائف کو دوباره اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہوئے دیکھنا ہے۔۔!!
اور اگر تم دونوں کی وجہ سے اسے تکلیف پہنچا یا اسکی چیخ مجھے باہر سنائی دیا تو میں تم دونوں کی چیخے نکال دو گا سمجھ گئے تم دونوں اب چلے جاؤ اور اسکا آرام سے علاج کرنا ورنہ میں نے جو ابھی تم لوگوں سے کہا ہے وہ میں کروں گا تو تم دونوں کو بہت زیادہ تکلیف سہنا پڑے گا۔۔!!
سرد لہجے میں کہتا وہ صوفے سے اٹھا اور اس روم کی جانب بڑھا جہاں مشاطہ تھی اور اسکے پیچھے وہ دونوں بھی خوفزدہ ہو کر بڑھے۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“آہہہہہہہ۔۔۔!!
مشاطہ کی آنکھیں اپنے پیروں پر کسی کی نرم انگلیوں کی لمس پر کھولی تو اسنے سامنے ایک لڑکی کو اپنے پیروں پر مالش کرتے ہوئے دیکھا۔۔
بیڈ سے تھوڑے سے فاصلے پر جب اسکی نظریں ایک لڑکے پر پڑی جو انجیکشن پکڑے کھڑا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا تو وہ انجیکشن لگنے کے ڈر سے زور سے چیخی۔۔
لڑکا اسکی چیخ پر خوف سے پیچھے پلٹ کر سامنے صوفے پر خاموشی سے بیٹھے اخسم شیرانی کو دیکھنے لگا جو اپنی سرد نگاہوں سے اسی ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“اگر مجھے میری مشی کی چیخے سنائی دی نا تو میں تم دونوں کی چیخے نکالو گا سمجھے وہ میرے لیے خاص ہے اور اسے تکیلف ہو یہ میں ہر گز برداشت نہیں کرو گا۔۔۔!!
لڑکا لڑکی اخسم شیرانی کے کچھ دیر پہلے دئیے گئے دھمکی کو یاد کرتیں سخت گھبرا گئے تھے اور لڑکا تو باقاعدہ تیزی سے اخسم کی جانب بڑھا اور روتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“سر مجھے معاف کر دیں مجھے بلکل بھی نہیں پتہ کہ یہ کیوں چیخی ہے۔۔؟؟
اخسم جو اسے اپنی سرخ نگاہوں سے گھور رہا تھا لڑکے کی رو کر کہنے پر اٹھا اور اُسے پیچھے کرتے ہوئے مشاطہ کی جانب بڑھا اور لڑکی جو مشاطہ کے پیروں کو پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی وہ اسکے آگے بڑھنے پر جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور سر جھکا کر پیچھے ہٹی۔۔
“تُم زلیل کمینے انسان آگے مت بڑھو ورنہ میں تُمہیں جان سے مار ڈالو گی مجھے یہاں لا کر اور یہ سب ہمدریاں جتا کر تم سمجھتے ہو کہ میں تمہیں معاف کر دو گی تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے۔۔!!
مشاطہ اسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر بیڈ سے اٹھنے کی کوشش میں کھسکتے ہوئے سیدھا بیڈ سے نیچے جا گری
اخسم اسے بیڈ سے نیچے منہ کے بل گرے دیکھ تیزی سے آگے بڑھا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتا اسے دیکھتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر پیچھے کھڑے ان دونوں کو وہاں سے جانے کا حکم دینے لگا تو وہ اسکے حکم پر تیزی سے روم سے بھاگے۔۔
“عشقِ من (میری محبت) کیا ہوا تھا تمہیں تم کیوں چیخی تھی۔۔؟؟
وہ اسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسکی چیخنے کے معتلق پوچھنے لگا تو مشاطہ اسکی ٹھوڑی پر ڈمپل دیکھتی اچانک سے کھو گئی اور پھر بے دھیانی میں وہ اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسے چھونے لگی اور یہ کرتے ہوئے اسےیہ تک یاد نہ رہا کہ سامنے بیٹھا شخص اسکا جانی دشمن ہے لیکن وہ اس بات کو کیسے یاد کرتی وہ تو اسکے ڈمپل میں کھوئی ہوئی تھی۔۔
اخسم کو اچھے سے پتہ تھا کہ اسکا خوبصورت چهره اور ٹھوڑی پر پڑتا ڈمپل اسکے دشمنوں کو اسکے سامنے گھٹنے ٹینکے پر مجبور کر دیا کرتا تھا۔۔
“مش جانم چلوں تمہیں میرا کچھ تو پسند آیا۔۔!!
وہ اسے بیڈ پر لیٹا کر اسکے دائیں اور بائیں جانب تکیے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اسکے اوپر جھکا اور اپنا ٹھوڑی اسکی ٹھوڑی پر رکھ کر نرمی سےچھوتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا تو مشاطہ اسکی حرکت پر اسے سخت نظروں سے دیکھنے لگی جو کہ اب اسکی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ رہا تھا۔۔
“دور رہوں مجھ سے میں اگر اپنے پیروں پر نہیں چل سکتی تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم میرے ساتھ جو بھی جی میں آئے کرتے پھیروں اور تم سمجھتے ہو کہ میں تمہارا اس طرح کرنے سے تمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گی تو یہ بھول ہے تمہاری میں اس حالت میں بھی تم سے لڑ سکتی ہوں۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکے چوڑے سینے پر رکھتی غصے سے کانپتی ہوئی آواز میں کہنے لگی تو اخسم اسکی بات پر مسکرایا اور نیچے جھک کر اپنے ہونٹوں سے اسکی گردن کو استحاق سے چھونے لگا۔۔
“تو مش جانم تم اب بھی نہیں بتاؤ گی کہ تم کیوں چیخی تھی۔۔؟؟
وہ ابھی بھی اسکی باتوں کو نظر انداز کیے اسی بات پر اٹکا ہوا تھا اور یہ دیکھ کر مشاطہ سخت چڑ کر اس سے اپنا منہ پھیر کر دوسری جانب دیکھنے لگی تو اسکے اسطرح کرنے پر اخسم نے جھک کر اسکی گردن کو دوباره اپنے ہونٹوں سے چھوا تو ابکی بار مشاطہ اسکی لمس پر جی جان سے لرز اٹھی۔۔
“تم غنڈے موالی مجھ سے دور رہوں۔۔!!
وہ غصے سے شدت سے چیختی ہوئی اسے پھرے دھکیل کر کہنے لگی تو اخسم شیرانی کا مضبوط توانا وجود اسکے ہلانے پر ایک انچ بھی نا ہلا تو وہ غصے سے واپس اپنا رخ اسی جانب موڑ کر دیکھنے لگی۔۔
“جانم تم اپنی چیخنے کی وجہ مجھے جب تک نہیں بتاؤ گی میں تب تک تُم پر اپنی نرم اور محبت بھرا خوبصورت ضدی لمس کو اسی طرح تمہارے چہرے پر بخشتا رہوں گا۔۔!!
اخسم خوبصورتی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو غصے سے اس سے منہ موڑے دوسری جانب دیکھ رہی تھی اچانک سے اسنے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر کہا اور اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کے اپنی طرف کرتیں ہوئے اسے اپنی مخمور اور چمکتی نظروں سے دیکھتا وہ اپنے ہونٹوں کو اسکی نرم ہونٹوں پر رکھتا محبت اور نرمی سے چھونے لگا۔۔
مشاطہ اسکی لمس پر اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے لگی مگر بے سود اخسم اپنے ہونٹوں کی گرفت میں دبے اسکے نرم ہونٹوں پر اپنی شدت آہستہ آہستہ بڑھانے لگا وہ جب اپنے ہاتھ پیر مار کر شدت سے مزاحمت کرتی تو وہ اپنی شدتوں کو اس کے اوپر اور بڑھا دیتا اور یہ دیکھ مشاطہ آخر میں اپنی آنکھیں زور سے بند کرتی اسے برداشت کرنے لگی۔۔
“اب آپ مجھے بتانا پسند کرو گی یا پھر سے میں شروع ہو جاؤ مسسز۔؟
وہ اسے نرمی سے کندھوں سے چھو کر خود سے الگ کرتا پیچھے ہٹا اور اسے اپنی سرخی لیے خمار آلود نظروں سے دیکھنے لگا جو گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔
“تم نا اخسم شیرانی ایک نمبر کے بدتمیز ہو پیچھے ہٹ جاؤ اور ہاں ابھی میں کیوں چیخی یہ میں تمہیں نہیں بتاؤ گی کیونکہ میں اپنی ہلیپ کے لیے کبھی بھی تمہیں نہیں کہوں گی اسی لیے پیچھے ہٹ جاؤ اور یہ پالتو کی ضد چھوڑ دو۔۔!!
وہ اسے دور کرتی سخت لہجے میں کہنے لگی تو اخسم نے اس ضدی لڑکی کو سخت نظروں سے گھورا اور پھر اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑ کر اسکے اوپر جھکا اور اپنے ہونٹوں سے اسکی ٹھوڑی اور پیشانی کو نرمی سے چھونے کے بعد وہ ابھی نیچے ہونٹوں کی جانب بڑھنے ہی والا تھا کہ مشاطہ نے بڑے ہی تیزی سے اسے روکا تو وہ مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹا اور اُسے دیکھنے لگا جو سرخ گلال چہرہ لیے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔۔
“وہ مم۔مجھے انجیکشن سے ڈڈ۔۔ڈر لگتا ہے تو اِسی لئے میں زور سے چیخی تھی۔۔!!
وہ منہ بسور کر بولتی اسے ایک بار پھر سے مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔
“ہوں اسکا مطلب مس گینگسٹر ایک انجیکشن سے ڈرتی ہے نائس۔۔!!
اخسم اسکی ناک کو زور سے دباتا مسکرا کر شریر لہجے میں کہنے لگا تو مشاطہ اسکے گینگسٹر کہنے پر سخت غصے سے اسے گھورنے لگی تو اسکے گھورنے پر وہ اسکی روئی جیسے سرخ گالوں کو چھومتے ہوئے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ اسے نرمی سے بیڈ کراؤن سے لگا کر بغور دیکھنے لگا جو کہ اسکی لمس پر سختی سے اپنی دونوں آنکھیں بند کیے شدت سے کانپ رہی تھی۔
“آئندہ مجھے گینگسٹر کہہ کر مت بلانا سمجھے تم مسٹر اخسم شیرانی۔۔!!
وہ اسکے دور ہٹتے ہی آنکھیں کھول کر شدت سے چیختی ہوئی کہنے لگی تو اخسم اسکی بات پر مسکرا کر بیڈ سے اٹھا اور روم سے باہر نکلا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“شمش تُم ریسٹورنٹ کے آس پاس مجھ پر اور جاوید خان کے آدمیوں پر نظر رکھنا تاکہ وہ کچھ کر نا لیں یہاں میں کوئی تماشا نہیں چاہتا دیکھ رہے ہو نا تم کہ یہاں کتنے لوگ ہے خوامخواہ ہماری وجہ سے کوئی بے گناه انسان مارا جائے گا۔۔!!
وہ ہوڈی پہنے سگریٹ نکال کر منہ سے لگاتے ہوئے شمش کو کہنے لگا جو وائٹ رنگ کے پی کیپ پہنے اسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا
“سرکار آپ وہاں بھابھی کو اس جاوید خان کے ساتھ کیسے اکیلا چھوڑ کر آئے ہیں وہ انسان شاطر ہے کچھ غلط نہ کر دیں بھابھی کے ساتھ اور اوپر سے آپ نے سیکورٹی کے سبھی آدمیوں کو بھی یہاں بلایا ہے۔۔!!
شمش نے سبھی آدمیوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو اخسم اسکے لہجے میں مشاطہ کے لیے فکر دیکھ کر مسکرایا اور آگے بڑھ کر اسکے کندھوں کو ٹھپک کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“شمش دادا تم کیوں فکر کر رہے ہو مشی کے پاس تمہاری عیشال ہے نا وہ جاوید خان کیا اگر کوئی اور بھی وہاں مشی کے ساتھ کچھ غلط کرنے آیا نا تو دونوں مل کر اس کا پورا خاندان اسے اچھے سے یاد ضرور کروائے گے۔۔!!
وہ اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی بات پر شمش اور پریشان نظر آنے لگا۔۔
“سرکار اب تو اور ٹیشن ہو رہا ہے کیونکہ وہ جھلی بھابھی کی طرح بہادر نہیں ہے وہ بہت ہی ڈرفوک ہے۔!!
وہ اپنی کنپٹی سہلاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تم فکر مت کرو میں نے وہاں دو تین آدمیوں کو بھیجا ہے وہ لوگ انکا اچھے سے خیال رکھے گے۔۔!!
وہ اسے سنجیدگی سے کہتا ریسٹورنٹ کی جانب دیکھنے لگا جہاں اسے جاوید خان کے لوگ اندر جاتے ہوئے نظر آئے تو وہ اپنا ہوڈی درست کرتے ہوئے آہستگی سے ریسٹورنٹ کی جانب بڑھا اور شمش اسے دیکھتے ہوئے جلدی سے اپنا فون جیب سے نکال کر اخسم دادا کے خاص سیکورٹی انچارج کو فون کرنے لگا تاکہ اخسم ولا کی صورت حال کا پتہ چلا سکے۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“مش آپ کتنی پیاری ہے بلکل ڈول کی طرح لگتی ہے اور آپکی یہ گرین آنکھیں مجھے اپنی ڈول کی طرح لگتی ہے۔۔!!
عیشال اسکے روم میں بیٹھی کب سے اسے دیکھ رہی تھی اور مشاطہ اس چھوٹی سی لڑکی کے دیکھنے سے سخت نروس ہو رہی تھی کہ اسکے کہنے پر وہ شرما کر اسے دیکھنے لگی۔۔
“آپ بھی بہت کیوٹ ہے بلکل باربی ڈول کی طرح۔۔!!
وہ بھی مسکرا کر کہنے لگی تو عیشال اسکی بات پر اپنا ایک ہاتھ اپنے سر پر مارتی تیزی سے اٹھی اور روم سے باہر نکلنے سے پہلے اس سے کہنے لگی۔۔
“ہوں مش اففف میں تو بھول گئی آپ سے یہ پوچھنا کہ کیا میں آپکو مش کہہ کر بلا سکتی ہو وہ کیا ہے نا مجھے مش کہنا بہت زیادہ پسند آیا۔۔!!
وہ دروازے کے سامنے کھڑی ہو کر کہنے لگی تو مشاطہ اسکی بات پر مسکرائی اور پھر اپنا سر ہلا کر اسے پرمیشن دینے لگی۔۔
“ٹینکس مش وہ اب میں باہر جانا چاہتی ہو وہ کیا ہے نا میں اپنی بک وہاں لان میں بھول گئی تھی شکر ہے آج اخسم بھائی کے وہ عیجب فاکس ڈاگ وہاں نہیں ہے ورنہ بہت مشکل تھا وہاں جانا کیونکہ وہ مجھے کچا چبا چبا کر کھا جاتے اگر میں وہاں بک لینے جاتی۔۔!!
وہ ہنس کر بولی تو مشاطہ اسکی معصوم باتوں پر پہلی بار مسکرانے لگی۔۔
“اچھا تم جاؤ ورنہ وہ فاکس وہی پر آ جائے گے تو پھر وہ تمہیں سمجھ کر سب مل کر تمہاری بک کو کھا جائے گے۔۔!!
مشاطہ نے شرارت سے کہا تو وہ ڈر کر روم سے باہر نکلی اور لان کی طرف بھاگی یہ سوچے سمجھے بغیر کے تھوڑی دیر بعد اسکے ساتھ بہت برا ہونے والا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“زوارق لالہ آپ پلیز کار کو یہی پر روکے مجھے زرنش ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔۔!!
کسوا نے تیزی سے کہا تو زوارق اسکے لالہ کہنے پر بدمزہ ہوا اور کار بیچ سڑک پہ روکتا غصے سے پیچھے مڑا۔۔
“کسوا کتنی بار تم سے کہو کہ مجھے لالہ کہہ کر مت بلاؤ۔۔!!
وہ سختی سے کہتا اسے دیکھنے لگا جو زرنش کو دیکھ رہی تھی اور ساتھ میں اسکے ہاتھوں کو بھی سہلا رہی تھی تبھی زوارق خان کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تو اسنے جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازه کھولا اور باہر نکل کر پچھلی سیٹ کی جانب بڑھا۔۔
“زر بیٹا کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو اور یہ تمہارے چہرے کو کیا ہوا ہے۔!!
زوارق خان نے زرنش کے سائیڈ والی ڈور کھولتے ہوئے اسے پریشانی سے دیکھتے ہوئے کہا جسکا چہرہ رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا۔۔
“لالہ آپ کسوا کے ساتھ ڈنر کرنے اکیلے چلے جائے نا کیونکہ مجھے بہت تیز بخار ہے صبح سے میں تو اس کسو کی وجہ سے جا رہی تھی لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ اگر میں اس سردی میں باہر گئی نا تو ٹھنڈ سے وہی مر جاؤ گی۔۔!!
وہ سو سو کرتی کسوا کو شریر نظروں سے دیکھتی ایک آنکھ زوارق خان سے نظریں بچا کر اسے مارتی ہوئی کہنے لگی تو کسوا اس ڈرامے باز کو سخت نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اگر زر تم نہیں جا رہی تو میں بھی نہیں جاؤ گی۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اسے گھورتی ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کرتی زوارق خان کی چند پل کی اس خوشی کو برباد کر گئی جو زرنش کے نا آنے کی وجہ سے اسے ہوا تھا۔۔
“کیوں کسو تم کیوں نہیں جاؤ گی تم ضرور جاؤ گی کیونکہ تم میٹرک میں اچھے نمبروں سے پاس ہوئی ہو تو تمہیں لالہ سے ٹریٹ مانگی چاپیے۔!!
“بھائی آپ کھڑے کیا کر رہے ہیں جائے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کریں ورنہ یہ لڑکی ابھی باہر نکل کر گھر کے اندر بھاگ جائے گی۔۔!!
وہ بھی اسی کی کزن تھی تیزی سے اسے کہتی زوارق خان کو پیچھے کرتی کار سے باہر نکلی اور پھر کار کا ڈور جلدی سے بند کرتی اسی تیزی سے پیچھے مڑی اور زوارق خان کو دیکھتی جلدی سے اسے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“زر تم نہ بہت تیز ہو پر بہت اچھی اور پیاری سی بہن ہو میں تمہارے لیے بھی آتے وقت کچھ لے کر آؤ گا۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“لالہ نیگ تو میں ضرور لونگی دلہے صاحب کی اکلوتی بہن جو ہوں۔۔!!
وہ بھی شریر نظروں سے اسے کہتی جلدی سے گھر کی طرف بھاگی مبادا کسوا کار سے باہر نکل کر اسکے پیچھے اسے مارنے کے لئے نا بڑھے۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“تو حوالدار صاحب آپکو پتہ چل ہی گیا کہ یہاں آج رات دو بجے اخسم دادا پورے پانچ لوگوں کو بنا ٹکٹ کے دوزخ میں پہنچانے والا ہے گڈ۔۔!!
اخسم دادا اپنے اصغر خان کے بھائی جاوید خان کے آدمیوں کے ساتھ ملے اپنے نئے دشمنوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے رات کے ایک بجے مری کے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں بیٹھا اپنا پورا چہرہ ہوڈی میں چھپائے ایک ٹیبل پر بیٹھا سامنے بیٹھے ان لوگوں کو دیکھ رہا تھا کہ ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے عرشمان خان کو دیکھ کر وہ پرسرار انداز میں مسکرایا
عرشمان ریسٹورنٹ میں داخل ہو کر اپنی نظریں چاروں جانب ڈورہا کر اُسے ڈھونڈنے لگا اور اسے آرام سے سامنے ٹیبل پر کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے مزے سے کافی پیتے ہوئے دیکھتا وہ سخت غصے سے اسکی جانب بڑھا۔۔
“مسٹر اخسم شیرانی یو آر انڈر اریسٹ ۔۔!!
اخسم جو مزے سے کافی پی رہا تھا اسے اپنی طرف غصے سے بڑھتے ہوئے دیکھ کر خوبصورتی سے مسکرایا تو عرشمان خان اسکی مسکراہٹ پر سخت چڑ کر ٹیبل کے پاس پہنچا اور زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“بٹ وائے مسٹر حوالدار صاحب میں نے ایسا کیا کیا ہے جو آپ مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔۔؟؟
وہ سیاہ ہوڈی کو اپنے سر سے ہٹا کر اپنی نیلی کسی شکار کو اپنے سامنے پاکر کسی شیر کی مانند چمکتی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر وہ اسے دیکھتا کافی کا مگ اپنے لبوں سے لگاتا سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگا۔۔
“اخسم شیرانی تم نے اتنے لوگوں کو مارا ہے اور اب مجھ سے پوچھ رہے ہوں کہ میں تمہیں کیوں گرفتار کرنا چاہتا ہوں۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اسے گھورتا سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
آج اسے اپنے منجر سے پتہ چلا تھا اخسم دادا اصغر خان کے آدمیوں کو یہاں مارنے کے لئے آ رہا ہے اور یہ خبر بھی اسکے منجر نے اخسم دادا کے ایک آدمی کے زریعے نکلا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ یہاں خود نہیں بلکہ اخسم دادا نے اسے بڑی چالاکی سے یہاں بلایا تھا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے اخسم دادا کی دہشت کو دیکھے۔۔
“آپکے پاس کیا پروف ہے حوالدار صاحب کے میں اتنے لوگوں کا قاتل ہوں۔۔؟؟
“حوالدار صاحب کوئی بات نہیں جو تم میرے خلاف ابھی تک ثبوت جما نہیں کر سکے میں ہو نہ فکر مت کرو ابھی ایک شاندار سا ثبوت کا بندوست کرتا ہوں ان لوگوں کو بے رحمی سے مار کر تمہارے لیے بس تم یہاں بیٹھو اور اس کافی کا اور خون خرابے کا مزا لوٹوں۔۔!!
وہ بات تو عرشمان خان سے کر رہا تھا لیکن دیکھ جاوید خان کے آدمیوں کو رہا تھا جو اسکی موجودگی سے سخت کانپ رہے تھے تبھی اسنے اٹھتے ہوئے عرشمان خان کے غصے سے سرخ چہرے کو نرمی سے سہلایا اور خطرناک تاثرات چہرے پر سجاتا وہ اس سے کہتا ان پانچوں کی جانب بڑھا جو اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر سٹپٹا نے لگے تھے۔۔
“اخسم شیرانی یہ تُم غلط کر رہے ہو ایک پولیس افسر کے سامنے تم دیدا دلیری سے قتل کرنے کا اعتراف کر رہے ہو اور تمہیں کیا لگا تم جا کر انہیں مار دو گے تو میں ڈر کے مارے یہاں بیٹھ کر تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔۔
یہ تمہاری سب سے بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ میں ان جیسا پولیس افسر نہیں ہو جنہیں تم ڈرا دھمکا کر رکھا کرتے تھے میں عرشمان خان ہوں جو جرم اور گناہ کرنے والوں کو ختم کرنا اچھے سے جانتا ہے۔۔!!
اپنی آنکھیں اس پر سختی سے مرکوز کرتا وہ نفرت سے خود سے کہتا اسکے پیچھے بڑھا تو اخسم شیرانی کا بندہ جو یہی ریسٹورنٹ میں شمش کے کہنے پر اخسم دادا کے پیچھے آیا تھا وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسکے راستے میں آ کھڑا ہوا تو عرشمان خان اسے دیکھتے ہوئے سائیڈ سے ہو کر گزرنے والا تھا اس شخص نے اپنی ریوالور نکال کر اس کے پیٹ پر رکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے دھمکی دینے لگا۔۔
“راستے سے ہٹو ورنہ۔۔!!
وہ سرد لہجے میں کہتا ریوالور کی جانب دیکھتے ہوئے اسے وارننگ دینے لگا جس پر وہ شخص مسکرایا۔
“آفیسر تم مجھے مار کر سرکار کو گرفتار کروں گے یہی کہنا چاہتے ہو نا تو یہ تمہاری خام خیالی ہے سرکار ان غداروں کو انکے کیے گئے گناہوں کی سزا دیں گا اور ہم دونوں یہاں سے زندہ صحیح سلامت اور گرفتار ہوئے بغیرباہر بھی نکلے گا۔۔!!
وہ شخص سرد لہجے میں کہنے لگا تو عرشمان خان اسکی بات پر سخت مشتعل ہوگیا اور پیچھے سے اپنا ریوالور نکال کر اس شخص کی دھمکی کی پرواہ کئے بغیر فائر کرنے لگا تو فائر کی آواز پر سب ڈر کے مارے اپنی جان بچا کر ادھر ادھر بھاگنے لگے
اخسم دادا جاوید خان کے آدمیوں کو اس رش میں غائب ہوتا دیکھ سخت غصے سے پیچھے مڑا اور عرشمان خان کو طیش کے باعث دیکھنے لگا جو ریوالور کا رخ اسکی جانب کیے کھڑا تھا۔۔
عرشمان خان تم یہاں سے زندہ بچ کر باہر نہیں نکل سکتے بہت غلط کیا تم نے میرے دشمنوں کو بھگانے کا موقع دے کر لیکن اب انکی جگہ تم مروں گے ۔۔!!
وہ اپنی مخصوص تلوار نما ہتھیار اپنی ہوڈی کے پیچھے سے نکال کر سخت نظروں سے اسے دیکھتا دہشت زدہ لہجے میں کہنے لگا۔۔
عرشمان نے اپنے ریوالور کو دور اچھالا اور ایک چاقو جو وہ ہر وقت اپنے پاس اپنی حفاظت کے لیے رکھتا تھا وہ نکالتا اس کی جانب تیزی سے بڑھا اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر وہ چاقو کو اسکے پیٹ پر شدت سے مارتا پیچھے ہٹا۔۔
اخسم شیرانی سخت نظروں سے اسے گھورتا اپنے پیٹ سے بھل بھل بہتے خون کی پرواہ کئے بغیر غصے سے چاقو سے اسکے مضبوط شانے پہ زور سے وار کرتا آگے بڑھا تو عرشمان خان اس وار کو سہہ نہ سکا اور اپنے شانے کو پکڑتا نیچے گرتا چلا گیا۔۔
“بہت برا کیا یہاں فائرنگ کر کے عرشمان خان تم نے دیکھو تو اپنی حالت کیسے تڑپ رہے ہو اب کون آئے گا تمہیں یہاں بچانے۔۔؟؟
تھوڑی دیر رک کر وہ دوبارہ گویا ہوا۔۔
“کوئی بھی نہیں نا ہی وہ تمہارے ڈیپارٹمنٹ والے اور نا ہی تمہارا خاندان کوئی بھی نہیں آئے گا تم یہی مجھے یاد کر کر کے تڑپ تڑپ کر اپنی آخری سانسیں لوں گے اور یہ سوچے گے کہ تم نے کیوں اخسم دادا کو چھیڑا کیوں اپنی جان کو قربان کر دیا کیوں۔۔!!
اسے نیچے بری طرح سے کراہتے ہوئے دیکھتا وہ چاقو سے اُسکا بہتا ہوا خون بے رحمی سے اپنے انگھوٹے کی مدد سے صاف کرتا سپاٹ چہرے کے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اسے دیکھتے اسکا خون جو اسکے انگھوٹے پر لگا تھا۔۔
اسکے چہرے پر بے دردی سے لگاتے ہوئے اسے افسوس بھری نظروں سے دیکھتا کہنے لگا جو ایک ہاتھ سے اپنے شانے کو سختی سے پکڑ کر اپنی آنکھیں سختی سے میچے کراہ رہا تھا۔۔
“خیر میں یہ تمہاری آخری نشانی کو ضرور یاد رکھوں گا آفیسر خان جو تم نے مجھے آخری سانسیں لینے سے پہلے بہت ہی شاندار طریقے سے دیا ہے۔۔!!
اسکا چہرہ نرمی سے ٹھپٹھپا کر کہنے لگا۔
“ب۔بھول ہے یہ اخسم شیرانی کے میں اتنی سی وار پر مر جاؤ گا ب۔بب بہت جلد میرے شکنجے میں تمہارا یہ گردن ہوگا انتظار کرنا تم اس وقت کا اور وہ وقت جلد آئے گا۔۔!!
عرشمان خان نے اپنی آنکھیں کھول کر اسے غصے سے گھورا اور اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر سختی سے اسکے گردن پر اپنا وہ ہاتھ رکھتا اٹک اٹک کر کہنے لگا۔۔
“ب۔بھول ہے یہ اخسم شیرانی کے میں اتنی سی وار پر مر جاؤ گا ب۔بب بہت جلد میرے شکنجے میں تمہارا یہ گردن ہوگا انتظار کرنا تم اس وقت کا اور وہ وقت جلد آئے گا۔۔!!
عرشمان خان نے اپنی آنکھیں کھول کر اسے غصے سے گھورا اور اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر سختی سے اسکی گردن پر رکھتا اسے پیچھے کی جانب دھکیلتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ڈونٹ موو مسٹر اخسم شیرانی۔۔!!
ابھی وہ سنبھلتا اس سے پہلے وہاں بہت سے پولیس افسر نے آ کر اسے گھیرے میں لے لیا اور ایک آفیسر آگے بڑھا اور ریوالور اسکی کنپٹی پر رکھ کر کہنے لگا۔۔
“سر آر یو ال رائٹ۔۔؟؟
ایک نے عرشمان کی جانب بڑھتے ہوئے پوچھا تو اسنے شانے پہ ہاتھ سختی سے جما کر اپنا سر ہاں میں ہلایا اور قہر برساتی نظروں سے اخسم شیرانی کو دیکھنے لگا جو اسکی ہوشیاری پر طنزیہ انداز میں مسکرا رہا تھا اور اسکی یہی مسکراہٹ عرشمان خان کو سخت غصہ دلا رہا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اسے اپنی آنکھوں سے اسے کچھ باور کروانا چاہتا ہوں اور وہ سمجھ نا پا رہا ہوں۔۔
“ارسلان ہم اسکو اس طرح باہر نہیں لیں جا سکتے ہیں۔۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے ارسلان کو کہنے لگا جو جونیئر آفیسر تھا اور اخسم اسکی بات پر اپنے جیب سے سگریٹ نکال کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے سامنے کھڑے آفیسر سے سگریٹ کو جلانے کا حکم دینے لگا۔۔
“مسٹر اخسم شیرانی یہ پولیس افسر ہے تمہارا غلام نہیں جو تم اسے حکم دے رہے ہو۔۔!!
عرشمان خان اسکی آفیسر کو ایٹیٹوڈ سے حکم دینے پر غصے میں آ کر آگے بڑھا اور اسکے منہ سے سگریٹ کو نکال کر دور اچھالتے ہوئے کہنے لگا
“حوالدار صاحب یہاں سب میرے غلام ہے اور میں آقا یہاں سکہ بھی اخسم شیرانی کا چلتا ہے اور حکم بھی جو میری بات نہیں مانتا وہ سیدھا دوزخ میں جاتا ہے لیکن ایک منٹ تمہارے جیسے نیک شریف انسان تو مرنے کے بعد سیدھا جنت میں جاتا ہے تو میں یہ کیسے بھول گیا۔۔!!
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خطرناک لہجے میں کہتا آخر میں پرسوچ لہجے میں کہہ کر اسے دیکھنے لگا جو اسکی بات پر سخت نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔۔
اچانک سے ریسٹورنٹ کے باہر زوردار فائرنگ کے ساتھ ساتھ لوگوں کا شور سنائی دیا جسے سنکر اخسم شیرانی مسکرایا اور اپنے ہتھکڑی لگے ہاتھوں کو اوپر ہوا میں بلند کرتا جیسے باہر کسی کو اشارہ کر رہا ہوں اسے یہ کرتا ہوا دیکھ عرشمان سمجھ گیا کہ باہر کوئی اور نہیں بلکہ اخسم شیرانی کے ہی آدمی تھے۔
“خان صاحب اگلی بار سوچ سمجھ کر اپنے کتوں کے ساتھ اخسم شیرانی کو پکڑنے آنا ورنہ اگلی بار تمہارا میں اس سے بھی بدتر حالت کروں گا۔۔!!
وہ سگریٹ سلگا کر اسکے شانے پر ہاتھ رکھتا زور سے دباؤ بڑھاتے ہوئے کہنے لگا تو عرشمان خان تکلیف کی پرواہ کئے بغیر اسے سخت نظروں سے دیکھنے لگا جو بڑے ہی شان سے اپنے آدمیوں کے بیچ میں کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
