Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

“ڈاکٹر صاحبہ اِس وقت مجھے کیوں بلایا ہے ہاں اگر ہاسٹل والوں نے ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑا نا تو ہمیں لینے کے دینے پڑ جائے گے۔۔۔!!
ڈاکٹر ازلان نے اپنی ڈائل والی مہنگی واچ کی جانب دیکھا جہان رات کے ساڑھے تین بج رہے تھے پھر سامنے کھڑی سرخ چهره اور آنکھیں لیے ڈاکٹر صاحبہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اُسکے پوچھنے پر یکدم سے روتی ہوئی اُسکے مضبوط کندھے پر اپنا سر رکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“ڈاکٹر ازلان پلیز مجھے بچا لیں ابھی میں کسی سے شادی جیسے بندھن میں نہیں بندھنا چاہتی اور میرے ماما بابا تو نہیں چاہتے کہ میں ڈاکٹر بنوں آپ پلیز کچھ کرے ورنہ میں خودکشی کر لوں گی۔۔!!
وہ روتی ہوئی سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو بغور اسکی باتوں کو سن رہا تھا آخر میں اُس کی خودکشی کا سن کر غصے سے اُسے گھورنے لگا۔۔
“انف مس صاحبہ اِس مسلے کا حل خودکشی نے ہیں تُمہیں تو جا کر اپنے ماما بابا کو کنوینس کرنا چاہیے ناکہ اس طرح رو کر زندگی سے مایوس ہو کر خودکشی کرنے کا سوچنا چاہیئے اس سے تُم کچھ نہیں کر رہی بس اپنا وقت ضائع کر رہی ہوں سمجھی اور بڑی آئی خودکشی کرنے والی پتہ ہے خودکشی کرنے کے لیے بھی مضبوط جگرا چاہیے جو تمہارے پاس نہیں ہے ۔!!
ازلان کو اسکی خودکشی والی بات پر نجانے کیوں سخت غصہ آیا اور وہ غصیلی آواز میں اسے کہنے لگا تو ڈاکٹر صاحبہ کو اسکی باتیں سن کر یکدم سے شرمندگی نے آن گھیرا۔۔
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ڈاکٹر ازلان لیکن میں نے اِنہیں بہت منایا لیکن وہ مان ہی نہیں رہے تو اس میں اب میں کیا کروں وہ بس میری شادی کروانا چاہتے ہیں۔۔۔!!
وہ روتی ہوئی شدت سے چیختی ہوئی کہنے لگی تو اسکی بات پر ڈاکٹر ازلان نے آگے بڑھ کر اسکی کلائی کو پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے آگے بڑھا وہ دونوں اس وقت ہاسٹل کے پچھلے حصے میں تھے اور ازلان اسے کھینچتے ہوئے اپنی کار کی جانب بڑھ رہا تھا جو اسنے تھوڑی دور پارک کیا تھا۔۔
“یی۔۔یہ آپ مجھے کہا لے کر جا رہے ہیں۔۔؟؟
اُسے فرنٹ سائیڈ پر بیٹھا کر وہ خود گھوم کے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا اور دروازه کھول کر وہ اندر بیٹھا تو ڈاکٹر صاحبہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔۔
“نکاح کرنے۔۔!!
سنجیدگی سے کار کو اسٹارٹ کرتے ہوئے کہنے لگا تو صاحبہ اسکی بات پر ہکا بکا ہو کر اسے دیکھنے لگی جو سنجیدگی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا۔۔
“ڈاکٹر ازلان یہ آپ کیا مزاق کر رہے ہیں نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے جب چاہا کر لیا جب چاہا تھوڑ لیا۔۔!!
وہ چیخ کر بولی تو ازلان نے کار کو سائیڈ پر روکتے ہوئے کہا۔۔
“مجھے پتہ ہے مس صاحبہ لیکن اس سے بہتر اوپشن نہیں ہے تُمہارے پاس اگر ہمارا نکاح ہوگیا تو تمہاری ساری پروبلم سولو ہو جائے گی اور تم فکر مت کروں میں ابھی یہ نکاح راز رکھوں گا جب تک تُمہارے ماں باپ نہیں مان جاتے اور تم جب تک کامیاب ڈاکٹر نہیں بن جاتی تب تک ہم اس پاکیزہ بندھن میں بندھے رہے گے۔۔!!
وہ لاہور جانے والی سڑک پر کار کو موڑتے ہوئے کہنے لگا تو صاحبہ سامنے دیکھتی کہنے لگی۔۔
“لیکن تُم مجھے لاہور کیوں لے کر جا رہے ہوں۔۔؟؟
وہ تعجب سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
“کیونکہ میں ہماری فیملی کے بغیر یہ نکاح ہر گز نہیں کروں گا مگر تم ٹیشن مت لینا اس سے میں اِس کونٹریک کو نہیں بھولوں گا جو ابھی ہمارے درمیان طے ہوا ہے۔۔!!
سنجیدگی سے کہتا رش ڈرائیونگ کرنے لگا تاکہ صبح ہونے سے پہلے وہ لاہور پہنچے اور تبھی کچھ خیال آنے پر اسنے ڈاکٹر صاحبہ کے موم ڈیڈ کو میسج کیا تاکہ وہ بھی لاہور اسکے گھر پہنچے۔۔
“کونسا کونٹریک۔۔؟؟
حیرت سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
“دیکھو میں وعده کرتا ہوں کہ یہ نکاح صرف ہمارے درمیان ایک کاغذی حیثیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوگا میں کبھی بھی تُمہاری رضا مندی کے بغیر تمہیں اپنی بیوی نہیں بناؤ گا بلکہ ہم بیڈ روم سے باہر والوں کے سامنے ایک آئیدیل کپل بننے کا ناٹک کرے گے مگر بیڈروم کے اندر ہم صرف ایک اچھے دوست کی طرح رہے گے میاں بیوی کی طرح نہیں۔‌!!
وہ اسکی جانب دیکھتے ہوئے اس سے وعده کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“لیکن اگر کبھی تُم مکر گئے تو۔‌؟؟
وہ اسے بغور دیکھتی ہوئی سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔
“تو تُم اسی وقت مجھے چھوڑ کر جا سکتی ہوں میں منا نہیں کروں گا۔۔!!
وہ بھی سنجیدگی سے بولا۔۔
“اور اگر تُم مجھے نا چھوڑنے کی ضد پر اتر آئے تو۔۔؟؟
وہ اسی سنجیدہ تاثرات سے اسے پوچھنے لگی۔۔
“یہ تو آگے جو ہوگا وہ ہماری قسمت میں لکھا ہوا سمجھ کر ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔!!
وہ کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہنے لگا تو ڈاکٹر صاحبہ پرسکون ہو کر سیٹ کی پشت سے اپنا سر ٹکا کہ آنکھیں موند گئی۔۔
اب آگے جو ہوگا وہ دونوں بلکل بھی سوچنا نہیں چاہتے تھے لیکن اب جو وہ دونوں کرنے جا رہے تھے اسکے بارے میں وہ دونوں خاموشی سے سوچ رہے تھے کہ پتہ نہیں اب کیا ہوگا انکے گھر والوں کا ریکشن کیا ہوگا جب وہ انکے نکاح کرنے کا کہے گے تو وہ کیا کرے گے اگر انہوں نے انکار کر دیا تو یہ سوچ کر وہ دونوں پریشان بھی ہو رہے تھے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
کسوا کی آنکھیں اپنی گردن پر نرم لمس پر جٹ سے کھولی تو وہ پلٹ کر زوارق خان کو دیکھنے لگی جو اُسے اپنے ساتھ سختی سے لگائے ہوئے تھا اور اسی وجہ سے اُسکے ہونٹ اُسکی گردن سے مس ہو رہے تھے۔
وہ اپنی آنکھیں بند کیے شاید سو رہا تھا یا ناٹک کر رہا تھا کسوا یہ اندازه نہیں لگا سکی تبھی وہ اپنی نائٹی کو شانوں پر درست کرتی سرخ چہرہ لیے سامنے وال کلاک کی جانب دیکھنے لگی جہاں رات کے چار بج رہے تھے۔۔
اُسکی تھوڑی دیر پہلے کی شدتوں کو وہ سوچتی تیزی سے اس سے الگ ہو کر بیڈ سے نیچے اتری اور اپنے چہرے پر آئے پسینے کو پونچھتی تیزی سے واشروم کی جانب بڑھی۔۔
“یہ خان جی نے کیا کر دیا میرے ساتھ اب مم۔۔میں باہر کیسے جاؤ گی۔۔!!
وہ واش روم میں بیسن کے سامنے کھڑی سرخ نظروں سے سامنے آئینے میں خود کو نم آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
“مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔۔!!
وہ چہرہ ٹاول سے پونچھ کر بڑبڑاتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“کسوا۔۔!!
باہر سے زوارق خان کی آواز پر وہ تیزی سے ڈھرکتے دل کے ساتھ باہر نکلی۔۔
“کیا ہوا جان کیوں روئی تھی تم۔۔؟؟
وہ باہر نکلی اور ابھی الماری کی جانب بڑھی ہی تھی کہ زوارق خان نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھا تو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اسے شانوں سے پکڑ کر پوچھا وہ اب بھی کل والی نائٹی میں تھی فرق صرف اتنا تھا کہ وہ اس وقت فریش نہیں لگ رہی تھی سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“خان جی کل رات میرے ساتھ بہت کچھ کرنے کے بعد اب آپ پوچھ رہے ہیں کہ ہوا کیا ہے۔۔!!
وہ زخمی نظروں سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی تو زوارق خان اسکی بات پر ایک گہری سانس خارج کرتا اپنی انگلیاں بالوں میں پھنسا کر مسکراتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“تو پگلی اس میں رونے والی کونسی بات ہے جو تم رو رہی ہوں اور جو کل میں نے کیا ہے وہ میرا حق تھا اور یہ ابھی نہیں تو کل تو ہونا ہی تھا۔۔۔!!
اسکی نائٹی کو شانوں سے درست کرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو کسوا جھٹکے سے پیچھے ہٹی اور اسکو دیکھنے لگی جو اسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔
“آپ نے اچھا نہیں کیا خان جی ممم۔۔۔میں مجھے ابھی اور اسی وقت یہاں سے جانا ہے نہیں رہنا مجھے یہاں میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں۔۔!!
وہ اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہتی سامنے الماری کی جانب بڑھنے لگی تو زوارق خان نے ایک ہی جسٹ میں اسے جا لیا اور بازؤوں میں بھرتا بیڈ کی جانب بڑھا اور اسے بیڈ پر گرا کر دوپٹے سے اسکے دونوں ہاتھوں کو پیچھے بیڈ کے اوپر باندھنے لگا۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں خان جی چھوڑے مجھے۔۔؟؟
کسوا اسکی حرکت پر سخت نظروں سے اسے دیکھتی زور زور سے اپنے پیروں کو غصے سے ہلانے لگی جس کے نتیجے میں اسکی نائٹی کی ڈوریاں کھل گئیں تو وہ سٹپٹا کر اسے دیکھنے لگی جو اسکی نائٹی کی ڈوریاں کھلنے کی وجہ سے وہ اسکی شفاف صراحی دار گردن کے نیچے کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
“کسوا جان جتنی تم ہل رہی ہوں مجھے لگتا ہے سب کو تُم یہاں جما کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گی اس لیے میں پھر سے وہی کرنے جا رہا ہو جس وجہ سے تم یہ تماشا کر رہی ہوں۔!!
وہ اُسکی جانب بڑھا اور اسکے اوپر جھکنے سے پہلے اس سے کہنے لگا تو کسوا اسکی بات پر سخت گھبڑاہٹ کے مارے زور سے خود کو چھڑانے لگی۔۔
“آپ ایسا نہیں کرے گے خان جی۔۔!!
وہ ڈرتی ہوئی اسے دیکھنے لگی جو اسکی کمر کو اوپر اٹھا کر اُسکی نائٹی کو شانوں سے سرکا کر الگ کرتا اپنے ہونٹوں سے اسکی گردن کو چھو کر نیچے کی جانب بڑھا اور جابجا اسکے وجود کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا اور کسوا اسکی لمس پر شدت سے مچل رہی تھی۔۔
“کسوا جان تّم جتنا شور مچاؤ گی میں اتنا ہی اپنی محبت تم پر نچاور کروں گا۔۔!!
اُسکی ٹھوڑی کو پکڑ کر وہ اپنے ہونٹوں سے چھوتا بھاری آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے اوپر ہونٹوں کی جانب بڑھا اور شدت سے انہیں چھوتا اسکی سانسوں کو منتشر کرنے لگا تو کسوا اسکی ہاتھوں کو اپنے شانوں سے نیچے رینگتے ہوئے محسوس کرتی زور سے آنکھیں بند کرتی شدت سے کانپنے لگی۔۔
“مچاؤ گی میں خان جی شور آپ کو جو کرنا ہے کر لیں۔۔!!
وہ اسکی بات پر زور سے چلاتی ہوئی بولی تو زوارق خان اسکی بات پر روم میں ہلکی روشنی ہونے کی وجہ سے ذومعنی نظروں سے اسکے سراپے کو ‌پرشوق نظروں سے دیکھنے لگا جو اسکی گستاخیوں پر بری طرح سے لرز رہا تھا ۔۔
“سوچ لوں ڈارلنگ میں تو بہت کچھ کروں گا اب کی بار پر تُم یہ دیکھ کر ڈر کے مارے بے ہوش نا ہو جانا۔۔!!
اُسکی کمر کو اٹھا کر اسکی بیک کو مدہوشی سے چھو کر وہ خمار بھری آواز میں سرگوشی کرنے کے بعد نیچے جھکا اور بے خودی سے اسکی گردن پر اپنا لمس شدت سے چھوڑنے لگا تو کسوا اسکی شدت پر اب کے بے آواز آنسو بہانے لگی۔۔
“ہوں تُم تو رو رہی ہوں جان۔۔!!
اُسکے رخساروں پر نمی محسوس کرتا وہ گھمبیر آواز میں کہتا اپنے ہونٹوں سے اس نمی کو پینے لگا پھر اچانک اسکے ہاتھوں کو کھول کر اسے اٹھاتے ہوئے ذومعنی لہجے میں کہنے لگا۔۔
“جان اگر ایک آنسو بھی تمہاری آنکھوں سے نکلی نا تو میں تُمہیں وہ کرنے کو کہوں گا جسکا تم نہیں سوچا بھی نہیں ہوگا اور تُم وہ کر بھی نہیں پاؤ گی کیونکہ وہ تمہارے لیے بہت ڈینجر ہوگا۔۔!!
اُسکے شانوں کو ہونٹوں سے چھوتا وہ معنی خیزی سے مسکرا کر کہنے لگا تو کسوا اسکی لمس اور خطرناک بات پر سرخ ہوتی نظریں ہلکی روشنی میں اپنی آنکھوں کو پھاڑے اسے دیکھنے لگی۔۔
“میں کچھ بھی نہیں کروں گی خان جی آپ جو کہے گے وہ تو میں ہر گز نہیں کروں گی سنا آپ نے اور آپ اسطرح مجھے ڈرا نہیں سکتے۔۔!!
اسکی لمس کو اپنے ہونٹوں کے نیچے محسوس کرتی زور سے چیختی ہوئی کہنے لگی تو زوارق خان جو اسکے ہونٹوں کے نچلے حصے کو چھو رہا تھا اسکی بات پر اپنے ہونٹوں کو اوپر لے جا کر اسکے ہونٹوں سے الجھا کہ شدت سے چھونے لگا اور پھر اسکی مزاحمت اور رونے سسسکنے کی پرواہ کیے وہ ساری رات اسکے اوپر جھکا اپنی شدتیں لوٹانے لگا اور وہ تڑپتی ہوئی اپنی جان کو حلق پر اٹکتے ہوئے محسوس کرتی آخر کار اسکے آگے ہتھیار ڈال کر اپنی مزاحمت تهرک کرتی وہ اپنی آنکھوں کو موند کر سکون سے اُسکی شدتوں بھرے لمس کو محسوس کرنے لگی۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
شمویل جب رات کے بارہ بجے سخت تھکا ہارا اپنے روم میں داخل ہوا تو سامنے مشی کو دیکھ مہبوت رہ گیا اور اُسکی ساری تھکن ا‌ُسے اپنے کچھ دن اُسکے لیے لائے خوبصورت پیروں کو چھوتی سرخ سلولیس میکسی میں ملبوس دیکھ کر اتر چکا تھا۔۔
تو مس بیوٹی تُمہارا سرپرائز یہ تھا۔۔؟؟
ٹرانس کی سی کیفیت میں آگے بڑھا اور اسکے مقابل کھڑے ہو کر اُسے کندھوں سے پکڑے کھڑا اُسے دیکھنے لگا تو اُسکی میکسی کی پشت ڈیپ ہونے کی وجہ سے وہ اُسکی بیک کو اپنے ہاتھوں کی پشت سے چھوتا ہوا اُسے اپنے بے حد نزدیک کرتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔
“ہاں میرے کھڑوس ڈاکٹر صاحب لیکن ایک اور سرپرائز بھی ہے ابھی آپ کے لیے۔۔!!
مشاطہ نے اُسکی گردن پر ناز سے اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور خوبصورتی سے مسکرا کر کہتی اسے دیکھنے لگی جو اُسکی سرخ لپ اسٹک سے سجے کٹاؤ دار ہونٹوں کی جنبش کو مدہوشی سے دیکھ رہا تھا کہ۔۔
یکدم بے خودی سے نیچے جھکا اور اُسکے ہونٹوں سے شدت سے سرخ لپ اسٹک کو اپنے ہونٹوں سے مٹاتے ہوئے اُسے اٹھا کر پیچھے بیڈ کی جانب بڑھا مشاطہ سٹپٹا کر اسکے دونوں مضبوط کندھوں پر اپنے ہاتھ مارتی ہوئی اسے روکنے لگی۔۔
“مائے بیوٹی فل وائفی اتنا خوبصورت تحفہ دیا ہے تُم نے تو میرا فرض بنتا ہے میں بھی تُمہیں تھینکس کہوں اور میرا تھینکس اس سے بہتر تو ہو ہی نہیں سکتا۔۔!!
اُسے بیڈ پر بیٹھا کر اُسکی بیک پر بے باکی سے اپنے ہاتھ سے پھیرتا وہ مخمور نظروں کی گرفت میں اسکے نازک سراپے کو لیتا اس میں کھوتا ہوا وہ بوجھل آواز میں کہنے لگا تو مشاطہ نے جلدی سے کہا۔۔
“لیکن ابھی مجھے آپ کو دوسرا سرپرائز بھی تو دینا باقی ہے میرے کھڑوس ہبی صاحب۔۔!!
مشاطہ نے اپنی آنکھوں کو جٹ سے اوپر اٹھا کر اُسے دیکھا جسکی نظروں کو اپنی گردن سے نیچے پھسلتے ہوئے دیکھ کر شرم سے سرخ ہوتی اپنے ہاتھوں کو تیزی سینے پر رکھتی کانپتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“وہ کیا میری ڈاکٹرنی۔۔؟؟
اُسے مخمور نظروں سے دیکھتا اپنے اوپر گرا کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو مشاطہ اسکی ذومعنی نظروں سے سٹپٹاتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی لیکن شمویل نے اُسکے کمر کو سختی سے جکڑا اور بولتی نظروں کو اسکے سراپے پر گھاڑا۔۔
“وہ آپ کو یہاں نہیں اوپر ٹیرس پر دو گی۔۔!!
وہ اسکے ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنی انگلیوں سے پھنسا کر مسکراتی ہوئی کہنے لگی تو شمویل اُسکی سرخ لپ اسٹک سے نظریں چرا کر اسے الگ کرتا بیڈ سے اٹھا اور نیچے جھکا اور اُسے اپنی باہوں میں بھرتا بیڈ روم سے باہر نکلا مشاطہ مسکرا کر اسکی گردن پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی کہ۔۔
“جاناں یہ سب تُم نے کیا ہے۔۔؟؟
ٹیرس پر پہنچ کر سامنے خوبصورتی سے پھولوں سے سجے راستے کو جو ٹیرس پہ بنے ایک روم تک جا رہے رہے تھے وہ اسے لیے روم کی جانب بڑھا اور جب دروازه کھول کر اندر داخل ہوا تو بیڈ روم کو پھولوں اور کینڈل سے سجے دیکھ وہ بیڈ کی جانب بڑھا جسے پھولوں کی مدد سے سجایا گیا تھا اور سفید سلک کی بیڈ شیٹ کے اوپر ہارٹ کی شکل کو دیکھتا وہ مشاطہ سے پوچھنے لگا۔۔
“نہیں میں کیسے سجا سکتی ہوں ابھی آپ کھڑوس جانتے تو ہے کہ ابھی صرف پیروں کو موو کر سکتی ہوں چل نہیں سکتی یہ سب آئیڈیا میرا ہے لیکن ڈیکوریٹ ایک ڈیکوریٹر نے کیا ہے جسے میں نے آپکے ہاسپٹل جانے کے بعد بلایا تھا۔!
اُسکی جانب دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو شمویل خان اُسکی آنکھوں کو باری باری چھوم کر اُسے لیے باہر کی جانب بڑھا جہاں اسنے آتے وقت ایک ٹیبل پر کینڈل دیکھا تھا وہ ٹیبل کے سامنے پہنچا تو ایک کرسی پر اسے بیٹھا کر خود اسکے دائیں جانب کرسی کھسکا کر بیٹھا اور اُسے دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ہاتھ آگے بڑھا کر کرسی کو اپنے بے حد نزدیک کیا تو اسکے گھٹنے اسکے کرسی کو کھینچنے پر اسکے گھٹنوں سے مس ہوئے۔۔
“جاناں کیا اب اور سرپرائز تو نہیں ہے ناں۔۔؟؟
دونوں ہاتھ کرسی کے پیچھے رکھتا وہ اسکے اوپر جھکا اور گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا مشاطہ اسکی نزدیکی پر مسکرا کر سرخ چہرہ نیچے جھکا کر نفی میں سر ہلا گئی۔۔
“چلوں پھر ڈنر کرتے ہے بھئی مجھے تو بہت زیادہ بھوک لگی ہے تم بھی صبح سے لگی ہوں اور شاید مجھے سرپرائز دینے کے چکر میں تُم نے کچھ کھایا بھی نہیں ہوگا۔۔!!
پلیٹ سیدھا کرتے ہوئے کہنے لگا اور اسکے پلیٹ میں سالن ڈالتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اسکی نظروں سے پزل ہو رہی تھی۔۔
“بیوی اب کیوں شرما رہی ہوں نیچے تو تُم ایک الگ روپ میں میرے ساتھ پیش آرہی تھی بڑی پیار جتا رہی تھی کیا یہاں آکر موڈ بدل گیا یا پھر کسی رومنٹک عاشق جن کو اپنی بیوی کے ساتھ رومینس کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے جو ڈر گئی ہوں اور مجھے تو ابھی سے لگ رہا ہے بیوی تم اپنے اس جن کا رومینس سے بے ہوش ہو جاؤ گی۔۔!!
وہ بے باکی سے کہتا اسے دیکھنے لگا تو مشاطہ اسکی بات پر اسے غصے سے دیکھنے لگی۔۔
“نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔!!
فورک کو اٹھا کر وہ غصے سے بولی تو شمویل خان اُسکی غصیلی آنکھوں کو مسکرا کر دیکھنے لگا تو مشاطہ پلیٹ میں فورک کو رکھتی اٹھی اور جلتی ہوئی روم کی جانب بڑھی اور دروازه بند کرتی اندر داخل ہوئی اور غصے سے واش روم کی جانب بڑھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“مشی جاناں دروازه کھولو میں مزاق کر رہا تھا۔۔!!
شمویل ڈنر کے بعد بیڈ روم کا دروازه باہر سے پھیٹتے ہوئے کہہ رہا تھا کیونکہ مشاطہ نے غصے سے دروازه اندر سے لاک کیا تھا وہ ایک بار پھر سے دروازه نوک کرنے والا تھا کہ اندر سے مشاطہ نے دروازه کھول کر اسے دیکھا جو اُسے سیاه سلک کی گھٹنوں کو چھوتی نائٹی میں ملبوس دیکھ ساکت کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا کہ وہ آگے بڑھی اور نزاکت سے اُسکے چہرے کو چھو کر کہنے لگی۔
“کیا ہوا کھڑوس جھٹکا لگا۔۔۔!!
اُسکی آواز سن کر ہوش میں آیا اور آگے بڑھا اس سے پہلے کے وہ اُسے اپنی باہوں میں بھرتا وہ ہنستے ہوئے بھاگی تو اسکی ہوشیاری پر بے باکی سے مسکرا کر اسکے پیچھے بڑھا جو اب واش روم کے اندر داخل ہو رہی تھی۔۔
اُسکے دروازه بند کرنے سے پہلے ہی شمویل خان تیزی سے واشروم کے اندر داخل ہوا تو مشاطہ اُسے دیکھتی اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پیچھے آہستگی سے قدم بڑھانے لگی۔۔
“جانم جھٹکا تو اب تُمہیں لگے گا میری شدتوں کو دیکھ کر اب کیسے بچاؤ گی خود کو مجھ سے۔۔!!
وہ قدم آہستگی سے اسکی جانب بڑھاتے ہوئے معنی خیزی سے بولا تو مشاطہ جو پیچھے قدم بڑھا رہی تھی وہ سیدھا باتھ ٹب میں جا کر گری جس میں گلاب کی پتیاں پانیوں میں تھیں۔۔
“میں ہوش و ہواس میں تیار ہوں آپکی شدتوں کو سہنے کے لیے میرے مسٹر کھڑوس ہبی صاحب۔۔!!
باتھ ٹب میں پانی سے کھیلتی ہوئی وہ شریر نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو شمویل خان اسکی بہادری پر اپنے شرٹ کے بٹنو کو کھولتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“دیکھتے ہیں بیوی تُم کتنا سہتی ہوں۔۔!!
وہ اُسکے پیچھے آکر اسکی گردن کو چھو کر بوجھل لہجے میں کہنے لگا تو مشاطہ جو نڈر انداز میں اس کی باتوں کا جواب دے رہی تھی اسکی قربت پر سٹپٹائی لیکن پھر کچھ دیر پہلے کی اُسکی بات کو یاد کرتی مسکرا کر پیچھے پلٹی اور اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا ایک نازک ہاتھ اُسکے شانوں پہ رکھتی بے باکی سے دوسرے ہاتھ کی انگلی اُسکے عنابی ہونٹوں کو چھو کر کہنے لگی۔۔
“دیکھنا کیا ہے جناب عمل کر کے دیکھائے تب میں مانو کہ آپ مجھے تسخیر کر سکتے ہیں کہ نہیں۔۔!!
وہ نزاکت سے اب دونوں ہاتھوں کو کراس کی شکل میں پیچھے لے جا کر اسکی گردن پر رکھتی ہوئی بولی‌۔
“آپ چاہتی ہے کہ میں آپکو تسخیر کروں۔۔!!
اُسے مخمور نظروں سے دیکھتا وہ گھمبیر لہجے میں کہہ کر اُسکے سلولیس نائٹی سے جھانکتے گورے گورے شولڈر پر گلاب کی پتیوں کو اپنے ہونٹوں سے ہٹا کر نازک کمر کے گرد سخت حصار باندھ کر اسے اپنے بے حد نزدیک کرتا خمار آلود نظروں سے دیکھنے لگا تو مشاطہ اسکے نزدیک کرنے پر اپنے دونوں ٹانگوں کو اوپر اٹھا اسکے پیٹ پر باندھتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔۔
“ہمممم۔۔!!
وہ اسکی جانب دیکھتی ہوئی سر ہلا کر بس اتنا بول سکی تو شمویل خان اُسے نیچے جھکا کر دائیں اور بائیں جانب اپنے ہاتھ رکھتا اُسکے چہرے پر جھکا اور اپنے ہونٹوں سے اُسکے ہونٹوں کو شدت سے چھوتا ہوا اُسکی قربت پاکر اپنا ہوش کھونے لگا۔۔
مشاطہ اُسکی ہونٹوں کو شدت سے چھونے پر اپنے دونوں ہاتھ اُسکی پشت پر اور پیروں کو اُسکی کمر پر باندھ کر اُسکی شدتوں کو برداشت کرنے لگی‌۔
تبھی وہ اُسے اوپر اٹھا کر خود نیچے جھکا اور شدت سے اُسکے پیٹ کو چھونے لگا تو مشاطہ اُسکے ہونٹوں کو شدت سے اپنے پیٹ پر محسوس کرتیں تڑپتی اپنا سر اوپر اٹھا کر اُسکے بالوں کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں جکڑتے ہوئے اُسکی شدتوں کو برداشت کرنے لگی۔۔
“کھڑوس ہبی صاحب۔۔!!
اُسکے دہکتے ہونٹوں کو شدت سے اب اپنی گردن کے نیچے محسوس کرتیں وہ مچلتی ہوئی اُسکا نام لیتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“جی جانِ کھڑوس۔۔!!
سر اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگا جو آنکھیں موندے کیف کی سی کیفیت میں اُسے پکار رہی تھی۔۔
“مجھے یقین ہوگیا کہ آپ صرف آپ ہی مجھے تسخیر کر سکتے ہیں۔!!
وہ نیچے جھکی اور اُسکے چہرے کو تھام کر اُسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو شمویل اُسکی بات پر اُسکے نرم ہونٹوں کو چھوتا اٹھا اور اُسے بغور دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“جانِ کھڑوس میں کسی اور کو تُمہیں تسخیر کرنے کی اجازت بھی نہیں دوں گا اور اگر کسی نے یہ کیا نا تو وہ قتل ہو جائے گا تمہارے کھڑوس کے ہاتھوں۔۔!!
اُسے باہوں میں بھرتا وہ اسے باتھ ٹب سے نکال کر واش روم سے باہر نکلا اور روم میں داخل ہو کر اُسے گود میں بھرے بیڈ کی جانب بڑھا جبکہ مشاطہ مسکراتی ہوئی اپنے ہاتھوں کو اُسکی گردن پر باندھتی اُسے دیکھنے لگی۔۔
“میرے پیارے سے کھڑوس ہبی صاحب آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔؟؟
ایک ہاتھ سے اُسکی پیشانی سے نیچے ٹھوڑی تک انگلی سے لکیر کھینچتی اُس سے پوچھنے لگی تو وہ سامنے سائیڈ ٹیبل پر رکھے لمیپ کو بند کرتا بیڈ کی جانب بڑھا۔
اتنا زیادہ چاہتا ہوں میں تُمہیں جب تُم میری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہوں ناں تو ایسا لگنے لگتا ہے جیسے میرے آس پاس آکسیجن کم پڑ گئی ہوں یا پاگل ہو جاتا ہوں۔۔!!
شمویل نے اسے بیڈ پر بیٹھا کر خود اسکے بے حد نزدیک بیٹھتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے اسکی کان کی لُوں کو چھو کر گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا۔۔
پھر ‌پرشوق نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے اُسکی نائٹی کو شانوں سے آہستہ آہستہ ہٹانے لگا‌‌ تو مشاطہ اُسکی بے باک حرکت پر جھٹکے سے اُسکے سینے سے لگ کر اپنی آنکھیں موند گئی تھی۔
“آئی ریرلی لو یو وائفی۔۔!!
اُسے مخمور لہجے میں کہتا نیچے بیڈ پر لیٹا کر خود نیچے جھکا اور شدت سے اسکے ہونٹوں کو چھونے لگا تو مشاطہ اسکی شدت پر سختی سے بیڈ شیٹ کو پکڑ کر اسکی لمس کو اب اپنے پیٹ کے اوپر محسوس کرتی آنکھیں سختی سے میچنے لگی اور رات گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکی شدتیں بڑھتی جا رہی تھی اور سرور کی کیفیت میں اِن شدتوں اور گستاخیوں کو برداشت کرتیں وہ اپنے گرد شمویل کی گرفت کو تنگ ہوتے ہوئے محسوس کرنے لگی تھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“رات کے اس پہر کیا ازلان صاحب تُمہیں صرف میں ہی ملا تھا اپنی دکھوں کی دوکان کو چمکانے کیلئے ہاں۔۔!!
شمش جو عیشال کے چہرے پر مدہوش سا جھکا اپنا لمس اُسکے خوبصورت چہرے پر جابجا چھوڑ رہا تھا کہ فون کی بیل پر بدمزہ ہوکر وہ جو عیشال کے ہونٹوں کو چھو رہا تھا غصے سے پیچھے ہٹا۔۔
“پلیز شمش لالہ ابھی تو میں مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں کیونکہ اس وقت میں گھر کے مین گیٹ کے سامنے کھڑا ہوں سو آپ مہربانی کر کے میرے لیے دروازه کھولنے کیلئے تشریف لے کر آئے۔۔!!
دوسری طرف سے ازلان کی سخت جھنجلائی آواز سن کر وہ عیشال کی جانب دیکھنے لگا جو دائیں جانب لیٹی گالوں پر سرخی لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ اُسکے نرم ہونٹوں کو چھو کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“نہیں میرے نالائق سے کزن صاحب میں ابھی بہت بزی ہوں تُم یہ ڈیوٹی کسی اور کو سونپو ائینڈ گڈ نائٹ۔۔!!
وہ کہتا کال کاٹ کر فون بیڈ پر اچھال کہ عیشال کی گردن پر جھکا کہ تبھی پھر سے فون زور سے چیخ اٹھا تو پہلے تو اسنے نظر انداز کردیا مگر بار بار بیل کی آواز سے ڈسٹرب ہو کر وہ جو عیشال کے ہونٹوں کو چھو رہا تھا غصے سے آس سے الگ ہو کر فون کو اٹھا کر کان سے لگاتے ہوئے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہنے لگا۔
“ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ بنده اپنی بیوی کے ساتھ بزی ہے اور فون نہیں اٹھانا چاہتا تو کیوں بار بار کباب میں ہڈی بن کر کھود رہے ہوں تم میری پرائیوسی کے بیچ میں میرے نالائق کنوارے کزن۔۔!!
شمش کی بات پر ازلان کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکان کھلی تو ڈاکٹر صاحبہ جو اسے ہی دیکھ رہا تھی اسکو مسکراتے ہوئے دیکھ کر مہبوت رہ گئی۔۔
“شمش لالہ آج کی رات بس ایک بار دروازه کھول لیں آئندھا میں آپکو اس ٹائم کبھی دسٹرب نہیں کروں گا آئی پرومس۔۔!!
“آئندھا بیڈ روم میں داخل ہونے سے پہلے میں اپنا سیل باہر چھوڑ کر آؤں گا نا رہے گا باس نا بجے گی بانسری۔۔؛!
ازلان نے معنی خیزی سے کہا تو شمش نے غصے سے فون بند کرتے ہوئے دور اچھالا اور شرٹ اٹھا کر پہنتے ہوئے بڑبڑا کر کہنے لگا۔۔
“صنم کیا ہوا آپ اتنی رات کو کہا جا رہے ہیں۔۔؟؟
وہ اسکی بڑبڑاہٹ پر تعجب سے دیکھتی اپنے اوپر کمفرٹ کو اچھے سے درست کرتی اٹھی اور ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے مضبوط کندھے پر رکھتی اُس سے پوچھنے لگی۔۔
“عیشو جانم کہی نہیں بس میرا ایک نالائق کزن باہر کھڑا ہے اُسکے لیے دروازه کھولنے جا رہا ہوں وہ بھی ابھی مری سے سیدھا یہاں ٹپکا ہے اُسے شاید پھر سے کسی کیڑے نے کاٹا ہوگا جو اسنے گھر کا رخ کیا ہے عیشو جانم تم سو جاؤ میں ابھی آتا ہوں۔۔!!
وہ ازلان کے بارے میں اسے بتاتا ہوا اُسے آرام سے بیڈ پر لیٹا کر اُسکی پیشانی کو چھومتے ہوئے پیچھے ہٹا اور بیڈ سے نیچے اترنے لگا تو عیشال اُسکی لمس پر شرم سے سرخ ہو کر جلدی سے وہ خود کو کمفرٹ میں چھپا گئی اور شمش اسے ایسا کرتے دیکھ مسکرایا اور روم سے باہر نکلا۔۔
“اس وقت یہ کیوں نازل ہوا ہے اچھا خاصا میرا موڈ خراب کر دیا اس نالائق انسان نے اب چھوڑوں گا تو میں بھی اسے نہیں۔۔!!
اتنے دنوں بعد تو اُسے موقع آج ملا تھا جب سے وہ لوگ یہاں آئے تھے تو عیشال کے ساتھ وقت گزارنے کا اسے موقع نہیں ملا تھا کیونکہ وہ تین دن سے سب کے ساتھ مصروف ہو کر جیسے اسے بھول ہی گئیں تھی اب آج جو موقع ملا تھا تو اُس ازلان کے فون کال نے اُسکے اچھے موڈ کا ستیاناس کر دیا تھا۔