Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

“ماضی”
“روبی یہ تُم کیا کہہ رہی ہو میں بھلا کیوں انکار کروں گی تُمہیں ہمشیہ میں نے اپنی بہن سمجھا ہے اور کیا ہوا اگر اخسم تمہارا بیٹا ایسا ہے۔۔
میں صرف تمہاری خاطر اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کرواؤ گی اور تُم نے دیکھا نہیں وہ پورے تین دن کسی غلط کام کی طرف صرف مشاطہ کی وجہ سے نہیں گیا ہ
اگر ان دونوں کا نکاح ہوگیا تو شاید وہ یہ راستہ ہی چھوڑ دے صرف مشاطہ کے لیے کیونکہ مجھے اسکی آنکھوں میں مشاطہ کے لیے چمک نظر آیا تھا ایک پاکیزہ چمک اس زکی شیرانی کی ہوس والا نہیں جو تمہیں دیکھکر اسکی آنکھوں میں چمکا تھا یہ چمک کچھ الگ مختلف ہے اس میں مجھے عزت مان سب کچھ نظر آیا تھا ۔۔!!
مشاطہ کی ماں مہرین بیگم نے جب روبینہ کی بات سنی تو وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر نرمی سے کہنے لگی کیونکہ وہ دیکھ چکی تھی اسکی بیٹی کی وجہ سے ایک برا انسان سیدھے راہ کی جانب بڑھ رہا ہے اور وہ کیوں اُسے واپس اسی راہ کی جانب بھیجنا چاہے گی۔۔
“لیکن مہرین تُم اخسم کی اصلیت جاننے کے بعد بھی اپنی بیٹی کو اس عزاب میں دھکیل رہی ہوں جس میں میں اتنے سالوں سے جل رہی ہے میں نے تو تمہیں صرف اپنی خواہش کا اظهار کیا لیکن تم تو اسے سچ مانگ گئیں۔۔!!
روبینہ نے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تو مہرین تیزی سے آگے بڑھی اور اسے اٹھنے سے روکتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“دیکھو روبی وہ بدل رہا ہے پہلے دن میں نے اسکی آنکھوں میں صرف دہشت دیکھا تھا لیکن دوسرے دن اپنی بیٹی کے لئے چمک ایک ایسی چمک جو میں نے بہت سال پہلے تمہارے لیے اسکی نظروں میں دیکھا تھا۔۔!!
مہرین کے منہ سے اس شخص کا ذکر سن کر وہ درد سے اپنی آنکھیں زور سے بند کر گئی اسنے اس شخص کو صرف زکی شیرانی کی وجہ سے چھوڑا تھا اگر اسے پتہ ہوتا زکی شیرانی صرف اسکی حسن سے محبت کرتا تھا تو وہ کبھی بھی اسے نا اپناتی۔۔
“مہرین میں نے اسے چھوڑ کر اچھا نہیں کیا شاید یہ اسکی بددعا مجھے لگی ہے جو میں سکون محسوس نہیں کرتی ہوں اور آغا جان وہ تو اب مجھ سے نفرت کرتے ہونگے۔۔!!
وہ اپنی حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹکتے ہوئے محسوس کرتی اٹک اٹک کر بولنے لگی تو مہرین نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔
“نہیں وہ اپنی بیٹی سے نفرت نہیں کرتے ہیں اور تُم کیوں انکو اپنے حالات نہیں بتاتی ہو کیوں خود کو تکلیف دے رہی ہوں۔۔؟؟
اپنے ہاتھ روبی کے ہاتھ پر رکھتی وہ کہنے لگی تو روبی نے تیزی سے اپنا سر نفی میں ہلایا۔۔
“نہیں مہرین میں ان کا سامنا نہیں کر سکتی ہوں میں نے ان سب کو بہت دکھ دیا بہت زیادہ خاص کر اس کو اور میں اسکا بھی سامنا نہیں کر سکتی ہوں۔۔!!
وہ اپنے چہرے کو صاف کرتی کہنے لگی تو مہرین نے اسے دیکھتے ہوئے باتوں کا رخ اخسم اور مشاطہ کو کیسے راضی کرنا ہے اس جانب موڑا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“ماما یہ آپ کیا کہہ رہی ہے اس غنڈے کے ساتھ آج میرا نکاح اور بابا بھائی انکی موجودگی کے بغیر بلکل بھی نہیں پہلی بات تو میں کسی قاتل سے شادی نہیں کرو گی اور دوسری بات بابا اور بھائی کے بغیر تو بلکل بھی نہیں۔۔!!
مشاطہ انکی بات پر سخت غصے سے کہنے لگی تو مہرین بیگم نے محبت سے اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا۔۔
“مشاطہ میری بچی وہ تمہاری وجہ سے بدل رہا ہے اور یہ ایک ماں کی خوائش بھی ہے روبی چاہتی ہے کہ تم اسکے بیٹے کو سہی راستے پر لیں کر آؤ اور میری بچی مجھے یقین ہے تم یہ کر سکوں گی کیونکہ وہ تمہیں دیکھنے بعد وہ غلط راستہ آہستہ آہستہ چھوڑ رہا تھا اگر تم اسکا ساتھ دوگی وہ مکمل چھوڑ دے گا۔۔!!
اپنی ماں کی بات پر وہ پہلی بار متفق نظر آنے لگی کیونکہ یہ بات اسنے خود نوٹ کیا تھا وہ اپنی ماں کو پہلے آپ تک نہیں کہتا تھا اس دن اپنی محبت کا اظہار کرنے کے بعد وہ انہیں عزت سے بلاتا تھا صرف مشاطہ کی وجہ سے وہ اپنی ماں سے بات کر رہا تھا اور یہ بات پہلی بار مشاطہ کو اسکی پسند آئی تھی۔۔
“ماما آپ ٹھیک کہہ رہی ہے وہ شخص بدل سکتا ہے کیونکہ میں نے اسے سمجھا ہے۔۔!!
اس دن اس شخص کو مارنے کے بعد جب وہ ہرن پر نشانہ باندھ رہا تھا تب مشاطہ نے یہ دیکھ کر غصے سے اس ہرن کو بچایا مگر اسے بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو ہرن کو شکار کرنے والے شکاری کو اپنے نشانے پر لیا ہوا تھا گولی چلنے کی وجہ سے اسے دور جنگل میں وہ شکاری جھاڑیوں کے پیچھے سے نکل کر گرتا ہوا نظر آیا تھا۔۔
“تو تم راضی ہو اس انسان کو سیدھی راه پر چلانے کے لیے میری بچی‌‌۔۔؟؟
انہوں نے آس سے پوچھا تو وہ انکے ہاتھ پر اپنا مومی نازک ہاتھ رکھتی مسکرا کر اپنا سر ہلانے لگی۔۔
“لیکن ماما ایک شرط پر میں یہ نکاح کرو گی۔۔؟؟
وہ انکی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“وہ کیا بیٹی۔۔؟؟
مہرین بیگم نے تعجب سے اسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“ماما جب تک بابا اور بھائی کو آپ نہیں بتاتے اس نکاح کے متعلق تو میں یہ نکاح انکی موجودگی کے بغیر نہیں کرو گی۔۔!!
وہ انہیں اپنی شرط بتا کر دیکھنے لگی جو اسکی بات پر مسکرانے لگی۔۔
“مش بیٹا تمہارے بابا کو تو پتہ ہے لیکن مجتبی کو ابھی نہیں بتانا چاہتی اسے تم اچھے سے جانتی ہو۔۔!!
وہ مسکرا کر کہنے لگی تو وہ اپنے بھائی کا سوچ کر مسکرائی کیونکہ وہ اپنی بہن کے معاملے میں سخت احساس تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں مشی سے نکاح کروں گا۔۔؟؟
روبی کی زبان سے جو بات اسنے سنا وہ سخت لہجے میں کہنے لگا۔۔
“اخسم بیٹا یہ میری خواہش ہے۔۔!!
انہوں نے ڈر کر کہا تو وہ انکی ڈر کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھا اور انکے مقابل کھڑا ہوگیا۔۔
“میں یہ ڈر اسکی آنکھوں میں اپنے لیے نہیں دیکھنا چاہتا ہوں جو ابھی مجھے آپکی نظروں میں صاف نظر آ رہا ہے اپنے بیٹے کا ڈر کے وہ پتہ نہیں میری بات سن کر میرے ساتھ کیا کرے گا..!!
وہ سپاٹ نظروں سے انکی آنکھوں کے سامنے اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا تو وہ تیزی سے نظریں نیچے جھکا کر بے آواز آنسو بہانے لگی۔۔
“بیٹا میں نے یہ سوچ کر تمہارا نکاح مشاطہ سے کروانے کے لیے اسکی ماں کو راضی کیا ہے شاید تم بدل جاؤ۔۔!!
وہ نظریں جھکا کر بولی تو اخسم دادا انکی بات پر طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر انکا چهره ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“میں تو بدل جاؤ گا لیکن میرے ان دشمنوں کو آپ یا مشی کیسے بدل سکتے ہیں بتائے مجھے وہ کیسے بدلے گے۔۔؟؟
وہ ان سے پوچھنے لگا۔۔
“بیٹا آپکے دشمنوں سے میں آپ کو اور مشاطہ بچی کو بہت دور بھیج دونگی۔۔!!
وہ اپنے ہاتھ اسکے مضبوط کندھوں پر رکھتی کہنے لگی تو وہ انکی بچکانی بات پر مسکرایا۔۔
کیا آپ مجھے اور جبران کو زکی شیرانی سے دور کر سکی نہیں نا تو پھر مجھے اور مشی کو میرے دشمنوں سے کیسے دور کر سکتی ہے۔۔؟؟
وہ بغور انہیں دیکھتا ان سے پوچھنے لگا۔۔
“بیٹا وہ معاملہ اور ہے یہ معاملہ الگ ہے تم میری یہ آخری خواہش پوری نہیں کرنا چاہتے تو بتا دو میں مشاطہ بچی کا نکاح جبران سے طے کر دو گی۔‌!!
وہ اسے اب بلیک میل کرتی کہنے لگی تو وہ جبران کا نام سن کر جلدی سے آگے بڑھا اور انہیں بے یقینی سے دیکھنے لگا۔۔
“جبران وہ ابھی چھوٹا ہے آپ اسکے ساتھ یہ نہیں کر سکتی ہے میں تیار ہو بتائیے کب ہے نکاح۔۔؟؟
وہ آخر کار کچھ سوچ کر راضی ہوتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اخسم بچے بس ابھی مہرین اور واصف بھائی کے آتے ہی شروع کر دے گے نکاح خواں کو میں نے بلایا تھا اور وہ کب کا آیا ہے اور میں نے اسے شمش کے ساتھ اور تمہارے دو تین بھروسہ مند خاص آدمیوں کے ساتھ اندر بیٹھایا ہے۔۔!!
وہ انکی جلد بازی پر پہلی بار مسکرایا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ان دونوں کہ نکاح کا رسم جب خوش اسلوبی سے ادا کر دیا گیا تو زوبی اور مہرین بیگم جو ساتھ کھڑی تھیں انہیں ایک آدمی نے اخسم دادا کا پیغام دیا کہ وہ ان دونوں سے گھر سے باہر کچھ ضروری بات کرنا چاہتا ہے۔۔
تو وہ دونوں یہ دیکھے بغیر باہر کی جانب بڑھا کہ انہیں اخسم نے نہیں بلکہ کسی اور نے پلان کے ذریعے باہر بلایا ہے اخسم تو سامنے شمش کے ساتھ کھڑا کچھ ضروری باتیں کر رہا تھا۔۔
“بابا یہ ماما کہاں چلی گئی ہے۔۔؟؟
مشاطہ جو سرخ رنگ کے جوڑے میں دلہن کے روپ میں سجی سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں وہ روبی اور مہرین بیگم کو کہیں نا پاکر وہ سامنے کھڑے اپنے بابا سے پوچھنے لگی۔۔
“پتہ نہیں بیٹا ابھی تو یہی تھی۔۔؟!
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے پورے گھر میں اپنی نظریں ڈورہا کر کہنے لگے۔۔
“بابا آپ اخسم کو یہاں بلائے ۔۔!!
وہ سخت نظروں سے اس شخص کو دیکھتی ان سے کہنے لگی کیونکہ اسے ان دونوں کے غائب ہونے کی وجہ صرف وہی لگ رہا تھا۔۔
اور دوسری جانب وہ اسکے سجے سنورے روپ کو ضبط کے باعث نظر انداز کرنے کے چکر میں شمش کے ساتھ پرسکون انداز میں ایک کونے میں کھڑا اسے اگنور کر رہا تھا شمش کی بات پر غصے سے پھٹ پڑا۔۔
“شمش یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔؟
شمش کی بات پر وہ آپے سے باہر ہو کر سامنے دیوار پر مکا مارتے ہوئے کہنے لگا تو شمش نے سامنے سے آتے مشاطہ کے باپ کو دیکھا تو جلدی سے اخسم دادا کو انکی جانب متوجہ کیا تو انہیں دیکھتے ہوئے وہ اپنا غصہ کنٹرول کرتا بمشکل مسکرانے لگا۔۔
“اخسم بچے وہ مشاطہ آپ کو بلا رہی ہے۔۔!!
انکی بات پر وہ تعجب سے سامنے صوفے پر دلہنوں کی طرح بیٹھی اپنی بیوی کی جانب دیکھا لیکن ابھی وہ بلکل بھی اس سے ملنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ابھی اسے کسی کو سبق سیکھانا تھا اسکی غلطی کو سدھارنا تھا۔۔
“انکل آپ اسے بولے کہ میں ابھی ایک ضروری کام کے لئے باہر جا رہا ہو واپس آ کر اس سے تفصیلی ملاقات کر لونگا۔۔!!
نیلی آنکھیں اس کے سندر روپ میں گھاڑ کر وہ ان سے کہنے لگا تو وہ اسکی بات پر مسکراتے ہوئے واپس اپنی بیٹی کی طرف بڑھے اور وہ شمش کی جانب مڑا اور اسے اپنا پلان سمجھانے لگا۔۔
“بابا مجھے اس شخص پر بھروسہ نہیں ہے اور یہ اتنی افرا تفری میں کہا جا رہا ہے یہ مجھے جاننا آپ میرے ساتھ چلے ہمیں پتہ کرنا ہے اس شخص نے میری ماما کے ساتھ کیا کیا ہے۔۔!!
دوسری طرف جب مشاطہ نے اسکا پیغام سنا تو وہ غصے سے اٹھی اور اسے جاتے ہوئے دیکھتی اپنی بابا کو کہتی اخسم شیرانی کے پیچھے بڑھی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“بہت دیر کر دی مہربان آتے آتے۔۔!!
زکی شیرانی سامنے جلتے ہوئے گھر کی جانب کمینگی سے اسے شمش کے ساتھ غصے سے کار سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر کہا۔۔
“کیوں کیا ہاں تم نے یہ زکی شیرانی۔۔؟؟
اس شخص کے سامنے پہنچ کر وہ اسے غصے سے بری طرح سے جھنجھوڑتے ہوئے چیخ کر سامنے جلتے ہوئے گھر کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا جہاں اسکی ماں اور مشاطہ کی ماں کو اس انسان نے جلنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔۔
‘ہاہاہاہاہاہا۔۔!!
اتنی تکلیف کیوں ہو رہا ہے تمہیں تم تو ایک پھتر دل ہو تو یہ احساس جسے درد کہتے ہے اپنے کو کھونے کا درد۔۔!!
وہ اپنے ظالم بیٹے کو موم بنتے ہوئے دیکھ کر غصے سے اسکے چوڑے سینے پر زور سے مارتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“یہ احساس مجھے میری ماں نے دلایا ہے جو تم اس احساس کو اتنے سالوں سے سمجھ نا سکے۔۔!!
اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی گریبان سے مڑورتے ہوئے اپنی گرفت میں لے کر وہ وحشت بھری آواز میں کہنے لگا تو زکی شیرانی سخت گرفت پر کراہ کر رہ گیا تھا۔۔
“اب کیا فائدہ تم نے بہت دیر کر دیا ہے اخسم دادا وہ جل کر رکھ بن چکی ہونگی دونوں جس نے مجھ سے میرے ہتھیار کو چھیننا چاہا ہے۔۔!!
وہ شمش کو گھر کے اندر بڑھتے ہوئے دیکھ کر اخسم دادا کی جانب دیکھتے ہوئے نفرت سے کہنے لگا تو اخسم سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے اسے گریبان سے پکڑ کر آگے بڑھا اور یہی اس سے غلطی ہوئی کیونکہ پیچھے سے آتی مشاطہ ملک نے ان دونوں کی بات کو سنے بغیر اسے اپنا گناہگار مان لیا تھا۔۔
“آخر اخسم دادا تم نے اپنی اصلیت دکھا دی مار دیا تم نے میری ماں کو مار دیا کیوں کیا تم نے ایسا بولو کیوں جواب دو۔۔!!
وہ اپنا لہنگا سنبھالتی آگے بڑھی اور اسکا رخ اپنی طرف کرتی شدت سے اسکے گال پر تھپڑ مار کر چیختی ہوئی کہنے لگی۔۔
“نہیں مشی میں نے نہیں۔۔؟؟
وہ اسکی جانب بڑھتا ہوا اپنی صفائی میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اسکی دوسری تھپڑ نے اسے خاموش کروا دیا۔۔
“دور رہو مجھ سے تُم ایک قاتل ہو۔۔؟؟
وہ دلہن کے روپ میں اتنی حسین لگ رہی تھی کہ مقابل کھڑا شخص جو اسکا شوہر تھا وہ اپنا غم و غصہ بھول کر بے خودی سے اُسکے سندر روپ کو دیکھتا ہوا آگے بڑھا اور اسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھتی وہ رو کر غصے سے اسے روکتی ہوئی چیخنے لگی۔۔
“نہیں میں نے انہیں نہیں مارا تُم یقین کرو میرا۔۔!!
اُس کے پاس پہنچ کر وہ اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ٹچ کرتا بے بسی سے کہنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسکی بات پر یقین نہیں کرے گی۔۔
“کیسی یقین کرو بتاؤ کیسے تُم تین لوگوں کے علاوه اور بھی نجانے کتنے لوگوں کے قاتل ہو۔۔!!
وہ اپنی سرخ نگاہوں سے اسے نفرت سے دیکھتی طنزیہ انداز میں کہنے لگی تو وہ اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ہٹاتا کہ پیچھے ہو کر اُسے کندھوں سے تھامتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اپنی ماں کو کھو کر بری طرح سے رو رہی تھی اسنے ہاتھ آگے بڑھانا چاہا لیکن بے دردی سے اسکا ہاتھ جھٹک کر وہ اسے شدید نفرت سے دیکھنے لگی۔۔
“ہاتھ مت لگاؤ گھن آ رہی ہے مجھے تُم جیسے غنڈے سے دور رہوں مجھ سے کبھی بھی میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا ورنہ میں اپنی جان لے لونگی۔۔!!
اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کو ضبط سے روکتی انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دیتے ہوئے کہنے لگی تو اسکی جان لینے والی بات پر وہ غصے سے اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا اُسکے نرم لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں کرتا اسے باور کروانے لگا کہ وہ اس کے لیے کیا ہے۔۔
“آج کے بعد اگر تمہارے لبوں سے اپنی جان لینے کی بات نکلی نا تو میں خود تُمہیں جان سے مار ڈالو گا سنا تم نے۔۔!!
اُسے سختی سے اپنے سینے میں بھینچ کر شدت سے کہنے لگا تو وہ اسکے چوڑے سینے پر اپنا سر رکھے اپنی ماں کو ایک بار پھر سے یاد کرتی بری طرح سے رونے لگی۔۔
اخسم دادا نے کچھ سوچ کر اسے ابھی سچائی نا بتائی کہ وہ اپنی ماں کا اور اسکی ماں کا قاتل نہیں ہے بلکہ اسکے باپ نے انہیں مارا ہے اور یہ بات چھپا کر وہ ایک بار پھر ایک بہت بڑی غلطی کر رہا تھا کیونکہ یہ بات چھپا کر وہ مشاطہ کے دل میں اپنی نفرت اور بڑھا گیا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“ماما آپ سچ کہہ رہی ہے عاصمہ خالہ سچ میں آ رہی ہیں۔؟
کسوا کو جب اپنی عاصمہ خالہ کے آنے کا پتہ چلا جو لاہور اپنے سسرال سے آ رہی تھی انکی شادی وہی ہوئی تھی اسکا آنا جانا یہاں لگا رہتا تھا۔۔
لیکن وہ اس بار کسی خاص مقصد کے لیے یہاں آ رہی تھی یہ بات زینت اپنی بیٹی کو ابھی بتانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ وہ اسے ڈسٹرب بلکل بھی کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔
“ہاں کسوا میری بچی عاصمہ آپا اور رمیز وہ دونوں آ رہے ہیں اور آپ کچن میں۔۔!!
“پتہ ہے مما کچن میں گھس کر اپنی پیاری سی خالہ جانی کے لیے لذیز کھانا اور سویٹ ڈش بنانا ہے اور خاص کر رمیز بھائی کے لیے وہ تو سویٹ ڈش کے دیوانے ہیں۔۔!!
انکی بات سنتی وہ خوشی سے جھومتے ہوئے انکی بات کو بیچ میں کاٹ کر خود تیزی سے کہنے لگی تو انہوں نے اسکی خوشی سے دمکتے چہرے کی جانب دیکھا جو اپنی خالہ اور کزن کی أنے کے خوشی میں دمک رہا تھا۔۔
“کیا بات ہے چاچی جان یہ اپنی کسو کس خوشی میں اتنی اچھل رہی ہے۔۔؟؟
زرلش کچن میں داخل ہوئی تو اُسے خوشی سے جھومتے ہوئے دیکھ کر سامنے بڑھی اور باسکٹ سے ایک سیب نکال کر دانتوں سے کترتی ہوئی زینت بیگم سے پوچھنے لگی۔۔
“عاصمہ آپا آ رہی ہے ناں اسی خوشی تمہاری سہیلی پاگل ہو رہی ہے۔۔!!
انہوں نے بھی زرلش کی جانب شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا لیکن کچن کے اندر داخل ہوتے زوارق خان نے انکی بات سنی اور پھر بھنویں اچکا کر اُسے دیکھا جو گنگنا کر ناچتی ہوئی جوسر میں کچھ بنا رہی تھی۔۔
“زوارق بچے تُم یہاں۔۔؟؟
وہ جو جوسر کو دیکھتی ہوئی گنگنا کر کافی کے لیے آمیزہ تیار کر رہی تھی اپنی ماں کی آواز پر تیزی سے جوسر کو بند کرتے پیچھے پلٹی اور سامنے کھڑے اکڑو خان کو دیکھنے لگی جو اسی کی جانب سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“وہ مورے میں انہیں ڈھونڈ رہا تھا کیا آپ کو پتہ ہے وہ کہاں ہے۔۔؟؟
اپنی آنکھیں اسکے اوپر سے ہٹا کر وہ زینت بیگم سے اپنی ماں کے متعلق پوچھنے لگا تو کسوا زوارق خان کی نظروں سے خائف ہوتی جلدی سے اپنی ماں اور زرلش کے پیچھے چھپی اور اسکی یہ حرکت زوارق خان سے پوشیدہ نہ رہ سکا وہ اپنے لبوں کو بے دردی سے کچل کر اپنی مٹھی کو ضبط سے بھینچے زینت بیگم کی بولنے کا ویٹ کرنے لگا۔۔
“زوارق بچے وہ تو بازار گئی ہے اپنی کچھ ضروری چیزیں لینے کیوں کیا آپ کو کوئی کام تھا۔۔؟؟
زینت بیگم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“ہاں کام تو ہے لیکن اگر کوئی انٹرس لینا چاہیے گا تو میں پھر اسے کام بتا دونگا کہ مجھے کیا چاہیئے۔!!
نظریں زرلش اور زینت بیگم کے پیچھے اسکی نظروں سے ناکام چھپتی کسوا پر ڈالتا وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔
“بیٹا یہ بھی پوچھنے والی بات ہے آپ بتائیں ہم ابھی وہ چیز آپ کو لا کر دیتے ہیں۔۔!!
زینت بیگم نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
“تائی جان مجھے ایک کپ کافی کی طلب نے یہاں کھینچا تو میں مورے کو ڈھونڈتا یہاں آیا لیکن انہیں یہاں نہ پاکر مایوس ہو کر جانے کا سوچ رہا تھا لیکن سامنے کافی دیکھ کر میں رک گیا۔۔!!
وہ سنجیدگی سے سامنے جوسر بلینڈر میں کافی کے آمیزے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“بیٹا یہ کیا بات ہوئی آپ مجھ سے یا زرلش کسوا سے کہہ دیتے ہم آپ کو بنا کر دے دیتے کسوا تم یہ کافی زوارق لالہ کو اسکے روم میں دے کر آؤں۔۔!!
انہوں نے زوارق خان کی جانب دیکھتے ہوئے آخر میں کسوا سے کہا تو وہ اپنی ماں کے حکم پر سخت سٹپٹا کے رہ گئی تھی اور زوارق خان ان کے لالہ کہنے پر سخت بدمزہ ہو کر خاموشی سے کچن سے نکل کر اپنے روم کی طرف بڑھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“زر پلیز تُم اکڑو خان کو یہ کافی دے کر آؤں ناں۔۔!!
کسوا اپنی ماں کے کچن سے نکلتے ہی زرلش سے کہنے لگی جو کرسی پر بیٹھی مزے سے دوسرا سیب کھا رہی تھی۔۔
“نو کسوا جانی یہ کام تمہیں خود کرنا پڑے گا۔۔!!
وہ تیزی سے سر نفی میں ہلاتی کہنے لگی تو کسوا خفگی سے منہ بسورتے ہوئے دوسری کرسی پر بیٹھتے ہوئے ابھی اسے منت کرنے والی تھی کہ کچن میں عرشمان خان کو داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر مایوس ہوئی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اسکا بھائی یہاں کیوں آیا ہے۔۔
“زر میرے روم میں ناشتہ بھیجوں آج مجھے اسٹیشن جلدی پہنچنا ہے۔۔!!
وہ زرلش کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو زرلش سیب کھانا چھوڑتی تیزی سے کرسی سے اٹھی اور اسکے لیے ناشتہ بنانے لگی اور کسوا بے چاری کافی کا مگ اٹھا کر بے دلی سے کچن سے باہر نکلی۔
“یہ آج اتنی تیاری کس خوشی میں ہو رہی ہے بیگم کیا کوئی خاص آ رہا ہے۔۔؟؟
عرشمان خان نے زرلش کا بچایا ہوا وہ آدھا سیب اٹھا کر دانتوں سے کترتے ہوئے اسکے پیچھے بے حد قریب کھڑے ہو کر ایک ہاتھ آگے پیٹ پر رکھتا پوچھنے لگا زرلش جو اسکے لیے ناشتہ بنا رہی تھی وہ اسکی حرکت پر سخت سٹپٹا کر رہ گئی تھی۔۔
“خان یہ آپ کیا کر رہے ہیں کوئی دیکھ لیں گا۔۔!!
وہ اسکی سانسوں کی تپش کو اپنی گردن پر محسوس کرتی شرما کر کہنے لگی۔۔
“بیگم دیکھ لینے دو میں اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا ہو کسی غیر کے ساتھ۔۔!!
عرشمان خان نے اپنے لبوں کو اسکے ‌سر پر رکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔
“آپ بھی ناں۔۔!!
وہ سخت خفگی سے کہتی اسکی بے باکیوں پر لرزتے ہوئے اسکے لیے ناشتہ بنانے لگی جو اسکی اتنی قربت پر بنانا محال ہو رہا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“خان آپکی کافی۔۔؟؟
کسوا ڈرتی ہوئی اسکے روم میں داخل ہو کر کہتی اسے دیکھنے لگی جو سامنے کھڑا شاید اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
“آ گئی تم کسوا بی بی اس رمیز کی پسند کے پکوانوں بنا کر اور بہت خوشی محسوس ہو رہا ہے ناں تمہیں اس انسان کے یہاں آنے سے تمہیں پتہ بھی ہے وہ کیسا انسان ہے ہاں بولو۔۔؟؟
کافی کا مگ اسکے ہاتھوں سے لے کر سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے اُسے سختی سے اپنی جانب کھینچتے ہوئے سینے سے لگا کر غصے سے رمیز کے متعلق پوچھنے لگا کیونکہ وہ اس کو اچھے سے جانتا تھا کہ وہ کس قسم کا انسان ہے۔۔
“خان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں رمیز بھائی کو میں اچھی طرح سے جانتی ہو وہ میرے کزن ہے اور ایک اچھے انسان ہے۔۔!!
وہ آج پہلی بار اس سے ڈرے بنا چیخ کر کہنے لگی کیونکہ آج معاملہ اسکے پیارے رمیز بھائی کا تھا جو اسکے اچھے دوست اور کزن تھے بھلا وہ انکے خلاف کیسے کچھ برداشت کر سکتی تھی۔۔
“ہوں تو تم اس انسان کی خاطر مجھ سے بدتمیزی کروں گی کسوا خان مجھ سے لیکن یاد رکھنا میں یہ ہونے نہیں دو گا آج وہ جس مقصد کے لیے یہاں آ رہا ہے میں اسے ختم کر کے رہوں گا۔۔!!
وہ اپنی انگلیاں اسکی کندھوں میں گھاڑتے ہوئے سخت لہجے میں کہنے لگا تو کسوا کو اپنے کندھوں پر اسکی انگلیاں گھاڑنے کی وجہ سے بے حد تکلیف محسوس ہوا۔۔
“بس اب اس سے آگے آپ کچھ بھی نہیں بولے گے خان جی میں آپکی ہر زیادتی برداشت کر سکتی ہو لیکن اپنے رمیز بھائی کے خلاف کچھ بھی نہیں سن سکتی ہوں۔۔!!
وہ شدت سے چیختی ہوئی کہنے لگی تو زوارق خان اسکے منہ سے کسی اور کا نام سن کر غم و غصے سے پاگل ہونے لگا۔۔
“کسوا بی بی تم غلط کر رہی ہوں بہت زیادہ غلط اپنے ساتھ بھی اور میرے ساتھ بھی مگر یاد رکھنا میں اس وجہ کو ختم کر دو گا۔۔!!
وہ اسکی کمر پر اپنے ہاتھوں سے دباؤ بڑھاتے ہوئے غصیلی آواز میں کہتا اسے پیچھے بیڈ پر دھکیل کر تیزی سے روم سے باہر نکلا اور روم کو غصے سے باہر سے لاک کرتا اسے اندر بند کر کے لاؤنج کی جانب بڑھا جہاں وہ خبیث انسان اپنی فیملی کے ساتھ آیا تھا اور وہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ کیوں آیا تھا لیکن وہ اسکی اصلیت کو اگر جانتا بھی نا ہوتا نا تب بھی وہ اسکا یہ مقصد کبھی بھی پورا کرنے نا دیتا کیونکہ وہ کسوا خان پر صرف اپنا حق سمجھتا تھا اور اب وہ اس حق کو کیسے حاصل کرے گا وہ اچھے سے جانتا تھا اور وہ کسوا کو اس انسان کی آنکھوں سے بچانا چاہتا تھا اسی لئے اسنے اسے روم میں بند کر دیا تھا تاکہ اس انسان کا سایہ بھی اسکی ملکیت پر نا پڑے۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤