Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

“ماضی”
“صاب وہ مشتاق صاب پھر سے آپ کے فلیٹ میں۔۔!!
شمویل خان اپنے فلیٹ کی جانب بڑھ رہا تھا کہ چوکیدار نے ڈرتے ہوئے آکر اُسے بتایا تو اُسکی بات پر وہ سخت غصے سے اپنی ایک ہاتھ کی مٹھی بنا کر سامنے دیوار پہ مار کر اپنے جیب سے فون نکالا اور مشتاق بیگ کی وائف کو کال ملانے لگا۔۔
اُس عیاش شخص کی حرکتوں سے سخت عاجز آ چکا تھا اُسکی غیر موجودگی میں یہاں آکر اپنی بیوی کے ڈر کے مارے اپنی عیاشیوں کو پورا کیا کرتا تھا۔
“سلیم جب مسسز مشتاق آئے تو انہیں اندر لے کر آنا۔۔!!
مسسز مشتاق کو کال کرنے کے بعد وہ سخت لہجے میں چوکیدار سے کہتا اپنے فلیٹ کے اندر داخل ہوا کیونکہ دروازہ اندر سے پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا۔۔
“اے لڑکی رک جاؤ ورنہ میں بہت برا کروں گا تمہارے ساتھ۔۔!!
مشتاق بیگ کی غصیلی آواز اُسے بیڈ روم سے باہر بھاگتے ہوئے اپنے پیچھے سنائی دیا تو وہ شدت سے لرزتی ہوئی سامنے روم کے دروازے کے اندر داخل ہوتے شمویل خان کو دیکھ کر وہ آگے بڑھی اور اُس سے لپٹ کر روتے ہوئے خود کو اُس گھٹیا شخص سے دور لے جانے کے لیے کہنے لگی۔۔
“پلیز سر مجھے یہاں سے باہر لے کر جائے یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے اور مم۔میں اسے جانتی نہیں ہو اور یہ پتہ نہیں کیوں مجھ سے پیسوں کا ذکر کر رہا ہے آپ پلیز مجھے اس درندے سے بچائے۔۔!
اندر سے مشتاق بیگ کی غصیلی آواز پر اُسنےسینے سے لگی شدت سے روتی ہوئی لڑکی کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر کر اوپر اٹھا کر دیکھا تو اپنے بیڈ روم میں الجھے بکھرے بالوں میں اُسے دیکھ وہ ساکت رہ گیا
اور نجانے کیوں اُسکی بری حالت کو دیکھنے کے بعد اُسے مشتاق بیگ کے اوپر سخت غصہ آنے لگا تھا۔
“لڑکی تُم کتنی بڑی جھوٹی ہو پہلے تو تّم نے میرے شوہر کو پھنسایا اور اب ایک شریف انسان کو اپنے جال میں پھنسانا چاہتی ہو۔۔۔!!
وہ شمویل خان کے ساتھ لگی شدت سے رو رہی تھی پیچھے سے کسی عورت نے آکر اُسے سختی سے اُسکے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے اُسے نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“نن۔نہیں میں ایسی نہیں ہو آپ مجھ پر الزام لگا رہی ہے۔!!
اپنی سبز آنکھوں سے اُس عورت کو دیکھتی اپنی بے گناہی ثابت کرتے ہوئے رو کر کہنے لگی جو اُسے نفرت و غصے سے دیکھ رہی تھی تو شمویل اُسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا۔۔
“لڑکی اگر تُم اتنی ہی سچی ہو تو پھر رات کے ایک بجے تُم ایک نامحرم کے فلیٹ میں کیا کر رہی ہوں ہاں بتاؤ مجھے کیا یہ شریف لڑکیوں کا اِس وقت باہر رہنے کا ٹائم ہے۔۔اُسے خاموش دیکھ کر وہ غصے سے بولی۔۔
“ارے تُم کیا جواب دو گی تُم شریف لڑکی تھوڑی ہو تُم تو ایک آواره لڑکی ہو جو رات کو نکل کر اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتی ہے۔۔!!
“خاموش مسسز مشتاق بیگ ورنہ میں بھول جاؤ گا کہ آپ ایک خاتون ہے۔۔!!
شمویل خان مشتاق بیگ کی وائف کی باتوں پر غصے سے سامنے رکھی کرسی کو اٹھا کر دور اچھالتے ہوئے شدت سے چلایا تو وہ ڈر کے پیچھے ہٹی اور مشاطہ جو ساکت کھڑی اُس عورت کی باتوں کو سن رہی تھی اُسکے غصے سے چلانے پر زور سے چیخی۔۔
“اور آپ ایک عورت ہو کر کیسے کسی لڑکی کی کردار کشی کر سکتی ہے۔۔!!
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو مشتاق بیگ کی وائف نے نفرت سے مشاطہ کو دیکھا اُسے شمویل خان کا اسکے لیے آواز اٹھانا بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔
“الزام نہیں لگا رہی ہوں میں اور تُم شمویل خان کیوں اِس آواره لڑکی کو بچا رہے ہوں یہ ہے ہی ایسی جو میں نے کہا ہے۔۔!!
وہ سخت نظروں سے مشاطہ کو گھورتی جل کر بولی ۔
“بس بہت ہوگیا آپ اپنے عیاش مکار شوہر کو لے کر یہاں سے دفعہ ہو جائے ورنہ اُسکے ساتھ ساتھ میں آپ کو بھی زندہ جلا دو گا۔۔!!
وہ شدت سے ڈھار تے ہوئے اُس عورت کو اپنے فلیٹ سے باہر نکلنے کیلئے کہنے لگا تو مسسز مشتاق بیگ اپنے شرابی شوہر کو غصے سے گھسیٹتے ہوئے وہاں سے مشاطہ کو برا بھلا کہتی نکلی تو اُسکی بکواس کو سنتے شمویل خان غصے سے پیچھے پلٹا اور اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگا جو اسکی نظروں سے خوفزدہ ہو کر پیچھے کھسک رہی تھی۔۔
“مس مشاطہ تُم کیوں آئی ہو یہاں اِس وقت ہاں۔۔؟؟
سختی سے اُسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے غصے سے پوچھنے لگا۔۔
“مم۔میں اپنی سکیچ بک لینے آئی تھی سر۔۔!!
وہ اُسکی سخت گرفت میں پھڑپھڑاتی ہوئی رو کر بولی تو شمویل خان نے سخت نظروں سے اسے دیکھا ۔
“دل تو چاہ رہا ہے ایک رکھ کر دو مگر جو ابھی تماشا لگا کر وہ عورت گئی ہے ناں تُمہاری چیخ سن کر واپس آئے گی اور تُمہیں روتا دیکھ مجھ پر الزام لگائے گی جو مجھے خطے منظور نہیں ہے۔۔!!
وہ اسے دیکھتا ہوا سرد لہجے میں بولا تو مشاطہ اپنی نم آنکھوں کو کھولتی اٗسے دیکھنے لگی۔۔
“آپ بھی مم۔مجھے ایسی لڑکی سمجھتے ہیں کیا سر۔۔؟؟
وہ اپنی سبز آنکھوں کو معصومیت سے پھٹپھٹا کے اس سے پوچھنے لگی تو شمویل خان اسکی آنکھوں میں کھو سا گیا تھا اسکے سوال پہ ہوش میں آ کر الٹا اُس سے سوال پوچھنے لگا۔۔
“کس طرح کی لڑکی ۔؟؟
اُسے سخت نظروں سے دیکھتا وہ اُسے لرزنے پر مجبور کر رہا تھا اور اسکے سوال پہ تو اسکی جان نکلی کیونکہ وہ سوال بھی بڑے ہی سنجیدگی سے کر رہا تھا جیسے وہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کیسی لڑکی ہے۔۔
“سر جو ابھی اُس عورت نے کہا تھا وہی ۔!!
وہ نظریں نیچے جھکا کر بولی۔۔
“تُم میری نظروں میں ایک اچھی لڑکی ہوں اور اُس عورت نے جو گھٹیا الزام تُم پر لگایا ہے ناں تو وہ خود اُسکی ذہنیت ایسی ہوگی جو وہ دوسروں کو سمجھتی ہے اور ایک راز کی بات بتاؤ وہ اپنے عیاش شوہر سے تنگ آکر ایک ماہ سے مجھ پر ٹرائی کر رہی ہے تاکہ میں اُسکی جھوٹی محبت کو سچ مان کر اُسے اپناؤں مگر آج تُم نے اُسکا کھیل الٹ دیا تو وہ اپنا سارا غصہ تُم پر الزام لگا کر نکالنے لگی جو بلکل درست نہیں کیا اُس عورت نے تُمہارے ساتھ۔۔!!
وہ اُسکی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا اُسکے ہاتھ ہنوز اُسکے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے جو مشاطہ کو سخت نروس کر رہے تھے۔۔
“سر یہ تو غلط بات ہے م۔میں یہاں صرف اپنی اسکیچ بُک لینے آئی تھی نا کہ عشق و معشوقی کرنے۔۔!!
وہ منہ بسور کر اسے خود سے دور کرتی بولی تو اسکی بات پر شمویل خان آگے بڑھا اور سختی سے اُسے کمر سے پکڑ کر کہنے لگا۔۔
“غلطی سے بھی تُم میرے سپنے مت بُننا کیونکہ میں تُمہاری زندگی کو صرف برباد کرنا جانتا ہوں آباد کرنا نہیں اور چلی جاؤ یہاں سے صبح ہونے سے پہلے ورنہ ہمیں ایک ساتھ یہاں تُمہارے گھر والے دیکھیں گے تو تُم برباد ہو جاؤ گی۔۔!!
ہاتھ اوپر اٹھا کر ضبط کرتے ہوئے وہ سپاٹ لہجے میں کہتا اسے خود سے دور دھکیل کر آخر میں اُسے اپنے فلیٹ سے نکلنے کیلئے کہنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
عمر خان کرسی پر بیٹھے سامنے دیوار پہ لگے اپنے دونوں بچوں اور اُس بے وفا عورت کی تصویر کو دیکھ رہے تھے سامنے ٹیبل پہ رکھے فون کی آواز پر اُنکی نظریں فون کی جانب بڑھی تو اسکرین پر نام دیکھ کر وہ چونکہ اور ہاتھ آگے بڑھا کر میسج پڑھنے لگا جس میں اُسے ایک ریسٹورنٹ میں اُنہیں ایک ضروری بات بتانے کیلئے اُس عورت نے انہیں بلایا تھا۔۔
“اب تُم کیا چاہتی ہوں مجھ سے ہاں میری زندگی تو برباد کر دیا تُم نے اور اب کیا بتانا رہ گیا ہے مجھے مارنے کے لیے۔۔!!
سامنے تصویر کو سرخ نظروں سے دیکھتے وہ کہنے لگے جیسے وہ عورت سچ میں انکے سامنے موجود ہو اور انکی باتوں کو غور سے سن رہی ہوں۔۔
وہ موبائل اٹھا کر روم سے باہر نکلے اور پورچ کی جانب بڑھ کر وہ اپنی کار پر بیٹھ کر اُس ریسٹورنٹ کیلئے روانہ ہوئے جہاں انہیں اس عورت نے بلایا تھا۔۔
جب وہ ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوئے تو سامنے ایک ٹیبل پر پہلے سے ہی اُسے موجود دیکھ کر وہ چہرے پر سخت تاثرات سجا کے آگے بڑھے۔۔
“کیوں بلایا ہے تُم نے مجھے یہاں ہمارے درمیان تو تُم سب کچھ ختم کر کے کب کی جا چکی ہوں۔۔؟؟
وہ سامنے اپنی سابقہ بیوی کو دیکھتے ہوئے سرخ نظروں سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگے۔۔
“نہیں خخخ۔خان وو۔وہ سب ممم۔میں نے نہیں بلکہ اُس کمینے انسان نے کیا ہے مم۔میں بے قصور ہو تُم یقین کرو میرا۔۔!!
وہ روتی ہوئیں آگے بڑھی اور اُنکے ہاتھ تھامنے چاہے لیکن وہ غصے سے تیزی سے پیچھے ہٹے اور اُسے اپنی خون آشام نظروں سے گھورتے ہوئے انگلی اٹھا کر اسے پیچھے ہٹنے کے لیے کہنے لگے۔۔
“دد دور رہ کر بات کرو تُم مجھ سے اب ہمارے درمیان کوئی جائز رشتہ نہیں ہے میں تمہارے لیے صرف ایک نامحرم مرد ہوں۔۔!!
سخت غصیلی نظروں سے اُسے دیکھتے وہ سپاٹ لہجے میں بولیں تو نم آنکھوں سے اُنہیں دیکھتی پیچھے ہٹی کیونکہ وہ سچ ہی تو کہہ رہے تھے کہ اب وہ اُسکے لیے صرف ایک نامحرم ہے محرم نہیں۔۔
“خان کیا آپ اب مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔۔؟؟
وہ بڑی آس سے اُنہیں دیکھتی پوچھنے لگی تو مقابل نے اُسے زخمی نظروں سے دیکھا اور سلگتے لہجے میں کہا۔
“یہ نفرت لفظ ہی تو ہے جو مجھے تُم سے ابھی تک جوڑے ہوئے ہیں۔۔!!
سرخ چہرے پر درد دیکھ کر سامنے کھڑی عورت رونے لگی تو وہ اُسکے آنسوؤں دیکھ کر اپنی جلتی آنکھوں کو تیزی سے بند کرتا اُن آنسوؤں کو اپنے ٹوٹے ہوئے دل پر گرتے ہوئے محسوس کرتیں وہ اپنے درد کو اور مزید بڑھا رہے تھے۔۔
“نیچ عورت مجھے دھوکا دے کر تو یہاں اپنے یار کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کے لیے آئی ہے۔۔!!
وہ دونوں جو خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ پیچھے سے روبی کو کسی نے آکر گردن سے دبوچتے ہوئے غصے سے کہا۔۔
“یہ کیا طریقہ ہے عورتوں کے ساتھ ایسے پیش آتے ہیں کیا میں نے کہا چھوڑو اُسے سنا نہیں تم نے کمینے انسان۔۔!!
عمر خان زکی شیرانی کو روبی کے ساتھ اسطرح کرتے ہوئے دیکھ کر غصے سے اٹھے اور ایک زور دار پنچ اسکے چہرے پر مار کر سرد لہجے میں کہنے لگے۔۔
“نہیں چھوڑو گا کیا کرو گے تُم ہاں اسے بچاؤ گے چل جا اور جا کر اپنے بیٹے کو بچا وہ مر رہا ہے میرے آدمی اُسے کتوں کی طرح باہر پیٹھ رہے ہیں۔۔!!
روبی کی گردن پر دباؤ سخت کرتے ہوئے زکی شیرانی نے حقارت سے عمر خان کو دیکھتے ہوئے کہا تو اسکی بات پر عمر خان پریشانی سے آگے بڑھا۔۔
“چھوڑو روبی کو اور میرے بیٹے کو زکی شیرانی ورنہ انجام بہت برا ہوگا۔۔!!
وہ غصے سے اُسے وارننگ دیتے ہوئے کہنے لگے تو زکی شیرانی انکی بات پر زور سے ہنسنے لگا اور روبی کی گردن پر گرفت ہلکا کرتا کہنے لگا۔۔
“چل ایک ڈیل کرتے ہیں تُمہارے اُس بدصورت بیٹے کی موت کے بدلے تُمہارا موت چاہتا ہوں کیا کہتے ہو منظور ہے تمہیں یہ ڈیل۔۔!!
کمینگی سے ہنستے ہوئے زکی شیرانی نے روبی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو عمر خان روبی کو اسکی گرفت میں دیکھ کر ضبط سے اپنی مٹھیوں کو بھینچنے لگا۔۔
“نہیں بابا نہیں آپ انکار کر دے۔۔!!
عمر خان کچھ کہتا اس سے پہلے باہر سے زکی شیرانی کے آدمیوں جو اسنے اخسم کو ایسا دکھایا تھا کہ وہ انہیں اسکا دشمن سمجھ رہا تھا لیکن سچائی اسے اندر آ کر پتہ چلا تو وہ غصے سے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے وہ زور سے بولا اور عمر خان اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر آگے بڑھا اور اسے تھامتے ہوئے نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔
“کیا حال کیا ہے تم نے کمینے انسان میرے پیٹے کا۔۔!!
وہ اپنا سر اٹھا کر شدت سے چیختے ہوئے زکی شیرانی کو غصے سے گھورنے لگے۔۔
“تمہارا حال بھی میں یہی کرو گا عمر خان۔۔!!
زکی شیرانی نے مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا تو روبی اسکی بات پر نفی میں سر ہلاتی آگے بڑھی اور اپنے بیٹے اور عمر خان کے سامنے کھڑی ہو کر کہنے لگی۔۔
“زکی شیرانی تم ایسا نہیں کر سکتے ہمارے درمیان جو معاہدہ طے ہوا تھا تُم اس سے پھر نہیں سکتے سمجھے تم نے اگر ان کو کچھ کیا نا تو میں اپنی جان لے لونگی۔۔!!
وہ چلاتی ہوئی اسے اسکے اور اپنے درمیان طے معاہدے کی بابت یاد کرانے لگی جو عمر خان سے طلاق لینے سے پہلے ان دونوں کے درمیان طے پایا تھا۔۔
“کیسا معاہدہ۔۔؟؟
روبی کی بات پر عمر خان حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے۔۔
“عمر خان میں بتاتا ہوں نا تمہیں ویسے بھی اب تم اور تمہارا بیٹا مرنے والے ہوں اس سے پہلے تمہیں سچائی تو پتہ چلنے چاہیے ناں کہ تمہاری سابقہ بیوی بے وفا نہیں ہے بلکہ وہ تو با وفا بیوی تھی جسنے اپنے شوہر اور بچوں کی جان بچانے کیلئے مجھ سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا مطلب میرے ڈیل کو ہاں کیا تاکہ تم تینوں زکی شیرانی سے بچو لیکن وہ کیا ہے ناں کہ زکی شیرانی کو کسی کا احساس نہیں ہے تو وہ پھر کیسے اپنی بیوی کے سابقہ شوہر اور اسکے بچوں کو زندہ دیکھ سکتا ہے۔۔!!
وہ پرسرار انداز میں مسکرایا اور اپنی ریوالور سے عمر خان پر دو تین فائر کرتے ہوئے آگے بڑھا اور روبی کو اٹھا کر گھسیٹتے ہوئے لے جانے لگا جو ساکت نظروں سے اپنے بیٹے اور عمر خان کے بے جان وجود کو دیکھ رہی تھیں۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
وہ آپریشن تھیئر میں اپنے جان سے بھی زیادہ پیارے بھائی اخسم عمر خان کا آپریٹ کرتے اپنی نیلی سرخ نگاہوں سے سامنے بیڈ پر لیٹے اخسم کو دیکھتے اسکے ہاتھ بری طرح سے کانپ رہے تھے۔۔
جب اُسے پتہ چلا کہ اُسکے بابا اور جڑواں بھائی کو زخمی حالت میں اُسکے ہاسپٹل میں لایا گیا ہے تو وہ کار لے کر دیوانوں کی طرح ہاسپٹل کی جانب بڑھا اور جب وہاں پہنچا تو اپنے باپ کے بے جان وجود کو دیکھ کر وہ ان سے لپٹ کر رونے لگا پھر اپنے بھائی کا خیال آتے ہی وہ آپریشن تھیٹر کی جانب بھاگا۔
جب اسنے اپنے بھائی کا آپریٹ کرنے کے لیے اپنے سینئر ڈاکٹر سے کہا تو اسکی بری حالت کی وجہ سے انہوں نے اسے اجازت نہیں دیا تو وہ ضد کرتے ہوئے آخر کار اندر داخل ہوا تو اپنے بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر ضبط سے اپنے رکے آنسوؤں کو بہانے سے روک نا سکا۔۔
“ڈاکٹر شمویل آپ کے ہاتھ کانپ رہے ہیں آپ ٹھیک تو ہے..؟؟
اسکے کولیگ ڈاکٹر ازلان نے اسکے ہاتھوں کو کانپتے ہوئے دیکھا تو آگے بڑھ کر اسے دیکھتے اسکی طبیعت کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔
“ڈاکٹر ازلان آئی ایم اوکے۔۔!!
وہ گلفس ہاتھوں سے نکالتا ہوا خود کو پرسکون کرتے ہوئے کہنے لگا کیونکہ وہ یہ آپریٹ خود کرنا چاہتا تھا اور اسکے لیے اسے دوسرے ڈاکٹرز کے سامنے خود کو ریلیکس ظاہر کرنا ہوگا یہ بات وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔
“نہیں آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں آپ یہ آپریٹ کو چھوڑے ہم دیکھ لیں گے آپ جا کر ریسٹ کرے۔۔!!
ڈاکٹر ازلان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے آپریشن تھیئر سے باہر لے جاتے ہوئے کہا۔۔
“ڈاکٹر ازلان میں اب ٹھیک ہو بس مریض سے میرا ایک گہرا رشتہ ہے اور میں اسکی سیریس کنڈیشن کو دیکھ تھوڑا سا پریشان ہوگیا تھا لیکن اب میں بلکل ٹھیک ہو اور یہ آپریٹ بھی میں خود کرنا چاہتا ہوں۔۔!!
ڈاکٹر شمویل خان اپنے ہاتھوں میں گلفس پہنتا ہوا اس سے سنجیدگی سے کہتا اندر آپریشن تھیئر کی جانب بڑھا۔۔
“ڈاکٹر شمویل خانزادہ نے کب اِس غنڈے مریض کو دیکھا ہوگا یہ مریض تو کل رات پولیس کی سخت سیکورٹی میں یہاں لایا گیا تھا پھر انکا رشتہ گہرا کیسے ہوسکتا ہے کہا وہ خطرناک غنڈہ اور کہا سرجن شمویل خانزادہ جو پاکستان میں بیسٹ سرجنوں میں سے ایک جس کی سرجری کی مثالیں ہم سب جوئینر ڈاکٹرز کو سئینر ڈاکٹرز دیتے ہیں۔!!
وہ اندر آپریشن تھیئر میں جب داخل ہوا تو اسے تعجب سے مریض کو آپریٹ کرتے دیکھتا سوچنے لگا جسکی نظریں ابھی بھی اس مریض کو دیکھتی سرخ ہو رہی تھیں۔۔
“شٹ اب میں کیسے پتہ لگاؤ کہ یہ مریض کیسے ڈاکٹر شمویل خانزادہ کا رشتے دار ہے۔۔!!
ڈاکٹر ازلان آگے بڑھا تاکہ اس مریض کا چہرہ دیکھ سکے جس میں وہ ناکام ہوتا بدمزہ ہوا اور آگے بڑھا مریض کا چهره وہ اس لیے بھی نہیں دیکھ سکا کیونکہ آپریٹ کی وجہ سے اسے چھپایا گیا تھا۔۔
“ڈاکٹر شمویل خان آپ کے ہاتھ ابھی بھی کانپ رہے ہیں۔۔!!
اسکی نظریں پھر سے ڈاکٹر شمویل خان کے ہاتھوں پر پڑی تو وہ کہے بغیر رہ نا سکا اور ڈاکٹر شمویل خان جو چھوٹی سی چھری سے اس مریض کا پیٹ جو آپریٹ کے لیے چاقو سے چھیڑا گیا ہے اس میں ڈالے اپنا کام احتیاط سے کر رہا تھا ڈاکٹر ازلان کی بات پر وہ رکا اور اسے دیکھنے لگا جو اسکے رک کر دیکھنے پر اپنا ماسک چہرے سے ہٹا کر مسکرا رہا تھا۔۔
“ڈاکٹر ازلان اگر آپ یہ آپریٹ کرنا چاہتے ہیں تو موسٹ ویلکم‌ اگر نہیں تو باہر جانے کا راستہ وہ رہا۔۔!!
واپس اپنے کام میں لگتے ہوئے وہ سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“ڈاکٹر شمویل خان میں تو بس آپکی حالت کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔!!
ڈاکٹر کی بات پر خان نے سنجیدگی سے اسے اگنور کیا اور اپنا کام کرنے لگا لیکن یکدم سے خون کا پریشر نکل کر اسکے چہرے پر لگے ماسک پر لگا تو وہ سخت گھبرا کر اسکے پیٹ میں ہاتھ ڈباتے ہوئے چیخ کر ڈاکٹر ازلان کو سامنے مشین کو دیکھنے کا کہنے لگا۔۔
“نو لالہ نو پلیز آپ ایسا نہیں کر سکتے پلیز اپنی ول پاور کو اسطرح کمزور نہیں کر سکتے آپ کب سے اسی کے سہارے اپنی موت سے لڑ رہے تھے پلیز آپ ایسا مت کریں پلیز۔۔!!
وہ اس مریض کے سینے پر زور زور سے مکا مارتے ہوئے چیخ چیخ کر اسے لالہ بلاتے ہوئے اسے اسکا ول پاور کو یوز کرنے کے لیے رو رو کر منت کرتے ہوئے کہنے لگا جو اسکی سیریس کنڈیشن کو دیکھ اسے بہت مشکل لگ رہا تھا کہ وہ بچ پائے گا۔۔
“نہیں لالہ پلیز آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے یوں مجھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔۔!!
اخسم نے زور سے چیختے ہوئے اپنی نیلی آنکھیں کھولی تو سامنے جب اسکی نظریں مشاطہ پہ پڑی تو اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا پھر سے اپنے ماضی کی اس رات کو بھولنے کی کوشش کرنے لگا جو ہر رات اس طرح کی خواب دیکھنے کے بعد وہ کیا کرتا تھا لیکن ہر مرتبہ کی طرح آج بھی وہ ناکام ہوگیا تھا۔۔
“لالہ۔۔!!
اخسم کے بے جان وجود کو بری طرح سے جھنجوڑ کر وہ شدت سے چیختے ہوئے اسے ہوش میں لانے کے لیے اسکا نام بار بار پکار رہا تھا۔۔
“شمویل خان بس اب وہ تمہاری باتوں کو نہیں سن سکتا کیونکہ وہ اب کبھی نہیں اٹھے گا۔۔!!
ڈاکٹر اذلان نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تو اسنے شدت سے اسے دور دھکیلتے ہوئے کہا۔۔
“نہیں اسے کچھ نہیں ہو سکتا وہ بلکل ٹھیک ہے۔۔!!
وہ سرخ آنکھیں اٹھا کر اخسم کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو عرشمان خان اور شمش جو ابھی روم میں داخل ہوئے تھے اسے اس حالت میں دیکھ کر دونوں آگے بڑھے اور اسے پکڑ کر اخسم کے بے جان وجود سے ہٹا کر اسے روم سے باہر لے گئے۔۔