Rate this Novel
Episode 1
“چھوڑو مجھے پلیز میں نے کیا بگاڑا ہے تُمہارا۔۔!!
ایک لڑکی نیچے زمین پر گری اُس شیطان سے فریاد کر رہی تھی جو آنکھوں میں ہوس لیے اُسی کی جانب بڑھ رہا تھا۔
کیوں چھوڑو میری جان تمہارے لیے میں نے نہ جانے کیا کیا نہیں کیا تھا تمہیں یہاں اس جنگل میں لانے کے لیے ۔۔!!
کمینگی سے کہتا وہ شخص نیچے جھکا اور لڑکی کو اسکے پیروں سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا اُسکی گردن پر اپنے لب رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
لڑکی روتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلاتی اُسکو پیچھے کی طرف دھکلنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی اپنا سر زمین پر زور زور سے مارنی لگی۔۔
“چھوڑو مجھے درندے انسان۔۔!!
جب اسکی زبردستی کرنے پر اس لڑکی کی قمیض اُسکے کندھوں سے پھٹی تو وہ اسے بے بسی سے خود سے دور کرتے ہوئے غصے سے کہنے لگی۔۔
“نہیں چھوڑ سکتا میں تمہیں تُم سمجھتی کیوں نہیں ہو تُم بہت جلد آزاد ہو جاؤ گی میری قید سے بھی اس دنیا سے بھی۔!!
وہ شخص غصے سے اُسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے پکڑتا اسکی قمیض کو بے دردی سے پھاڑ کر اس لڑکی کی گوری وجود کو ہوس سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“نہیں زلیل کمینے انسان تُم ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ سنا میں مار دونگی پیچھے ہٹ جاؤ ورنہ میں خود کو جان سے مار ڈالو گی ۔!!
لڑکی کی چیخے اِس پورے سنسان جنگل میں گھونج رہی تھی تو وہ شخص غصے سے اُسکے چہرے کو بری طرح سے اپنے ہاتھوں سے دبوچتے ہوئے اسکی گردن پر جھکا اور شدت سے اپنے دانتوں سے اسکی گردن پر اپنی درندگی کا نشان چھوڑنے لگا۔
“کمینی اگر تُمہاری آواز پھر مجھے سنائی دیا نا تو میں تمہیں زنده جلا دونگا سمجھی۔۔!!
منہ کو سختی سے دبوچ کر وہ غصے سے کہتا نیچے جھکا اور اُسے سختی سے کندھوں سے پکڑ کر اپنے لبوں سے اُسکے گال کو چھونے لگا اور وہ لڑکی اسکی گھٹیا حرکت پر بری طرح سے روتی ہوئی پیچھے کی جانب کھسکنے لگی۔۔
مگر اس شخص نے غصے سے اسے پیروں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور زور سے اسکے چہرے پر تھپڑ مار کر اسے اپنی درندگی کا نشانہ بنانے لگا اور وہ بے چاری اپنے ہاتھ پاؤں بری طرح سے مارتی اُسے دور کرتے ہوئے مدد کے لیے کسی کو بلانے لگی۔۔
💕💕💕💕💕
“مش بیٹا تُم کہاں جا رہی ہو۔۔؟؟
مشاطہ اپنے روم میں تھی کہ باہر اُسے کسی لڑکی کی زور دار چیخ سنائی دیا تو وہ تیزی سے اپنے روم سے نکلی اور گھر سے باہر نکلنے ہی والی تھی..
پیچھے اپنے بابا کی آواز پر وہ پیچھے مڑی اور انہیں دیکھنے لگی جو پریشانی سے اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
“بابا جانی مجھے لگتا ہے باہر کوئی مصیبت میں ہے جو چیخ رہی ہیں۔۔!!
وہ سنجیدگی سے بولی۔
“مطلب کوئی لڑکی ہے۔۔؟؟
انہوں نے پوچھا تو وہ سر ہاں میں ہلانے لگی۔۔
“تو بیٹا آپ اکیلی وہاں نہیں جاؤ گی میں بھی آپ کے ساتھ آتا ہو شاید وہ لڑکی مشکل میں ہو اور اُسے ہماری ضرورت ہو۔۔!!
واصف ملک نے کہا تو وہ سنجیدگی سے سر ہلا کر انکے ساتھ گھر سے باہر نکلی۔۔
“بابا وہ وہاں۔۔!!
جب وہ دونوں باپ بیٹی گھر سے دور اُس سنسان جنگل کی جانب بڑھے تو سامنے کا منظر دیکھ کر مشاطہ کو سخت غصہ آیا اور اُسنے جلدی سے سامنے گرے لوہے کی مضبوط راڈ کو اٹھایا اور واصف ملک سے کہتی آرام سے اُس شخص کے پیچھے بڑھنے لگی۔۔
“چھوڑو لڑکی کو ورنہ تُمہارا سر پھاڑ دونگی۔۔!!
شخص کے پیچھے پہنچ کر وہ راڈ کو اوپر اٹھا کر بنا خوفزدہ ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگی تو وہ شخص غصے سے لڑکی کو چھوڑ کر پلٹا تو سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر مہبوت رہ گیا۔۔
کیونکہ وہ جو کوئی بھی تھی بڑی خوبصورت سبز آنکھوں والی پری معلوم ہو رہی تھیں جو راہ بھٹک کر شاید یہاں اِس دنیا میں چلی آئی تھی۔۔
“اگر نہیں چھوڑا تو۔۔؟؟
وہ ہاتھ سینے پر پھیرتا سنجیدگی سے بولا۔۔
“تو میں مار ڈالو گی تُمہیں۔۔!!
سپاٹ لہجے میں کہتی وہ راڈ کو زور سے اُس شخص کے سر پر مارتی تیزی سے اُس لڑکی کی طرف بڑھی جو نڈھال خود کو چھپا رہی تھی ۔۔
“جلدی چلو یہاں سے ورنہ میں کچھ نہیں کر سکوں گی۔۔!!
تیزی سے کہتی وہ اپنی چادر اُسے اوڑھا کہ پیچھے اپنے بابا جانی کو اشاره کرنے لگی تو وہ آگے بڑھے اور اس شخص کو دیکھنے لگے جو اپنا سر پکڑے اُسے گالیاں دے رہا تھا۔۔
“مش بیٹا یہ زخمی ہے اور اب یہ ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ہے۔۔!!
واصف ملک نے کہا لیکن انکی اگلی بات کہنے سے پہلے اِس خاموش فضا میں ایک گولی چلنے کی وجہ سے وہ ساکت نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھنے لگے۔۔
“بابا جانی۔۔!!
جو دور کھڑی اس لڑکی کو تھامے انہیں ہی دیکھ رہی تھی کہ فائر کی آواز پر وہ چیختی ہوئی تیزی سے انکی جانب بھاگی۔۔
“مش بیٹا اُس ل۔لڑکی کو لیں کر یہاں سے چلی جاؤ وو۔ورنہ یہ درندہ تُم دونوں کو بب۔۔بھی مار دے گا۔۔!!
وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بمشکل ہکلاتے ہوئے کہنے لگے تو مشاطہ کی سرخ نظریں سامنے اُس شیطان کی جانب پڑی جو کمینگی سے ریوالور ہاتھ میں پکڑے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“حیوان درندے میں نہیں چھوڑو گی تُمہیں۔۔!!
نفرت سے چیختی اُس کی جانب بڑھنے لگی لیکن ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ساتھ میں وہ تکلیف سے نیچے گری اور اپنے ہونٹوں کو شدت سے بھینچتی اپنے دونوں پیروں کو تھامتے ہوئے سامنے اپنے بابا جانی کو تڑپتے ہوئے دیکھنے لگی جو شاید اب اپنی آخری سانسیں لیں رہے تھے۔۔
“بے بی اب وہ لڑکی نہیں تُم میری پیاس بجاؤ گی۔۔!!
وہ شخص اُسکے قریب بیٹھا اور ریوالور اُسکے چہرے پر پھیرتے ہوئے پُرسرار انداز میں کہنے لگا جبکہ وہ درد سے بری طرح سے تڑپتی اُسے روک بھی نہیں پا رہی تھی۔۔
“تُم زنده بچو گے تب اپنی خواہش کو پورا کر سکو گے نا۔۔!!
درد کے باوجود بھی وہ بنا خوف کے نفرت سے کہنے لگی۔۔
“بہت بہادر ہو لیکن صرف آج رات کے لیے ہوگی کل صبح یہ بہادری نہیں بلکہ خوف ہوگا اس حسین چہرے پر وہ بھی جبران شیرانی کے لیے۔۔!!
اسکی شرٹ کو کندھوں سے اپنے ریوالور کی مدد سے ہٹاتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی حرکت پر مشاطہ نے غصے سے اُسکے ہاتھ کو زور سے جھٹکا دے کر وہ ریوالور کو اسکے ہاتھ سے چھین کر نفرت سے اسکی پیشانی پر نشانہ لیں کر گولی چلا کر سنجیدگی سے اسکے بے جان جسم کو پیچھے کی جانب دھکیلتی۔۔
اپنی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر آگے رینگتی ہوئی اپنے بابا جانی کہ بے جان وجود کی جانب بڑھنے لگی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“یہ کیا کیا آپ نے آپکو پتہ بھی ہے کہ یہ کس کا بھائی ہے۔۔!!
لڑکی جو ہاسپٹل میں اسے لیں کر آئی تھی اس شخص کے بے جان وجود کو دیکھتی خوفزدہ ہو کہنے لگی تھی
اس شخص کی ڈیڈ باڈی کو ہاسپٹل مشاطہ کے کہنے پر پولیس یہاں لے کر آئی تھیں۔۔
“یہ اگر وزیر اعظم کا بھائی ہوتا نا تو تب بھی میں اسے نا چھوڑتی اس نے میرے بابا جانی کو جان سے مار دیا تو میں کیسے اسے زندہ چھوڑتی۔۔!!
وہ اپنے پیروں کی جانب ضبط سے سرخ ہوتی نظروں سے دیکھتی کہنے لگی۔۔
“تمہیں بلکل بھی فرق نہیں پڑ رہا کہ تُم اب اپنے پیروں پر کبھی بھی چل نہیں سکتی ہو۔۔!!
اسکی نظروں کے تعاقب میں لڑکی نے اسکے بے جان پیروں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“نہیں بلکل بھی نہیں میں نے اپنے بابا جانی کے قاتل کو جان سے مار دیا ہے تو مجھے اب اپنی معذوری کا بھی غم نہیں ہے۔۔!!
وہ سپاٹ لہجے میں کہتی اس لڑکی کو دیکھنے لگی جو اسے متاثر ہو کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“مشاطہ بچے آپ ٹھیک تو ہے نا۔۔؟؟
روم میں مجتبی ملک نے داخل ہوتے ہوئے کہا تو انہیں دیکھتی اسکی آنکھوں سے اس عرصے میں پہلی بار نمی چمکی جہنیں دیکھ کر مجتبی ملک تیزی سے آگے بڑھے اور اسے اپنے سینے سے لگا کر اسے دلاسا دینے لگے۔۔
“بس بچہ اگر اس طرح روؤ گی تو بابا کو وہاں تکلیف ہوگا بے بریو مائے لٹل سردارنی۔۔!!
مجتبی ملک اسے پیار سے مائے لٹل سردارنی کہتا تھا۔۔
“بھائی بابا جانی اتنی جلدی ہمیں چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں۔۔!!
وہ بری طرح سے روتی ہوئی ان سے پوچھنے لگی جو اسے سینے سے لگا ئے اسکی پشت کو سہلا رہے تھے۔۔
“مش بچہ جو خدا کی مرضی وہی ہو کر رہتی ہے ہم یا آپ اسے روک نہیں سکتے ہیں تو سمجھ لینا کہ بابا بس اتنا ہی عمر لکھوا کر آئے تھے۔۔!!
وہ اسے سنجیدگی سے سمجھاتے ہوئے کہنے لگے کہ تبھی یکدم سے تیزی سے کوئی روم میں داخل ہوا اور دروازه بند کرتے ہوئے ان دونوں کی جانب بڑھا۔۔
“مجتبی یار جتنی جلدی ہو سکے تم دونوں یہاں اس شہر سے نکل جاؤ۔۔!!
مجتبی کا دوست زاور نے خوف سے ان دونوں بھائی بہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“کیوں کیا ہوا ہے زاور۔۔؟؟
مجتبی ملک نے پوچھا۔۔
“وہ شخص پاگلوں کی طرح پورے شہر میں مشاطہ کو ڈھونڈ رہا ہے اس سے پہلے وہ یہاں تک پہنچے تم اپنی بہن کو لیں کر اس شہر سے چلے جاؤ ورنہ وہ تم دونوں کو مار دے گا۔۔۔
کیونکہ اسکے لاڈلے بھائی کو مشاطہ نے بری طرح سے قتل کر دیا ہے اور مجتبی تمہاری بہن کی بے وقوفی کو تو دیکھو اس نے اسکے بھائی کی ڈیڈ باڈی کو بھی یہاں رکھنے کے لیے کہا ہے۔!!
سخت غصے سے مشاطہ کو گھورتے ہوئے مجتبی ملک سے کہنے لگا تو مشاطہ اپنی سرخ نگاہوں سے زاور کو دیکھنے لگی۔۔
“بھائی میں نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے تاکہ میں اس کے بھائی کو بتا سکو کہ لڑکی کی عزت سے کھیلنے کا انجام یہ ہوتا ہے جو میں نے اسکے حیوان بھائی کے ساتھ کیا ہے۔۔!!
وہ نظریں نیچے جھکا کر اپنے سفید مومی ہاتھوں کو مسلتی ہوئی کہنے لگی تو اسکی بات پر زاور کو زور دار جھٹکا لگا۔۔
“وہاٹ مشاطہ تم جانتی بھی ہو وہ ظالم شخص کیا ٹوپ چیز ہے وہ تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے بھائی اور دوستوں تک کو موت دے گا اپنے بھائی کی موت کا بدلا لے کر سمجھے تم بے وقوف لڑکی۔۔!!
اور پتہ ہے اسکا نام کیا ہے۔۔۔؟؟
وہ اضطرابی انداز میں اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اچھے سے جانتی ہو کہ وہ کون ہے اور یہ بھی جانتی ہو کہ وہ اب مجھے نہیں چھوڑے گا اسکی عادتوں سے میں اچھی طرح واقف ہو۔۔!!
“میں چاہتی ہو کہ وہ شخص یہاں آکر اپنے بھائی کی یہ بری حالت دیکھے اور مشاطہ ملک سے ڈرے اور مجھے یقین ہے وہ یہاں ضرور آئے گا بھائی آپ پلیز یہاں سے چلے جائے یہ میری لڑائی ہے اور اسے میں اکیلے لڑنا چاہتی ہو۔۔!!
وہ ضدی لہجے میں کہتی ابکے مجتبی ملک کو بھی پریشان کر گئی تھی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“مجھے نہیں پتہ جبران شیرانی کو کس نے مارا ہے پپ۔پلیز مجھے جانے دو میں بے قصور ہو اُس رات میں بار میں تھا اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ جس رات جبران شیرانی کا قتل ہوا تھا۔۔!!
ایک شخص بری طرح سے زخمی حالت میں الٹا لٹکا سامنے کھڑے شخص کو خوفزدگی سے دیکھ رہا تھا جو مری شہر کے ساتھ ساتھ پورے ملک کا ظالم وحشی ڈان تھا جس کے سیاہ دل میں کسی کیلئے کیا اپنے لئے بھی رحم نہیں تھا۔۔
“تمہیں پتہ ہے اسد شیرازی تُم جھوٹ بول رہے ہو یہ دیکھو ہاں اس رات کو تُم جنگل میں کیا کر رہے تھے بتاؤ کیا لینے گئے تھے تم وہاں جب جبران دادا کا قتل ہوا تھا تھوڑی دیر بعد تُم اس سی سی ٹی وی فوٹیج پر کیوں نظر آئے تھے۔۔
شیرازی تمہاری زبان سے ایک منٹ میں جواب نکلنا چاہیے ورنہ دوسری منٹ ہونے سے پہلے تمہاری جان کو حلق سے کھینچ کر باہر نکال دونگا۔۔!!
اُسکا رائٹ ہینڈ شمش آگے بڑھا اور اُسے سختی سے بالوں سے پکڑ کر سامنے اسکرین کی جانب اشاره کرتے ہوئے غصے سے کہنے لگا۔۔
“وہ اُس رات کو مم۔میری کار خراب ہوگئی تھی تو میں نے اسی راستے کا استعمال کیا کیونکہ مجھے اپنے گھر جلدی پہنچنا تھا لیکن جبران شیرانی کی تیز چیخ سن کر
میں سخت خوفزدہ ہوگیا تھا۔۔
اور بھاگ کر جب میں اس جگہ پہنچا تو میں نے دیکھا ایک لڑکی جو بری طرح سے زخمی بھی تھیں اُسنے آپکے بھائی کو گولی مار کر پیچھے کی جانب دھیکلا تھا تو میں یہ دیکھتے ہی ڈر کے مارے وہاں سے بھاگا تھا۔۔!!
اسد شیرازی نے سامنے دیکھا تو بھونچکا رہ گیا کیونکہ یہ تو اُسنے سوچا نہیں تھا کہ اخسم شیرانی کی نظریں اپنے شہر کے ایک ایک علاقے پر ہو سکتی ہے پھر وہ کیسے بچ سکتا تھا اسکی عقاب جیسی تیز نظروں سے اپنی نظریں سامنے کھڑے شخص کی جانب کرتا کہنے لگا۔۔
“تُم سچ کہہ رہے ہو وہ خونی ایک لڑکی تھی اسد شیرازی اور اسنے شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال کر اپنے پیاروں کے ساتھ اچھا نہیں کیا ہے۔۔
میں نہیں چھوڑو گا اگر اس میں میرے بھائی کی کوئی غلطی نہیں ہوئی نا تو میں اس لڑکی کو زنده نہیں چھوڑو گا۔۔!!
اخسم شیرانی نپے تلے قدم لے کر اسکرین کی جانب بڑھا اور سپاٹ لہجے سے کہتا اسکرین کو ٹچ کرنے لگا
اور پھر اسکرین کو زوم کرتے ہوئے اسنے شمش کی جانب اپنی سرخ نگاہوں سے دیکھا جو سامنے اسکرین پر ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر ساکت رہ گیا تھا۔۔
“سرکار یہ تو۔۔؟؟
شمش نے ساکت نظریں اسکرین پر ڈالتے ہوئے کہا۔۔
“ہاں شمش اسنے میرے بھائی کو مارا ہے اب میں اسے زنده نہیں چھوڑو گا وہ بھلے میرے لیے قیمتی ہے لیکن اسنے اس بار میرے جگر کو مجھ سے جدا کر دیا ہے۔۔!!
اپنی سرخ ہوتی نگاہوں سے وہ اسکرین میں نظر آتے مشاطہ ملک کی تصویر کو چھوتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا تو شمش اسکے لہجے میں آج پہلی بار مشاطہ ملک کے لئے بے پناه نفرت دیکھ کر سکتے میں چلا گیا تھا۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکا اخسم دادا اُس لڑکی سے اتنی نفرت بھی کر سکتا ہے جسے وہ سب سے زیادہ یہاں تک کہ اپنے بھائی سے بھی زیادہ چاہتا تھا وہ ایک دن اس لڑکی سے اتنی زیادہ نفرت بھی کریں گا۔۔
“شمش پتہ کرو کہ وہ اس وقت کہا ملے گی اگر وہ مجھے نہیں ملی نا تو میں تمہیں زنده نہیں چھوڑو گا سمجھے جاؤ اور جلدی سے اسے پورے ملک میں بھی اگر ڈھونڈنا پڑے نا تو ڈھونڈو مجھے وہ کل تک اپنے بیڈ روم میں چاہیئے ورنہ آگے تم سمجھدار ہو۔۔!!
شمش کو حکم دیتے ہوئے وہ سنجیدگی سے سامنے چھوٹے سے بنے بار کی جانب بڑھا اور سامنے کھڑے لڑکے کو سرد نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔
تو وہ اسکی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر تیزی سے اسکے لیے وہ حرام شے بنانے لگا جو اسکے غصے کو تو ختم نہیں کر سکتا تھا ہاں تھوڑی دیر کے لیے وہ پرسکون ضرور ہو سکتا تھا۔۔
