Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

“بھائی زاور کو بھی اسنے مار دیا۔۔!!!
وہ ٹی وی پر چلتی نیوز کو دیکھ رہی تھی کہ تبھی اچانک سے ایک بریکنگ نیوز پر اسکی آنکھیں ساکت رہ گئی تو وہ تیزی سے وہیل چئیر کھسکا کر مجتبی ملک کو آوازیں دینے لگی وہ جو کچن میں اسکے لئے سوپ بنا رہے تھے باہر نکلے اور ٹی وی کی جانب دیکھنے لگے۔
“مشاطہ بچے یہ تو اب بہت سیریس معاملہ بنتا جا رہا ہے وہ اس حد تک گرے گا مجھے پتہ نہیں تھا مجھے لگتا ہے زاور نے ڈر کے مارے یہاں کا پتہ اس شیطان کو دیا ہوگا اب وہ یہاں بھی آئے گا آس سے پہلے وہ یہاں پہنچے ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے۔۔!!
وہ صوفے پر بیٹھا اور مشاطہ کو دیکھنے لگا جو کسی سوچ میں ڈوبی اسکی جانب متوجہ نہیں تھی۔
“نہیں بھائی اب ہم یہاں سے کئی نہیں جائے گے اسے جو کرنا ہے کر لیں مگر ہم یہاں سے بلکل بھی نہیں بھاگے گے۔۔!!
وہ فیصلہ کن انداز میں کہتی انہیں بغور دیکھنے لگی تو انہوں نے ایک گہری سانس خارج کیا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
“مشاطہ بیٹا جیسے تمہاری مرضی لیکن ابھی بھی سوچ لوں وہ شخص ظالم ہے کہی پھر سے وہ تم سے کچھ چھین نا لیں۔۔!!
انکی بات پر وہ طنزیہ انداز میں مسکرانے لگی پھر انکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر انہیں دیکھنے لگی۔
“بھائی میں پہلے ہی بہت کچھ کھو چکی ہو اب کھونے کی باری میری نہیں اس ظالم وحشی کی ہے اور مجھے پتہ ہے اسکی کمزوری کیا ہے۔۔!!
وہ انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو مجتبی ملک نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔
“مشاطہ اسکی کمزوری کے بارے میں آپ کیسے جانتی ہے۔۔؟؟
“بھائی یہ راز کی بات ہے جو میں پھر کسی دن آپ سے شئیر کروں گی۔۔!!
انکے سوال پر وہ خوبصورتی سے مسکرائی اور انہیں چمکتی آنکھوں سے دیکھتی کہنے لگی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
سب گینگ کے سربراہ اپنی جگہ پر بیٹھے اخسم دادا اور سہیل دادا کی جانب متوجہ تھے اور ان دونوں کو خاموش دیکھ کر اصغر دادا بے چینی سے کبھی ادھر تو کبھی ادھر نظریں ڈورہا رہا تھا۔۔
“اخسم دادا تُم نے کیوں مارا اصغر خان کے خاص آدمی کو یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ہمارے لیے بھی بہت خاص تھا۔۔!!
سہیل دادا نے سرد نظروں سے اصغر خان کو گھورتے اخسم دادا سے کہا تو وہ اسکی بات پر سیدھا ہو کر بیٹھا اور اپنے لبوں پر سگریٹ رکھتے ہوئے نیلی آنکھوں سے دوبارہ اصغر خان کو گھورنے لگا۔۔
“اخسم دادا کی جان پر اصغر خان کے اُس خاص بندے نے نظر رکھنے کی گستاخی کی تھی اسی لیے جان سے چلا گیا وہ تو شکر کروں اُسے اخسم دادا نے اپنے ہاتھوں سے مارنا پسند کیا ورنہ اگر اپنے پالتو جانوروں کے آگے اسے ڈالتا تو اسکی ہڈیاں بھی اصغر خان کو نہیں ملتی۔۔!!
وہ وحشت ناک نظروں سے اصغر خان کو دیکھتا سرد لہجے میں کہنے لگا تو اصغر خان اسکی سفاکی سے کہنے پر غصے سے اٹھا اور ابھی وہ اسکی جانب آکر اس پر حملہ کرتا کہ سنجیدگی سے اخسم دادا نے اپنی انگلی میں ایک عجیب قسم کی انگھوٹھی کو اسکی جانب کیا جس سے اصغر خان خوفزدہ ہو کر کرسی کے اوپر بیٹھا۔۔
اصغر خان اس انگھوٹھی کو اچھے سے پہنچان چکا تھا وہ اخسم دادا کا ایک خاص منی سا ریوالور تھا جو وہ صرف اپنے دشمنوں کے اوپر استمعال کرتا تھا۔۔
“اصغر خان اخسم دادا نے جب اس مافیا کی دنیا میں قدم رکھا تھا تو اسنے دو رولز بنائے تھے جو یہ تھے ایک کسی پر زیادہ بھروسہ نا کرنا اور اپنے دندے میں دھوکا دینے والوں کو جان سے مار دینا اور تم سمجھ چکے ہوں گے کہ میں تم سے کس دھوکے کی بات کر رہا ہوں۔۔!!
انگھوٹھی سے سرخ روشنی اصغر خان کی پیشانی پر دیکھ کر وہاں موجود سبھی گینگ کے سربراہ خوفزدہ ہو کر کرسی کے ہتھے کو مضبوطی سے پکڑنے لگے اور سب یہ بھی جانتے تھے کہ اب اصغر خان کا بچنا ناممکن ہے اسنے اخسم دادا کو دھوکا دیا تھا اور اخسم دادا دھوکا دینے والوں کو موت کی سزا دیتا ہے۔۔
لیکن اخسم دادا میں نے کوئی دھوکا نہیں دیا تھا وہ زز۔۔۔زاور اسکو پتہ نہیں تھا کہ وہ لڑ۔۔!!
اصغر خان کے منہ سے لفظ لڑکی نکلنے سے پہلے ہی اخسم شیرانی آگے بڑھا اور بے رحمی سے اسکی زبان کو کاٹ کر نیچے فرش پر پھینکا اور شمش کو اشارہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹا تو شمش اسکے اشارے کو سمجھتا ایک کرسی لا کر بلکل اصغر خان کے سامنے رکھ کر پیچھے ہٹا تو وہ بڑے خطرناک تاثرات چہرے پر سجائے سنجیدگی سے کرسی پر براجمان ہو کر ہاتھ آگے بڑھا کر اصغر خان کے ایک ہاتھ کو سختی سے تھام کے اسے دیکھنے لگا جو زبان کاٹنے کی وجہ سے تکلیف سے کراہ رہا تھا۔۔
“اصغر خان آج پہلی بار اِس جگہ پہ جہاں ایک شریف آدمی آنا اپنی توہین سمجھتا ہے وہاں تم نے کسی عورت کا نام بے غیرتوں کی طرح اچھالا ہے اور عورت بھی وہ جو دو سال پہلے میری ملکیت میں لکھ دی گئی تھیں۔۔
تم نے اسکا نام لینے کی جرات کیسے کی بولو اور وہ زاور کو کیوں نہیں روکا اس پر گندی نظریں ڈالنے سے پہلے انجام تو دیکھ لیا ہوگا تُم نے اسکی آنکھوں کا اور اپنی زبان کا دیکھو کیسے نیچے بے یارو مددگار پڑا تڑپ رہا ہے اور تُم سے فریاد کر رہا ہے کہ کیوں تُم نے ایک لڑکی کا نام لیا کیوں مجھ بے قصور پر ظلم کروایا۔۔!!
سرخ نیلی آنکھوں سے نیچے بے جان اصغر خان کی زبان کو افسوس سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو اصغر خان تیزی سے نیچے اسکی قدموں میں گرا اور روتے ہوئے اپنی زندگی کی بھیک مانگنے لگا جو کہ ناممکن تھا۔۔
وہاں موجود سبھی گینگ کے لیڈر دہشت برپا کرتیں اِس خوفناک منظر کو دیکھ کر خوفزدہ ہو کر اپنی پیشانی سے نمودار ہوتے پیسنے کو ٹشو کی مدد سے صاف کرتے ہوئے ڈر سے اپنی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے اس منظر سے بھاگنے کے لیے پر تول رہے تھے۔۔
“اصغر خان کہتے ہیں کہ خوف اور غصے میں انسان اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور تُم نے اخسم دادا سے خوف کھا کر اپنا بڑا نقصان کر دیا ہے سچائی بتا کر لیکن میں ابھی تمہیں نہیں مارو گا بلکہ پل پل مارو گا۔۔
تم نے صرف مجھے دھوکا نہیں دیا بلکہ یہاں موجود سبھی گینگ کے لیڈروں کو دیا ہے اب میں کیسے یہاں موجود سب گینگ کے لیڈروں پر بھروسہ کر سکتا ہوں۔۔!!
وہ سہیل دادا کی جانب خاص اشارہ کرتے ہوئے وحشت ناک لہجے میں کہنے لگا تو سہیل دادا بے یقینی سے اُسکے ہاتھ کو دیکھنے لگا جو اسی کی طرف بڑھا ہوا تھا۔۔
“اخسم دادا تم ایسا نہیں کرسکتے اصغر خان ہمارا بندہ ہے اور تم بھول رہے ہو کہ یہاں موجود سبھی لیڈر سب ایک جیسے ہیں۔۔!!
کراچی کا مہشور ڈان سلیم کچی جو اپنی خوفناک شکل کی وجہ سے دشمنوں کے لیے دہشت کے نام سے جانا جاتا تھا وہ غصے سے کھڑا ہو گیا اور اخسم دادا کی جانب دیکھتے ہوئے اپنی خوفناک آواز سے کہنے لگا۔۔
“نہیں سلیم کچی میں تُم لوگوں سے بہت مختلف ہو اور سب سے بڑا دہشت تم جیسے خطرناک ڈان بھی اخسم دادا کے نام سے ڈرتے ہیں جیسے کراچی پہنچنے سے پہلے اب تم ڈرنے والے ہو۔۔!!
وہ انگھوٹھی کو اپنی انگلی سے نکال کر شمش کی جانب اچھال کر قدم سلیم کچی کی جانب بڑھانے لگا اور سلیم کچی خوفزدہ ہوکر اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھنے لگا۔
“مم۔مجھے معاف کر دو اخسم دادا۔۔!!
اس شیطان کو اپنے قریب دیکھتا سلیم کچی گھبرا کے نیچے کرسی پر گرتے ہوئے کہنے لگا تو وہ اسکی فریادکو نظر انداز کرتا اپنی سرد نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کرسی کی پشت پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتا اسکے سیاہ خوفناک شکل کو دیکھنے لگا جو اسکی خوف سے اور بھی سیاه پڑ رہا تھا۔۔
“اخسم دادا صرف دو لوگوں کو معاف کرتا ہے ایک بے قصور کو دوسرا اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے انسان کو۔۔!!
اپنی وحشت بھری نظروں سے سلیم کو دیکھنے کے بہت وہ خطرناک سرد لہجے میں کہتا اچانک سے اُسکی سیاہ گردن کو سختی سے اپنے بازؤوں کے بیچ میں کرتا زور سے دبانے لگا۔۔
سب خوف سے سلیم کو اسکی گرفت میں بری طرح سے تڑپتے ہوئے دیکھنے لگے اور سلیم کچی کو افسوس بھری نظروں سے دیکھنے لگے جو کہ اب زنده بچنے والا نہیں تھا۔۔
“شمش اسکی لاش کو کراچی میں نہیں ہمارے خفیہ جگہ پر دفن کر دو۔۔!!
سلیم کچی کی لاش کو بے دردی سے فرش پر پھینکتا ہوا وہ مڑا اور شمش سے کہتا وہاں بیٹھے سبھی لوگوں کو نظر انداز کرتے ہوئے باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔۔
💕💕💕💕💕
کسوا اپنے اور زرلش کے بیڈ روم سے اپنی سوئی اور جاگی آنکھیں مسلتی باہر نکلی تو سامنے سے آتے زوارق خان کو نہ دیکھ سکی۔۔!!
جس کے نتیجے میں وہ بری طرح سے اسکے چوڑے سینے سے ٹکرا گئی اِس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی زوارق خان نے سختی سے اسکی کمر کے گرد اپنا ہاتھ ڈال کر عمائل کیا اور اسکی گلابی چہرے کو بغور دیکھنے لگا جو ابھی اٹھنے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا۔۔
“یہ وقت ہے تمہارے اٹھنے کا مس کسوا خان۔۔؟؟؟
اسکی کمر پر گرفت سخت کرتا وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا تو کسوا کی سانسیں اس ظالم انسان کی بھاری آواز پر یکدم سے تھمنے لگی اور براؤن بڑی بڑی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئی تھی۔۔
“خخ۔۔خان وہ آج اسکول کی چھٹی تت۔۔تھی تو اسی لیے میں لیٹ اٹھی تھی۔!!
وہ ہاتھ اسکے چوڑے سینے پر رکھے اسکی نظروں کی تپش سے بری طرح سے سٹپٹاتی ہوئی جلدی سے کہنے لگی۔
“کسوا خان اسکول کی چھٹی ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم دیر سے اٹھو مجھے یہ عادت سخت زہر لگتا ہے انسان کو چاہیے کہ وہ فجر کے وقت اٹھ کر پہلے نماز پڑھے پھر اُسکے بعد ورزش کرنے چلا جائے ہو سکے تو تم اپنی یہ بری عادت لیٹ اٹھنے والا میری زندگی میں آنے سے پہلے جلد نکال دو ورنہ اگر میں نے یہ عادت اپنے طریقے سے نکالی نا تو تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔!!
زوارق خان نے اچانک سے اُسکی سرخ اور نرم گالوں کو بے ساختہ چھوا تو کسوا اسکی حرکت پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی کیونکہ وہ جب بھی اسطرح کی حرکتیں کرتا تھا تو اسے ایک الگ احساس سے دوچار کر دیتا تھا۔۔
“ٹھیک ہے خخ۔۔خان میں کوشش کرو گی جلد اٹھنے کی اور آپ شش۔شاید نہیں جانتے میں نماز پڑھتی ہو مممم۔مجھے صرف صبح سویرے اٹھنے میں۔!!
“الجھن ہوتا ہے یہی کہنا چاہتی ہو نا کسوا خان لیکن یاد رکھنا مجھے ان الجھنوں کو ختم کرنا اچھے سے آتا ہے سو جتنی جلدی ہو سکے اپنی الجھنوں کو اور عادتوں کو ختم کر دو۔۔!!
وہ آگے کچھ بولتی اس سے پہلے اسنے اپنی شہادت کی انگلی کو اسکی نازک لبوں پر رکھا اور اسے خاموشی سے دیکھتے ہوئے آگے کے لفظ خود کہنے لگا۔۔
“کسو تم یہاں ہو اور میں کب سے ڈائینگ ٹیبل پر تُمہارا انتظار کر کر کے تھک گئی ہو اب چلوں بھی یہاں کھڑی کیا کر رہی ہوں۔۔؟؟
زرلش کی جھنجلائی آواز پر زوارق خان نے اسے اپنی سخت گرفت سے آزاد کیا اور سامنے اپنے روم کی جانب سنجیدگی سے بڑھا جبکہ کسوا تعجب سے اسے یکدم سے اجنبی بنتے ہوئے خود سے دور جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔
💕💕💕💕💕💕
“سر یہ قتل بھی اخسم شیرانی نے کیا ہے تو پھر ہم کیوں اسکے خلاف ایکشن نہیں لے سکتے ہیں سب ثبوت اس کے خلاف ہے پھر ہم سب کیوں خاموش ہیں۔؟؟
عرشمان خان کمشنر صاحب کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو سامنے ٹیبل کے پیچھے کرسی پر بیٹھے کسی سوچ میں گم تھے۔۔
“سر۔۔!!
وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے انہیں اپنی جانب متوجہ کرنے لگا تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگے جو سیاه وردی میں شاندار لگ رہا تھا۔۔
“عرشمان خان تُم جس کی بات کر رہے ہو وہ اس ملک کا طاقتور غنڈہ ہے اگر ہم نے ایکشن لیا تو وہ ہماری حالت بھی ان آفسروں کی طرح کرے گے جو اسنے پہلے کیا تھا۔۔!!
وہ عرشمان خان کو بغور دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگے تو انکی بات پر عرشمان نے سخت غصے سے ٹیبل پر مکا مارا اور پھر ضبط سے اپنی مٹھیاں کو زور سے کھسنے لگا۔
“مطلب سر ہم ڈرفوکوں کی طرح ایسے پولیس اسٹیشن پر بیٹھے رہے جیسے ببچہ اپنے باپ سے ڈر کر اپنے گھر میں خاموش بیٹھتا ہے۔۔!!
وہ غصے سے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“جوان کس نے کہا ہے کہ ہم خاموش بیٹھے گے ایک دن ضرور اسکے خلاف کچھ کرے گے لیکن ابھی نہیں کیونکہ ابھی وہ طاقتور ہے اسکے پاس حکومت اور بھی بہت سے بڑے لوگوں کا سپورٹ ہے وہ کسی دن کمزور ہوا تو ہم اس کے اوپر کچھ ایکشن ضرور لیں گے۔۔!!
انکی بات پر وہ تھوڑا پرسکون ہوا اور اپنے مضبوط ہاتھ پر لگی چوٹ کو دیکھنے لگا جو کسی چور پر اخسم شیرانی کا غصہ نکالنے کی وجہ سے اسے لگا تھا۔۔
“اوکے سر بہت رات ہوگئی ہے اب میں چلتا ہو مورے گھر میں میرا انتظار کر رہی ہونگی۔۔!!
وہ ٹیبل کے اوپر سے اپنا کیپ اور اسٹک اٹھاتے ہوئے کرسی سے اٹھا اور انہیں سلام کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ہاں تم جاؤ ویسے بھی اب بہت دیر ہوگیا ہے اور مجھے بھی نکلنا ہوگا ورنہ میری بیگم مجھے گھر کے اندر گھسنے بھی نہیں دے گی اس معاملے میں عرشمان خان تم لکی ہو۔۔!!
وہ انکی بات پر ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگا۔
“وہ کیسے سر۔۔؟؟
انکی جانب دیکھتے ہوئے آخر میں اسنے پوچھا تو انہوں نے زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے اسے کندھوں سے پکڑتے ہوئے کہا۔
“عرشمان خان ابھی تمہاری شادی نہیں ہوئی تو اس حساب سے تم ابھی لکی ہوئے ناں۔۔!!
انکی شرارتی لہجے سے کہنے پر وہ مسکرایا۔۔
“نو سر اس معاملے میں عرشمان خان بھی لکی نہیں ہے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“وہ کیوں جوان۔۔؟؟
تعجب سے اسے دیکھتے ہوئے کمشنر صاحب نے پوچھا۔۔
“سر وہ اس لیے کیونکہ میں بھی آپکی طرح شادی شده ہو بس فرق اتنا ہے کہ آپکی بیوی آپکے گھر میں اپکے پاس ہے لیکن میری بیوی ابھی اپنے اور میری چھوٹی بہن کے روم میں مزے سے سو رہی ہوگی۔۔!!
وہ افسوس سے کہنے لگا تو کمشنر صاحب اسکی بات پر زور سے قہقہہ لگانے لگے۔۔
“خان فکر مت کرو جلد تمہاری بیوی بھی تمہارے پاس ہوگی پھر تمہیں بھی لگ پتہ چل جائے گا کہ ان ظالم بیویوں کی پاور کیا ہوتی ہے۔۔!!
وہ شرارت سے کہتے ہوئے اسے دیکھنے لگے تو وہ کیپ سر پر سیٹ کرتے ہوئے مسکرانے لگا۔۔