Dark Heart By Sumyia Baloch Readelle50185 Episode 17
Rate this Novel
Episode 17
“خان جی چھوڑے میں خود بھی چل سکتی ہوں۔۔!!
کسوا اسکے پکڑنے پر سخت چڑتی اسے دور کرتی بولی تو زوارق خان جو اسے کانپتے ہوئے دیکھ رہا تھا اسے سخت غصہ آیا اور اسنے سختی سے اسے کلائی سے پکڑا اور اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے اس جنگل سے باہر لے جانے لگا۔۔
“اے لڑکے چھوڑ بچی کو ورنہ ہم ماڑا تم کو گولی سے اڑا دے گا۔۔!!
وہ دونوں اسی طرح آگے بڑھ رہے تھے کہ آگے سے بزرگ نے آتے ہوئے زوارق خان کے اوپر اپنی بندوق ٹان کر کہا۔۔
“بابا یہ آدمی ہم کو اغوا کر کے زبردستی لے کر جا رہا ہے اپنے ساتھ اپنے گاؤں ہم کو بچائے ورنہ یہ ماڑا ہم کو مار ڈالے گا۔۔!!
کسوا جو اسکے گھسیٹنے پر بری طرح سے رو رہی تھی اس بزرگ کو دیکھ اسے بچنے کا ایک خوبصورت موقع ملا اور وہ زوارق خان کے چھوڑنے پر تیزی سے بھاگی اور اس بزرگ کے پیچھے چھپ کر روتی ہوئی ڈرامائی انداز میں اس بزرگ سے بولتی زوارق خان کو دیکھنے لگی جو اسکے جھوٹ بولنے پر اسے سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“ہاں برخوردار تُمہاری اتنی ہمت ہمارے گاؤں میں ایسا کام کرنے کا ابھی ہم تم کو بتاتا ہے کہ ضمیر خان کیا چیز ہے۔۔!!
بزرگ کہتے ساتھ آگے بڑھے اور زوارق خان کو کالر سے پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹنے لگے اور کسوا اب سخت گھبرا کر رہ گئی کیونکہ یہ بہت زیادہ ہوگیا زوارق خان کے ساتھ تبھی وہ ڈرتی ہوئی ان کے پیچھے تیزی سے بڑھی۔۔
“خان بابا ہم نے اغوا نہیں کیا یہ ہماری بیوی ہے اور یہ ایک نمبر کی جھوٹی ہے آپ سمجھنے کی کوشش کرے۔۔!!
زوارق خان کب سے یہی الفاظ ڈورہا رہا تھا لیکن ضمیر خان شاید اپنے کان میں روئی ٹھونسے ہوئے تھا جو اس بات کو سن نہیں رہا تھا اور اسے اسی طرح گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھ رہا تھا۔۔
“برخوردار تُم نکاح جیسے پاکیزہ لفظ کو لے کر اس کا مزاق مت بناؤ ورنہ ہم لحاظ نہیں کرے گا اور تم کو اس جھوٹ کے بولنے پر گولی سے اڑا دے گا۔۔!!
بزرگ نے اسے ایک چھوٹے سے گھر میں لا کر دھکا دیتے ہوئے سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا تو زوارق خان بزرگ کے پیچھے چھپتی کسوا خان کو سخت نظروں سے گھورنے لگا۔۔
“تم چھپ کیوں رہی ہو کسوا خان سامنے آؤ اور اپنے باڈی گارڈ سے کہوں کہ تم نے جھوٹ بولا ہے۔۔!!
اسے مخاطب کرتے ہوئے وہ سخت لہجے میں اسے حکم دینے لگا تو کسوا اسکی آواز پر بری طرح سے لرزتی ہوئی آگے بڑھی اور نظریں نیچے جھکا کر زمین کو گھورنے لگی زوارق خان اسے سامنے دیکھ مسکرایا لیکن کسوا کی بات پر اسکے چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ غصے نے لے لیا۔۔
“بابا یہ جھوٹ بول رہا ہے میں کوئی اسکی بیوی نہیں ہوں۔۔!!
وہ اسکی نظروں سے سخت گھبرانے کے باوجود بھی یہ الفاظ اپنے منہ سے نکال گئی تو زوارق خان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔
“ہاں برخوردار اب تم سچ بولو کیوں بچی کو اٹھا کر لے جا رہے تھے۔۔؟؟
بزرگ نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔
“دیکھیں میں سچ کہہ رہا ہوں ہمارا نکاح ہوا ہے اور ابھی میرے پاس نکاح نامہ موجود نہیں ہے ورنہ میں آپ کو وہ ثبوت دیکھا تھا لیکن میری قسمت آج خراب تھی جو وہ میں اپنے ساتھ لے کر نہیں آیا۔۔!!
اُس نے ایک بار پھر سے سچائی بتانے کی کوشش کی لیکن وہ پھر بھی نہ مانے کیونکہ انہیں اس بچی کی جو فسادی بنی ہوئی تھی اسکے لیے اس وقت اُسکی نقلی آنسو سچ اور زوارق خان کی باتیں جھوٹی لگ رہی تھیں۔۔
“برخوردار پھر جھوٹ تمہیں تو اب سزا دینا بنتا ہے چلوں میرے ساتھ۔۔!!
انہوں نے اسے غصے سے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے اپنے گھر کے پچھواڑے پر بنے اپنے بھینسوں کے باڑے کی جانب لیں جانے لگے اور کسوا خوش ہو کر ظالم خان کو دیکھتی چپکے سے ان کے پیچھے بڑھی تاکہ دیکھ تو سکے کہ اس کے کھڑوس صاحب کو سزا کیا ملنے والی ہے۔۔
“یہ کیا ہیں خان بابا۔۔؟؟
زوارق خان گوبر کی بدبوسے اپنی ناک کو پکڑنے لگا کیونکہ اسے گوبر کی بدبو سے اسے سخت الرجی تھا اور یہاں اتنے سارے بھینسوں کو دیکھ اسکا دل یکدم سے متلانے لگا۔۔
“برخوردار تُم آج ساری رات یہاں کی صفائی ستھرائی کرو گے اور ان سب بھینسوں کو نہلاؤ گے اور انہیں کھانے بھی پیٹ بھر کر دو گے پھر صبح ہوتے ہی میں یہاں آکر سب دیکھوں گا اگر مجھے ایک چیز بھی اپنی جگہ پر نہیں ملا نا تو خان پورے ایک ماہ تم انکی دیکھ بھال کرو گے۔۔!!
ضمیر خان نے سنجیدگی سے کہا تو زوارق خان انکی بات پر سکتے میں چلا گیا پھر وہ آگے بڑھا اور ایک بار پھر سے انہیں سچائی بتانے کی کوشش کرنے لگا لیکن انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروایا۔۔
“بس خاناں تم جھوٹے ہوں یہ تمہارے چہرے سے پتہ چل رہا ہے شاباش انہیں صاف کرو ورنہ میں تمہیں مشکل کام دو گا اگر پھر سے یہی بکواس لے کر میرے سامنے آئے بچی کو ڈرانا چاہتے ہو لیکن یاد رکھنا وہ ضمیر خان کے گھر میں ہے تمہارے محل میں نہیں جاؤ اور جا کر میرے بچوں کو کھانا دو پانی دو۔۔!!
اسے دھمکانے کے بعد پیار سے اپنے بھینسوں کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا تو زوارق خان نے کسوا کو غصے سے یاد کیا اور پھر بے چارگی سے سب بھینسوں کی جانب دیکھنے لگا تو اسے یکدم سے ایسا لگا جیسے وہ سب اسکی بے چارگی پر ہنس رہے ہوں۔۔
“بیٹی وہ بچہ سچ کہہ رہا ہے ناں۔۔؟؟
دوسری طرف کسوا جو یہ سب دیکھ کر مسکرا رہی تھی کہ تبھی پیچھے سے کسی کے اسے ہاتھ لگانے پر ڈرتی ہوئی پیچھے مڑے اور سامنے کھڑی بزرگ عورت کو دیکھنے لگی جو اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھیں
“ہاں اا۔۔اماں۔۔!!
نظریں جھکا کر وہ اپنی عروسی جوڑے کہ دوپٹے کو انگلیوں میں لپیٹے ہوئے کہنے لگی تو عورت آگے بڑھی اور ایک گلاس اسکی جانب بڑھا کر اسے لیے قدم اندر کی جانب بڑھانے لگی۔۔
“تو پھر کیوں اس بے چارے کو تنگ کر رہی ہوں ۔۔۔؟؟
اسے لیے وہ ایک روم میں داخل ہو کر کہنے لگی تو کسوا نے انہیں دیکھا اور منہ بسورتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“اماں وہ بھی تو مجھے ہمشیہ تنگ کرتے ہیں تو میں بدلا تو لونگی ناں ان سے اور آپ اس کھڑوس ظالم خان کو اچھے سے نہیں جانتے وہ ایک عیجب مخلوق لگتے ہیں مجھے تو۔۔!!
کسوا خان کی بات پر انہوں نے مسکرا کر دودھ کا گلاس جو کسوا نے خالی کر کے انکی جانب بڑھایا تھا پکڑتے ہوئے روم سے باہر کسی کو آواز دینے لگی۔۔
“صفدر بچے جا اور یہ دودھ اس بچے کو دے کر آ وہ بے چاره بھی پیاسا ہوگا اور ضمیر خان پتہ نہیں اسے پوچھے گا بھی کہ نہیں۔۔!!
ایک بیس سالہ نوجوان اندر داخل ہوا تو انہوں نے جگ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو وہ آگے بڑھا اور جگ انکے ہاتھوں سے لے کر ابھی باہر نکلنے والا تھا کہ کسوا نے اسے روکا۔۔
“لالہ روکو۔۔!!
تیزی سے اٹھی اور اپنا لہنگا تھام کر روم سے باہر نکلی اور اس سے کہنے لگی۔۔
“ہاں میری بہن کیا بات ہے۔۔!!
وہ تعجب سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تو کسوا جو بارے کی جانب شریر نظروں سے دیکھ رہی تھی اسکے آواز پر سر اسکی جانب کرتی اسے کہنے لگی ۔۔
“لالہ تم نا خان کو یہ سونگ سنانا انکی فیورٹ ہے ۔۔!!
وہ شریر نظروں سے صفدر کو کہتی جلدی سے اندر کی جانب بڑھی اور صفدر وہیں پہ کھڑا حیرت سے اسکی بات کو سمجھنے لگا کیونکہ جو اسکے باپ نے کہا تھا وہ تو کچھ تھا اور اس چھوٹی سی لڑکی کی حرکتیں تو اسے کچھ اور کہہ رہی تھی پھر وہ اپنا سر جھٹک کر اسکی فیورٹ سونگ کو گنگنانے ہوئے باڑے کی طرف بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
لارشا پیخاوڑ تا کامیز تور مالا راورا۔
لارشا پیخاوڑ تا کامیز تور مالا راورا۔
طازہ ٹازہ گلونہ ڈری سیلور مالا راورا۔
طازہ ٹازہ گلونہ ڈری سیلور مالا راورا
زوارق خان ناک کو پکڑے ناگواری سے بھینسوں کو دیکھ رہا تھا ایک خوبصورت مردانہ آواز پر اپنا سر اوپر اٹھا کے اسنے سامنے کھڑے خوبصورت نوجوان کو دیکھا جو گنگنا رہا تھا۔
لیلہ چی چیرتہ قدام کدے۔
لیلہ چی چیرتہ قدام کدے۔
آو چیرتہ قدم کدے باجوڑ گلونا۔
ھلٹا گڈر ک تزا کیجی زیڑ گلونا۔
کامیز
وہ بھینسوں کے لیے چاڑا بنا کر شاید وہاں انہیں ڈالنے کے لیے آیا تھا جو گنگناتے ہوئے سب بھینسوں کو پیار سے دیکھ رہا تھا یہ دیکھ زوارق خان نے ایک گہری سانسس خارج کیا اور آگے بڑھا۔۔
آو ٹور آو ٹور مالا راورا۔
تبھی یکدم سے اس نوجوان نے اپنے ایک کان پر ہاتھ رکھا اور ہاتھ کو فضا میں بلند کر کے زور زور سے اپنی سُریلی آواز کو بے سُرا کرتے ہوئے اسے وہی رکنے پر مجبور کرتا اس بول کو گانے لگا۔۔
“اے لڑکے یہ تُم کیا کر رہے ہو میرے کانوں کے پردے اففففف خاموش ہو جاؤ تُم سن نہیں رہے ہو چپ ہو جاؤ ورنہ میں تمہیں ایک مکا مار کر خاموش کرواؤ۔۔!!
زوارق خان نے اسکی بے سُریلی آواز پر سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا تو وہ نوجوان اسکی باتوں کو اگنور کرتا اسی طرح زوارق خان کے کانوں میں اپنی بے سُریلی آواز کا جادو جگانے لگا۔۔
آو ٹور آو ٹور مالا راورا۔
طازہ ٹازہ گلونہ ڈری سیلور مالا راورا۔
طازہ ٹازہ گلونہ ڈری سیلور مالا راورا۔
زوارق خان اسکی بے سُریلی آواز پر اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں پہ رکھ کے اِدھر اُدھر کچھ ڈھونڈنے لگا تاکہ اسے چپ کرا سکے تبھی اسکی نظریں بھینسوں کے گوبر پر پڑی تو وہ آگے بڑھا اور سخت غصے سے اپنے ہاتھوں میں گوبر بھر کر اسکی طرف بڑھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پکڑ کر سارا گوبر اسکے چہرے پر مل دیا تو وہ نوجوان اپنی سنگنگ چھوڑ کر اسکی حرکت پر ساکت رہ گیا۔۔
“اوہ ماڑا یہ کیا کیا خان ہمارا سارا چہرہ بیگاڑ دیا۔۔!!
نوجوان نے اپنے چہرے سے گوبر ہٹاتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو زوارق خان نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔
“اور خاناں تم کیا اچھا کام کر رہے تھے کب سے اپنی سُریلی آواز کا جادو جگا کر میرے کانوں کا ستیاناس کر کے ہاں بتاؤ مجھے۔۔!!
وہ زور سے چیختے ہوئے کہنے لگا تو نوجوان نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“خان پہلی بات میرا نام صفدر خان ہے اور یہ تو ہماری بہن نے ہمیں کہا کہ تُمہیں یہ گانا بہت پسند ہے تو ہم نے تمہیں سنایا کیا غلط کیا بتاؤ ہاں۔۔!!
نوجوان نے اپنا نام بتاتے کے ساتھ اپنی بہن کا کہا تو اسکی کم عقلی پر وہ اسے سخت نظروں سے گھورتا اپنا وہی ہاتھ جو گوبر سے گندہ ہو چکا تھا پیشانی پر رکھتا پیچھے رکھے چارپائی پر بیٹھ کر اسے بغور دیکھنے لگا جو شکل سے ہی بے وقوف لگ رہا تھا۔۔
“خانان تمہاری بہن نے کہا اور تم نے عمل کیا ہاں اب یہ بھی بتا دو کہ تم اور تمہارا سارا خاندان کیوں مجھ سے دشمنوں کی طرح پیش آ رہا ہے آخر میں نے تم لوگوں کا کیا بیگاڑا ہے ہاں بولو مجھے۔۔؟؟
زوارق خان کی بات پر نوجوان نے اسکی طرف دیکھا لیکن جب اسکی نظریں اسکی پیشانی پہ لگے گوبر پر پڑی تو وہ زور سے ہنسنے لگا۔۔
“کیا میں نے تُمہیں کوئی لطیفہ سنایا ہے خاناں جو تم ہنس رہے ہو۔۔؟؟
اسے انگلی اپنی جانب اٹھاتے ہوئے دیکھ وہ سخت غصے سے اٹھا اور اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“خاناں تمہاری پیشانی پر لطیفے سے بھی بڑا کچھ لگا ہے ہاہاہاہا۔۔!!
اس نوجوان نے ہنستے ہوئے اسکی پیشانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ اسے گھورتا باڑے سے باہر نکلا اور اس چھوٹے سے گھر میں واشروم کی تلاش میں نکلا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کسوا خان تُم صرف ایک بار ایک بار میرے ہاتھ لگ جاؤ تو میں تمہیں اچھے سے بتاتا ہوں کہ زوارق خان کس ظالم کو کہتے ہیں بہت شوق ہے نا تمہیں جھوٹ بول کر رو کر خود کو بچانے کا دیکھتا ہوں جب تم میرے ہاتھ آنے کے بعد کس طرح خود کو بچاتی ہوں۔۔!!
زوارق خان اپنا چہرہ غصے سے اپنے رومال سے صاف کرتا بڑبڑاتا ہوا اردگرد نظر ڈورہا کر واشروم ڈھونڈ رہا تھا تاکہ اپنا چہرہ دھو سکے لیکن سامنے اپنے شکار کو کھڑے دیکھ وہ وہی روکا اور اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگا ۔۔
کسوا جو اپنا کوٹ نکال کر لہنگے کو پکڑے اس چھوٹے سے روم کے سامنے کھڑی اندر دیکھ رہی تھی کہ اپنے اوپر کسی کی نظریں محسوس کرتی سٹپٹا کے پیچھے مڑی تو بھونچکا رہ گئی تھی۔۔
“تُم کیا سمجھی تھی کسوا زوارق خان کہ تم جھوٹ بول کر خود کو مجھ سے بچا لوںگی تو یہ تمہاری بھول تھی کیونکہ جو میں نے فیصلہ کیا تھا کہ ابھی تمہیں کچھ نہیں کرو گا لیکن تمہاری اس جھوٹ کی وجہ سے اب میں نے اپنا فیصلہ بدل لیا ہے اب کیسے بچاؤ گی تم خود کو مجھ سے ہاں بتاؤ کیسے۔۔؟؟
سامنے غصے سے بھرے ظالم خان کو کھڑے دیکھ وہ جلدی سے روم کے اندر داخل ہوئی اور اس سے پہلے کے وہ روم کو جلدی سےبند کرتی زوارق خان تیزی سے آگے بڑھا اور اسے پیچھے روم کے اندر دھکیل کر خود اندر داخل ہوا زور سے دروازہ بند کرتا ہوا پیچھے مڑا اور اسے اپنی غصیلی نظروں سے دیکھتا آگے بڑھا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
خان جی یی۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
کسوا اسکی سخت پکڑ پر گھبرا کر خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے لگی جو ناممکن تھا کیونکہ زوارق خان کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی تھیں تبھی وہ جھکا اور اسے اپنے بازوؤں میں بھرتا سامنے چھوٹے سے بستر کی جانب اسے لے جا کر شدت سے اسے پھینکتا اپنا کوٹ اُتارنے لگا تو یہ دیکھ کسوا پیچھے کھسکنے لگی۔۔
“کسوا خان وہی جو تم نے مجھے مجبور کیا ہے۔۔!!
اُسے جواب دیتے ہوئے سخت نظروں سے گھورتا اپنی شرٹ کو کھینچ کر خود سے الگ کرتا نیچے فرش پر پھینکتے ہوئے وہ اسکے اوپر جھکا اسے کمر سے پکڑتے ہوئے اوپر اٹھا کر پیچھے سے اسکی بلاؤز کی زپ کو بے دردی سے کھول کر اسے کندھوں سے پکڑ کر نیچے دھکیل کر اسکے شانے پہ اپنے ہونٹوں کو رکھ کر شدت سے اپنے بے رحم لمس کو چھوڑنے لگا اور وہ اسکی لمس پر بری طرح سے روتی ہوئی اسے دور کرنے لگی۔۔
“نہیں خان جی پلیز چھوڑے مجھے میں آئندہ جج۔جھوٹ نہیں بولو گی آئی شیور۔۔!!
وہ روتی ہوئی اسکے مضبوط سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی تو وہ پیچھے ہٹا اور اسے دیکھنے لگا جو بری طرح سے رو رہی تھی۔۔
“کسوا خان نہیں بلکل بھی نہیں تم اب مجھ سے نہیں بچ سکتی کیونکہ تم نے جھوٹ بول کر ہمارے اس مقدس اور پاکیزہ رشتے کا مزاق بنایا ہے اور اسکی سزا مجھے اس سے بہتر نہیں لگتا۔۔!!
اسکی بلاؤز کو کندھوں سے سرکاتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اسے سزا سناتے ہوئے نیچے جھکا اور اسکی گردن کو چھونے لگا۔۔
“خان جی آپ نے بھی تو مجھ سے جھوٹ بول کر نکاح کیا تھا پھر میں اتنا بھی نہیں کر سکتی ہوں۔۔!!
وہ اسکی جانب اپنی نم سرخ آنکھوں سے دیکھتی کہنے لگی تو زوارق خان نے اسکی گردن سے منہ ہٹایا اور اسے دیکھا جو بری طرح سے رو رہی تھی۔۔
“کسوا خان اب تُمہاری آنکھوں سے نکلتے یہ آنسوؤں بھی مجھے نہیں پھگلا سکتے ہیں سمجھی تُم۔۔!!
اسکی پشت پر گرفت سخت کرتا بلاؤز کو ہٹا کر اپنے ہونٹوں سے اسکی گردن کو چھو کر نیچے کی جانب بڑھا تو کسوا اسکی لمس کو محسوس کرتی شدت سے اپنی آنکھیں بند کرتی بری طرح سے کانپتی ہوئی اسے ہنوز اسی طرح خود سے ہٹانے لگی جو اسکے وجود کے اوپر قابض تھا۔۔
“خان جی پلیز پیچھے ہٹے پلیز۔۔!!
وہ اسکی شدتوں سے شدید کانپتی ہوئی آواز میں بولی وہ جو اسکی کمر پر ہاتھ رکھے اُسکے چہرے پر جھکا تھا اسکے لرز کر کہنے پر اپنی ہونٹوں کو اسکی ہونٹوں سے الجھا کہ شدت سے چھونے لگا تو کسوا اسکی لمس کو اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتیں اسے پیچھے کی طرف کرنے لگی۔۔
“کسوا خان ابھی تو یہ چھوٹا سا ٹریلر ہے آگے میں بہت جلد تمہیں اسکی پوری فلم دیکھاؤ گا بہت شوق ہے نا مجھ سے پنگا لینے کا یہ میری طرف سے وارننگ تھا جو تمہیں عمل کر کے دیا ہے میں نے تاکہ تم آینده مجھ سے پنگا لینے سے پہلے دو سو کروڑ مرتبہ ضرور سوچو گی۔۔!!
ایک ہاتھ سے وہ اسکی ناک کو زور سے دباتا اور دوسری سے اسکی کلائی سے کو آہستگی سے چھو کر وہ اپنا ہاتھ اوپر کندھوں کی جانب بڑھاتا اسکے ہوش اڑانے لگا۔۔
“خان جی آپ بہت ظالم ہے۔۔!!
وہ روتی ہوئی ہوئی غصے سے بولی تو زوارق خان نے اسکی ٹھوڑی کو پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے چھوا اور پھرانگوٹھے سے اسکے گلزار نازک ہونٹوں کو چھوتا آہستگی سے اپنے ہونٹوں سے دوباره انہیں نرمی سے چھونے لگا تو وہ اسکی حرکت پر سخت کانپ اٹھی تھی۔
“خان کی جان تو پھر تم ہمشیہ کیوں مجھے ظالم بناتی ہو۔؟
سردی کی وجہ سے وہ اسکے اوپر کمبل اوڑھتا ہوا اسکے چہرے پر آئے آواره زلفوں کو پیچھے کرتا اپنے ہونٹ سے اسکی پیشانی کو چھو کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“آپ خود مجھے مجبور کرتے ہے ایسا کرنے پر میں نہیں سمجھے آپ کھڑوس خاناں۔۔!!
منہ کو دوسری طرف غصے سے موڑتے ہوئے اس سے دور ہو کر کہنے لگی تو زوارق خان نے ہاتھ بڑھا کر اسے کھینچا اور اپنے سینے میں سختی سے بھینچ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“چھوڑے مجھے آپ میں آپ کے ساتھ اس روم میں اب ایک منٹ بھی رہنا نہیں چاہتی آپ میرے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں۔۔!!
وہ جلدی سے اٹھتی اپنے اوپر اچھے سےکمبل کو ٹھیک کرتی غصے سے چیخ کر بولی تو زوارق خان نے مخمور نظروں سے اسکے وجود کو دیکھا جو غصے کے باعث کانپ رہا تھا۔۔
“کسوا خان ابھی کہا وہ سب کیا ہے جو تم سمجھ رہی ہوں ابھی تو صرف تمہیں وارننگ دیا ہے اگر میں نے کچھ کیا نا تو تم ابھی کے ابھی بے ہوش ہو جاؤ گی۔۔!!
بوجھل لہجے میں کہتا ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنے اوپر گراتا وہ ایک انگلی سے اسکی گردن سے نیچے تک لکیر کھینچنے لگا تو کسوا اسکی انگلی کو اپنی پشت پر آڑھی ترچھی انداز میں سرکتے ہوئے محسوس کرتیں زور سے آنکھیں بند کرتی اسکی گردن پر اپنی گرفت کو سخت کرنے لگی۔۔
“خان جی۔۔!!
وہ اپنی ڈھرکنوں کے شور سے پریشان ہوتی سخت گھبرا کر لرزتی آواز میں بولی زوارق خان جو اب اسکی کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے ریشمی بالوں سے پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر اٹھا کر اُسے بغور دیکھنے لگا جو آنکھیں بند کیے بری طرح سے لرز رہی تھی۔۔۔
“کسوا جانِ من ابھی تو یہ شروعات ہے آگے تو بہت سی ایسی ڈوز میں تمہیں دیتا رہوں گا تاکہ تم بچہ جلدی سے اپنے خان کو اچھے سے سمجھ سکوں کے وہ کیا چیز ہے۔۔!!
اُسے خود سے الگ کرتا اٹھا اور اسکے جھکے سر کو نرمی سے ہونٹوں سے چھوتا ہوا اپنی پیشانی پر لگے گوبر کا خیال آتے ہی جلدی سے باہر نکلا تو کسوا اسکے جاتے ہی گہری گہری سانسیں لینے لگی اور آگے کے بارے میں ڈرتے ہوئے سوچنے لگی کہ حویلی پہنچ کر وہ ظالم خان پتہ نہیں اسکے ساتھ کیا کرے گا اسکی دھمکی دینے کا انداز اتنا خطرناک تھا تو اگر اسنے سچ میں اس دھمکی پر عمل کیا تو وہ تو جان سے چلی جائے گی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
