Dark Heart By Sumyia Baloch Readelle50185 Episode 14
Rate this Novel
Episode 14
💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣
“خان جی آپ اپنی دلہن کو کیوں اپنے ساتھ نہیں لے کر آئے شاپنگ کرانے کب سے میں آپکو اتنے خوبصورت ڈریس دکھا دکھا کر اب تھک گئی ہو لیکن آپ ہے کہ ایک بھی پسند نہیں کر رہے ہیں۔۔!!
کسوا اس وقت زوارق خان کے ساتھ اسکے ایک دوست کی بوتیک میں ایک شاندار سے روم میں صوفے پر بیٹھے سامنے رکھے بہت سے خوبصورت عروسی لباسوں کو دیکھ رہے تھے لیکن زوارق خان کو ان سب ڈریس میں ایک بھی کسوا کے لیے پسند نہیں آ رہا تھا کیونکہ وہ اسکے لیے اشپیشل تھی تو ڈریس بھی اسکے لیے اشپیشل ہونا چاہیے تھا۔۔
“کسوا خان تمہیں سرپرائز کا مطلب پتہ ہے کہ وہ کیا ہوتا ہے۔۔؟؟
وہ رخ اسکی طرف کرتا اپنا ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر کسوا کی گردن کے پاس لے جا کر اسے پیچھے سے پکڑ کر بلکل اپنے نزدیک کرتا سنجیدگی سے سوال پوچھنے لگا۔۔
“مطلب آپ اپنی دلہن کو کچھ اشپیشل سرپرائز دینا چاہتے ہیں۔۔!!
وہ اپنی گردن پر اسکی سخت گرفت پر بری طرح سے سٹپٹا کر اسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
“بلکل میں اپنی ہونے والی بیوی کے لیے کچھ اشپیشل کرنا چاہتا ہو جو آج تک کسی شوہر نے اپنی بیوی کے لیے کبھی نہیں کیا ہو میں وہ کرنا چاہتا ہوں۔۔!!
وہ اسے نظروں کے آثار میں قید کرتا جزبات سے بوجھل ہوتی آواز میں سرگوشی کرنے لگا جو کسوا نے بمشکل سنا۔۔
“زوارق یہ بیسٹ رہے گا بھابھی کے لیے کیوں بھا۔!!
اسکا دوست اس سے پہلے کسوا کو بھابھی کہتا زوارق خان نے سختی سے اپنے دوست کو گھورا اور اسکے ہاتھ سے وہ ڈریس کو کھینچ کر کسوا کے سامنے بڑھا کر اسے پہننے کے لیے حکم دینے لگا کیونکہ وہ سرخ رنگ کا خوبصورت جوڑا اسے بھی پسند آیا تھا۔۔
“مم۔میں کیسے خان جی یہ تو آپکی۔۔؟؟
کسوا نے تعجب سے اس ڈریس کو اور پھر زوارق خان کو دیکھا جو سپاٹ چہرے کے ساتھ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا اسکے تعجب سے کہنے پر اسے گھورنے لگا تو کسوا اسکی نگاہوں سے ڈرتی تیزی سے ڈریسنگ روم میں گھسی۔۔
“زوارق کیوں بے چاری بھابھی کو تنگ کر رہے ہو بتا کیوں نہیں دیتے کہ تمہاری دلہن کوئی اور نہیں وہی ہے۔۔!!
زوارق خان کے دوست نے اسے دیکھتے ہوئے کہا جو کب سے زوارق خان کو کسوا پر سختی کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔
“تُم تو چپ رہو یہ میرا اور میری ہونے والی بیوی کا معاملہ ہے اس میں کسی تیسرے کی مداخلت پسند نہیں کرو گا۔۔!!
اسے سخت نظروں سے دیکھتا وہ سرد لہجے میں کہنے لگا تو اسکے دوست ساجد نے اپنے کندھے اچکا ئے اور روم سے باہر نکلا اور اسکے نکلتے ہی کسوا دوپٹہ پیچھے سے اچھی طرح لپیٹے ڈریسنگ روم سے باہر نکلی تو زوارق خان اسے دیکھ مہبوت رہ گیا تھا۔۔
“خان جی یہ ڈریس بہت عیجب سا ہے اسے پہن کر شاید آپکی دلہن بار بار پریشان ہوگی دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے آپ کوئی اور پسند کرے ناں۔۔!!
وہ پریشانی سے دوپٹہ بار بار درست کرتی بولی تو زوارق خان اسکی آواز پر ہوش میں آیا اور اسے بغور دیکھنے لگا جو بار بار دوپٹہ اپنے گرد لپیٹ رہی تھی۔۔
زوارق خان اسے دوپٹہ اپنے گرد اچھی طرح سے لپیٹے دیکھ یکدم غصہ سے صوفے سے اٹھا اور آگے بڑھ کر سختی سے اسکے اوپر سے دوپٹہ اتار کر سامنے صوفے پر پھینکتا اسے فرصت سے دیکھنے لگا۔۔
جو دوپٹے کے بغیر اسکے سامنے کھڑی صوفے پر رکھے دوپٹے کو دیکھ رہی تھی پھر اسکی نظروں سے سخت سٹپٹاتی ہوئی پیچھے ہٹی اور پیچھے لگے شیشے پر بری طرح سے جا کر لگی تھی اور زوارق کی نظریں جب اسکی پشت پر پڑی تو وہ سخت غصے میں آکر آگے بڑھا اور شیشے کے اوپر اپنے دونوں ہاتھ رکھتا سر نیچے جھکا کر اسے غصے سے گھورنے لگا۔۔
وہ کچھ دیر اسی طرح کھڑا اسے خاموشی سے دیکھتا رہا پھر شیشے کے اوپر سے اپنا ہاتھ ہٹاتا پیچھے ہوا اور دوسری طرف دیکھتے ہوئے اپنے غصے پر کنٹرول کرنے لگا جو اسکے لیے مشکل ثابت ہو رہا تھا کیونکہ اسکی نظروں کے سامنے بار بار کسوا کی ڈیپ ڈریسنگ والی پشت نظر آ رہی تھیں جو اسکے غصے کو اور بھڑکا رہا تھا۔۔
“کسوا خان یہ ڈریس تم نے کیوں پہنا ہاں۔۔؟؟
زوارق خان شیشے میں اسکی پشت کو دیکھ کر آگے بڑھا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسکی پشت کو اپنی طرف کرتا غصے سے اسکی پشت کو دیکھنے لگا جو گردن سے لے کر کمر تک کھلا ہوا تھا اور اسکی شفاف پشت صاف نظر آ رہا تھا۔۔
“وہ خخ۔۔خان جی آپ ہی نے تو مجھے پہننے کو کہا تھا۔۔!!
کسوا سخت گھبرا کر بولی تو زوارق خان نے سنجیدگی سے اسکی پشت پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُسے دیکھا جو اُسکے ہاتھ کو اپنی پشت پر رینگتے ہوئے محسوس کرتی بری طرح سے کانپ رہی تھی۔
“میں نے کہا اور تم نے پہن لیا کسوا خان۔۔!!
ہاتھ اسکی نازک کمر پر لے جا کر سختی سے پکڑتا اسے اپنے بے حد نزدیک کرتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو کسوا اسکی نگاہوں اور بے حد نزدیکی سے بری طرح سے گھبرا کر اپنے دونوں ہاتھ اسکے چوڑے سینے پر رکھتی نظریں جھکا کر اسکی انگلیوں کو اپنی کمر پر رینگتے ہوئے محسوس کرتی اب کے سخت ڈرنے لگی تھی۔۔
“سوری خان جی مم۔میں ابھی بدل کر آتی ہو۔۔!!
وہ اسکی حرکت پر سخت نروس ہو کر خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی تو زوارق خان نے اسے چھوڑا اور اسکے وجود کو دیکھنے لگا۔۔
“تم ایک کام کرنا یہ ڈریس بھی لیں لینا اور یہ جا کر پهن کہ آؤ۔۔!!
کسوا اس ڈریس میں حسین لگ رہی تھیں یہ دیکھ وہ کچھ سوچتا ہوا اسے یہ ڈریس بھی لینے کا کہتا صوفے پر رکھے ڈریسوں میں سے ایک ڈریس کو اٹھا کر اچھے سے پیچھے پلٹ کر دیکھنے کے بعد اسے پکڑا کر پہننے کے لیے کہنے لگا۔۔
کسوا اسکے پہنے ہوئے ڈریس لینے کا اور پھر یہ دوسرا پکڑا کر پہننے کا حکم سن کر اسے سخت تعجب سے دیکھنے لگی جو اب صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ جو وہ ہمشیہ اپنے پاس رکھتا تھا سامنے کیے کچھ کام کر رہا تھا۔۔
“خان جی یہ میں کیوں پہنو۔۔؟؟
وہ اسکی جانب بڑھی اور اس سے پوچھنے لگی تو وہ اپنا سر لیپ ٹاپ سے اٹھا کر اسے سخت نظروں سے دیکھنے لگا جو اسکی نظروں سے خائف ہوتی تیزی سے پیچھے ہٹی۔۔
“کسوا خان جاؤ اور یہ ڈریس ابھی پہن کر آؤ۔۔!!
اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سپاٹ لہجے میں کہتا واپس لیپ ٹاپ کے اسکرین پر نظریں مرکوز کیے اپنا کام کرنے لگا اور کسوا اس کھڑوس کو گھورتی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“زرلش بیٹا تم تیار ہو۔۔؟؟
زرلش اپنے اور عرشمان خان کے روم میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی بیوٹیشن کو دیکھ رہی تھی جو اسے تیار کر رہی تھی کہ تبھی پیچھے سے اپنی ماں کی آواز پر انہیں شیشے میں دیکھنے لگی جو پیچھے کھڑی اسے نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
“ماما یہ کیا آپ رو رہی ہیں۔؟؟
وہ انہیں روتیں ہوئے دیکھتی ان سے پوچھنے لگی تو انہوں نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چھومتے ہوئے کہا۔۔
” بیٹا بس اپنی بیٹی کو دیکھ کر خود کو روک نا سکی۔۔!!
أنکی بات پر زرلش کے بھی آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے تو انہوں نے جلدی سے اسکی آنکھوں سے پھسلنے سے پہلے ٹشو سے صاف کیا تاکہ میک اپ خراب نہ ہوں۔۔
“ماما۔۔!!
وہ تیزی سے انکے سینے سے لگ کر رونے لگی تو انہوں نے اسکی کمر کو سہلا کر اسے خاموش ہونے کے لیے کہا۔۔
“بس بیٹا خاموش ہو جاؤ تمہیں اس گھر سے دور تو نہیں جانا یہی اسی کمرے میں ہوگی تم اور اسی گھر میں۔۔!!
انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ پیچھے ہٹی اور آنسو صاف کرتے ہوئے انہیں دیکھنے لگی۔۔
“لاہور تو جا رہی ہو نا آپ لوگوں سے دور اب پتہ نہیں کب یہاں آؤ گی مجھے خان کا پتہ ہے وہ ایک دو ماه بعد کچھ ایسا کرتا ہے کہ اسے ٹرانسفر کر کے دوسرے شهر بھیجتے ہیں اور اب تو میں بھی پھنس گئی ہوں۔۔!؟
وہ منہ بسور کر بولی تو وہ اسکی بات پر مسکرائے پھر زوارق خان کیا خیال آتے ہی وہ اپنا ماتھا پھیٹتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“زر یہ تمہارا لالہ بھی نہ اب پتہ نہیں کسوا کو کہاں لے کر گیا ہے اب تک نہیں آیا اور اس بے چاری کو پتہ بھی نہیں ہے کہ آج اسکا نکاح ہے۔۔،!!
وہ اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو زر انکی بات پر مسکرا کر انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“ماما یہ لالہ عیجب ہے تو اپنا نکاح بھی عیجب طرح سے کرے گے ناں۔۔!!
وہ شریر لہجے میں کہتی انہیں مسکرانے پر مجبور کر گئیں تھی اور وہ بیوٹیشن کو اسے اچھے سے تیار کرنے کا کہہ کر خود روم سے باہر نکلی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
عرشمان خان جب اپنے روم میں داخل ہوا تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس زرلش کو دیکھ وہ وہی ساکت ہو کر کھڑا رہ گیا۔
زرلش جو دوپٹہ کے بغیر اپنی پشت اسکے سامنے کیے شیشے کے سامنے کھڑی سر جھکائے اپنی پشت پر ہاتھ رکھے بلاؤز کی ڈریوں کو باندھنے میں لگی ہوئی تھیں اور عرشمان خان کی نظریں اسکی پشت پر آکر ٹھہر گئیں تھی۔
“خان تُم۔۔؟؟
زرلش جو کب سے جھنجلا کر اپنی پشت پر ہاتھ رکھے بلاؤز کی ڈوریاں باندھنے کیلئے کب سے جدوجہد کر رہی تھی جب اچانک سے شیشے پر اسکی نظریں سامنے کھڑے عرشمان کی نظروں سے جا ملی۔۔
وہ سٹپٹا کر کہتی تیزی سے اپنی پشت اسکی جانب سے ہٹاتی ڈریسنگ ٹیبل سے ہٹی اور جا کر دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو کر وہ اپنی لرزتی پلکوں کو نیچے جھکا کر فرش کو گھورنے لگی۔۔
“ہاں میں خانی یہ تُم کیا کر رہی ہوں۔۔؟؟
وہ قدم آگے بڑھا کر اسکے حسین سراپے کو پرشوق نظروں سے دیکھنے لگا جو سرخ رنگ میں بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی اور رہی سہی کثر اسکی بلاؤز کی ڈوریوں نے کھل کر اسکی نازک کندھوں سے بلاؤز کو سرکا کر پورا کر دیا تھا۔
وہ یہ نظارہ دیکھ آنکھوں میں خماری لیے آگے بڑھا اور اسے کندھوں سے پکڑتا اُسکے کندھوں سے بلاؤز کو درست کرتے ہوئے جھٹکے سے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا کر ہاتھ پیچھے لے جا کر اسکی ڈریوں کو باندھنے لگا۔۔
“خان یہ آپ کیا کر رہے ہیں چھوڑے میں خود کرتی ہوں۔۔؟؟
زرلش اسکی انگلیاں اپنی پشت پر محسوس کرتی سخت کانپتی ہوئی آواز میں کہنے لگی تو عرشمان اسکی بات کو اگنور کرتا اسے کمر سے پکڑے اسی طرح لیے بیڈ کی جانب بڑھا جہاں اسکا دوپٹہ رکھا ہوا تھا وہ اٹھا کر اُسے اوڑھا کہ پیچھے ہٹا اور بغور اسے دیکھنے لگا جو شرم کے مارے سرخ ہو رہی تھی۔۔
“اب پرفیکٹ ہے بیوی اور یہ میں نہیں کرو گا تو پھر کون کرے گا۔۔؟؟
اس سے فاصلے پر ہو کر اسے اپنی پرشوق نگاہوں سے دیکھتا گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
“خان یہ اسطرح کے کام میں خود کرنا اچھے سے جانتی ہو اور اب آپ باہر نکلے ورنہ میں آپ کے ساتھ لاہور نہیں جاؤ گی۔۔!!
وہ اسکی پرشوق نگاہوں سے سخت کنفیوز ہو کر جلدی سے بولتی اپنا رخ اسکے سامنے سے ہٹا کر شیشے کی جانب کرتی شیشے میں اپنی سندر روپ کو دیکھنے لگی تو عرشمان خان اسکی بات پر اچانک سے آگے بڑھا اور اسکی پشت پر لٹکتی ہوئی اسکی ڈوریوں کی خوبصورتی سے بنے کانچ کے ڈیزائن کو کھینچ کر اسے سٹپٹانے پر مجبور کرتا پیچھے ہٹا۔۔
“خان۔۔؟؟
زرلش تیزی سے اپنا رخ اسکی طرف کرتی چیختی ہوئی اسے دیکھنے لگی جو معنی خیزی سے مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“ہاں خان کی جان۔۔!!
وہ قدم آگے بڑھا کر اسے اپنی پرشوق نگاہوں کی قید میں لے کر ذومعنی لہجے میں کہتا اپنے اور اسکے بیچ کے فاصلے کو مٹاتا اسے چوڑے سینے سے لگا کر ہاتھ پیچھے لے جا کر اسے سختی سے اپنے ساتھ لگا کر ہونٹوں سے ہونٹوں کو ملا کر شدت سے چھونے لگا۔۔
“عرشمان خان۔۔؟؟
زرلش اسے خود سے دور کرتی پھر سے اسکا نام ہانپتے ہوئے لینے لگی تو عرشمان نے اسے اپنے ساتھ لگا کر اسکی پشت کو سہلایا۔۔
“اب ہمیں ہال کے لیے نکلنا چاہیے وہاں سب ہمارا انتظار کر رہے ہوگے۔۔!!
وہ اسکی گردن پر دونوں ہاتھ رکھے اسے اپنی اوپر جھکتے ہوئے دیکھتی تیزی سے بولی تو عرشمان کو اب جا کر اپنی اور اسکی ریشپشن کا خیال آیا تو وہ اسے دور کرتا پیچھے ہٹا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“یہ آپ مجھے اسطرح بیوئی پارلر پر کیوں لیں کر آئے ہیں۔۔؟
سرخ عروسی جوڑے میں دلہن بنی اسکے ساتھ کار سے باہر نکلی تو سامنے بیوٹی پارلر پر نظر پڑتے ہی کسوا نے زوارق خان سے پوچھا۔۔
“ششش خاموش کسوا خان۔۔!!
زوارق خان نے کار سے ایک ٹیپ نکال کر اسکی ہونٹوں پر لگاتے ہوئے اسے دیکھا جو اسکی حرکت پر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی جو محظوظ انداز میں اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“تُم بہت زیادہ بولتی ہو کسوا اب سے اپنی زبان کو ان فضول باتوں میں استعمال کرنا بند کر دو اور اندر چلو اسی طرح خاوموشی سے جو میں تمہیں کہتا ہو وہی کروں ورنہ اس شہر میں جو روز قتل کی خبریں ہر نیوز چینل پر چلتی ہے ناں تمہاری موت کی خبر بھی ان ساری نیوز چینل پر چلتی ہوئی سب کو نظر آئے گیں۔!!
وہ اسکی گردن پر سختی سے ہاتھ رکھ دباؤ بڑھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“آپ یہ بات دور ہو کر بھی کر سکتے تھے۔۔!!
وہ اسے دور کرتی منہ بسور کر بولی تو زوارق خان اسے دور کرتا اندر جانے کے لیے کہنے لگا تو وہ سر جھکا کر ناسمجھی سے پارلر کے اندر داخل ہوئی۔۔
“آپ کا نام کسوا خان ہے۔۔؟؟
وہ اندر داخل ہوئی تو ایک لڑکی نے آگے بڑھتے ہوئے اس سے پوچھا تو وہ تعجب سے اسے دیکھتی اپنا سر ہاں میں ہلانے لگی۔۔
“ہوں مگر آپ تو بہت چھوٹی سی غضب کی خوبصورت ہے آپکے ہونے والے ہبی بہت زیادہ لکی ہے جو اسے تم جیسی حسین بیوی ملنے والی ہے۔۔!!
لڑکی کی بات پر وہ تیزی سے کرسی سے اٹھی جس پر ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ بیٹھی تھی۔۔
“نہیں آپ غلط سمجھ رہی ہیں میں انکی ہونے والی وائف نہیں ہو دراصل انکی ہونے والی وائف ابھی آتی ہوگی میں تو یہاں صرف انکی ہلیپ کے لیے آئی ہوں۔۔!!
وہ جلدی سے کہتی اس لڑکی کو دیکھنے لگی جو حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے سامنے کاؤنٹر کی جانب بڑھی اور فائل میں کچھ دیکھنے لگی پھر اپنا سر اٹھا کر اسے بغور دیکھنے لگی۔
“نہیں میم میں غلط نہیں سمجھ رہی ہو آپ ہی زوارق خان کی دلہن ہے یہ دیکھے آپکا نام یہاں فائل میں لکھا ہے۔۔!!
لڑکی فائل لے کر اسکے پاس کھڑی ہوئی اور اسے کہنے لگی جو فائل کو پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
“نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔۔!!
وہ نفی میں سر ہلاتی پیچھے ہٹنے لگی تو پارلر والی لڑکی نے اسکی حالت کو دیکھتے ہوئے باہر سے زوارق خان کو بلایا جو اندر داخل ہوا اور اسے دیکھنے لگا اس وقت وہاں انکے علاوه اور کوئی بھی نہیں تھا۔۔
“سر کیا آپ نے انہیں شادی کے بارے میں نہیں بتایا ہے جو وہ ایسا ری ایکشن کر رہی ہے آپ ایک کام کرے انہیں وہاں اس روم میں لے جا کر سمجھائے ورنہ آپ دونوں بہت لیٹ ہوگے۔۔!!
لڑکی کی بات پر زوارق خان نے سنجیدگی سے اسے کلائی سے پکڑا اور اس روم کی جانب بڑھا۔۔
“یہ سب کیا ہے خان۔۔؟؟
روم میں پہنچ کر وہ سامنے لگے شیشے میں خود کو سرخ جوڑے میں دیکھتی چیخ کر کہنے لگی تو زوارق خان نے آگے بڑھ کر اسے سختی سے کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔۔
“کسوا خان نکاح کا جوڑا اور تُم میری دلہن۔۔!!
زوارق خان نے سپاٹ چہرہ لیے اسے دیکھتے ہوئے کہا جو اسکی بات پر بے یقینی سے اسے دیکھتی خود کو اسکی گرفت سے سختی سے چھڑا کر پیچھے ہٹی۔۔
“نکاح اور دلہن۔۔!!
وہ ہلکی آواز میں بڑبڑا کر خود سے کہنے لگی لیکن اسکی بڑبڑاہٹ کو زوارق خان نے سنا تو وہ آگے بڑھا اور اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتا اسکی سرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“ہاں کسوا خان نکاح ہے آج تمہارا میرے ساتھ اور میری دلہن کوئی اور نہیں بلکہ صرف تم ہوں۔۔!!
وہ اسکی کمر پر ہاتھ رکھے اُسکے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“لیکن وہ سب کیا تھا آپ نے کیوں جھوٹ بول کر مجھ سے اپنی ہونے والی دلہن کے لیے میری پسند کا ڈریس خریدا اور پھر مجھے وہی ڈریس یہ کہہ کر پہنایا کہ آپ نے اپنی دلہن کے لیے الگ سے لیا ہے اور یہاں پارلر میں یہ جھوٹ بول کر کیوں لائے ہے آپ مجھے کہ آپکی دلہن یہاں ہمارا انتظار کر رہی ہوگی اور یہاں آکر یہ سب سن کر میں اسکا کیا مطلب سمجھو۔۔؟؟
وہ سرخ نگاہوں سے زوارق خان کے وجیہہ چہرے کو گھورتی چیخ کر کہنے لگی۔۔
“کسوا خان ہاں وہ سب جھوٹ تھا کیونکہ میں 20 سال کی عمر سے صرف تمہیں ہی سوچتا آ رہا ہوں اور اس دل میں بھی صرف تم ہوں اور ہمشیہ سے میں نے تمہیں اپنی دلہن سمجھا ہے اور میں بھلا تمہیں کسی اور کیسے بننے دیتا تمہیں بہت زیادہ چاہتا ہوں ہاں اپنی محبت کا میں تم سے کبھی بیان نا کر سکا لیکن اب روز کروں گا مگر اس سے پہلے ہمیں ایک جائز رشتے میں یعنی تمہیں میرے نکاح میں ہونا پڑے گا۔۔!!
وہ اسے خود سے الگ کرتا پیچھے ہٹا اور اس لڑکی کو اندر آنے کا کہہ کر خود باہر نکلا جبکہ کسوا اسکی باتوں کو روتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
کچھ دیر بعد وہ مکمل زوارق خان کے لیے تیار نظریں نیچے جھکائے سپاٹ چہرہ لیے خاموش بیٹھی ہوئی تھیں وہ لڑکی اسے اٹھا کر سہارا دیتی اسے لیے باہر نکلی جہاں زوارق خان اسی کا انتظار کر رہا تھا اسے ہال میں اپنے ساتھ لیں کر جانے کے لیے وہ اپنی کار سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا اسے دیکھ کر مہبوت رہ کر اسے دیکھنے لگا جو اسی کی جانب بڑھ لڑکی کے ساتھ رہی تھی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“کسوا افان خان ولد افان جانگہر خان آپ کا نکاح زوارق خان ولد آفاق جانگہر خان کے ساتھ 20 لاکھ سکہ راٸج وقت طے پایا ہے۔کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟
کسوا جو بڑا سا گھونگھٹ نکالے خاموش بیٹھی اپنے سرخ حنائی ہاتھوں کو آپس میں جوڑے اچانک سے اپنی قسمت کے اس وار پے بری طرح سے آنسو بہا ری تھی۔
نکاح خواں کے پوچھنے پر اپنا سر اوپر اٹھا کر سرخ آنکھوں سے گھونگھٹ کے پیچھے سے وہ سامنے صوفے پر بیٹھے اس ظالم خان کو دیکھنے لگی۔۔
جو سفید کاٹن کے شلوار قمیض میں ملبوس اپنے مضبوط کندھوں پہ کریم کلر کی شال اوڑھے سنجیدگی سے سامنے صوفے پر بیٹھا اُسی کے جواب کا منتظر تھا۔۔
کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟؟
اسے خاموش دیکھ نکاح خواں نے دوباره اپنا سوال پوچھا۔۔
“کسوا بچے جواب دو۔۔!!
وہ اپنی سرخ نگاہوں سے زوارق خان کو دیکھ رہی تھی اپنے بابا کی آواز پہ اپنا سر جھکا کر روتے ہوئے سر ہاں میں ہلانے لگی۔۔
“کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
جب تیسری بار نکاح خواں نے یہ سوال پوچھا تو وہ زوارق خان کو دیکھتی ہوئی سر ہاں میں ہلاتی ہوئی آنسوؤں بہانے لگی اور اس کے دلہن والی جھوٹی بات پر اسے اپنے دل میں برا بھلا بولنے لگی۔۔
“خان جی میں آپکو کبھی معاف نہیں کرو گی آپ نے مجھ سے شاپنگ کرنے کے بعد جھوٹ بولا تھا کہ آپکی دلہن ہال میں آپکا انتظار کر رہی ہوگی اور یہاں آکر آپ نے سچ بتا کر مجھے جو جھٹکا دیا ہے اب وہی جھٹکا میں آپکو دو گی۔۔!!
نظریں اس پہ مرکوز کیے وہ غصے سے کہنے لگی تو نکاح کی رسم کے بعد سب ایک دوسرے سے مل رہے تھے سارا ماحول اس وقت مبارک باد کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔
زوارق خان سب سے ملنے کے بعد اسکی جانب بڑھا اور اسے دیکھتے ہوئے اسکے ساتھ صوفے پہ جڑ کر بیٹھا تو وہ اسکی اتنی نزدیکی پر آگے کھسکتے ہوئے اس سے دور ہونے لگی۔۔
“کسوا جانم اب تو تمہیں میری اِن قربتوں اور بے تحاشہ نزدیکیوں کو اپنی ساری زندگی برداشت کرنا ہوگا کیونکہ میں اب تمہیں خود سے دور ہونے کا کوئی موقع جو نہیں دینے والا ہوں۔!!
وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنے ساتھ لگائے گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا سب کی جانب دیکھنے لگا جو انکی جانب متوجہ نہیں تھے۔۔
“پلیز خان جی سب یہی پر موجود ہے آپ مم۔مجھے چھوڑے پلیز۔۔!!
کسوا اپنی نظریں نیچے جھکا کر روتی ہوئی اس سے کہنے لگی تو زوارق خان اسے بجائے چھوڑنے کے اور ساتھ لگاتا شریر نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو بری طرح سے روتی ہوئی لرز رہی تھی۔۔
“ششش خاموش ورنہ میں سب کے سامنے وہ کرو گا جو آج تک کسی دلہے نے اپنی شادی میں نہیں کیا ہوگا سوچ لوں اگر ابھی بھی تمہاری آنکھیں خشک نہیں ہوئی ناں تو میں تمہارے ان لبوں پر اپنی محبت کی پہلی مہر سب کے سامنے ثبت کر دو گا۔۔!!
اچانک سے وہ اسکا گھونگھٹ اٹھا کر اسے بے خودی سے دیکھتا اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکی نازک لبوں کو چھوتا گھمبیر لہجے میں کہتے اسے شرم سے سرخ کرتا آخر میں مسکرانے لگا۔۔
“خان جی پلیز۔۔!!
وہ اسکی بے باک باتوں سے نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اسے بے بسی سے دیکھتی ہلکی آواز میں کہنے لگی تو زوارق خان اسکی نم پلکوں کو دیکھتا پیچھے ہٹا اور سنجیدگی سے وہاں سے اٹھ کر آغا جان کی جانب بڑھا اور وہ اسے وہاں سے ہٹتے دیکھ گہری گہری سانسیں لینے لگی۔۔
🖤🖤🖤🖤
سب مہمانوں نے خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا اور پھر رات کے بارہ بجے ہوتے ہی سبھی لوگوں نے ایک محفل جمایا اور سبھی نوجوان پارٹی اس محفل میں بہت ہنگامہ کرنے لگے تھے۔۔
“ماما اس شور کی وجہ سے میرے سر میں بہت زیادہ تکلیف ہونے لگا ہے آپ پلیز مجھے میرے روم تک چھوڑ آئے ناں۔۔!!
کسوا جو زوارق خان کی مسلسل نظروں سے سخت خائف ہو رہی تھی وہ دل میں گھبراہٹ محسوس کرتی سامنے بیٹھی اپنی ماں کو اپنے روم میں چھوڑنے کے لئے ضد کرنے لگی۔۔
“تائی جان کیا ہوا کسوا کیوں رو رہی ہے۔۔؟؟
زوارق خان نے سنجیدگی سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ اسکی مداخلت پر سختی سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگی۔۔
“بیٹا اپنے روم میں جانے کی ضد کر رہی ہے۔۔!!
انہوں نے کہا تو زوارق خان نے اسے سنجیدگی سے دیکھا۔۔
“کسوا تائی کو کیوں تنگ کر رہی ہو میں ہونا تمہیں اپنے روم میں چھوڑ کر آتا ہوں۔!!
وہ تائی کی پرواہ کیے بغیر اسے کمر سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے اپنے روم پر زور دے کر کہنے لگا تو کسوا اسکی روم کا سن کر سٹپٹا کر اسے دیکھنے لگی جو اسکی کمر پر ہاتھ رکھے اسے اپنے ساتھ لگائے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“خان جی ماما۔۔!!
وہ اسکی نظروں سے نروس ہو کر اسے اپنی ماں کی طرف متوجہ کرتی کہنے لگی۔
“وہ تو کب کی یہاں سے چلی جا چکی ہیں ہمیں اکیلا چھوڑ کر اب چلو بیوی تمہیں ہمارے روم میں چھوڑتا ہوں۔۔!!
وہ اسکی کمر پر گرفت سخت کرتا اسے لیے قدم ہال سے باہر کی جانب بڑھانے لگا اور یہ دیکھ وہاں موجود سبھی ینگ پارٹیوں نے ہوٹنگ شروع کر دیا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
