Rate this Novel
Episode 5
“ماضی”
“مشاطہ بچی کیا آپ کو کچھ چاہیئے تھا جو آپ اس وقت یہاں اکیلی گھوم رہی ہیں۔۔
سب کو پتہ بھی ہے کہ رات کے اس پہر یہاں گھومنا کتنا خطرناک ہے آپ پھر بھی یہاں اکیلی آگئی کل رات یہاں کسی لڑکی کا ریپ ہوا تھا مشاطہ بیٹا خیال رکھنا اور اب یہاں کبھی بھی اکیلی مت آنا۔۔؟؟
مشاطہ اپنی آنکھیں سختی سے میچے اسکے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی تبھی چوکیدار کی آواز پر اسنے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا جہاں چوکیدار فضل خان کھڑا اس سے کہہ رہا تھا اور کل رات کا افسوسناک واقع بتاتے ہوئے اسے ائیندہ خیال رکھنے کا کہنے لگا ۔۔
“ہاں بولو کہ تمہیں اپنے مرحم پٹی کے لیے کچھ چیزیں چاہیے تھی ورنہ میں اسے جان سے مار ڈالوں گا۔۔!!
اخسم دادا نے اسکی کمر پر ریوالور کا دباؤ بڑھا کر ہلکی آواز میں کہا وہ اندھیرے کی وجہ سے فضل خان کو نظر نہیں آ رہا تھا۔۔
“ہہ۔ہاں خان بابا مم۔مجھے وہ ایک بینڈچ اور ماچس پانی کا بوتل چاہئے تھا۔۔!!
مشاطہ نے گھبراتے ہوئے کہا اسے اپنی کمر پر رکھے ریوالور کی وجہ سے خوف محسوس ہو رہا تھا اگر اس شخص کے پاس یہ ریوالور نہ ہوتا نہ تو وہ اسے اچھے سے سبق سیکھاتی۔۔
“کیا ہوا ہے خیریت تو ہے ناں بچہ آپکو کیوں ان چیزوں کی ضرورت ہے آپ ٹھیک تو ہے ناں۔۔؟؟
فضل خان نے پریشانی سے پوچھا تو اخسم دادا اس شخص کو آگے بڑھتا ہوا دیکھ کر ریوالور کو پیچھے سے اسکی گردن پر رکھتا سرد لہجے میں اسے حکم دینے لگا۔۔
“اسے کہوں کہ تمہیں چوٹ لگی ہے تو تم اپنا زخم ان سے صاف کر کے بینڈچ کروں گی اگر یہ شخص ایک بھی قدم آگے بڑھا نا تو جان سے چلا جائے گا سمجھ رہی ہوں نا تم میری بات کو مس مشاطہ۔۔!!
“خان بابا کچھ بھی نہیں بس چھوٹی سی چوٹ لگی ہے بینڈچ کروں گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔۔!!
اخسم دادا کی پُرسرار انداز میں چھپی دھمکی کو سمجھتی وہ تیزی سے چوکیدار کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“بیٹا چوٹ آپ کو چوٹ کیسے لگی یہاں آئیے میں کرتا ہو بینڈچ ورنہ آپکو انفیکشن ہو جائے گا۔۔!!
فضل خان نے کہا۔۔
“نن۔نہیں خان بابا آپ رہنے دیں میں خود کرلونگی۔۔!!
وہ گھبرا کر جلدی سے بولی تو فضل خان نے سر ہلاتے ہوئے کچن کا رخ کیا تو وہ گہری سانس خارج کرتی پیچھے مڑی تو اسے اپنے قریب دیکھ کر وہ سخت غصے سے اسے گھورنے لگی جو اسی ہی دیکھ رہا تھا۔
“یہ لوں مشاطہ بچی دھیان سے بینڈچ کرنا ورنہ مسلہ ہو جائے گا یہ یہ سیب لیں کر جاؤ کمرے میں کاٹ کر کھا لینا۔!!
فضل خان نے سب چیزیں اسے ایک شاپر میں ڈال کر آخر میں اسکی جانب ایک پلیٹ میں سیب اور ایک چھڑی کو رکھتے ہوئے کہا
مشاطہ کو چھڑی اور سیب کو دیکھتے ہوئے پیچھے کھڑے ظالم وحشی انسان کی کچھ دیر بتائیں گئے پلان کے بارے میں یکدم سے یاد آیا۔۔
“بہت شکریہ آپکا خان بابا ورنہ میں کب سے یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ اگر میں نے ابھی اپنی چوٹ کو بینڈچ نہیں کیا نا تو صبح انفیکشن ہو جائے گا۔۔!!
وہ فضل خان کا شکریہ ادا کرتی بولی تو وہ سر ہلاتے ہوئے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دھیر ساری دعائیں دیتے ہوئے وہاں سے چلے گئے اور اخسم دادا اسکے جاتے ہی سامنے آیا اور اسکے ہاتھوں میں پلیٹ کے اندر رکھے سیب کو دیکھ کر خوبخود اسکے عنابی لبوں پر ایک جان لیوا مسکراہٹ آ کر اتنی ہی جلدی غائب ہوگیا تھا۔۔
“مس مشاطہ اب ایک اور کام رہتا ہے اسکے ختم ہوتے ہی تم بچ جاؤ گی اخسم دادا کے قہر سے لیکن اگر ہوشیاری کی تو جان سے چلی جاؤ گی۔۔!!
وہ ریوالور کو اسکے چہرے پر پھیرتے ہوئے پُرسرار انداز میں کہنے لگا۔۔
“اب کیا کرنا ہے بے ضمیر انسان۔۔؟؟
وہ سخت غصے سے اسے گھورتی پوچھنے لگی تو اخسم دادا اسے بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ لیے اسکے روم کی جانب بڑھنے لگا۔۔
“زلیل کمینے بدمعاش چھوڑو مجھے۔؟؟
وہ شور مچاتی اسکے ساتھ کھینچتی ہوئی جا رہی تھی کہ یکدم سے اسکی چیخوں سے تنگ آ کر اخسم دادا نے رک کر اسے گھورتے ہوئے دیکھا اور اسکے روم میں جانے کے بجائے اسے ایک خالی روم میں لا کر سامنے بیڈ پر پھیکنا اور خود پیچھے مڑ کر دروازه بند کرنے لگ۔۔
مشاطہ بیڈ پر منہ کے بل گری تھی یکدم سے اپنی گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی جو سپاٹ چہرہ لیے اسی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔
“یہ کیا حرکت ہے زلیل انسان۔۔؟؟
وہ دونوں ہاتھ بیڈ پر دائیں بائیں رکھ کر اٹھتی ہوئی چیخ کر کہنے لگی تو اخسم دادا نے اسے سختی سے پیچھے سے اسکے بالوں سے پکڑ کر غصے سے اسکا غصے کی شدت سے سرخ چہرہ اٹھا کر اپنے چہرے کے قریب تر کیا۔۔
“مجھے لڑکیوں کی چیخنے سے سخت نفرت ہے مشاطہ ملک اب اگر تمہارے حلق سے ایک آواز بھی نکلی نا تو میں تمہیں ہمشیہ ہمشیہ کے لیے سلا دونگا۔۔!!
بالوں کو جڑ سے پکڑے وہ سخت غصے سے اسے دیکھتے ہوئے خوفناک آواز اسکے کانوں میں منتقل کرتا اسے خوفزدہ کرنے کی کوشش کرنے لگا جس میں وہ کامیاب نا ہوسکا کیونکہ وہ مشاطہ ملک تھی کوئی ڈبو سی لڑکی نہیں تھی جو اس سے ڈرتی۔۔
“غنڈے موالی چیخوں گی میں ہاں کیا کر لوں گے تم مجھے جان سے مارو گے تو ماروں مگر یاد رکھنا میں بھی تمہاری ان گیڈر بھکیوں سے نہیں ڈرنے والی سمجھے۔!!
وہ اپنی سرخ نگاہوں سے پیچھے مڑ کر اسے دیکھنے لگی جو اسکے پیچھے بے حد نزدیک کھڑا تھا اور اسکی گرم سانسیں وہ اپنی گردن پر محسوس کرتی سخت طیش میں آکر اپنی مٹھیوں کو بھینچ رہی تھی۔۔
“بہت ہوگیا اب تمہیں اخسم دادا اچھی طرح سے بتائے گا کہ وہ تمہارے ساتھ کیا کر سکتا ہے۔۔!!
سرد لہجے سے کہتا وہ ایک ہاتھ سے اسکی گردن کو دبوچ کر اور دوسرے سے اسکی زخمی کلائی کو سختی سے جھکڑ کہ اُسکے زخم پر اپنی چوڑی ہتھیلی سے دباؤ بڑھانے لگا۔۔
“اہہہہہ۔!!
مشاطہ اپنی کلائی اور گردن پر تکلیف محسوس کرتی بے حال ہوتی نظریں پھاڑے اس وحشی کو دیکھنے لگی جو اسکی گردن پر ہاتھ سختی سے رکھے دباؤ بڑھا رہا تھا۔۔
“میں تمہیں صرف اس لیے چھوڑ رہا ہو کیونکہ تم نے میری مدد کی ہے اسی وجہ سے میں تمہیں معاف کر رہا ہو۔۔
ورنہ اخسم دادا نے کبھی بھی اپنے دشمنوں کی گردن کو اُس وقت تک نہیں چھوڑا ہے جب تک اسکی سانسوں نے اسے دھوکا نا دیا ہوں۔۔!!
وہ اسے چھوڑتے ہوئے سنجیدگی سے اُسے پیچھے بیڈ پر بری طرح سے پھینکتا خود اسکے بے حد قریب جھکتے ہوئے کہنے لگا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“ٹھاہ۔۔!!!!
مری کی خوبصورت ترین وادیوں میں کھوئی وہ کنوس میں رنگوں سے اِس خوبصورت منظر کو قید کر رہی تھی اچانک سے فضا میں ایک زور دار دھماکہ ہوا اور درختوں پر بیٹھے سبھی پرندے اس دھماکے کی آواز پر ڈر کے مارے اڑنے لگے تھے۔۔
وہ برش پھینک کر پیچھے مڑی تو سامنے کا منظر دیکھا تو اسے سخت غصہ آگیا کیونکہ سامنے اخسم دادا کو کسی شخص پر گولی چلاتے ہوئے اسنے دیکھا تھا
اس شخص کو مارنے کے بعد وہ گھٹیا ظالم شخص پرسکون انداز میں اس زخمی شخص کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اس سے پتہ نہیں کیا کہہ رہا تھا۔۔
“تُمہیں شرم نہیں آتی ایک انسان کو مارتے ہوئے اسے تکلیف پہنچا کر کیا ملا دیکھوں بے چارہ کیسے تڑپ رہا ہے اور تم پرسکون انداز میں اسکے پاس بیٹھے اسے اور خوفزدہ کر رہے ہو۔۔!!
وہ غصے سے اسکے سر پر پہنچتی چیخ کر غصے سے بولی تو اخسم دادا نے اپنی سرخ آنکھیں اس شخص سے ہٹا کر اس کومل سی نازک لڑکی پر مرکوز کرتے ہوئے اسے بغور دیکھنے لگا۔۔
جو اس وقت بلیک کلر کی خوبصورت فراک اور ساتھ میں وائٹ کلر کی جینز پہنے قیامت کیز حُسن لیے اسکے پھتر دل کو پگھلانے کے در پر لگ رہی تھی۔۔
“یہی سوال اگر میں تم سے کرو تو۔۔؟؟
پستول مشاطہ کی پیشانی پر رکھتے ہوئے وہ خوفناک لہجے میں کہنے لگا تو مشاطہ نے ہاتھ اوپر اٹھا کر پستول کو اپنی پیشانی سے سختی سے ہٹایا۔۔
اور اپنی سخت غصیلی نظروں سے اسے دیکھتی وہ تیزی سے نیچے اُس تڑپتے ہوئے شخص کے سامنے بیٹھ کر اسکے زخموں پر ابھی ہاتھ رکھنے والی تھی۔۔
اخسم دادا نے ٹھیک اسکے دائیں جانب جہاں بائیں جانب مشاطہ کا ہاتھ اوپر فضا میں آ کر ٹھہرا ہوا تھا اسنے غصے سے گولی چلا کر اس شخص کی باقی سانسیں بھی چھین لیے تھے۔۔
“یہ کک۔کیا کر دیا تم نے ظالم انسان۔۔؟؟
مشاطہ گولی چلنے کی وجہ سے خوف سے پیچھے کی طرف کھسکی اور جب اسے ہوش آیا تو غصے میں آ کر وہ نیچے سے اٹھی اور اخسم دادا کو گریبان سے پکڑ کر بری طرح سے اسے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔
“مشاطہ بی بی تمہیں پتہ ہے اس شخص نے کیا گناہ کیا ہے نہیں پتہ ہوگا تُمہیں بھی باقی لوگوں کی طرح جو صرف قدر کی حسین وادیوں میں کھو گئے ہیں۔۔
یہ نہیں جانتے کہ اس حسین وادیوں میں بہت سے انسان نما درندے بھی چھپے ہوئے ہیں اور ان میں اخسم دادا سب سے بڑا شیطان ہے لیکن یہ شخص ایک حیوان ہے ایک معصوم لڑکی کو زیادتی کرنے والا حیوان۔۔!!
نفرت سے اُس شخص کے بے جان وجود کو اپنی ٹانگوں سے بری طرح سے مارتے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ اسکی بات پر ساکت رہ گئی۔۔
“کیا تُم سچ کہہ رہے ہو۔۔؟؟
وہ اُس شخص کو دیکھتی اخسم دادا سے پوچھنے لگی ۔
“نہیں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔!!
اخسم دادا اسکی بات پر سخت چڑتا ہوا کہنے لگا تو مشاطہ اسکے چڑنے پر جلدی سے ہوش میں آتی اُسے دیکھنے لگی جو اب سامنے پستول کو اپنے دائیں جانب رکھے ایک بہت بڑے سے پتھر پر بیٹھا ہوا تھا۔
“مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم اتنی نیک بھی ہو سکتے ہو۔۔!!
وہ بھی اس پتھر پر اسکے ساتھ بیٹھتی ہوئی مسکرا کر کہنے لگی۔۔
“نہیں میں ابھی بھی وہی حیوان درندہ شیطان انسان ہو بس کبھی کبھی یہ قسمت مجھے ایک نیک انسان بنانے کا سرٹیفیکیٹ تھما کر کہتا ہے یہ لوں اخسم دادا اب جاؤ اور اچھے کام کر کے اپنے گناہوں میں تھوڑی سی کمی کرو۔۔!!
وہ پستول کو اٹھا کر سامنے جنگل کی طرف بھاگتے ہرن کو نشانہ لیتے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتی سخت غصہ سے آگے پستول کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔
“سامنے سے ہٹ جاؤ ورنہ میں تم پر گولی چلا دو گا۔۔!!
وہ سرد لہجے میں کہتا اسے سامنے سے ہٹنے کا حکم دینے لگا لیکن مشاطہ اسی طرح اسکے سامنے کھڑی غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“نہیں ہٹو گی چلانا ہے تو چلاؤ گولی تم کیا سمجھتے ہو اِس طرح تم مجھے ایک جھوٹی کہانی سنا کر بے وقوف بنا لوں گے تو مسٹر اخسم دادا یہ تمہاری بھول ہے۔۔!!
مشاطہ نے سخت غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو اسکی بات پر اخسم دادا اپنے دانت کچکچا کر اٹھا اور تیزی سے اسکی جانب بڑھ کر اسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا پستول کو اسکی کنپٹی پر رکھ کر ٹریگر دبانے لگا اور مشاطہ اس حملے سے سنبھلتی ہوئی اسے پستول پر گرفت مضبوط کیے ٹریگر دباتے ہوئے دیکھنے لگی یکدم سے اخسم دادا نے پستول کا رخ آسمان کی طرف کر دیا اور ساتھ میں گولی چلا کر اسے بغور دیکھنے لگا جو اپنی آنکھوں کو سختی سے میچنے شاید کلمہ پڑھ رہی تھی۔۔
“اگلی بار یہ گولی آسمان پر نہیں تمہاری کھوپڑی پر اتار دونگا سمجھی تم مس مشاطہ ملک۔!!
سپاٹ لہجے میں کہتا اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا تو مشاطہ اسکی آواز پر جھٹکے سے اپنی آنکھوں کو کھولتی اپنے آپ کو صحیح سلامت دیکھ کر ساکت نظروں سے اخسم دادا کو دیکھنے لگی جو اب سنجیدگی سے اپنی جیپ کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“حال”
“سہیل دادا یہ تمہاری حالت کس نے کیا ہے بتاؤ مجھے کس کا کام ہے نہیں چھوڑو گا میں اسے جواب دو مجھے کون ہے وہ جسنے تمہیں قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔۔؟؟
اخسم شیرانی نے سہیل دادا کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا جسکے پیٹ سے بری طرح سے خون بہہ کر قیمتی قالین کو خراب کر رہا تھا۔۔
“کوشش نہیں کیا ہے اخسم دادا اصغر خان کے بھائی نے اسنے تم سے اپنے بھائی کا بدلا لینے کے لیے مجھے قتل کر دیا ہے اور اب مجھے نہیں لگتا کہ بچ پاؤ گا۔۔
مجھے اپنی سانسوں پر بھروسہ نہیں ہے لیکن مم۔میں مرنے سے پہلے اپنی بیٹی عیشال خان کو کسی مضبوط ہاتھوں میں دیکھنا چاہتا ہو پھر شاید مجھے مرنے کے بعد سکون ملے گا۔۔!!
وہ اپنے ہاتھوں کو بے بسی سے اُسکے سامنے جوڑتے ہوئے تکلیف کی وجہ سے لڑکھڑاتے ہوئے کہنے لگا تو اخسم شیرانی نے ضبط سے اپنی آنکھیں زور سے میچی وہ سہیل خان کو اپنے باپ کی جگہ مانتا تھا اور اسے اس حال میں دیکھ کر وہ رو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ پیدا ہی پتھر دل کا ہوا تھا وہ تو اپنی ماں کے لیے نہیں رویا تھا تو پھر کیسے سہیل خان کے لیے روتا۔
“سہیل دادا تم بچو گے اور میری چھوٹی بہن کی شادی کو بھی دیکھوں گے بلکہ ابھی میں اپنے شمش بدر کے ساتھ اسکا نکاح کرواتا ہو لیکن تم مرنے کی بات اب دوباره نہیں کروں گے میں جانتا ہو ہماری سانسوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہے نجانے کس گولی پر ہمارا نام لکھا ہوا ہو اور وہ گولی کب چل جائے ہمیں بلکل بھی اندازه نہیں ہے۔۔!!
وہ سہیل دادا کے ہاتھوں کو سختی سے پکڑتا سرد لہجے میں کہنے لگا تو روم میں داخل ہوتا شمش بدر اپنے سرکار کی بات پر وہی رک گیا۔۔
“شمش بدر تم نکاح کروں گے میری عیشال بیٹی سے۔۔؟؟
ایک باپ کی آنکھوں میں اپنی بیٹی کے لئے پریشانی دیکھتا شمش بدر آگے بڑھا اور اُس باپ کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑتا سر ہاں میں ہلانے لگا۔۔
“ہاں میں تیار ہو۔۔!!
وہ ہاتھ چھوڑتا پیچھے ہٹتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا تو اخسم شیرانی اسکی بات پر آگے بڑھا اور زور سے اسکے کندھوں پر ٹپکی مارتے ہوئے سہیل دادا سے کہنے لگا۔۔
“سہیل دادا کہا تھا نا میرا بائیاں بازو تمہیں مایوس نہیں کرے گا۔۔!!
شمش اپنے سرکار کی بات پر اسے مسکرا کر دیکھنے لگا جو سنجیدگی سے سہیل دادا کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
💕💕💕💕💕💕
“اخسم بھائی آپ سچ میں عیشو کو یہ بولنے پر چاکلیٹ دے گے۔۔؟؟
اخسم دادا کو پتہ تھا کہ عیشال خان دماغی حالت سے نارمل نہیں تھی لیکن وہ نکاح سے پہلے شمش سے یہ بات چھپانا چاہتا تھا وہ جانتا تھا کہ شمش اسکے حکم پر ایک ایب نارمل لڑکی سے بھی نکاح ضرور کرے گا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا سہیل دادا کے سامنے یہ سب کہہ کر اسے مایوس کرے۔
“یف لٹل پرنسس اگر آپ تین بار نظریں جھکا کر قبول ہے قبول ہے قبول ہے کرے گی تو میں آپکو اتنا بلکہ نہیں زیادہ چاکیلٹ دونگا۔۔!!
اخسم دادا نے اسے اچھے سے سمجھاتے ہوئے آخر میں شرارت سے اپنے ہاتھ بہت زیادہ پھیلاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“قبول ہے قبول ہے قبول ہے یہ لیجئے میں نے بول دیا اب لائے دے مجھے چاکیلٹ۔۔!!
اسکی بات کو سننے کے بعد عیشال نے اپنی انگلیوں سے حساب کرتے ہوئے تین بار قبول ہے کہا تو اسکی جلد بازی سے بچوں کی طرح قبول ہے کہنے پر اخسم دادا دو سال بعد آج زور سے قہقہہ لگا اٹھا تھا
اور قہقہہ لگاتے ہوئے اسکی ٹھوڑی پر ایک گول شیپ کا ڈمبل نظر آیا جسے دیکھتی عیشال خان بچوں کی طرح اپنی ایک انگلی کو آگے بڑھا کر اس ڈمپل کو چھونے کی کوشش کرنے لگی جس کو ناکام بنا کر اخسم دادا نے نفی میں سر ہلایا ۔
“اخسم بھائی صرف ایک بار۔۔!!
وہ بچوں کی طرح اس سے اسکی ٹھوڑی پر نظر آتے اس چھوٹے سے ڈمپل کو چھونے کے لیے ریکویسٹ کرنے لگی۔
“No, Aishal Bibi, this is wrong”
وہ نفی میں سر ہلا کر کہنے لگا۔۔
“لیکن اخسم بھائی میں تو صرف ہاتھ لگا کر اس سرکل کو دیکھنا چاہتی ہو۔۔!!
وہ اسکے ڈمپل کو معصومیت سے سرکل کہنے لگی جسے سن کر اخسم نے اسکے پھولے ہوئے گالوں کو زور سے کھینچا تو وہ غصے سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“بے بی یہ سرکل کسی کی امانت ہے اور اگر میں نے اسے آپ کو چھونے کے لیے کہا تو اس امانت میں خیانت ہو جائے گی سو یہ سرکل میں صرف اپنی بیوٹی کیلئے اپنے پاس امانت سمجھ کر سیو کر رہا ہو۔۔!!
وہ مشاطہ ملک کو سوچتا عیشال خان سے کہنے لگا۔۔
“اوکے اوکے میں آپکی بیوٹی کی امانت میں خیانت نہیں کرو گی پر ایک شرط پر۔۔!!
وہ شریر نظروں سے اسے دیکھتی آخر میں مسکرا کر شرط کے بارے میں کہنے لگی۔۔
“اس امانت کو سیو کرنے کے لیے میں ایک کیا سو شرطیں بھی مان سکتا ہو لٹل پرنسس۔۔!!
وہ اسکے گالوں کو پھر سے کھینچتے ہوئے کہنے لگا۔
“مجھے ابھی چاکلیٹ لا کر دیں تب میں اس سرکل کو دیکھوں گی بھی نہیں پرومس۔۔!!
وہ اپنی شہ رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“نو پہلے قبول ہے ان انکل سے کہنا ہوگا پھر میں چاکلیٹ دو گا۔۔!!
اخسم دادا نے سامنے مولوی صاحب کی جانب اشاره کرتے ہوئے سختی سے کہا جو روم میں دو چار لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہو رہا تھا۔۔
اور پھر عیشال خان کے سر پر ایک سرخ چنی اوڑھا کر ایک ملازمہ پیچھے ہٹی تو مولوی صاحب نکاح پڑھانے لگے اور پھر تھوڑی دیر بعد اخسم کے اسے اسی طرح قبول ہے کہنے پر کہا تھا تو وہ اسی طرح سنجیدگی سے قبول ہے قبول ہے قبول ہے کہنے لگی تھی۔
💕💕💕💕💕💕
“سہیل دادا میں چاہتا ہو شمش عیشال کو اچھے سے جانے اسی لیے میں نے ان دونوں کو اپنے مری والے فارم ہاؤس میں بھیجا ہے۔۔!!
سہیل دادا کو اسنے نکاح کے بعد ہاسپٹل بھیجا تھا اور خود عیشال کو بھلا کر اسے شمش کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس پر رہنے کے لئ بڑی مشکل سے راضی کیا تھا اور اب وہ سہیل دادا سے ملنے ہاسپٹل میں آیا تھا تو اسے اسکی بیٹی کے بارے میں کہہ کر آخر میں شمش کے معتلق اسے بتانے لگا۔
“اخسم دادا میں اچھے سے جانتا ہو اب میری بیٹی کو کوئی بھی ہمارا دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اب وہ دو مضبوط سائے کے تلے میں ہیں۔۔!!
سہیل دادا نے نقاہت کے باوجود بھی مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“تم اب فکر مت کرو عیشال میری بہن کی طرح ہے میں اسکا اپنی جان سے بھی بڑھ کر بھی خیال رکھوں گا میری پہلی کوشش اب اسکی جان کی حفاظت ہوگی اور تمہارے قاتل کو اسکے انجام تک پہنچانے کی اور وہ میں جلد کروں گا۔۔!!
اسے دیکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے کہنے لگا تو اسکی بات پر سہیل دادا نے اپنی آنکھیں بے فکری سے موند دیئے تھے اب وہ اپنی بیٹی کی طرف سے بے فکر ہو گیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اخسم دادا اور شمش اپنی جان کو ہتھیلی پر لے کر اسکی بیٹی کو ہر مشکلات سے بچائے گے۔۔
💕💕💕💕💕💕
“ہاہاہا عیشو نے انکل کو مار دیا۔۔!!
شمش نے سامنے کھڑی اٹھارہ سالہ خوبصورت چھوٹی لڑکی کو سرد نگاہوں سے گھورا جو ہنستے ہوئے تالی بجا بجا کر اسے مزید غصہ ڈلا رہی تھی اور اسکا انکل کہنا تو اسے جلتے ہوئے تندور میں دھکیل رہا تھا۔۔
“وہاٹ انکل۔۔!!
میں تمہارا شوہر ہو اور یہ تم پانچ چھ سال کی بچی کی طرح کیوں حرکتیں کر رہی ہوں مس عیشال خان۔۔؟
روم کے بیچ میں لگے جہازی سائز بیڈ کی جانب غصے سے بڑھتے ہوئے شمش نے اسے بے دردی سے کلائی سے پکڑتے ہوئے کہا۔۔
“چھوڑے مجھے آپ گندے انکل ہے آپ نے عیشو کو ہرٹ کیا اسے یہاں مارا۔۔!!
وہ بری طرح سے منہ بسورتے ہوئے زور سے روتی ہوئی اپنی کلائی کی جانب اشاره کرتی ہوئی بولی تو شمش نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔
جو بیڈ کے اوپر کھڑی بچوں کی طرح منہ بسور کر اُسے اپنی بڑی بڑی براؤن آنکھوں سے دیکھ کم اور گھور زیادہ رہی تھی۔۔
شمش کی نظریں جب اُسکی ستواں ناک پر آ کر ٹھہری جو رونے کی وجہ سے سرخ ہو کر اور بھی اسکے حُسنِ نوکیز کو قیامت کیز بنا رہی تھی اور وہ مدہوشی سے دیکھتا ٹرانس کی کیفیت میں اُس حُسن کی ملکہ کی جانب بڑھا اور وہ حسن کی شیزادی اسے اپنی طرف ناسمجھی سے بڑھتی ہوئی دیکھنے لگی۔۔
شمش اسکے بے حد نزدیک پہنچ کر اُسے اپنے بازؤوں میں بھرتا بیڈ سے اترا اور نرمی سے اُسکے نرم گلابی گالوں پر باری باری وہ شرارت سے اپنی سیاه اور بڑی ہوئی بیرڈ کو آہستگی سے پھیرنے لگا۔۔
عیشال جو اسکی بیرڈ کی سخت چھبن کی وجہ سے اپنی گلابی ہونٹوں کو گول کی شیپ میں کرتی اسے گھور رہی تھی وہ اُسے مزید گستاخیاں کرنے پر اکسانے لگی تھی۔۔
“عشو جان اگر تم مجھے انکل نہیں صنم کہہ کر بلاؤ گی تو میں تمہیں ڈھیر ساری چاکلیٹ لا کر دونگا۔!!
شمش نے اسکے گالوں کو نرمی سے اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے کہا تو چاکلیٹ کا سن کر عیشال خوشی سے تیزی سے اُسکی بڑی ہوئی بیرڈ پر اپنے نرم ہونٹ رکھتے ہوئے اسے مدہوش کرنے لگی۔
اُس سے پہلے وہ اپنا ہوش کھو بیٹھتا عیشال خوشی سے چیخ مارتی بیڈ کے اوپر چڑھ کر اچھلنے لگی اور اسے خوشی سے بیڈ پر چیخ مارتے ہوئے اچھلتے دیکھ کر وہ مسکرانے لگا۔۔
