Rate this Novel
Episode 4
“ماضی”
“کیوں آئی تھی وہاں۔۔؟؟
سپاٹ لہجے میں کہتا وہ انکے زخموں کو دیکھنے لگا جو زکی شیرانی کے دئیے ہوئے زخم تھے جو انکے پورے وجود پر حتکہ چہرے پر بھی تھے۔۔
“اپنے بیٹے سے ملنے اور اسے اُس دنیا سے بہت دور لے جانے کے لیے جو اسکے لیے نہیں ہے مگر وہ اسی سیاہ دنیا میں رہنا پسند کرنے لگا ہے۔۔!!
وہ نکاہٹ سے اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو وہ بے حس جسے زکی شیرانی نے بنایا تھا اسنے سخت نظریں انکے زخم سے چور وجود سے ہٹا کر سامنے دیوار کی جانب دیکھنے لگا۔۔
“جب میں پیدا ہوا تو میرے حلق میں شہد کی مٹھاس کے بجائے خون کا بد ذائقہ اتارا گیا تاکہ مجھے ہمشیہ یاد رہ سکے کہ میں صرف خون بہانے والا ایک حیوان ہو۔۔!!
“کیوں اس بے ضمیر دل کو جاگنے کے لیے اتنی محنت کر رہی ہے جانتی بھی ہے کہ یہ دل میرے پیدا ہوتے ہی پتھر کا ہو چکا ہے نا اب اس پر شگاف پڑے گا اور نا ہی یہ پگھلے گا۔۔!!
وہ سرد لہجے میں کہنے لگا تو انہوں نے طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اپنے خوبرو چہرے والے مگر ظالم بیٹے کو دیکھا۔۔
“اخسم بیٹا ایک دن ضرور آئے گا جب تم خود کو کسی کے لیے ضرور بدلنا چاؤ گے اور میں تم سے پوچھو گی کہ یہ پتھر دل کیسے پھگلا۔۔!!
انکی بات پر وہ ضبط سے ریوالور پر گرفت بڑھانے لگا۔۔
“اگر کبھی ایسا ہوا تو میں اس بدلنے والی کو جان سے مار ڈالوں گا کیونکہ مجھے کمزوری بلکل بھی پسند نہیں ہے چاہے وہ ماں ہو یا پھر پہلی محبت۔۔!!
وہ سپاٹ لہجے میں کہتا پیچھے کھڑی ملازمہ کو انکے زخموں پر مرحم لگانے کا حکم دیتا تیزی سے باہر نکلا اور وہ بستر پر پڑی اسے بے بسی سے خود سے دور ہوتا ہوا دیکھنے لگی۔۔
💕💕💕💕💕💕
“اِس وقت کون آ سکتا ہے سب تو شمائلہ کی برتھ ڈے پارٹی اٹینڈ کرنے گئے ہیں۔۔۔؟؟
وہ ابھی واشروم سے نہا کر باہر نکلی تھی کہ کسی کے بری طرح سے دروازہ پھیٹنے پر وہ ٹاول اپنے کندھے پر لٹکا کر بڑبڑانے لگی۔۔
اس وقت ہاسٹل میں اسکے ساتھ چوکیدار اور واڈرن میم موجود تھے تو وہ انہیں میں سے کسی ایک کا سوچ کر آہستگی سے دروازے کی جانب بڑھی۔۔
دروازہ کھول کر وہ سٹپٹا کر پیچھے ہٹی سامنے ایک شخص سخت گھائل دروازے کے اوپر والا حصہ ضبط سے تھامے اور اپنے مونچھوں تلے دبے عنابی ہونٹوں کو سختی سے بھینچے ہوئے اپنا دائیں بازوؤں جس سے خون بہہ کر نیچے فرش پر گر رہا تھا۔۔
“کک۔کون ہو تُم۔۔؟؟
مشاطہ کے لب خوف کے باعث بری طرح سے پھڑپھڑائے تو وہ شخص اپنی سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر سامنے کھڑی خوبصورت نازک سبز آنکھوں والی لڑکی کو دیکھنے لگا جو اسکی نظروں سے اوجھل ہونے کے لیے اب پر تولنے لگی تھی۔
“اگر کہوں تمہاری موت تو۔۔؟؟
وہ شخص عیجب انداز میں اپنی سرد لہجے میں کہتا اسے سخت خوفزدہ کر چکا تھا۔۔
“کیا مم۔مطلب۔۔!!
وہ اپنی نازک انگلیوں کو بری طرح سے مسلتی ہوئی کپکپا کر اس سے پوچھنے لگی اور اسکی باتوں کو نظر انداز کرتا وہ اپنی تکلیف کی فکر کیے بغیر آگے بڑھا اور اسکے کندھے پر لٹکے ٹاول کو بری طرح سے کھینچ کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے نیچے فرش پر گرے اپنے خون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے خون کو صاف کرنے کا حکم دینے لگا۔۔
“وہاٹ میں اور یہ کرو نو نیور۔۔!!
مشاطہ اسکے حکم دینے پر سخت چڑتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“لڑکی اگر تُم نے اخسم دادا کی یہاں موجودگی کے آثار کو نہیں مٹایا نا تو آج تمہیں مٹا دو گا۔۔!!
وہ غصے سے آگے بڑھا اور اپنا ریوالور پیچے سے نکال کر اسکی کنپٹی پر رکھ کر سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو اگر میں یہاں اپنے روم سے یہ خون صاف بھی کرو تو وہ جو تم پورے ہاسٹل میں گھوم کر یہاں تک آئے ہو انہیں کون صاف کرے گا۔۔؟؟
وہ سچ میں اب چڑ گئی تھی اپنی کنپٹی پر رکھے ریوالور کی پرواہ کئے بغیر وہ غصے سے بولی تو اخسم دادا اسکی ہوشیاری پر اسے اب بغور دیکھنے لگا اور اسے اپنی طرف بغور دیکھتے ہوئے وہ اسے غصے سے گھورنے لگی
اخسم شیرانی جیسا پھتر دل انسان آج پہلی بار کسی نازک پری کی خوبصورت اور سبز آنکھوں میں خود کو ڈبوتا ہوا محسوس کرنے لگا تھا۔۔
تبھی یکدم سے اسے اپنی ماں کی کچھ دن پہلے کی کہی بات یاد آئی تو اپنے خوبرو چہرے پر وہی پہلی جیسی سختی لا کر آگے بڑھا اور مشاطہ کا ایک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لے کر نیچے جھکا اور اپنے پیروں پر باندھی چاقو کو نکال کر اسکی کلائی پر پھیرنے لگا۔۔
مشاطہ اپنی کلائی پہ سخت تکلیف کی وجہ سے شدت سے چیختی اس سے پہلے اخسم دادا نے سختی سے اس کے نازک ہونٹوں پر اپنا گندمی مردانہ ہاتھ رکھ کر شدت سے اسکی چیخ کا گلا بری طرح سے گھونٹ دیا۔۔
“اب کل تم باہر جاؤ گی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ تم رات کے وقت اندھیرے میں سیب کاٹ رہی تھی تو تمہاری کلائی پر کٹ لگنے کی وجہ سے خون بہنے لگا اور تم باہر نکل کر فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈنے نکلی تھی تو اسی بیچ تمہارا خون پورے ہاسٹل میں گرا۔۔!!
اخسم شیرانی نے سفاکیت سے اسکی کلائی پر دباؤ بڑھا کر اپنا پلان اسے آرام سے سمجھایا تو مشاطہ اس انسان کی سفاکیت پر بے بسی سے آنسوؤں بہانے لگی۔۔
“تم ایک حیوان ہو چھوڑو مجھے درندے انسان ورنہ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی۔۔!!
مشاطہ اپنی کلائی پر رکھے اُسکے مردانہ ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کرتی شدت سے چیختی ہوئی کہنے لگی۔۔
“Yes i am a beast”
چاقو اسکی گردن پر رکھتا وہ سرد و سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو مشاطہ اسکی بات پر پہلی بار ڈر کے باعث بری طرح سے کپکپانے لگی اور اخسم شیرانی اسے لرزتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھا اور اس چھوٹے سے بیڈ پر بیٹھا جو اس نازک لڑکی کا تھا جس کی وجہ سے اس شیطان کا دل آج پہلی بار پگھل رہا تھا کسی نا سمجھ احساس کے تحت وہ مشاطہ کا خوبصورت گلابی چہرا اپنی نیلی آنکھوں کی گرفت میں لے کر اسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔
“یہ تم کیا کر رہے ہو اٹھو میرے بیڈ سے۔۔!!
مشاطہ اپنی فیورٹ بیڈ شیٹ کی حالت دیکھ کر سختی سے اپنی کلائی کو پکڑتی آگے بڑھی اور اسے اٹھنے کا حکم دینے لگی لیکن وہ اسے اپنے بے حد نزدیک دیکھتا اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنے اوپر گرا کر اسکی ریشمی بالوں میں اپنا چہرہ چھپائے لگا اور یہ کرتے ہوئے اسے پہلے کبھی اتنا سکون نہیں ملا تھا جو ان ریشمی زلفوں کے سائے میں مل رہا تھا۔۔
“زلیل انسان۔۔!!
مشاطہ اپنے آپ کو اسکی سخت گرفت سے آزاد کرانے میں ناکام ہوتی شدت سے چیختے ہوئے کہنے لگی۔۔
“ششششش..!!
اس سے پہلے کے مشاطہ کے لبوں سے اسکے لیے اور گالیاں نکلتی اخسم شیرانی نے اپنی انگلی اسکی لبوں پر رکھا اور اسے خاموش کرواتے ہوئے اسکی خوبصورت سبز آنکھوں میں اپنا خوبرو چہرے کو چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔۔
“چھوڑو مجھے دیکھوں تم جو کہوں گے میں وہی کرو گی پلیز مجھے جانے دو۔۔!!
مشاطہ کی فریاد کرنے پر وہ یکدم سے ہوش میں آتا اسے سختی سے اپنے اوپر سے ہٹا کر اٹھا اور نیچے گرے اسکے ٹاول کو اٹھا کر اپنے مضبوط بازوؤں پر باندھنے لگا۔۔
“لڑکی جاؤ ایک ماچس اور پانی لے کر آؤ اور ہاں ایک چھڑی تو لازمی لے کر آنا۔۔!!
سرد آواز میں اسے حکم دیتا اب وہ پہلے والا اخسم دادا بن گیا تھا اور مشاطہ تعجب سے اُسے پل میں بدلتے ہوئے دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی تھی۔۔
“میں رات کے اس وقت کچن میں نہیں جا سکتی کیونکہ کھانا صرف ایک بار ملتا ہے اور اگر کسی نے نہیں کھایا تو اسے دوبارہ کچن میں گھسنے کی اجازت نہیں ہے یہ ہاسٹل کا رول ہے ۔۔!!
مشاطہ کی نظریں جب اسکی ریوالور کی جانب پڑی تو وہ جلدی سے کہنے لگی۔۔
“اب تو تم اپنی نازک کمر پر وزنی چیز محسوس کرکے کوئی رول وول فالو کرنا بلکل بھی پسند نہیں کرنا چاہو گی۔۔!!
اخسم شیرانی اسکی بات پر اپنا سر ہلا کر سنجیدگی سے آگے بڑھا اور اسے ایک ہاتھ سے سختی سے کندھوں سے پکڑ کر اور دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر پر ریوالور رکھ کر سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“ہہہ۔۔۔ہاں۔۔!!
مشاطہ ڈر کے باعث بس اتنا کہہ سکی تو وہ اسکی کمر پر ریوالور کی نال کو دباتے ہوئے اسے لیے باہر کی طرف بڑھا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“حال”
“زر مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اگر وہ یہاں ہوا تو۔۔؟؟
وہ زرلش کو دیکھتی ڈرتے ہوئے کہہ کر زوارق خان کے روم کی جانب دیکھنے لگی جو بند تھا۔۔
“کسوا بھائی ابھی نہیں آئے گے اور تم ڈر کیوں رہی ہو میں ہو ناں اگر وہ آگئے اور انہوں نے تمہیں کچھ کہا تو میں تمہیں بچا لونگی۔۔!!
وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے بے تابی سے اپنے بھائی کے روم کی جانب دیکھنے لگی آج دونوں نے پلان بنایا تھا بائک رائڈنگ کا لیکن کسوا کو زرلش کے ڈر کی وجہ سے یہ ناممکن لگ رہا تھا۔۔
“تم سچ میں مجھے بچاؤ گی۔۔؟؟
وہ زرلش کو دیکھتی امید سے پوچھنے لگی تو زرلش کو اسکی بات پر اپنا سر پیٹنے کا دل چاہا۔
“ہاں بابا میں سچ کہہ رہی ہو اب چلو بھی۔۔!!
وہ اسے کلائی سے پکڑ کر گھسیٹ کر اپنے ساتھ زوارق خان کے روم کی جانب بڑھنے لگی کسوا تو کانپتی ہوئی اسکے ساتھ چلنے لگی۔۔
“زر اگر میں زندہ سلامت باہر آئی نا تو تمہیں ضرور بتاؤ گی۔۔!!
اس جلاد کے روم کے اندر داخل ہونے سے پہلے وہ زرلش سے کہنے لگی تو زرلش اسکی بات پر اپنی بتیسی اسے دیکھا کر شرارت سے جھٹکے سے دروازہ بند کرتی پیچھے پلٹی لیکن سامنے سے سنجیدگی سے زوارق خان کو اپنے روم کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ سٹپٹا کے سامنے والے روم کی جانب بھاگی۔
کسوا اچانک سے روم کا دروازہ جھٹکے سے بند ہونے پر خوفزدہ ہوگئی اور ابھی وہ کچھ سمجھتی کسی نے روم کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو کر واپس بند کرتے ہوئے اپنے قدم سوئچ بورڈ کی جانب بڑھانے لگا۔۔
کسوا زوارق خان کے غصے کا سوچ کر خوف کے مارے تیزی سے سامنے بھاری پردوں کی جانب تیزی سے بڑھی اور پردوں کے پیچھے چھپ کر اپنی آنکھیں سختی سے میچنے لگی۔۔
زوارق خان کے سوئچ آن کرتے ہی پورا کمرا روشنی سے نہایا تو وہ تیزی سے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے سامنے دیکھنے لگی تو زوارق خان کو شرٹ لیس دیکھ کر وہ سٹپٹا کر رہ گئی اور پھر وہ تیزی سے اپنی آنکھیں بند کرتی اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کو اپنے حلق سے باہر نکلنے سے روکنے لگی۔۔
“کیا کروں اگر انہوں نے دیکھ لیا مجھے تو۔۔!!
اس تو کے آگے وہ سوچ نا سکی اور کانپتی ہوئی سامنے دیکھنے لگی تو اسے واشروم کی جانب بڑھتا دیکھ وہ پرسکون سانسس خارج کرتی آہستگی سے پردوں کو ہٹا کر باہر نکلی اور دبے پاؤں روم سے باہر نکلنے کے لیے وہ دروازے کی جانب تیزی سے بڑھی لیکن اس سے پہلے ہی اسے کسی نے اپنی گرفت میں لیا اور اسکی نازک کمر کے گرد اپنا گھیرا تنگ کیا۔
“خان آپ۔۔؟؟
کسوا زوارق خان کو اپنے سامنے شرٹ لیس دیکھتی شرم سے اپنی آنکھیں سختی سے میچتی ہوئی کپکپا کر اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی جو کہ ناممکن تھا۔۔
“تُم اس وقت میرے روم میں کیا کر رہی ہوں۔۔؟؟
اپنی آنکھیں اسکی خوبصورت گلابی چہرے پر مرکوز کرتا وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا تو کسوا زوارق خان کی سنجیدہ آواز پر خوفزدہ ہو کر اپنی آنکھوں کو اور سختی سے میچنے لگی۔۔
زوارق خان اسے آنکھیں سختی سے بند کرتے ہوئے دیکھتا اسکی کمر کے اوپر اپنی انگلیوں سے لکیریں کھینچ کر اسے اور زیادہ کانپنے پر مجبور کرنے لگا۔۔
“تم بتانا پسند کروں گی یا میں اپنے طریقے سے اگلوانا مس کسوا افان خان۔۔!!
سرد لہجے میں کہتا اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلی کو اسکی شہ رگ پر رکھ کر دباؤ بڑھاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو بری طرح سرخ ہوتی اپنی شہ رگ پر دباؤ محسوس کرتی بے آواز رونے لگی۔۔
“خان مم۔میں۔۔!!
کسوا کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ اسے اپنی یہاں موجودگی کا کیا بتائے تبھی اچانک سے زوارق خان نے اسے کندھوں سے تھام کر اپنے بے حد نزدیک کیا اور اسکے چہرے پر آئی نمی کو ہاتھ بڑھا کر اپنے مضبوط کندھوں پر لٹکے ٹاول کو اتار کر اسکے چہرے سے اس نمی کو صاف کرنے لگا جو اسکے پورے چہرے پر ڈر کی وجہ سے پھیل رہا تھا۔۔۔
زوارق کی نظریں جب بری طرح سے لرزتے اسکے نرم گلابی لبوں پہ آ کر ٹھہری تو وہ اچانک سے بے خود سا اسکے لبوں کی جانب بڑھنے لگا تو وہ اسکی اِس حرکت پر دم بخود رہ گئی ۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں خان۔۔؟؟
اسے اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھتی وہ گھبرا کر بولی۔۔
“کسوا جانم تم نے یہاں میرے روم میں رات کے اس پہر آکر بہت بڑی غلطی کی ہے اس سے پہلے کے میں بہک کر تمہارے ساتھ کچھ غلط کر بیٹھو تم یہاں سے چلی جاؤ۔۔!!
میں نہیں چاہتا اس وقت ہمیں ایک ساتھ یہاں اس روم میں کوئی تہنا دیکھ لیں اور اگر کسی نے تمہارے کردار پر انگلی اٹھایا تو میں برداشت نہیں کر سکوں گا۔۔!!
وہ شہادت کی انگلی سے اسکی نرم گلابی نازک لبوں کو چھو کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو کسوا زوارق خان کی انگلی کو اپنے لبوں پر محسوس کرتی بری طرح سے سٹپٹا کر اسکی گرفت میں پھڑپھڑانے لگی۔۔
“خان میں اب کبھی بھی رات کے اس وقت آپ کے روم میں دوبارہ نہیں آؤ گی۔۔!!
کسوا زوارق خان کی گرفت میں خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی جلدی سے کہنے لگی تو زوارق خان نے اپنے ایک ہاتھ سے اسکی کمر کو سختی سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اسکی ٹھوڑی کو سختی سے پکڑ کر غصے سے اسے گھورنے لگا۔۔
“کسوا جانم صرف رات کے وقت یہاں آنا منا ہے باقی تم صبح دوپہر جب چاہوں آسکتی ہو لیکن رات کے وقت نہیں تمہیں بہت جلد اس روم میں لاؤ گا لیکن ابھی نہیں ابھی تم میں عقل کی شدید کمی ہے اسی لیے جب تک تم بڑی نہیں ہو جاتی میں تمہیں یہاں نہیں لاسکتا۔۔!!
وہ اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو کسوا اسکی باتوں کو نظر انداز کرتی اسکی سخت گرفت سے نکل کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔۔
💕💕💕💕💕💕
