Dark Heart By Sumyia Baloch Readelle50185 Episode 24
Rate this Novel
Episode 24
“ماضی”
“واٹ شمویل خان تُم پاگل تو نہیں ہوگئے ہوں اگر وہ زکی شیرانی جب اخسم کو اپنے سامنے زندہ دیکھے گا تو شک ضرور کرے گا اور اخسم تمہارا بھائی تمہیں اتنے سالوں بعد ملا بھی تو مرنے کے بعد تو تم کیسے جانتے ہوں کہ وہ وہاں کیسے اپنی زندگی کو گزارتا تھا اسکی زندگی وہاں کیسی تھی اور زکی شیرانی اسے کیا سمجھتا تھا ؟؟
شمش اُسکی بات پر سخت غصے سے بولا۔۔
“شمش اُسکا میں نے انتظام کر دیا ہے یہ دیکھو یہ وڈیو اِس کی مدد سے وہ مجھے accept ضرور کرے گا اور تُم وہاں میرے رائٹ ہینڈ بن کر میرے ساتھ جاؤ گے۔۔!!
آج پورے دس دن بعد وہ اپنے فلیٹ سے باہر نکلا تھا کیونکہ وہ اپنے باپ اور بھائی کے مرنے کے بعد اکیلا اسی فلیٹ میں تھا اور کل ہی اسنے ریسٹورنٹ سے سی سی ٹی وی فوٹیج عرشمان خان سے کہہ کر منگوایا تھا۔۔
زکی شیرانی نے اُن دونوں کا قتل وہی کیا تھا تو سی سی ٹی میں ضرور قتل کرتے وقت والی وڈیو موجود ہوگی جس سے وہ زکی شیرانی کو اخسم بن کر دھمکی دے گا تاکہ وہ اپنی ماں کو وہاں سے نکال لائے اسی دن جب اُسکے بابا اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے تو اسی دن اُسے انکے جیب سے اسکی ماما کی ڈائری اسے ملی تھی اور زکی شیرانی کی مکاری جان کر اسے اور زکی شیرانی سے نفرت محسوس ہونے لگا تھا۔۔
“شمویل یار اس میں خطرہ بھی ہوسکتا ہے تُمہاری جان بھی چلی جا سکتی ہے اور اتنے دنوں بلکہ سالوں غائب رہوں گے تو تمہاری فیملی والے پریشان ہو جائے گے۔۔!!
شمش نے اُسکا سارا پلان سننے کے بعد فکر مندی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
“شمش میری فیملی تو یہی چاہتی ہے کہ میں مر جاؤ اور انکی جان مجھ جیسے آوارہ ماں کے آوارہ بیٹے سے چھوٹ جائے۔۔!!
وہ زخمی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا لیکن پیچھے کھڑے زوارق خان اور عرشمان خان نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
“لالہ آپ تائی کی باتوں کی وجہ سے ہمیں کیوں پرایا کر رہے ہیں اور آغا جان انکا کیا ہوگا جب آپ کے بارے میں انہیں پتہ چلے گا۔۔!!
زوارق خان نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“بابا خان کو میں سچائی بتا کر جاؤ گا کیونکہ اب میرا اس دنیا میں انکے علاؤہ کوئی بھی نہیں ہے۔۔!!
وہ سخت سپاٹ لہجے میں کہتا اِنہیں دیکھنے لگا جو اسکی اجنبیت سے کہنے پر اسے تاسف سے دیکھ رہے تھے۔۔
“لالہ آپ ہمیں کیوں اجنبی کر رہے ہیں ہم آپکے اپنے ہے بڑوں کی سزا آپ ہمیں کیوں دے رہے ہیں ہم تو آپکی ہلیپ کرنا چاہتے ہیں اور آپ ہمیں یہ احساس دلا رہے ہیں کہ ہم آپ کے کچھ نہیں لگتے ہیں۔۔!!
عرشمان خان نے برا مناتے ہوئے کہا تو اسکی بات پر شمویل خان پہلی بار مسکرایا اور اٹھ کر اپنے دونوں کزنوں کو گلے لگاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تُم دونوں کے بغیر شمویل خان ادھورا ہے کیونکہ تُم دونوں اسکے جینی کی وجہ ہو اور اگر تُم دونوں نہ ہوتے تو میں کسے مارتا ہاں۔۔!!
وہ سختی سے انہیں بھینچے آخر میں شرارت سے کہنے لگا تو اُن دونوں کے ساتھ شمش بھی شمویل خان کی بات پر ہنسا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شمویل خان میں تُمہیں اسطرح اکیلے وہاں جانے نہیں دو گا ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ می۔!!
آغا جان نے اپنے ضدی پوتے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو یہاں سے جانے کی تیاری کر رہا تھا۔۔
“بابا خان اگر میں آج یہاں سے نہیں گیا تو وہ زکی شیرانی کل کو پھر سے ہمیں نقصان پہنچائے گا۔۔!!
انکے بوڑھے ہاتھوں کو تھام کر وہ انہیں سمجھاتے ہوئے کہنے لگا تو انہوں نے بے بسی سے اسے دیکھا جو اخسم کے گیٹ اپ میں اس وقت انہیں شدت سے اسکی یاد دلا رہا تھا۔۔
“اوکے تُم جاؤ لیکن یہ بھی تمہارے ساتھ جائے گا۔۔!!
انہوں نے ہار مانتے ہوئے کہا تو اُسنے اپنی نظروں کو اوپر اٹھا کر سامنے ایک شخص کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“بابا خان یہ۔۔؟؟
اُس شخص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے پوچھنے لگا تو وہ اسکی حیرت انگیز تاثرات دیکھ کر مسکرائے اور آگے بڑھے اور اسکے شخص کے مقابل کھڑے ہو کر اس سے اسکا تعارف کرانے لگے۔۔
“شمویل خان یہ آفیسر سہیل خان ہے اور یہ شمش آپکے ساتھ وہاں جائے گے ایک جاسوس بن کر اور آپ کی ہلیپ بھی کرے گے اسطرح آپ قانون کو بھی ہاتھ میں نہیں لے سکے گے جو بھی کرنا ہے شمش اور سہیل خان نے کرنا ہے تم بس اس زکی شیرانی کو اندر سے کھوکھلا کروں گے۔۔!!
انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ انکی بات پر اپنا سر ہلا کر بیگ سہیل خان کو تھما کر انکے گلے لگا اور اسی طرح ان سے لگ کر وہ اپنی آنکھوں کو نم ہونے سے روک نا سکا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تُم۔۔!!
جب وہ تینوں زکی شیرانی کے محل نما گھر میں پہنچے تو زکی شیرانی اسے دیکھ کر صوفے سے اٹھا اور ساکت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھا اور کہنے لگا۔۔
“یہ کون ہے شمش دادا۔۔؟؟
زکی شیرانی کو وہ اپنی نیلی آنکھوں سے دیکھتا شمش سے ایسے پوچھنے لگا جیسے وہ زکی شیرانی کو بلکل بھی جانتا نہیں ہُوں ۔
“اخسم دادا یہ آپکے بابا ہے۔۔!!
شمش نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“ہوں تو یہ ہے میرے بابا۔۔!!
وہ سنجیدگی سے آگے بڑھتے ہوئے کہتا سامنے ٹیبل پر زکی شیرانی کی ریوالور کو اٹھا کر اسکی پیشانی پر رکھ کر مسکرایا اور پھر ہاتھ بلند کرتا اوپر فائر کرتے ہوئے پیچھے ہٹا۔۔
“اخسم دادا یہ کیا کر دیا آپ نے زکی شیرانی تو ڈر گئے آپکی اس حرکت سے۔۔!!
سہیل خان نے زومعنی نظروں سے زکی شیرانی کے ہوائیاں اڑاتے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“سہیل دادا مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میرا اور اُس گن کا پرانا ساتھ ہے۔۔!!
ریوالور کو اپنی نظروں کے سامنے لا کر وہ کہنے لگا تو زکی شیرانی جو اُسے کب سے مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا وہ کمینگی سے مسکرایا اور آگے بڑھا۔۔
“اخسم دادا کیونکہ اُسکا اور تُمہارا بچپن کا ساتھ ہے۔۔!!
اُسے ساتھ لگا کر وہ خوش دلی سے بولا تو اُسکے گلے لگانے سے وہ اسے نفرت سے دیکھنے لگا اور دل میں اسکی بے وقوفی پر ہنسنے لگا کیونکہ ابھی تو وہ اسکے اعتماد کو جیت کر بہت جلد اس سے سب کچھ چھیننے والا تھا حتکہ اسکی سانسیں بھی ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“حال”
“شمویل خان اُس وقت کو بھولیئے اور اِس وقت کو انجوائے کیجئے وہ درد ناک ہے میں جانتی ہولیکن میں آپکو اسطرح تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی پلیز آپ وہ سب سوچ سوچ کر خود کو اتنا ٹارچر مت کرے۔۔!!
مشاطہ کی آواز سے وہ اپنے درد ناک ماضی سے نکل کر اُسے دیکھنے لگا جو اُسکے کشادہ سینے سے لگی ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے چہرے کو پیار سے چھو رہی تھی۔۔
“مشی میں کیسے انہیں بھولو کیسے جو میرے لیے سب کچھ تھے۔۔!!
وہ بے بسی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ اٹھی اور اُسکے اوپر جھک کر اُسکی پیشانی کو چھو کر باری باری اُسکے نم آنکھوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر پیچھے ہوئی اور اُسے دیکھنے لگی جو تکلیف کے آثار چہرے پر رقم کیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“شمویل اگر مجھے آپکو سمیٹنا پڑا ناں تو میں آپکو سمیٹوں گی چاہیے پھر میں خود ہی کیوں نہ آپکی پناہوں میں بکھر جاؤ۔۔!!
وہ اُسکی آنکھوں سے آنسوؤں کو اپنے ہونٹوں سے چن کر اُسکی تکلیف پر روئی تو شمویل اُسکے آنسوؤں کو دیکھتا اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے اپنے اوپر جھکاتے ہوئے اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پہ رکھتا اور دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھتے ہوئے شدت سے اُسکے ہونٹوں کو چھونے لگا۔۔
“مشی جانم مجھے معاف کر دینا ماضی میں جو بھی میں نے رویہ تمہارے ساتھ اختیار کیا ہے انہیں میں آج سوچتا ہوں تو میرا سینا جل اٹھتا ہے پلیز مجھے معاف کر دو۔۔!!
اُسے کروٹ بدل کر اپنے نیچے کرتا نرمی سے اُسکے بالوں کو چھوتا نم آنکھوں سے اُسکے سرخ چہرے کو دیکھتا اُسکی پیشانی کو چھو کر نم آواز میں کہنے لگا۔۔
“آپ مجھ سے معافی کیوں مانگ رہے ہیں معافی تو مجھے آپ سے مانگنی چاہیے کیونکہ اُس رات مجھے آپکے فلیٹ میں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔!!
اُسکے چہرے کو نرمی سے ہاتھ آگے بڑھا کر چھوتی بولی تو شمویل خان نیچے جھکا اور اُسکے شانوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا اُسکی گردن کی جانب بڑھا اور ہاتھ نیچے لے جا کر اسکے اوپر سے چادر ہٹا کر نیچے جھکا اور مدہوشی سے اسکی گردن سے نیچے اپنے ہونٹوں کو رکھ کر چھونے لگا۔۔
مشاطہ جو کیف کی صورت میں اپنی آنکھیں موندے ہوئے تھی اُسکی لمس کو گردن سے نیچے سرکتے ہوئے محسوس کرتی سختی سے اُسکی پشت کو پکڑ کر اسے آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی جو اُسکے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔
“مشی تھینکس میری زندگی میں آنے کے لیے مجھ بکھرے ہوئے انسان کو سمیٹنے کے لیے اگر تُم میری زندگی میں نہ ہوتی نہ تو میں کب کا خود کو ختم
کر چکا ہوتا۔۔!!
اپنے ہاتھوں کی انگلیاں اُسکی انگلیوں میں الجھا کر اوپر بیڈ کراؤن سے لگا کر اور شدت سے اُسکی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے پھنسا کر چھوتے ہوئے کہتا مخمور آنکھوں سے اسکے سراپے کو دیکھنے لگا جو اُسے بے ایمان کر رہی تھی۔۔
“اب آپ پٹری سے اتر رہے ہیں شمویل خان۔۔!!
وہ اُسکی جانب دیکھتی منہ بسور کر بولی کیونکہ اب وہ اپنی تکلیفوں کو بھول کر اُسکی قربت پاکر بہکتے ہوئے اُسکی گردن پر جھکا ہوا تھا۔۔
“تو جاناں تم پٹری میں اترنے ہی نہیں دو ناں مجھے۔۔!!
وہ شریر نظروں سے اُسکے بے ترتیب سراپے کو جو اُسکی بے باکی کی وجہ سے بیڈ پر لیٹی شرم سے دو چار اپنے سینے پر ہاتھ کو کراس کی شکل میں اپنے آگے باندھے اُسکی نظروں سے بری طرح سے لرز رہی تھی اور وہ اسے دیکھتا معنی خیزی سے کہنے لگا۔۔
“شمویل خان باز آ جاؤ ورنہ میں نے اگر دو چار جھڑ دیا نا تو تُمہیں اچھا نہیں لگے گا۔۔!!
وہ اپنی نظریں نیچے جھکائے غصے سے بولی تو وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے دونوں ہاتھوں کو اُسکے سینے کے اوپر سے ہٹا کر نیچے جھکا اور اپنے ہونٹوں سے چھو کر اُسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا۔۔
“جاناں تُم نے وعدہ کیا ہے مجھے سمیٹنے کا تو کیسے تم اتنی جلدی مکر سکتی ہوں۔۔!!
ہونٹوں کو اور نیچے لے جا کر وہ اسکے پیٹ کو چھوتا گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے اٹھا اور اُسے اٹھا کر دیکھنے لگا
جو اُسکی گستاخیوں سے اور بے باکی سے دیکھنے پہ شرم سے اُسکے کشادہ سینے سے لگی اور ہاتھ پیچھے لے جاکر اسکی پشت پر باندھ کر بری طرح سے لرز رہی تھی۔۔
شمویل خان نے اُسکی پشت پر بکھرے بالوں کو سائیڈ پہ کیا اور اپنا ایک ہاتھ پیچھے لے جا کر اُسکی گردن سے نیچے لکیر کھینچتا ہوا اپنی انگلی کو نیچے لے جاکر آڑھی ترچھی لائن کھینچ کر اُسے شرم سے سرخ انار کرتا ہوا اپنے ہونٹ اسکی پشت پر رکھ کر اسے شدت سے اپنے سینے میں بھینچ کر اسے نیچے بیڈ پر لیٹا کے وہ اُسکے سرخ چہرے کو چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔۔
“نہیں شمویل خان نہیں۔۔!!
اپنے اور اسکے اوپر چادر اوڑھ کر وہ دونوں ہاتھوں کو اسکے دائیں اور بائیں جانب تکیے کے اوپر رکھتا شدت سے اسکے ہونٹوں کو چھوتا اُسکی سانسوں کو بری طرح سے منتشر کرنے لگا۔۔
“ششششش۔۔!!
اُسکے نہیں نہیں کی گردان سے وہ اُسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اُسے خمار آلودہ لہجے میں کہتا نیچے جھکا اور اُسکی گردن کو چھونے لگا۔۔
مشاطہ کی دھڑکنیں اُسکے چھونے سے ڈبونے لگی جبکہ وہ اسکے اوپر جھکا اسکے ہونٹوں پر اپنے شدت برسا رہا تھا اور وہ اُسکی شدتوں سے تڑپتی اُسکی پشت پر اپنے ناخنوں کو گھاڑ رہی تھی اور وہ اسی طرح ساری رات اپنی شدتوں سے اسے سٹپٹانے تو کبھی شرشار تو کبھی تڑپنے پر مجبور کرتا رہا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کسوا خان میں کب سے تُمہارا انتظار کر رہا ہوں کہاں تھی تُم ہاں پتہ بھی ہے تمہیں کہ مجھے انتظار کرنا کتنا ناگوار لگتا ہے پھر کیوں تم نے مجھے انتظار کروایا ہاں۔۔!!
کسوا رات کے گیارہ بجے جب اپنے اور اُسکے روم کے سامنے پہنچی تو اپنی آنکھوں کو بند کرتی سخت ڈرتی ہوئی روم کا دروازہ کھول کر وہ اندر اپنے قدم رکھتی داخل ہوئی ہی تھی۔۔
پیچھے سے اُسنے آکر اُسے پیٹ سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے بھاری گھمبیر آواز میں کہا اور اُسکی کمر کو اپنی پرتپش ہونٹوں سے چھوتا اُسے اسی طرح لیے پیچھے ڈریسنگ روم کی جانب الٹے قدموں بڑھنے لگا۔
“خخ۔خان جی آپ یہ کیا کر رہے ہیں نیچے اتارے مجھے۔۔!!
کسوا کی رنگت اُسکے چھونے پر لٹے کی مانند سفید ہو رہی تھی اور ہواس اپنی کمر پر اُسکے ہونٹوں کو محسوس کرتی اُسکا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔
“نہیں میری جان اتنی بھی جلدی کیا ہے جو تُم نے میرے ساتھ ان دو دنوں میں کیا تھا ناں یہ تو اُن کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔۔!!
اُسکی کمر پر شدت سے اپنا لمس چھوڑتا وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو کسوا اسکی بات پر جھٹپھٹا کر اسکی گرفت سے خود کو چھڑانے لگی جو ناممکن تھا وہ اسے آج تو بلکل بھی بخشنے والا نہیں تھا۔۔
“خان جی میں نے آپ سے سوری بھی تو کی تھیں اپنی ان ساری غلطیوں کی آپ چھوڑے مجھے۔!!
وہ جابجا اُسکی شدتوں بھرے لمس کو اپنی گردن پشت اور کمر پر شدت سے محسوس کرتی سٹپٹا کر خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی ہوئی نم آواز میں بولی۔۔
“نا میری رانی نا رونا مت کیونکہ میں پھسلنے والا نہیں ہو اِن آنسوؤں سے۔۔!!
وہ اپنی ہاتھ کی ہتھیلی پر اُسکے آنسوؤں کو محسوس کرتا بے رحم لہجے میں کہتا اسے نیچے اتار کر واپس نیچے جھکا اور اسے اب اپنی گود میں اٹھاتے ہوئے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔۔
“کسوا خان جلدی سے جاؤ اور جا کر یہ پہن کر باہر آؤ میں تمہارا باہر انتظار کر رہا ہوں اور اگر دو منٹ کے اندر اندر تم باہر نہیں نکلی تو میں تیسرے منٹ کے ہونے سے پہلے اندر گھس کر یہ خود تمہیں پہناؤ گا گاٹ اٹ۔۔!!
وہ اسے گود میں اٹھائے جب ڈریسنگ روم کے اندر داخل ہوا تو اُسے نیچے اتار کر سامنے لٹکی ایک سلولیس سرخ نائٹی کو اسے پکڑا کر اُسکے نازک سراپے کو مخمور آنکھوں سے دیکھتا بھاری گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
“خان یہ مم۔۔میں پہنو گی۔۔؟؟
کسوا اُس سلولیس سرخ ڈیپ نائٹی کو پھٹی آنکھوں سے دیکھتی سر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جو اسے اپنی پرشوق نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ اُسکے دیکھنے پر بے باکی سے مسکراتے ہوئے اسے نائٹی کو پکڑنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔
“نہیں میں پہنوں گا۔۔چڑ کر۔ظاہر سی بات ہے تُم یہ میں نے اپنی بیوی کے لیے منگوایا ہے اس اسپیشل نائٹ کے لیے تاکہ میں تمہیں اچھے سے بتا سکوں کہ میں کتنا رومنٹک انسان ہوں۔۔!!
مخمور آنکھوں سے اسے دیکھتا وہ آگے بڑھا اور کمر سے پکڑ کر اُسے اپنے بے حد نزدیک کرتا آنچ دیتے لہجے میں کہنے لگا۔۔
“خان جی آآآپ باہر جائے۔۔!!
وہ اسکی قربت پہ سخت لرزتی ہوئی اسے بولی تو زوارق خان اسکی پلکوں کو لرزتے ہوئے دیکھتا مسکرایا اور قدم ڈریسنگ روم سے باہر نکال کر بیڈ روم کے اندر بڑھا۔۔
کسوا اُسکے باہر نکلتے ہی ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کرتی اپنی سانسوں کو سنبھالتی اس نائٹی کو بےبسی سے دیکھنے لگی جو اب اسے ہر حال میں پہننا تھا ورنہ اس کھڑوس سے کوئی بعید نہیں تھا کہ وہ خود آکر یہ بھی کر گزرے جو اسنے اُسے ابھی بڑی بے باکی سے پہنانے کی دھمکی دی تھی۔
“خخ۔۔خان آپ پلیز اپنی آنکھیں بند کرئیے مم۔میں پھر باہر آؤ گی ورنہ مم۔میں ڈریسنگ روم سے نہیں نکلوں گی۔۔!!
کسوا کی ڈریسنگ روم سے ہلکی آواز پر زوارق خان کے لبوں پہ ایک دلفریب مسکراہٹ پھیلی اور اُسکے ڈریسنگ روم سے باہر نکلنے سے پہلے وہ کچھ سوچتا ہوااپنے قدم دروازے کی جانب بڑھا کر اسنے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔۔
سامنے اُسے سرخ رنگ کی سلولیس نائٹی میں شرماتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ کروس کی شکل میں رکھے بری طرح سے کانپتے ہوئے دیکھ کر وہ بے خودی سے آگے بڑھا تو اسے اپنی طرف بڑھتی ہوئی دیکھتی کسوا سخت سٹپٹا کر تیزی سے پیچھے ہٹی۔۔
“کسوا جانی کیا فائدہ اب خود کو مجھ سے چھپانے کا۔۔!!
وہ اُسکے نائٹی کو درست کرنے پر بے باکی سے مسکرایا اور جھٹکے سے اُسکا رخ دیوار کی جانب کرتا ہاتھ اوپر لے جا کر پیچھے سے اسکی نائٹی کو شانے سے ہٹا کے بے خودی سے اسکی گردن کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے نیچے جھکا اور اسے اپنی گود میں اٹھا کر ڈریسنگ روم سے باہر نکلا۔۔
“خخ۔خان۔۔!!
وہ اسے بیڈ پر لیٹا کر اپنی شرٹ کو اتارتے ہوئے صوفے پر پھینک کر سائیڈ لیمپ بجھا کر اُسکے چہرے پر جھکا اور مدہوشی سے اُسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا اُسکی سانسوں کو اپنی سانسوں سے الجھا کر سارے فاصلے مٹانے لگا۔۔
کسوا اُسکی شدتوں بھرے لمس کو کبھی اپنے چہرے پر تو کبھی گردن پر شدت سے محسوس کرتیں بری طرح سے لرزتی بیڈ شیٹ کو سختی سے دبوچے اُسکے ہونٹوں کو اب اپنی گردن سے نیچے سرکتے ہوئے محسوس کرتیں ہاتھ آگے بڑھا کر اسے روکنے لگی جو اُسنے ناگواری سے ہاتھ آگے بڑھا کر سختی سے اسے دونوں کلائی سے پکڑ کر اوپر بیڈ کراؤن سے لگا اپنی شدتوں سے اسے تڑپانے لگا۔۔
“کسو جانم میں تمہیں بہت چاہتا ہوں اپنی جان سے بھی زیادہ تم میری زندگی کی وہ واحد ہستی ہوں جیسے میں اُسکی غلطیوں کے باوجود بھی بے پناہ چاہتا ہوں اور چاہتا رہوں گا۔۔!!
اُسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتا اُسکی براؤن آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر خزبوں کی آنچ میں دھکتے لہجے میں کہنے لگا۔۔
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں خخ۔خان اگر آپ مجھے چاہتے تو مجھ پر غصہ نا کرتے جو آپ ہر وقت مجھ پر کرتے ہیں۔۔!!
کسوا اُسکی بے حد نزدیکی پر قندھاری چہرے کو دوسری جانب کرتی نم آواز میں بولی۔۔
زوارق خان نے اُسکا چہرہ جو پکڑا ہوا تھا اپنی طرف کرتے ہوئے وہ اُسکی نرم گلزار ہونٹوں پہ جھکا اور اپنی شدتوں کو اسکے ہونٹوں پہ چھوڑنے کے بعد پیچھے ہٹا اور گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔
“کسو جانو ہم جس سے محبت کرتے ہیں ناں تو غصہ بھی اس پر نکالتے ہیں اور ویسے بھی غصے میں تو پیار چھپا ہوتا ہے جو تُم جیسی کم عقل لڑکی نہیں سمجھ سکتی۔۔!!
وہ کہتا گلابی گالوں کو چھوتا نیچے جھکا اور اسکے شانوں کو چھو کر ہاتھ نیچے لے جا کر اُسکی نائٹی کو آہستگی سے دونوں شانوں سے نیچے کھسکانے لگا۔۔
کسوا جو اُسکی گستاخیوں سے سخت سٹپٹا رہی تھی خود کو چھڑانے کے لیے اب زور زور سے مزاحمت کرنے لگی تھی اور وہ اسکی کمزور مزاحمت پر خوبصورتی سے مسکرایا اور اُسکی نازک سراپے پر مکمل قابض ہوکر اسکی انگ انگ کو شدت سے چھونے لگا اور اسی طرح وہ پوری رات اسے گھبرانے اور سٹپٹانے پر مجبور کرتے ہوئے اس پر اپنی محبت اور شدتوں کو لوٹانے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“عرش آپ کہا چلے گئے تھے۔۔؟؟
عرشمان خان رات کے پونے گیارہ بجے تھکے ہارے جب اپنے بیڈ روم کے اندر داخل ہوا تو سامنے زرلش کو ڈریسنگ روم سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر اسکی ساری تھنک اُسکا چہرہ دیکھ کر غائب ہوگیا تھا۔۔
“کیوں خانی کیا تم مجھے مس کر رہی تھی۔۔؟؟
وہ ٹرانس کی کیفیت میں آگے بڑھا اور اسے اپنے مضبوط بازؤوں میں بھرتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا جبکہ زرلش اسکی حرکت پر سٹپٹاتی ہوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کانپتے ہوئے اسکے شولڈر پہ رکھ کر اسے دیکھنے لگی جو اسے مخمور نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“نن۔نہیں وہ تو مم۔میں ایسے ہی آپ سے پوچھ رہی تھی۔۔!!
وہ اسکی نظروں سے سر تا پیر کانپتی ہوئی بولی۔۔
“زر کیوں اپنی اِن اداؤں اور خوبصورتی سے مجھے بہاکتی ہو بار بار جانتی بھی ہو نا کہ میں اگر بہک جاؤ تو تمہارے لیے بہت مشکل ہو جائے گا خود کو مجھ سے بچانا۔۔!!
اسکو اپنے بازؤوں میں بھرے بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسکے نازک سراپے کو پرشوق نظروں سے دیکھنے لگا جو اس وقت بلیک نیٹ کی نائٹی میں ملبوس اپنے نوکیز کلیوں جیسے خوشبو میں بسے وجود سے اسکے ہوش اڑائے جا رہی تھی۔۔
“عع۔۔عرش۔۔!!
منمنا کر نروس ہو کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتی اُسے سرخ ہوتی خود میں سمٹنے لگی اور وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا کہ اُسکے منمانے اور اپنے آپ میں سمٹنے پہ وہ نیچے جھکا اور اپنے ہونٹوں سے اسکی کمر پر بندھے نائٹی کی ڈوری کو ایک ہی جھٹکے میں کھولتا وہ اسکی نائٹی کو شانوں سے ہٹا کر اسکے دونوں ہاتھوں کو تکیے پر رکھتا نیچے اسکی گردن پر جھکا اور اپنے عنابی ہونٹوں سے اُسکی گردن پر اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔
“ہمممم عرش پیچھے ہٹو پلیز۔۔!!
روم میں زرلش کی گھٹی گھٹی آواز گونجی تو عرشمان اُسکے لرزتے ہونٹوں پر جھکا اور اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے کر اسکی گھٹی آواز کو اپنے ہونٹوں سے بند کرتا شدت سے اُسکی سانسوں کی مہک کو اپنی سانسوں سے چھونے لگا اور مدہوش سا اسکے اوپر جھکا اور بے خودی سے اسکی انگ انگ کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے اُسے تڑپانے لگا۔۔
“ششش زر مجھے اپنی ڈھرکنوں کو سننے دو۔!!
وہ اسکے لرزتے ہونٹوں پہ اپنی انگلی کو رکھتا اُسے خاموش کروا کر نیچے اسکے سینے پر اپنا سر رکھ کر اپنی آنکھوں کو بند کرتا وہ اُسکی تیز ہوتی ڈھرکنوں کو سننے لگا جو اُسکے چھونے پر اور اتنی زیادہ نزدیکیں پر زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔
“عرش پلیز مجھے چھوڑ دو۔۔!!
وہ اسکی گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوئے کہتی خود کو چھڑانے لگی لیکن وہ اپنی گرفت مضبوط کرتا اسکی گردن سے نیچے اپنا لمس چھوڑتا اسے شدت سے گھبرانے پر مجبور کر گیا۔۔
“نا خانی اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس بات کا کیونکہ ہم کب کے ایک ہو چکے ہیں تو اب یہ دوری ہمارے درمیان صرف ہماری موت ہوگی۔۔!!
اسکی پشت کو اٹھا کر اسے اپنے اور نزدیک کرتا وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو زرلش اسکی سانسوں کی تپش کو اپنے چہرے پر محسوس کرتیں بری طرح سے لرزنے لگی۔۔
“عرش لیکن میں ابھی یہ سب نہیں چاہتی آپ سمجھے ناں میری بات کو مجھے آگے پڑھنا ہے اور یہ آپکی ان حرکتوں کی وجہ سے مجھ سے نہیں ہو سکے گا۔۔!!
وہ اسکی جانب دیکھتی ڈرتے ہوئے بولی کیونکہ وہ اسکے غصے سے ڈرتی تھی اور وہ جو اسکے سینے پر سر رکھے آنکھیں موندے ہوئے تھا۔۔
جھٹکے سے اپنی آنکھوں کو کھول کر کہنیوں کے بل اٹھا اور اُسے بغور دیکھنے لگا جو اُسکے اٹھنے پر سختی سے اپنی آنکھوں کو بند کیے لرز رہی تھیں وہ اسکی شکل کو دیکھتا مسکرایا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے چہرے کو چھوتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
“خانی جانم تو تُم پڑھ لینا میں نے تمہیں تھوڑی منا کیا ہے لیکن مجھے تم منا نہیں کر سکتی ہوں خود سے پیار کرنے سے ورنہ میں زبردستی کرنا بھی اچھے سے جانتا ہو لیکن میں اپنی جان کے ساتھ زبردستی کرنا نہیں چاہتا ہوں سو تم اپنا کورس پڑھوں اور مجھے میرا زرلش نام کے کورس کو گہرائی تک پڑھنے دو۔۔!!
وہ اسکی ٹھوڑی کو چھوتا مخمور آنکھوں سے اسکے لرزتے وجود کو دیکھتے ہوئے کہتا اسکے ہونٹوں پہ جھکا اور شدت سے انہیں چھونے لگا۔۔
“عرش نہیں تُم سمجھتے کیوں نہیں ہو۔۔!!
وہ سخت غصے سے بولی تو عرشمان خان اُسکے ہونٹوں پہ جھکا اور اسکی زبان کو اپنی شدتوں بھرے لمس سے بند کرتا ٹھوڑی کو چھو کر نیچے جھکا اور اسکی گردن پر اپنا لمس چھوڑتا ہوا بے خودی سے اسکی گردن سے نیچے سفر کرنے لگا اور زرلش سختی سے اسے اپنے ساتھ لگا کر اسکی شدتوں سے بری طرح سے مچلتی تڑپتی رہی اور ان دونوں کی اسی طرح پوری رات شرشاری اور گھبراہٹ میں گزری۔
