Rate this Novel
Episode 7
“ماضی”
“اخسم بیٹا یہ پیاری لڑکی کون ہے۔۔؟؟
روبی جب اپنے بیٹے کے روم میں داخل ہوئی تو اسے وہاں نا پاکر وہ سامنے ٹیبل کی جانب بڑھی جہاں ہوا سے اسکی ڈائری کے اوپر رکھی تصویر اڑنے کے لیے کب سے بے تاب ہو رہی تھی۔۔
اس تصویر کو اٹھا کر وہ دیکھنے جو ایک خوبصورت لڑکی کی تھی جسکی آنکھیں اسے کسی کی شدت سے یاد دلا رہی تھی اخسم کو واشروم سے نکلتا دیکھتی وہ جلدی سے پیچھے مڑی اور خوشگوار انداز میں اس سے پوچھنے لگی۔۔
“وہی جس نے اس سنگ دل کو پھگلانے کی گستاخی کیا ہے اور اب میں اسے بلکل بھی نہیں چھوڑو گا۔۔!!
اسکے خوفناک لفظوں پر وہ خوفزدہ ہو کر اسے دیکھنے لگی جو ٹاول سے اپنے سلکی بالوں کو خشک کرتے ہوئے انہی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
“یہ کک۔کیا کہہ رہے ہو بیٹا۔۔؟؟
وہ لڑکھڑاتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“بلکل درست کہہ رہا ہو اب یہ اخسم دادا سے نہیں بچ سکتی کچھ بھی نہیں کر سکی گی یہ میں اسے ایسی جگہ پر لا کر مارو گا اسے پتہ بھی نہیں چل سکے گا۔۔!!
وہ تصویر کو انکی گرفت سے لے کر مخمور نظروں سے دیکھتا کہنے لگا اور روبی اسکی باتوں کا مطلب غلط لیتی خوف سے کانپ اٹھی اور تیزی سے اسکے روم سے نکلی۔
“بہت برداشت کر کیا ہے مس مشاطہ ملک تمہیں اتنے دن اکیلا چھوڑ کر لیکن اب نہیں چھوڑو گا بہت جلد تمہیں اپنے پاس لے کر آؤ گا پھر اپنی بے قراریوں کا تمہیں شدت سے احساس کرواؤ گا کہ تمہیں اتنے دنوں سے نہ دیکھنے کی وجہ سے میں کتنا بے قرار ہوگیا تھا۔۔!!
تصویر کو اپنے عنابی ہونٹوں سے چھو کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
💞💞💞💞💞
“ماما میں اتنے دنوں بعد آپ سے اور بابا بھائی سے ملنے آئی تھی اور آپ مجھے ہاسٹل سے سیدھا یہاں اپنی دوست سے ملانے کیلئے لائے ہیں۔۔!!
مشاطہ کی ماں اُسے ہاسٹل سے سیدھا یہاں ہاسپٹل میں یہ کہہ کر لائے تھی کہ انہیں اپنی ایک دوست کو دیکھنا جو ہاسپٹل میں داخل ہے۔۔
“مش بیٹا وہ میری بہت ہی اچھی دوست ہے ابھی سے نہیں بلکہ ہم دونوں اسکول کے زمانے کی فرینڈ ہے آج جب میں نے اسے کال کیا تو اسکی ملازمہ نے کال اٹھایا تھا تب مجھے اسکی بیماری کا پتہ چلا تو میں تمہیں ہاسٹل سے سیدھا یہاں ہاسپٹل میں لے کر آ گئی کیا تمہیں برا لگا میری بچی۔!!
انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے اسکے سرخ رخسار پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔
“ماما مجھے بھلا کیوں برا لگے گا بلکہ کسی مریض کی عیادت کرنا بہت اچھی بات ہے اور آپ ٹیشن نہ لیں اس بہانہ میں بھی آپکی فرینڈ سے ملوں گی۔۔!!
وہ مسکرا کر انہیں دیکھتی ہوئی آخر میں شرارت سے کہنے لگی۔۔
“مش بیٹا اسکا شوہر ایک غنڈہ ہے اور وہ بہت اکیلی ہے اسکے شوہر نے اسکے دونوں بیٹوں کو بھی اپنے جیسا بنایا ہے اور وہ بلکل بھی ایسا نہیں چاہتی ہے وہ تو اپنے دونوں بچوں کو ایک اچھا نیک انسان بنتا دیکھنا چاہتی ہے لیکن یہ اسکا بے ضمیر شوہر ہونے نہیں دیتا جب بھی وہ اس حوالے سے اس سے بات کرتی ہے تو وہ بے ضمیر انسان اس کی حالت بہت برا کرتا ہے اور پھر وہ دنوں بیمار رہتی ہے۔۔!!
اپنی ماں کی باتیں بغور سنتی اسے یکدم سے اس عورت پر ترس آیا جو اتنی زیادہ تکلیفیں سہنے کے بعد بھی زنده ہے تبھی اسکی ماں ایک روم کے سامنے آ کر رکی تو اسے بھی رکنا پڑا۔۔
“روبینہ یہ تم نے اپنی کیا حالت بنائی ہوئی ہے مجھے بلکل بھی یقین نہیں ہو رہا کہ تم وہی روبی ہو جو خوبصورتی کی مثال ہوا کرتی تھی اور مجھے پتہ ہے تمہاری یہ حالت اس انسان نے کی ہے اب دیکھو تم پہچانی بھی نہیں جا
رہی ہو..!!
وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو سامنے بستر پر لیٹی کمزور اور زخموں سے چور عورت کو دیکھتی اسکی ماں آگے بڑھی اور سامنے کرسی پر بیٹھ کر افسردگی سے کہنے لگی۔۔
“لڑکی تم یہاں سے چلی جاؤ ورنہ وو۔۔وہ تمہیں زنده نہیں چھوڑے گا اگر اُسنے تمہیں یہاں دیکھا تو وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا۔۔!!
روبینہ کہاں اسکی سن رہی تھی وہ تو خوفزدہ نظروں سے مشاطہ کو دیکھ رہی تھی کہ اسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے اضطرابی انداز میں اسے دیکھتی چیخ کر کہنے لگی تو مشاطہ ناسمجھی سے اپنی ماں کو دیکھنے جو خود بھی تعجب سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“فکر مت کریں یہ ابھی ٹھیک ہو جائے گی بس مجھے اور انہیں اکیلا چھوڑ دے۔!!
کب سے روم کے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا اخسم شیرانی ان ماں بیٹی اور اپنی ماں کو اضطراب سے مشاطہ کو کہتے ہوئے وہاں سے جانے کا کہتے ہوئے دیکھ رہا تھا انکی حالت کو اور زیادہ ابر دیکھتا وہ روم میں داخل ہوا اور سنجیدگی سے مشاطہ اور اسکی ماں کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ اسے وہاں دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔۔
وہ اسکو تو کبھی بھی اس عورت کا بیٹا ایکسپٹ نہیں کر سکتی تھی وہ تو ایک ظالم اور وحشی بہت سارے لوگوں کا قاتل تھا تبھی اسکے باپ کا خیال آتے ہی وہ اسے سخت نظروں سے دیکھتی طنزیہ انداز میں مسکرا کر اپنی ماں کو اپنے ساتھ لیے باہر نکلی اور اخسم دادا انکے نکلتے ہی اپنی ماں کی جانب دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بڑھنے لگا۔۔
“دو دن پورے دو دن میں اس سے نہیں ملا تو مجھے لگا کہ میں پاگل ہو جاؤ گا اور بات تک نہیں کی تو ایسا محسوس ہوا کہ میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں۔۔!!
میں نے یہ سوچ کر اس سے ملنے سے خود کو روکے رکھا تا کہ وہ میرے اس پھتر دل کو موم کا نہ بنا دیں جو اسکے ملنے کے بعد آہستہ آہستہ پھگل رہا تھا اور میں خود کو ایک وحشی سے ایک انسان بنتا ہوا دیکھ رہا ہو۔۔!!
وہ ہاتھ انکے دائیں بائیں رکھتا انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے کہتا انہیں اپنے لفظوں سے باور کروانے لگا کہ وہ مشاطہ کو تکلیف پہنچانے والوں کو تو مار سکتا ہے لیکن اسے خود کبھی تکلیف نہیں پہنچا سکتا ہے۔۔
💞💞💞💞💞💞
“پتہ نہیں یہ وحشی انسان اندر اپنی ماں کے ساتھ کیا کر رہا ہوگا کہی آنٹی کو نہیں مشاطہ یہ تم کیا سوچ رہی ہوں بھلا ایک بیٹا اپنی ماں کو مار سکتا ہے۔۔!!
وہ اپنی احمقانہ سوچو میں اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ اسے پتہ نا چلا کہ کب وہ روم سے باہر نکلا اور کب اسکی ماں اندر گئی ہوش تو اسے تب آیا جب کسی کی پرتپش نظروں کا احساس ہوا تو اسنے جھٹکے سے اپنی نظروں کو اوپر اٹھا کے سامنے دیکھنے لگی جہاں اخسم شیرانی سامنے کے بینچ پر بیٹھا اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“اے اپنی نظریں نیچے کروں۔۔!!
وہ غصے سے اسے گھورتی سخت لہجے میں کہنے لگی تو وہ اسکی دھمکی پر معنی خیزی سے مسکرا کر اسے مزید چڑانے کیلئے وہ جزبوں کی آنچ دیتی اپنی سرخ نیلی نگاہوں سے بغور اسکے پورے مومی سراپے کو شوقی سے دیکھنے لگا۔۔
“اخسمِ جانم کبھی سوچا نہیں تھا تُمہاری یہ شمشیر جیسی نگائیں بھی کسی ظالم کو مومن بنا سکتے ہے۔۔!!
وہ دونوں ہاتھ اپس میں جوڑتا آگے کو جھکتا اسے اپنی نظروں کے آثار میں لیتا ذومعنی لہجے میں کہنے لگا تو مشاطہ اسکی بات پر سخت غصے سے اٹھی اور چیخنے ہی والی تھی کہ اچانک سے اخسم دادا اپنی جگہ سے اٹھا اور اسے کلائی سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے ہاسپٹل سے باہر لے جانے لگا۔۔
“چھوڑو مجھے کمینے انسان۔۔؟؟
ہاسپٹل کے باہر ایک سنسان جگہ پر لا کر اخسم دادا نے اسے زور سے سامنے دیوار کی جانب لگا کر اسکے دونوں ہاتھوں کو دائیں بائیں جماتے ہوئے سپاٹ چہرہ لیے اسے بری طرح سے مچلتے ہوئے دیکھنے لگا۔
“ششششش۔۔۔خاموش۔۔!!
وہ ایک ہاتھ سے اسکے دونوں ہاتھوں کو دیوار سے لگائے اور دوسرا اپنی کمر کی جانب بڑھا کر اپنا ریوالور نکال کر اسنے اسکی ٹھوڑی پر رکھتے اُسے وحشت زده کرنے کی کوشش کرنے لگا جو وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی ناکام ہوگیا تھا ۔۔
“نہیں ہوگی میں خاموش زلیل کمینے انسان چھوڑو مجھے جانے دو اندر میری ماں میرا انتظار کر رہی ہوگی۔۔!!
وہ سرخ آنکھیں اوپر اٹھا کر اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھنے لگی جو اس ظالم وحشی انسان کے مضبوط گرفت میں جکڑے ہوئے تھے۔۔
“مشی جانم میں بھی تو تمہارا اتنے دنوں سے انتظار کر رہا ہو تمہیں اپنا بنانے کے لیے اپنا آپ سونپنے کے لئے اور خود کو اس وحشی انسان کے لیبل سے آزاد کرنے کے لیے میں انتظار کر رہا ہو تمہارا اپنی زندگی میں آنے کے لئے تاکہ میں یہ ساری برائیاں چھوڑ کر تمہارے ساتھ ایک بہت ہی اچھی صاف زندگی گزار سکوں۔۔!!
اسکے ہاتھوں کو آزاد کرتا وہ ریوالور اُسکے سامنے کرتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا اور اسے یقین دلانے لگا کہ وہ اسکے بدلے میں اپنی اس زندگی کو چھوڑ دیں گا۔۔
“نہیں تُم جیسے انسانوں کی فطرت کبھی نہیں بدل سکتی تم چاہیے کتنے ہی شریف کیوں نا بن جاؤ مسٹر اخسم دادا لیکن رہوں گے یہی جو ابھی تم میرے سامنے کھڑے ہو۔۔!!
وہ اپنی دونوں کلائیوں کو مسلتی ہوئی اس سے دور ہوئی اور اسکے غنڈوں والے حلیے کی طرف اشاره کرتی نفرت سے کہتی تیزی سے ہاسپٹل کی جانب بھاگی اور وہ غم و غصے سے اسے خود سے دور ہوتا ہوا دیکھنے لگا۔۔
اور جب مشاطہ اسکی نظروں سے اوجھل ہوئی تو وہ آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے ریوالور کو اپنی کنپٹی پر رکھتا شدت سے چیخنے لگا لیکن ٹریگر دبانے سے پہلے ہی تیزی سے پیچھے سے کسی نے آکر اس جنونی انسان کے ہاتھوں سے ریوالور چھینا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
“پلیز خان ممم۔۔میں اور کسوا بائیک۔۔!!
اس سے پہلے کے وہ زرلش کے اوپر جھکتا اتنی ہی تیزی سے زرلش نے دانتوں کو ہونٹوں کے درمیان دباتے ہوئے کہا۔۔
اسکی بات پر عرشمان خان پیچھے ہٹا اور اسے دیکھنے لگا جو سچ بتا کر اب اسکے ری ایکشن کا ویٹ کر رہی تھی۔۔
“افففف خانی تم کب بڑی ہوگی پہلے بھی منا کیا تھا کہ تم بائیک کا لفظ بھی اپنی زبان سے نہیں نکالو گی اور تم رات کے بارہ بجے کسوا کو لے کر تمہیں پتہ بھی ہے تم لوگوں کے ساتھ کیا ہو سکتا تھا اگر تم لوگ باہر چلی جاتی ہاں معلوم تو ہے ناں آجکل حالات کیسے چل رہے ہیں۔۔!!
غصے سے بیڈ پر زرلش کے دائیں جانب سامنے رکھے کشن پر شدت سے ہاتھ مارتے ہوئے کہنے لگا۔۔
زرلش جو اسکی نیلی آنکھوں میں غصے کی سرخی دیکھ کر ڈر گئی تھی اسکے کشن پر مکا مارنے پر وہ اپنی آنکھیں سختی سے میچنے لگی۔۔
“خان آئی ایم سوری مجھے واقعہ میں پتہ نہیں تھا کہ آج کل حالات سہی نہیں ہے اور اس بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں کہ رات کے بارہ بجے باہر نکلنے کی وجہ سے ہمارے ساتھ کچھ حادثہ بھی تو ہوسکتا ہے اور آپ نے سچ کہا کہ میں اب بچی نہیں ہو بڑی ہوگئی ہو اور اب مجھے اپنی ان بچکانی حرکتوں پر کنٹرول رکھنا ہوگا۔۔!!
زرلش آنکھیں کھول کر اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو عرشمان خان نے سنجیدگی سے پیچھے ہٹتے ہوئے نیچے زمین پر پڑی اپنی شرٹ کو اٹھایا اور پہن کر پیچھے مڑے بغیر اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مجھے پتہ ہے تم نے بائیک رائڈ کی خوشی میں کچھ کھایا نہیں ہوگا اپنا حلیہ درست کر کے باہر آؤ جب تک میں تمہاری پسند کا پیزا آدر کرتا ہو۔۔!!
وہ اسکی چوڑی پشت کو دیکھتی اپنا سر ہلانے لگی۔۔
“کیا منہ میں زبان نہیں ہے تمہارا زر بی بی جو ہمممم سے کام چلا رہی ہوں۔!!
وہ اسکے ہمممم کرنے پر سخت غصے سے پیچھے مڑا اور اسے کندھوں سے سختی سے پکڑتا سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“جج۔جی خان وہ میرا مطلب میں ابھی آتی ہو آپ جب تک پیزا آدر کریں۔!!
وہ اسکی سخت نظروں سے خائف ہوتی تیزی سے کہنے لگی تو ابکے عرشمان خان نے اسکے سراپے کو بغور دیکھا جو اسکی مزاحمت کرنے پر بے ترتیب ہو گیا تھا
اسکی شرٹ کندھوں سے کھسک کر نیچے آ کر اسے دعوت نظارہ پیش کر رہا تھا وہ ضبط سے اپنی نظروں کو اسکی گوری گوری شولڈر سے ہٹاتا قدم آگے بڑھاتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکی شرٹ کو درست کرنے ہی والا تھا کہ نظریں دوسری جانب ہونے کی وجہ سے اسکی انگلیاں غلطی سے اسکی مومی کندھوں سے ٹچ ہوا تو اسکی برداشت نے بھی اسے جواب دے دیا۔۔
“خان جی یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔!!
زرلش اسکے یکدم سے اپنی جانب کھینچنے پر اسکی پشت سے جا کر لگی اور وہ اسکا پشت اپنے سینے سے پر لگے دیکھتا بے خودی سے اسکے براؤن گھنے بالوں کو دائیں جانب کندھوں سے ہٹاتا دوسری جانب کرتا وہ کندھے پر جھکتا شدت سے اسکے مومی جیسے کندھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے چھوتا اپنے پرتپش لبوں کو اس جگہ پر رکھ کر جہاں سے شرٹ کھسک کر نیچے آ گیا تھا چھونے لگا اور وہ اپنی آنکھیں زور سے بند کیے اسکے لمس کو کانپتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔
“خان جی مم۔۔مجھے بھوک لگ رہی ہے پلیز جلدی سے پپ۔۔پیزا آدر کرے ناں۔۔!!
وہ اپنے کندھے پر اسکے لبوں کو محسوس کرتی آنکھیں سختی سے میچتے ہوئے تیزی سے اپنی بھوک کا اسے کہنے لگی۔۔
“خانی اتنی بھی جلدی کیا ہے پیزا کھانے ہم پھر کبھی باہر جائے گے ابھی مجھے صرف تمہیں محسوس کرنا ہے تمہیں دیکھنا ہے۔۔!!
وہ بوجھل لہجے میں کہتا اسے سامنے بیڈ پر بیٹھا کر خود نیچے گھٹنوں کے بل پر بیٹھا اُسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“پر خان جی مجھے تو پیزا ابھی کھانا ہے اور مجھے سخت بھوک بھی لگ رہی ہے اگر ابھی میں نے کچھ نہیں کھایا نا تو میں ساری رات سو نہیں سکو گی۔۔!!
وہ اسکی خماری لیے نظروں کو دیکھتی سخت گھبرا کر بولی۔۔
“ایک شرط پر خانی آج تو میں تمہاری بات مان رہا ہو مگر رخصتی کے بعد تم صرف میری مانو گی منظور ہے تمہیں یہ شرط۔۔؟؟
وہ اپنی چوڑی ہتھیلی سامنے پھیلا کر کہنے لگا تو زرلش نے سر ہلاتے ہوئے اپنا مومی ہاتھ اسکی ہتھیلی پر رکھا۔۔
💞💞💞💞💞
“صنم آپ بہت کیوٹ لگ رہے ہیں بلکل میری ڈول کی طرح اور یہ لگاؤ گی نا تو آپ ڈول سے بھی زیادہ اچھے لگے گے۔۔!!
شمش بیڈ پر آنکھیں بند اسکی بے حد نزدیک موجودگی کو بھی محسوس نا کر سکا کیونکہ وہ بڑے ہی ہوشیاری سے اسکے پاس نزدیک بیٹھی اپنا کارنامہ سر انجام دے رہی تھی۔
“عیشو جانم آپ کیا کر رہی ہے۔۔؟؟
وہ گہری نیند میں تھا تبھی اسے اپنے چہرے اور ہونٹوں پر اسکی نرم مرمری انگلیاں محسوس ہوئی تو وہ اپنی آنکھیں کھولے بغیر اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے اوپر گراتا گھمبیر آواز میں اسکے کان کے پاس سرگوشی کرنے لگا۔۔
“صنم وہ میں تو کچھ بھی نہیں کر رہی ہوں۔۔!!
وہ اپنے پکڑے جانے کے خوف سے اپنے سامنے رکھی اپنی ڈول کی میک اپ والی کٹ کو ہاتھ لگا کر بیڈ سے نیچے پھینک کر اپنے سرخ لبوں کو دانتوں تلے دبا کر جلدی سے کہنے لگی ۔۔
شمش نے اپنی آنکھیں کھول کر اسکے سرخ رخسار پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے بغور دیکھا جو آج پہلی بار اسکے چھونے پر سرخ ہو رہی تھی اور یہ دیکھ کر شمش کو یکدم سے اسکے سرخ رخساروں کو دیکھ کر خوشگوار احساس ہوا کیونکہ اب اسے ایک امید ہو گئی تھی کہ اسکی عیشو اسکی توجہ اور محبت سے ٹھیک ہو سکتی ہے۔۔
“عیشو اگر آپ نے کچھ نہیں کیا ہے تو پھر یہ لپ اسٹک کہا سے میرے لبوں پر آ کر لگا ہے۔۔؟؟
وہ اپنے لبوں سے اُسکے گال کو چھو کر اسکی لپ اسٹک لگے سرخ گالوں کی جانب اشاره کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“صنم مجھے کیا پتہ کہا سے آپکو لگا میں تو یہاں بیٹھ کر اپنا فیورٹ ڈول سے کھیل رہی تھی۔۔!!
وہ خفگی سے اپنے ہاتھوں کو اسکے چوڑے سینے پر رکھتی اس کی سیاه آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو شمش نے محبت سے اپنے لبوں سے اسکے گالوں کو چھوا اور پھر نیچے کی جانب بڑھا اور اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔
“عیشو جانم آپ اپنی فیورٹ ڈول کی روح سے کھیل رہی تھی کیا جو مجھے آپکے ہاتھ پر اور یہاں بیڈ پر آپکا وہ کیوٹ ڈول نظر نہیں آ رہی ہے۔۔؟؟
وہ اسکی سرخ ناک کو نرمی سے اپنے لبوں سے چھوتا معنی خیزی سے مسکرا کر اسے پوچھنے لگا تو عیشال اپنی چوری ہکڑے جانے پر سٹپٹا کر اسے دیکھنے لگی جو مخمور نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“صنم وہ مجھ سے زیادہ کیوٹ نہیں ہے اور اگر آپ نے میرے علاوه کسی کو کیوٹ کہا نا تو میں آپکو ہرٹ کروں گی وہ بھی یہاں۔۔!!
وہ اپنے ہاتھ اسکے بیرڈ پر پھیرتی خفگی سے کہنے لگی تو شمش اسکی دھمکی پر مسکرا کر اُسکی کمر پر اپنا گرفت سخت کرتا جزبات کی رو میں بہتا اپنے دہکتے لبوں سے اُسکے لبوں کو چھونے لگا اور وہ اسکے لمس پر شدت سے آج پہلی بار عیجب احساس محسوس کرتی اپنی ڈھرکنوں کو تیز چلتے ہوئے محسوس کرتی آنکھیں سختی سے میچنے لگی۔۔
“عیشو جانم ہماری ایسی مجال کہا جو ہم اپنی معصوم پری کے علاوه کسی اور کو کیوٹ بولے۔!!
وہ اسے چھوڑ کر شریر لہجے میں کہنے لگا تو عیشال اپنی سانسوں کو بحال کرتی اسے نم آنکھوں سے دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
