Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

“مزا آئے گا صنم جب آپ اپنی تصویروں کو صبح اٹھ کر اپنے سامنے دیوار پر دیکھے گے۔۔!!
عیشال سب سے ملنے کے بعد جب روم میں آئی تو شمش کو بیڈ پر لیٹے ہوئے دیکھ اُسے ایک شرارت سوجھی تو وہ بیڈ پر شمش کے نزدیک آئی اور اپنا اسمارٹ فون اُسکے خوبرو چہرے کے بے حد قریب کرتی ایک ایپ سے اُسکی مزاحیہ تصویریں کھینچنے لگی۔۔
“بہت کیوٹ لگ رہے ہیں آپ۔۔!!
تصویروں کو ہاتھ سے چھوتی وہ شمش کے پرسکون چہرے پر ایک نظر ڈالتی ہنس کر ہلکی آواز میں بولی جو سویا ہوا تھا۔۔
“ہاں ایک اور فنی پوز تو بنتا ہے آپکا میرے صنم جانی۔۔!!
وہ شریر نظروں سے اُسے دیکھتی اپنے سیل فون کو اور شمش کے زیادہ نزدیک کرتی وہ خود بھی اُسکے اوپر جھکی تبھی اچانک سے اُسکے ہاتھوں سے فون چوٹ کے شمش کی سائیڈ پر گرا تو وہ سٹپٹا کر تیزی سے پیچھے ہوئی اور فون کو اُسکے نیچے دیکھنے لگی جو اسکی کروٹ بدلنے پر اسکے نیچے دب چکا تھا۔۔
“اب میں کک۔کیا کروں یہ تو غصہ کرے گے جب انکی نظریں اِن فنی تصویروں پر پڑ جائے گی۔۔!!
وہ سخت گھبراہٹ کے مارے اپنی انگلیوں کو مڑورتی ہوئی خود سے بولی۔۔
“عیشو کچھ سوچ ورنہ تیری خیر نہیں۔!!
ہلکی آواز میں بڑبڑاتی وہ اُسے دیکھنے لگی جو منہ کے بل لیٹا تھا اور فون آدھا اسکے نیچے دبا ہوا تھا اور آدھا باہر جھانک رہا تھا وہ ڈرتی ہوئی ہاتھ آگے بڑھا کر کسی بھی طرح سے فون کو نکالنے کی کوشش کرنے لگی تبھی شمش نے اُسے کمر سے پکڑا اور اپنے اوپر گرا کر خمار آلود لہجے میں آنکھیں اسی طرح بند کیے کہا۔۔
“عیشو جانم یہ تُم کیا کر رہی تھی۔۔؟؟
کمر پر گرفت سخت کرتا وہ اپنی آنکھوں کو کھول کر اُسکی لرزتے ہونٹوں کو دیکھنے لگا جو اُسکی کمر پر گرفت کی وجہ سے بری طرح سے لرز رہے تھے۔۔
“کچھ بھی تو نہیں صنم۔۔!!
اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتی وہ اسے دیکھتی جلدی سے بولی تو شمش اسکی کمر پر شدت سے اپنی گرفت کو سخت کرتا اُسکی گردن سے نیچے دیکھنے لگا وہ اسکی نظروں پہ پزل ہوتی خود کو چھڑانے لگی۔
“بز بزززززز۔!!!
شمش جو اسکے چہرے کے خدو خال میں کھویا ہوا تھا کہ اپنی کمر پر کسی چیز کے رینگنے کا احساس ہوا تو عیشال کو پیچھے کرتا اٹھا اور وہاں فون کو دیکھتے ہوئے عیشال کو اپنی ترچھی نظروں سے دیکھنے لگا جو اب ڈر کے باعث اپنی آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی۔۔
“عیشو میں نے یہ فون یہاں وہاں پھیکنے کیلئے تو تُمہیں نہیں دیا تھا۔۔!!
وہ اُسے ٹھوڑی سے پکڑ کر پوچھنے لگا تو عیشال اسکی بات پر بری طرح سے کانپی تو شمش کو اب شک ہوا کہ ہو نہ ہو اس لڑکی نے پھر سے اسکے ساتھ کچھ کیا ہوگا۔۔
“وہ صنم جو آپ سمجھ رہے ویسا کچھ بھی نہیں کیا ہے میں نے۔۔!!
وہ اُسکی سخت نظروں کو اپنے اوپر محسوس کرتی سخت کنفیوژ ہوتی ہوئی کہنے لگی تو شمش اسکی بات پر آگے بڑھا اور اسے شانوں سے پکڑ کر بغور اُسکے چہرے کو دیکھنے لگا۔
“مجھے کیوں لگ رہا ہے عیشو کے اس بار تُم نے بہت بڑی حماقت کی ہے۔۔!!
اُسکے کنفیوژ چہرے کو مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا تو عیشال سخت سٹپٹا کے اسے دیکھنے لگی جو مشکوک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“نہیں صنم میں نے کچھ بھی نہیں کیا ہے اس بار آپ کے ساتھ تو بلکل بھی نہیں آئی سیور۔۔!!
اپنی شے رگ پہ ہاتھ رکھتی وہ اُسے معصومیت سے دیکھتی ہوئی بولی تو شمش اسکی شے رگ سے اُسکا ہاتھ ہٹاتا اپنا ہونٹ رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اسکی حرکت پر ساکت رہ گئی تھی۔
“جانم تُم اتنی کیوں اپنی انرجی ویسٹ کر رہی ہوں میں نے تُمہیں منہ ٹھہرے کرتے ہوئے پوز بناتے ہوئے دیکھ لیا تھا میری آنکھیں بند تھی تو اُسکا مطلب نہیں کہ میں تمہاری حرکتوں کو نہیں دیکھ سکتا دیکھ ہی رہا تھا میں اپنی آنکھوں کی جھریوں سے میں تُمہارا صنم ایسے تُم سے غافل نہیں رہتا ہر وقت تُمہاری حرکتوں سے واقف ہوں کہ تُم کب کیا کرتی ہو اور کیا نہیں۔۔””
اُسے نیچے بیڈ پر لیٹا کر وہ دونوں ہاتھوں کو تکیے پر دائیں بائیں رکھ کر اُسکے چہرے پر جھکا اور اُسکے ہونٹوں کو اپنی ہونٹوں کی گرفت میں لے کر شدت سے چھونے لگا۔۔
“صنم آپ۔۔”
اُسکے دہکتے لبوں کا لمس اُسکی جان کو سنگ لاخ کئے جا رہا تھا۔۔اُسکی شدتوں پہ اُسکی ہتھیلیوں پر پسینہ پوٹنے لگے تو حواس اوسان لگے تھے۔۔
نزاکت لے کر آنکھوں میں وہ اُن کا دیکھنا واللہ۔
الہی!ہم اُنہیں دیکھیں یا اُنکا دیکھنا دیکھیں۔!
عیشال کی آنکھوں کو اپنی آنکھوں میں گڑھے دیکھ کر وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اُسکی آنکھوں کو باری باری چھومنے لگا۔۔
“صنم میرا فون۔۔!!
اُسکی نظروں کی تپش پر وہ سخت بوکھلا کر بولی تو شمش اسکی بات پر مسکرایا اور پیچھے ہٹا اور اسکا فون آگے بڑھا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اُسکے فون بڑھانے پر ہاتھ آگے بڑھا کر اپنا فون لینے لگی تو شمش نے فون بیڈ پر اچھال کر اسے اپنے اوپر گرایا اور لیمپ کو بجھا کر اُسکے اوپر جھکا اور شدت سے اسکے لبوں کو اپنے دہکتے لبوں سے چھونے لگا پھر نیچے ٹھوڑی کو چھو کر وہ گردن کی جانب سفر کرتا نیچے جھکتا چلا گیا۔۔
عیشال اسکے دہکتے لبوں کو اپنی گردن سے نیچے سرکتا ہوا محسوس کرتی شدت سے چادر کو دبوچنے لگی اور سر کو تکیے پر ادھر ادھر کرنے لگی شمش اسکے اوپر جھکا اسی طرح ساری رات اپنی شدتوں کو اس پر لوٹانے لگا تو عیشال اسکی لمس پر ساری رات جھٹپھٹاتی اور تڑپتی رہی تھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آج پتہ چلے گا عرشمان خان کے زرلش کس کو کہتے ہیں۔۔؟؟
وہ عرشمان کے سونے کا سہی فائدہ اٹھاتی ہوئی بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اُسکی کار کی چابی کو اٹھا کر تیزی سے الماری سے اپنی سرخ ساڑھی کو نکال کر ڈریسنگ روم کے اندر گھسی وہ آج صبح ہی صبح اُس سے بدلا لینا چاہتی تھی اُسے اس حلیے میں ٹڑپا کہ اُسکی کل رات کی حرکت پر ابھی تک وہ سخت غصے میں تھی۔۔
“عرشمان خان اب میں دیکھتی ہوں کہ تُمہیں اپنی کار کی چابیاں کیسے ملتی ہے۔۔!!
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوکر وہ چابی کو اپنی کمر پر لٹکا کر شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی اور پھر اُسے دیکھتی وہ اپنے قدم پیچھے دروازے کی جانب بڑھانے لگی۔۔
“یہ میرا دل پیار کا دیوانہ۔۔!!
بیڈ روم سے نکل کر گنگناتی ہوئی کچن کی جانب بڑھی وہ اتنے دنوں سے یوٹیوب پر کوکنگ سیکھ رہی تھیں اور آج اسے ٹرائی کرنے کا موقع ملا کہ وہ یوٹیوب سے کتنا سیکھی ہے۔۔
“کیا بناؤ ہاں آملیٹ۔۔!!
وہ کچن میں داخل ہو کر بڑبڑاتی ہوئی کہنے لگی تو آملیٹ کا سوچتی وہ فریج کی جانب بڑھی اور اندر سے انڈے اور ٹماٹر وغیرہ نکال کر ان چیزوں کو کچن کاؤنٹر پر رکھتی پیاز کٹنگ بورڈ پر رکھ کر نفاست سے کاٹنے لگی۔۔
“زے نصیب خان بیگم صبح ہی صبح کیا مارنے کا اراده ہے ہم معصوم کو جو آپ اتنی ہتھیاروں سے لیس ہے واللہ ہم آپکی نزاکت کو دیکھے یا آپکی خوبصورت قیامت کیز حُسن کو رو رعایت (زیر نظر) کرے۔۔!!
وہ کن انکھیوں سے اُسکی ساڑھی میں لپٹے نازک سراپے کو اپنی ‌پرشوق نگاہوں میں بسا کر کہنے لگا تو زرلش یکدم سے پیچھے پلٹ کر اسکی گردن پر تیز دار چاقو کو رکھتی اُسے اپنی تیز نظروں سے گھورتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“پیچھے خان صاحب ورنہ ہم آپکی گردن اس چاقو سے آپکے تن سے جدا کر دے گے۔۔!!
وہ سخت غصے سے بولی تو عرشمان خان کی نظریں بھٹک کر نیچے اُسکی کمر پر اپنی کار کی چابی پر پڑی تو اُسکی اتنی تیاریوں کو وہ اچھے سے سمجھ گیا کہ وہ پاگل لڑکی اس حلیے میں اس سے کل رات کا بدلا اچھے سے لینا چاہتی ہے اور اسے مسلسل خود سے دور کر کے وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ کامیاب ہوگئ تو یہ اسکی غلط فمہی تھی وہ یہ سب سوچتا یکدم سے مسکرایا۔۔
“ہوں تو زرلش بی بی تُم اپنے اِس قیامت کیز حُسن سے مجھے ٹڑپانا چاہتی ہوں اب دیکھنا میں کیسے اس حّسن اور موقع کا فائدہ اٹھاتا ہوں۔۔!!
وہ دل ہی دل میں کہتا اچانک سے نیچے اسکے بے حد نزدیک گھٹنوں کے بل بیٹھا اور پھر پشت پر بکھرے اُسکے لمبے اور گھنے بالوں کو بے خودی سے پیچھے سے ہٹاتا وہ اسکی نازک کمر کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں خان۔۔؟؟
وہ نیچے گھٹنوں کے بل اپنے قریب بیٹھنے اور اپنی ساڑھی کے پلو کو ہٹانے اور کمر کو سختی سے پکڑنے پر یکدم سے ساکت رہ گئی تو تبھی اچانک سے اُسکی ہونٹوں کی نمی کو وہ شدت سے اپنی نازک کمر پر محسوس کرتی تڑپ کر بولی۔۔
“چشمِ بدور اِسے پیار کرنا کہتے ہیں جو ہم تم سے کر رہے ہیں۔۔!!
اچانک سے کھڑے ہو کر اُسنے اُسے کچن کاؤنٹر پر بیٹھایا اور اُسکی نوز پن کو چھو کر وہ بوجھل لہجے میں کہنے لگا تو زرلش اسکی بات پر بری طرح سے کانپ کر اپنی بے ترتیب حلیے کو بے بسی سے دیکھنے لگی جو شانوں سے پلو نیچے کھسک کر دعوت نظارہ پیش کر رہا تھا وہ تیزی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر پلو کو ابھی درست کرنے ہی والی تھی کہ۔۔‌
عرشمان نے اُسکے دونوں ہاتھوں کو پیچھے لے جاکر سختی سے اپنے ایک ہاتھ سے لاک کیا اور پھر دوسرے ہاتھ کی انگلی سے اُسکی صراحی دار گردن کو چھوتا اپنی انگلی کو آہستگی سے نیچے کی جانب لے جانے لگا۔۔
“خان آپکو شرم نہیں آتی میں کچن میں آپ کے لیے اتنی گرمی میں ناشتہ بنا رہی ہوں اور آپ کو رومینس سوجھ رہی ہے اور یہ وقت ہے ان سب چیزوں گا۔۔!!
وہ سخت غصے سے بولی تو عرشمان خان نے اچانک سے اسکے ہونٹوں پہ اپنا ہونٹ رکھ کر اسکی آواز کو بند کر دیا اور وہ بے چاری اُسکی حرکت پر بس اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھتی ہی دیکھتی رہ گئی۔۔
“خانی آپ خود موقع دیتی ہے ہمیں پیار کرنے کا اور اب کیا ضرورت تھی صبح ہی صبح میرے موڈ کو جگانے کا ہاں اب بھگتو میری پیار و جنون کی گرمی کو ڈارلنگ۔۔!!
اسے اُپنی گود میں اٹھا کر وہ اُسے لیے اپنے اور اسکے بیڈ روم کی جانب بڑھا جبکہ زرلش خود کو کوستی ہوئی اسکی گرفت میں بری طرح سے مچلنے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آپ کب تک آئے گے ہاسپٹل سے۔۔؟؟
ڈائینگ ٹیبل پر دونوں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کہ مشاطہ نے اس سے پوچھا جو ناشتہ کر رہا تھا۔۔
“مشی کچھ پتہ نہیں تین سال بعد جا رہا ہوں ان سب کا ری ایکشن کیا ہوگا کچھ نہیں جانتا اور خاص کر جونئیر ڈاکٹرز پتہ نہیں کیسے ہونگے انہیں بھی مجھے ہینڈل کرنا ہے۔۔!!
اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا پھر اسکے اترے ہوئے چہرے کو مسکراتی نظروں سے دیکھتا ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنی جانب متوجہ کرتا کہنے لگا۔۔
“تُم نے اگر آج کئی گھومنے کا پروگرام بنایا ہے تو میں آج چھٹی کرلیتا ہوں۔۔!!
مشاطہ اسکی بات پر نفی میں سر ہلانے لگی اپنے چہرے پر خوشگوار تاثرات قائم کر کے وہ اسے بھنک بھی پڑنے نہیں دینا چاہتی تھی کہ آج وہ پورا دن اسکے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔
“نہیں تو آج میں نے کچھ الگ اور خاص سرپرائز سوچا ہے آپکے لیے میرے کھڑوس ڈاکٹر۔۔!!
وہ شریر نظروں سے اسے دیکھتی کہنے لگی تو اسکی بات پر شمویل خان مسکرایا۔۔
“اور بیوی وہ خاص اور الگ سرپرائز کیا ہے۔۔؟؟
اُسے مخمور نظروں سے دیکھتا گھمبیر لہجے میں پوچھنے لگا تو وہ شرماتی ہوئی اپنی نظروں کو جھکا کر اسے خفگی سے بولی۔
“سرپرائز ہے وہ آپکو رات کے ڈنر کے بعد پتہ چل جائے گا۔۔!!
وہ اسے دیکھنے سے کترا رہی تھی کیونکہ اُسکی بے باک نظروں کو اپنے اوپر محسوس کر رہی تھی۔۔
“اوکے جانم ہم شدت سے ویٹ کرتے ہے اِس حسین رات کا۔!!
اُسکے لیے اپنی نظروں میں بے پناه محبت سموئے گھمبیر لہجے میں کہتا اٹھا اور اُسکے ہاتھوں کو چھوم کر وہ بے خودی سے اُسکی پیشانی کو چھوتا نیچے سرخ و سفید رخساروں کو باری باری چھومنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ڈاکٹر آذر اُس زخمی شخص کا جسے ابھی ہاسپٹل لایا گیا ہے اسکا آپریٹ کرنا بے حد ضروری ہے وہ سیریس کنڈیشن میں ہے اور اِس وقت صرف ڈاکٹر صاحبہ کے علاؤہ میرے ساتھ ہاسپٹل میں کوئی اور ڈاکٹر نہیں ہے۔۔!!
ڈاکٹر اذلان پریشانی سے سینئر ڈاکٹر آذر کے کیبن میں کھڑا انہیں دیکھتے ہوئے اس مریض کے بارے میں بتانے لگا جس کی حالت سخت خراب تھی اور اگر اسکا آپریشن ابھی نہیں کیا ان لوگوں نے تو وہ مر بھی سکتا تھا اور وہ یہ بلکل بھی نہیں چاہتا تھا لیکن ڈاکٹر آذر کو کسی سیمینار میں شرکت کیلئے جاتے ہوئے دیکھ اب وہ پریشانی سے انہیں اس مریض کی کنڈیشن کے متعلق بتا رہا تھا اور وہ بھی اب بہت پریشان ہوگئے تھے کیونکہ اگر اس مریض کو کچھ ہوا تو یہ انکے ہاسپٹل کے لیے اچھا نہیں تھا۔۔
“ڈاکٹر اذلان اب میں کیا کرو میرا سیمینار میں جانا بھی بے حد ضروری ہے اور اس مریض کو ایسے اس حالت میں میں اکیلے چھوڑ کر جانا بھی نہیں چاہتا ہوں۔۔!!
انہوں نے پریشانی سے کہا۔۔
“مے آئی کم آن۔۔؟؟
دونوں پریشانی سے کھڑے اس مسلے کو لے کر کچھ سوچ رہے تھے کہ پیچھے سے ایک خوبصورت گھمبیر آواز سن کر وہ دونوں پلٹے تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ وہ ساکت رہ گئے سامنے ڈاکٹر شمویل خان کو کھڑے دیکھ دونوں خوشی بھی محسوس کرنے لگے تھے اور حیرت بھی کیونکہ وہ پورے تین سال بعد یہاں واپس آیا تھا۔۔
“ڈاکٹر شمویل خان تم۔۔!!
ڈاکٹر آذر ہوش میں آ کر خوشی سے آگے بڑھے اور اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔
“یس سر میں واپس آگیا ہوں۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہتا سامنے کرسی کھسکا کر بیٹھا اور ڈاکٹر اذلان کو دیکھنے لگا جو ابھی تک ساکت کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“ڈاکٹر اذلان یہ آپکی ابھی تک شاکڈ والی بیماری نہیں گئی ہے۔۔؟؟
وہ اسکی منہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا جو اسے تین سال بعد دیکھ شاکڈ کے باعث پورا کھل گیا تھا۔۔
“شمویل سر آپ یہ سس۔۔سچ میں آپ ہے کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ہوں۔۔!!
وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا اور اسے چھوتے ہوئے کہنے لگا تو اسکے چھونے پر سخت نظروں سے گھورنے لگا اور وہ اسکے گھورنے پر جلدی سے پیچھے ہٹا۔۔
“نہیں ڈاکٹر اذلان یہ میں نہیں ہو بلکہ میرا بھوت ہے جو تین سال بعد مجھے بنا پوچھے یہاں آیا ہے۔۔!!
پیپر ویٹ کو سنجیدگی سے ہلاتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو ڈاکٹر اذلان اسکی بات پر مسکرایا کیونکہ وہ اس کھڑوس کی انہیں باتوں کو تو تین سال سے مس کر رہا تھا۔۔
“ڈاکٹر شمویل اچھا ہوا تم وقت پر آئے ہوں یہاں کیونکہ اس وقت ہمیں آپکی سخت ضرورت ہے اگر میرے لیے یہ سیمنار اہم نا ہوتا تو میں آپ کو کبھی نا کہتا لیکن ابھی مریض کی جان بچانا بھی ضروری ہے۔۔
اور میرا اس سمینار میں جانا بھی سو آپ پلیز ڈاکٹر اذلان کی ہلیپ کرے اسطرح آپ سے جونئیر ڈاکٹرز کو بھی کچھ سیکھنے کو ملے گا اور ویسے بھی آپکی اسکل بہت لاجواب ہے وہ اگر انہیں فالو کرے گے تو آپ کی طرح ایک کامیاب سرجن بنے گے۔۔!!
ڈاکٹر آذر نے کہا۔۔
ڈاکٹر آذر یہ بھی پوچھنے کی بات ہے کسی بے گناہ کی جان بچانا تو ہم ڈاکٹروں کا فرض ہے اور تُم پہلے نہیں بتا سکتے تھے کہ کسی کی جان کو خطرہ ہے اپنی باتوں میں لگ کر دیکھو تم نے کتنا وقت برباد کر دیا دیم اٹ۔!!
ڈاکٹر آذر کو کہنے کے بعد وہ ڈاکٹر اذلان سے سخت غصے سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھا اور سامنے لٹکے ڈاکٹر آذر کے وائٹ کوٹ کو اٹھا کر پہننے لگا اور پھر کیبن سے باہر نکلا اور اپنے قدم اپنے لوکر کی طرف بڑھانے لگا تاکہ دوسری چیزیں وہاں سے نکال سکے اُسنے یہاں آنے سے پہلے اپنی جاب کیلئے پھر سے اپلائی کیا تھا اور بنا سر دردی کے اُسے اپنی تین سال پہلی کی وہی سیٹ مل گئی جو اُسکی تھی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ڈاکٹر اذلان یہ ہمارے سینئر ڈاکٹر شمویل خان اتنے اکڑو کیوں ہے۔۔؟؟
صاحبہ جو انکی جونئیر تھی اسنے ڈاکٹر اذلان کو ڈاکٹر شمویل خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ابھی ابھی آپریشن تھیٹر سے سیدھا یہاں شاید کینٹین میں کافی
پینے کے لئے آیا تھا۔
“تُم خود جاکر اُس سے کیوں نہیں پوچھ لیتی۔۔؟؟
ڈاکٹر اذلان نے چڑ کر کہا کیونکہ جب سے وہ واپس آیا تھا ساری لڑکی اسکے سامنے بیٹھ کر اُس ڈاکٹر کھڑوس کے گن گاتی تھیں اور یہ بات اسے سخت غصہ دلاتا کہ وہ بھی اچھا خاصا ہینڈسم ہے۔۔
ہاں شمویل سے کم لیکن ہے تو مگر یہ ساری اندھی لڑکیاں اسے چھوڑ اس اکڑو اور کھڑوس کے پیچھے ایسی بھاگتی تھیں۔۔
جیسے خرگوش ایک گاجر کے پیچھے بھاگتا ہے اور جب وہ کھڑوس صاحب ان پر صرف ایک سخت نظر ڈال لیں تو وہ ساری اسکے پاس آ کر اپنا رونا لے کر بیٹھ جاتی تھیں۔۔
کہ اس کھڑوس صاحب نے کیوں انہیں اسطرح غصے سے گھورا اور تب جاکر ڈاکٹر اذلان کے دل میں ٹھنڈ پڑ جاتی اور پھر وہ ان ساری لڑکیوں کو مایوس دیکھکر اور پھر وہ روز آتے جاتے انہیں یہ چھیڑ کر آگے بڑھ جاتا کہ اور بھاگو اس کھڑوس کے پیچھے اور وہ لڑکیاں بدلے میں اسے غصے سے گھورتی رہتی تھی۔۔
“نا بابا نا میں تو نہیں پوچھو گی کون بھلا ہاتھی کے پیر کے نیچے خود کو دے گا اس دن یاد ہے کشمالہ کے ساتھ اسنے کیا کیا تھا۔۔!!
صاحبہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا تو اذلان کو وہ دن یاد آیا جب کشمالہ نے شمویل خان کو کافی پیش کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہ کافی اسنے اپنے ہاتھوں سے خاص اسکے لیے بنایا تھا پھر کیا تھا۔۔
یہ آفر سن کر خان صاحب کا خاندانی غصہ ناک پہ اور کافی سیدھا کھڑکی سے باہر اور کشمالہ سیدھا اپنے کیبن میں یہ یاد آتے ہی ڈاکٹر اذلان اچانک سے زور دار قہقہہ لگا اٹھا اور شمویل خان جو اسی کی جانب آ رہا تھا اسے پاگلو کی طرح قہقہہ لگاتے ہوئے دیکھ اسے پاگل گردانتے ہوئے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھا اور کافی کا سپ لینے لگا۔۔
“ڈاکٹر اذلان یہ ڈوز بہتر رہے گا تمہارے لیے۔۔!!
کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر ڈاکٹر کھڑوس نے پین اپنی کوٹ کے آگے والی جیب سے نکالا اور ہاتھ آگے بڑھا کر ڈاکٹر اذلان کے سامنے رکھے ٹشو پیپر پر ایک دوائی کا نام لکھتے ہوئے آخر میں ٹشو اسکی طرف بڑھاتے ہوئے پین واپس جیب میں رکھتا اٹھا اور سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو سخت تعجب سے ٹشو پیپر میں سکون آور انجکشن کے ڈوز کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“ڈاکٹر شمویل یہ کس لیے میں تو فرسٹ کلاس ہو مجھے سکون کی ضرورت نہیں ہے۔۔!!
وہ منہ کھولے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو شمویل خان آگے کو جھک کر اپنے اسی سپاٹ لہجے میں کہنے لگا جو وہ سب کے سامنے ہمشیہ سے استمعال کیا کرتا تھا۔۔۔
“ڈاکٹر اذلان جب انسان اس طرح اکیلے بیٹھ کر مسکراتا یا پھر قہقہہ لگاتا ہے ناں تو اسے سب پاگل سمجھتے ہیں اسی لیے میں نے تمہیں یہ دوائی تجویز کر دیا تاکہ تمہیں اس اسے لگانے سے سکون ملے اور تم پاگل بننے کے وائرس سے بھی بچ سکوں۔۔!!
اسکی بات پر ڈاکٹر اذلان نے سامنے کی جانب دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے صاحبہ بیٹھی ہوئی تھی پھر ڈاکٹر شمویل خان کی جانب جو اسکی جانب دیکھے بغیر پھر سے کافی کے سپ لے رہا تھا وہ ڈاکٹر صاحبہ دل میں غداری کا خطاب دیتا بمشکل چہرے پر مسکراہٹ لا کے اسے دیکھنے لگا جو کافی کا مگ ٹیبل پر رکھنے سے پہلے مگ کے نیچے اس کافی کے پیسے رکھ رہا تھا جو اسنے پیا تھا پھر اسے دیکھے بغیر اپنا وائٹ کوٹ درست کرتا اٹھا اور جانے کے لیے کرسی کو کھسکا کر آگے بڑھا تو اسنے اسے روکا۔
“ڈاکٹر شمویل خان میں اکیلے کہا ہنس رہا تھا وہ تو میں ڈاکٹر صاحبہ کی بات پر ہنس رہا تھا۔۔!!
اسنے ہنستے ہوئے کہا تو شمویل خان نے اپنی آئی برو اچکا کر اُسے دیکھا جو خوامخواہ ہنس کر اپنے دانت توڑنے کے لیے وہ بنا سوچے سمجھے اپنے ناقص دماغ میں صاحبہ کو پھنسانے کے لیے منصوبہ بنا رہا تھا۔۔
“ڈاکٹر صاحبہ نے ایسا کیا کہہ دیا تھا تمہیں جو تمہیں پاگل پن کے دورے پڑ رہے ہیں۔۔؟؟
وہ اسکی جانب مکمل متوجہ ہو کر کہنے لگا۔۔
“ڈاکٹر شمویل وہ آپ کے بارے میں کہہ رہی تھی کہ ڈاکٹر اذلان دیکھنا یہ کھڑوس ڈاکٹر صاحب ایک دن کسی لڑکی کو لا کر کہے گے کہ میری اکڑ اور بدتمیزی کی وجہ صرف یہ لڑکی ہے۔۔!!
ڈاکٹر اذلان کی بات پر اسنے سختی سے اپنی مٹھی کو بھینچا اور پھر اسی مٹھی سے آگے بڑھ کر ڈاکٹر اذلان کی آنکھ کے نیچے ایک زور دار پنچ مارا۔۔
“ڈاکٹر اذلان تم یہاں ان سب کے لیے آتے ہوں ہاں۔۔؟؟
پیچھے ہٹتا وہ اسے دیکھنے لگا جو اسکی پنچ مارنے کے بعد اپنی اس آنکھ پر ہاتھ رکھے اور دوسری آنکھ سے اسے دیکھ رہا تھا جو سخت غصے سے لال ہو رہا تھا۔۔
“نہیں ڈاکٹر شمویل میں تو یہاں مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے آتا ہوں۔۔!!
ہاتھ ہٹا کر وہ جلدی سے اپنی نظروں کو نیچے جھکاتے ہوئے کہنے لگا مبادا کوئی اسکی سوجھ گئی اس آنکھ کو نا دیکھ لیں جو اسکے ناکام منصوبے کی فلاپ ہونے پر اسے یہ نشانی کے طور پر میڈل کی طرح ملا تھا۔۔
“تو جاؤ اور مریضوں کو دیکھوں اور ہاں تُم نے ابھی جو کہا نا کہ میری اکڑ اور بدتمیزی جو صرف غیر لڑکیوں کے لیے ہے اور اس رویے کی وجہ میری بیوی ہے۔۔!!
اُسکے چہرے کو سرد نظروں سے گھورتے ہوئے کہنے لگا تو ازلان اٹھا اور اس کھڑوس کی مار سے بچانے کے لیے اپنے کیبن کی جانب بڑھا اور شمویل اسے دیکھتے ہوئے مسکرانے لگا کیونکہ وہ آج بھی اس سے اتنا ہی ڈرتا تھا جتنا تین سال پہلے ڈرتا تھا۔۔