Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣
“اے اے کون ہو تُم لوگ اور یوں روم کے اندر کیوں گھسے چلے آ رہے ہو دیکھ نہیں رہیں یہاں ہمارا ایک امپورٹڈ میٹنگ چل رہا ہے۔۔۔!!
شمویل خان اور عرشمان خان جب روم کے اندر داخل ہوئے تو گول میز لگائے پانچ افراد میٹنگ میں تھے اور انہیں اندر آتے ہوئے دیکھ کر ایک شخص کھڑا ہوا اور غصے سے کہنے لگا۔۔
“کول ڈاؤن مسٹر تُم جیسوں پر یہ غصہ سوٹ نہیں کرتا غصہ تو ہم جیسے ہیروز پر زیادہ سوٹ کرتا ہے کیوں شمویل لالہ۔۔!!
عرشمان خان نے اس شخص سے کہتے آ خر میں شمویل خان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو شمویل خان نے اس بے وقوف کی جانب تیکھے چتون لیے دیکھا جو اسکا نام سب کے سامنے لے رہا تھا وہ اپنی اصل پہنچان ان لوگوں کے سامنے لانا نہیں چاہتا تھا اور اس نالائق نے اسکا سارا کھیل بگاڑ دیا اب وہ ماسک کو چہرے سے ہٹا کر غصے سے عرشمان خان کو دیکھ رہا تھا۔۔
“حوالدار صاحب تم پر غصہ نہیں زیادہ بے وقوفیاں سوٹ کرتی ہے سمجھے تم اور کیا ضرورت تھی انہیں میری پوری کنڈلی بتانے کی ہاں اب مجھے اپنے چہرے سے یہ ماسک ہٹانا پڑے گا۔۔!!
وہ سخت نظروں سے گھورتا اسے بولا اور پھر گول میز کی جانب دیکھنے لگا جہاں سب لوگ بیٹھے اُسے بڑے ہی تعجب سے دیکھ رہے تھے کیونکہ وہ اخسم شیرانی کے نقوش کی وجہ سے انہیں حیران کر چکا تھا اور انکی حیرت اُسکی رنگت کو دیکھ کر بھی ختم نہیں ہوا۔۔
“تُم سب کو کیا ہوا ہے کرو نا میٹنگ رکے کیوں میں بھی تو دیکھو کہ تُم سب اخسم عرف شمویل عمر خان کے بغیر میٹنگ کس طرح کرتے ہوں.!!
وہ میز کے اوپر بیٹھا اور سامنے باسکٹ میں سے ایک سیب نکال کر اپنے ہاتھوں میں پکڑے چاقو سے کاٹتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا۔۔
“یار قصائی لالہ یہ چاقو تو آپکو انسانوں کو کاٹنے کے لیے میں نے دیا تھا ناکہ سیب کاٹنے کے لیے۔۔!!
عرشمان خان اسے سیب کاٹتا ہوا دیکھ کر سخت بدمزہ ہو کر کہنے لگا تو شمویل خان نے سخت نظروں سے اسے گھورا اور ابھی وہ اسے کچھ کہتا دروازہ کھول کر ایک شخص تیزی سے اندر داخل ہوا جو عرشمان خان کی عمر کا تھا۔۔
“ڈاکٹر شمویل خان اب ہمیں اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا مار دے ان سب نمونوں کو یہ شمش لالہ بھی ناں پتہ نہیں کب یہاں پہنچے گے۔۔۔۔بھابھی کو لاہور ہمارے خاندان والوں کے پاس گھر چھوڑ کر۔۔!!
اذلان نے جلدی سے کہا تو شمویل خان اس مہان نالائق کو سخت نظروں سے گھورتا اٹھا اور عرشمان خان کو اور اُسے سختی سے کالر سے پکڑ کر باہر کی طرف بڑھا۔۔
“عرشمان خان تُم اگر میرے کزن اور چھوٹے بھائی نا ہوتے ناں تو میں تمہیں ان لوگوں کے ساتھ آج دفنا دیتا اور اذلان حسن یوسفزئی تم میرے یار میجر شمش بدر یوسفزئی کے چچا زاد بھائی نا ہوتے ناں تو تُمہاری زبان پر گولی مار کر تمہیں پٹر پٹر بولنے کے قابل نہ چھوڑتا۔۔!!
روم سے باہر دھکیلتے ہوئے وہ سخت نظروں سے انہیں گھورتا سرد و سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو وہ دونوں نیچے گرے اسکی بات پر سخت ڈرتے ہوئے جلدی سے اٹھے۔۔
“لالہ ڈیس ناٹ فئیر ہم نے پورے ایک سال آپکی ہلیپ کی اور آپ ہمیں یہ صلا دے رہے ہیں دھکے مار کر۔۔!!
عرشمان خان نے منہ پھلا کر کہا تو شمویل خان اسکے منہ پھلانے پر سخت چتونوں سے اسے گھورنے لگا تو اسکی نظروں سے خائف ہو کر عرشمان خان نے اپنا پھولا ہوا منہ درست کیا۔۔
“دفعہ ہو جاؤ یہاں سے ورنہ ان لوگوں کے بعد تم دونوں کو بھی مار دو گا۔۔!!
سختی سے کہتا انہیں لاسٹ میں وارننگ دینے لگا۔۔
وہ دونوں اسکے وارننگ پر جلدی سے اپنی اپنی جگہ سے اٹھے اور ریسٹورنٹ سے باہر نکلنے کا سوچ کر تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تم کیوں اپنا چہرہ چھپا رہے ہو ہاں میں کوئی لڑکی نہیں ہوں جو تم شرم سے اپنا چہرہ چھپا رہے ہو نقلی ڈاکٹر صاحب۔۔؟؟
اُن دونوں کو روم سے نکالنے کے بعد وہ روم میں داخل ہوا تو ایک شخص کو اپنا چہرہ چھپائے دیکھ کر آگے بڑھا اور اسے بالوں سے پکڑ کر اُسکا چہرے اوپر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو میز کے نیچے اپنا چہرہ چھپا کر لرز رہا تھا جب شمویل خان کی نظریں اس شخص پہ پڑی تو وہ اسکے جبڑے کو سختی سے پکڑ کر غصے سے کہنے لگا۔۔
“تو نقلی ڈاکٹر صاحب تُم میرے گھر میں میری جاسوسی کرنے آئے تھے میری بیوی کا علاج تو بہانہ تھا بس اور کیوں ڈرگز والا انجیکشن لگایا تھا تُم نے اُسے ہاں بولو۔۔!!
وہ میز کے اوپر اسکے چہرے کو رکھتے ہوئے سختی سے دباؤ بڑھاتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا تو وہ شخص زور زور سے خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے لگا۔۔
“مم۔مجھے ثمر شیرانی نے کہا تھا میں خود نہیں آیا تھا چھوڑو مجھے۔۔!!
وہ تکلیف سے چلاتے ہوئے کہنے لگا لیکن شمویل خان اسکی تکلیف کی پرواہ کئے بغیر دباؤ بڑھانے لگا۔۔
“کیوں چھوڑو ہاں بولو تمہارے اُس انجیکشن کی وجہ سے میری بیوی مر بھی سکتی تھی تمہیں پتہ ہے وہ ڈوذ ڈرگز کم اور زہر زیادہ ہے۔۔!!
وہ سخت غصے سے لال ہوتا اس دن کے بارے میں سوچتے ہوئے کہنے لگا جس دن مشی رات کے وقت نیند میں عیجب و غریب حرکت کر رہی تھی اُسے اسی رات کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مشاطہ کو روز ڈرگز انجیکشن کے ذریعے دیتا تھا اور جب اسے پتہ چلا تو دوسرے دن وہ ڈاکٹر اسکے گھر سے ہی غائب ہوگیا تھا۔۔
“شکر کرو کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں ورنہ وہ زہر اسکے جسم میں پھیل کر اسکا بچنا ناممکن بناتا اور پھر میں بھی کچھ نہ کرتا دیم اٹ اگر اسے کچھ ہوتا ناں تو میں تمہیں دنیا کے کونے سے بھی نکال کر زمین میں گاڑ دیتا مگر تُمہاری غلطی بھی بڑی ہے اور خان کی نظروں میں غلطی کی سزا صرف موت ہوتی ہے۔!!
وہ سب پر اپنی سرخ نیلی آنکھوں کو گھاڑنے کے بعد اُس پہ گھاڑتا اسکی گردن کو اپنے فولادی ہاتھوں کے بیچ میں لا کر زور سے دباتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“یہ تُم کیا کر رہے ہو خان چھوڑو میرے بندے کو ورنہ یہ تمہارے خاندان کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔!!
جاوید خان کے آدمی نے اٹھتے ہوئے نفرت سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا جو اسکے خاص آدمی کو گردن سے پکڑے ان سب کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“تُمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے خاندان کو بیچ میں لانے کی ہاں کمینے انسان۔۔!!
شمویل خان اپنے خاندان کا سن کر وہ غصے سے پاگل ہوتا اپنے فولادی ہاتھوں کے بیچ میں پھنسے اس شخص کی گردن کو زور دار جھٹکا دیتے ہوئے اسے میز پر پھینکتے ہوئے آگے بڑھا اور جس نے خاندان کا نام لیا تھا اسے کالر سے پکڑ کر سامنے کرتا دھاڑتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“چھوڑو مجھے خان ورنہ وہ سب مر جائے گے جیسے زکی شیرانی نے تمہارے باپ اور بھائی کو مروایا ہے ناں اسی طرح ہم سب انہیں مروائے گے۔۔!!
وہ شخص اسکی سخت گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوئے نفرت سے کہنے لگا تو شمویل اسکے منہ سے اپنے بابا اور بھائی کا نام سنتا اپنے ہاتھ اسکی گردن پر رکھتا گرفت مضبوط کرتا اسے دیکھنے لگا جو آنکھیں پھاڑے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔
“میں نے کہا ناں کہ میری فیلمی کو بیچ میں مت لاؤ پہلے میں انسانوں کو صرف بچانا جانتا تھا اب میں انہیں بری طرح سے مارنا بھی جانتا ہوں۔۔!!
وہ اسکے بے جان وجود کو جھٹکے سے میز پر پھینکتے ہوئے پھنکار کر کہنے لگا تو سب اسکی پھنکار کو سن کر بری طرح سے کپکپانے لگے۔۔
“تُم سب کو کیا لگا کہ تم سب یہاں کھا پی کر میرے وطن کو برباد کرنے کے پلان بناؤ گے تو یہ تم سب کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ خان یہ سب تم لوگوں کو کرنے دے گا میں مٹی میں ملا دو گا تم لوگوں کے ساتھ تمہارا یہ پلان بھی۔۔!!
سامنے اپنے وطن کے نقشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا جو ان سب گھٹیا بے ضمیر لوگوں نے سبھی علاقوں میں دھماکہ کروانے کے لیے سب بڑے شہروں پر نشان لگائے تھے۔۔
“تم لوگوں کو اتنی آسانی سے موت نہیں ملے گا ان دونوں کی طرح تو بلکل بھی آسان موت نہیں دو گا تم لوگ میرے اور میرے وطن کے سب سے بڑے دشمن ہوں۔۔!!
ان سب پر طائرانہ نظر ڈالنے کے بعد وہ نفرت سے سرد و سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو سب اسکی بات پر ڈرتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
عرشمان خان اور اذلان کو اپنے دشمنوں پر نظر رکھنے کا کہہ کر وہ حویلی جانے کے لیے وہاں سے نکلا کیونکہ کل رات سے اُسے آغا جان وہاں بلا رہے تھے اور وہ ان لوگوں کی وجہ سے وہاں کا رخ نہیں کر سکا تھا اور وہ خود بھی وہاں جانا نہیں چاہتا تھا
کیونکہ وہاں اسے ماضی کی کچھ اذیتوں بھرے دن یاد آئے گے اور وہ انہیں کبھی یاد رکھنا نہیں چاہتا تھا اسی لیے وہ خان حویلی سے دور رہنا چاہتا تھا لیکن آغا جان کے بے حد اصرار پر وہ وہاں جانے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔۔
“آگیا میرا خان بچہ۔۔!!
آغا جان نے جب اُسے حویلی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو خوشی سے آگے بڑھے اور اسے اپنے سینے سے لگا کر نم آواز میں بولے کیونکہ اتنے سالوں بعد انکا یہ پوتا یہاں آیا تھا تو انہیں وہ لمحے ایک ایک کر کے یاد آنے لگے جو وہ تنہائیوں میں بیٹھ کر روتے ہوئے یاد کیا کرتے تھے لیکن آج اپنے بیٹے کی اس آخری نشانی کو دیکھتے ہوئے وہ اپنا ضبط ہار گئے اور جھٹکے سے اسے اپنے سینے سے لگا کر وہ ان ماضی کی بدصورت دنوں کو یاد کرتے ہوئے رونے لگے جس دن انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے جوان پوتے کو کھویا تھا۔۔
“نہیں بابا خان آپ روئیے مت آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی دیکھے بلڈ پریشر پہلے سے ہی آپکا نارمل نہیں رہتا اس طرح رونے سے اور بگڑ سکتا ہے۔۔!!
وہ انہیں اپنے مضبوط بازوؤں میں لیے آگے صوفے کی جانب بڑھا اور انہیں صوفے پر بیٹھا کر وہ خود انکے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“شمویل بچہ تم..!!!
انکے آنسوؤں کو صاف کر رہا تھا تبھی پیچھے سے اپنی تائی (عرشمان خان کی ماں) کی آواز پہ اسنے اپنا سر اٹھاتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا جو سامنے شرمندگی سے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“آوارہ ماں کی اولاد ہو تُم شمویل خان آوارہ ماں کی اولاد۔
“نہیں۔۔۔میں نہیں ہوں اس عورت کا بیٹا نہیں مجھے اس کے ساتھ مت جوڑو پلیز نہیں۔!!
شمویل خان انہیں دیکھتا اپنی سرخ نیلی آنکھوں کو یکدم سے سختی سے بند کرتا اپنے کانوں میں ماضی میں کی گئی انکی باتوں کی بازگشت کو سنتا شدت سے چیختے ہوئے اپنے دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھتا ان بازگشتوں کا گلا اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے گھونٹنے لگا۔۔
“شمویل بچے۔۔!!
آغا جان جو ان دونوں کو دیکھ رہے تھے وہ شمویل خان کی حالت دیکھتے ہوئے اٹھے اور اسے ہوش دلاتے ہوئے کہنے لگے جو اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھے زور زور سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔
“بابا خان مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا یہ بازگشتیں مجھے سنائی دے گی تو میں جلد پاگل ہو جاؤ گا مجھے یہاں سے جانا چاہیے۔۔!!
وہ اپنی آنکھیں اٹھا کر انہیں دیکھتے ہوئے تڑپ کر کہنے لگا اسے اپنی ماضی کی یہی باتیں کبھی چھین لینے نہیں دیتی تھی اسی لیے تو وہ اپنوں سے اتنے سالوں سے دور بھاگتا رہا تھا۔۔
“شمویل بچے مم۔ مجھے معاف کر دو میں تمہاری بہت بڑی گناہگار ہوں اسی لیے تو مجھے اتنے سالوں سے سکون نہیں ملتا میں نے تمہارا بہت دل دکھایا ہے بچے ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔!!
شمویل خان اس عورت کی بات پر اسے اپنی سرخ نظروں سے دیکھنے لگا جو روتے ہوئے اس سے معافی مانگ رہی تھی۔
“یہ بات آپ کو اس وقت کیوں یاد نہیں آیا تھا تائی جان جب آپ نے میرا دل دکھایا تھا اور اس معافی سے پہلے آپ نے کیوں نہیں سوچا تھا کہ مجھے ایسے سخت الفاظ ایک چھوٹے سے لڑکے سے نہیں کہنے چاہیے تھے جس کی وجہ سے مجھے کسی دن اس لڑکے سے معافی مانگنا پڑے گا۔۔!!
جتنا اسکا لہجہ تعظیم سموئے ہوئے تھا اتنا اسکے الفاظ سخت تھے وہ شمویل خان کی بات پر شرمندگی سے سر جھکا گئی تھی اور شمویل خان بابا خان کے دونوں ہاتھوں کو احترام سے چھوم کر اپنی پیشانی کی جانب لے جا کر واپس نیچے ادب سے انکی گود میں رکھتے ہوئے تیزی سے حویلی سے باہر نکلا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“چھوڑو مجھے کون ہو تُم۔۔؟؟؟
مشاطہ اچانک سے کسی کے پیچھے سے آکر اور پھر آنکھوں میں اچانک سے پٹی باندھنے پر ہاتھ آنکھوں پہ رکھتی کچھ سمجھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن تبھی وہ خود کو اُس شخص کی مضبوط بازوؤں میں محسوس کرتی شدت سے چیختی ہوئی بولی ۔
وہ جو ان سب کو اپنے خفیہ جگہ پر پہنچا کر پھر جب خان حویلی پہنچا تو اپنی تائی کو دیکھکر اسے اپنی ماضی میں انکی کہی گئی ساری باتیں یاد آئی تو وہ غصے سے خان حویلی سے سیدھا اب یہاں اپنے فلیٹ پر آیا تھا لیکن مشاطہ کو دیکھنے کے بعد اسکا سارا غصہ کسی جھاگ کی طرح بیٹھتا چلا گیا تھا ۔
وہ اس کی موجودگی سے بے خبر سامنے سرخ رنگ کے خوبصورت لباس میں ملبوس وہیل چیئر پر بیٹھی سامنے کیاریوں پہ لگے خوبصورت پھولوں کو دیکھ رہی تھی کہ تبھی وہ چل کر اسکے پیچھے کھڑا ہوا اور اپنا رومال جیب سے نکال کر اسکی آنکھوں میں باندھنے کے بعد نیچے جھکا اور اسے نازک وجود کو اپنی مضبوط بازوؤں میں بھرتا اندر اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔
“تُمہارا غنڈہ لوفر شوہر۔۔!!
اسکے چیخنے پر وہ اسکے کان کی لُو کو نرمی سے ہونٹوں سے چھوتا بھاری گھمبیر آواز میں بولا۔۔
“تُم یہ کیا طریقہ ہے ہاں کسی کو ہراس کرنے کا۔۔؟؟
اُسکی آواز پر وہ مزاحمت چھوڑ کر منہ کو ٹھیرا کرتی ہوئی بولی۔۔
“یہ تُمہارے غنڈے اور بدمعاش شوہر کا طریقہ ہے اپنی بیوی کو شدید پیار کرنے کا اور تُم بھی بڑی تیز ہوگئی ہوں میری ہٹلر بیگم صاحبہ ان تین سالوں میں پہلے تو ہم سے ڈر ڈر کر ہماری اسکیچز بنایا کرتی تھی اور اب خود کھڑوس بن کر ہمیں مجبور کرتی ہو چھیڑنے کیلئے ویسے بہت خوبصورت بنایا کرتی تھی تُم میری اسکیچ۔۔۔اور کیا ایک دن کی میری فراق میں جل کر تّم نے کل پھر سے تو نہیں بنایا تھا ناں ہمارا خوبصورت اسکیچ جنگلی بلی۔۔!!
روم میں داخل ہوتا وہ اُسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور اسے نرمی سے بیڈ پر لٹا کر خود اسکے اوپر جھکا اور شدت سے اسکی شہ رگ کو چھوتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو مشاطہ اسکی لمس پر سرخ ہوتی آج پہلی بار گھبرانے لگی وہ جو ہمشیہ اس سے بہادری سے لڑتی آ رہتی تھی آج اُسکے لمس پر سخت سٹپٹا کر رہ گئی تھی۔۔
“چھوڑو مجھے میں نے پہلے ہی تُم سے کہا ہے کہ میں تمہیں نہ کل چاہتی تھی اور نہ آج چاہتی ہوں۔۔!!
وہ اسکی شرٹ کو سختی سے دبوچے اُسکی پناہوں میں بری طرح سے پھڑپھڑاکر شدت سے کانپتی آواز میں سخت سٹپٹا کر بولی کیونکہ اب اُسے اسکے ہونٹ اپنی گردن پر شدت سے محسوس ہو رہے تھے۔
“بیگم اگر تم مجھے چاہنا بھول گئی ہوں تو کیا ہوا میں ہو نہ اپنے لمس سے ابھی اچھے سے ان گلاب کو چھو کر آپکو اچھے سے یاد دلاتا ہوں۔۔!!
وہ اپنے انگوٹھے سے اُسکے گلابی ہونٹوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے گھمبیر اور بھاری لہجے میں کہنے لگا مشاطہ کی دھڑکنیں اُسکے چھونے پر یکدم سے منتشر ہونے لگی تھی۔۔
“مم۔۔مجھے کچھ یاد نہیں کرنا پلیز پیچھے ہٹ جاؤ۔۔!!
وہ اب اسکی لمس کو ہونٹوں کے نچلے حصے پر شدت سے محسوس کرتی اسکی شرٹ کو سختی سے دبوچتی ہوئی بولی۔۔
“لیکن وائف مجھے تو آج یاد کروانا ہے تُمہیں وہ سب ماضی کی باتیں کیسے تُم میری اسٹوڈنٹ بن کر مجھے دھوکا دیا کرتی تھی اور ہاسپٹل کے اس بینچ پہ بیٹھ کے گھنٹو گھٹنو مجھے دیکھتے ہوئے میرا اسکیچ بنایا کرتی تھی۔۔!!
اُسکی کان کی لُو کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا نیچے اُسکی صراحی دار گردن پہ جھکا اور شدت سے سفید گردن کو چھوتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔
“غنڈے بدمعاش انسان تمہیں آج کیا ہوا ہے چھوڑو مجھے کب سے اپنی حرکتوں کی وجہ سے مجھے غصہ دلا رہے ہو بار بار میری مجبوری کا فایدہ کیوں اٹھاتے ہوں۔۔!!
وہ آج اُس کی بے باکیوں سے سخت کانپ رہی تھیں کیونکہ پہلے وہ ایک حد پہ رہ کر اسے چھوتا تھا لیکن آج تو جیسے اسے موقع ملا ہوں تسخیر کرنے کے لیے لیکن وہ بھی اسے کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ اس شخص نے اس سے جھوٹ بول کر اُسے دھوکا دیا تھا شدت سے اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتی ہوئی سختی سے بولی۔۔
“جاناں مجنون صرف اور صرف تمہارا مجنون۔۔!!
وہ اسکے رخساروں کو چھو کر بے خودی سے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں نرمی سے لے کر شدت سے چھونے لگا۔
مشاطہ کی آنکھیں ابھی تک رومال سے بندھی ہوئی تھیں وہ صرف اسکا شدتوں بھرا لمس محسوس کر سکتی تھی لیکن اسے دیکھ نہیں سکتی تھی اسکی گستاخیوں سے وہ اسکی شرٹ کو سختی سے دبوچے اسکے سینے سے لگی بری طرح سے تڑپ رہی تھی۔۔
“چھوڑو مجھے پلیز۔۔!!
اُسکی آنکھوں سے آنسوؤں نکل کر اب رخساروں پر بہتے ہوئے اسکی ٹھوڑی سے نیچے گردن کی جانب بڑھ رہے تھے اور شمویل خان انہیں اپنے ہونٹوں سے چن رہا تھا۔۔
“تُم سمجھتے کیوں نہیں ہو ہاں میں کب سے کہہ رہی ہو مجھے چھوڑو۔۔!!
مشاطہ اسکی لمس کو ہونٹوں اور گردن پر محسوس کرتی سخت لہجے میں کہنے لگی لیکن وہ بہرا بنا اسکے چہرے پر جھکا اپنی شدتوں کو اسکے چہرے اور گردن پر نچھاور کر رہا تھا۔۔
“آج میں بلکل بھی نہیں سنو گا آج صرف تم پر میری جان میں اپنا پیار نچھاور کروں گا اپنے اُن ماضی کے خشک رویے کو جو میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا ناں مشی میں آج اپنے نرم لمس سے اپنا وہ گلٹی ختم کرنا چاہتا ہوں کیا تم مجھے اس کی اجازت دو گی مجھے پتہ ہے تم ابھی بھی مجھ سے محبت کرتی ہوں لیکن میرے جھوٹ کی وجہ سے تم مجھ سے ناراض ہو اور مجھ پر غصہ نکال رہی ہوں لیکن آج میں تمہارے غصے کو ختم کرنا چاہتا ہوں تو کیا تم مجھے اجازت دو گی۔!!
اسکی آنکھوں سے رومال ہٹا کر اسے دیکھتا اجازت طلب کرنے لگا تو مشاطہ جو اسکی نظروں سے پزل ہو رہی تھی اسنے شرماتے ہوئے اپنا سر اس کے سینے پر رکھا۔۔
“جانم یہ رات ہماری سب سے خوبصورت راتوں میں شمار ہوگی اور میں ہمارے اتنے اذیتوں کے بعد اس رات کو اور ہماری ملن کو اور بھی زیادہ خوبصورت بناؤ گا۔۔!!
شمویل خان اسکی خوبصورتی سے اجازت دینے پر مسکرایا اور پھر اپنا ہاتھ بیڈ سائیڈ لیمپ کی جانب بڑھا کر روم کی اکلوتی لائٹ کو بھی آف کرنے کے بعد اسنے اپنا شرٹ اسکی گرفت سے آزاد کرا کر آہستگی سے بٹن کھولنے کے بعد اپنا شرٹ اتارا اور اسکے اوپر جھکا اور اپنی شدتوں سے اسکی سانسوں کو منتشر کرنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ماضی”
“مشی اگر اُس کھڑوس ڈاکٹر کو بھنک بھی پڑ گیا نا کہ تُم روز اُسکی جاسوسی کرتی ہو تو میری سویٹ سی بیسٹ فرینڈ تمہاری خیر نہیں ہے۔۔!!!
آج پورا ایک ہفتہ ہو گیا تھا اسے اُس کھڑوس کو فالو کرتے ہوئے ابھی بھی وہ اس وقت مری کے ایک نجی ہاسپٹل میں بلیک کپڑوں میں سفید رنگ کی خوبصورت اسکارف سر پر اوڑھے اپنی دوست کے ساتھ اندر داخل ہوئی تو سامنے اُسے دیکھتی وہی کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔۔
وہ سامنے کھڑے ڈاکٹر سے باتیں کر رہا تھا تبھی اُسے اپنے اوپر کسی کی نظروں کا احساس ہوا تو ڈاکٹر سے نظریں ہٹا کر ادھر اُدھر اپنی نظریں ڈورہا کر اُس شخص کو ڈھونڈنا جو اسے دیکھ رہا تھا تو سامنے بینچ پہ ایک لڑکی کو ہاتھ میں اسکیچ بُک پکڑے اس پر کچھ مگن ہو کر بنا رہی تھی تو ڈاکٹر شمویل خان کو اس پر شک ہوا تو وہ ڈاکٹر سے اسکیوز کرتا آگے بڑھا۔۔
“ڈاکٹر شمویل خان آپ کہاں جا رہے ہیں وہ سب اسٹوڈنٹس آ چکے ہیں۔۔!!
وہ اُس لڑکی کی جانب بڑھ رہا تھا کہ ڈاکٹر اذلان جو اسکا جونئیر تھا اسکی آواز پر وہ مڑا۔۔
“یار کشمالہ چلوں وہ اُسے پتہ چل گیا کہ مم۔میں اُسے فالو کر رہی ہوں۔۔!!
دوسری طرف وہ اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر ڈرتی ہوئی تیزی سے اپنی دوست کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے بھاگی اور اسی ہڑبڑی کی وجہ سے وہ اپنا اسکیچ بُک وہی چھوڑ گئی تھی۔۔
“ڈیم اٹ۔۔۔!!!
ڈاکٹر شمویل خان جب دوبارہ پیچھے پلٹا مگر وہاں بینچ پہ اس لڑکی کو ناپاکر سخت غصے سے وہ ڈاکٹر اذلان کو مڑ کر دیکھنے لگا جو وہاں سے جا چکا تھا تبھی اسکی نظریں بینچ کے نیچے ایک بُک پہ پڑی جو شاید اس لڑکی کا تھا وہ بینچ کی جانب بڑھا اور نیچے گرے اُس اسکیچ بُک کو اٹھا کر دیکھنے لگا۔
“مس گم نام بعد میں تُمہیں ڈھونڈوں گا آخر پتہ تو چلے تم کیوں مجھے اسطرح غور سے دیکھ رہی تھی۔۔!!
اسکیچ بُک کو اپنے دوسرے ہاتھ پر ہلکے سے مارتے ہوئے وہ خود سے کہتا پیچھے مڑا اور اس روم کی جانب بڑھا جہاں وہ سب اسٹوڈنٹس اسکا انتظار کر رہے تھے جو اُسکی سرجری سے متاثر ہو کر آج اس سے کچھ سیکھنے کے لیے اس سے کلاس لینے کے لیے اس ہاسپٹل میں جما تھے۔
“ڈاکٹر اذلان یہ بُک اپنے پاس رکھوں لیکچر ختم ہونے کے بعد میں تم سے لوں گا۔۔!!
“ہیلو آئی ایم ڈاکٹر شمویل خان۔!!
اسکیچ بُک ڈاکٹر اذلان کو تھما کر کہتا آگے ڈائس کی طرف بڑھا اور سب اسٹوڈنٹس کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا لیکن ایک لڑکی پر نظر پڑتے ہی وہ آنکھیں ترچھی کرتے ہوئے اسے مخاطب کرتے ہوئے ڈائس سے ہٹا اور اسکی جانب بڑھا۔
“اسٹینڈ آپ مس گم نام۔۔!!
اُسکے سامنے پہنچ کر اُسے سختی سے اٹھنے کا کہہ کر اسے دیکھنے لگا جو ایک ڈائری سے اپنا چہرہ اُس سے چھپا رہی تھی۔۔
“آپ سے کہہ رہا ہوں مس کیا آپ بہری ہے جو آپ کو سنائی نہیں دے رہا میں ہاسپٹل میں جب سے آیا ہو آپکو نوٹ کر رہا ہوں کہ میں جہاں جاتا ہوں آپ مجھے وہی ملتی ہے وائے کیا میں اسکا ریزن جان سکتا ہوں.؟؟
اُسکے چہرے سے ڈائری کو ہٹا کر سرد لہجے میں پوچھتا اُسے لرزنے پر مجبور کر گیا۔۔
“سر آآ آپ غلط سمجھ رہے ہیں ممم۔میں تو آپکی اسٹوڈنٹ ہو اور آج خاص میں یہاں لیکچر اٹینڈ کرنے آئی ہوں۔۔!!
وہ گھبراتی ہوئی اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“اوہ آئی سی..!!
وہ اسے جانچتی نظروں سے دیکھتا پیچھے کی جانب قدم بڑھانے لگا اور وہ اسکی نظروں کو اپنے اوپر محسوس کرتی سخت نروس ہونے لگی۔۔۔
“اوکے اسٹوڈنٹس اب ہماری ملاقات اسی ہاسپٹل میں ایک سال بعد ہوگی لیکن آپ سب مریض نہیں بلکہ ڈاکٹر بن کر آؤ گے اس ہاسپٹل میں کیوں مس گم نام۔۔!!
لیکچر ختم کرنے کے بعد وہ سب پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جو سر جھکا کے دائری میں کچھ لکھ رہی تھی۔۔
“یی۔۔یس سر۔۔!!
وہ گھبراتے ہوئے بولی تو اسنے اپنے جونئیر ڈاکٹر سے اسکیچ بُک پکڑا اور اُس لڑکی کو سختی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مس آپ میرے آفس میں آئے مجھے کچھ اِس حوالے سے بات کرنا ہے آپ سے اور چالاکی بلکل بھی نہیں ورنہ میں اسے پھاڑ دو گا۔۔!!
اُسے اپنی دوست کا ہاتھ سختی سے پکڑے باہر کی جانب نکلتے ہوئے دیکھ وہ سخت لہجے میں اسے وارننگ کرتا اسکی اسکیچ بُک کی طرف اشارہ کرنے لگا۔۔
“سر پلیز آپ اُسے مت پھاڑے ممم۔۔۔میں ابھی آتی ہوں۔۔!!
وہ اپنی اسکیچ بُک کو اس کھڑوس کی مٹھی میں دیکھتی سخت کپکپا کر بولی تو وہ اسکی کمزوری جان کر مسکرایا۔۔