Dark Heart By Sumyia Baloch Readelle50185 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣
“لڑکی تم نہیں بتانا چاہتی تو پھر ٹھیک ہے لاہور میں جو دو مہینے سے اتنی بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں تمہارے ماں باپ تمہارا اگر میں اپنے آدمیوں کو بیچ کر انہیں مارنے کا کہوں تب بھی تم مجھے نہیں بتاؤ گی کہ مشاطہ ملک نے کیوں جبران کو مارا۔۔؟؟
وہ سنجیدگی سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا ہوا تھا وہ یکدم سے آگے کو جھک کر سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو لڑکی اپنے والدین کا سن کر ڈرنے لگی۔۔
“نہیں پلیز انہیں کچھ مت کرنا مم۔میں بتاتی ہوں بتاتی ہو پلیز انہیں کچھ مت کرنا۔۔!!
وہ لڑکی اسکے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوئی رو کر کہنے لگی۔۔
“تو جلدی سے بتاؤ کے اس رات تمہارے ساتھ جبران نے ایسا کیا کیا تھا جو مشاطہ ملک کو جبران کو مارنا پڑا۔۔!!
وہ سرد لہجے میں کہتا اسے خوفزدہ کرنے لگا۔۔
“اُس رات وہ شخص مجھے ہاسٹل سے زبردستی لے کر اس جنگل میں لایا تھا تاکہ میرے ساتھ۔۔!!
وہ آگے کے الفاظ اپنے منہ سے نکال نہ سکی تو اخسم شیرانی سمجھ گیا کہ وہ آگے کیا کہنے والی تھی لڑکی اس کی جانب دیکھتی اب مشاطہ کے بارے میں کہنے لگی۔۔
“لیکن وہ وقت پر پہنچی اگر وہ اس رات وہاں نا آتی تو وہ درندہ میرے ساتھ یہ بات میں روز سوچ کر ڈرتی ہوں۔۔!!
وہ نم آنکھیں صاف کرتی اس سے کہنے لگی۔۔
“جب وہ وہاں آئی تو اسے دیکھ کر وہ درندہ انسان مجھے بھول گیا اور اسکی جانب بڑھا اسی ارادے سے جس ارادے وہ مجھے ہاسٹل سے لے کر آیا تھا۔۔!!
اخسم شیرانی یہ بات سن کر ضبط سے اپنی مٹھیاں زور زور سے بھینچنے لگا تو وہ لڑکی اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو سرخ چہرے کے ساتھ صوفے کا ہتھا مضبوطی پکڑے اپنے غصے کو کنٹرول کر رہا تھا جو کسی صورت بھی اس سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا کیونکہ بات ہی ایسی تھی کہ وہ اپنا آپا نا چاہتے ہوئے بھی کھو رہا تھا۔۔
“جبران۔۔!!
تبھی وہ صوفے سے اٹھا اور سامنے دیوار پہ لگے شیشے کو شدت سے مکا مارتے ہوئے اپنے بھائی کا نام نفرت سے پکارتا اپنا غصہ اس شیشے کے ٹکروں پر اتارنے لگا جو اسکے مکا مارنے پر نیچے زمین پر پھیلے ہوئے تھے۔۔
لڑکی اسے اس حالت میں دیکھتی ڈر کے باعث صوفے سے اٹھی اور تیزی سے روم سے باہر نکلی اور باہر کھڑے اسکے آدمیوں کو دیکھنے لگی جو پرسکون انداز میں کھڑے اندر سے آتے اسکے چیخوں کو اگنور کر رہے تھے۔۔
“اس وقت مشاطہ ملک کہاں ہے۔۔؟؟
تھوڑی دیر بعد وہ غصے سے روم سے باہر نکلا اور لڑکی کے روبرو کھڑے ہو کر اس سے مشاطہ کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔
“وہ میں نہیں جانتی۔۔!!
وہ اسکی بھاری اور سپاٹ آواز سن کر کانپتی ہوئی بولی۔۔
“بتاؤ لڑکی وہ اس وقت کہاں پر ہے بہت ہوگیا اب میں اسے اسطرح اکیلا نہیں چھوڑ سکتا بلکل بھی نہیں اب مجھے اسکے بھائی تک کے اوپر بھروسہ نہیں رہا بلکہ بھائی کو چھوڑو مجھے تو اب اسکے معاملے میں اپنے اوپر بھی بھروسہ نہیں ہے۔۔!!
اخسم شیرانی نے زخمی ہاتھ کی پرواہ کئے بغیر سامنے شیشے کے ٹیبل پر زور سے مارا اور اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“وہ مری میں ہی ہے اور مال روڈ کے پاس ہی چھوٹے سے ریسٹورنٹ کے پاس اسکا چھوٹا سا گھر ہے جو اسکے بھائی کا ہے۔۔!!
لڑکی نے جلدی سے کہا تو وہ اپنے سبھی آدمیوں کو اسے صحیح سلامت اسکے گھر پر چھوڑنے کا کہہ کر خود شمش کو کال ملا کر باہر نکلا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
شمش جو کچن میں کھڑا عیشال کے لیے ملک شیک کے لیے آم کاٹ رہا تھا کہ فون کی رنگ ٹون پر عیشال کو دیکھنے لگا کیونکہ آم کاٹنے کی وجہ سے اسکے ہاتھ خراب ہوگئے تھے۔۔
عیشال جو کرسی پر بیٹھی اسے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے آم کاٹتی ہوئی دیکھ رہی تھی شمش کے دیکھنے پر وہ جلدی سے اٹھی اور آگے بڑھ کر فون کو سامنے ٹیبل سے اٹھا کر بلکل اسکے قریب کھڑی ہوئی اور پھر اپنے پیروں کو اوپر اٹھا کر فون اسکے کان سے لگاتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔۔
شمش نے اسے دیکھا جو اسکے لمبے قد کی وجہ سے اپنے پاؤں اوپر اٹھائے اسکے بلکل نزدیک فون اسکے کان پر رکھے کھڑی تھی پھر دوسری جانب اپنے اخسم دادا کی آواز پر عیشال کے اوپر سے نظریں ہٹا کر دوسری طرف اخسم دادا کی باتوں کو غور سے سننے لگا جو کہہ رہا تھا۔۔
“شمش میں اسے لینے جا رہا ہو تم یہاں خیال رکھنا وہ جاوید خان یہاں سے بھاگنا نہیں چاہیئے ورنہ میں سب کو گولی سے اڑا دو گا۔۔!!
دوسری جانب سے اخسم دادا کی آواز پر وہ اپنی نظروں کو عیشال کے اوپر سے ہٹا کر سامنے دیوار کی جانب مرکوز کرتا اسکی باتوں کو بغور سننے لگا۔
“سرکار آپ فکر مت کریں میں وہاں پہنچتا ہو جاوید نہیں بھاگے گا اور کیا میں عیشال کو بھی میں اپنے ساتھ لا سکتا ہوں کیونکہ میں اسے یہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔!!
وہ عیشال کو دیکھتا دوسری جانب موجود اخسم سے پوچھنے لگا۔۔
“ہاں اسے بھی اپنے ساتھ لے کر جاؤ وہ وہاں اکیلی ڈر جائے گی۔۔!!
اخسم شیرانی جو کار ڈرائیونگ کر رہا تھا سنجیدگی سے کہنے لگا تو شمش نے اسکی بات پر اپنا سر ہلایا اور اسے جلدی پہنچنے کا کہہ کر عیشال کی جانب دیکھتے ہوئے فون کان سے ہٹانے کا اسے اشارہ کرنے لگا۔۔۔
“آہہہہہ۔!!
عیشال اسکے اشارہ کرنے پر فون کو اسکے کان سے ہٹاتے ہوئے پیچھے ہٹنے ہی والی تھی کہ اسکا پیر مڑا تو وہ زور سے چیخ مارتی نیچے بیٹھتی چلی گئی اور شمش اسکی چیخ پر اپنے آم کی وجہ سے گندے ہو رہے ہاتھوں کی پرواہ کئے بغیر نیچے بیٹھا اور اسکے پیر کو پکڑ کر اسے دیکھنے لگا جو تکلیف کے باعث رو رہی تھی۔۔
“عیشو جانم ریلیکس پلیز دیکھو رونا مت میں تمہارا پیر دیکھ رہا ہو ورنہ تمہیں چلنے میں پروبلم ہوسکتی ہے ۔!!
وہ اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو صاف کرتا اسکے پیر کو مضبوطی سے پکڑ کر کہنے لگا تو عیشال اپنی نم آنکھیں اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تو شمش کو اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اپنے دل میں ایک تکلیف اٹھتا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔
“صنم نہیں مجھے درد ہو رہا ہے۔۔!!
عیشال اپنے پاؤں پر دباؤ محسوس کرتی بری طرح سے روتے ہوئے کہنے لگی تو شمش نے اسکے رونے کی پرواہ کئے بغیر زور سے پاؤں کو جھٹکا دیا تو عیشال کی زور دار چیخ کچن میں گونجی۔۔
“عیشو جانم اب تمہیں اتنی تکلیف نہیں ہوگی کیونکہ میں نے تمہارے پاؤں کی جو رگ موڑنے کی وجہ سے ڈسٹرب ہوا تھا اسے ٹھیک کر دیا بلکل تمہارے پاؤں کی تکلیف کی طرح۔۔!!
شمش نے شرارت سے اسکی ستواں ناک کو زور سے کھینچتے ہوئے کہا تو عیشال اسکی حرکت پر اپنے پاؤں کا درد بھولا کر اسے غصے سے دیکھنے لگی۔۔
“جانم تم اگر مجھے ایسے ہی دیکھوں گی تو میں بگڑ جاؤ گا اور اگر میں اس وقت بگڑ گیا نا تو اخسم دادا مجھے اوپر پہنچا دے گا ۔۔۔!!
وہ عیشال کے ہونٹوں کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہتا اسے شرمانے پر مجبور کرنے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“سالے صاحب بہت ڈھونڈا تمہیں اور تمہاری بہن کو پورے ملک میں مگر دیکھو تو تم لوگ ملے بھی تو اپنے ہی شہر میں اور کیا مجھے یہی کھڑا ہونا پڑے گا ساری رات اسی طرح سالے صاحب۔۔
کیا تم مجھے اندر آنے کی اجازت نہیں دو گے۔۔؟؟
مجتبی جب مین گیٹ کے زور سے پیٹنے کی آواز پر باہر نکلا تو گیٹ کے پاس پہنچ کر جب اسنے گیٹ کو کھولا تو اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے وہ ساکت رہ گیا سامنے اخسم دادا جو سنجیدگی سے باہر کھڑا اسے غصے سے گھور رہا تھا وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگا۔۔
“کمینے انسان چلے جاؤ یہاں سے میری بہن تمہیں دیکھنا بھی نہیں چاہتی ہے۔۔!!
مجتبیٰ ملک ہوش میں آتے ہی زور سے چیختے ہوئے کہنے لگا تو اخسم شیرانی اسکی بات پر مسکرایا اور اپنا ریوالور نکال کر اسکی ٹانگ پر گولی مارتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو گولی لگنے کی وجہ سے درد سے بے حال ہو کر پیچھے کی جانب لنگڑاتے ہوئے بڑھنے لگا اور اخسم گھر کے اندر داخل ہوتا دروازہ بند کرتے ہوئے اسکے پیچھے بڑھنے لگا ۔
“مجتبیٰ ملک یہ گولی تمہارا زاور پر بھروسہ کرنے کی وجہ سے میں نے تمہیں مارا ہے اور ٹانگ پر اسلئے مارا ہے تاکہ مشی کو دکھ نا ہو تمہارے کھونے کا سمجھے تم اور مشی کا خیال صرف میں اچھے سے رکھ سکتا ہو تم بھی نہیں اور میں نے دیکھ بھی لیا کہ تم نے ان دو ماہ میں اسکا کیسے خیال رکھا ہے اور اندر جا کر میں اسے بھی سزا ضرور دونگا مجھ سے چھپنے کی سزا مجھ پر بھروسہ نا کرنے کی سزا۔۔!!
وہ ریوالور والا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھتا سپاٹ لہجے میں کہنے لگا تو مجتبی ملک نے اسکی بات پر گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے مشاطہ کو زور زور سے پکارتے ہوئے کہنے لگا۔۔
اخسم شیرانی دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا ہوگیا تاکہ مشاطہ اسے نہ دیکھ سکے اور وہ اسے یہاں سے آرام سے دیکھ سکے۔۔
تبھی اسکو وہ ایک روم سے وہیل چیئر گھسیٹ کر باہر نکلتی ہوئی نظر آئی تو وہ اسے وہیل چیئر پر دیکھتا سختی سے اپنی آنکھیں میچتا جبران کو نفرت سے یاد کرنے لگا۔۔
اخسم نے اسکی آواز پر اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو اپنے بھائی کو کراہتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوتا ہوا دیکھ رہی تھی کہ اسکی زخمی ٹانگ پر جب اسکی نظریں پڑی تو وہ ساکت رہ گئی۔۔
“مشاطہ بچے بھاگو یہاں سے ورنہ یہ شیطان تُمہیں بھی مار ڈالے گا۔۔!!
وہ گولی کی آواز سن کر خوفزدہ ہو کر وہیل چیئر کھسکا کر روم سے باہر نکلی تو سامنے اپنے بھائی کو دیکھتی وہ وہیں ساکت رہ گئی تھی۔۔
“بھائی۔۔؟؟
جب اپنے بھائی کی مشکل سے اٹک اٹک کر نکلتی سانسوں کے درمیان اسنے اپنا نام سنا تو وہ روتی ہوئی وہیل چیئر سے نیچے گری اور اُنہیں پکارتی ہوئی اُنکی جانب رینگتے ہوئے بڑھنے لگی۔۔
“مش بھاگو بھاگو بچے۔۔!!
اُسے رینگتے ہوئے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر اُنہوں نے اپنے ہاتھ جن پر اُنہیں کے خون لگے ہوئے تھے اٹھا کر ضبط سے سرخ ہوتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔۔
“نہیں بھائی۔۔!!
وہ ہاتھ اُنکی جانب بڑھاتی ہوئی نفی میں سر ہلا کر اُنکی جانب رینگتے ہوئے بڑھنے لگی۔۔
“مجتبی ملک تُمہاری بہن اتنی آسانی سے نہیں بھاگ سکتی اخسم شیرانی کی قید سے جب اُسکی عقاب جیسی تیز نظر جس چیز یا انسان پر پڑ جاتی ہے نا۔۔
وہ اُس سے نہیں بچ سکتا چاہیے وہ دشمن ہو یا پھر عشق اب تُم بھی اپنا ٹائم ضائع مت کرو اور اپنی آخری سانسیں لیں کر اِس دنیا سے رخصت ہو جاؤ ورنہ یہ کام بھی میں خود انجام دیں دونگا۔۔!!
مشاطہ اور مجتبی ملک نے جب اپنے پیچھے ایک وحشت زده کرتی سرد آواز سنی تو وہ دونوں خوفزدگی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔۔
“آہہہہہ۔۔!!
مشاطہ اپنے دونوں پیروں پر تکلیف محسوس کرتی زور سے چیخی تو اُسکی چیخ سن کر اس سفاک بے رحم شخص کے عنابی ہونٹ مسکرا اٹھے تھے جو سیاه کاٹن کے شلوار قمیض میں ملبوس اپنے سیاه رنگ کے بھاری بوٹ اسکے پیروں پر رکھے شان سے کھڑا تھا۔۔
“تُمہیں کیا لگا تھا مشاطہ ملک تُم اخسم شیرانی کے بھائی کو مار کر بچ جاؤ گی۔۔!!
اُسے سختی سے بالوں سے پکڑ کر اپنے قدموں پر کھڑا کرتا وہ نفرت سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ اسکی سخت گرفت پر بری طرح سے مچلتی خود کو چھڑانے لگی۔۔
“چھوڑو میری بہن کو کمینے بدمعاش انسان۔۔!!
مجتبی ملک اپنی بہن کو اُسکی مضبوط گرفت میں بری طرح سے مچلتے ہوئے دیکھ کر نفرت سے کہنے لگا تو اخسم شیرانی نے مجتبی ملک کی طرف دیکھا اور مشاطہ کا چہرہ پکڑ کر اپنی سرخ نگاہوں سے اُسکے بری طرح سے لرزتے نازک ہونٹوں کی جانب دیکھنے لگا جو خوف سے بری طرح سے کانپ رہے تھے۔۔
“مجتبی ملک میں نے اپنی بدمعاشی پہلے تُمہیں اور تُمہاری اّس معزور بہن کو نہیں دیکھایا ہے لیکن میں ابھی اور اسی وقت تُم دونوں کو پوری ٹریلر کے ساتھ دیکھاتا ہو..!!
وہ مجتبی ملک سے کہتا نفرت سے مشاطہ کے ہونٹوں پر جھکا اور شدت سے بری طرح سے لرزتے اُن نرم ہونٹوں کو چھونے لگا۔۔
مشاطہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے اوپر جھکے اُس اونچے لمبے شخص کو بری طرح سے روتی ہوئی پیچھے کی جانب دھکیلنے لگی لیکن وہ اسے کوئی بھی موقع دیے بغیر شدت سے اسکے نرم ہونٹوں کو اپنی بے رحم لمس بخش رہا تھا اور وہ یہ صرف اسے اس پر بھروسہ نہ کرنے کی وجہ سے کر رہا تھا اور ساتھ میں پورے دو سال کی دوری کو مٹانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“فکر مت کرو مشی جان تمہیں میں اتنی آسانی سے نہیں ماروں گا اور تمہارے بھائی کو بھی یہ صرف تم دونوں کو میں نے بھاگنے کی وجہ سے سزا دیا ہے۔۔!!
وہ اسکے ہونٹوں کو نرمی سے آزاد کرتا اسکی کان کی لوُں کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا مشاطہ اسکی سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کرتی سخت سٹپٹا کر رہ گئی تھی اور اخسم نے اسے آگے کوئی بھی موقع دئیے بغیر اسکی گردن پر ہاتھ رکھ کر اسکی مخصوص رگ کو دبایا تو وہ بے ہوش ہو کر اسکی باہوں میں جھول گئی جبکہ مجتبی ملک اسے بے ہوش دیکھ کر بے بسی سے اپنی آنکھیں موند گیا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“اسے کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے ورنہ تم لوگ مجھے اچھے سے جانتے ہو کہ میں تم لوگوں کا کیا حال کر سکتا ہوں۔۔!!
اخسم نے اپنے دو خاص آدمیوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو وہ دونوں اسکی بات پر جلدی سے اپنا سر ہلانے لگے تو انکے سر ہلانے پر اخسم نے سامنے بیڈ پر بے ہوش پڑے مجتبی ملک کی جانب دیکھا۔۔
“سرکار آپ فکر مت کریں ہم اس کا بہت اچھی طرح سے خیال رکھے گے آپکو کوئی شکایت کا موقع نہیں دے گے۔۔!!
ایک آدمی نے نظریں نیچے کرتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلا کر صوفے سے اٹھا اور اس روم کی جانب بڑھا جہاں اسنے مشاطہ کو رکھا تھا۔۔
روم کے اندر داخل ہوتا وہ بیڈ کی جانب بڑھا اور اسے احتیاط سے اپنی باہوں میں بھرتا روم سے باہر نکلا اور اس گھر سے نکلنے سے پہلے وہ اس روم کی جانب بڑھا جہاں مجتبی ملک موجود تھا۔۔
“تم لوگوں سے جب یہ اپنی بہن کا پوچھے تو اسے بتا دینا کہ تم بھول جاؤ مشاطہ اخسم شیرانی کو وہ اب صرف اخسم شیرانی کی زمہ داری ہے۔۔!!
وہ سپاٹ لہجے میں کہتا مجتبی ملک کی جانب دیکھنے لگا جو بے ہوشی کی حالت میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اور وہ دونوں آدمی اسکی بات پر تیزی سے اپنا سر ہلانے لگے تو وہ انکی جانب دیکھے بغیر مشاطہ کو لیے گھر سے باہر نکلا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“جبران تمہیں پتہ ہے یہ لڑکی کون ہے۔۔؟؟
وہ جبران کو دیکھتا سامنے صوفے پر لیٹی مشاطہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا جبران جو بیڈ پر لیٹا ہوا تھا وہ صرف اسکی آواز سن سکتا تھا لیکن کچھ بول نہیں سکتا تھا اسکی آنکھوں سے آنسو نکلا اور تکیے میں جذب ہوا کیونکہ آج پہلی بار اسے اپنے بھائی اخسم کی بھاری اور گھمبیر آواز میں اپنے لیے بے حد نفرت محسوس ہوا تھا۔۔
“یہ لڑکی تمہاری بھابھی ہے اور تم نے اسکے ساتھ زیادتی کرنے کا سوچا بولوں کیوں سوچا تم نے ایسا جبران زکی شیرانی ہاں جواب دو مجھے۔۔!!
وہ اسے کالر سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے نظروں سے نظریں ملا کر سخت نفرت سے اسے دیکھتا پوچھنے لگا اور وہ اسکی نیلی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نا دیکھ سکا اور بری طرح سے رونے لگا اور کچھ کہنے کی کوشش میں اپنی حلق سے عیجب عیجب آوازیں نکالنے لگا مشاطہ جو بے ہوش تھی اسکی آواز نہ سن سکی اور اخسم اسکی آواز پر اسے غصے سے دیکھنے لگا۔۔
“اسکی معذوری کی وجہ بھی تم ہو نا جبران۔۔؟؟
وہ ریوالور پر سائلنسر لگاتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تو جبران نے بے بسی سے اپنا سر ہلایا اور اسکے سر ہلانے پر اخسم نے ریوالور کو اسکے پیروں کی جانب کیا اور غصے سے دونوں پیروں پر گولی چلاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو تکلیف کے باوجود بھی چیخ نا سکا کیونکہ وہ ابھی اپنی باڈی کو سہی سے موو نہیں کر سکتا تھا۔۔
اسے مارنے کے بعد وہ مشاطہ کو اپنی باہوں میں بھرتا اسی خاموشی سے وہاں سے چلا گیا تھا جس طرح وہ یہاں آیا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“سرکار وہ جاوید خان سے تفتیش کرنے کے وقت مجھے پتہ چلا ہے کہ آج اسکے کچھ خاص بندے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں میٹنگ کرنے والے ہیں۔
اور میں نے پتہ کیا ہے کہ وہ میٹنگ غیر قانونی طریقے سے ملک کے بیشتر علاقوں سے لڑکیوں کو اغوا کر کے بیرون ملک بھیجنے کا ہیں۔۔!!
شمش نے سنجیدگی سے اسے کہا تو وہ اسکی بات پر سخت غصے سے اپنی مٹھیوں کو بھینچنے لگا۔۔
“میں نے سب کو اچھے سے سمجھایا تھا کہ میری مافیا کی حکومت میں کوئی بھی لڑکیوں اور درگزر اسمگلنگ میں ملوث نہیں ہوگا اگر مجھے پتہ چلا تو میں اسے موت دو گا۔۔!!
وہ غصے سے بولا۔۔
“سرکار اب ہمیں کیا کرنا چاہیے وہ لوگ تو لڑکیوں کو اٹھا بھی چکے ہونگے اور شاید بیرون ملک بھیجنے بھی والے ہونگے۔۔!!
شمش نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اسکی بات پر تیزی سے اٹھا اور ونڈو کی طرف بڑھتے ہوئے کچھ دیر وہی کھڑا باہر دیکھنے لگا پھر مڑا اور اسے دیکھنے لگا جو کافی پریشان لگ رہا تھا اور اسے اسکی یہ پریشانی سخت ناپسند آئی تو وہ آگے بڑھا اور ٹیبل پر رکھے جگ میں سے پانی گلاس میں انڈیلا اور اسے گلاس پکڑا کر واپس صوفے پر بیٹھا۔۔
“شمش دادا تمہیں پتہ ہے تم کیوں میرے لیے خاص ہو۔۔؟؟
وہ ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تو شمش اسکی بات پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“کیونکہ تم باقی لوگوں سے مختلف ہو تم وفا دار ہو میں مشی کے بعد اگر کسی پر بھروسہ کرتا ہو تو وہ تم ہو اور میں بھی چاہتا ہوں کہ تم بھی مجھ پر بھروسہ کرو میں جو بھی کروں گا سب ٹھیک ہی کروں گا اور اس بار بھی سب کچھ ٹھیک کروں گا۔۔!!
وہ اسکے کندھے کو ٹھپٹھپا کر کہنے لگا تو شمش اسکی بات پر مسکرایا۔۔
“سرکار مجھے آپ پر بھروسہ ہے اپنے آپ سے بھی زیادہ لیکن اپنی سانسوں پہ نہیں ہے پتہ نہیں یہ کب کسی گولی کا نشانہ بن جائے۔۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“نہیں شمش دادا میں تمہیں کچھ ہونے نہیں دو گا اپنی جان سے کھیل کر تمہیں بچاؤ گا جب تم آخری سانسیں لوں گے ناں تب دیکھنا تمہیں اس دن اندازہ ہو جائے گا کہ تم میرے لیے کیا ہوں۔۔!!
وہ شمش کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“سرکار جبران۔۔!!
وہ کچھ یاد آنے پر اس سے جبران کے متعلق پوچھنے لگا تو جبران کے نام پر اخسم کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تو شمش اسکی آنکھوں کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ معاملہ کچھ گھمبیر ہے تو وہ اسے مزید چھیڑنے سے خود کا نقصان نہیں چاہتا تھا اسی لیے خاموشی سے اٹھا اور روم سے باہر نکلا۔۔
“جبران۔۔؟؟
وہ اپنی سرخ آنکھیں سامنے دیوار پر لگے اپنے بھائی کی تصویر پر ڈال کر شدت سے چیختے ہوئے اسکا نام لیتا نیچے صوفے سے گرا اور زمین پر اپنا سر زور زور سے پھٹک کر اسکا نام پکارنے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
تو ریڈرز آپ سب کیسے ہیں 🤔🤔
